مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان حکومت سازی کے معاملے پر مثبت پیشرفت سامنے آئی ہے، ن لیگی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ عام انتخابات کے بعد وفاق میں حکومت سازی کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان جاری ڈیڈ لاک ختم ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے حکومت میں شامل ہونے کے لیے رضا مندی ظاہر کردی لیکن پنجاب میں بھی 2 وزارتیں مانگ لیں۔ ن لیگی ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے ساتھ آئینی عہدوں پر مسائل حل ہوگئے ہیں، پیپلز پارٹی نے پنجاب میں شیئر مانگا ہے جس پر ن لیگ نے رضا مندی ظاہر کی ہے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی حکومت سازی میں تاخیر مسائل کو بڑھا رہی ہے، اگر مزید تاخیر ہوئی تو حکومت بنانے میں مشکلات مزید بڑھ جائیں گی۔انہوں نے مزید بتایا کہ نواز شریف نے وفاقی حکومت لینے کی مخالفت نہیں کی منصفانہ فارمولے کی بات کی ہے۔دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی کوآرڈینیشن کمیٹی کا ایک تفصیلی اجلاس ہوا جس میں دونوں اطراف کی جانب سے دی گئی تجاویز پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور معاملات پر پیش رفت ہوئی۔اجلاس کے بعد جاری کیے گئے اعلامیہ کے مطابق دونوں فریقین نے معاملات کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید سفارشات کے لیے بروز پیر دوبارہ بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
Author: صدف ابرار
-

پی ایم ایل این اور پی پی پی کے درمیان معاملات طے پا گئے،
-

کراچی میں مسائل کی بات سب کرتے ہے،حل کوئی دینے کو تیار نہیں ،مئیر کراچی
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہےکہ لوگ معیاری طبی سہولتوں کے لیے کراچی آتے ہیں، لوگ چھٹیاں گزارنے کے لیے بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں، بہت سے لوگ تعلیم حاصل کر کے دوسرے ملک چلے جاتے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جو شہر ملک کو چلا سکتا ہے، اس میں خودمختاری کی اہلیت ہے، شہری مکالمے پر شہر میں کوئی بات نہیں کرتا، امیر امیر سے بات کرتا ہے اور غریب غریب سے، دوریوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ میئر کراچی نے کہا کہ سب سے مشکل کام میرے ذمے ہیں، پریشانی کا ذکر سب کرتے ہیں، حل کی بات کوئی نہیں کرتا، میں نے یہ عہدہ بائی چوائس لیا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی نے یتیموں کو اپنایا ہے، کراچی سب کا ہے، خاص طور پر جس کا کوئی نہیں اس کا کراچی ہے، مگر بدقسمتی سے کراچی کا کوئی نہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اگلے ساڑھے 3 سال میں ماسٹر پلان، ٹرانسپورٹ میکینزم، سالڈ ویسٹ سمیت دیگر امور پر کام کرنا چاہوں گا، شہر کو بہتر کرنے کے لیے امیدیں ہیں، میں لوگوں کو ناامیدی سے بچانا چاہتا ہوں۔ میئر کراچی نے کہا کہ اگلے اربن ڈائیلاگ کے لیے سٹی کونسل کے ہال کی دعوت دیتا ہوں، دل سے کراچی کا باسی ہوں، کراچی کو اپنےاور آپ کے بچوں کے لیے بہتر بنانا چاہتا ہوں۔اُنہوں نے کہا کہ یہاں لوگ پلاسٹک کی تھیلیوں پر پابندی نہیں لگنے دیتے، 2021ء میں جب ایڈمنسٹریٹر کراچی بنا تو پلاسٹک تھیلیوں کو بند کرنے کی کوشش کی تھی۔اُنہوں نے کہا کہ جو ماضی میں ہوا اس کو بھول جاتے ہیں لیکن اب سے بہتری کی بات کرتے ہیں۔ -

امید ہے محسن نقوی پاکستانی کر کٹ کو نئی بلندیوں پر پہنچائیں گے،جاوید میاں داد
نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی سے سابق سٹار کرکٹر جاوید میانداد نے ملاقات کی۔سابق کرکٹر جاوید میانداد نے چیئرمین پی سی بی منتخب ہونے پر محسن نقوی کو مبارکباد دی، دونوں کے درمیان کرکٹ کے فروغ اور پاکستانی کرکٹ کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔جاوید میانداد نے پی ایس ایل 9 کے کامیاب آغاز پر محسن نقوی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ آپ پاکستانی کرکٹ کو نئی بلندیوں پر پہنچائیں گے، کرکٹ کی بہتری کیلئے میری خدمات حاضر ہیں۔محسن نقوی کا کہنا تھا کہ جاوید میانداد کرکٹ لیجنڈ ہیں، آپ کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستانی ٹیم کا اصل مقام بحال کرانا ہے، ٹیم ورک پر یقین رکھتا ہوں، پاکستانی ٹیم کو مضبوط بنانے کے لئے مشاورت کی جا رہی ہے، ڈومیسٹک کرکٹ کو فروغ دیا جائے گا تاکہ اچھے پلیئرز سامنے آئیں۔
-

پاکستان واحد ملک ہے جہاں پہلے سلیکشن اور پھر الیکشن ہوتے ہیں، سراج الحق
سراج الحق نے کہا کہ دنیا میں پہلے الیکشن اور بعد میں حکومت بنتی ہے، پاکستان واحد ملک ہے جہاں پہلے حکومت بنتی ہے، فیصلے ہوتے ہیں پھر الیکشن ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن جس ماحول میں ہوا ہے اس سے پولرائزیشن میں اضافہ ہوا، جب تک نتائج پر قوم کا اعتماد نہ ہو تو کوئی نظام اور حکومت مسلط کریں وہ چلنے والی حکومت نہیں ہوتی۔سراج الحق نے کہا کہ دنیا میں جہاں الیکشن ہو جائے وہاں استحکام اور پرامن ماحول نصیب ہوتا ہے، پاکستان واحد ملک ہے جہاں الیکشن کے بعد انتشار میں اضافہ ہوتا ہے۔سراج الحق نے کہا کہ 1970ء میں الیکشن ہوا، نتائج تسلیم نہیں کیے گئے، 1977ء میں الیکشن ہوا، دھاندلی کی گئی اور پھر قوم کو 11 سال مارشل لاء برداشت کرنا پڑا، اسی طرح یہ کھیل آج بھی جاری ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ دھاندلی کے خلاف 23 فروری کو پشاور میں احتجاج کریں گے، 25 فروری کو اسلام آباد میں کانفرنس بلا رہے ہیں، عبوری حکومت نے رات کے اندھیرے میں قیمتوں میں اضافےکا اعلان کیا۔ راتوں رات بجلی، پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا، پوری قوم کا المیہ ہے جو اس حکومت نے عوام کے ساتھ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس الیکشن کے نیتجے میں ہمارے 5 سال مزید ضائع ہوگئے، ہماری جمہوریت 8 فروری کے الیکشن کے نیتجے میں زمین میں دب گئی، جماعت اسلامی نے کل اپنی شوریٰ کا اجلاس بلایا اور حالات کا جائزہ لیا، ہم ان حالات میں اپنا فرض ادا کرنا چاہتے ہیں۔سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کا نظام عجیب ہے، یہاں الیکشن ہوتا ہے بجلی نہیں ہوتی، اس دن نیٹ کام نہیں کرتا، الیکشن کا دن لوگوں کے لیے خوف کا دن ہوتا ہے، لوگ ایک دوسرے سے بات نہیں کرسکتے، 2024ء کا الیکشن پاکستانی تاریخ کا آلودہ ترین الیکشن تھا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ لوگ عدالتوں میں گئے لیکن جلدی جلدی فائلیں بند کی گئیں، الیکشن میں تاخیر کی گئی، آر اوز عدلیہ سے لینے کے بجائے انتطامیہ سے لیے گئے، راولپنڈی کا کمشنر دیگ کا ایک چاول ہے، ساری دیگ ایسی ہی ہے۔سراج الحق نے کہا کہ جو مردم شماری ہوئی ہے وہ بھی غلط تھی، جہاں آبادی زیادہ تھی کم دکھائی گئی، جہاں کم تھی بغیر کسی وجہ کے زیادہ دکھائی گئی، حلقہ بندیوں پر بھی لوگوں کے تحفظات تھے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کا دن غیر شفاف الیکشن کے لیے پُرامن دن تھا، کوئی خون خرابہ نہیں ہوا، کوئی حادثہ نہیں ہوا، یہ تاریخ کا غیر شفاف الیکشن کا دن لکھا جائے گا، جعلی نتائج کے نتیجے میں بننے والی حکومت چلتی نہیں، وہ عوام کی حکومت نہیں ہوتی، فراڈ حکومت ہوتی ہے۔
