اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانیٔ پی ٹی آئی کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی بنی گالہ سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست بحال کر دی۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے پٹیشن بحالی کی درخواست پر سماعت کی۔عدالتِ عالیہ نے پٹیشن بحالی کی متفرق درخواست منظور کر لی۔عدالت نے بشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر حتمی دلائل طلب کر لیےبشریٰ بی بی کی اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست پر سماعت 22 اپریل کو ہو گی۔ ،واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے چند روز قبل عدم پیروی پر درخواست خارج کر دی تھی، سابق خاتون اول بشریٰ بی بی کے وکلاء بیرسٹر سلمان صفدر، عثمان ریاض گِل اور خالد یوسف چودھری نے منسوخ ہونے والی درخواست بحالی کیلئے ایک روز قبل اپیل دائر کی تھی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سرینا چوک ناکے پر ٹریفک جام کے باعث عدالت پہنچنے میں تاخیر ہوئی، وکلا کی جانب سے عدالت پہنچنے میں جان بوجھ کر تاخیر نہیں کی گئی، درخواست بحال نہ ہونے سے درخواست گزار کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ بشریٰ بی بی کی بنی گالہ سب جیل سے اڈیالہ جیل منتقلی کی درخواست کی سماعت پر وکلا کی عدم پیشی پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس میں کہا تھا کہ وکلا نہیں چاہتے کہ بشریٰ بی بی جیل چلی جائیں۔
Author: صدف ابرار
-

نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم بننے کےلیے آمادہ نہیں تھے، عرفان صدیقی
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم بننے کےلیے آمادہ نہیں تھے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ن لیگی سینیٹر کا کہنا تھا کہ کابینہ، معیشت کی بحالی اور دیگر معاملات میں نواز شریف اپنی رائے دیتے ہیں۔عرفان صدیقی نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو تباہ حال معیشت ملی تھی۔ ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا وزیر اعظم شہبازشریف کا بہت بڑا کارنامہ تھا۔انکا کہنا تھا کہ میری نواز شریف کے ساتھ بہت ساری ملاقاتیں لندن میں ہوئیں ہیں، نواز شریف اس بار وزیر اعظم بننے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔انکا کہنا تھا کہ نواز شریف چوتھی بار وزیر اعظم بننے کےلیے آمادہ نہیں تھے، وزیر اعظم نہ بننے کا نواز شریف کا اپنا فیصلہ تھا۔عرفان صدیقی نے یہ بھی کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع بانی پی ٹی آئی نے دی تھی، جنرل راحیل شریف نہیں چاہتے تھے کہ پرویز مشرف کا ٹرائل ہو، مشرف کا جب ٹرائل شروع ہوا تو راحیل شریف نواز شریف سے ناراض تھے۔
رہنما مسلم لیگ ن نے کہا کہ جنرل (ر) راحیل شریف توسیع کیلئے بے تاب تھے، انہوں نے توسیع کی بات خود نواز شریف سے کی، ایک شخص کے ذریعے راحیل شریف نے نواز شریف کو پیغام پہنچایا جلدی کریں وقت بہت کم ہے، راحیل شریف نے یہ بھی کہا کہ توسیع کر دیں پاناما جانے اور میں جانوں، نواز شریف نے راحیل شریف کو پیغام پہنچایا توسیع نہیں ملے گی میں پاناما بھگت لوں گا۔عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘کا نعرہ پہلی بار میں نے ہی متعارف کروایا تھا، ووٹ کو عزت دینا ہمارے آئین کا تقاضا ہے، ن لیگ کا’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کا بیانیہ آج بھی موجود ہے۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے یہ بھی کہا کہ 16 ماہ کی حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، یہ بہت بڑا کارنامہ تھا، پارٹی میں یہ سوچ ہے کہ نواز شریف ہی وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہوں، بلاول ہونہار نوجوان ہے، لیکن 80 سال پہلے کی سیاست کر رہے ہیں، بلاول کے برعکس جو 80 سال والے ہیں وہ آج کی سیاست کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی آج جس صورتحال سے دوچار ہیں وہ خود ان کی پیدا کردہ ہے، بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہم نے کچھ نہیں کیا۔ -

