اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 22 اپریل تک ملتوی کر دی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ روسٹرم پر گئے اور دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی 3 لوگوں کے ساتھ ایک آڈیو سامنے آئی، شاہ محمود قریشی، اعظم خان اور اسد عمر بھی گفتگو میں شامل ہیں، ایف آئی اے نے اپنی ٹیکنیکل رپورٹ میں بتایا کہ یہ گفتگو کیا ہے۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ایف آئی اے رپورٹ تصدیق کر رہی ہے کہ یہ گفتگو ہے، جس پر پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے جواب دیا کہ سامنے آنے والی آڈیو میں سائفر کے ساتھ کھیلنے کا تذکرہ ہے، وفاقی کابینہ کی منظوری سے ایف آئی اے میں انکوائری رجسٹر ہوئی۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارتِ خارجہ کی بجائے وزارتِ داخلہ مدعی کیوں تھی؟ بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے اس نکتے پر بہت زور دیا ہے۔ چیف جسٹس کے ریمارکس پر پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں آگے چل کر اس متعلق عدالت کی معاونت کرونگا، سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر نے اکتوبر 2022 میں پہلی شکایت درج کرائی، ستمبر 2023 کو نئے سیکرٹری داخلہ آفتاب درانی نے دوسری شکایت جمع کرائی، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مطلوبہ ضرورت پوری کرنے کیلئے دوسری شکایت دائر کی گئی، 16 اگست 2023 کو ایف آئی اے نے بانی پی ٹی آئی کا جسمانی ریمانڈ مانگا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، 16 اگست کو بانی پی ٹی آئی کو گرفتار کیا گیا۔ پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو 19 اگست 2023 کو گرفتار کیا گیا، 3 اکتوبر 2023 کو ملزمان کے خلاف چالان جمع کروایا گیا، 23 اکتوبر کو ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی جو ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دی، 13 دسمبر 2023 کو دوسری بار فردِ جرم عائد کی گئی۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکلاء کون تھے؟ پھر ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے مقرر کیے گئے وکلاء کون تھے؟ چیف جسٹس نے مداخلت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مائی لارڈ یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ ملزمان کے اپنے وکلاء کون تھے جن کے وکالت ناموں پر انہوں نے دستخط کیے، پھر وہ وکلاء کون تھے جن کو ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے ملزمان کیلئے مقرر کیا، جسٹس حسن اورنگزیب نے کارروائی آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے اپنے وکلاء اور ایڈووکیٹ جنرل کی طرف سے مقرر کردہ وکلاء کا تقابلی جائزہ بہت ضروری ہے۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے کہا کہ 30 جنوری 2024 کو گواہوں پر جرح مکمل ہوئی، 31 جنوری کو ملزمان کا دفاع کا بیان مکمل ہوا، چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ فیصلہ کب ہوا؟ جس پر پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے جواب دیا کہ 30 جنوری کو ہی فیصلہ سنایا گیا، چیف جسٹس نے نقطہ اٹھایا کہ 31 جنوری کو دفاع کا بیان ہوا تو 30 کو فیصلہ کیسے ہوا؟ پراسیکیوٹر نے فاضل جج سے کہا کہ میں معذرت چاہتا ہوں میرے پیچھے مشورے دینے والے بہت ہیں، 30 جنوری کو دفاع کا بیان ہوا اور اسی دن فیصلہ ہوا۔ عدالت نے پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 22 اپریل تک ملتوی کر دی۔
Author: صدف ابرار
-

سینیٹر اعجاز چودھری اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کا پارٹی میں دوبار شاملِ ہونے کی اپیل
اپنے خط میں سینیٹر اعجاز چودھری اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ 9 مئی کے بعد مشکل حالات میں پارٹی چھوڑنے والے عہدیداروں ، ممبران اسمبلی اور اہم کارکنان کی پارٹی میں واپسی پر غور کی ضرورت ہے ۔ جبر کے اس ماحول میں ہر فرد مشکلات ، دباؤ اور ظلم و تشدد کا مقابلہ نہیں کر سکتا اس لئے پارٹی چھوڑ دی ۔ ایک سال گزارنے کے بعد چیئرمین عمران خان کی استقامت اور بہادری دیکھ کر اور 8 فروری کے الیکشن میں عوام کا فیصلہ دیکھ کر بہت سارے لوگ واپس آنا چاہتے ہیں ۔ بانی چیئرمین عمران خان سے اپیل ہے کہ انہیں کارکن کی حیثیت سے واپس آنے اور کام کرنے کی اجازت دے جائے تاکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان میں حصہ لے سکیں
خط میں مزید کہا گیا کہ وہ تمام افراد جو پارٹی میں دوبار شاملِ ہونا چاہتے ہیں وہ موجودہ چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے نام اپیل کریں اور کور کمیٹی سے سفارش کے بعد وہ نام بانی چیئرمین عمران خان کو منظوری کے لیے بھیجے جائیں ۔ -

