Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • ون ڈے سیریز، پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز  کل کراچی میں کھیلا جائے گا

    ون ڈے سیریز، پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز کل کراچی میں کھیلا جائے گا

    پاکستان اور ویسٹ انڈیز ویمنز کے درمیان ون ڈے سیریز کل سے کراچی میں شروع ہو گی ، سیریز کے تینوں ون ڈے انٹرنیشنل نیشنل بینک اسٹیڈیم میں کھیلے جائیں گے۔ آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ میں براہ راست کوالیفائی کے لیے یہ سیریز اہم ہے۔ کپتان ندا ڈار نے کہا کہ پاکستان اسوقت آئی سی سی ویمنز چیمپئن شپ میں پانچویں نمبر پر ہے۔ پاکستان ایک سخت جان حریف ٹیم ہے اس کے خلاف بہترین کرکٹ کھیلنی ہوگی۔ آسٹریلوی خاتون امپائر کلیر پولوساک سیریز میں امپائرنگ کے فرائض انجام دیں گی۔

  • افغانستان سے دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام ،7 دہشت گرد ہلاک

    افغانستان سے دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام ،7 دہشت گرد ہلاک

    شمالی وزیرستان میں غلام خان کے علاقہ سپین کئی میں افغانستان سے دہشت گردوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 7 دہشت گردوں کے ایک گروپ نے پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش کی، سکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرکے تمام دہشت گردوں کو گھیر لیا، شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد ساتوں دہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق مارے گئے دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا گیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے مزید بتایا کہ پاکستان مستقل طور پر افغان حکومت سے کہتا آرہا ہے کہ وہ مؤثر بارڈر مینجمنٹ کو یقینی بنائے، توقع ہے کہ عبوری افغان حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی۔آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔ عبوری افغان حکومت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے اپنی سرزمین کا استعمال روکے گی۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز وطن عزیز سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے عزم مصمم رکھتی ہیں۔

  • ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور ژالہ باری کا امکان ، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دی

    ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور ژالہ باری کا امکان ، این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کر دی

    ترجمان نیشنل ڈیزاسٹر اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ پاکستان میں 17اپریل تا22 اپریل کے دوران وقفے وقفے سے شدید بارش، آندھی اور ژالہ باری کا پہلا سلسلہ متوقع ہے، پہلے سلسلے کے متوقع اثرات کے باعث بلوچستان میں 17 تا 19اپریل جبکہ سندھ میں 18 تا 19 اپریل شدید بارش، آندھی اور ژالہ باری بھی متوقع ہے، پہلے سپیل کے دوران پنجاب میں 18تا19اپریل، خیبرپختونخواہ میں 17تا21اپریل جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 18 تا 22 اپریل کے دورا ن بارش، آندھی اور ژالہ باری متوقع ہے۔ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ 25 تا 29 اپریل کے دوران دوسرے موسمی سلسلے کے باعث ملک بھر میں بارش، تیز ہواؤں کے ساتھ ژالہ باری کے سلسلے کا بھی امکان ہے، اس سسٹم کے باعث بلوچستان،خیبر پختونخواہ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چند مقامات پر 25 تا 29 اپریل کے دوران شدید بارش اور تیز ہواؤں کے ساتھ ژالہ باری کی امید ہے، ممکنہ بارشوں کے باعث خضدار، زیارت،زوب،شیرانی، مسلم باغ، کوئٹہ، پشین، کیچ،پنجگور، گوادراور تربت کے مقامی ندی نالوں میں طغیانی کے قوی امکانات ہیں۔ ترجمان این ڈی ایم نے کہا کہ متوقع خطرے کے پیش نظر این ڈی ایم اے نے تمام پی ڈی ایم ایز اور دیگر انتظامی اداروں کو کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہیں، کاشتکارفصل خصوصاً گندم کی کٹائی کے حوالے سے موسم کو مد نظر رکھتے ہوئے معمولات تشکیل دیں، سیاح و مسافر پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں، سفر ضروری ہو تو موسم اور راستوں کی صورتحال سے آگاہ رہیں، برساتی ندی نالوں کو پار کرنے سے گریز کریں، بجلی کے کھمبوں، کمزور عمارتوں سے قریب سے گزرتے وقت احتیاط برتیں، نشیبی علاقوں کے مکین سیلاب کے خدشے کے پیش نظر محتاط رہیں۔