کراچی میں رین ایمرجنسی نافذ
کراچی کے میئر بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بارش کی ایمرجنسی کا اعلان کر دیا ہے۔واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر انجینئر اسد اللہ خان نے ایک ویڈیو بیان میں بتایا کہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے میئر کراچی کی ہدایت کے مطابق بارش سے نمٹنے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔انجینئر اسد اللہ خان نے بتایا کہ واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے پاس کل 55 سکشن مشینیں ہیں اور آج رات تمام بڑی سڑکوں اور شہر کے مختلف علاقوں میں مختلف مقامات پر سکشن مشینیں لگائی جائیں گی۔واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر نے مزید کہا کہ ورکشاپ ڈویژن کے ایگزیکٹو انجینئر شفقت حسین متعلقہ ایگزیکٹیو انجینئرز کے ساتھ مل کر تمام گاڑیوں کی نگرانی کریں گے اور ڈیزل کی وافر مقدار میں سیوریج پمپنگ اسٹیشنوں کو فراہم کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متوقع بارش کے پیش نظر واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا تمام عملہ بالخصوص سیوریج آپریشن کا عملہ ہائی الرٹ پر ہے اور واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے انجینئرنگ سٹاف کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
-

پنجاب کی فرح گوگی طر ز پر خیبر پختونخوا میں مشعال یوسفزئی،ہٹانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا
ایک طرف صوبہ قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے وہیں عوام بنیادی سہولتوں سے بھی خوفزدہ ہے۔ خیبرپختونخوا میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں صحت کارڈ منسوخ ہونے کے باعث عوام صحت کی سہولیات سے محروم ہیں۔ ایسے میں خیبر پختونخوا میں پنجاب کی فرح گوگی کی طرح مشعال یوسفزئی سامنے آئی ہے.
بشریٰ بی بی کی ترجمان مشعال یوسفزئی،جسے خیبر پختونخواہ میں مشیر بنایا گیا ہے، ٹک ٹاکر بن چکی ہیں تو وہیں سرکاری گاڑی کے لئے ڈیمانڈ کر دی، وزیر اعلیٰ کے مشیر مشال یوسفزئی کو ایک کروڑ ستر لاکھ روپے مالیت کی گاڑی سے نوازنے کی تیاریاں جاری ہیں۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی مشیر اور عمران خان کی وکلاء ٹیم میں شامل مشعال یوسفزئی کے لیے ایک کروڑ 70 لاکھ روپے سے زائد کی ”ٹویوٹا فارچیونر“ گاڑی خریدنے کا ارادہ رکھنے کی خبر نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا کردیا ہے۔نجی ٹی وی نے اپنی ایک رپورٹ میں اس حوالے سے ایک خبر نشر کی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک مبینہ سمری بھی سامنے آئی جس میں مشعال یوسفزئی کی فارچیونر کے علاوہ سیکرٹری سوشل ویلفیئر کے لیے بھی 70 لاکھ روپے کی گاڑی خریدنے کی درخواست کی گئی ہے۔صوبے کی مخدوش مالی حالت کے باعث محکمہ خزانہ نے گزشتہ مہینے ہی نئی گاڑیاں خریدنے پر پابندی عائد کی تھی۔ تا ہم ان دونوں خواتین کو گاڑیاں چاہئے تھیں، گاڑیاں خریدنے کی خبر سامنے آئی تو سوشل میڈیا پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا، پی ٹی آئی کارکنان نے ہی مشعال یوسفزئی پر تنقید کی اور کہا کہ ایک طرف صوبے کی معاشی حالت دیکھ لیں تو دوسری جانب مشعال یوسفزئی کے کام دیکھ لیں، سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بننے کے بعد پی ٹی آئی رہنما شہباز گل نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ خبر درست ہے تو اس فیصلے کو عوامی مفاد میں واپس لے لینا چاہیے کیونکہ عمران خان کو یہ چیزیں پسند نہیں ہیں۔
