Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پاکستان کی تاریخی کامیابی: چھٹی ایشین اوپن تائیکوانڈو چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیت لیا

    پاکستان کی تاریخی کامیابی: چھٹی ایشین اوپن تائیکوانڈو چیمپئن شپ کا ٹائٹل جیت لیا

    پاکستان نے انڈونیشیا میں ہونے والی چھٹی ایشین اوپن (کیوروگی) تائیکوانڈو چیمپئن شپ میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے چیمپئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ یہ کامیابی پاکستان کی تائیکوانڈو تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جس میں پاکستانی کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر 3 گولڈ، 3 سلور، اور 2 برانز میڈلز جیتے۔ چیمپئن شپ کے دوران، جمعرات کو 58 کلوگرام کیٹیگری کے فائنل میں پاکستان کے ہارون خان نے اپنے ہم وطن ابوبکر کو شکست دے کر گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ یہ مقابلہ سنسنی خیز انداز میں ہوا، جہاں ہارون نے 4-6 اور 7-9 سے کامیابی حاصل کی۔ اسی کیٹیگری میں ابوبکر نے سلور میڈل حاصل کیا، جو ان کی شاندار کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔
    اسی طرح، خواتین کی 73 کلوگرام کیٹیگری کے فائنل میں منیشا علی نے انڈونیشیا کی پیرماتا ساری کو شکست دے کر گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ منیشا نے اس مقابلے میں 1-4 اور 2-8 کی شاندار فتح حاصل کی، جو ان کی مہارت اور عزم کی دلیل ہے۔پاکستان کے دیگر کھلاڑیوں کی کارکردگی بھی شاندار رہی۔ 54 کلوگرام کیٹیگری میں شاہ زیب نے گولڈ میڈل جیتا، جبکہ حمزہ عمر سعید اور احتشام الحق نے 87 پلس کلوگرام کیٹیگری میں سلور میڈلز اپنے نام کیے۔ مظہر عباس نے 80 کلوگرام کیٹیگری میں برانز میڈل جیتا، جبکہ خواتین کی 73 کلوگرام کیٹیگری میں ملیحہ علی نے بھی برانز میڈل حاصل کیا۔چیمپئن شپ میں پاکستان نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ قازقستان اور ملائشیا کی ٹیمیں بالترتیب دوسری اور تیسری پوزیشن پر رہیں۔
    پاکستانی ٹیم کی بہترین کارکردگی کو دیکھتے ہوئے انہیں "بیسٹ ٹیم” کا ایوارڈ دیا گیا۔ اس ایونٹ میں شاہ زیب کو چیمپئن شپ کا بہترین کھلاڑی اور یوسف کرامی کو بہترین کوچ کے اعزازات سے نوازا گیا۔ پاکستان تائیکوانڈو فیڈریشن کے صدر لیفٹیننٹ کرنل راجہ وسیم احمد، سی ای او عمر سعید اور پیٹرن ان چیف کووبونگ کم نے اس تاریخی کامیابی پر کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کامیابی پاکستانی تائیکوانڈو کے روشن مستقبل کی نوید ثابت ہوگی۔یہ شاندار کامیابی نہ صرف کھلاڑیوں کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے ایک فخر کا لمحہ ہے، جو عالمی سطح پر پاکستان کی تائیکوانڈو کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے۔

  • پنجاب حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی چھٹی اور دفعہ 144 کا نفاذ

    پنجاب حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں کی چھٹی اور دفعہ 144 کا نفاذ

    حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور انسانی جانوں و املاک کے تحفظ کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، کل یعنی 18 اکتوبر کو تمام سرکاری اور نجی کالجز اور جامعات میں چھٹی کا اعلان کیا گیا ہے۔یہ چھٹیاں ایک ایسے وقت میں دی گئی ہیں جب حکومت نے صوبے میں دو روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت 18 اکتوبر (جمعہ) سے لے کر 19 اکتوبر (ہفتہ) تک ہر قسم کے احتجاج اور جلوس جیسی سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگی۔ حکومت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات عوامی تحفظ اور امن و امان کی بحالی کے لیے ضروری ہیں۔ محکمہ داخلہ پنجاب نے واضح کیا ہے کہ دفعہ 144 کے نفاذ کا مقصد عوامی اجتماع کو محدود کرنا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
    حکومت کی یہ کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ شہریوں کی حفاظت کو اپنی ترجیح سمجھتی ہے اور امن و امان کی بحالی کے لیے سخت اقدامات اٹھا رہی ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف تعلیمی اداروں میں طلباء کی محفوظ رہنمائی کے لیے اہم ہیں بلکہ صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال کو بھی مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس حکم کی پاسداری کریں اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہوں تاکہ صوبے میں امن و سکون برقرار رہے۔