وزیر اعظم شہباز شریف سے شنگھائی الیکٹرک گروپ کے وفد کی ملاقات
اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف سے شنگھائی الیکٹرک گروپ کے وفد نے ملاقات کی۔ دارالحکومت میں ہونے والی میٹنگ کی قیادت شنگھائی الیکٹرک گروپ کے چیئرمین مسٹر وو لی نے کی،ملاقات میں وفد نے وزیراعظم شہباز شریف کو شنگھائی الیکٹرک کی جانب سے پاکستان میں شروع کیے گئے مختلف منصوبوں پر بریفنگ دی۔ بریفنگ کا مقصد وزیراعظم کو ملک میں شنگھائی الیکٹرک کے اقدامات کی پیش رفت اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کرنا تھا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے شنگھائی الیکٹرک کے پاکستان میں شروع کیے گئے منصوبوں کو سراہتے ہوئے پاکستان اور چین کے درمیان دوستانہ تعلقات اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیراعظم نے پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط دوطرفہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اقتصادی تعاون اور باہمی فائدے میں اضافے کے امکانات کو نوٹ کیا۔ انہوں نے پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں میں شنگھائی الیکٹرک جیسی چینی کمپنیوں کی جانب سے مسلسل سرمایہ کاری اور تعاون کا خیرمقدم کیا۔ملاقات نے دونوں فریقوں کو توانائی، بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کے ممکنہ شعبوں پر بات چیت کا موقع فراہم کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے اور پاکستان میں منصوبوں کے کامیاب نفاذ کو یقینی بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔بات چیت میں پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات کو گہرا کرنے اور تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے میں باہمی دلچسپی پر زور دیا گیا، شنگھائی الیکٹرک گروپ اس کوشش میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور شنگھائی الیکٹرک گروپ کے وفد کے درمیان ملاقات میں پاکستان اور چین کے درمیان مسلسل تعاون اور سرمایہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ چونکہ دونوں ممالک اپنی اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہیں، شنگھائی الیکٹرک گروپ کی جانب سے کیے گئے اقدامات پاکستان کی ترقی اور پیشرفت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور شنگھائی الیکٹرک گروپ کے وفد کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات کا احاطہ کرتی ہے، جس میں جاری منصوبوں اور مستقبل میں تعاون کے مواقع کے حوالے سے بات چیت کی گئی ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے۔ یہاں کام کرنے والے چینی مہمانوں کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ چینی کمپنیاں کول پاور پلانٹس اور کوئلے کی کان کنی میں مزید سرمایہ کاری کریں۔ موجودہ منصوبوں کی وسعت کیلیے چینی سرمایہ کاروں کو تمام سہولتیں دیں گے۔ وفد نے وزیراعظم کو مختلف منصوبوں کی اب تک کی پیشرفت پر بریفنگ بھی دی۔ -

