مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب مایوس ہیں کہ پاکستان کا مستقبل کیا ہوگا، مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ وفاق کی طرف سےجان بوجھ کرپیسے نہیں دیئےجارہے ہیں، اگلےسال کا بجٹ آرہا ہےبجٹ سےپہلےپیسےدیئےجائیں۔انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سےدرخواست کروں گا اس مسئلےکوحل کرائیں، خیبرپختونخوا کی گاڑیوں کوچیک پوسٹوں پرروک کربلاوجہ تنگ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی الیکشن میں صرف پنجاب میں دفعہ144 نافذ اور سیاسی ورکرز کی گرفتاریاں ہورہی ہیں، خیبرپختونخوا میں توکوئی پکڑدھکڑنہیں ہورہی،سب کوبرابری کےحقوق دیئےجائیں،ویزے لگانےنہ شروع کریں۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ دوسال سےوفاق سے آئی ایم ایف والا معاملہ نہیں نمٹ رہا، کل آئی ایم ایف نےڈومورکی بات کردی ہے، آئی ایم ایف کےڈومورکا مطلب بجلی،گیس کی قیمتیں دگنا ہوں گی۔مزمل اسلم نے کہا کہ اب ہم سبسڈیزکوکٹ لگانےجارہےہیں، آئندہ مالی سال کے بجٹ میں خیبرپختونخوا واحد صوبہ ہوگا جوسرپلس میں ہوگا۔
مشیر خزانہ خیبرپختونخوا کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت اپنےدوستوں کی آئی پی پیزکواربوں روپےجاری کردیتی ہے، ہم امید کرتےہیں وفاقی حکومت خیبرپختونخوا حکومت سےتعاون کرےگی، ہم پختونخوا میں ہرخاندان کوہیلتھ کارڈ کی سہولت دے رہے ہیں۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کےتحت آبادی کےحساب سےپیسےنہیں دیئےجارہے، خیبرپختونخوا صوبہ آدھی سےزیادہ گیس باقی صوبوں کودے رہا ہے، اس حوالےسےلوگوں کی شکایات آرہی ہے، خیبرپختونخوا کےلوگوں کوحقیرنظروں سےنہ دیکھا جائے۔مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ ہمیں صوبائی حکومت میں آئے 45 دن ہوئے ہیں ، ان دنوں میں ہم نے ڈونرکانفرنس کا انعقاد کیا، کانفرنس میں 1.8 ارب ڈالرز دینے کے وعدے کئے گئے، ایک ارب ڈالر ایشین بینک نے دینے کا وعدہ کیا، یہ پیسے قبائلی اضلاع اور چترال پر خرچ ہوں گے،انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا نے ڈونر کانفرنس کا انعقاد کیا یو ایس ایڈ، یو ایم ڈی پی اورجی آئی زیڈ اس کانفرنس کے ڈونرز تھے، پشاور کی سرزمین پر بیرونی ممالک سے لوگ آئے، بڑے ایونٹ کو اس لئے خراب کیا گیا کہ پی ٹی آئی کی تعریف نہ ہوجائے۔
Author: صدف ابرار
-