  • اسٹیٹ بینک کی جانب سے قوم کے لیے خوشخبری: زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے قوم کے لیے خوشخبری: زرِمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ

    پاکستان کے اقتصادی منظرنامے میں ایک مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے، جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اعلان کیا کہ ملک کے زرِمبادلہ کے ذخائر ڈھائی سال میں پہلی بار گیارہ ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی ہفتہ وار بنیاد پر جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، 11 اکتوبر 2024 کو ذخائر کی سطح 11.023 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو کہ 4 اکتوبر کو 10.808 ارب ڈالر تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق، ایک ہی ہفتے میں زرِمبادلہ کے ذخائر میں 21 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک کی معیشت میں استحکام آ رہا ہے اور یہ حکومتی اقتصادی پالیسیاں مثبت اثر ڈال رہی ہیں۔
    اسٹیٹ بینک کے ذخائر کے علاوہ، ملک بھر میں موجود مجموعی زرِمبادلہ کی سطح بھی بڑھ کر 16.111 ارب ڈالر ہو گئی ہے۔ یہ اضافہ 6 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کے اضافے کی بدولت ممکن ہوا ہے۔ تاہم، تجارتی بینکوں میں موجود زرِمبادلہ کا حجم 15 کروڑ ڈالر کی کمی سے 5.089 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، یکم اپریل 2022 کو پاکستان کے زرِمبادلہ کے ذخائر 11.319 ارب ڈالر کی سطح پر تھے۔ یہ تازہ ترین اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی معیشت میں بہتری آ رہی ہے، جس کا اثر مستقبل میں ملکی ترقی اور سرمایہ کاری کے مواقع پر پڑ سکتا ہے۔ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ ممکنہ طور پر عالمی مالیاتی مارکیٹس میں بہتری، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ، اور حکومتی اقتصادی اصلاحات کے ثمرات کی عکاسی کرتا ہے۔

  • آئینی ترمیم کا معاملہ: جاتی امراء میں پانچ بڑوں کی اہم میٹنگ  ، ڈیڈ لاک بر قرار

    آئینی ترمیم کا معاملہ: جاتی امراء میں پانچ بڑوں کی اہم میٹنگ ، ڈیڈ لاک بر قرار

    آئینی ترمیم کا معاملہ ایک بار پھر ڈیڈ لاک کا شکار ہوگیا ہے۔ جاتی امراء میں ہونے والی اہم ملاقات میں، نواز شریف، مولانا فضل الرحمان، آصف علی زرداری، اور دیگر اہم رہنما شامل ہوئے، مگر ملاقات کے نتیجے میں کوئی متفقہ فیصلہ نہیں ہو سکا۔ذرائع کے مطابق، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی آصف علی زرداری کی آمد سے پہلے ایک ون آن ون ملاقات ہوئی، جس میں مولانا فضل الرحمان نے 25 اکتوبر کے بعد آئینی ترمیم پیش کرنے کی تجویز دی۔ اس ملاقات کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے بلائی گئی وفاقی کابینہ کا اجلاس موخر کر دیا۔قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں آئینی ترمیم پیش نہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے معاملے میں مزید پیچیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان آئینی ترامیم کے حوالے سے اپنے فیصلے پر قائم ہیں اور انہوں نے پی ٹی آئی کو بھی اس معاملے میں آن بورڈ لینے کی تجویز دی ہے۔
    علاوہ ازیں، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان بھی آئینی ترمیم کی بعض شقوں پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے ن لیگ کی جانب سے فوجی عدالتوں کے قیام پر بھی اتفاق نہیں کیا۔ اس صورتحال میں دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات جاری رہنے کی توقع ہے، تاکہ آئینی ترمیم کے حوالے سے ایک متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔اس وقت حکومت کے آئینی مسودے پر مولانا فضل الرحمان کے تحفظات دور کرنے میں آصف زرداری اور نواز شریف ناکام رہے ہیں۔ آئینی ترمیم کے حوالے سے جاری مذاکرات کی پیچیدگیوں نے اس مسئلے کو مزید تناؤ میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے نتائج ملکی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ آئینی ترمیم کے معاملے میں پیشرفت نہ ہونے کے باعث ملکی سیاسی منظرنامہ میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ گئے ہیں، اور تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر جلد ہی کوئی حل نہ نکالا گیا تو یہ مسئلہ سیاسی بحران کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