  • اخونزادہ چٹان  کی گاڑی کے قریب دھماکہ

    اخونزادہ چٹان کی گاڑی کے قریب دھماکہ

    باجوڑ میں پیپلزپارٹی رہنما اخونزادہ چٹان کی گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا، دھماکے کے دوران گاڑی کو شدید نقصان پہنچا ایم این اے 8 باجوڑ میں ضمنی الیکشن کی مہم میں مصروف پی پی رہنما اخونزادہ چٹان کی گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا، دھماکے کے دوران گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔پولیس کے مطابق خوش قسمتی سے دھماکے میں پی پی رہنما حملے میں محفوظ رہے۔ واقعہ تحصیل مومند کےعلاقے بدان روڈ پرپیش آیا۔پی پی رہنما اخونزادہ چٹان باجوڑ میں ضمنی الیکشن کی مہم سے واپس آ رہے تھے۔

    پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے باجوڑ میں پی پی پی رہنما اخوند زادہ چٹان پر حملے پر کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے باجوڑ سے این اے 8کے ٹکٹ ہولڈر اخوند زادہ چٹان پر حملہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، آخوند ذادا چٹان پرحملہ میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، واقعہ پر شدید تشویش ہے، امیدواروں کو تحفظ فراہم کرنا خیبرپختونخوا حکومت کی زمہ داری ہے جس میں وہ ناکام ہوچکی ہے،اس قسم کے ہتھکنڈوں سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے حوصلے پست نہیں بلکہ مضبوط ہوتے ہیں، اخوند ذادہ چٹان سمیت تمام جیالوں کا تحفظ کرنا جانتے ہیں کسی بھی کارکن کو تکلیف پہنچی تو پیپلز پارٹی ایسے عناصر کا ہر فورم پر گھیراؤ کرے گی،الیکشن کمیشن اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی آئینی اور قانونی زمہ داریاں پوری کریں ضمنی انتخابات کیلئے شفاف اور پرامن ماحول فراہم کیا جائے،

  • 190 ملین پاؤند سکینڈل، مزید 9 گواہان کے بیان ریکارڈ

    190 ملین پاؤند سکینڈل، مزید 9 گواہان کے بیان ریکارڈ

    190 ملین پاؤنڈ سکینڈل ریفرنس میں مجموعی طور پر نیب کے 15 گواہان کے بیانات قلمبند جبکہ13 پر جرح مکمل کرلی گئی، عدالت نے ڈاکٹر عاصم یونس کو بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ کرنے کا حکم دے دیا۔ احتساب عدالت میں 190 ملین پاو¿نڈ سکینڈل ریفرنس کی سماعت ہوئی،نیب کی جانب سے آج مزید 9 گواہان کو پیش کیا گیا،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کمرہ عدالت میں موجود تھے،نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی اور پراسیکیوٹر امجد پرویز ٹیم کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے،بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکلا ظہیر عباس چودھری،عثمان گل اور بیرسٹر علی ظفر پیش ہوئے، کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا نے کی۔
    مجموعی طور پر نیب کے 15 گواہان کے بیانات قلمبند جبکہ13 پر جرح مکمل کرلی گئی،عدالت نے آئندہ سماعت پر مزید 6 گواہان کو طلب کرلیا۔دوسری جانب بشریٰ بی بی کی جانب سے طبی معائنے کی درخواست دائر کی گئی،عدالت نے کل 12 بجے تک ڈاکٹر عاصم یونس کو بشریٰ بی بی کا طبی معائنہ کرنے کا حکم دے دیا۔

