Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کا عشائیہ

    شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف کا عشائیہ

    وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شریک تمام ممبر ممالک کے سربراہان اور مندوبین کے اعزاز میں دیے گئے عشائیے کی تقریب کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ تقریب بین الاقوامی تعاون اور دوستی کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے، جہاں مختلف ممالک کے رہنما اپنے خیالات اور تجربات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے خود عشائیے کی میزبانی کی اور اس میں شریک تمام ممبر ممالک کے سربراہان اور مندوبین کا استقبال کیا۔ انہوں نے ہر ایک مندوب سے باری باری مل کر مصافحہ کیا، جو اس بات کا عکاس ہے کہ پاکستان بین الاقوامی تعلقات میں دوستی اور تعاون کی اہمیت کو کس قدر تسلیم کرتا ہے۔ وزیراعظم کی اس مہمان نوازی نے شرکاء کو خوش آمدید کہنے کے ساتھ ساتھ ایک دوستانہ ماحول فراہم کیا، جو کہ اس قسم کے اجلاسوں کی روح ہے۔
    تقریب میں سب سے پہلے چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے شرکت کی، جو شنگھائی تعاون تنظیم کے اہم رکن ہیں۔ ان کی موجودگی نے عشائیے کی اہمیت میں اضافہ کیا اور اس بات کا اظہار کیا کہ چین پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا خواہاں ہے۔ اس کے بعد دیگر ممبر ممالک کے رہنما بھی تقریب میں شریک ہوئے، جن میں روس، بھارت، قازقستان، ازبکستان، اور دیگر ممالک کے سربراہان شامل ہیں۔
    اجلاس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے بھی وزیراعظم شہباز شریف سے ہاتھ ملایا، جس کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار موڈ میں بات چیت ہوئی۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کی امیدوں کا اظہار کرتی ہے۔ایس سی او کا 23 واں سربراہی اجلاس پاکستان کی میزبانی میں اسلام آباد میں ہورہا ہے، جس میں پاکستان سمیت آٹھ ممالک کے وزرائے اعظم اور دیگر اعلیٰ شخصیات شرکت کر رہی ہیں۔ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر خصوصی طیارے سے 3 بج کر 26 منٹ پر پاکستان پہنچے۔عشائیے کے دوران، مختلف رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، اور علاقائی سلامتی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر، وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشترکہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ممبر ممالک کو ایک ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔
    اس تقریب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں مختلف ثقافتوں کے اظہار کے لیے کھانوں کا خاص اہتمام کیا گیا تھا، جس میں پاکستانی روایتی کھانے شامل تھے۔ اس کے علاوہ، شرکاء نے ایک دوسرے کے ساتھ غیر رسمی گفتگو کا موقع بھی حاصل کیا، جو بین الاقوامی تعلقات کی بہتری کے لیے اہم ہے۔اس عشائیے کی تقریب نے اس بات کا ثبوت فراہم کیا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک نہ صرف اقتصادی ترقی کے لیے متعہد ہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ روابط کو بھی فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے یہ عشائیہ بین الاقوامی تعلقات میں پاکستان کے کردار کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگا اور یہ امید کی جاتی ہے کہ اس اجلاس کے نتائج خطے میں امن و ترقی کے لیے مثبت ثابت ہوں گے۔

  • آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے بیلاروس کے وزیر اعظم رومن گولوچینکو کی اہم ملاقات

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے بیلاروس کے وزیر اعظم رومن گولوچینکو کی اہم ملاقات

    اسلام آباد: جمہوریہ بیلاروس کے وزیر اعظم رومن گولوچینکو نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے اہم ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور خطے کی سلامتی کی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ملاقات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی اور دفاعی تعاون کو مزید بڑھانا تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بیلاروس کے عالمی اور علاقائی کردار کو سراہتے ہوئے فوجی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ جنرل عاصم منیر نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک عالمی اور علاقائی سطح پر اپنے مفادات کا بہتر طریقے سے تحفظ کرسکیں۔
    بیلاروس کے وزیر اعظم رومن گولوچینکو نے ملاقات کے دوران پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی لازوال قربانیوں کا اعتراف کیا۔ انہوں نے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے میں پاکستان کی مسلح افواج کے کردار کو سراہا اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان سیکورٹی تعاون سے خطے میں مزید استحکام پیدا ہوگا۔اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور بیلاروس کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے، جس سے نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں مضبوطی آئے گی بلکہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات کی ایک اہم کڑی ثابت ہو سکتی ہے اور مستقبل میں مشترکہ دفاعی منصوبوں کے آغاز کا باعث بن سکتی ہے۔

