Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • لاہور: انسدادِ تشدد جانوراں ایکٹ 1890 کے تحت ایک اور مقدمہ درج

    لاہور: انسدادِ تشدد جانوراں ایکٹ 1890 کے تحت ایک اور مقدمہ درج

    لاہور: تھانہ چوہنگ میں کتوں پر تشدد کرنےوالے شہری پر مقدمہ درج کر دیا گیا، مقدمہ انچارج اینمل ریسکیو سینٹر لیڈی وارڈن عروسہ حسین کی مدعیت میں شہری کی شکایت پر درج کیا گیا، رانا ابرار نامی ملزم گرفتار، متاثرہ کتوں کو این جی او کے حوالے کردیا گیا، سی ٹی او لاہور کی انچارج سینٹر عروسہ حسین ،ہیڈ آف آپریشنز سینٹر ذوفیشان انوشے کو شاباش دے کر کہا ہے کہ بے زبانوں پر ظلم و تشدد کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، عمارہ اطہر کے مطابق پولیس اینمل ریسیکو سینٹر کے قیام کا مقصد بے زبان خلقِ خدا کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے، آئی پنجاب کی ہدایت پر گزشتہ سال لاہور میں پہلا پولیس اینیمل ریسکیو سنٹر قائم کیا گیا تھا، ریسکیو سینٹر جانوروں کی ویلفیئر کے لیے کام کرنیوالی این جی او کی معاونت سے قائم کیا گیا تھا، اب تک مجوعی طور پر انسدادِ تشدد جانوراں ایکٹ 1890 کے تحت 06 مقدمات کا اندراج کیا جاچکا ہے، پولیس اینمل ریسیکو سینٹر میں سینکڑوں بے زبانوں کی زندگیوں کو بچایا گیا ہے،

  • جس نے ریلیف مانگا ہی نہیں تھا، جو فریق ہی نہیں تھا اس کو ریلیف دے دیا، وزیر دفاع

    جس نے ریلیف مانگا ہی نہیں تھا، جو فریق ہی نہیں تھا اس کو ریلیف دے دیا، وزیر دفاع

    وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ آج اعلیٰ ترین عدلیہ نے آئین کے بجائے سیاسی فیصلہ دے دیا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں خواجہ آصف نے کہا کہ جو سائل ہی نہیں تھا، جس نے ریلیف مانگا ہی نہیں تھا، جو فریق ہی نہیں تھا اس کو ریلیف دے دیا۔انہوں نے کہا کہ آئین اور انصاف کے تقاضوں کی جگہ سیاسی تقاضوں کو اہمیت دی، آئین اور قانون کی تشریح کی بجائے آئین سازی کا فرض سنبھال لیا۔اپنے پیغام میں وزیر دفاع نے کہا کہ انصاف دینے کے لئے عدل کی جنگ لڑیں تو ہم آپ کے انشاء اللہ معترف ہوں گے، آپ کو سلام پیش کریں گے۔