  • حکومتی ٹیکسوں میں اضافے سے پاکستان میں سگریٹ کی کھپت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے

    حکومتی ٹیکسوں میں اضافے سے پاکستان میں سگریٹ کی کھپت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے

    حکومت پاکستان نے ٹیکسوں میں اضافے کے بعد سگریٹ کی کھپت میں غیر معمولی کمی دیکھی ہے۔ تعلیمی محققین اور میدان میں پیشہ ور افراد کی طرف سے کئے گئے ایک حالیہ مطالعہ نے تمباکو کے استعمال کو روکنے اور صحت عامہ کو فروغ دینے میں ان اقدامات کی تاثیر کی تصدیق کی ہے۔تحقیقی نتائج، جامع اعداد و شمار کے تجزیے پر مبنی، سگریٹ کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد سے تمباکو استعمال کرنے والوں کے رویے میں ایک قابل ذکر تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہر 94 افراد میں تمباکو استعمال کرنے والوں میں سے تقریباً ایک نے مبینہ طور پر سگریٹ نوشی چھوڑ دی ہے، جو سگریٹ کے استعمال میں نمایاں کمی کا اشارہ ہے۔ یہ نتیجہ صحت عامہ کے طرز عمل کی تشکیل اور تمباکو کی وبا سے نمٹنے پر حکومتی پالیسیوں کے اثرات کو واضح کرتا ہے۔سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کا فیصلہ آمدنی کے حوالے سے صحت عامہ کو ترجیح دینے کے حکومتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان اقدامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے، حکومت کا مقصد تمباکو کی صنعت سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنا ہے اور اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود کا تحفظ کرنا ہے۔ یہ عملی نقطہ نظر تمباکو پر قابو پانے کی حکمت عملیوں میں ایک مثالی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے، صحت کے مثبت نتائج کو فروغ دینے کے لیے ثبوت پر مبنی پالیسی مداخلتوں پر زور دیتا ہے۔

    رپورٹ تمباکو مخالف کارکنوں اور سماجی کارکنوں کی طرف سے مسلسل وکالت کی کوششوں کے اہم کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ ان کی انتھک مہم نے حکومت کو ٹیکس میں اضافہ کرنے اور سگریٹ نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں بیداری پیدا کرنے پر آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مشترکہ کوششوں کے ذریعے، ان وکالت گروپوں نے تمباکو کنٹرول کی پالیسیوں کے لیے ایک معاون ماحول کو فروغ دیا ہے، جس نے سگریٹ کے استعمال میں کمی کو محسوس کیا ہے۔آخر میں، ٹیکس میں اضافے کے نفاذ کے بعد سگریٹ کی کھپت میں کمی صحت عامہ کے نتائج کو فروغ دینے میں ثبوت پر مبنی پالیسی مداخلتوں کی تاثیر کو واضح کرتی ہے۔ پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے خلاف جنگ میں حکومت کے فعال اقدامات، سول سوسائٹی کی تنظیموں کی طرف سے جاری وکالت کی کوششوں کے ساتھ، ٹھوس نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ آگے بڑھتے ہوئے، حکومتی اداروں، اسٹیک ہولڈرز، اور کمیونٹی پارٹنرز کے درمیان پائیدار تعاون ان فوائد کو برقرار رکھنے اور ملک بھر میں تمباکو کنٹرول کے اقدامات کو آگے بڑھانے میں اہم ہوگا۔