  • صدر مملکت سے کرغزستان کے وزراء کی کابینہ کے چیئرمین کی ملاقات

    صدر مملکت سے کرغزستان کے وزراء کی کابینہ کے چیئرمین کی ملاقات

    اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری نے کرغزستان کے وزراء کی کابینہ کے چیئرمین اکیل بیک جاپاروف سے اہم ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت اور باہمی تعاون بڑھانے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ملاقات میں صدر مملکت نے کرغزستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صدر مملکت نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں ممالک کے پاس بے شمار مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارت میں قابلِ قدر مصنوعات اور تنوع سے اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ کرغزستان پاکستان کی کراچی اور گوادر بندرگاہوں سے بھی بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے، جو وسطی ایشیائی ممالک کے لیے ایک اہم تجارتی گزرگاہ بن سکتی ہیں۔
    صدر مملکت نے مزید کہا کہ پاکستان کرغزستان کے ساتھ تمام باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے، اور کرغزستان کی جانب سے سلامتی کونسل کی غیر مستقل نشست پر پاکستان کے کامیاب انتخاب میں حمایت پر شکریہ ادا کیا۔
    اکیل بیک جاپاروف نے بھی اس ملاقات میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرغزستان دوست ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت، کاروبار اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے لیے کرغزستان کے پاس کئی مواقع ہیں اور وہ ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔اکیل بیک جاپاروف نے کہا کہ کرغزستان کی معیشت میں حالیہ ترقی کے باعث تعمیراتی اور ٹیکسٹائل کے شعبے میں افرادی قوت کے لیے بڑے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے پاکستانی حکومت کا کرغز شہریوں کے لیے ویزے کے اجراء کے عمل کو آسان بنانے پر شکریہ بھی ادا کیا۔
    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ پاکستان اور کرغزستان کے تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دی جائے گی، جس میں خاص طور پر معیشت، تجارت، ٹیکنالوجی، اور تعمیرات کے شعبے شامل ہیں۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگی۔اس ملاقات سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان اور کرغزستان کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات میں مثبت پیشرفت دیکھنے میں آئے گی اور دونوں ممالک کے عوام کو اس کے فوائد حاصل ہوں گے۔

  • وزیر اعظم شہباز شریف سے  ترکمانستان کے وزیر خارجہ کی  ملاقات

    وزیر اعظم شہباز شریف سے ترکمانستان کے وزیر خارجہ کی ملاقات

    اسلام آباد – شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہان حکومت کے اجلاس کے موقع پر ترکمانستان کے کابینہ کے ڈپٹی چیئرمین اور وزیر برائے امور خارجہ راشد میریدوف کی وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین تاریخی تعلقات، دوطرفہ تعاون اور علاقائی رابطوں کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے ترکمانستان کی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان حکومت کے اجلاس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کو خوش آئند قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ترکمانستان اور پاکستان کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے ترکمان قیادت کی نیک خواہشات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے وفود کے تبادلوں کی مزید حوصلہ افزائی ضروری ہے تاکہ تعلقات میں مزید بہتری لائی جا سکے۔
    ملاقات کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے پاکستان اور ترکمانستان کے مابین دوطرفہ تعاون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے پاس تجارت، توانائی اور علاقائی روابط کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان شعبوں میں مل کر کام کرنے سے دونوں ممالک نہ صرف معاشی ترقی کی نئی راہیں ہموار کر سکتے ہیں بلکہ خطے میں امن و استحکام کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پاکستان ترکمانستان کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دینا چاہتا ہے، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں، جہاں ترکمانستان کی گیس اور توانائی کے وسائل پاکستان کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ترکمانستان کے ٹی اے پی آئی (TAPI) گیس پائپ لائن منصوبے کی اہمیت پر زور دیا اور اس کی جلد تکمیل کی خواہش کا اظہار کیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے روابط مضبوط ہو سکیں۔
    اس موقع پر ترکمانستان کے وزیر خارجہ راشد میریدوف نے پاکستان میں SCO اجلاس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی اور ترکمان قیادت کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف کے لیے نیک خواہشات کا پیغام دیا۔ انہوں نے ترکمانستان کی طرف سے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور کہا کہ ترکمانستان پاکستان کے ساتھ تجارتی، توانائی اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید فروغ دینا چاہتا ہے۔راشد میریدوف نے کہا کہ ترکمانستان پاکستان کو اہم شراکت دار سمجھتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے تمام دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا اور کہا کہ ترکمانستان خطے میں امن و ترقی کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
    علاقائی روابط کے فروغ پر گفتگو کرتے ہوئے، دونوں رہنماؤں نے ٹی اے پی آئی گیس پائپ لائن منصوبے کی اہمیت پر زور دیا، جو ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت کو آپس میں ملانے کے لیے ایک کلیدی منصوبہ ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس منصوبے کو جلد مکمل کرنے کی خواہش ظاہر کی تاکہ خطے میں توانائی کے وسائل کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔وزیر اعظم اور ترکمانستان کے وزیر خارجہ نے خطے میں استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے باہمی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے مشترکہ مفادات کے دیگر شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور مستحکم تعلقات کے فروغ کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

  • ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کر دی

    ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع کر دی

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں ایک بار پھر توسیع کا اعلان کیا ہے۔ ابتدائی طور پر 30 ستمبر کو گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں 15 دن کی توسیع کی گئی تھی، جو اب بڑھا کر 31 اکتوبر تک کر دی گئی ہے۔ایف بی آر کی پہلی توسیع 14 اکتوبر کو ختم ہوئی تھی، جس کے بعد یہ نئی تاریخ دی گئی ہے۔ ایف بی آر کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ تاجر تنظیموں اور ٹیکس بار ایسوسی ایشنز کی درخواست اور بینکوں کی چھٹیوں کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ایف بی آر نے مزید وضاحت کی ہے کہ گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں یہ توسیع انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 214 اے کے تحت کی گئی ہے۔ اس توسیع کے ذریعے ٹیکس دہندگان کو مزید وقت فراہم کیا گیا ہے تاکہ وہ اپنے گوشوارے وقت پر جمع کروا سکیں۔

  • ہر سیاسی بحران کے پیچھے عدالتی فیصلے ہیں،احسن اقبال

    ہر سیاسی بحران کے پیچھے عدالتی فیصلے ہیں،احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مولانا فضل الرحمان کی تجاویز پر مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ان تجاویز پر کھلے دل سے غور کر رہی ہے تاکہ سیاسی استحکام اور آئینی ترمیم کے حوالے سے اتفاق رائے حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایک گفتگو کے دوران کیا۔احسن اقبال نے کہا کہ آئینی ترمیم کے معاملے پر حکومت کو نمبرز پورے کرنے کی صلاحیت حاصل تھی، لیکن انہوں نے اتفاق رائے کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق، حکومت اس کوشش میں ہے کہ آئینی ترمیم کے لیے زیادہ سے زیادہ سپورٹ حاصل کی جائے۔ مولانا فضل الرحمان کی تجاویز کو اہمیت دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ان پر غور کیا جا رہا ہے اور یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ملک میں استحکام کے لیے بہتر حل نکالا جا سکے۔
    وفاقی وزیر نے ماضی میں ہونے والے سیاسی بحرانوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ہر سیاسی بحران کے پیچھے کوئی نہ کوئی عدالتی فیصلہ کارفرما ہوتا ہے۔ ان کے مطابق، سیاسی جماعتوں کے درمیان مختلف تجاویز زیر غور ہیں تاکہ ملک کو استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں کچھ لو اور کچھ دو کے اصولوں پر عمل کریں، اور ریاست کو کسی بھی بلیک میلنگ کے آگے سرنگوں نہیں ہونا چاہیے۔احسن اقبال نے مزید بتایا کہ چین کے وزیراعظم ایس سی او کانفرنس سے ایک دن پہلے پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، جو کہ پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کانفرنس پاکستان کی ریاست کے لیے بہت سودمند ثابت ہو سکتی ہے اور اس دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔
    وفاقی وزیر نے تحریک انصاف کی جانب سے احتجاجی سیاست اور بلیک میلنگ کے حربوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی احتجاج کے ذریعے مراعات حاصل کرنا چاہتی ہے، لیکن ایسے اقدامات کے خلاف حکومت سخت ردعمل دے گی اور انہیں وہی سلوک ملے گا جو فتنہ کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔احسن اقبال نے اپنے جیل کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جیل میں روزانہ ڈاکٹرز آتے ہیں اور قیدیوں کا معائنہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیل میں قیدیوں کے علاج کے لیے ہسپتال موجود ہوتے ہیں اور اگر جیل کے اندر علاج ممکن نہ ہو تو انہیں باہر بھیجا جاتا ہے۔

  • نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 54 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنالی

    نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 54 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنالی

    دبئی: ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ کے ایک اہم میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 54 رنز سے شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا، جبکہ پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں ایونٹ سے باہر ہو گئیں۔نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور مقررہ 20 اوورز میں 110 رنز بنائے۔ نیوزی لینڈ کی اننگز میں سوزی بیٹس نے 28 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ بروک ہیلی ڈے نے 22 رنز اور کپتان سوفی ڈیوس نے 19 رنز کا اضافہ کیا۔ پاکستان کی بولنگ میں نشرہ سندھو نے بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ سعدیہ اقبال اور عمیمہ سہیل نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
    پاکستان کو جیت کے لیے 111 رنز کا ہدف ملا، لیکن پاکستانی بلے بازوں کی کارکردگی مایوس کن رہی اور پوری ٹیم محض 11.4 اوورز میں 56 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ نیوزی لینڈ کی شاندار بولنگ کے سامنے پاکستانی بلے باز بے بس نظر آئے اور کوئی بھی کھلاڑی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہا۔ پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ اسکور کرنے والی کھلاڑی صرف 15 رنز بنا سکیں۔نیوزی لینڈ کی کامیابی میں ان کے بولرز کا اہم کردار رہا جنہوں نے پاکستان کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا۔ اس جیت کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ نے سیمی فائنل میں جگہ پکی کر لی، جبکہ پاکستان کی ٹیم کے ساتھ بھارت بھی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ سے باہر ہو گئی۔نیوزی لینڈ کی جانب سے اس میچ میں بہترین کھیل پیش کرنے پر ان کے کھلاڑیوں کو بھرپور سراہا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان کی ٹیم کو اپنی کارکردگی پر نظر ثانی کرنی ہوگی تاکہ مستقبل میں بہتر نتائج حاصل کر سکیں۔

  • پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال واپس، حکومت نے طبی معائنہ کی یقین دہانی کرائی، بیر سٹر گوہر

    پی ٹی آئی کی احتجاج کی کال واپس، حکومت نے طبی معائنہ کی یقین دہانی کرائی، بیر سٹر گوہر

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومت کی پیشکش قبول کرتے ہوئے آج کا ڈی چوک پر ہونے والا احتجاج موخر کر دیا۔ یہ فیصلہ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے اہم یقین دہانی کے بعد احتجاج ملتوی کرنے پر اتفاق کیا گیا۔پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ کروانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ انہوں نے کہا، "وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہمیں یقین دلایا ہے کہ ڈاکٹرز آج صبح جیل میں عمران خان کا معائنہ کریں گے، جس کے بعد ہم نے پرامن احتجاج کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔”
    پی ٹی آئی کے اجلاس میں اکثریت نے رائے دی کہ احتجاج ایس سی او اجلاس کے تناظر میں مؤخر کیا جائے تاکہ غیر ضروری تنازعات سے بچا جا سکے۔ اس موقع پر پمز اسپتال کے ڈاکٹرز کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کروانے کی حکومتی پیشکش پر تفصیلی مشاورت بھی کی گئی۔حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کی شرط کو تسلیم کرنے کے بعد یہ فیصلہ سامنے آیا، جس کے تحت ڈاکٹرز کل صبح اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کا معائنہ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے پی ٹی آئی کی قیادت کو حکومت کے اس فیصلے سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔حکومت کے اس اقدام سے پی ٹی آئی کا آج کا مجوزہ احتجاج ملتوی کر دیا گیا ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ ڈاکٹرز عمران خان کا جلد طبی معائنہ کریں گے۔