  • پی ٹی آئی کا آئین میں ترمیم کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان

    پی ٹی آئی کا آئین میں ترمیم کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سیاسی کمیٹی نے آئین میں مجوزہ ترمیم کے خلاف جمعہ کے روز ملک بھر میں ضلعی ہیڈکوارٹرز پر احتجاج کا اعلان کر دیا۔ یہ فیصلہ بدھ کو ہونے والے سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں ترمیم کی بھرپور مخالفت اور اس کے خلاف مؤثر مزاحمت کا عزم ظاہر کیا گیا۔اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے بنیادی حقوق کی فوری بحالی اور ان کے اہل خانہ اور تحریک کے قائدین تک رسائی دی جائے۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے جمعہ کے روز نمازِ جمعہ کے بعد ضلعی ہیڈکوارٹرز پر بھرپور اور پرامن احتجاج کی ہدایت جاری کی ہے، اور آئین کی بالادستی پر یقین رکھنے والے تمام طبقوں سے اس احتجاج میں شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔
    اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں ترمیم کا راستہ روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔ سیاسی کمیٹی نے مزید کہا کہ بانی چیئرمین کی بہنوں علیمہ خانم اور عظمیٰ خانم کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے گرفتار قائدین، کارکنان اور اراکینِ پارلیمان کی رہائی پر بھی زور دیا گیا۔پی ٹی آئی کی جانب سے ملک گیر سطح پر احتجاج کا یہ اعلان ایک اہم سیاسی موڑ کی نشاندہی کرتا ہے، جس میں آئین میں ترمیم کی مخالفت اور اس کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

  • پولیس کا بی این پی سربراہ سردار اختر مینگل کی رہائش گاہ پر چھاپہ

    پولیس کا بی این پی سربراہ سردار اختر مینگل کی رہائش گاہ پر چھاپہ

    اسلام آباد : پارلیمنٹ لاجز میں بلوچ نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ سردار اختر مینگل کی رہائش گاہ پر پولیس اور سادہ لباس اہلکاروں نے چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران اہلکاروں نے وہاں رہائش پذیر افراد سے پوچھ گچھ کی۔ اس وقت سردار اختر مینگل کی رہائش گاہ پر پارٹی کے قائمقام صدر ساجد ترین ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔ انہوں نے اس واقعے کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ "اسلام آباد پولیس سردار اختر مینگل کے اپارٹمنٹ میں آئی جہاں میں مقیم ہوں۔ پولیس ہمارے پاس اپارٹمنٹ میں رہنے والوں کے خلاف انٹیلی جنس رپورٹس کی بنیاد پر آئی ہے۔” ساجد ترین نے مزید کہا کہ "میں نے پولیس سے کہا کہ ان انٹیلی جنس والوں کو بتاؤ کہ وہ آکر مجھ سے بات کرے، ایسے ہتھکنڈوں سے میں ڈرنے والا نہیں ہوں۔”
    قائمقام صدر بی این پی مینگل نے اس بات کی وضاحت کی کہ وہ اس وقت یہاں موجود ہیں تاکہ آئینی عدالتی پیکج کے لئے ووٹنگ کے دوران پارٹی کے سینیٹرز کسی دباؤ میں نہ آئیں۔ انہوں نے کہا، "سردار اختر مینگل نے مجھے اور اپنے دو سینیٹرز کو پارٹی کا موقف برقرار رکھنے کے لئے ہدایات دی ہوئی ہیں۔اس واقعے نے سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، اور یہ سوالات اٹھائے ہیں کہ کیا یہ کارروائی کسی سیاسی دباؤ کا نتیجہ ہے۔ بی این پی کے رہنما سردار اختر مینگل اور ان کی پارٹی کے دیگر عہدیداران نے اس واقعے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پولیس کی جانب سے مزید معلومات فراہم نہیں کی گئی، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ کارروائی کس طرح کی سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتی ہے۔

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی، ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں وزیراعظم کا ظہرانہ کل ہوگا

    وفاقی کابینہ کا اجلاس ملتوی، ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں وزیراعظم کا ظہرانہ کل ہوگا

