صدر آصف زرداری سے فلسطین کے سفیر احمد جواد ربیع نے ملاقات کی، جس میں انہوں نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے مظالم اور دہشتگردی پر روشنی ڈالی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑا رہے گا اور ہر فورم پر آواز بلند کرے گا، فلسطینی عوام بہادر ہیں، اسرائیلی قبضے کے خلاف طویل جدوجہد کر رہے ہیں۔آصف زرداری نے کہا کہ عالمی برادری فلسطینی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے، عالمی برادری غزہ تک انسانی امداد پہنچانے کیلئے کوششیں کرے، پاکستان فلسطینی عوام کیلئے خوراک، ادویات سمیت مزید امدادی سامان بھیجے گا۔فلسطینی سفیر نےتعلیم کے شعبے میں پاکستان کی مدد کو سراہتے ہوئے کہا کہ 50 ہزار سے زائد فلسطینی پاکستان کے تعلیمی اداروں سے مختلف شعبوں میں گریجویشن کر چکے ہیں۔
Author: صدف ابرار
-

فلسطینی عوام بہادر ہیں، اسرائیلی قبضے کے خلاف طویل جدوجہد کر رہے ہیں ،صدر مملکت
-

بیچ کےغیرمعیاری ہونےکےبعدرائزک 40 ایم جی کی فروخت اور استعمال پر پابندی
سنٹرل ڈرگ لیب کراچی نے رائزک اومپرازول کا بیچ 059 غیر معیاری قرار دےدیا۔ذرائع کےمطابق بیچ کےغیرمعیاری ہونےکےبعدرائزک 40 ایم جی کی فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کردی گئی۔ڈریپ کےجاری کردہ الرٹ کےمطابق اومپرازول رائزک کا سیمپل کوالٹی ٹیسٹ کے معیار پر پورا نہیں اترا،غیر معیاری بارپون اومپرازول رائزک سے مرض پیچیدگی اختیار کر سکتا ہے،کمپنی اومپرازول رائزک کا متاثرہ بیچ مارکیٹ سپلائی نہ کرے۔ڈریپ کےمطابق کمپنی اومپرازول کا متاثرہ بیچ مارکیٹ سے واپس منگوائے،اومپرازول رائزک کے متاثرہ بیچ کی سیل فوری ترک کریں،ڈاکٹرز اور مریض رائزک کا متاثرہ بیچ استعمال نہ کریں۔
-

