Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار سنی اتحاد کونسل کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے گے

    پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار سنی اتحاد کونسل کے ٹکٹ پر الیکشن لڑے گے

    پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ امیدوار 2024 کے ضمنی انتخابات میں سنی اتحاد کونسل کے ٹکٹ پر الیکشن لڑیں گے،پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ امیدوار سنی اتحاد کونسل کے ٹکٹ پر آئندہ انتخابات میں حصہ لیں گے۔ یہ انکشاف ہوا ہے کہ امیدوار ایک ہی نشان یعنی گھوڑے کے تحت الیکشن لڑیں گے۔ سنی اتحاد کونسل نے انتخابی عمل کے لیے ٹکٹوں کا اجراء شروع کر دیا ہے۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی 23 نشستوں پر 21 اپریل کو ضمنی انتخابات کا اعلان کیا ہے، الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق قومی اسمبلی کے 6 اور پنجاب اسمبلی کے 12 حلقوں میں انتخابات ہوں گے۔ .
    پی پی 22، چکوال، پی پی 32، گجرات، پی پی 36، وزیر آباد، پی پی 54، نارووال، پی پی 93، بھکر، پی پی 139، شیخوپورہ، پی پی 147، لاہور، پی پی 149 میں انتخابات ہوں گے۔ لاہور، پی پی 158، لاہور، اور پی پی 164، لاہور۔قومی اسمبلی کی دو نشستوں پی پی 266، رحیم یار خان، پی پی 290، ڈی جی خان، این اے 132 اور این اے 119 میں بھی الیکشن لڑا جائے گا۔

  • حکومت کا  بجلی چوری اور منظم جرائم سے نمٹنے کے لیے کارروائی کرنے کا فیصلہ

    حکومت کا بجلی چوری اور منظم جرائم سے نمٹنے کے لیے کارروائی کرنے کا فیصلہ

    وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں بجلی چوری کی روک تھام اور منظم جرائم بالخصوص سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے پالیسی وضع کرنے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد کیا گیا۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر، وفاقی وزراء اور صوبائی وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔ملاقات کے دوران وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ان مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کے لیے معاہدے کرنے پر اتفاق کیا۔ اس اجتماع میں ملک کے اندر کام کرنے والی غیر قانونی سرگرمیوں اور مجرمانہ گروہوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی وضع کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ایجنڈے کے اہم آئٹمز میں منظم جرائم کے گروہوں، سمگلنگ، ذخیرہ اندوزی، منی لانڈرنگ اور بجلی چوری کے خلاف اقدامات شامل تھے۔ اس کے علاوہ غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی وطن واپسی کے حوالے سے بھی بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں حکومت کی جانب سے بدعنوانی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے کے عزم پر زور دیا گیا۔ اس نے امن و امان کو برقرار رکھنے اور قوم کے مفادات کے تحفظ کے لیے پالیسیوں پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکام کے درمیان تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
    اجلاس کے شرکاءنےا اقدامات کی اہمیت اور ملکی معیشت پر ان کے مثبت اثرات کا ادراک ہونے کے متعلق اظہار خیال کیا۔ انہوں نے معیشت کو بری طرح متاثر کرنے والے اسمگلروں، ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کاروائی کے عزم کا اظہار کیا۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے پاکستان کی معیشت کی بحالی کے لیے پاک فوج کی جانب سے حکومتی اقدامات کی حمایت کے عزم کو دہرایا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزرا اور صوبوں کے وزرا اعلیٰ کو طے شدہ اہداف اور اقدامات پر مقررہ وقت میں عمل درامد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔

  • ملک کی معاشی صورتحال میں مسلسل بہتری کی نشاندہی

    ملک کی معاشی صورتحال میں مسلسل بہتری کی نشاندہی

    وزارت خزانہ نے اپنی ماہانہ رپورٹ جاری کر دی ہے جس میں ملک کی معاشی صورتحال میں مسلسل بہتری کی نشاندہی کی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق حکومتی پالیسیوں اور اصلاحات کی وجہ سے مالی ضروریات کے دباؤ میں کمی آئی ہے۔ حکومت کی کوششوں کے نتیجے میں پائیدار معاشی بحالی اور معاشی اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
    رپورٹ میں روشنی ڈالی گئی ہے کہ زرعی قرضوں میں 34 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 1,279 بلین روپے تک پہنچ گیا ہے۔ بجٹ خسارہ، جو سات ماہ میں 38 فیصد بڑھ گیا، 2,720 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ مہنگائی میں نمایاں کمی، 23 فیصد تک پہنچ گئی، بھی دیکھی گئی ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صرف فروری میں 53 ہزار 642 پاکستانی روزگار کی تلاش میں بیرون ملک گئے۔ بلند شرح سود نے قرضوں کی ادائیگی کے لیے ایک چیلنج کھڑا کر دیا ہے جس سے قومی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
    غیر سودی سرکاری اخراجات کو کنٹرول کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ حکومت بجٹ خسارے کو مقررہ ہدف کے اندر رکھنے کے لیے ٹھوس کوششیں کر رہی ہے۔رپورٹ مختلف چیلنجوں کا سامنا کرنے کے باوجود مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی استحکام کے لیے حکومت کے عزم کو واضح کرتی ہے۔ یہ اقتصادی مسائل کو حل کرنے اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

  • سید علی ناصر رضوی نئے آئی جی اسلام آباد تعینات

    سید علی ناصر رضوی نئے آئی جی اسلام آباد تعینات

    اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں تقرر و تبادلے کر دیئے گئے، آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان کو تبدیل کردیا گیا۔ سید علی ناصر رضوی نئے آئی جی اسلام آباد تعینات کر دیا گیا ۔گریڈ 20 کے سیدعلی ناصر ڈی آئی جی آپریشنز لاہور تعینات تھے۔ آئی جی اسلام آباد اکبر ناصرخان کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ خوشحال خان کو ایڈیشنل سیکرٹری پاور مقرر کر دیا گیا۔ جبکہ سیکرٹری تجارت خرم آغا کو سیکرٹری داخلہ تعینات کیا گیا ہے۔خوشحال خان اس سے قبل ایڈیشنل سیکرٹری وزارت داخلہ اور کیپٹن خرم آغاریٹائرڈ پہلےسیکرٹری کامرس تعینات تھے۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تقرر و تبادلوں کے باضابطہ نوٹیفکیشنز جاری کر دئیے گئے ہیں۔

  • بیرسٹر گوہر خود کئی بار ملاقات کا وقت دے کر پیچھے ہٹے۔ لیاقت بلوچ

    بیرسٹر گوہر خود کئی بار ملاقات کا وقت دے کر پیچھے ہٹے۔ لیاقت بلوچ

    جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بیرسٹر گوہر خود کئی بار ملاقات کا وقت دے کر پیچھے ہٹے۔ نہ جماعت اسلامی پر کوئی دباؤ تھا نہ ہی جماعت اسلامی دباؤ میں کوئی فیصلہ کرتی ہے۔جماعت اسلامی نے کسی دباؤ کی وجہ سے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے اتحاد نہ کرنے کا بیرسٹر گوہر کا الزام مسترد کردیا۔لیاقت بلوچ نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کی غیرمشروط تعاون کی پیشکش پر صرف خیبر پختونخوا میں اتحاد کی شرط لگائی، جس کے بعد جماعت اسلامی کی شوریٰ نے فیصلہ کیا کہ اگر پی ٹی آئی پورے ملک میں اتحاد نہیں کرنا چاہتی تو پھر کسی اور جماعت سے اتحاد کر لے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ لیاقت بلوچ اور میاں اسلم کسی دباؤ کی وجہ سے اتحاد پر مذاکرات کےلیے نہیں پہنچے تھے۔

  • ضلع بدین کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق

    ضلع بدین کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق

    وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز، اسلام آباد نے ضلع بدین کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔وزارت کے مطابق گزشتہ سال اکٹھے کیے گئے 83 ماحولیاتی نمونوں میں سے پولیو وائرس کے آثار پائے گئے ہیں۔ وزارت کی طرف سے ایک سرکاری بیان میں اشارہ کیا گیا ہے کہ ان ماحولیاتی نمونوں میں پائے جانے والے وائرس کی اصل سرحد پار سے بتائی جاتی ہے۔یہ اطلاع دی گئی ہے کہ ضلع میں پولیو کے دو تصدیق شدہ کیسوں کے ساتھ، تمام ماحولیاتی نمونوں میں گزشتہ سال وائرس کے لیے مثبت تجربہ کیا گیا تھا۔ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کا انکشاف اس بیماری کے خاتمے کے لیے جاری ویکسینیشن کی کوششوں اور سرحد پار تعاون کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔ حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خطے میں پولیو کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ویکسینیشن مہم اور نگرانی کے اقدامات کو تیز کریں گے۔یہ پیش رفت پولیو کے خلاف جنگ میں مسلسل چیلنجوں کی یاددہانی کے طور پر کام کرتی ہے اور پولیو سے پاک پاکستان کے ہدف کے حصول کے لیے مسلسل چوکسی اور ٹھوس کوششوں کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔

  • پشاور بی آر ٹی سکینڈل میں ملوث ٹھیکیڈاروں  کے اکاؤنٹس منجمد

    پشاور بی آر ٹی سکینڈل میں ملوث ٹھیکیڈاروں کے اکاؤنٹس منجمد

    بی آر ٹی اسکینڈل سے متعلق احتساب عدالت نے بڑا فیصلہ جاری کردیا جس میں ملوث ٹھیکے داروں کے 75 بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے علاوہ 2 رہائشی پلاٹس سیل کرنے کے احکامات بھی جاری کردیے گئے۔احتساب عدالت کے جج محمد یونس نے ڈی جی نیب خیبرپختون خوا کے احکامات کی توثیق کرتے ہوئے احکامات جاری کیے۔ کیس کی سماعت کے موقع پر نیب کی جانب سے ایڈیشنل پراسیکیوٹرجنرل محمد علی اور پراسیکیوٹر مانک شاہ پیش ہوئے۔
    دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ بی آرٹی اسکینڈل میں نیب تحقیقات کررہی ہے اور اس ضمن میں ٹھیکداروں کے 75 بینک اکاؤنٹس اور 2 کمرشل پلاٹس کو منجمد کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں تمام کارروائی مکمل کی گئی ہے اور تحقیقات جاری ہیں، تحقیقات کو مزید بڑھانے کے لیے ان اکاؤنٹس منجمد کر دئے گئے ہے،اس موقع پر مقبول اور کیلسنز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹھیکدار انٹرنیشنل اربیٹریشن میں چلے گئے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ان اکاؤنٹس کو فریز کرنا غیرقانونی ہے کیوں کہ ڈی جی نیب کے پاس اختیار نہیں اور اس پراجیکٹ کے تیسرے غیر ملکی کنٹریکٹر کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ اس موقع پر جواب دیتے ہوئے نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ چیئرمین نیب کسی کو بھی اپنے اختیارات تفویض کر سکتا ہے جب کہ جس غیر ملکی کنٹریکٹر کی یہ بات کر رہے ہیں وہ تو ایک بے نام پارٹنر تھا، اس لیے ڈی جی کے پاس یہ اختیار موجود ہے۔نیب کے وکلا کا مؤقف تھا کہ یہ فریزنگ قانون کے تحت ہوئی ہے اور نیب یہ اکاؤنٹس منجمد کر سکتا ہے ۔دوران سماعت ٹھیکیداروں کے وکلا نے اکاؤنٹس کی فریزنگ کو غیر قانونی اقدام قرار دیا اور کہا کہ نیب نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے اور ان اکاؤنٹس اور پلاٹس کو سیل کیا گیا ہے، جس کی مالیت کروڑوں روپے ہے۔

  • ملک بھر میں  18 فیصد خواتین انصاف کے میدان میں اپنا حصہ کردار ادا کر رہی ہے

    ملک بھر میں 18 فیصد خواتین انصاف کے میدان میں اپنا حصہ کردار ادا کر رہی ہے

    ملک بھر میں خواتین ججز اور جوڈیشل افسران سے متعلق لاء اینڈ جسٹس کمیشن نے ڈیٹا جاری کردیا، جس کے مطابق ملک بھر میں خواتین ججز کی تعداد 18 فیصد ہے۔ لاء اینڈ جسٹس کمیشن رپورٹ میں خواتین ججز، پراسیکیوشن افسران، وکلاء اور ہیومن ریسورس ملازمین کا ڈیٹا شامل ہے، جس کے مطابق ملک میں ججز اورجوڈیشل افسران کی کل تعداد 3 ہزار 142 ہے، 2 ہزار 570 مرد اور 572 خواتین ججز ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اعلیٰ عدلیہ کے 126 میں سے 119 مرد ججز ہیں، اعلیٰ عدلیہ میں خواتین ججز کی تعداد صرف 7 ہے، اعلیٰ عدلیہ میں خواتین ججز کا تناسب 5.5 فیصد ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک بھر میں خواتین ججز کی تعداد 18 فیصد ہے، اعلیٰ عدلیہ میں کل ججز کی تعداد 126 ہے، اعلیٰ عدلیہ میں سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت اور 5 ہائیکورٹس شامل ہیں۔لاء اینڈ جسٹس کمیشن رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں کل جوڈیشل افسران کی تعداد 3 ہزار 16 ہے، ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں2451 مرد،565 خاتون جوڈیشل افسران ہیں، ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں خاتون جوڈیشل افسران کی تعداد 19 فیصد ہے۔