سراج الحق نے کہا کہ نا باہر کی دنیا اس کو سنجیدہ لیتی ہے، الیکشن کے بعد بین الاقوامی بڑے اداروں نے تحفظات کا اظہار کیا، یورپی یونین نے تحفظات کا اظہار کیا ہے، ٹھیک ہے ہماری حکومت کہتی ہے کہ یہ ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے، یہ آزاد ادارے ہیں یہ ہر ملک کے الیکشن پر تبصرے کرتے ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ انہوں نے جو رپورٹ دی ہے وہ یہی ہے کہ یہ جعلی الیکشن تھا، آئین اور قانون کی حکمرانی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے، نہ مارشل لاء اور نہ ایمرجنسی ہمارے مسائل کا حل ہے، وقت آ گیا ہے ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے مل کر جدوجہد کریں، جس کو وقتی طور پر دودھ کی بوتل ملتی ہے وہ خاموش ہوتا ہے۔سراج الحق نے کہا کہ وقتی خوشی کو قبول کیا تو قوم کو کبھی بھی اچھی جمہوریت نصیب نہیں ہوگی، جماعت اسلامی نے دھاندلی کے خلاف تحریک کا اعلان کیا ہے، چاہتے ہیں شفاف الیکشن کی خواہاں جماعتیں ایک پیج پر آجائیں، ہر جگہ دھاندلی ہوئی ہے لیکن وہ خاموش ہیں جو بینیفشری ہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ عوام اس حکومت کے فیصلے قبول نہیں کرتی، فلسطین میں شہادتیں ہوئیں لیکن اس قتل عام پر ساری دنیا خاموش ہے، 58 اسلامی ممالک ہیں، پونے دو ارب مسلمان ہیں، عالم اسلام اس وقت بالکل قبرستان کی طرح ہے، انہوں نے رسمی اجلاس بھی نہیں کیا کہ یہ ظلم بند کیا جائے۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وقت آیا ہے کہ فلسطینیوں کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں، کشمیر میں ظلم ہو رہا ہے اور وہاں ظلم و جبر کی نئی لہر ہے، وہاں جماعت اسلامی کے دفاتر، اسکول، اسپتال بند کیے گئے، جماعت اسلامی کی ساری قیادت اور چار ہزار لوگ جیلوں میں ہیں، ان کا جرم یہی ہے کہ وہ آزادی مانگ رہے ہیں، افسوس ہے کہ حکومت خاموش تماشائی کی طرح کچھ نہیں کر رہی، حکومت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
-

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل و نامزد وزیرِ اعظم عمر ایوب نے پنجاب اور مرکز میں حکومت بنانے کا دعویٰ کر دیا
پاکستان تحریکِ انصاف کے سیکریٹری جنرل و نامزد وزیرِ اعظم عمر ایوب کا کہنا ہے کہ مرکز اور پنجاب میں بھی پی ٹی آئی حکومت بنائے گی۔اسلام آباد میں بیرسٹر گوہر خان کے ہمراہ پریس کانفرس کرتے ہوئے تحریکِ انصاف کے رہنما عمر ایوب نے دھاندلی اور انتخابی نتائج میں تبدیلی کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل عمر ایوب نے کہا کہ 12ماہ پی ٹی آئی کارکنان کے ساتھ پولیس گردی کی گئی، پی ٹی آئی کارکنوں کو دیوار سے لگایا گیا، مقدمات بنائے گئے، اب بھی مختلف کیسز میں پولیس غیرقانونی دباؤ ڈال رہی ہے۔عمر ایوب نے کہا کہ جو کام کیا جارہا ہے یہ کسی نگراں حکمرانوں کا نہیں تھا، پی ٹی آئی مرکز اور صوبوں میں حکومت بنائے گی، مختلف لوگ کہتے تھے پی ٹی آئی کے پولنگ ایجنٹ اور امیدوار نہیں ہوں گے، ہمارے امیدوار بھی سب سے زیادہ تھے اور پولنگ ایجنٹ بھی موجود تھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے انتخابات میں 180 سیٹیں جیت کر ثابت کردیا، قومی اسمبلی میں وزارت عظمیٰ کا الیکشن لڑوں گا، ان شااللہ پی ٹی آئی مرکز اور صوبوں میں حکومت بنائے گی، یہ جیت پی ٹی آئی اوربانی پی ٹی آئی کی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ انتخابات میں تحریکِ انصاف کو 3 کروڑ سے زائد ووٹ ملے اور ایم کیو ایم نے کراچی میں ہماری 18 سیٹیں چرائی ہیں۔