Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پاکستان اور عراق کے درمیان زائرین کی سہولیات پر اہم پیش رفت

    پاکستان اور عراق کے درمیان زائرین کی سہولیات پر اہم پیش رفت

    پاکستان اور عراق کے درمیان زائرین کی سہولیات اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ عراق کے سفیر حامد عباس لفتہ نے وزارت داخلہ اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اوورسیز پاکستانیز و مذہبی امور چودھری سالک حسین سے ملاقات کی۔ملاقات میں زائرین کے لیے سہولیات بڑھانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ وزیر داخلہ نے عراق جانے والے پاکستانی زائرین کے لیے بغیر فیس انٹری ویزا کی اجازت دینے اور زائرین کا کوٹہ بڑھانے کی درخواست کی۔ محسن نقوی نے کہا کہ ہر سال لاکھوں پاکستانی زیارت کے لیے عراق جاتے ہیں اور حکومت ان کی سہولت کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے۔عراقی سفیر نے زائرین کے لیے بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر غیر قانونی طور پر زائد فیس وصول کرنے والے ٹریول ایجنٹس کے خلاف کارروائی پر بھی اتفاق ہوا۔ وزیر داخلہ نے وعدہ کیا کہ ایک ہفتے کے اندر ایسے ایجنٹس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
    ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان ڈپلومیٹک اور آفیشل پاسپورٹ پر ویزا کی چھوٹ کے معاہدے کو جلد حتمی شکل دینے پر بھی اتفاق ہوا۔ اس کے علاوہ، پاکستان اور عراق کی متعلقہ وزارتوں کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر جلد دستخط کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس سے پاکستانی شہریوں کے لیے عراق میں ورک پرمٹ حاصل کرنا آسان ہو جائے گا۔وزیر مذہبی امور سالک حسین نے کہا کہ یہ ایم او یو قانونی امیگریشن کو فروغ دے گا اور غیر قانونی طریقوں سے داخلے اور رہائش میں کمی لائے گا۔اس موقع پر عراقی سفیر نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو عراق کے دورے کی دعوت بھی دی۔ ملاقات میں وفاقی سیکرٹری داخلہ خرم علی آغا اور عراقی سفارت خانے کے وفد نے بھی شرکت کی۔یہ ملاقات پاکستان اور عراق کے درمیان دوستانہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط کرنے کی کوششوں کا مظہر ہے

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت کاسینیٹ و قومی اسمبلی اجلاس بلانے پر غور

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد حکومت کاسینیٹ و قومی اسمبلی اجلاس بلانے پر غور

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے مخصوص نشستوں سے متعلق حالیہ فیصلے کے بعد، وفاقی حکومت نے فوری طور پر اپنی حکمت عملی پر نظرثانی شروع کر دی ہے۔ اعلیٰ ذرائع کے مطابق، حکومت سینیٹ اور قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور اعظم نذیر تارڑ نے وزیراعظم سے ملاقات کی اور پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کی تجویز پیش کی۔ یہ قدم اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت اس معاملے کو انتہائی اہمیت دے رہی ہے۔مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے اپنے سینئر رہنماؤں اور اراکین پارلیمنٹ کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ فیصلہ ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا گیا ہے۔آنے والے دنوں میں اہم پیش رفت کی توقع ہے۔ کل نواز شریف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوگا جس میں مخصوص نشستوں سے متعلق عدالتی فیصلے پر تفصیلی بحث ہوگی اور پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
    ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نظرثانی کی اپیل دائر کرنے سے پہلے پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے اپنی حکمت عملی مرتب کرنا چاہتی ہے۔ یہ قدم اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت اس معاملے پر جامع اور متفقہ موقف اختیار کرنا چاہتی ہے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ اور الیکشن کمیشن کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے مخصوص نشستیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو دینے کا حکم دیا تھا۔ اس فیصلے نے ملک کی سیاسی فضا میں ایک نیا موڑ پیدا کر دیا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دن پاکستان کی سیاست کے لیے انتہائی اہم ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات ملک کی سیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