مشیر وزیراعلیٰ مشعال اعظم یوسفزئی نے الیکٹرانک میڈیا پر نئی گاڑیوں کے خریداری کے حوالے سے چلنے والے خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مشیر وزیراعلیٰ کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سیکرٹری سوشل ویلفیئر اور خصوصی تعلیم نے سمری ارسال کی کہ سیکرٹری سوشل ویلفیئر و خصوصی تعلیم کے پاس گاڑی نہیں ہے اس لئے نئی گاڑی کی خریداری کے لئے اجازت دی جائے۔ اس سمری میں مشیر وزیراعلیٰ کے لئے بھی نئی گاڑی خریدنے کا ذکر کیا گیا۔مشعال یوسفزئی نے کہا کہ میرے سامنے سمری پیش کی گئی جس پر میں نے سختی منع کیا اور کہا کہ اگر گاڑی کی ضرورت تھی تو نگران حکومت میں خریدنے کی اجازت لیتے۔ اس حوالے سے واضح احکامات دئیے ہیں کہ گاڑی خریدنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور کیس واپس کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کے کفایت شعاری پالیسی کے مطابق نئے گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی ہے اور ہم اس پالیسی کی بھرپور پاسداری کررہے ہیں۔ بعض عناصر کی جانب سے مسلسل بے بنیاد منفی پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے جس کا مقصد صرف کردار کشی کرنا ہیں۔ صوبائی حکومت وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں صوبے کی بہتری اور عوام کی فلاح کے لئے اقدامات اٹھارہی ہے۔
مشعال یوسفزئی پارٹی پالیسی کے خلاف کام کرتی ہوئی نظر آ رہی ہیں،رمضان پیکج یا عید پیکج کی تقسیم کے موقع پر بھی مشعال یوسفزئی نے متاثرین کو دفتر بنا کر تصاویر بنوائیں جس پر وزیراعلیٰ کو نوٹس لینا پڑا مشعال یوسفزئی کی ٹک ٹاک دیکھی جائے تو موصوفہ کی ویڈیو کہیں گارڈ کے ساتھ کہیں سرکاری گاڑی میں پروٹوکول کے ساتھ ، جس پر ان پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے، گاڑیوں کی خبرسامنےآنے کے بعد مشعال یوسفزئی نے خاتون صحافی پر شرمناک الزام لگادیا،ٹویٹ کرتے ہوئے مشعال یوسف زئی نے خاتون صحافی کے ساتھ ہونے والی اپنی گفتگو کے سکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ نادیہ کی جانب سے پیسوں کی ڈیمانڈ کی گئی تھی جو کہ میں نے منع کردیا کہ یہ خان کی حکومت ہے یہاں لفافہ نہیں چلتا تو پراپیگنڈا شروع کردیا گیا، اس نے پیسے مانگے جو کہ نا دیئے جس پر یہ جھوٹی اسٹوری کی گئی۔ لیکن جو سکرین شاٹ مشعال یوسفزئی کی طرف سے شیئر کیے گئے ان میں کہیں بھی پیسے مانگنے کا ثبوت موجود نہیں، اس سکرین شاٹ سے مشعال یوسفزئی خود جھوٹی ثابت ہو گئیں، مشعال یوسفزئی کو پی ٹی آئی کارکنان ہی عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کر رہے ہیں
پنجاب کی فرح گوگی کے طرح خیبر پختون خواہ میں مشال یوسفزئی وزیر اعلی کی فرنٹ مین کا کردار ادا کر رہی ہے
یوتھیوں اب نہ کہنا فرح گوگی کیطرح ہمیں مشال یوسفزئی کی کرپشن کا اندازہ نہ ہو سکا
پی ٹی آئی 11 سال میں KPK میں حکومت کرکے پورے صوبے کو 11ہزار ارب روپے کا ڈیفالٹ کر چکی ہے pic.twitter.com/mYaBXOwejQ— Shahid Khan (@64c250dd30ad402) April 17, 2024
پشاور پریس کلب نے وزیراعلی خیبرپختونخوا کی خاتون مشیر برائے سوشل ویلفیئر مشعال یوسفزئی کی جانب سے سینیئر خاتون صحافی نادیہ صبوحی کے خلاف الزام تراشی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے،پریس کلب کی جانب سے جاری ہونیوالے بیان کے مطابق صحافی برادری نےعلی امین گنڈاپور اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور معاملہ پر مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کے لئے سینیئر صحافیوں کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔ پریس کلب کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ خاتون مشیر مشعال یوسفزئی نے گاڑی کی خریداری کی سمری کے حوالے سے کوئی تسلی بخش وضاحت کرنے کی بجائے جیو نیوز کی سینیئر خاتون صحافی نادیہ صبوحی صاحبہ پر (منتھلی) پیسے مانگنے کا الزام لگایا۔ مشعال یوسفزئی مشیر بننے کے بعد مسلسل تنازعات کی زد میں ہیں اور ان کا موجودہ اقدام پاکستان تحریک انصاف، اس کی صوبائی حکومت اور صحافیوں کے مابین خوشگوار تعلقات کو سبوتاژ کرنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔
فرح گوگی سیزن 2 pic.twitter.com/3hHrOyyFKz
— Shafqat Ali Jutt ♥️ (@Shafqatali193) April 17, 2024
نواز شریف ہم قدم، بھتیجی بازی لے گئی، انقلاب آ گیا
بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو
حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے
متنازعہ ٹک ٹاکر حریم شاہ کی ایک اور نازیبا ویڈیو”لیک”
مریم نواز کا آٹھ سو کا سوٹ،لاہوری صحافی نے عظمیٰ بخاری سے مدد مانگ لی
مریم نواز تو شجر کاری مہم بھی کارپٹ پر واک کرکے کرتی ہے،بیرسٹر سیف
بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا
مہنگائی،غربت،عید کے کپڑے مانگنے پر باپ نے بیٹی کی جان لے لی
پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ
بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا
بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے
-

چودھر ی پرویز الٰہی کو بغیر اجازت کہی منتقل نہیں کیا جائے گا،اسلام آباد ہا ئیکورٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے پرویز الٰہی کی پمز اسپتال سے جیل منتقلی کیخلاف دائر درخواست پر سماعت کی ، اہلیہ قیصرہ الٰہی کی درخواست کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی ،عدالت نے پرویز الٰہی کو اسپتال یا اڈیالہ جیل سے کہیں بھی دوسری جگہ بغیر اجازت منتقل کرنے سے روک دیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے پرویز الٰہی کا باقاعدہ علاج جاری رکھنے کا حکم دیدیا ،عدالت نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل سے 19 اپریل تک تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ۔عدالت نے حکم دیا کہ ای ڈی پمز بھی آئندہ سماعت پر عدالتی معاونت کیلئے افسر کو نامزد کریں۔
-

نجی ہاؤسنگ سوسائٹی ،سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف انکوائری کا آغاز
فوج نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کے مالک کی درخواست پر فیض حمید کیخلاف انکوائری کمیٹی بنا دی۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی ہاؤسنگ سوسائٹی میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کا جائزہ لے کر رپورٹ مرتب کرے گی۔ انکوائری کمیٹی اعلی عدلیہ کے احکامات کی روشنی میں قائم کی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کمیٹی الزامات ثابت ہونے پر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔واضح رہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ریٹائرڈ فیض حمید پر ہاؤ سنگ سوسائٹی کے حوالے سے اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے، ہاؤ سنگ سوسائٹی کے معاملات کی اعلی عدلیہ سماعت کرچکی ہے۔
ٹاپ سٹی سکینڈل کیس میں جنرل فیض حمید کے خلاف انکوائری کا حکم
8 نومبر 2023 کو ٹاپ سٹی کے مالک معیز احمد خان نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی جس میں انہوں نے آرٹیکل 184/3 کے تحت فائل کی گئی پیٹیشن میں یہ الزام لگایا کہ سابقہ DG ISI لیفٹننٹ جنرل فیض حمید نے اپنی اتھارٹی کو ان کے اور ان کی فیملی کے خلاف غیر قانونی طور پر استعمال کیا،معیز احمد خان کی طرف سے جو پٹیشن سپریم کورٹ میں فائل کی گئی اس میں یہ کہا گیا کہ 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے کہنے پر آئی ایس آئی کے افیشلز نے ٹاپ سٹی آفس اور معیز احمد کے گھر پر چھاپہ مارا جس کے