  • پنجاب پولیس منشیات فروشوں کے سہولت کار نکلے

    پنجاب پولیس منشیات فروشوں کے سہولت کار نکلے

    لاہور کے 30 پولیس ملازمین منشیات فروشوں کے سہولت کار یا براہ راست منشیات فروشی میں ملوث نکلے ۔ لاہور سمیت 10 اضلاع کے 234 افسران و اہلکاروں کا ریکارڈ مرتب کرلیا گیا۔ منشیات فروشوں کے سہولت کار 234 افسران و اہلکار کی جیو ٹیگنگ کرلی گئی۔ جیو ٹیگنگ رپورٹ کے مطابق لاہور کے پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف 35 مقدمات درج ہیں۔ ملوث اہلکار بطور سب انسپکٹر ، اے ایس آئی ، کانسٹیبل اور ڈرائیور مختلف تھانوں میں تعینات ہیں۔ منشیات فروشوں کی سہولت کاری میں ملوث صرف دو اہلکار جیل میں ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ منشیات فروشی میں ملوث اہلکاربطورسب انسپکٹر،اےایس آئی،کانسٹیبل اورڈرائیورمختلف تھانوں میں تعینات ہیں۔ منشیات فروشوں کی سہولت کاری میں ملوث صرف 2اہلکار جیل میں ہیں ۔ پولیس اہلکاروں کے متعلقہ منشیات فروش گینگز کی تفصیل بھی رپورٹ میں شامل ہیں۔ چرس،ہیروئن،آئس،کرسٹل پاؤڈرجیسے خطرناک نشے کی تفصیلات بھی جیو ٹیگنگ رپورٹ کاحصہ بنائی گئی ہیں۔

  • آصفہ بھٹو زرداری بلامقابلہ رکن قومی اسمبلی منتخب

    آصفہ بھٹو زرداری بلامقابلہ رکن قومی اسمبلی منتخب

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی امیدوار آصفہ بھٹو زرداری نواب شاہ میں قومی اسمبلی کے حلقے این اے 207 سے بلا مقابلہ کامیاب ہوگئیں۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پی پی کی امیدوار آصفہ بھٹو زرداری کے مقابلے میں11 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی داخل کروائے تھے۔ صدر آصف زرداری نے صدر مملکت منتخب ہونے پر نشست چھوڑی تھی، آصف علی زرداری کی خالی نشست پر آصفہ بھٹو زرداری کو پیپلزپارٹی کی جانب سے نامزد کیا گیا تھا۔ریٹرننگ آفیسر شیر علی جمالی نے کہا کہ 7 آزاد امیدواروں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوئے تھے، پی ٹی آئی آزاد امیدوار سردار شیر محمد رند نے کاغذات نامزدگی مسترد ہونے کیخلاف اپیل نہیں کی۔سردار شیر محمد رند عام انتخابات میں آصف علی زرداری کے مقابلے میں دوسرے نمبر پر تھے،واضح رہے کہ نوابشاہ کی اس نشست سےآصفہ بھٹوکےنانا، دادا، والدہ، والد، پھپھو تمام لوگ کامیاب ہوچکےہیں آصفہ بھٹوزرداری خاتون اول کی حیثیت سےبھی ذمہ داریاں نبھارہی ہیں، آصفہ بھٹوزرداری محترمہبے نظیر بھٹو شہید کی سب سے چھوٹی صاحبزادی ہیں۔آصفہ بھٹوزرداری کی کامیابی پر ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے مبارک باد دی کہا کہ آصفہ بھٹو زرداری کے بلا مقابلہ منتخب رکن قومی اسمبلی بننے سے واضح ہوتا ہے کہ سندھ کی عوام پیپلز پارٹی سے محبت کرتی ہے۔ڈپٹی میئر کراچی کا مزید کہنا تھاکہ آصفہ بھٹو زرداری میں شہید بے نظیر بھٹو کی جھلک سمائی ہوئی ہے اور وہ بھی جلد قومی اسمبلی میں مظلوم عوام کی آواز بن کر اُبھریں گی۔