  • قومی اور صوبائی اسمبلی کی 21 نشستوں پر ضمنی انتخابات 21 اپریل ہو منعقد ہو گے

    قومی اور صوبائی اسمبلی کی 21 نشستوں پر ضمنی انتخابات 21 اپریل ہو منعقد ہو گے

    پاکستان بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی 21 نشستوں پر ضمنی انتخابات 21 اپریل کو ہونے جا رہے ہیں، اس حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پہلے ہی ریٹرننگ افسران کا تقرر کر کے انہیں مجسٹریٹ کے اختیارات دے دیے ہیں۔الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق پولنگ 21 اپریل کو ہوگی اور انتخابی مہم 19 اپریل کو آدھی رات تک بند ہو جائے گی۔مذکورہ انتخابات اصل میں 23 حلقوں کے لیے شیڈول تھے۔ تاہم، ان میں سے دو نشستوں، ایک صوبائی اور ایک قومی کے نتائج کا اعلان ہو چکا ہے۔ آصفہ بھٹو زرداری این اے 207 شہید بے نظیر آباد سے بلامقابلہ منتخب ہوگئیں جب کہ زبیر احمد جونیجو پی ایس 80 دادو سے منتخب ہوئے ہیں۔
    این اے 8 باجوڑ پر بھی انتخابات ہونے والے ہیں جہاں انتخابات سے چند روز قبل آزاد امیدوار ریحان زیب کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ ان کے بیٹے مبارک زیب آزاد امیدوار کے طور پر اس نشست کے لیے میدان میں ہیں۔این اے 44 ڈیرہ اسماعیل خان 1 پر بھی الیکشن ہو رہے ہیں، یہ نشست علی امین گنڈا پور نے خالی کی تھی، این اے 119 لاہور 3 مریم نواز نے خالی کی تھی، این اے 132 قصور 2 شہباز شریف نے خالی کی تھی اور این اے 196 قمبر شداد کوٹ 1 بلاول بھٹو زرداری نے خالی کی تھی۔
    قومی اسمبلی کی پانچ نشستوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات میں مجموعی طور پر 50 امیدوار میدان میں اتریں گے۔کون سے صوبائی حلقوںمیں ضمنی انتخابات ہوں گے ان کی تفصیلات بھی ذیل میں درج ہے۔

    خیبرپختونخوا
    مندرجہ ذیل نشستوں پر کل 23 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔ پی کے 22 باجوڑ 4، پی کے91 کوہاٹ 2،
    بلوچستان
    مندرجہ ذیل نشستوں پر کل 12 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔
    پی بی 20 خضدار 2
    پی بی 22 لسبیلہ
    پنجاب
    مندرجہ ذیل نشستوں پر کل 154 امیدوار الیکشن لڑیں گے۔
    پی پی 22 چکوال/تلہ گنگ ،پی پی 32 گجرات 6، پی پی 36 وزیر آباد 2، پی پی54 نارووال 1، پی پی 93 بھکر 5، پی پی 139 شیخوپورہ 4، پی پی147 لاہور 3، پی پی 149 لاہور 5،
    پی پی 158 لاہور 14، پی پی 164 لاہور 20، پی پی 266 رحیم یار خان 12، پی پی 290 ڈیرہ غازی خان 5