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومت کی پیشکش قبول کرتے ہوئے 15 اکتوبر کو اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی قیادت کے درمیان مشاورتی اجلاس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا، جس میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کی سینیئر قیادت کے درمیان اختلافات کی وجہ سے فیصلے میں تاخیر ہوئی۔پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ یہ فیصلہ ملکی مفاد کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ احتجاج کی کال اس وقت واپس لی گئی ہے، جب حکومت کی طرف سے پیش کردہ مشروط پیشکش کو قبول کیا گیا۔ یہ پیشکش عمران خان کے طبی معالج کو اسلام آباد پہنچنے کی اجازت دینے کے حوالے سے تھی، تاکہ ان کا چیک اپ کیا جا سکے۔
    اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ اگر عمران خان کو کسی بھی قسم کا طبی علاج فراہم کیا جاتا ہے تو پارٹی احتجاج منسوخ کر دے گی۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے اپنے کارکنوں کو بھی یہ پیغام دیا کہ موجودہ صورتحال میں فوری احتجاج کی ضرورت نہیں ہے، خاص طور پر جب کئی کارکنان پہلے ہی گرفتار ہیں۔خیبر پختونخوا سے آنے والا قافلہ، جو احتجاج کے لیے اسلام آباد آیا تھا، کے رہنماؤں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ حالیہ صورتحال میں احتجاج کرنا مناسب نہیں۔ پنجاب کی قیادت کی طرف سے احتجاج کی کال دینے پر خیبر پختونخوا کے رہنماؤں نے متنبہ کیا کہ موجودہ حالات میں ایسے اقدامات کی وجہ سے پارٹی کی اندرونی یکجہتی متاثر ہو سکتی ہے۔اجلاس میں مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ پارٹی کے مفاد میں موجودہ حالات کا تجزیہ کیا جائے، اور صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔ اس فیصلے کا باضابطہ اعلان جلد ہی کیا جائے گا، جس میں پارٹی کی قیادت عوام کو صورتحال سے آگاہ کرے گی۔
    یہ فیصلہ اس وقت آیا ہے جب تحریک انصاف کے کارکنوں اور قیادت کے درمیان اعتماد کی کمی نظر آ رہی ہے، اور پارٹی کے اندرونی اختلافات کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی تھی۔ پی ٹی آئی کی سینیئر قیادت کا دعویٰ ہے کہ ملکی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے، اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سے پارٹی کی اندرونی یکجہتی میں بہتری آئے گی۔

  • لاہور میں نجی کالج میں مبینہ زیادتی کا معاملہ: پولیس نے غلط خبر پھیلانے کا الزام لگایا

    لاہور میں نجی کالج میں مبینہ زیادتی کا معاملہ: پولیس نے غلط خبر پھیلانے کا الزام لگایا

    پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے گلبرگ میں واقع ایک نجی کالج میں طالبہ کے ساتھ مبینہ زیادتی کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ پنجاب پولیس نے بیان جاری کیا ہے کہ کالج کے حوالے سے غلط خبر پھیلائی گئی، جس کی وجہ سے شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ اس کے جواب میں وزارت تعلیم نے نجی کالج کو سیل کر دیا ہے اور اگر رجسٹریشن منسوخ کرنے کی ضرورت پیش آئی تو کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ایس ڈی پی او بانو نقوی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر غلط خبریں چلائی گئیں، جس کی وجہ سے لاہور میں ہنگامے ہوئے۔ انہوں نے کالج انتظامیہ سے درخواست کی ہے کہ اگر کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو پولیس کو اطلاع کریں اور امن و امان کی صورتحال کو اپنے ہاتھوں میں نہ لیں۔
    اس واقعے کے خلاف کالج کی طالبات نے کلاسز کا بائیکاٹ کیا اور کنال روڈ پر احتجاج کرتے ہوئے شاہراہ بند کر دی۔ پولیس نے بتایا کہ مبینہ زیادتی کی واقعے کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی اور متاثرہ بچی یا اس کے خاندان کا کوئی فرد سامنے نہیں آیا۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی خبر کے بعد اسپتالوں میں چیک کیا گیا، لیکن کسی اسپتال میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔انہوں نے مزید کہا کہ کالج انتظامیہ سے بات چیت کی گئی اور سکیورٹی گارڈز کا ریکارڈ لیا گیا۔ ایک گارڈ کو حراست میں لیا گیا، لیکن وہ واقعے سے انکاری ہے۔ فیصل کامران نے طلباء سے کہا کہ اگر کسی کے پاس متاثرہ لڑکی کی تفصیلات ہیں تو وہ شیئر کریں۔
    طلبہ نے گلبرگ کیمپس کے باہر شدید احتجاج کیا، جس کے دوران سیکیورٹی گارڈز نے کلاس رومز اور مرکزی گیٹ کو بند کرنے کی کوشش کی۔ طلبہ نے اس پر توڑ پھوڑ شروع کر دی، جس میں سی سی ٹی وی کیمروں کو توڑنا اور کرسیوں کو آگ لگانا شامل ہے۔ احتجاج کے دوران ایک طالب علم زخمی ہوا، اور چند طالبات کی حالت خراب ہو گئی۔ وزیر تعلیم پنجاب، رانا سکندر حیات، نے طلبہ سے ملاقات کی اور یقین دلایا کہ طالبہ کو انصاف دیا جائے گا اور ملزمان کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔
    پولیس کی بھاری نفری کالج کے باہر اور اندر موجود ہے، اور انہوں نے طلبہ کے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے۔ ترجمان لاہور پولیس نے بتایا کہ پولیس کالج انتظامیہ اور طلبا کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔فیصل کامران نے مزید وضاحت کی کہ 4 سے 5 نجی اسپتالوں میں طالبہ کے داخلے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا، اور کالج کے اندرونی حصوں کے کلوز سرکٹ کیمروں سے بھی کوئی شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے طلبہ سے افواہوں پر یقین نہ کرنے اور اگر کوئی متاثرہ طالبہ ہے تو پولیس کو آگاہ کرنے کی اپیل کی۔