خیبرپختونخوا کےلوگوں کےساتھ پنجاب میں داخلےپرناروا سلوک کیا جارہا ہے،مزمل اسلم
-

صوبے میں کوئی نوکری نہیں بکے گی ، وزیر اعلی بلوچستان
وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بلوچستان صوبائی کابینہ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا ، وزیر اعلٰی نے گڈ گورننس ، عوام اور صوبے کی بہتری کا ایجنڈا کابینہ اجلاس میں پیش کردیا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان میں سب سے بڑا چیلنج گورننس کا ہے ، گورننس میں بہتری کے لئے ساٹھ کے قریب اصلاحات تجویز کی گئی ہیں، کابینہ سے مشاورت کے بعد اصلاحاتی عمل کو حتمی شکل دی جائے گی، وزیر اعلٰی میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کو بہتری کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے کابینہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، انسرجی صرف فوج اور ریاست تک محدود نہیں، یہ ہم سب کی لڑائی ہے ، وزیر اعلٰی میر سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ بڑھتے ہوئے غیر ترقیاتی اخراجات پر قابو پانا ہوگا، عام آدمی کی بہتری کیلئے ہم سب نے مل کر کام کرنا ہے، اور اہداف طے کرکے اس پر بتدریج عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے، وزیر اعلٰی بلوچستان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آنے والی نسلوں کے روشن مستقبل کے لئے نیک نیتی سے کام کریں گے،
مثبت سمت کا تعین کرکے صوبے میں اچھی طرز حکمرانی کی عملی مثال قائم کریں گے، وزیر اعلی نے سختی سے کہا کہ صوبے میں کوئی نوکری نہیں بکے گی ،
وزراء اپنے اپنے محکموں کے انچارج ہیں ، امور پر کڑی نظر رکھیں ، ہر محکمے کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے "کے پی آئی” بنائیں گے، وزیر اعلٰی بلوچستان نے مزید کہا کہ کارکردگی کا جائزہ لیکر مزید بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں گے، میرٹ پر کوئی سمجھوتہ قابل قبول نہیں، اور ایکٹنگ چارج کی روایات ختم کرکے متعلقہ گریڈ کا افسر متعلقہ پوسٹ کے لئے تعینات کریں گے، بعد ازاں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے پہلے تعارفی اجلاس میں نوشکی واقعہ کی مذمت کی ، صوبائی کابینہ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مارنے والے دہشت گرد اور شہید ہونے والے پاکستانی تھے
صوبائی کابینہ کا صوبے میں دہشت گردی اور بد امنی کے مختلف واقعات میں شہید ہونے والے افراد کے لیے فاتحہ خوانی کی ، اور صوبائی کابینہ نے صوبے میں سیلاب اور دیگر قدرتی آفات میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے بھی فاتحہ خوانی کی ۔صوبائی کابینہ کے اجلاس میں تمام وزراء اور مشیران کا وزیر اعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی پر اعتماد کا اظہار، بلوچستان کی ترقی ،گڈ گورننس کے قیام کے لئے وزیر اعلٰی بلوچستان کے وژن کو آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا. -

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مزید سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے ،این ڈی ایم اے
محکمہ موسمیات نے ملک میں بارشوں کاحالیہ سلسلہ 22 اپریل تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے ۔ خیبرپختونخواہ میں 21اپریل تک دیر مالاکنڈ، صوابی، کوہستان، مردان، شانگلہ،چارسدہ، سوات، نوشہرہ کے علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔این ڈی ایم اے کے مطابق حالیہ سلسلے کے باعث بلوچستان میں خصوصاً کیچ، قلات، خضدار، اواران کے علاقوں میں سیلابی صورتحال متوقع ہے۔این ڈی ایم اے نے تمام پی ڈی ایم ایز اور دیگر انتظامی اداروں کو کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔کاشتکار فصل خصوصاً گندم کی کٹائی کے حوالے سے موسم کو مد نظر رکھتے ہوئے معمولات تشکیل دیں۔
پنجاب میں ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں بھی سیلابی صورتحال متوقع ہے ، 25 تا 29 اپریل کے دوران بلوچستان،خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چند مقامات مزید بارش اور ژالہ باری متوقع ہے۔سیاح و مسافر پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔سفر ضروری ہو تو موسم اور راستوں کی صورتحال سے آگاہ رہیں۔برساتی ندی نالوں کو پار کرنے سے گریز کریں، بجلی کے کھمبوں،کچی عمارتوں، ٹوٹی دیواروں اور چھتوں سے دور رہیں۔نشیبی علاقوں کے مکین سیلاب کے خدشے کے پیش نظر محتاط رہیں۔ آسمانی بجلی چمکتے وقت سائیکل، موٹر سائیکل یا بغیر چھت کے گاڑیوں میں سفر کرنے سے اجتناب کریں،اونچی عمارتوں، درختوں، کھمبوں، پہاڑیوں، اینٹیناز، موبائیل ٹاور ز وغیرہ سے دور ہو جائیں۔ -