ججز کے خط نے ثابت کردیا کہ نظام انصاف مفلوج ہوچکا، لہذا چیف جسٹس مستعفی ہو ، پی ٹی آئی
اسلام آباد میں ہونے والی پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے رؤف حسن، نعیم حیدر پنجوٹھا، شعیب شاہین، علی بخاری اور نیاز اللہ نیازی کی قیادت میں اپنی تحفظات سے آگاہ کیا۔ واضح ترجمان رؤف حسن نے چھ ججوں کے خط کی تنقید پر زور دیا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ ججز کے خط نے ثابت کردیا کہ نظام انصاف مفلوج ہوچکا، مخصوص نشستیں اور بلے کا نشان پی ٹی آئی فائز عیسیٰ نے چھینا۔رؤف حسن نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں اسلام آباد ہائی کورٹ کو خط بھیجے دو دن ہو گئے ہیں، ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔” انہوں نے واضح ہچکچاہٹ کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے منسوب کیا جو سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اس کا مطلب واضح تھا عمل کرنے میں ہچکچاہٹ نے عدلیہ کے اندر مضبوط طاقت کی حرکیات کے بارے میں بات کی۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان پر بنائے گئے کیسز میں سب سے اہم کردار چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا ہے خط میں چیف جسٹس پاکستان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے بیڈرومز میں کیمرے لگائے گئے یہ انصاف کا اور قانون کا قتل ہے، فل کورٹ بلاکر تماشا کیا گیا ہے، کیا ایک نامزد ملزم کو حق ہے کہ وہ خود اپنے مقدمے میں جج بنے؟ کیا وزیراعظم خود طے کرے گا کہ وہ مجرم ہے کہ نہیں؟ ہم یہ مذاق نہیں ہونے دیں گے، 100 اور بھی ججز ہیں ہم چاہتے ہیں کہ وہ بھی اپنی آپ بیتی بیان کریں مزید ججز بھی بتائیں کہ ان پر کیا کیا دباؤ ڈالا گیا؟ نعیم حیدر پنجوتھہ نے کہا کہ عمران خان کے گھر 26 گھنٹے آپریشن کیا گیا، چیف جسٹس خاموش رہے، 28 مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس میں پی ٹی آئی کارکنان پر حملہ ہوا جنہوں نے حملہ کیا ان کے بجائے پی ٹی آئی ورکرز پر ایف آئی آر درج کرادی گئی، بانی چیئرمین اپنی سیکیورٹی میں عدالتوں میں پیش ہوئے انہیں سیکیورٹی بھی نہیں ملی، ہمیں کہا گیا بانی چیئرمین کی گرفتاری پر انکوائری کریں گے، کہاں گئی وہ انکوائری؟انہوں ںے کہا کہ توشہ خانہ کیس میں واٹس ایپ کے ذریعے فیصلہ کیا گیا، سائفر کیس کو لٹکایا گیا اور پھر فیصلہ محفوظ کیا گیا، 4 ہفتوں کے اندر سائفر ٹرائل کو ختم کیا گیا، لیول پلائنگ فیلڈ کی درخواست کا کیا ہوا؟ ہمیں لیول پلائنگ فیلڈ نہیں دی گئی، مخصوص نشستیں اور بلے کا نشان پی ٹی آئی فائز عیسیٰ نے چھینا، سکندر سلطان راجہ کی پشت پناہی کون کررہا ہے؟ سائفر کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا تھا کیوں نہیں بنا؟
نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ اس خط نے ثابت کردیا کہ نظام عدم مفلوج ہو کر رہ گیا ہے چیف جسٹس عامر فاروق کے بعد چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے پاس خط گیا مگر کیا ایکشن لیا گیا؟ آئین پاکستان اس وقت مفلوج ہوچکا ہے یہ پوری قوم کا سوال ہے، 2 دن سے ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے ہم چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اور چیف جسٹس پاکستان سے فی الفور استعفے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ نیاز اللہ نیازی نے کہا کہ چیف جسٹس نے کل فل کورٹ اجلاس کے بعد ثابت کیا کہ خط کے پیچھے کیا محرکات ہیں، اب ہماری پریس کانفرنسز کا وقت گزر چکا اب ہم پورے پاکستان سے ایک تحریک کا آغاز کریں گے ہم سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے دروازے پر بھی جائیں گے خان صاحب نے کہا ہے کہ پورے ملک میں احتجاج کیا جائے۔ -

امریکہ نے پاکستان میں چینی قافلے پر دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی ہے
امریکہ نے پاکستان میں چینی شہریوں پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے جانوں کے ضیاع اور زخمیوں پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حملے کے متاثرین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔پریس بریفنگ میں امریکی ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستانی عوام نے دہشت گردوں کے ہاتھوں بہت نقصان اٹھایا ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ پاکستان میں چینی شہری دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی ملک کو دہشت گردی کی کارروائیوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستان میں چینی قافلے پر حملے نے عالمی سطح پر تشویش کو جنم دیا ہے، جس میں ملک میں غیر ملکی شہریوں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے حفاظتی اقدامات میں اضافے کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اس واقعے نے خطے میں دہشت گردی کے مستقل خطرے پر بھی زور دیا ہے، اس خطرے سے نمٹنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے مشترکہ کوششوں پر زور دیا ہے۔مزید برآں، امریکی حکومت نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی حمایت کا وعدہ کیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان دیرینہ شراکت داری خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے میں اہم ہے۔
پاکستان اور اس کے بین الاقوامی شراکت داروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ مجرموں کو پکڑنے اور مستقبل میں ایسے ہی واقعات کو روکنے کے لیے قریبی تعاون کریں۔ پاکستان میں معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول کو فروغ دینے کے لیے تمام افراد کی حفاظت اور تحفظ کو یقینی بنایا جانا چاہیے، چاہے ان کی قومیت کچھ بھی ہو۔ -