  • تینوں فارمیٹ کھیلنے والے کھلاڑی لیگز نہیں کھیل سکیں گے:پی سی بی

    تینوں فارمیٹ کھیلنے والے کھلاڑی لیگز نہیں کھیل سکیں گے:پی سی بی

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے سٹار کرکٹرز کو انجریز اور تھکاوٹ سے بچانے کی نئی پالیسی متعارف کرا دی ہے، تین فارمیٹ ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی 20کھیلنے والے کھلاڑی لیگز نہیں کھیل سکیں گے۔پی سی بی سربراہ ، ہیڈکوچز اور شعبہ انٹرنیشنل کرکٹ آپریشنز کی ملاقات میں اس بات پر اتفاق ہوا ہے،بابر اعظم، شاہین، آفریدی، محمد رضوان، نسیم شاہ کو لیگز کے لیے فی الوقت این او سی نہ دیا جائے گا ، لیگز کھیلنے سے کھلاڑیوں پر کام کا زیادہ بوجھ پڑنے کے ساتھ فٹنس ایشوز بھی ہو سکتے ہیں ، ذرائع کا کہنا ہے کہ نسیم شاہ کو دی ہینڈرڈ، محمد رضوان، بابر اعظم ، شاہین آفریدی کے گوبل کینیڈا لیگ کے لیے این او سی نہیں ملے گا۔دوسری جانب پاکستان شاہینز برسبین پہنچ گئی، پاکستان شاہینز مقامی وقت کے مطابق رات دس بجے ڈارون پہنچے گی۔ پاکستان شاہینز آسٹریلیا کے دورے پر بنگلہ دیش اے خلاف دو چار روزہ میچوں کی سیریز کھیلے گی،دو چار روزہ میچوں کے علاوہ پاکستان شاہینز دو ون ڈے میچز اور ٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ میں بھی حصہ لے گی۔

  • 8اور9محرم کو پنجاب بھر میں طوفانی بارشوں کے امکانات، پی ڈی ایم اے

    8اور9محرم کو پنجاب بھر میں طوفانی بارشوں کے امکانات، پی ڈی ایم اے

    ترجمان پی ڈ ی ایم اے کا کہنا ہے کہ 8اور9محرم کو پنجاب بھر میں طوفانی بارشوں کے امکانات ہیں۔ پنجاب کے مختلف اضلاع میں آج رات بھی شدید بارشوں کے امکانات ہیں، محرم کے جلوسوں کی انتظامیہ موسمی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے حفاظتی تدابیر اختیار کرے،بجلی کے کھمبوں اور تاروں سے فاصلہ اختیار کیا جائے۔
    خستہ حال چھتوں کے اوپر محافل کے انعقاد سے گریز کیا جائے،دریاؤں اور ندی نالوں کی کراسنگ سے ممکنہ حد تک گریز کیا جائے،ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی علاقوں میں طغیانی کا خدشہ ہے،ندی نالوں کے کنارے بستیوں کے مکین خاص طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیانے کہا کہ 8 اور 9 محرم کو ریسکیو ادارے خاص طور پر الرٹ رہیں،ایمرجنسی کی صورت میں پی ڈی ایم اے کی ہیلپ لائن 1129پر رابطہ کریں۔

  • اقوام متحدہ کی رپورٹ: ٹی ٹی پی کو افغان طالبان کی مکمل حمایت حاصل

    اقوام متحدہ کی رپورٹ: ٹی ٹی پی کو افغان طالبان کی مکمل حمایت حاصل

    اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی گئی 15ویں رپورٹ نے پاکستان میں دہشت گردی کے خطرے کو نئے سرے سے اجاگر کیا ہے۔ رپورٹ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے افغانستان میں موجود ٹھکانوں اور اس کے افغان طالبان اور القاعدہ سے تعلقات پر تشویشناک انکشافات کیے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق، ٹی ٹی پی کو افغانستان میں طالبان حکومت کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ یہ سرپرستی نہ صرف پناہ گاہوں تک محدود ہے بلکہ پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد میں بھی مدد شامل ہے۔
    مزید برآں، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کو القاعدہ سے بھی آپریشنل اور لاجسٹک سپورٹ مل رہی ہے۔ القاعدہ کے کارندے پاکستان میں حملوں کے لیے ٹی ٹی پی کی براہ راست مدد کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق، افغانستان میں ٹی ٹی پی کے تقریباً 6 سے 6.5 ہزار جنگجو موجود ہیں۔ یہ جنگجو افغان طالبان کی چھتر چھایا میں آزادانہ طور پر سرگرم عمل ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو القاعدہ کے کیمپوں میں تربیت دی جا رہی ہے۔ ٹی ٹی پی نے افغانستان کے سرحدی صوبوں جیسے ننگرہار، قندھار، کنڑ اور نورستان میں اپنے کیمپ قائم کر رکھے ہیں۔
    اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ افغان طالبان حکومت کے رویے پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کابل حکومت پاکستان کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے کو تیار نہیں ہے۔یہ رپورٹ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ظاہر کرتی ہے۔ اس سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ہے۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس صورتحال کو سنجیدگی سے لے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔پاکستانی حکام نے اس رپورٹ پر ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جلد ہی اس پر اپنا موقف پیش کریں گے۔ دوسری جانب، افغان طالبان حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتے۔

  • صدر مملکت  اور وزیر اعظم  کاسابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی ریلی کے دوران حملے کی شدید مذمت

    صدر مملکت اور وزیر اعظم کاسابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی ریلی کے دوران حملے کی شدید مذمت