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے "بھاولنگر واقعہ” کو لاقانونیت کا ثبوت قرار دے کر مذمت کر دی
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ آج القادر ٹرسٹ کیس کی سماعت ہوئی، میڈیا کو سماعت کے دوران اندر نہیں آنے دیا گیا، یہ سب کچھ غیر قانونی اور غیر آئینی ہو رہا ہے۔القادر ٹرسٹ کیس سیاسی انتقام کا کیس ہے، بانی پی ٹی آئی نے بہاولنگر واقعہ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا، ملک میں جنگل کا قانون ہے، جب بانی پی ٹی آئی کے گھر کے دروازے توڑے گئے تب کسی نے معافی نہیں مانگی۔پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر کاکہنا ہےکہ اس وقت ملک میں جنگل کا قانون ہے، جیل ٹرائل میں پبلک اور میڈیا کا ہونا ضروری ہے۔بیرسٹر گوہر نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت ملک میں جنگل کا قانون ہے، جیل ٹرائل میں پبلک اور میڈیا کا ہونا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج میڈیا کو تین کمروں کے پیچھے رکھا گیا تھا، نئے شیشے لگوائے گئے، دیواریں اونچی کرائی گئیں، شیڈز لگوائے گئے، دروازوں کو تالے لگے تھے اور میڈیا کو ایک لفظ بھی سنائی نہیں دے رہا تھا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ اگر مذاکرات ہوں گے تو کبھی نہیں چھپائیں گے، کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، بانی پی ٹی آئی کے بشریٰ بی بی کی صحت و سکیورٹی بارے خدشات ہیں، بانی پی ٹی آئی نے کہا اگر کچھ ہوا تو یہی لوگ ذمہ دارہوں گے۔ان کی کوشش ہے کہ میڈیا کو کیسز کی سماعت سے دور رکھیں۔انہوں نے کہا کہ ہم القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کیس کی سماعت میں موجود تھے، اب تک پراسیکیوشن نے 14 گواہان سے جرح کرائی ہے، آج کی عدالتی کارروائی بالکل مختلف تھی، یہ کیس سائفر کا نہیں جس میں کہا جا رہا تھا کہ کوئی راز ہے، یہ نیب کا کیس ہے، یہ جیل ٹرائل ہے، اس میں عوام اور میڈیا کا ہونا ضروری ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم نے تو ہمیشہ کہا ڈائیلاگ ہونے چاہئیں، ہمارا چھ جماعتوں کے ساتھ الائنس ہوگیا ہے، ہماری کسی ادارے کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہورہی، بانی پی ٹی آئی نے کبھی کسی ادارے کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔ ہمیں جلسوں کی اجازت نہیں دی جارہی، اس کے باوجود ہم کنونشن و ریلیاں نکالیں گے۔ -

پاکستان تحریک انصاف کاسینیٹ چئیرمین کے انتخاب سے بائیکاٹ کااعلان
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سینیٹ کے ارکان کے انتخاب مین زور و شور سے حصہ لینے اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں سینیٹ کے 11 ارکان کا باقی ملک کے ساتھ انتخاب ناممکن بنانے کے بعد سینیٹ کے چئیرمین کے انتخاب کا بائیکاٹ کر دیا۔کل منگل 8 اپریل کو ہونے والے سینیٹ کے چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں پی ٹی آئی کے سینیٹر ووٹ نہیں دیں گے۔ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں پی ٹی آئی کے سینیٹر بائیکاٹ کریں گے۔ تاہم پی ٹی آئی نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ ان کے سینیٹر ایوان بالا کے چئیرمین کے انتخاب کے دوران شور شرابا کرنے کے لئے ایوان میں جائیں گے یا نہیں۔پی ٹی آئی نے سینیٹ کے چئیرمین کے انتخاب میں حصہ نہ لینے کا اعلان بظاہر خیبر پختونخوا اسمبلی میں سینیٹ کے 11 ارکان کا انتخاب نہ ہونے کے خلاف احتجاج کے لئے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پختونخوا سے 11 ارکان کے انتخاب کے بغیر سینیٹ کے چئیرمین کا انتخاب غیر آئینی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں 25 منتخب ارکان سے سپیکر کے حلن نہ لینے کے بعد ان ارکان کی جانب سے سینیٹ کے ارکان کا الیکشن رکوانے کی تحریری درخواست پر خیبر پختونخوا اسمبلی میں 11 سینیٹروں کا الیکشن عین آخری لمحہ رکوا دیا تھا۔ اس الیکشن سے پہلے پشاور ہائی کورٹ نے باقاعدہ حکم جاری کیا تھا کہ سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کے تمام منتخب ارکان سے رکنیت کا حلف لینے کا بندوبست کریں۔ ان منتخب ارکان کا تعلق اپوزیشن پارٹیوں سے ہے اور اب تک ان سے رکنیت کا حلف نہین لیا گیا۔ رکنیت کا حلف لئے بغیر یہ ارکان سینیٹ کے ارکان کے انتخاب میں اپنا ووٹ کا حق استعمال نہین کر سکتے تھے، وہ خیبر پختونخوا اسمبلی کی کارروائی مین بھی کوئی کردار ادا نہیں کر سکتے۔
پی ٹی آئی کور کمیٹی کے آج پیر کے روز میڈیا اور سوشل میڈیا کو جاری کئے گئے اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہےکہ خیبر پختونخوا کے سینیٹرز کی ایوان میں موجودگی تک چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب ملتوی کیا جائے۔کور کمیٹی کا کہنا ہےکہ وفاق کی تمام اکائیوں کی نمائندگی کے بغیر چیئرمین اور ڈپٹی چئیرمین سینیٹ کا انتخاب غیر آئینی ہے۔ وفاق کی اکائی خیبرپختونخوا کو انتخابی عمل سے باہر رکھنا تعصب ومنافرت پھیلانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔پی ٹی آئی نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے خلاف درخواست سیکرٹری سینیٹ کو جمع کروائی ہے جب کہ اس انتخاب کو عدالت میں بھی چیلنج کرنے کے لئے درخواست دی ہے۔ -