  • لاہور ہائیکورٹ کاصنم جاوید کو جیل سے فوری رہا کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کاصنم جاوید کو جیل سے فوری رہا کرنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کارکن صنم جاوید کی گوجرانوالہ کے مقدمے میں گرفتاری کے خلاف درخواست پر اہم فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے صنم جاوید کو جیل سے فوری رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔جسٹس اسجد جاوید گھرال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے 14 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ درخواست گزار کو بار بار ایک ہی نوعیت کے مقدمے میں نامزد کرنا بدنیتی کا ثبوت ہے۔عدالت نے سخت الفاظ میں کہا کہ درخواست گزار کو رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار کرنے کا مقصد عدالتی نظام کو شکست دینا ہے۔ یہ رویہ قانون کی حکمرانی کے خلاف ہے۔اس فیصلے سے پی ٹی آئی کارکنوں کی مسلسل گرفتاریوں کے خلاف ایک اہم مثال قائم ہوئی ہے۔ یہ فیصلہ سیاسی کارکنوں کے حقوق کے تحفظ اور انصاف کے نظام میں اعتماد بحال کرنے کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔صنم جاوید کی رہائی کے حکم کے بعد پی ٹی آئی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کو اپنے کارکنوں کے خلاف ناروا کارروائیوں پر ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہیں.فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کو بار بار ایک نوعیت کے مقدمے میں نامزد کرنا بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے، درخواست گزار کو رہائی کے بعد بار بار گرفتار کرنے کا مقصد عدالتی نظام کو شکست دینا ہے۔
    تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور اور گوجرانولہ نے جیل میں ہونے کے باوجود درخواست گزار کے نظر بندی کے احکامات جاری کیے، ڈپٹی کمشنرز کیخلاف سخت کارروائی کا کہتے لیکن عدالت بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کارروائی نہیں کر رہی، جسمانی ریمانڈ دینے والی عدالتوں کو بھی ریمانڈ دیتے ہوئے آئین میں دیے بنیادی حقوق کو سامنے رکھنا چاہیے۔عدالت نے فیصلے کی کاپی جوڈیشل افسران، آئی جی اور تمام ڈپٹی کمشنرز کو بھیجنے کی ہدایت کردی۔فیصلے میں کہا گیا کہ تفتیشی افسر کے پاس درخواست گزار کو مقدمے میں نامزد کرنے کے کوئی شواہد موجود نہیں، درخواست گزار کے خلاف گوجرانوالہ میں مقدمہ بدنیتی کی بنیاد پر درج کیا گیا، درخواست گزار کو مقدمے سے فوری طور پر ڈسچارج کیا جاتا ہے، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے بیان دیا کہ صنم جاوید کے خلاف مزید کو ئی مقدمہ درج نہیں۔

  • الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کی سیاسی  حیثیت پر واضح موقف

    الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی کی سیاسی حیثیت پر واضح موقف

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی حیثیت کے بارے میں اپنا موقف واضح کیا ہے۔ کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی ایک قانونی سیاسی جماعت ہے اور اس کا نام رجسٹرڈ سیاسی پارٹیوں کی فہرست میں شامل ہے۔ذرائع نے زور دے کر کہا کہ الیکشن کمیشن نے کبھی بھی پی ٹی آئی کو غیر سیاسی جماعت قرار نہیں دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ پی ٹی آئی کا نام بطور سیاسی جماعت الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔
    تاہم، کمیشن نے پی ٹی آئی کے حالیہ انٹرا پارٹی الیکشن کے معاملے پر اپنے موقف کی وضاحت کی۔ ذرائع کے مطابق، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کو درست قرار نہیں دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف پی ٹی آئی مختلف فورمز پر گئی، لیکن الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رہا۔اس صورتحال کے نتیجے میں، پی ٹی آئی سے ان کا انتخابی نشان ‘بلہ’ واپس لے لیا گیا۔ کمیشن کے ذرائع نے تاکید کی کہ یہ کارروائی صرف انٹرا پارٹی الیکشن کے نتائج کی بنیاد پر کی گئی، نہ کہ پارٹی کی سیاسی حیثیت کی وجہ سے۔یہ وضاحت پی ٹی آئی کی حیثیت کے بارے میں پھیلی ہوئی افواہوں اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے سامنے آئی ہے.ذرائع الیکشن کمیشن نے بتایا کہ الیکشن کمیشن نے کبھی نہیں کہا کہ پی ٹی آئی سیاسی پارٹی نہیں ہے ۔ یہ ایک سیاسی پارٹی ہے اور اسکا نام بھی سیاسی پارٹیوں کی لسٹ میں شامل ہے جو کہ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود ہے ۔ مزید الیکشن کمیشن نے کسی فیصلے کی غلط تشریح نہیں کی البتہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن کو درست قرار نہیں دیا۔ جس کے خلاف پی ٹی آئی مختلف فورمز پر گئی اور الیکشن کمیشن کے فیصلےکو Uphold کیا گیا ۔ چونکہ پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن Valid نہیں تھے جس کا Logical Consequence یہ تھا کہ ان سے الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 215کے تحت Bat کا نشان withdraw کیا گیا۔
    آج کے فیصلے میں جن 39MNAsکو پی ٹی آئی کا MNAsقرار دیا گیا ہے انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی سے اپنی Affiliation ظاہر کی تھی جبکہ کسی بھی پارٹی کا امیدوار ہونے کے لئے پارٹی ٹکٹ اور Declaration ریٹرننگ آفیسر کے پاس جمع کروانا ضروری ہے جو کہ ان امیدواروں نےجمع نہیں کروایا تھا۔ لہذا ریٹرننگ آفیسروں کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ انکو پی ٹی آئی کا امیدوار Declare کرتے ۔
    جن 41 امیدواروں کو آزاد Declare کیا گیا ہے انہوں نے نہ تو اپنے کاغذات نامزدگی میں پی ٹی آئی کا ذکر کیا اور نہ پارٹی کی Affiliation ظاہر کی۔ اور نہ ہی کسی پارٹی کا ٹکٹ جمع کروایا ۔ لہذا ریٹرننگ افسروں نے ان کو آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دی ۔ الیکشن جیتنے کے بعد قانون کے تحت تین دن کے اندر ان MNAsنے رضاکارانہ طور پر سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کی لہذا ان کو آزاد امیدوارDeclareکرنے کی قانون میں کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل الیکشن کمیشن اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل میں آئی ۔ سنی اتحاد کونسل کی یہ اپیل مسترد کردی گئی ۔ پی ٹی آئی اس کیس میں نہ تو الیکشن کمیشن میں پارٹی تھی اور نہ ہی پشاور ہائیکورٹ کے سامنے پارٹی تھی اور نہ ہی سپریم کورٹ میں پارٹی تھی۔لہذا ان کو مخصوص نشستیں دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

