Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • وفاقی حکومت نے  سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے نیشنل سی ای آر ٹی کو قائم کر لیا

    وفاقی حکومت نے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے نیشنل سی ای آر ٹی کو قائم کر لیا

    اسلام آباد: سائبر حملوں کی روک تھام کے لیے اہم اقدامات کرتے ہوئے وفاقی حکومت نے سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (CERT) قائم کر دی ہے۔ ٹیم سائبر حملوں سے بچاؤ کے حوالے سے آگاہی فراہم کرے گی۔انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی وزارت نے سائبر حملے سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی فراہم کرنے کے لیے نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (CERT) تشکیل دی ہے۔ اس کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔یہ اقدام ملک میں سائبر سیکورٹی کے خطرات پر بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجیز پر بڑھتے ہوئے انحصار کے ساتھ، سائبر حملوں کا خطرہ ایک اہم مسئلہ بن گیا ہے جس پر فوری توجہ اور فعال اقدامات کی ضرورت ہے۔ نیشنل ٹیلی کام اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سکیورٹی بورڈ گزشتہ کئی سال سے پی ایس ڈی پی کا منصوبہ چلا رہی تھی، تاہم نیشنل سرٹ کے لیے ماہر ورک فورس پہلے سے ہی ہائر کی جاچکی ہے۔
    اس کے لیے ضروری سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کی خریداری پہلے ہی کی جاچکی ہے، جبکہ الگ سے ویب سائٹ بھی لانچ کی جاچکی ہے۔ یہ ڈیجیٹل اثاثوں، حساس معلوت، اہم بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کرے گی اور سائبر حملوں کا پتا لگانے، ان کی روک تھام کے لیے کردار ادا کرے گی۔نیشنل سی ای آر ٹی سائبر سیکیورٹی اقدامات کی اہمیت کے بارے میں عوام اور تنظیموں میں بیداری پیدا کرکے ان چیلنجوں سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ یہ افراد اور اداروں کو ان کے ڈیجیٹل اثاثوں اور بنیادی ڈھانچے کو سائبر خطرات سے بچانے کے لیے رہنمائی اور مدد فراہم کرے گا۔نیشنل سی ای آر ٹی کی تشکیل سائبرسیکیوریٹی لچک کو بڑھانے اور ملک کے ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کی حفاظت کے لیے حکومت کے عزم کو واضح کرتی ہے۔ افراد اور تنظیموں کو سائبر خطرات کو کم کرنے کے لیے ضروری معلومات اور آلات سے لیس کرکے، اس اقدام کا مقصد تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے ایک محفوظ اور زیادہ محفوظ سائبر ماحول پیدا کرنا ہے۔
    مزید برآں، نیشنل سی ای آر ٹی متعلقہ اسٹیک ہولڈرز، بشمول سرکاری ایجنسیوں، نجی شعبے کے اداروں، اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون کرے گا، تاکہ سائبر واقعات کا جواب دینے اور سائبر سیکیورٹی میں بہترین طریقوں کا اشتراک کرنے کے لیے ہم آہنگی اور تعاون کو بڑھایا جا سکے۔مجموعی طور پر، نیشنل سی ای آر ٹی کا قیام پاکستان کی سائبر سیکیورٹی پوزیشن کو مضبوط بنانے اور سائبر خطرات کے خلاف اس کے ڈیجیٹل منظر نامے کی حفاظت اور حفاظت کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

  • عدالتی معاملات میں مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

    عدالتی معاملات میں مداخلت، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کا سپریم جوڈیشل کونسل کو خط