یتیم بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری
صدر آصف علی زرداری نے او آئی سی کے یوم یتامیٰ کے موقع پر بچوں کیلئے افطار ڈنر کا اہتمام کیا۔ایوان صدر میں افطار ڈنر میں ملک کے مختلف شہروں سے آئے یتیم بچوں نے شرکت کی. صدر مملکت نے صوبائی حکومتوں پر یتیم بچوں کی تعلیم کیلئے خصوصی اقدامات کرنے پر زور دیا۔صدر مملکت نے کہاکہ یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت اور نگہداشت کے كار خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں. پھول جیسے بچوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی. یتیم بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔تقریب میں آصفہ بھٹو زرداری بھی موجود تھیں.آصفہ بھٹو زرداری نے پاکستان کے مختلف شہروں سے آئے یتیم بچوں سے ملاقات بھی کی. تقریب سے پاکستان آرفن کیئر فورم کے چیئرمین ایئر مارشل ریٹائرڈ فاروق حبیب نے بھی خطاب کیا۔چیئرمین آرفن کیئر نے کہا کہ پاکستان آرفن کیئر فورم یتیم بچوں کی بہترین پرورش اور نگہداشت کیلئے کام کر رہا ہے. صحت مند معاشرے کمزور طبقات بالخصوص یتیم بچوں کا خیال رکھتے ہیں. ملک میں 46 لاکھ کے قریب یتیم بچے ہیں.ایوانِ صدر میں بچوں کو مدعو کرنے سے انکے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
-

افغانستان نے ہمیں ہر موقع پر یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ دہشتگرد گروہوں کے خلاف ایکشن لیں گے، ممتاز زہرہ
دفتر خارجہ پاکستان کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ کا کہنا ہے کہ پاکستان چینی انجینئیرز کی گاڑی پر ہوئے حملے کی شدید مذمت کرتا ہے، ’یہ دہشتگردانہ حملے ان لوگوں کی طرف سے ہیں جو پاکستان کے دشمن ہیں ، پاکستان اور چین کی دوستی کے دشمن ہیں اور چین پاکستان دوستی کی وجہ سے سی پیک کے تحت ملک میں جو خوشحالی آئی اس کے دشمن ہیں‘۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ پاکستان کا عزم ہے کہ ہم اس طرح کے دہشتگردو گروہوں کے خلاف ایکشن لیں گے، اور کسی کو بھی پاک چین دوستی میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ماضی میں بھی چین کے ساتھ مل کر ان دہشتگرد گروہوں کے خلاف ایکشن لیا ہے اور ہم آگے بھی مل کر اس طرح کے گروپس کے خلاف ایکشن لیتے رہیں گے۔ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں کی افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کی پلاننگ کی ویڈیو کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم نے افغان حکومت کے ساتھ ان دہشتگردو گروہوں کے حوالے سے بہت سے شواہد شئیر کیے ہیں جو مختلف مواقع پر پاکستان میں دہشتگردی کرتے رہے ہیں، کچھ عرصہ پہلے حافظ گل بہادر گروپ نے پاکستان میں کارروائی کی اس کے شواہد بھی افغان حکومت کو دیے گئے۔
ممتاز زہرا بلوچ نے کہا ہماری افغان حکومت میں موجود ان افراد کے حوالے سے بھی افغان طالبان کے ساتھ بات چیت ہوتی رہی ہے جو پاکستان کے خلاف ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صرف پاکستان ہی نہیں کہہ رہا بلکہ انٹرنیشنل کمیونٹی بھی یہ کہہ رہی ہے کہ افغانستان کے اندر دہشتگرد گروہوں کی پناہ گاہیں ہیں، ٹی ٹی پی کی لیڈر شپ ، اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے دہشتگرد گروہ ہیں جو وہاں موجود ہیں۔ اس حوالے سے ہماری باہمی گفتگو بھی ہوئی ہے اور پاکستان، چائنہ اور افغانستان کا ایک پلیٹ فارم ہے اس پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ ’افغانستان نے ہمیں ہر موقع پر یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ان دہشتگرد گروہوں کے خلاف ایکشن لیں گے‘۔ ہم امید کرتے ہیں کہ جو یقین دہانیاں انہوں ہمیں اور انٹرنیشنل کمیونٹی کو کرائی ہیں وہ اس پر ایکشن لیں گے۔ یہ ضرور ہو گیا ہے کیونکہ ان دہشتگرد گروہوں کی وجہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک تشویشناک صورت حال پیدا ہو رہی ہے، جسے ہمیں مل کر حل کرنا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ تجارت کے حوالے سے پاکستانی وفد کا دورہ افغانستان پہلے سے طے تھا۔ تجارت کیلئے ماحول اسی وقت سازگار ہوسکتا ہے جب دہشتگردی کے واقعات قابو میں کیے جائیں۔ اس کیلئے افغانستان کو کچھ اقدامات لینے ہوں گے جس میان سب سے اہم اقدام یہ ہے کہ وہ ان ٹیرر گروپس کے خلاف ایکشن لیں، ٹی ٹی پی کی قیادت کے حوالے سے بھی ہمارے پطالبات ہیں کہ انہیں پاکستان کے حوالے کیا جائے، جو لوگ پاکستان میں دہشتگردی کرکے افغانستان چلے گئے انہیں بھی پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ’ہم دیکھیں گے کہ کتنے مؤثر طریقے سے یہ اقدامات لیے جارہے ہیں‘۔
ایک اور سوال کے جواب میں ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ ’یہ واضح ہونا چاہئے کہ پاکستان کے ٹی ٹی پی کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، نہ ہی کوئی ڈائیلاگ (مذاکرات) پلانڈ ہے، افغانستان اور پاکستان کے درمیان جو بات چیت ہوتی ہے اس ایجنڈے پر یہ شامل نہیں ہے، نہ ہی ہمارا ان ٹیرر گروپس کے ساتھ ڈائیلاگ کا ارادہ ہے اور نہ ہی ہم کسی تھرڈ پارٹی زریعے ان سے ڈائیلاگ کا ارادہ رکھتے ہیں‘۔
افغان مہاجرین کی بے دخلی کے حوالے سے کئے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے غیرقانونی طور پر یہاں مقیم افراد کو آفر کی کہ جو لوگ واپس جانا چاہتے ہیں وہ چلے جائیں، 90 فیصد افراد خود گئے انہیں کسی نے مجبور نہیں کیا گیا، جولوگ خود گئے انہیں فائدہ یہ ہے کہ انہیں دوبارہ پاکستان آنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیرخارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کچھ تاجروں نے بھارت سے تجارت کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور حکومت پاکستان اس خواہش کا جائزہ لے گی، اس طرح کی چیزیں ہوتی رہتی ہیں، اس میں کوئی انوکھی بات نہیں، لیکن فی الحال اس طرح کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔
کیا پاکستان اور بھارت کے تعلقات نارمل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں؟ اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں ہے، نہ ہی عنقریب آپ ہماری طرف سے اس طرح کا کوئی اعلان سنیں گے‘۔امریکی سفیر ڈونلڈ لو کے انتخابات میں بے ضابطگیوں اور اصلاحات کے بیان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایک سسٹم موجود ہے اور پاکستان اپنی ذمہ داریاں بکوبی نبھائے گا اور یہی ہمارا دنیا کو پیغام ہے۔
-