    وزیراعظم شہباز شریف نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر انتخابی ریلی کے دوران حملے کی شدید مذمت کی ہے۔شہباز شریف نے سابق امریکی صدر اور زخمی ہونے والے دیگر افراد کی جلد صحت یابی کیلئے بھی دعا کی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاسی عمل میں ہر قسم کا تشدد قابل مذمت ہے، اس مشکل وقت میں ہماری ہمدردیاں اور نیک خواہشات ڈونلڈ ٹرمپ کے خاندان کے ساتھ ہیں۔علاوہ ازیں صدر مملکت آصف علی زرداری نے بھی سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر پر حملے کا سن کر گہرا صدمہ پہنچا، سیاست میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں، انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جلد صحتیابی کیلئے نیک خواہشات اور اِنسانی جان کے ضیاع پر اظہارِ افسوس بھی کیا۔واضح رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی ریاست پنسلوانیا کے علاقے بٹلر میں منعقد ریلی کے شرکا سے خطاب کیلئے سٹیج پر موجود تھے کہ ان پر قاتلانہ حملہ ہوگیا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہے جبکہ حملہ آور مارا گیا، واقعہ میں ایک شخص بھی ہلاک ہوا۔

  • توشہ خانہ نیا ریفرنس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    توشہ خانہ نیا ریفرنس: عمران خان اور بشریٰ بی بی کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    توشہ خانہ کے نئے ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا گیا۔راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج محمد علی وڑائچ نے اڈیالہ جیل میں نیب کے نئے توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کی، دوران سماعت ڈپٹی ڈائریکٹر نیب محسن ہارون نے دونوں کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکلاء چودھری ظہیر عباس اور عثمان گل ایڈووکیٹ نے ریمانڈ کی مخالفت کی۔عدالت نے نیب حکام کی استدعا پر دونوں کا 8، 8 دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے 22 جولائی کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔واضح رہے کہ نیب ٹیم نے توشہ خانہ ریفرنس میں گزشتہ رات بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری ڈالی تھی۔یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر نیا کیس دس قیمتی تحائف خلاف قانون پاس رکھنے اور بیچنے سے متعلق ہے، نیب کی انکوائری رپورٹ کے مطابق عمران خان پر ایک نہیں، سات گھڑیاں خلاف قانون لینے اور بیچنے کا الزام ہے، گراف واچ ، رولیکس گھڑیاں، ہیرے اور سونے کے سیٹ کیس کا حصہ ہیں، تحفے قانون کے مطابق اپنی ملکیت میں لئے بغیر ہی بیچے جاتے رہے۔خیال رہے کہ آج وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے نئے ریفرنس کیلئے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا۔

  • سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، ایک شخص ہلاک

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، ایک شخص ہلاک

    امریکہ کی ریاست پنسلوانیا میں ایک انتخابی ریلی کے دوران سابق صدر اور ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے۔ واقعے میں ٹرمپ زخمی ہوئے ہیں جبکہ ایک شخص ہلاک ہو گیا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ جب ریلی کے شرکاء سے خطاب کے لیے سٹیج پر موجود تھے، اس دوران نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں ٹرمپ کے کان پر خون کے نشانات دیکھے گئے ہیں۔فائرنگ کے فوراً بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے سابق صدر کو اپنے حصار میں لے لیا اور انہیں فوری طور پر وہاں سے منتقل کر دیا۔ حملے میں ایک عام شہری بھی ہلاک ہو گیا ہے۔
    امریکی میڈیا کے مطابق حملہ آور کو بھی مار گرایا گیا ہے، تاہم اس کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی ہے۔واقعے کے بعد ریلی میں موجود لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔یہ واقعہ امریکی سیاست میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ آنے والے صدارتی انتخابات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔وائٹ ہاؤس اور دیگر سیاسی رہنماؤں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ موجودہ صدر جو بائیڈن نے ٹرمپ کی صحت یابی کے لیے دعا کی ہے اور کہا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود، تشدد کبھی بھی جائز نہیں ہو سکتا۔ایف بی آئی نے اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ اس واقعے کے تمام پہلوؤں کی تہہ تک پہنچا جائے گا۔
    اس دوران، ٹرمپ کی صحت کے بارے میں تازہ ترین اپڈیٹس کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ان کے خاندان اور ری پبلکن پارٹی کے ترجمان نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی میڈیا کو مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔یہ واقعہ امریکی جمہوریت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے اور اس بات کا مطالبہ کر رہا ہے.واقعے کے حوالے سے امریکی سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ ریلی میں فائرنگ کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ محفوظ ہیں، سابق صدر کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، ریلی میں پیش آئے واقعے کی تحقیقات شروع کر دیں، فائرنگ کرنے والے کا ابھی تک کچھ علم نہیں ہو سکا جیسے ہی معلومات حاصل ہوں گی عوام کو آگاہ کر دیا جائے گا۔
    فائرنگ سے زخمی ہونے والے ری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار اور سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں بالکل خیریت سے ہوں، میں کسی سے ڈرنے والا نہیں ہوں اور سب کا ڈٹ کر مقابلہ کروں گا۔سابق امریکی صدر ٹرمپ پر فائرنگ کے واقعے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ریلی میں فائرنگ کے واقعے پر بریفنگ نہیں دی گئی۔واضح رہے کہ دو روز قبل پریس کانفرنس میں صدر جوبائیڈن نے صدارتی الیکشن کی دوڑ سے دستبردار ہونے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدارتی الیکشن لڑنے کا سب سے زیادہ اہل ہوں، ٹرمپ کو پہلے بھی ہرایا تھا اب بھی ہراؤں گا، ٹرمپ کا جیتنا دنیا کیلئے تباہی ہو گا۔جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ یورپ ٹرمپ کے بیانات سے پریشان ہے، خارجہ پالیسی کبھی ٹرمپ کا مضبوط نقطہ نہیں رہا، ٹرمپ آمرانہ لوگوں سے وابستگی رکھتے ہیں، صدارتی الیکشن کی دوڑ میں اپنی میراث کیلئے نہیں ہوں، یوکرین کی کامیابی یقینی بنانے کیلئے میرا جیتنا ضروری ہے۔