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں نے عدالتی کیسز میں خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت پر سپریم جوڈیشل کونسل کو خط لکھ دیا ہے جس میں عدالتی معاملات میں انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی مداخلت پر مدد مانگی گئی ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں کی جانب سے لکھے گئے خط کی کاپی سپریم کورٹ کے تمام ججوں کو بھی بھجوائی گئی ہے۔ خط میں عدالتی امور میں ایگزیکٹو اور ایجنسیوں کی مداخلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ہائی کورٹ کے ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ عدلیہ میں خفیہ اداروں کی مداخلت اور ججز پر اثرانداز ہونے کے معاملے پر جوڈیشل کنونشن بلایا جائے۔سپریم جوڈیشل کونسل کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججوں نے خط ارسال کیا ہے۔ خط لکھنے والوں میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز شامل ہیں۔
    خط کے متن کے مطابق ’عدالتی امور میں مداخلت پر ایک عدلیہ کا کنونشن طلب کیا جائے جس سے دیگر عدالتوں میں ایجنسیوں کی مداخلت کے بارے میں بھی معلومات سامنے آئیں گی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ کے کنونشن سے عدلیہ کی آزادی کے بارے میں مزید معاونت حاصل ہو گی۔‘سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھے گئے خط میں ٹیریان وائٹ کیس کا بھی ذکر کیا گیا ہے
    اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں کے مشترکہ خط میں کہا گیا ہے کہ ’جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس ارباب طاہر نے چیف جسٹس عامر فاروق سے اختلاف کرتے ہوئے عمران خان کے خلاف ٹیریان وائٹ کیس کو ناقابل سماعت قرار دیا تھا۔‘خط کے متن کے مطابق جن ججوں نے چیف جسٹس سے اختلاف کرتے ہوئے فیصلہ دیا ان پر ایک حساس ادارے کی جانب سے ججز کے خاندان اور دوستوں سے دباؤ ڈالوایا گیا۔خط میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ’اس سے قبل بھی ججوں نے اپنے اوپر دباؤ کی کوششوں پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو 2023 اور 2024 میں خطوط لکھے تھے۔
    خط میں کہا گیا ہے کہ ‏ایک حساس ادارے کی جانب سے ججز پر مسلسل دباؤ کا معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے اٹھایا جا چکا ہے۔ خط لکھنے والے ججز نے دباؤ کی کوششوں پر 2023 اور 2024 میں لکھے خطوط بھی شامل کیے ہیں۔ججز نے خط میں کہا ہے کہ خط لکھنےکا مقصد سپریم جوڈیشل کونسل سے رہنمائی لینا ہے، یہ معاملہ جج شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس کے بعد اٹھا ہے، شوکت صدیقی کیس میں ثابت ہوا فیض حمیدعدالتی امورمیں مداخلت کررہے تھے جبکہ خط میں 2023 میں جج کے کمرے سے کیمرہ نکلنے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔خط کے متن کے مطابق اس وقت کے آرمی چیف اور وفاقی حکومت نے جسٹس شوکت صدیقی کیخلاف کیس کیا تھا، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کےعدالتی امور میں مداخلت کے الزامات کی تحقیقات کرائی جائیں، انہوں نے خود بھی اپنے اوپر عائد لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کی درخواست کی۔خط میں کہا گیا ہے کہ ایجنسیوں کی مداخلت، ججز پراثر اندازی سراسر توہین عدالت کے زمرےمیں آتی ہے، آرٹیکل 204، توہین عدالت آرڈیننس کے تحت فوری کارروائی شروع کی جائے۔

  • بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے کا معاملہ قومی اسمبلی  میں اٹھایا جائے گا، عمر ایوب

    بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھایا جائے گا، عمر ایوب

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عمر ایوب کو پھر بانی چیئرمین ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو میں عمر ایوب نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھانے کا اعلان کردیا۔انہوں نے کہا کہ عدالتی احکامات پر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کےلیے آیا تھا، جیل حکام نے ملاقات نہیں کرنے دی ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ مجھے ساتویں مرتبہ بانی پی ٹی آئی سے ملنے نہیں دیا گیا، ہم اس معاملے کو قومی اسمبلی کے فلور پر اٹھائیں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کرپٹ اور پنجاب حکومت کا ٹاؤٹ ہے، یہ حکومت نہیں چل سکتی، وزیر داخلہ کے پاس عوامی مینڈیٹ ہی نہیں ہے۔عمر ایوب نے یہ بھی کہا کہ موجودہ حکومت بیساکھیوں اور فارم 47 کی بنیاد پر بنی ہے۔

  • ہم سب کو قانون کا زیادہ احترام کرنا چاہئے تاکہ باقی لوگوں کے لئے مثال بنیں۔ مریم نواز

    ہم سب کو قانون کا زیادہ احترام کرنا چاہئے تاکہ باقی لوگوں کے لئے مثال بنیں۔ مریم نواز