بلوچستان :وزیر اعلی کا آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کو پائلٹ پراجیکٹ تیار کرنے کی ہدایت
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے صوبے بھر میں ای گورننس سسٹم کے مرحلہ وار نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ گورننس کی کمزوریوں کو دور کرتے ہوئے جو عوامی مشکلات کا باعث بنی ہیں، وزیر اعلیٰ نے عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کی کمی کو اجاگر کیا۔وزیر اعلیٰ سر فراز بگٹی کی سربراہی میں گزشتہ روز اصلاحاتی کمیٹی کا افتتاحی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں گورننس کو بہتر بنانے کے لیے موثر اقدامات اور ٹائم لائنز وضع کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔صوبے میں گھوسٹ اور غیر حاضر ملازموں کے محاسبہ کے لئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، وزیر اعلی نے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ کو پائلٹ پراجیکٹ تیار کرنے کی ہدایت کر دی۔
اجلاس میں سی ایم ڈی یوکو فعال کرنے کے لئے نجی شعبے سے ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ وزیر اعلی بلوچستان نے کہا کہ کمیٹی میں شامل ماہرین متعلقہ شعبوں کی بہتری سے متعلق سفارشات مرتب کریں، گورننس کی بہتری کیلئے اے آئی ٹیکنالوجی کا آغاز بی ایم سی، سول سنڈیمن ہسپتال اور یونیورسٹی آف بلوچستان سے کیا جائے۔سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ اے آئی نظام کا نفاذ مرحلہ وار پورے صوبے میں کیا جائے گا، گورنفس کی کمزوریوں کے باعث عوام مشکلات سے دو چار ہیں، عوام اور حکومتی محکموں کے مابین اعتماد کا فقدان ہے، ہم نے عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنا ہے، گڈ گورننس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کر پشن ہے۔ -

ڈیرہ مراد جمالی شہر کی الاٹمنٹ کو عوامی امنگوں کے مطابق یقینی بنایا جائے گا، میر محمد صادق عمرانی
پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور رکن صوبائی اسمبلی میر محمد صادق عمرانی نے کہا ہے کہ نصیر آباد کے عوام کی طبی سہولیات کی غرض سے شہید بینظیر بھٹو میڈیکل کالج کے لیے 2 ہزار ملین روپے کا بجٹ منظور کرایا ہے اس کی جلد تعمیر شروع ہو جائے گی میڈیکل کالج میں 500 بیڈز پر مشتمل ہسپتال تعمیر کیا جائے گا یہ بات انہوں نے ڈیرہ مراد جمالی میں اپنی رہائش گاہ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی اس موقع پر پی پی پی نصیر آباد کے ڈویزنل صدر میر بلال خان عمرانی بھی موجود تھے میر صادق عمرانی نے کہا کہ پٹ فڈر کینال کو پختہ کرنے کے لیے 65 ارب روپے کا بجٹ منظور کیا گیا ہے اس پراجیکٹ کی تکمیل سے نصیر آباد میں زرعی انقلاب آ جائے گا ڈیرہ مراد جمالی شہر کی تعمیر و ترقی اور مکینوں کو ایک ایک سولر اور دو دو پنکھے بھی فراہم کیے جائیں گے جس کے لیے 9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ نکاسی آب اور شہر کی الاٹمنٹ کے مںصوبے پر عمل درآمد کے لیے بھرپور کوششیں کی جائیں گی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نصیر آباد پولیس کی کارکردگی غیر تسلی بخش اور مایوس کن ہے سنگین جرائم کی وارداتوں میں اضافہ باعث تشویش ہے شہریوں کی جان اور مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس کو موثر اقدامات کرنا چاہئے انہوں نے شہریوں کی شکایات پر کہا کہ نصیر آباد کے سرکاری افسران دفتروں سے غائب ہونے کی بجائے اپنی حاضری کو یقینی بنائیں تاکہ شہریوں کی جائز شکایات کا ازالہ ممکن ہو سکے انہوں نے کہا کہ ڈیرہ مراد جمالی بائی پاس کی تعمیر کو یقینی بنانے کے لیے اس کے پراجیکٹ ڈائریٹر کو پنجگور میں بیٹھنے کے بجائے ڈیرہ مراد جمالی میں بیٹھنا چاہیے انہوں نے کہا کہ چھتر فلیجی اور میرحسن کے علاقوں میں عوام کی ضروریات کے مطابق ترقیاتی اسکیمیں شروع کی جائیں گی،
-