دوران اُن کے گھر سے قیمتی اشیاء جس میں گولڈ، ڈائمنڈ اور پیسے شامل ہیں، ریڈ کے دوران آئی ایس آئی آفیشلز اٹھا کر لے گئے – پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا کہ سابقہ DG ISI لیفٹیننٹ جنرل حمید فیض حمید کے بھائی سردار نجف نے اس مسئلے کو بعد میں حل کرنے کے لیے ان سے رابطہ بھی کیا – اس پٹیشن میں یہ کلیم بھی کیا گیا کہ جنرل فیض نے بعد میں اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ان سے خود ملاقات بھی کی جس میں انہوں نے یہ یقین دہانی دلائی کہ ان میں سے کچھ چیزیں جو کہ ریڈ کے دوران آئی ایس آئی کے آفیشلز ساتھ لے گئے تھے وہ ان کو واپس کر دی جائیں گی البتہ 400 تولہ سونا اور کیش ان کو واپس نہیں کیا جائے گا – پٹیشن میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ آئی ایس آئی آفیشلز نے ان سے زبردستی چار کروڑ روپیہ کیش بھی لیا – پٹیشن میں مختلف آئی ایس آئی آفیشلز اور سابقہ DG ISI جنرل فیض حمید کے بھائی سردار نجف پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ وہ ٹاپ سٹی کو غیر قانونی طور پر ٹیک اوور کرنا چاہتے تھےمعاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے اور ان سنگین الزامات کی پاداش میں سپریم کورٹ کے تین ججز پر مشتمل بینچ جس میں چیف جسٹس اف پاکستان جسٹس قاضی فائض عیسی، جسٹس عطر من اللہ اور جسٹس امین الدین شامل تھے اس کیس کو سنا اور فیصلہ دیا کہ یہ کافی سنگین معاملہ ہے اور اس معاملے کی سنگین نوعیت ہونے کی وجہ سے ادارے کی عزت اور توقیر میں حرف ا سکتا ہے، اس لیے اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا – معاملے کی مزید انویسٹیگیشن کے لیے سپریم کورٹ نے ا پٹیشنر کو یہ کہا کہ وہ اس مسئلے کو وزارت دفاع کے ساتھ اٹھائے – اٹارنی جنرل اف پاکستان نے اعلی عدلیہ کو یہ یقین دہانی دلائی کہ اس معاملے پر مکمل تعاون کیا جائے گا اور قانون کے مطابق اس کے اوپر ایکشن لیا جائے گا ،اعلی عدلیہ کے احکامات کے مطابق اور وزارت دفاع کی ہدایات کی روشنی میں، پاکستان فوج نے اپنے احتساب کے عمل کو اگے بڑھاتے ہوئے تمام معاملات کو ایک ہائی لیول ادارتی انکوائری کے ذریعے انویسٹیگیٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان سنگین الزامات کی تحقیق کرنے کے لیے اعلی سطحی انکوائری کمیٹی ایک میجر جنرل کے نیچے بنا دی گئی ہے جو اس معاملے سے جڑے ہر پہلو کو تفصیل سے دیکھے گی،پاک فوج میں خود احتسابی کا ایک کڑا اور انتہائی شفاف نظام موجود ہے اور اسی نظام کو اگے بڑھاتے ہوئے ایسے تمام الزامات کی بڑی سنجیدگی کے ساتھ تفتیش کی جاتی ہے اور ذمہ داران کو کڑی سزائیں بھی دی جاتی ہیں تاکہ پاک فوج کے خود احتسابی کے شفاف عمل پر کوئی انچ نہ آ سکے
فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن، فیض حمید کو ملی کلین چٹ
سابق چیف جسٹس انور کاسی کو نوٹس جاری کر دیا۔جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو بھی نوٹس جاری
فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی واپس لینے کی درخواست دائر
فیض حمید جو اب سابق ڈی جی آئی ایس آئی ہیں نے ملک کو ناقابِلِ تَلافی نقصان پہنچایا
،میں ابھی فیض حمید کے صرف پاکستانی اثاثوں کی بات کر رہا ہوں
فیض حمید مبینہ طور پر نومئی کے حملوں میں ملوث ہیں
نجف حمید کے گھر چوری کی واردات
قوم نے فیض آباد دھرنا کیس میں ناانصافی کا خمیازہ 9 مئی کے واقعات کی صورت بھگتا، سپریم کورٹ
سپریم کورٹ،میں نے اپنے اوپر لگے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے،وکیل فیض حمید
زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی
واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں زمین قبضے کے الزام میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی سماعت ہوئی تھی،عدالت نے درخواست گزار معیز احمد خان کے وکیل کو وکالت نامہ جمع کرانے کیلئے وقت دیدیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے درخواست میں سنگین الزامات عائد کیے ہیں،کیا کیس میں خود پیش ہوں گے یا وکیل کے ذریعے، درخواست گزار نے کہا کہ میرے وکیل نے وکالت نامہ جمع نہیں کرایا، ہمیں رات کو ہی کال آئی تھی، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ کیس میں التوا دیا جائے،
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ کے کیس کو ملتوی بھی نہیں کر سکتے،آپ وکالت نامہ جمع کرائیں، پھر کیس سنیں گے، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بارہ مئی 2017 کو معیز خان اور انکے اہلخانہ کو اغواء کیا گیا، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ اس حوالے سے عدالت کیا کر سکتی ہے؟ کیا سپریم کورٹ نے اس معاملے پر کوئی نوٹس لیا تھا؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سپریم کورٹ نے براہ راست تو کوئی کارروائی نہیں کی تھی،وزارت دفاع انکوائری کرنے کی مجاز ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ زاہدہ نامی کسی خاتون کی درخواست بھی زیر التواء ہے،وکیل نے کہا کہ زاہدہ کا انتقال ہو چکا ہے، درخواست کی کاپی دیں تو جائزہ لے لیتے ہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ جائزہ لے لیں تاریخ نہیں دے سکتے، چائے کے وقفے کے بعد سماعت کرینگے،
سپریم کورٹ،فیض حمید کے خلاف ہیومن رائٹس کیس کی وقفے کے بعد سماعت ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وکیل درخواست گزار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جو اب تک اس کیس سے ہم سمجھ پائے وہ آپ کو بتا رہے ہیں، برطانیہ کی شہری زاہدہ اسلم نے 2017 میں سپریم کورٹ میں آرٹیکل 184 تین کا کیس دائر کیا،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے چیمبر میں نومبر 2018 میں فریقین کو بلا کر کیس چلایا،کیا چیف جسٹس پاکستان چیمبر میں اکیلے سنگل جج کے طور پر فریقین کو طلب کر کے کیس چلا سکتا ہے؟ کیس میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے خود ہی ایف آئی اے، پولیس اور سی ٹی ڈی وغیرہ کو نوٹس کیا، اسی نوعیت کی درخواست زاہدہ اسلم نے چیف جسٹس گلزار کے سامنے بھی رکھی،سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل میں آرٹیکل 184 تین کی درخواستیں دائر کی گئیں،جو درخواست ہمارے سامنے ہے یہ بھی 184 تین کے ہی تحت دائر کی گئی ہے،
کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جسٹس اطہرمن اللہ
جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہیومن رائٹس سیل اور سپریم کورٹ میں فرق ہے،کیس کے حقائق میں نا جائیں، میں نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ ہیومن رائٹس سیل غیر قانونی ہے،ہیومن رائٹس سیل کسی قانون کے تحت قائم نہیں ہے،ماضی میں ہیومن رائٹس سیل کے ذریعے بدترین ناانصافیاں ہوئی ہیں، کوئی چیف جسٹس قانونی دائرہ اختیار سے باہر کے معاملات پر نوٹس نہیں لے سکتا،جو معاملہ جوڈیشل دائرہ اختیار میں آیا ہی نہیں اس پر چیف جسٹس نے سماعت کیسے کی؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ حفیظ الرحمان صاحب زاہدہ اسلم اور آپکی درخواست کیا آرٹیکل 184/3 میں آتے ہیں،وکیل نے کہا کہ زاہدہ اسلم کی درخواست 184/3 میں نہیں آتی کیونکہ وہ معاملہ سول عدالت میں زیر سماعت تھا،ہماری درخواست آرٹیکل 184/3 میں آتی ہے کیونکہ یہ معاملہ کسی اور فورم پر نہیں گیا،چیف جسٹس قاضی فائز عیسینے کہا کہ چیمبر میں بیٹھا جج سپریم کورٹ نہیں ہوتا عدالت میں بیٹھے ججز سپریم کورٹ ہیں،چیمبر میں بیٹھ کر سپریم کورٹ کی کاروائی نہیں چلائی جاسکتی،چیمبر میں صرف چیمبر اپیلیں سنی جاسکتی ہیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سینئر وکلا سے پوچھ لیتے