عمر ایوب کا کہنا ہے کہ آج بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں کو لاپتہ کیا جا رہا ہے، جعلی فارم 45 کو مسترد کیا جائے، کمشنر راولپنڈی نے کہا کہ 50 سے 60 ہزار جعلی ٹھپے لگائے، جیتے ہوئے امیدوار کو ہرایا۔پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ تحریک انصاف کے خلاف کی گئی دھاندلی کو مدر آف آل رگنگ ڈیکلیئر کرتے ہیں، جو کچھ عوام کے ووٹ کے ساتھ ہو رہا ہے وہ مدر آف رگنگ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جن جن کا نام کمشنر راولپنڈی نے لیا وہ انکوائری سے الگ ہو جائیں، پشاور کی صوبائی اسمبلی کی7 سے 8 نشستیں کمشنر نے ہروائیں۔قومی اسمبلی میں ہماری 180 نشستیں ہیں
بیرسٹر گوہر خان
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ انتخابات کے بعد حکومت سازی کے خدوخال پر بات کی جاتی ہے، بدقسمتی سے الیکشن کمیشن نے اب تک عوامی مینڈیٹ کےمطابق انتخابی نتائج کا اعلان نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو آؤٹ کرنے کی کوشش کی گئی، نہ بلا رہا نہ لیڈرشپ، پی ٹی آئی کو ریلیوں اور ورکرز کنونشنز کی اجازت نہیں دی گئی، پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف پرچے کاٹے گئے، عوام نے 8 فروری کو پی ٹی آئی کو ووٹ دیا۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ہماری 180 نشستیں ہیں، کے پی کے میں 42، پنجاب میں 115، سندھ میں 16 اور بلوچستان میں 4 نشستیں ہیں، سندھ میں ایک نشست بھی نہیں دی گئی۔بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ فارم 45 صرف پی ٹی آئی کو نہیں تمام جماعتوں کو ملا ہے، ریٹرننگ افسر کی ذمے داری ہے کہ فارم 45 کے مطابق فارم 47 بنائے، پنجاب میں ہماری اکثریت کو کم کیا گیا، ہمارا مطالبہ ہے کہ فارم 45 کے مطابق نتائج کا اعلان کیا جائے۔ پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ راولپنڈی کے کمشنر کی پریس کانفرنس ہمارے مؤقف کی تائید ہے، کمشنر نے اپنے ضمیر کے مطابق آواز دی، تحریک انصاف جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کرتی ہے، تمام لوگوں کو شامل تفتیش کیا جائے، تحقیقاتی رپورٹ عوام سے شیئر کی جائے۔ -

پی ایم پورٹل سیل کی طرح صوبائی کمپلینٹ سیل بنا رہے ہیں، علی امین گنڈا پور
پی ٹی آئی کے نامزد وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈا پور نے پشاور میں صحافیوں سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہم خیرات نہیں مانگ رہے لیکن حقوق ضرور لیں گے، خاموش رہنے کی وجہ سے صوبے کا یہ حال ہوا ہے، تمام پارٹیوں کو آن بورڈ کروں گا، 9 مئی ہم نے نہیں کیا اس پر انکوائری ہونی چاہیے۔ پی ٹی آئی رہنما کا کہنا ہے کہ ہم نے ان باتوں کو چھوڑ کر اب آگے بڑھنا ہے، اداروں کی اصلاح کرنی ہے، ایسا قوانین لائیں گے کہ کوئی غیر قانونی کام نہ کر سکے۔انہوں نے کہا کہ پی ایم پورٹل سیل کی طرح صوبائی کمپلینٹ سیل بنا رہے ہیں، صوبے کے حقوق کے لیے ضرور بات کریں، سب کو میرا ساتھ دینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ پی ٹی آئی کے سپورٹر گئے تو انہیں کیوں نہیں روکا گیا، رانا ثناء اللّٰہ کے گھر تو نہیں جانے دیا تھا، جس نے پریس کانفرنس نہیں کی اسے پکڑا جا رہا ہے، میرے خلاف لاہور، میانوالی سمیت 9 اضلاع میں ایف آئی آرز ہیں۔