  • کراچی:8، 9 اور 10 محرم کے جلوس کیلئے ٹریفک پلان جاری

    کراچی:8، 9 اور 10 محرم کے جلوس کیلئے ٹریفک پلان جاری

    کراچی میں 8، 9 اور 10 محرم کے جلوس کیلئے ٹریفک پلان جاری کردیا گیا۔ مرکزی جلوس نشتر پارک سے روانہ ہوکر حسینیہ ایرانیاں کھارادر پر اختتام پذیر ہوگا۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اجازت نامہ رکھنے والی گاڑیوں کو ایم اے جناح پر داخلے کی اجازت ہوگی۔ٹریفک پولیس کے اعلامیہ کے مطابق ٹریفک کو گرومندر چوک سے آگے جلوس کے روٹ پر جانے کی اجازت نہیں ہوگی، جلوس کے دوران ایم اے جناح روڈ عام ٹریفک کیلئے بند رہے گا۔ٹریفک پولیس پولیس کے مطابق جلوس کے دوران پر ایم اے جناح روڈ گرومندر سے ٹاور تک بند رہے گا، ناظم آباد سے آنے والی ٹریفک لسبیلہ چوک سے نشتر روڈ اور گارڈن جاسکے گی۔ لیاقت آباد سے آنے والی ٹریفک کو تین ہٹی سے لسبیلہ چوک بھیجا جائے گا۔

  • ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس کی تیاریاں شروع

    ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس کی تیاریاں شروع

    پاکستان میں اکتوبر میں ہونے والے ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کے اجلاس کی تیاریاں شروع ہو گئیں، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے انتظامات سے متعلق اعلیٰ سطحی کمیٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کی۔ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف گورنمنٹ کا اجلاس 15، 16 اکتوبر 2024 کو اسلام آباد میں ہوگا، ایس سی او کے اجلاس کی میزبانی کو یقینی بنانے کے لیے وزیر اعظم کی ہدایت پر اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی۔
    کمیٹی وفاقی وزراء برائے اقتصادی امور، داخلہ، اطلاعات و نشریات، اور خارجہ امور، کابینہ اور داخلہ کے سیکرٹریز کے ساتھ ساتھ چیئرمین سی ڈی اے پر مشتمل ہے، کمیٹی نے ضروریات کے تعین پر تبادلہ خیال کیا۔اجلاس میں متعلقہ حکام کو ایس سی او کی مشق، پاکستان کی بین الاقوامی حیثیت، پاکستان کی روایتی مہمان نوازی کے ساتھ ہم آہنگ موثر انتظامات کرنے کی ہدایات دی گئیں، کمیٹی کے ارکان نے جاری تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تیاریوں کی رفتار کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
    واضح رہے کہ 2017 میں ایس سی او کا مکمل رکن بننے کے بعد سے پاکستان ایس سی او کے مختلف فارمیٹس میں حصہ لے رہا ہے، ایس سی او CHG کے چیئر کے طور پر، پاکستان اس سال خزاں میں سی ایچ جی کے 23 ویں اجلاس کی میزبانی کرے گا۔CHG ایس سی او کا دوسرا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ ہے، یہ سماجی، اقتصادی، ثقافتی اور دیگر انسانی تعاون کے مسائل کے ساتھ ساتھ ایس سی او کے بجٹ اور مالیاتی امور سے متعلق ہے۔