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا پاکستان کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں افطار ڈنر کا اہتمام
آرمی اسکول آف فزیکل ٹریننگ کیمپ کاکول میں ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں افطار ڈنر کا اہتمام کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق افطار ڈنر کا اہتمام آرمی ہاوس راولپنڈی میں کیا گیا، چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ محسن نقوی اور پی سی بی حکام نے بھی افطار میں شرکت کی۔
آرمی چیف نے کرکٹ ٹیم کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا، کرکٹرز نے کاکول میں شاندار تربیت کی فراہمی پر آرمی چیف کا شکریہ ادا کیا۔آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ کرکٹرز نے پاکستان میں کھیلوں کو سپورٹ کرنے پر فوج کے کردار کو بھی سراہا۔واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم نے آرمی اسکول آف فزیکل ٹریننگ کیمپ کاکول میں جسمانی تربیت میں حصہ لیا۔ -

وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سعودی عرب کے دورے سے واپس لاہور پہنچ گئے
وزیر اعظم شہباز شریف ، وفاقی کابینہ کے ارکان اور پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف حجازِ مقدس میں حرمین شریفین پر حاضری اور عمرہ کے بعد پاکستان واپس پہنچ گئے۔ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سعودی عرب کے دورے کے بعد لاہور ائیر پورٹ پر اترے۔ وزیراعظم نے اس باسعادت سفر کے دوران عمرے کی ادائیگی کے ساتھ سرکاری کام بھی کیا اور سعودی عرب کے ولی عہد س شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات بھی کی۔ انہوں نے اپنے وفد کے ارکان کے ساتھ شہزادہ محمد بن سلمان کی افطاری اور ڈنر میں شرکت کی۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ سعودی کراؤن پرنس محمد بن سلمان سے ملاقات بھی کی ،وزیر اعلیٰ مریم نواز نے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری کا شرف بھی حاصل کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف لاہور ائیر پورٹ پر کمرشل فلائٹ سے آئے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو ان کی ماڈل ٹاون رہائشگاہ پہنچا دیا گیا۔
-

مکمل سورج گرہن شمالی میکسیکو میں شروع، 15 امریکی ریاستوں میں ایمرجنسی کا اعلان”
مکمل سورج گرہن شمالی میکسیکو میں شروع ہو گیا ہے، میکسیکو میں نظر آنے کے بعد سورج گرہن امریکہ اور کینیڈا میں دیکھا جا سکے گا۔ سورج گرہن کے نتیجے میں امریکہ کی 15 ریاستوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ امریکہ میں لاکھوں لوگ دوسری ریاستوں میں جانے لگےرواں سال کا پہلا مکمل سورج گرہن براعظم شمالی امریکہ کے ممالک میں دیکھا جائے گا۔محکمہ موسمیات کے مطابق سورج گرہن کا آغاز پاکستانی وقت کے مطابق رات 8 بجکر 42 منٹ پر ہوگا، رات ایک بج کر 52 منٹ پر سورج گرہن کا اختتام ہوگا۔چونکہ سورج گرہن کے وقت پاکستان سمیت خطے کے ممالک میں رات ہوگی اس لیے ان ممالک کے لوگ سورج گرہن براہ راست نہیں دیکھیں گے لیکن ایک طریقہ ایسا ہے جس کی بدولت پاکستانی بھی آج ہونے والے سورج گرہن کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔
امریکہ میں لاکھوں لوگ سورج گرہن دیکھنے کے لیے ان ریاستوں کا رخ کر رہے ہیں جہاں سورج مکمل طور پر غائب ہو جائے گا اور دن میں اندھیرا چھا جائے گا۔سورج گرہن کے حوالے سے مختلف گروپوں میں الگ الگ نظریات پائے جاتے ہیں۔اسلام میں سورج گرہن کے بعد نماز کسوف یا نماز خوف پڑھی جاتی ہے۔ مغرب میں بعض عامل اسے توانائی کے حصول کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔سال 2024 میں تین بار سورج گرہن ہوگا۔ جب کہ چاند گرہن دو مرتبہ دیکھا جائے گا۔