علی امین گنڈا پور نے مزید کہا کہ ہم کوئی انتقامی کارروائی نہیں کریں گے، بانیٔ پی ٹی آئی نے کہا ہے کہ فوج اور پولیس سمیت تمام ادارے ہمارے ہیں، عدالت میں درخواست دے رہے ہیں کہ ہم اپنی پارٹی میں ہی چلے جائیں۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ صوبے کی سطح پر ہماری لیگل ٹیم بنی ہوئی ہے، کابینہ بنانے پر کام شروع کر دیا ہے، حتمی فیصلہ بانی پی ٹی آئی کریں گے، مختلف پارٹیوں سے سیاسی الحاق کی بات چل رہی ہے۔
-

الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے عوام کی توہین کی ہے، بہتر ہے معافی مانگ لیں ،حلیم عادل شیخ
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ آج ایک پیغام دینے آیا ہوں، یہ لوگ دلدل میں پھنس چکے ہیں جتنا زور لگائیں گے پھنستے جائیں گے، چیف الیکشن کمیشن کے نام پیغام ہے، چیف الیکشن کمشنر قوم کا مجرم ہیں، وقت ہے معافی مانگ لیں ورنہ آرٹیکل 6 لگے گا۔پی ٹی آئی سندھ کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ پرسوں بھی اسلام آباد میں پریزینٹیشن دی گئی، اس میں بتایا گیا کس طرح فارم 45 سے 80 سیٹیں ہم جیتے ہیں، جس کو مینیج کر کے فارم 47 میں ہرا دیا گیا، کل کمشنر راولپنڈی نے ان کا کچا چٹھا کھول دیا۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سب سے پہلے وقت پر الیکشن نہیں کروایا، آئین میں لکھا ہے صاف شفاف الیکشن کرانا ہوتا ہے، الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے عوام کی توہین کی ہے، انہوں نے مینڈیٹ کی توہین کی ہے۔
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہمارے پاس کراچی کے تمام فارم 45 موجود ہیں، سارا ڈیٹا انٹرنیٹ پر رکھا جا چکا ہے، میرے حلقے 238 کن سارے 45 فارم موجود ہیں، میڈیا کو سارے فارم 45 ہر پولنگ سے ملے تھے ، سب سے پہلے ن لیگ نے میڈیا پر عدم اعتماد کیا۔ پی ٹی آئی سندھ کے صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ حیدرآباد کی 2 اور کراچی کی 20 سیٹوں پر فارم45 کے مطابق ہم جیتے، کراچی کی 40 صوبائی نشستوں پر ہم فارم 45 کے مطابق جیتے، کراچی میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کو ووٹ پڑا ہے، ہم نے بھاری مارجن سے کامیابی حاصل کی۔انہوں نے کہا کہ 171 جیل میں رہنے کے بعد پرسوں رہا ہوا ہوں، مجھے ڈیتھ سیل میں رکھا گیا، کلبوشن یادیو سے زیادہ مجھ پر سختیاں کی گئیں، 8 فروری کو کپتان جیت گیا قوم جیت گئی، پرسوں کہا گیا پریزینٹیشن میں اسکرین شاٹ دکھائے گئے۔ -

قومی وطن پارٹی کا پی ٹی آئی کے ساتھ مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج نہ کرنے کا فیصلہ
قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ نے کہا ہے کہ مبینہ دھاندلی کے خلاف پی ٹی آئی کے احتجاج کا فی الحال حصہ نہیں بن رہے۔آفتاب شیرپاؤ نے یہ بھی کہا ہے کہ پارٹی رہنماؤں سے مشاورت کے بعد پارٹی کی سطح پر احتجاج کریں گے۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی وفد نے آفتاب شیر پاؤ کو احتجاجی تحریک میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔دوسری جانب مبینہ انتخابی دھاندلی پر بلوچستان میں 4 جماعتی اتحاد کی پہیہ جام ہڑتال جاری ہے۔چار جماعتی اتحاد میں بلوچستان نیشنل پارٹی، پشتون خوا میپ، نیشنل پارٹی اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی شامل ہیں۔