وزیراعظم کا صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں سے جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار
وزیراعظم شہباز شریف کا خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حالیہ بارشوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی بلندی درجات کی دعاء اور ان کے لواحقین سے اظہار تعزیت کی ،وزیراعظم نے بارشوں کے نتیجے میں پیش آئے مختلف حادثات میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعاکی ،انہوں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کو متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور امدادی کارروائیوں میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گی، متاثرین تک امداد کی فراہمی میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جائے بارشوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے بند سڑکیں اور راستے کھولنے کا کام تیز تر کیا جائے۔
-

ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے حوالے سے ایڈوانس سیکیورٹی ٹیم پہنچ گئی
ایرانی صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کے دورہ پاکستان سے قبل ان کی سیکیورٹی ٹیم اسلام آباد پہنچ گئی ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی صدر کی سکیورٹی ٹیم دورے سے قبل انتظامات کا جائزہ لے گی۔بتایا گیا ہے کہ ایرانی سفیر رضا امیری نے وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سیکرٹری رحیم حیات سے ملاقات کی جس میں ایرانی صدر کے دورے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیسفارتی ذرائع نے کہا ہے کہ حالیہ اسرائیل ایران کشیدگی کی تناظر میں ایرانی صدر و قیادت کو کئی سنجیدہ خطرات کا سامنا ہے، لاحق خطرات کے باوجود ایران کے صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی دورہ پاکستان منسوخ یا معطل نہیں کریں گے۔ایرانی صدر کے دورہ پاکستان کے حوالے سے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم بھی اس وقت دفتر خارجہ میں موجود ہیں۔ ایرانی سفیر کی دفتر خارجہ میں ایڈیشنل سیکرٹری رحیم حیات قریشی سے ملاقات جاری ہے۔رحیم حیات قریشی دفتر خارجہ میَں ایڈیشنل سیکرٹری برایے مغربی ایشیاء, ایران، افغانستان و ترکیہ ہیں۔ ملاقات میں ایرانی صدر کے دورے کے حوالے سے حالات و جزیات کا جائرہ لیا جا رہا ہے۔
-

پاکستان جب کہے گا فنڈ فراہم کیا جائے گا: آئی ایم ایف
آئی ایم ایف حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، پاکستان جب کہے گا فنڈ مہیا کیاجائے گا۔آئی ایم ایف حکام نے مشرق وسطی اور وسطی ایشیاء کی معاشی صورتحال پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس بی اے کا آخری جائزہ مکمل کرلیا گیا، اب بورڈ کے سامنے منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا۔
حکام کا کہنا تھا کہ سٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کے بعد پاکستانی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے، آئی ایم ایف پروگرام سے پاکستان کو شدید اقتصادی عدم توازن کو دور کرنے اور ملکی معاشی استحکام کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی، میکرو اکنامک استحکام کو برقرار رکھنا ہے اوربجٹ خسارے کی سطح کو کم کرنا ضروری ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کےسماجی مدد فراہم کرنے کے منصوبے میں مزید بہتری لائی جاسکتی ہے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات کیلئے مزید کام کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ریونیو کی صورتحال کو بہتر بنا کر مالیاتی صورتحال کو مضبوط بنانے پر کام جاری رکھا جائے، محصولات میں اضافہ حکومت کو قرضوں کی صورتحال سے نمٹنے کی اجازت دے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو مدد فراہم کرنے کیلئے تیار ہے، جب پاکستان کہے گا فنڈ مدد فراہم کیا جائے گا، پاکستان کے دو طرفہ شراکت دار بھی پاکستان کو اضافی مالی مدد فراہم کرنے کے پروگرام کے منتظر ہیں۔ -

