پاکستان بیورو برائے شماریات کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، ملک میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ ہفتہ وار بنیادوں پر ضروری اشیا کی قیمتوں میں 0.11 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا، جبکہ سالانہ بنیادوں پر یہ اضافہ 23.33 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔11 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 51 ضروری اشیا میں سے 23 کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ صرف 6 اشیا کی قیمتوں میں کمی آئی۔ 22 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
قیمتوں میں کمی آنے والی اشیا میں ٹماٹر سرفہرست رہا، جس کی قیمت میں 19.47 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ اس کے علاوہ کیلے، آٹے، پیاز، آلو اور انڈوں کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔دوسری طرف، مرغی کی قیمت میں سب سے زیادہ 16.34 فیصد کا اضافہ ہوا۔ خشک دودھ، دال چنا، کپڑے، تازہ دودھ، دال مسور اور دال مونگ کی قیمتوں میں بھی قابل ذکر اضافہ دیکھا گیا۔یہ مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی عام شہریوں کے لیے پریشانی کا سبب بن رہی ہے۔ خاص طور پر روزمرہ کی ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ غریب اور درمیانے طبقے کے لیے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، لیکن معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے طویل مدتی اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔عوام کی جانب سے حکومت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ قیمتوں میں اضافے کو روکنے اور عام آدمی کو راحت دینے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے
Author: صدف ابرار
-

ملک میں ضروری اشیا کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، عوام پریشان
-

سپریم کورٹ کے فیصلے پر جے یو آئی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی ٹیلیفونک گفتگو
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر کے درمیان ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ یہ رابطہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد ہوا، جس میں مخصوص نشستوں سے متعلق اہم فیصلہ دیا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو کا مرکزی موضوع سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ تھا، جس نے ملک کی سیاسی فضا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر اپنی جماعت کا مؤقف واضح کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی سپریم کورٹ کے فیصلے کو تسلیم کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے کے نتیجے میں وہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ خیر سگالی کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ بیان پاکستان کی سیاست میں ایک نرم گوشہ کی نشاندہی کرتا ہے، خاص طور پر ان دو جماعتوں کے درمیان جو اکثر مخالف سمتوں میں کھڑی نظر آتی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ فیصلہ دونوں جماعتوں کے درمیان باہمی تعلقات کی بہتری کا باعث بنے گا۔ یہ بیان پاکستانی سیاست میں مفاہمت کی ایک نئی لہر کی طرف اشارہ کرتا ہے۔دوسری جانب، پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مولانا فضل الرحمان کے اس رویے کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے مولانا کی جانب سے پی ٹی آئی کے لیے ظاہر کی گئی نیک خواہشات پر شکریہ ادا کیا۔ اسد قیصر نے اس موقع پر کہا کہ یہ فیصلہ ملک میں آئین اور جمہوریت کی بالادستی کو مضبوط کرے گا۔یہ ٹیلیفونک رابطہ اور اس کے دوران ہونے والی گفتگو پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک مثبت تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتیں، ان کے درمیان موجود اختلافات کے باوجود، قومی مفاد کے لیے ایک دوسرے سے بات -

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر کی تنقید
مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اس فیصلے کے بعد پاکستان کے تحریری آئین کی حیثیت اور اہمیت پر سوال اٹھ گیا ہے۔سینیٹر صدیقی نے سوال اٹھایا کہ کیا ‘نظریہ ضرورت’ یا ‘نظریہ سہولت’ کے نام پر آئین کی واضح شقوں اور حلف کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ اگر فیصلے عوامی جذبات، عمومی قیاس اور پنچایتی انصاف کی بنیاد پر ہونے ہیں تو آئین کی کیا ضرورت ہے۔
مزید برآں، انہوں نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ آئین پاکستان کو کم از کم پی ٹی آئی کی طرح معطل کر دینے کا تحریری فیصلہ سنا دیا جائے، جو ان کے خیال میں عملی طور پر پہلے ہی ہو چکا ہے۔یہ تبصرے سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کے بعد سامنے آئے ہیں، جس نے سیاسی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ سینیٹر صدیقی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اس فیصلے سے مطمئن نہیں ہے اور وہ آئینی برتری کے اصول پر زور دے رہے ہیں۔ -

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن اور بجلی چوری کی روک تھام پر اہم اجلاس
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی جس میں زرعی ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن اوربجلی چوری کی روک تھام پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ شمسی توانائی بجلی پیدا کرنے کا سب سے سستا ذریعہ ہے اور حکومت کی اولین ترجیح ہے۔وزیراعظم نے بلوچستان کے بعد پنجاب، سندھ اور خیبر پختونخوا میں بھی زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں سے تعاون کی اپیل کی تاکہ کسانوں کی خوشحالی کے لیے مل کر کام کیا جا سکے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ڈیزل سے چلنے والے زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے سے 2.7 ارب امریکی ڈالر کا زر مبادلہ بچایا جا سکے گا۔
بجلی چوری کے خلاف مہم کے حوالے سے بتایا گیا کہ ستمبر 2023 سے اب تک 84,366 افراد کو گرفتار کیا گیا، 174,562 ایف آئی آرز درج کی گئیں، اور بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے 456 ملازمین کو معطل کیا گیا۔وزیراعظم نے ملک بھر میں اسمارٹ میٹرنگ کا نظام متعارف کروانے کی ہدایت دی اور کہا کہ بجلی کے بلوں میں اوور بلنگ کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔اجلاس میں وفاقی وزرا، صوبائی حکام اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو بجلی چوری کے خلاف کارروائیوں میں تعاون پر سراہا.اجلاس میں وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر پاور اویس احمد خان لغاری ، وفاقی وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات علی پرویز ملک (بذریعہ وڈیو لنک), وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل (بذریعہ وڈیو لنک ) ، اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی جبکہ چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز نے بھی اجلاس میں بذریعہ وڈیو لنک شرکت کی۔ -