  • چینی وزیراعظم لی چیانگ کی پاکستان کی عسکری قیادت سے اہم ملاقات: دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر گفتگو

    چینی وزیراعظم لی چیانگ کی پاکستان کی عسکری قیادت سے اہم ملاقات: دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ پر گفتگو

    اسلام آباد: شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچے چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے پاکستان کی عسکری قیادت سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں پاکستان اور چین کے دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، چینی وزیراعظم نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان سے ملاقات کی، جس دوران دفاعی تعاون، دہشتگردی کے خلاف مشترکہ کاوشیں اور خطے میں استحکام کے معاملات زیر بحث آئے۔
    ملاقات کے دوران دونوں ممالک کی قیادت نے پاکستان اور چین کے درمیان طویل عرصے سے قائم گہرے دوستانہ تعلقات کا از سرِ نو جائزہ لیا اور ان کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ چین اور پاکستان نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ مشکل وقت میں تعاون کیا ہے اور اس موقع پر بھی دونوں ممالک کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے معاشی، دفاعی اور اسٹریٹیجک تعلقات کو نئے دور میں لے کر جائیں گے۔چینی وزیراعظم لی چیانگ نے پاکستان کو چین کا اہم اسٹریٹیجک پارٹنر قرار دیا اور دونوں ممالک کے درمیان جاری اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ یہ منصوبہ پورے خطے کے استحکام کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گا۔
    دفاعی امور اور دہشتگردی کے خلاف جنگ پر گفتگو کرتے ہوئے، چینی وزیراعظم نے پاکستان کی مسلح افواج کے کردار کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے دہشتگردی کے خلاف جاری جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ چین اس جدوجہد میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اور مستقبل میں بھی دہشتگردی کے خلاف ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق، ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کی افواج دفاعی میدان میں اپنے تعاون کو مزید وسعت دیں گی۔ خاص طور پر مشترکہ فوجی مشقیں اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے معاملات پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔
    ملاقات کے دوران خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ چینی وزیراعظم اور پاکستان کی عسکری قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کی صورتحال اور دیگر علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کا مل کر کام کرنا ضروری ہے۔ دونوں ممالک نے علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر بھی اتفاق کیا۔چینی وزیراعظم نے پاکستان کی عسکری قیادت کو یقین دہانی کرائی کہ چین پاکستان کی سیکیورٹی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہمیشہ تعاون کرتا رہے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی مسلح افواج کی کامیابیاں پورے خطے کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔
    چینی وزیراعظم لی چیانگ کا یہ دورہ نہ صرف شنگھائی تعاون تنظیم کے تناظر میں اہم تھا بلکہ اس نے چین اور پاکستان کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم موقع فراہم کیا۔ اس دورے کے دوران مختلف اہم معاملات پر بات چیت کی گئی اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔چینی وزیراعظم کی اس ملاقات کو پاکستان اور چین کے اسٹریٹیجک تعلقات میں ایک نئے موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے نئے امکانات سامنے آئیں گے۔