سعودی عرب نےہرمشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا،علامہ طاہر اشرفی
علامہ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے سعودی عرب کا کوئی تعلق نہیں۔ چیئرمین پاکستان علما کونسل طاہرمحمود اشرفی نے کہا ہے کہ سعودی وفد پاکستان آنا خوش آئند ہے ، ہم امداد نہیں تجارت چاہتے ہیں۔لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان سے برادر دوست ملک کو متنفر کرنے کےلیے غیر ذمے دارانہ بیانات دیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی وفد کا پاکستان آنا خوش آئند ہے،عمران خان کے خلاف تحریک اعتماد کی کامیابی کا سعودی عرب سے کوئی تعلق نہیں۔علامہ طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ ہم امداد نہیں تجارت چاہتے ہیں،سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیاہے۔اُن کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ حج سے متعلق بکنگ کا سلسلہ جاری ہے، عازمین حج کو تمام سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
-

پاکستان سے اسمگلنگ کا مکمل خاتمہ کرینگے،وزیراعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے اعلی سطح جائزہ اجلاس ہوا. اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان سے اسمگلنگ کے جڑ سے خاتمے کا پختہ عزم رکھتا ہوں، اسمگلنگ کے خاتمے کیلئے حکومت سے تعاون پر آرمی چیف کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں،اجلاس میں اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر قائم شدہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی. وزیرِ اعظم نے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ناجائز استعمال اور اس کی آڑ میں اسمگلنگ کرنے والے عناصر اور انکے سہولت کار افسروں کی نشاندہی پر اے ڈی خواجہ کی سربراہی میں کمیٹی کی رپورٹ کی تعریف کی،وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ اسمگلروں، ذخیرہ اندوزوں اور انکے سہولت کار سرکاری افسروں کی فہرست تیار کرکے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور صوبوں کو فراہم کر دی گئی ہیں. وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ ملک و قوم کا پیسہ لوٹنے والوں اور انکے سہولت کاروں کو قطعاً کسی بھی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی،سرحدی علاقوں میں اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے نوجوانوں کو متبادل روزگار کے مواقع اور کاروبار کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا جائے،افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی اشیاء کی پاکستان میں فروخت اور اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے انکی مانیٹرنگ کو تیز اور مؤثر کیا جائے. وزیرِ اعظم نے کسٹم حکام کو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو مانیٹر کرنے والے سسٹم کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت دی. وزیرِ اعظم نے نشاندہی شدہ افسران کو عہدے سے فوراً ہٹانے اور محکمانہ کارروائی کی ہدایت دی،وزیرِ اعظم کی تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس اداروں کو اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے ایک دوسرے سے تعاون، اسمگلروں اور مشیات کے کاروبار میں ملوث افراد کو قرار واقعی اور مثالی سزا دلوانے کی ہدایت دی۔ اجلاس مین وفاقی وزراء سید محسن رضا نقوی، جام کمال خان، احد خان چیمہ، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، اعظم نذیر تارڑ، چیئرمین ایف بی آر، اٹارنی جنرل، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے اہلکار و متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی.
-

احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں حمزہ شہباز کو حاضری سے استثنیٰ دے دیا۔
لاہور کی احتساب عدالت نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز کو ایک دن کی حاضری سے استثنیٰ دے دیا۔ عدالت نے وزیراعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر مشتمل رمضان شوگر ملز ریفرنس کی سماعت کی۔وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے نمائندہ انور حسین حاضری مکمل کر کے پیش ہوئے۔ عدالت نے مزید کارروائی 6 جون تک ملتوی کر دی۔حمزہ شہباز کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کی صحت ان کی پیشی کو روکتی ہے۔ ڈیوٹی جج ندیم گلزار نے ریفرنس کی سماعت کی۔
-