    اسلام آباد: وفاقی کابینہ کا کل ہونے والا اہم اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے۔ یہ اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونا تھا، جس میں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے ایک نکاتی ایجنڈے پر غور کیا جانا تھا۔وفاقی کابینہ کا اجلاس کل دوپہر ڈیڑھ بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونا تھا، جہاں وزراء اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کرنی تھی۔ اجلاس میں آئینی ترمیم سے متعلق اہم فیصلے متوقع تھے، تاہم کابینہ اجلاس کی اچانک ملتوی ہونے کی وجہ سامنے نہیں آئی ہے۔ذرائع کے مطابق، کل وزیراعظم شہباز شریف ارکان پارلیمنٹ کے اعزاز میں ظہرانہ دیں گے، جس کا انعقاد دوپہر 2 بجے پارلیمنٹ ہاؤس میں کیا جائے گا۔ ظہرانے میں ارکان پارلیمنٹ کی شرکت متوقع ہے، جہاں وزیراعظم کے خطاب اور آئندہ کی حکمت عملی پر بات چیت ہونے کا امکان ہے۔یہ ظہرانہ ایک ایسے وقت میں منعقد کیا جا رہا ہے جب حکومت اور پارلیمان کے درمیان آئینی ترامیم پر مشاورت جاری ہے۔ ظہرانے کے دوران حکومتی حکمت عملی اور مستقبل کے سیاسی اقدامات پر بھی گفتگو ہو سکتی ہے۔

  • ایم کیو ایم کی  آئینی ترامیم پر حکومتی حمایت کے فیصلے میں تاخیر

    ایم کیو ایم کی آئینی ترامیم پر حکومتی حمایت کے فیصلے میں تاخیر

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے مجوزہ آئینی ترامیم کی حمایت یا مخالفت کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ سندھ ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہونے والے ایک عشائیے میں، جس کا اہتمام گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کیا تھا، ایم کیو ایم کے اراکین نے اپنی تحفظات کا اظہار کیا۔ عشائیے میں ایم کیو ایم کے اراکین اسمبلی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیمی پیکج سے شہری سندھ، خاص طور پر کراچی اور حیدرآباد کے عوام کو کیا فوائد حاصل ہوں گے؟ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ عوام کے مسائل کی حل میں بڑی سیاسی جماعتوں کی سنجیدگی کیوں نظر نہیں آتی۔ اجلاس میں یہ بات واضح ہوئی کہ اراکین اسمبلی اپنے سیاسی فیصلوں میں سندھ کے عوام کی بہتری کو سب سے مقدم رکھیں گے۔ اس کے علاوہ، ایم کیو ایم کی قیادت نے مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مزید ملاقاتوں کے بعد آئینی ترمیمی پیکج کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا ارادہ کیا ہے۔
    ایم کیو ایم کے اراکین نے کہا کہ سندھ کے عوام کے مسائل جوں کے توں ہیں اور انہیں سنجیدگی سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں بڑی سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کو زیادہ ترجیح دے رہی ہیں، جس کے نتیجے میں عوامی مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں۔ایم کیو ایم کی قیادت اب مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے ساتھ مزید بات چیت کے بعد آئینی ترمیمی پیکج کے حوالے سے حتمی موقف اختیار کرے گی۔ اراکین اسمبلی کا خیال ہے کہ موجودہ حالات میں صرف سیاسی مفادات کی بنیاد پر فیصلے کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ایم کیو ایم کے اراکین نے واضح کیا کہ وہ عوامی مفادات کو اپنی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بناتے ہوئے ہی آئینی ترمیمی پیکج پر فیصلہ کریں گے۔ اس صورتحال میں، ایم کیو ایم کی جانب سے آئندہ کی حکمت عملی کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

  • وفاقی حکومت کا قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری: آئینی ترمیمی بل شامل نہیں

    وفاقی حکومت کا قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری: آئینی ترمیمی بل شامل نہیں