-

عدالت کے پاس وزیراعظم، وزراء اور سیکرٹریز کو طلب کر کے وضاحت طلب کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا، اسلام آباد ہائی کورٹ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے لاپتہ بلوچ طلبہ کی بازیابی سے متعلق کیس میں نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کی 19 فروری کو طلبی کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا، جس میں عدالت کا کہنا ہے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ وفاقی حکومت قانون کی بالادستی میں دلچسپی نہیں رکھتی، عدالت کے پاس وزیراعظم، وزراء اور سیکرٹریز کو طلب کر کے وضاحت طلب کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے بلوچ طلبہ بازیابی کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا۔تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل کی گزشتہ سماعت پر یقین دہانی کے باوجود بلوچ طلبہ کو بازیاب نہیں کرایا گیا، ایسا لگ رہا ہے کہ وفاقی حکومت قانون کی بالادستی میں دلچسپی نہیں رکھتی، یقین دہانی کے باوجود 12 لاپتہ بلوچ بازیاب نہیں ہوئے، وفاقی حکومت کی نہ شہریوں کے حقوق کے تحفظ نہ قانون کی عمل داری میں دلچسپی ہے۔تحریری حکم نامے کے مطابق وزیر اعظم ، سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری دفاع ، وزیر داخلہ ، وزیر دفاع نے جواب جمع نہیں کرایا، اتھارٹیز کی جانب سے جواب جمع نا کرانے کا رویہ انتہائی قابل مذمت ہے، اس صورتحال میں عدالت کے پاس وزیراعظم سمیت دیگر وزراء کو طلب کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔
تحریری حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ نگراں وزیراعظم، وزیرِداخلہ و دفاع اور سیکرٹری 19 فروری صبح 10 بجے ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہو کر بتائیں کہ اعلیٰ ترین عہدوں پر بیٹھ کر بلوچ طلبہ کو بازیاب نہ کروانے پر اُن کے خلاف ایکشن کیوں نہ لیا جائے، یہ پہلو وزیراعظم، وزیر داخلہ و دفاع اور دونوں سیکرٹریز کو مس کنڈکٹ کا مرتکب بناتا ہے، یہ عہدیدار معاشرے کے خلاف جرم میں شریکِ کار ہیں جہاں شہریوں کو زندگی اور آزادی کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔عدالت نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ ریاستی اداروں کے پاس اپنے کنڈکٹ کی کوئی وضاحت نہیں بلکہ وہ اس معاملے پر مکمل خاموش ہیں، یہ عدالت بڑی واضح ہے کہ اس معاملے پر دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں، ریاستی ادارے یا تو اغواء اور جبری گمشدگیوں کے کرمنل ایکٹ کا ذمہ دار ہیں، دوسری صورت میں ریاستی ادارے مکمل طور پر ناکام ہیں کہ وہ مبینہ گمشدہ افراد کو بازیاب نہیں کروا سکتے۔
-

صدر مملکت عارف علوی کا الوداعی اجلاس طلب
صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سینیٹ کا الوداعی اجلاس کل طلب کر لیا۔ سینٹ کا اجلاس کل ہوگا، صدر مملک نے سینیٹ کا الوداعی اجلاس کل سہہ پہر 3 بجے طلب کرلیا۔صدرعارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 54 کی شق ون کے تحت سینیٹ کا اجلاس طلب کیا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کریں گے، اجلاس میں سینیٹ اراکین الوداعی تقریر کریں گے۔ آئین پاکستان کے مطابق سینیٹ کے نصف اراکین کا انتخاب مارچ میں ہو گا۔ صدرِ مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سینیٹ کا اجلاس 19 فروری کو 3 بجے طلب کیا ہے،