ہیں کہ کیا چیمبر میں بیٹھ کر جج کسی کیس کو سن سکتا ہے،وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ چیمبر میں آرٹیکل 184/3 کے مقدمات نہیں سنے جاسکتے،چیمبر میں مخصوص نوعیت کی چند درخواستیں سنی جاسکتی ہیں،سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ فاروق ایچ نائیک کی باتوں سے اتفاق کرتا ہوں،جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سلمان بٹ صاحب آپ نے بطور اٹارنی جنرل ہیومن رائٹس سیل کیخلاف بات کیوں نہیں کی،ہیومن رائٹس سیل حکومت کو غیر قانونی نوٹس بھجواتا رہا ہے،کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی کہ ہیومن رائٹس سیل کیخلاف عدالت میں سوال اٹھاتی،2010 سے ہیومن رائٹس سیل غلط طریقے سے چل رہا ہے کسی نے آواز نہیں اٹھائی،
زمین پر قبضے کا الزام،سپریم کورٹ نے فیض حمید کے خلاف درخواست نمٹا دی، سپریم کورٹ نے متعلقہ فورم سے رجوع کرنےکا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار کے پاس فیض حمید سمیت دیگر فریقین کیخلاف دوسرے متعلقہ فورمز موجود ہیں،سپریم کورٹ کیس کے میرٹس کو چھیڑے بغیر یہ درخواست نمٹاتی ہے، درخواست گزار متعلقہ فورم سے رجوع کر سکتا ہے،متعلقہ فورم غیر موجود فریقین کے بنیادی حقوق کا خیال رکھے،درخواست گزار نے آئی ایس آئی کے سابق عہدیدار پر سنگین الزامات عائد کیے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق درخواست گزار وزارت دفاع سے سابق عہدیدار کیخلاف رجوع کر سکتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے مطابق ریٹائرڈ فوجی افسران کا کورٹ مارشل بھی ہو سکتا ہے، آرٹیکل 184 تین کا استعمال اس طریقے سے نہیں ہونا چاہئے جس سے غیر موجود افراد کے بنیادی حقوق متاثر ہوں،
فیض حمید کے حکم پر گھر اور آفس پر ریڈ کر کے قیمتی سامان ،سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کیا گیا،درخواست
راولپنڈی کے شہری معیز احمد نے سپریم کورٹ میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کیخلاف درخواست دائر کردی،جس میں کہا گیا کہ مجھے اور فیملی ارکان کو غیر قانونی حراست میں رکھا گیا، وفاقی حکومت کو ذمہ داران فریقین کیخلاف کاروائی کا حکم دیا جائے، 12 مئی 2017 کو جنرل فیض حمید کے حکم پر ان کے گھر اور آفس پر ریڈ کیا گیا،اس غیر قانونی ریڈ میں گھر کا قیمتی سامان اور سوسائٹی کا ریکارڈ چوری کر لیا گیا،میرے خلاف غیر قانونی کارروائی کا مقصد ٹاپ سٹی ون کا کنٹرول حاصل کرنا تھا اور اس ریڈ کے بعد مجھے اور میرے پانچ ساتھیوں کو گرفتار کر کے حبس بے جا میں رکھا گیا، وفاقی حکومت جنرل ریٹائرڈ فیض حمید، ان کے بھائی نجف حمید پٹواری اور دیگر ساتھیوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائے -

وزیراعظم سے ترکمانستان کے سفیر کی ملاقات
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان میں ترکمانستان کے سفیر عزت مآب عطاجان مولویوف نے آج وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی۔ترکمان سفیر نے ترکمان قیادت کی جانب سے وزیر اعظم کو دوبارہ منتخب ہونے پر مبارکباد د ی وزیراعظم نے ترکمانستان کے صدر عزت مآب سردار بردی محمدوف اور ترکمان عوام کے قومی رہنما عزت مآب گربنگولی بردی محمدوف کا مبارکباد کے پیغامات پر شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے دونوں رہنماؤں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی ملاقاتوں کا یہ تسلسل جاری رہے گا۔