  • بانی پی ٹی آئی کی جیل میں ملاقات اور پارٹی پالیسی پر سخت موقف

    بانی پی ٹی آئی کی جیل میں ملاقات اور پارٹی پالیسی پر سخت موقف

    بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی اڈیالہ جیل میں پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اس ملاقات میں اہم فیصلے کیے گئے۔بانی پی ٹی آئی نے پارٹی قیادت کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا اختیار دیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ توجہ شیر افضل مروت کے معاملے پر مرکوز ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے شیر افضل مروت کی پارٹی رکنیت معطل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ فیصلہ مروت کے متنازع بیانات کے بعد لیا گیا۔ پارٹی نے پہلے ہی مروت کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا، جس کا انہوں نے جواب بھی دیا تھا۔تاہم، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ وہ شیر افضل مروت کی رکنیت معطلی سے متعلق بانی پی ٹی آئی کی کسی ہدایت سے آگاہ نہیں ہیں۔یہ واقعات پی ٹی آئی کے اندرونی معاملات اور پارٹی پالیسی پر سخت موقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی قیادت میں مواصلات کی کمی ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے چیئرمین کو تازہ ترین فیصلوں کی اطلاع نہیں ملی.

  • سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ کل سنایا جائے گا

    سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ کل سنایا جائے گا

    سپریم کورٹ کی جانب سے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ کل سنایا جائے گا۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ جمعہ کے روز 12 بجے فیصلہ سنائے گا، 13 رکنی فل کورٹ فیصلہ جاری کرے گا، نئی کاز لسٹ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری کر دی گئی اس سے قبل چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت آج دوسرا مشاورتی اجلاس ہوا، اجلاس میں 13 رکنی فل کورٹ میں شامل تمام ججز شریک تھے۔ واضح رہے کہ فل کورٹ بنچ نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں کے بارے میں گزشتہ روز بھی کم و بیش دو گھنٹے مشاورت کی تھی۔یاد رہے کہ 9جولائی کو سپریم کورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کی سماعت مکمل ہو گئی تھی ،جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ فیصلہ کب سنایا جائے گا ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے، فیصلہ سنانے سے متعلق آپس میں مشاورت کریں گے۔