    لیگی ایم پی اے کے تمام انسپکٹرز کی جانب سے معافی کی درخواست نے وزیراعلیٰ مریم نواز کو ایکشن لینے پر مجبور کیا، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ملک واحد کے لیگی ایم پی ایز کے ناروا رویے کا نشانہ بننے والے ٹرینی سب انسپکٹر یاسر نصیب سے ملاقات کی، سی سی پی او بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ٹرینی سب انسپکٹر یاسر نصیب سے ایم پی ایز کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں اس واقعے پر بہت شرمندہ ہوں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ٹرینی سب انسپکٹر یاسر نصیب سے سارا واقعہ سنا۔۔ٹرینی سب انسپکٹر یاسر نصیب نے بتایا کہ روٹین کا گشت کررہے تھے، دو گاڑیاں گزر رہی تھیں، باغبانپورہ کے علاقے شادی پورہ میں گاڑی کے سیاہ شیشے دیکھ کر روک کر چیک کیا، ایم پی اے نے اتر کر کہا کہ میں اس علاقے کا ایم پی اے ہوں، آپ نے چیک کیوں کیا ہے۔
    یاسر نصیب نے مزید بتایا کہ میں نے ایم پی اے کو بتایا کہ میری ڈیوٹی ہے، میں نے اپنی ڈیوٹی کی ہے، کوئی بری بات نہیں، ایم پی ا ے نے کہاکہ میرے علاقے میں مجھے روک کر چیک کرنے سے میری عزت نفس مجروح ہوئی ہے، ایم پی اے نے مجھ سے سر عام معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔مریم نواز نے کہا کہ آئندہ آپ نے اپنی ڈیوٹی کرنی ہے، آپ نے کسی سے نہیں ڈرنا، ذمہ داری پوری کرنے پر کبھی کسی سے معافی نہیں مانگنی، آپ کا کام یہی ہے اور آپ نے اپنا کام اچھے طریقے سے کرنا ہے، ایم پی اے ہو، ایم این اے ہو یا چیف منسٹر ہو، قانون سے بڑا کوئی نہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ آپ نے بالکل ٹھیک کیا، اس بات پر دل چھوٹا نہ کریں، میں نے اپنے ایم پی اے کو شوکاز نوٹس دیا ہے، ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیں، وزیراعلیٰ نے یاسر نصیب کی ٹرانسفر کے بارے میں سی سی پی او سے استفسار کیا اور کہاکہ اس قسم کا کوئی واقعہ ہو تو مجھ سے پوچھے بغیر کوئی ایکشن نہیں لینا۔
    مریم نوازشریف نے مزید کہا کہ ایم پی اے کو شکایت تھی تو اسے میرے پاس آنا چاہئے تھا، انکوائری کے بعد ہم ایکشن لیتے، کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں، ہم سب کو قانون کا زیادہ احترام کرنا چاہئے تاکہ باقی لوگوں کے لئے مثال بنیں۔انہوں نے یاسر نصیب کو تلقین کی کہ ویری ویلڈن، اپنی ڈیوٹی اسی طرح کرنی ہے، کسی کوتنگ نہیں کرنا، ناانصافی نہیں کرنی۔اب اس واقعہ کی مزید تحقیقات کی جائیں گی اور اس بدتمیزی کے ذمہ داروں کے خلاف ضروری کارروائی کی جائے گی

  • پی آئی اے نجکاری کا دوسرا اور انتہائی اہم مرحلہ کامیابی سے مکمل

    پی آئی اے نجکاری کا دوسرا اور انتہائی اہم مرحلہ کامیابی سے مکمل

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا دوسرا اور انتہائی اہم مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے پی آئی اے ہولڈنگز کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں 11 ارکان کی تقرری کی منظوری دے دی ہے۔بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سرکولیشن کے ذریعے کابینہ سے خصوصی اجازت اور منظوری حاصل کی۔ذرائع کے مطابق اسٹیٹ بینک کے سابق گورنر طارق باجوہ کو پی آئی اے بورڈ کا چیئرمین مقرر کردیا گیا ہے۔منظوری میں پی آئی اے کے 11 رکنی بورڈ میں 7 آزاد ڈائریکٹرز اور 4 سرکاری افسران کی تقرری شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی ذمہ داریاں اور اثاثے ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کیے جائیں گے۔

  • نیول بیس میں شہید سپاہی نعمان فریدفوجی اعزازکیساتھ سپردخاک

    نیول بیس میں شہید سپاہی نعمان فریدفوجی اعزازکیساتھ سپردخاک

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق تربت میں پی این ایس صدیق پر دہشت گردانہ حملے میں شہید ہونے والے سپاہی نعمان فرید کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔شہید سپاہی کی نماز جنازہ ایف سی بلوچستان ہیڈکوارٹرز تربت میں ادا کی گئی، شہید کو مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ آبائی علاقے میں سپرد خاک کیا جائے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق شہید کی نماز جنازہ میں پاک فوج کے سینئر افسران اورجوانوں نے شرکت کی، سپاہی نعمان فرید شہید کی عمر 24 سال تھی جو مظفر گڑھ کے رہائشی تھے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق ہمارے شہداء کی یہ قربانیاں دہشت گردی کیخلاف ہمارے عزم کو تقویت دیتی ہیں، سپاہی نعمان فرید نے سوگواران میں اہلیہ، بیٹی، بہن، بھائی اور والدین چھوڑے۔

  • بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے خیبرپختونخوا میں بڑا جلسہ کیا جائے گا۔ بیر سٹر گوہر

    بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے خیبرپختونخوا میں بڑا جلسہ کیا جائے گا۔ بیر سٹر گوہر

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات میں سیاسی معاملات پر گفتگو ہوئی۔خیبر پختونخوا سے فیض الرحمان اور شفقت ایاز ہمارے امیدوار ہوں گے۔ زلفی بخاری پنجاب سے سینیٹ الیکشن میں ہمارے امیدوار ہوں گے۔بیر سٹر گوہر نے کہا کہ عمران خان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں اور انہوں نے تین نام بتائے ہیں، بانی پی ٹی آئی کے تحفظ کی ذمہ داری طاقتور لوگوں پر عائد ہوتی ہے۔اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے مزید کہا کہ 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گواہ نے عدالت میں مان لیا کہ سرکار کا کوئی نقصان نہیں ہوا اور نہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی فائدہ لیا ۔بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میرا جینا مرنا پاکستان کے لئے ہے۔پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ لو نے اپنے بیان میں کہا کہ کوئی میٹنگ نہیں ہوئی، ہم نے مطالبہ کیا تھا کہ اسد مجید اس حوالے سے اپنا موقف واضح کرے۔ رانا ثناءاللہ نے کہا تھا بانی پی ٹی آئی رہیں گے یا پھر ہم۔ رانا ثناءاللہ کے خلاف ہم نے کراچی میں بھی درخواستیں دائر کی ہیں۔ رانا ثناءاللہ ایک خطرناک آدمی ہے، اس کی اپنی پارٹی کے لوگوں نے کہا کہ وہ 20 لوگوں کا قاتل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنا مینڈیٹ واپس لینے کے لیے کوشش کر رہے ہی،۔ ضمنی الیکشن کے لئے پنجاب کی 12 اور کے پی کی 3 سیٹوں کے لیے مہم شروع کر رہے ہیں۔ پنجاب اور کے پی میں انتخابات کے حوالے سےخصوصی مہم چلائی جائے گی۔ سینٹ کے انتخابات کے حوالے سے بھی بات ہوئی، پنجاب میں زلفی بخاری کا نام فائنل ہوا، اگر ان پر کوئی اعتراض ہوا تو علامہ ناصر عباس ہوں گے۔
    بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ کے پی میں فیض الرحمن اور شفقت ایاز کا نام فائنل کیا گیا ہے۔ٹیکنوکریت کی سیٹ پر اعظم سواتی کا نام فائنل ہے، نورالحق قادری بھی ایڈیشنل کے طور پر ہیں۔انہوں نے کہا کہ بشری بی بی کو پہلے بھی جو کھانا دیا گیا اس سے ان کی طبعیت خراب ہوئی تھی، ان کی صحت سنجیدہ معاملہ ہے۔ بشری بی بی کا توشہ خانہ، الیکشن کمیشن کی لسٹ میں کوئی نام نہیں ہے۔ بشری بی بی کو ایک کمرے میں بند رکھا گیا، گھر کے سارے شیشے کالے کر دیئے گئے، بشری بی بی کے بیان کو پارٹی پالیسی سمجھا جائے۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی زندگی کے حوالے سے ذمہ داری طاقتور لوگوں پر عائد ہوتی ہے، ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں تبھی تین نام لیئے گئے۔انہوں نے اعلان کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے خیبرپختونخوا میں قیدی 804 کے نام سے بڑا جلسہ کریں گے۔

  • چوہدری پرویز الہٰی اور اُن کے صاحبزادے مونس الہٰی  الیکشن لڑنے کے اہل قرار

    چوہدری پرویز الہٰی اور اُن کے صاحبزادے مونس الہٰی الیکشن لڑنے کے اہل قرار

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر چوہدری پرویز الہٰی اور اُن کے صاحبزادے مونس الہٰی کو الیکشن لڑنے کی اجازت مل گئی۔اپیلٹ ٹریبونل نے پی ٹی آئی کے صدر پرویز الہٰی اور مونس الہٰی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی۔پرویز الہٰی کے کاغذات پی پی 32 اور مونس الہٰی کے کاغذات پی پی 158 سے مسترد کیے گئے تھے۔پرویز الہٰی اور مونس الہٰی نے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے اقدام کو چیلنج کیا تھا۔ آج اپیلٹ ٹریبونل نے پرویز الہٰی اور مونس الہٰی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دے د ی،