  • ’31 کو دفاع کا بیان ہوا تو 30 جنوری کو فیصلہ کیسے ہوا؟‘‘چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    ’31 کو دفاع کا بیان ہوا تو 30 جنوری کو فیصلہ کیسے ہوا؟‘‘چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 22 اپریل تک ملتوی کر دی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سائفر سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے سماعت کی، ایف آئی اے پراسیکیوٹر حامد علی شاہ روسٹرم پر گئے اور دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی 3 لوگوں کے ساتھ ایک آڈیو سامنے آئی، شاہ محمود قریشی، اعظم خان اور اسد عمر بھی گفتگو میں شامل ہیں، ایف آئی اے نے اپنی ٹیکنیکل رپورٹ میں بتایا کہ یہ گفتگو کیا ہے۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ایف آئی اے رپورٹ تصدیق کر رہی ہے کہ یہ گفتگو ہے، جس پر پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے جواب دیا کہ سامنے آنے والی آڈیو میں سائفر کے ساتھ کھیلنے کا تذکرہ ہے، وفاقی کابینہ کی منظوری سے ایف آئی اے میں انکوائری رجسٹر ہوئی۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارتِ خارجہ کی بجائے وزارتِ داخلہ مدعی کیوں تھی؟ بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے اس نکتے پر بہت زور دیا ہے۔ چیف جسٹس کے ریمارکس پر پراسیکیوٹر حامد علی شاہ نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں آگے چل کر اس متعلق عدالت کی معاونت کرونگا، سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر نے اکتوبر 2022 میں پہلی شکایت درج کرائی، ستمبر 2023 کو نئے سیکرٹری داخلہ آفتاب درانی نے دوسری شکایت جمع کرائی، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مطلوبہ ضرورت پوری کرنے کیلئے دوسری شکایت دائر کی گئی، 16 اگست 2023 کو ایف آئی اے نے بانی پی ٹی آئی کا جسمانی ریمانڈ مانگا، آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، 16 اگست کو بانی پی ٹی آئی کو گرفتار کیا گیا۔ پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ شاہ محمود قریشی کو 19 اگست 2023 کو گرفتار کیا گیا، 3 اکتوبر 2023 کو ملزمان کے خلاف چالان جمع کروایا گیا، 23 اکتوبر کو ملزمان پر فردِ جرم عائد کی گئی جو ہائیکورٹ نے کالعدم قرار دی، 13 دسمبر 2023 کو دوسری بار فردِ جرم عائد کی گئی۔ جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کے وکلاء کون تھے؟ پھر ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے مقرر کیے گئے وکلاء کون تھے؟ چیف جسٹس نے مداخلت کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مائی لارڈ یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ ملزمان کے اپنے وکلاء کون تھے جن کے وکالت ناموں پر انہوں نے دستخط کیے، پھر وہ وکلاء کون تھے جن کو ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے ملزمان کیلئے مقرر کیا، جسٹس حسن اورنگزیب نے کارروائی آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے اپنے وکلاء اور ایڈووکیٹ جنرل کی طرف سے مقرر کردہ وکلاء کا تقابلی جائزہ بہت ضروری ہے۔ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے کہا کہ 30 جنوری 2024 کو گواہوں پر جرح مکمل ہوئی، 31 جنوری کو ملزمان کا دفاع کا بیان مکمل ہوا، چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ فیصلہ کب ہوا؟ جس پر پراسیکیوٹر ایف آئی اے نے جواب دیا کہ 30 جنوری کو ہی فیصلہ سنایا گیا، چیف جسٹس نے نقطہ اٹھایا کہ 31 جنوری کو دفاع کا بیان ہوا تو 30 کو فیصلہ کیسے ہوا؟ پراسیکیوٹر نے فاضل جج سے کہا کہ میں معذرت چاہتا ہوں میرے پیچھے مشورے دینے والے بہت ہیں، 30 جنوری کو دفاع کا بیان ہوا اور اسی دن فیصلہ ہوا۔ عدالت نے پراسیکیوٹر کے دلائل سننے کے بعد بانی پی ٹی آئی عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر سماعت 22 اپریل تک ملتوی کر دی۔

  • سینیٹر اعجاز چودھری اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ  کا  پارٹی میں دوبار شاملِ  ہونے کی اپیل

    سینیٹر اعجاز چودھری اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کا پارٹی میں دوبار شاملِ ہونے کی اپیل