  • رواں سال ملک بھر میں 22,714 انٹیلیجنس پر مبنی آپریشنز کیے گئے

    رواں سال ملک بھر میں 22,714 انٹیلیجنس پر مبنی آپریشنز کیے گئے

    سیکیورٹی حکام نے ملک کی موجودہ صورتحال پر اہم انکشافات کیے ہیں۔ ان کے مطابق، رواں سال ملک بھر میں 22,714 انٹیلیجنس پر مبنی آپریشنز کیے گئے، جن کے نتیجے میں 217 دہشتگردوں کو عدالتوں سے سزائیں سنائی گئیں۔حکام نے زور دے کر کہا کہ ملک کی معاشی ترقی کے لیے اسمگلنگ کا خاتمہ از حد ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاک فوج سرحدوں پر اسمگلنگ روکنے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔تاہم، حکام نے خبردار کیا کہ بھتہ خور، اسمگلر اور ٹیکس چور عناصر پاک فوج کے خلاف منظم پروپیگنڈہ مہم چلا رہے ہیں۔اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے، سیکیورٹی حکام نے کئی سال پہلے حکومت کو لینڈ پورٹ اتھارٹی قائم کرنے کی تجویز دی تھی۔ افسوس کی بات ہے کہ یہ اتھارٹی اب تک قائم نہیں کی گئی، جس کی وجہ سے اسمگلنگ روکنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔یہ انکشافات ملک کی سیکیورٹی صورتحال اور معاشی چیلنجز کی طرف توجہ دلاتے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے مزید موثر اقدامات کی ضرورت ہے

  • پاکستان اور آذربائجان کے درمیان تعاون کے مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب

    پاکستان اور آذربائجان کے درمیان تعاون کے مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کی تقریب

    پاکستان اور آذربائیجان نے دو طرفہ تجارت بڑھانے کا فیصلہ کرلیا، 2 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری پر اتفاق کیا گیا، دونوں ملکوں کے درمیان ترجیحی تجارت کے معاہدے اور مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔آذر بائیجان کے صدر کے ساتھ پریس کانفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ بہت مطمئن ہیں، آج بہت مفید ون آن ون میٹنگ رہیں، 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری دونوں ملکوں کےلیے مفید شعبوں پر ہوگی۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نگورنو کاراباخ پر آذربائیجان کے مؤقف کی تائید کرتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ صدرالہام علیوف اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پرخوش آمدید کہتا ہوں، پاکستان کے عوام آپ کے دورے سے بہت خوش ہیں، آپ پاکستان کے بہترین دوست اور بھائی ہیں، آذربائیجان کے دورے میں آپ نے ہماری بہترین مہمان داری کی۔
    شہبازشریف نے کہا کہ ہماری آج کی بات چیت باہمی اعتماد اوراحترام پرمبنی تھی، دونوں ملکوں نے اس عزم کا اظہارکیا کہ ہم نے تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے، ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتےہیں،ہماری سوچ یکساں ہے، عالمی اور علاقائی امور پر پاکستان اور آذربائیجان کے خیالات میں ہم آہنگی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم نے تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے، پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تجارتی حجم 100 ملین ڈالر ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم ہماری قریبی دوستی کا عکاس نہیں، ہمیں باہمی تجارتی حجم میں اضافہ کرنا ہے، دونوں ملکوں کو مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینا ہے۔
    اس موقع پر آذربائیجان کے صدر نے کہا کہ ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، ہماری سوچ یکساں ہے، عالمی اور علاقائی امور پر پاکستان اور آذربائیجان کے خیالات میں ہم آہنگی ہے، 7 سال قبل پاکستان کا دورہ کیا تو نوازشریف وزیراعظم تھے، نوازشریف کا دل سے احترام کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ آذربائیجان کے اصولی مؤقف کی حمایت کی، دونوں ملک ہر ایشو پر ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں، باکو سے پاکستان کے مختلف شہروں کے لئے براہ راست پروازوں کا اجرا ہوا ہے، دونوں ممالک ہر ایشو پر ایک دوسرے کی حمایت کرتےہیں۔
    انہوں نے مزید کہا کہ آذربائیجان کا ہر مشکل وقت میں پاکستان نے ساتھ دیا ہے، پاکستان نے ہمیشہ آذربائیجان کے اصولی مؤقف کی حمایت کی ہے، پاکستان کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔صدرالہام علیوف نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے اصولی مؤقف کی حمایت پاکستان کےعوام کے ساتھ ہماری محبت کا اظہارہے، افسوس ہے جموں و کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پرعملدرآمد نہیں ہورہا۔پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب ہوئی، دونوں ممالک کے درمیان قونصلر امور سے متعلق مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کئے گئے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور آذربائیجان کے نائب وزیر خارجہ نے دستخط کیے۔