    وفاقی حکومت نے 17 اکتوبر کو ہونے والے قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس کا ایجنڈا جاری کیا ہے، جس میں آئینی ترمیمی بل شامل نہیں کیا گیا۔ سینیٹ کے اجلاس میں کمیٹی رپورٹس اور متعدد بل منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔ سینیٹ اجلاس کے ایجنڈے کے مطابق، آئینی ترمیمی بل اس میں شامل نہیں ہے۔ اجلاس کے دوران مختلف کمیٹی رپورٹس اور دوسرے بلز پیش کیے جائیں گے، جن کی منظوری کے لیے بحث کی جائے گی۔ اسی طرح، قومی اسمبلی کے اجلاس کے ایجنڈے میں بھی آئینی ترمیمی بل کو شامل نہیں کیا گیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، پارلیمانی ذرائع نے بتایا ہے کہ مجوزہ آئینی ترمیم پر اتفاق رائے ہونے کے بعد سپلیمنٹری ایجنڈا جاری کیا جائے گا۔ حکومت نے عدالتی اصلاحات سے متعلق آئینی ترمیم لانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے درمیان ترمیمی مسودے پر بھی اتفاق ہوگیا ہے۔
    دوسری جانب، مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف سینیئر سیاسی قیادت سے مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں، جس میں یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ ن بھی آئینی ترمیم کے معاملے میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔ادھر پاکستان تحریک انصاف نے آئینی ترمیم کے خلاف بھرپور مزاحمت کا اعلان کرتے ہوئے 18 اکتوبر کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ ترمیم عوامی مفادات کے خلاف ہے اور اس کے خلاف ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔

  • پاکستان: ساڑھے 5 کروڑ شہریوں کا موبائل ڈیٹا "اسکائی نیٹ” کی نگرانی میں

    پاکستان: ساڑھے 5 کروڑ شہریوں کا موبائل ڈیٹا "اسکائی نیٹ” کی نگرانی میں

    ایک نئی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے ساڑھے 5 کروڑ شہریوں کا موبائل ڈیٹا محفوظ نہیں ہے، اور یہ نظام کی نگرانی کا شکار ہے۔ اس کا انکشاف اسرائیل کے معروف عسکری تاریخ دان اور مصنف یووال نووا ہاراری کی نئی کتاب "Nexus” میں کیا گیا ہے۔ ہاراری کے مطابق، "اسکائی نیٹ” نامی مصنوعی ذہانت کا سسٹم پاکستان کے موبائل فون نیٹ ورک کی بڑے پیمانے پر نگرانی کرتا ہے اور اس ڈیٹا کی بنیاد پر یہ طے کیا جاتا ہے کہ کون شخص ممکنہ طور پر دہشت گرد ہو سکتا ہے۔یہ کتاب بتاتی ہے کہ 2014 اور 2015 میں امریکی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی (NSA) نے اسکائی نیٹ نامی ایک جدید نظام کو متعارف کرایا، جو لوگوں کی آن لائن تحریروں، سفری ریکارڈز، اور سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر "مشتبہ دہشت گردوں” کی فہرست تیار کرتا ہے۔ یہ نظام اس قدر طاقتور ہے کہ یہ بڑی تعداد میں ڈیٹا جمع کرکے ممکنہ خطرات کی شناخت کرتا ہے۔
    امریکہ کی سی آئی اے اور NSA کے ایک سابق ڈائریکٹر کے مطابق، یہ نظام نہ صرف مشتبہ افراد کی شناخت میں استعمال ہوتا ہے بلکہ امریکہ اس معلومات کی بنیاد پر لوگوں کی زندگی کا خاتمہ کرنے میں بھی ملوث ہے۔ اسکائی نیٹ کی نگرانی اور انحصار کی وجہ سے اسے عالمی سطح پر سخت تنقید کا سامنا ہے، کیونکہ یہ نظام ناقابل اعتبار سمجھا جاتا ہے۔سابق امریکی انٹیلیجنس اہلکار ایڈورڈ اسنوڈن نے 2013 میں جو معلومات لیک کیں، ان کے مطابق، امریکہ اور برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں نے دنیا کی سب سے بڑی سم کارڈ بنانے والی کمپنی کو ہیک کرکے اس کی تمام سمز کا ڈیٹا، خفیہ کوڈز، اور اینکرپشن کیز چوری کیں۔ اس کے نتیجے میں، ان خفیہ ایجنسیوں کو موبائل فونز تک مکمل رسائی حاصل ہو گئی، جو شہریوں کی پرائیویسی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔یہ صورتحال پاکستان سمیت دنیا بھر میں شہریوں کی پرائیویسی اور سیکیورٹی کے خدشات کو بڑھاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجیز کے استعمال میں احتیاط برتنا ضروری ہے تاکہ عام لوگوں کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ عوامی سطح پر اس مسئلے پر مزید آگاہی پیدا کی جائے تاکہ شہری اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے آواز اٹھا سکیں۔