    اپنے خط میں سینیٹر اعجاز چودھری اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے کہا کہ 9 مئی کے بعد مشکل حالات میں پارٹی چھوڑنے والے عہدیداروں ، ممبران اسمبلی اور اہم کارکنان کی پارٹی میں واپسی پر غور کی ضرورت ہے ۔ جبر کے اس ماحول میں ہر فرد مشکلات ، دباؤ اور ظلم و تشدد کا مقابلہ نہیں کر سکتا اس لئے پارٹی چھوڑ دی ۔ ایک سال گزارنے کے بعد چیئرمین عمران خان کی استقامت اور بہادری دیکھ کر اور 8 فروری کے الیکشن میں عوام کا فیصلہ دیکھ کر بہت سارے لوگ واپس آنا چاہتے ہیں ۔ بانی چیئرمین عمران خان سے اپیل ہے کہ انہیں کارکن کی حیثیت سے واپس آنے اور کام کرنے کی اجازت دے جائے تاکہ تحریک تحفظ آئین پاکستان میں حصہ لے سکیں
    خط میں مزید کہا گیا کہ وہ تمام افراد جو پارٹی میں دوبار شاملِ ہونا چاہتے ہیں وہ موجودہ چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کے نام اپیل کریں اور کور کمیٹی سے سفارش کے بعد وہ نام بانی چیئرمین عمران خان کو منظوری کے لیے بھیجے جائیں ۔

  • وزیر اعظم شہباز شریف سے شنگھائی الیکٹرک گروپ کے وفد کی ملاقات

    وزیر اعظم شہباز شریف سے شنگھائی الیکٹرک گروپ کے وفد کی ملاقات

    اسلام آباد میں وزیر اعظم شہباز شریف سے شنگھائی الیکٹرک گروپ کے وفد نے ملاقات کی۔ دارالحکومت میں ہونے والی میٹنگ کی قیادت شنگھائی الیکٹرک گروپ کے چیئرمین مسٹر وو لی نے کی،ملاقات میں وفد نے وزیراعظم شہباز شریف کو شنگھائی الیکٹرک کی جانب سے پاکستان میں شروع کیے گئے مختلف منصوبوں پر بریفنگ دی۔ بریفنگ کا مقصد وزیراعظم کو ملک میں شنگھائی الیکٹرک کے اقدامات کی پیش رفت اور مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کرنا تھا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے شنگھائی الیکٹرک کے پاکستان میں شروع کیے گئے منصوبوں کو سراہتے ہوئے پاکستان اور چین کے درمیان دوستانہ تعلقات اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
    وزیراعظم نے پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط دوطرفہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے اقتصادی تعاون اور باہمی فائدے میں اضافے کے امکانات کو نوٹ کیا۔ انہوں نے پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں میں شنگھائی الیکٹرک جیسی چینی کمپنیوں کی جانب سے مسلسل سرمایہ کاری اور تعاون کا خیرمقدم کیا۔ملاقات نے دونوں فریقوں کو توانائی، بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کے ممکنہ شعبوں پر بات چیت کا موقع فراہم کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے اور پاکستان میں منصوبوں کے کامیاب نفاذ کو یقینی بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔بات چیت میں پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعلقات کو گہرا کرنے اور تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے میں باہمی دلچسپی پر زور دیا گیا، شنگھائی الیکٹرک گروپ اس کوشش میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
    وزیر اعظم شہباز شریف اور شنگھائی الیکٹرک گروپ کے وفد کے درمیان ملاقات میں پاکستان اور چین کے درمیان مسلسل تعاون اور سرمایہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ چونکہ دونوں ممالک اپنی اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہیں، شنگھائی الیکٹرک گروپ کی جانب سے کیے گئے اقدامات پاکستان کی ترقی اور پیشرفت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف اور شنگھائی الیکٹرک گروپ کے وفد کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقات کا احاطہ کرتی ہے، جس میں جاری منصوبوں اور مستقبل میں تعاون کے مواقع کے حوالے سے بات چیت کی گئی ہے۔
    انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے بلند ہے۔ یہاں کام کرنے والے چینی مہمانوں کی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ چینی کمپنیاں کول پاور پلانٹس اور کوئلے کی کان کنی میں مزید سرمایہ کاری کریں۔ موجودہ منصوبوں کی وسعت کیلیے چینی سرمایہ کاروں کو تمام سہولتیں دیں گے۔ وفد نے وزیراعظم کو مختلف منصوبوں کی اب تک کی پیشرفت پر بریفنگ بھی دی۔