سابق سلیکٹر بلال افضل کو ایڈاوئزر ٹو پی سی بی چیئرمین مقرر
سابق سلیکٹر بلال افضل کو ایڈاوئزر ٹو پی سی بی چیئرمین مقرر کردیا گیا۔بلال افضل کو بطور نان ووٹنگ ممبر سینئر اور جونئیر سلیکشن کمیٹی میں بھی شامل کرلیا گیا ہے، چند روز قبل عبدالرزاق اور وہاب ریاض کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ناقص پرفارمنس کی وجہ سے فارغ کرنے کے بعد سلیکشن کمیٹی کی کے ارکان کی تعداد کم کی گئی تھی۔تشکیل دی گئی نئی کمیٹی میں شامل محمد یوسف، اسد شفیق، کپتان اور ہیڈ کوچ اب سینئر اور جونئیر ٹیموں کا انتخاب کریں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے نئی سینئر اور جونئیر سلیکشن کمیٹی میں نان ووٹنگ ممبران کو بھی حصہ بنالیا ہے۔پی سی بی نے اپنی ویب سائٹ پر سلیکشن کمیٹی ممبران کی لسٹ کو اپ ڈیٹ کردیا ہے جس کے تحت سلیکشن کمیٹی میں چار ووٹنگ اور پانچ نان ووٹنگ ممبران ہوں گے۔سلیکشن کمیٹی سینئر اور جونئیر دونوں سطح کی ٹیموں کا انتخاب کرے گی، ووٹنگ ممبران میں ٹیم کا کپتان اور ہیڈ کوچ، سابق ٹیسٹ کرکٹر محمد یوسف اور اسد شفیق شامل ہوں گے۔
-

حکومت کا بڑا اقدام: گندم کی درآمد اور آٹے کی برآمد پر پابندی
وفاقی حکومت نے ملک میں خوراک کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ وزارت تجارت نے گندم کی درآمد اور آٹے کی برآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ ملک میں گندم اور آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانے اور مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔وزارت تجارت نے اس سلسلے میں دو الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کیے ہیں۔ پہلے نوٹیفکیشن کے مطابق، گندم کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ دوسرے نوٹیفکیشن میں درآمدی گندم سے تیار کیے گئے آٹے کی برآمد پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔
اس فیصلے کے تحت، حکومت نے امپورٹ اور ایکسپورٹ پالیسی آرڈرز 2022 میں ترامیم کی ہیں۔ یہ ترامیم ملک کی موجودہ معاشی صورتحال اور عوام کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کی گئی ہیں۔قابل ذکر ہے کہ موجودہ حکومت نے مارچ میں مشروط طور پر آٹا برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ یہ اجازت ایکسپورٹ سہولت سکیم 2021 کے تحت دی گئی تھی۔ اس وقت حکومت نے برآمدی مقاصد کے لیے درآمدی گندم سے تیار آٹا برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔ تاہم، اب یہ سہولت واپس لے لی گئی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ملک میں گندم اور آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ملک میں آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا تھا، جس سے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مقامی کسانوں کے مفادات کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ گندم کی درآمد پر پابندی سے مقامی کسانوں کو اپنی فصل کی بہتر قیمت ملنے کی توقع ہے۔تاہم، کچھ تجارتی حلقوں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آٹے کی برآمد پر پابندی سے ملک کو غیر ملکی زرمبادلہ کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔وزارت خوراک کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت نے یہ فیصلہ ملک میں گندم کے ذخائر کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے فصلی موسم تک گندم کی فراہمی کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔دوسری جانب، کسان تنظیموں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے مقامی کسانوں کو اپنی محنت کا بہتر معاوضہ ملے گا اور وہ آئندہ سال زیادہ رقبے پر گندم کی کاشت کر سکیں گے۔
حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں۔ آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ مارکیٹ میں آٹے کی دستیابی اور قیمتوں کی باقاعدگی سے نگرانی کر رہے ہیں۔ -