  • بجلی صارفین کیلئے بنیادی ٹیرف میں7 روپے 12 پیسے فی یونٹ تک کا اضافہ

    بجلی صارفین کیلئے بنیادی ٹیرف میں7 روپے 12 پیسے فی یونٹ تک کا اضافہ

    بجلی صارفین کیلئے بنیادی ٹیرف میں اضافہ کر دیا گیا، نیپرا نے حکومتی درخواست پر اپنا فیصلہ جاری کردیا، بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 7 روپے 12 پیسے فی یونٹ تک اضافہ کیا گیا۔گھریلو صارفین کیلئے بجلی کا فی یونٹ بنیادی ٹیرف 48 روپے 84 پیسے تک مقرر کردیا گیا، فی یونٹ بنیادی ٹیرف میں 3 روپے 95 پیسے سے 7 روپے 12 پیسے تک اضافہ منظور کیا گیا، ماہانہ201 سے300 یونٹ تک کا بجلی ٹیرف7.12 روپے اضافے سے 36 روپے 89 پیسے فی یونٹ مقرر کیا گیا۔
    ماہانہ301 سے400 یونٹ پر ٹیرف 7.02 روپے اضافے سے فی یونٹ ٹیرف 39.15 روپے مقرر کیا گیا، ماہانہ 401 سے 500 یونٹ 6.12 روپے اضافے سے41.36 روپے فی یونٹ مقرر کر دیا گیا۔ماہانہ501 سے600 یونٹ استعمال پر ٹیرف6.12 روپے اضافے سے 42 روپے 40 پیسے فی یونٹ مقرر کر دیا، ماہانہ601 سے 700 یونٹ پر بجلی ٹیرف 6.12 روپے اضافے سے 43 روپے 79 پیسے فی یونٹ مقرر کیا گیا۔ماہانہ 700 یونٹ سے زیادہ کا ٹیرف6.12 روپے اضافے سے 48.84 روپے کر دیا گیا۔

  • آذرئیجان کے صدر کے طیارے کو پاک فضائیہ کے طیارے اسلام آباد تک حفاظتی حصار میں لے کر آئے،

    آذرئیجان کے صدر کے طیارے کو پاک فضائیہ کے طیارے اسلام آباد تک حفاظتی حصار میں لے کر آئے،

    آذربائیجان کے صدر الہام علیوف وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر تشریف لائے ہیں۔ صدر علیوف کے اعزاز میں پاکستان نے شاندار استقبال کا اہتمام کیا۔صدر علیوف کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی پاک فضائیہ کے طیاروں نے حفاظتی حصار میں لیا اور انہیں اسلام آباد تک پہنچایا۔ اسلام آباد ایئرپورٹ پر وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزراء نے ان کا استقبال کیا۔دورے کے پہلے روز، صدر علیوف نے یادگار پاکستان پر حاضری دی اور پھول چڑھائے۔ اس موقع پر پاک فوج کے دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی بھی اس تقریب میں موجود تھے۔
    بعد ازاں، وزیراعظم شہباز شریف اور صدر علیوف کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
    اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے مابین متعدد مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کا امکان ہے۔ صدر علیوف کے ہمراہ وفد میں آئل اینڈ گیس کمپنیوں کے حکام بھی شامل ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ توانائی کے شعبے میں تعاون پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔یہ دورہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور اقتصادی و سٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے کا ایک اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