  • پاکستانی حکومت بشام  واقع کی اعلی سطح اور جلد تحقیقات کرکے ذمہ داروں و سہولت کاروں کو قرارواقعی سزا دے گی. وزیر اعظم

    پاکستانی حکومت بشام واقع کی اعلی سطح اور جلد تحقیقات کرکے ذمہ داروں و سہولت کاروں کو قرارواقعی سزا دے گی. وزیر اعظم

    وزیراعظم چینی سفارت خانے پہنچے اور بشام دہشت گرد حملے میں چینی باشندوں کی ہلاکت پر تعزیت کی۔وزیر اعظم نے کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں چینی شہریوں کے اہلِخانہ کے ساتھ ہیں، پاک چین دوستی کو نقصان پہنچانے کی ایسی مذموم کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ شانگلہ میں ہونے والے خودکش حملے میں چینی باشندوں کی ہلاکتوں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے چینی سفارتخانے کا دورہ کیا ، وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی بھی ان کے ہمراہ تھے، دہشتگردی واقعے کے بعد کی صورتحال اور چینی باشندوں اور انجینیرز کی سیکیورٹی پر تفصیلی مشاورت کی گئی،
    چینی سفیر نے وزیرِ اعظم کی سفارتخانے آمد اور واقعے کی تحقیقات میں ذاتی دلچسپی پر شکریہ ادا کیا اور وزیرِ اعظم کے پاک چین دوستی کے حوالے سے عزم کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے چینی سفیر سے شانگلہ دہشتگردی واقعے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا، انہوں نے چین کے پاکستان میں سفیر جیانگ زائیڈونگ سے بشام میں دہشتگرد حملے میں 5 چینی باشندوں کی ہلاکت پر تعزیت بھی کی، چینی سفیر سے گفتگو میں وزیرِ اعظم نے چینی صدر اور چینی وزیرِ اعظم کیلئے واقعے کے حوالے سے تعزیتی پیغام دیا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں چینی شہریوں کے اہلِخانہ کے ساتھ ہیں، پاکستانی حکومت واقعے کی اعلی سطح اور جلد تحقیقات کرکے ذمہ داراں و سہولت کاروں کو قرارواقعی سزا دے گی، پاک چین دوستی کو نقصان پہنچانے کی ایسی مذموم کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے، سی پیک کے دشمنوں نے ایک مرتبہ پھر سے ایسی بزدلانہ حرکت سے اسے متزلزل کرنے کی سازش کی ہے مگر دشمن اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے تک اسکے خلاف جنگ جاری رکھیں گے۔

  • وزیر داخلہ محسن نقوی  کا چینی سفارت خانہ آمد، چینی سفیر کا  باشندوں کی ہلاکت کی مکمل تحقیقات کی درخواست

    وزیر داخلہ محسن نقوی کا چینی سفارت خانہ آمد، چینی سفیر کا باشندوں کی ہلاکت کی مکمل تحقیقات کی درخواست

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی شانگلہ میں دھماکے کے فوری بعد چینی سفارت خانے پہنچ گئے، محسن نقوی نے چینی سفیر سے ملاقات کی۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے چینی سفیر کو دھماکے کی تمام تفصیلات اور ہلاکتوں کے بارے آگاہ کیا، جائے وقوعہ پر جاری ریسکیو آپریشن سے بھی چینی سفیر کو تفصیلات بتائیں، وزیر داخلہ نے شانگلہ میں دہشت گرد حملے میں چینی شہریوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔محسن نقوی نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں پوری پاکستانی قوم اپنے چینی بھائیوں کے غم میں برابر کی شریک ہے، واقعہ کی جامع تحقیقات کو یقینی بنا کر اس میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے۔ وفاقی وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان برادرانہ تعلقات پر حملہ ناقابل برداشت ہے، ان عظیم دو طرفہ تعلقات کو متاثر نہیں ہونے دیں گے،
    دوسری جانب چین نے شانگلہ میں گاڑی پر حملے میں اپنے باشندوں کی ہلاکت پر مکمل تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔چینی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستانی حکام ضلع شانگلہ میں گاڑی پر حملے میں چینی باشندوں کی ہلاکت کی مکمل تحقیقات کریں۔چینی سفارت خانے اور قونصل خانے نے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ دہشت گرد حملے میں دونوں ملکوں کے متاثرین سے اظہار افسوس کرتے ہیں۔چینی سفارت خانے نے کہا کہ پاکستان میں موجود چینی شہری اور کمپنیاں مقامی سیکیورٹی صورتحال پر گہری توجہ رکھیں۔