زیورات چوری الزام خواتین پر تشدد، وزیراعلیٰ کا عظمی کاردار کو شوکاز نوٹس
سوشل میڈیا پر تنقید کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لیگی ارکان اسمبلی عظمیٰ کاردار کے رویے کا سخت نوٹس لے لیا۔ اس نے ان کے اقدامات پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کرنے کے بعد سخت انتباہ جاری کیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے سخت موقف اختیار کیا، خاص طور پر عظمیٰ کاردار کے زیورات کی چوری کے کیس کے حوالے سے، عظمیٰ کاردار کو ماڈل ٹاؤن کلب میں ہونے والے واقعے میں ملوث ہونے پر شوکاز نوٹس جاری کیا، جس کی وجہ سے خواتین ملازمین پر پولیس تشدد ہوا تھا۔
علاوہ ازیں مریم نواز نے لیگی ایم پی اے ملک وحید کو ایس ایس پی سے معافی مانگنے پر شوکاز نوٹس بھی جاری کردیا۔ شوکاز نوٹس میں دونوں ایم پی اے کو ایک ہفتے میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق قیادت کو مطمئن کرنے میں ناکامی کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سوئمنگ پول میں تیراکی کے دوران کلب سے عظمیٰ کاردار کا پرس چوری ہوا جس میں طلائی زیورات تھے، لیگی ایم پی اے نے چوری کا الزام کلب کی تین خواتین پر عائد کرتے ہوئے پولیس سے اُن کے خلاف کارروائی کروائی تھی۔ایک روز قبل یہ بات سامنے آئی تھی کہ پولیس نے بے گناہی کے باوجود تین خواتین کو برہنہ کر کے تشدد کا نشانہ بنایا ہے البتہ متعلقہ تھانے کے افسر نے ذرائع کو بتایا تھا کہ تینوں خواتین پر جرم ثابت نہیں ہوا اور لیگی ایم پی اے کے شوہر کو اعتماد میں لے کر انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔اس کے علاوہ چند روز قبل ایم پی اے ملک وحید نے قانون کی خلاف ورزی پر روکے جانے پر پولیس اہلکار سے بدتمیزی کی اور سرعام معافی منگوانے کے بعد اُس کا تبادلہ کروادیا تھا۔ -

ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر مہمت پکاسی کی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات
وزیر خارجہ شاہ اسحاق ڈار سے ترکی کے سفیر ڈاکٹر مہمت پاکسی نے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دونوں برادر ممالک کے درمیان تمام شعبوں میں تعاون کو گہرا کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات نے علاقائی چیلنجوں سے نمٹنے اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دینے کے لیے مضبوط تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔
ترک سفیر اور پاکستانی وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والی بات چیت ترکی اور پاکستان کے درمیان دیرینہ دوستی اور تزویراتی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے جاری کوششوں کی عکاسی کرتی ہے۔ اس طرح کی مصروفیات دو طرفہ تعاون کو آگے بڑھانے اور علاقائی اور بین الاقوامی محاذوں پر مشترکہ خدشات کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ -

پاکستانیوں کے ذاتی معلومات ارجنٹائن اور رومانیہ میں فروخت ہونے کا انکشاف
نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) سے شہریوں کا ڈیٹا چوری ہونے کے اسکینڈل کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) نے 27 لاکھ پاکستانیوں کا ڈیٹا چوری ہونے کی تصدیق کردی۔مارچ 2023 کے سائبر واقعے کی تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی گئی تھی۔ نادرا نے 30 اکتوبر 2023 کو جے آئی ٹی کیلئے حکومت سے درخواست کی تھی۔ذرائع کے مطابق ڈیٹا لیک اسکینڈل تحقیقات کے لیے قائم جے آئی ٹی نے اپنا کام مکمل کرلیا ہے۔ رپورٹ میں 27 لاکھ پاکستانیوں کا ڈیٹا چوری ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی ایف آئی اے کے وقارالدین سید نے کی، جبکہ جے آئی ٹی میں حساس اداروں سمیت نادرا کے نامزد افسران بھی شامل تھے۔کمیٹی نے تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرکے وزارت داخلہ میں جمع کروا دی ہے۔رپورٹ کے مطابق نادرا سے شہریوں کا ڈیٹا 2019 سے 2023 کے دوران چوری کیا گیا، ڈیٹا لیک اسکینڈل میں ملتان، پشاور اور کراچی کے نادرا دفاتر ملوث پائے گئے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ نادرا کا ڈیٹا ملتان سے پشاور اور پھر دبئی گیا، نادرا ڈیٹا کے ارجنٹائن اور رومانیہ میں فروخت ہونے کے شواہد بھی ملے۔رپورٹ میں نادرا کے متعدد اعلیٰ افسران کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے -

پنجاب محکمہ ایکسائز نے ٹیکس نادہندہ گاڑیوں کے سدباب کے لیے مہم کا آغاز کر دیا۔
محکمہ ایکسائز نے یاددہانی کی پہلی مرحلے میں ٹیکس نا دہندہ گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ محکمہ ایکسائز نے 15 مارچ سے ٹیکس نادہندہ گاڑیوں پر سرخ اسٹیکرز لگانے کی مہم شروع کر دی ہے۔ اس مہم کے تحت اب تک 11 ہزار سے زائد گاڑیوں پر اسٹیکر لگ چکے ہیں۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ لاہور میں 400,000 سے زائد ٹیکس نادہندہ گاڑیاں ہیں اور ان میں سے 75 فیصد ٹیکس وصولی کا نشانہ بنی ہیں۔محکمہ ایکسائز کے حکام شوروم مال میں شوروم مالکان سے ملاقات کر رہے ہیں اور انہیں ٹیکس ادا کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں۔ محکمہ ایکسائز کا یہ قدم انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ گاڑیوں کے مالکان کو ٹیکس کی ادائیگی کی ضرورت اور اہمیت پر غور کرنے پر مجبور کرے گی،
اس فیصلے کی بنیاد پر، مختلف علاقوں میں مہم چلائی گئی ۔ جس میں مال روڈ، ہال روڈ، لبرٹی مارکیٹ، ڈی ایچ اے رایا کلب، جیل روڈ، کوئینز روڈ، فیروز پور روڈ، اور ماڈل ٹاؤن مارکیٹس میں بھی یاددہانی سٹیکرز لگائے گئے۔ کریم بلاک راوی روڈ، ڈیوس روڈ، شیرانوالہ گیٹ، اور اعظم کلاتھ مارکیٹ میں بھی ٹیکس نا دہندہ گاڑیوں پر یاددہانی کی گئی۔ یہ اقدام محکمہ ایکسائز کی سختی اور انتباہات کی روشنی میں کیا گیا ہے، تاکہ عوام کو ٹیکس کی ادائیگی کے اہمیت پر آگاہی فراہم کی جا سکے گی،