مری میں مسلم لیگ (ن) کا احتجاج، ایکسپریس وے بند
سپریم کورٹ کے متنازعہ فیصلے کے خلاف مسلم لیگ (ن) کے کارکنان نے مری ایکسپریس وے پر شدید احتجاج کیا۔ یہ احتجاج عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کے خلاف تھا جس میں مخصوص نشستوں کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حق میں دیا گیا تھا۔فیصلہ آنے کے بعد ہی بڑی تعداد میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنان مری ایکسپریس وے پر جمع ہونا شروع ہوگئے۔ احتجاجیوں نے سڑک پر ٹائر جلا کر راستہ بند کردیا، جس کے نتیجے میں آمدورفت مکمل طور پر متاثر ہوئی۔ اس کارروائی سے نہ صرف عام شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ سیاحوں کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوئیں۔مظاہرین نے نعرے بازی کرتے ہوئے عدالتی فیصلے کو مسترد کردیا اور اسے جمہوریت کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ فیصلہ ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرے گا اور انتخابی عمل کو متاثر کرے گا۔
پولیس نے احتجاج کو پرامن رکھنے کی کوشش کی، لیکن صورتحال کشیدہ رہی۔ مقامی انتظامیہ نے مظاہرین سے بات چیت کی کوشش کی تاکہ سڑک کو کھلوایا جا سکے، لیکن کارکنان نے اپنے مطالبات پر اڑے رہنے کا عزم ظاہر کیا۔احتجاج کے دوران ایمبولینس گزرنے کی کوشش کر رہی تھی تو مظاہرین نے فوراً راستہ خالی کر دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے جمہوری حق کے لیے لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عدالتی فیصلہ ان کے ووٹرز کے حقوق کی پامالی ہے اور وہ اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔دوسری جانب، حکومتی حلقوں نے اس احتجاج کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلوں کو تسلیم کرنا ہر شہری کا فرض ہے اور اس طرح کے احتجاج سے ملک میں بدامنی پھیل سکتی ہے۔ -

عائشہ جہانزیب کے شوہر حارث علی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید ایک دن کی توسیع
معروف نجی ٹی وی چینل کی اینکر عائشہ جہانزیب کے شوہر حارث علی کے جسمانی ریمانڈ میں مزید ایک دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ فیصلہ لاہور کی جوڈیشل مجسٹریٹ نے پولیس کی درخواست پر کیا۔گزشتہ دو روزہ ریمانڈ کی مدت مکمل ہونے کے بعد، پولیس نے ملزم حارث کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا۔ پولیس نے استدعا کی کہ مزید تفتیش کے لیے ریمانڈ میں توسیع کی ضرورت ہے۔ عدالت نے اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے ایک روز کی اضافی مہلت دی ہے۔واقعہ دو دن قبل پیش آیا جب عائشہ جہانزیب نے الزام لگایا کہ ان کے شوہر نے انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ خاتون اینکر کے مطابق، یہ واقعہ ایک گھریلو جھگڑے کے بعد پیش آیا۔
عائشہ نے طبی معائنے کے بعد اپنے شوہر کے خلاف سنگین نوعیت کا مقدمہ درج کروایا، جس میں جان سے مارنے کی کوشش کی دفعات شامل تھیں۔ اس کے بعدپولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے حارث کو حراست میں لے لیا۔عدالت نے آئندہ سماعت پر پولیس سے تفتیش کی تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ یہ کیس میڈیا اور عوام کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، خاص طور پر گھریلو تشدد کے خلاف آگاہی پھیلانے کے حوالے سے -

آج سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہمارے موقف کی جیت ہوئی۔ علی امین گنڈا پور
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کاکہنا ہے کہ ثابت ہوگیا کہ ہمارا حق کسی اور کو دیا گیا تھا۔وزیر اعلی کے پی علی امین گنڈا پور نے کا بینہ اجلاس کے بعد کہاکہ ثابت ہوگیا کہ ہمارا حق کسی اور کو دیا گیا تھا۔ وزیراعلی علی امین گنڈا پور نے کہا کہ مخصوص نشستیں ہمارا حق تھیں، آج ہمیں ہمارا حق مل گیا، ثابت ہوگیا کہ ہمارا حق کسی اور کو دیا گیا تھا، مخصوص نشستیں نہ ملنے سے ہمیں اسمبلیوں میں کافی مشکلات کاسامنا کرنا پڑا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے مخصوص نشستوں کے معاملے پر ایک اصولی مؤقف اختیار کیا تھا، آج سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہمارے موقف کی جیت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ ہم سب نے ایک ٹیم بن کر کام کیا اور کامیابی حاصل کی، اس دوران بھر پور ساتھ دینے پر سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں، عوام کے حقوق کے لئے اسی طرح ایک ٹیم بن کر کام کرتے رہیں گے۔
-

شیر افضل مروت کی بنیادی رکنیت معطل
پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر شیر افضل مروت کی بنیادی رکنیت معطل کردی گئی۔پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق شیر افضل مروت کی پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی سے متعلق انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی، سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی عمر ایوب خان نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا، انکوائری کمیٹی میں رؤف حسن، بریگیڈیئر ریٹائرڈ مصدق ملک، فردوس شمیم نقوی اور داؤد خان کاکڑ شامل ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیٹی شیر افضل مروت کے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر انکوئری کرکے رپورٹ بانی پی ٹی آئی کو پیش کرے گی تب تک شیر افضل مروت کی بنیادی رکنیت معطل رہے گی۔