وزیراعظم نے پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان دیرینہ، تاریخی اور ثقافتی تعلقات کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعاون خصوصاً تجارت، توانائی اور مواصلات کے شعبوں میں تعلقات کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ ملاقات میں علاقائی تعاون کے حوالے سے اقدامامت پر بھی تبادلہء خیال کیا گیا۔وزیراعظم نےدونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے تبادلوں کو بڑھانے اور دوطرفہ ادارہ جاتی میکانزم کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ترکمانستان کے سفیر نے وزیراعظم کو دوطرفہ سرگرمیوں بارے کیا۔ترکمان سفیر جو کہ اسلام آباد میں ڈپلومیٹک کور کے ڈین بھی ہیں، نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں وزارت خارجہ اور دیگر سرکاری محکموں کے تعاون اور حمایت پر اظہار تشکر کیا۔ -

سندھ کابینہ کے مزید 8 وزرا نے حلف اٹھا لیا
سندھ کابینہ کے مزید 8 وزرا نے حلف اٹھا لیا، گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کابینہ ارکان سے حلف لیا۔حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس سندھ میں منعقد ہوئی جس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی شرکت کی۔جام اکرام اللہ خان دھاریجو کو انڈسٹریز اینڈ کامرس ،محمد علی ملکانی کو محکمہ جامعات و بورڈ،مخدوم محبوب الزمان کو محکمہ بحالی کا قلمدان سونپ دیا گیا ،جبکہ دوست محمد راہموں کو محکمہ ماحولیات موسمی تبدیلی و ساحلی ترقی،شاہد عبدالسلام تھیم کو محکمہ محنت و افرادی قوت،سید ریاض حسین شیرازی کو محکمہ اوقاف زکوةٰ عشر،شاہینہ شیر علی کو محکمہ ویمن ڈویلپمنٹ،میر طارق علی تالپور کو محکمہ سماجی بہبودکا قلمدان سونپ دیا گیا ،محکمہ سروسز جنرل ایڈمنسٹریشن و کو آرڈی نیشن نے نوٹی فکیشن جاری کردیا ۔سندھ کابینہ میں شامل صوبائی وزیر علی حسن زرداری پر ایک اور نوازش ہو گئی،علی حسن زرداری کو محکمہ ورکس اینڈ سروسز کا اضافی قلمدان بھی سونپ دیا گیا ،علی حسن زرداری کے پاس پہلے محکمہ جیل خانہ جات کا قلمدان ہے ۔
-

بلاول بھٹو زرداری نے سینیٹر شیری رحمان کو سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر نامزد کردیا
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے سینیٹر شیری رحمان کو سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر نامزد کردیا۔چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے سینیٹر شیری رحمان کو پارلیمانی لیڈر نامزدگی پر مبارک باد دی ہے۔یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ امید ہے سینیٹر شیری رحمن ایوان بالا کی قانون سازی میں اہم کردار ادا کرتی رہیں گی۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ہاؤس آف فیڈریشن ملکی مسائل پر پالیسی سازی میں اہم فورم ہے، سینیٹر شیری رحمن اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر عوامی مسائل کو اجاگر کریں گی۔
-

خیبر پختونخوا : ٹی ٹی پی کا بھتہ خور گروہ دوبار ہ سرگرم ہوگیا
سکیورٹی فورسز ذرائع کاکہنا ہےکہ ٹی ٹی پی کا بھتہ خور گروہ دوبارہ سرگرم ہوگیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں ٹی ٹی پی کی جانب سے بھتہ خوری کی جا رہی ہے ۔ تاہم اس کے لیے سکیورٹی فورسز کی طرف سے سخت ایکشن لیاجارہاہے۔ ذرائع کاکہنا ہےکہ ٹی ٹی پی کے خوارج اکثر ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے کنٹریکٹرز سے پیسے ہتھیانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ خوارج ماضی میں کراچی میں رہائش پذیر معصوم قبائلی افراد کو بھی ڈرانے دھمکانے سے باز نہیں آتے تھے۔ان خوارج کا مقصد صرف فساد فی الارض ہے جس کی 1800 علماء پیغام پاکستان کے فتوے کے ذریعے تصدیق کر چکے ہیں۔واضح رہے کہ ماضی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) کیلئے بھتہ لینے والے سرگرم گروہ کو گرفتار کرلیاگیاتھا ۔سکیورٹی فورسز کی خفیہ اطلاعات پر سرگرم ارکان کو گرفتار کیا گیاتھااور دوران تفتیش گرفتارارکان نے بھتہ لینے کے طریقہ کار کے حوالے سے بڑے انکشافات ہوئے تھے ۔ گرفتار ارکان مختلف طریقوں سے کالعدم ٹی ٹی پی کو بھتہ خوری میں معاونت فراہم کر رہے تھے۔