ریلوے پولیس اہلکار کو خاتون کی ہلاکت سے بری کردیا گیا
ملت ایکسپریس میں خاتون پر تشدد اور ہلاکت کی انکوائری مکمل کر لی گئی،رپورٹ میں ریلوے پولیس اہلکار کو خاتون کی ہلاکت سے بری کردیا گیا۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق خاتون کی ہلاکت ٹرین سے گرنے یا چھلانگ لگانے سےہوئی،مریم کی ہلاکت کے وقت کانسٹیبل میرحسن ٹرین میں موجود نہیں تھا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں کانسٹیبل میرحسن خاتون پر تشدد کا ذمہ دار قراردیا گیا،میرحسن کےخلاف مقدمہ درج کرکے محکمانہ کارروائی شروع کردی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرین اسٹاف، عینی شاہدین اور مسافروں کے بیانات قلمبند کئے گئے۔
دوران سفر ریلوے میں خاتون پر تشدد ، موت، پولیس اہلکار کیخلاف کاروائی شروع
دوسری جانب ملت ایکسپریس میں خاتون پر پولیس اہلکار کے تشدد اور موت کی تحقیقات کیلئے مقدمہ درج کرکے کارروائی شروع کردی گئی ہے، تھانہ چنی گوٹھ میں ریلوے پولیس اہلکار میر حسن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، نامزد ملزم میر حسن کی گرفتاری کے لیے وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا ہے، ملزم میرحسن ریلوے پولیس کا ملازم اور سندھ کا رہائشی ہےپولیس نے تشدد کا نشانہ بننے کے بعد پر اسرار طور پر ہلاک ہونے والی خاتون مریم کے خاندان کو طلبی کا نوٹس جاری کردیا ہے جس میں مریم کے بھائی، بھتیجا اوربھتیجی کو طلب کیا گیا ہے،مریم کے قتل کا مقدمہ 16 اپریل کو درج کیا گیا تھا جب کہ مریم کےگھر والوں کو 20 اپریل کو تھانہ چنی گوٹھ میں طلب کیا گیا ہے
ریلوے میں زنجیر سے جکڑے "لوٹے”معاملہ قائمہ کمیٹی پہنچ گیا
گھر سے بھاگے 310 لڑکے،190 لڑکیاں،47 خواتین کو ریلوے پولیس نے ورثا کے حوالے کیا
ریلوے سٹیشن کے پاس مسافروں کو اسلحہ کے زور پر لوٹنے والے 2 ملزم گرفتار
ریلوے میں پسند ناپسند کی بنیاد پر نااہل ٹی ایل اے ملازمین بھرتی کئے جانے کا انکشاف
پاکستان انفارمیشن کمیشن کی کارروائی، ریلوے ملازم کو گریجویٹی فنڈ دلادیا
راولپنڈی پشاور کےدرمیان ریلوے کے کرائے روڈ ٹرانسپورٹ سے بھی زیادہ
ریلوے پولیس اہلکار کے تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون چنی گوٹھ کے قریب مبینہ طور پر قتل کر دی گئی،7 اپریل رات کو کراچی سے چلنے والی ملت ایکسپریس ٹرین میں ریلوے پولیس اہلکار نے خاتون پر تشدد کیا،8 اپریل علی الصبح چنی گوٹھ کے قریب اسی ٹرین سے مبینہ طور خاتون کو ٹرین سے گرایا گیا ۔ تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے پر مبینہ طور پر قتل ہونے والی خاتون کی شناخت ہوگئی 30 سالہ مریم بی بی کا تعلق جڑانوالہ چک 40 موڑ فیصل آباد سے تھا ۔ میر حسن ریلوے پولیس اہلکار تشدد کے الزام میں پہلے سے ہی گرفتار ہے ۔تشدد کے بعد خاتون کی ہلاکت کا معاملہ ! ذمہ دار ریلوے حکام یا پولیس اہلکار ؟ ورثاء نےخاتون پر تشدد کے بعد ہلاکت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے.خاتون کے بھائی افضل کا کہنا تھا کہ اس کی بہن کراچی میں بیوٹی پارلر پر ملازمت کرتی تھی اور عید منانے کیلئے کراچی سے جڑانوالہ آ رہی تھی