Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • ایک اور دن گزر گیا، لگتا ہے کہ ان میں مجھ سے مباحثہ کرنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔بلاول کی ٹویٹ

    ایک اور دن گزر گیا، لگتا ہے کہ ان میں مجھ سے مباحثہ کرنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔بلاول کی ٹویٹ

    یک اور دن گزر گیا اور نواز شریف نے 8 فروری کو ہونے والے انتخابات سے پہلے وزیر اعظم کے امیدواروں کی براہ راست مناظرے کی ہماری دعوت کو قبول کرنے سے ابھی تک انکار ی ہے .پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو مناظرے کی دعوت یاد دلاتے ہوئے کہا ہے کہ ایک اور دن گزر گیا۔ملک میں الیکشن کی گہما گہمی عروج پر ہے اور سیاسی جماعتیں بھرپور انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہیں۔انتخابی مہم میں سیاسی قائدین اپنی سابقہ کارکردگی اور مستقبل کا منشور بتا کر عوام کو اپنے حق میں ووٹ دینے کے لئے قائل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ایسے میں چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے تیروں کا رُخ شیر کی جانب کررکھا ہے یعنی وہ انتخابی جلسوں میں پاکستان مسلم لیگ اور اس کی قیادت پر کھل کر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔


    گزشتہ دنوں بلاول نے قائد ن لیگ کو مناظرے کا چیلنج دیا تھا جس کے بعد شہباز شریف نے اس کا جواب دیا تھا، اور اس کے بعد چیئرمین پیپلزپارٹی نے پھر جواب دیتے ہوئے جگہ کا انتخاب بھی کیا۔آج بروز منگل بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر مناظرے سے متعلق ٹوئیٹ کیا۔ بلاول نے ایکس پر لکھا کہ ایک اور دن گزر گیا اور نواز شریف نے 8 فروری کے انتخابات سے قبل وزیر اعظم کے امیدواروں کے ساتھ براہ راست مباحثے کی دعوت ابھی تک قبول نہیں کی۔ لگتا ہے کہ ان میں مجھ سے مباحثہ کرنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔
    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کو 8 فروری سے قبل مناظرے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ نوازشریف جہاں چاہیں مناظرے کے لیے تیار ہوں، دنیا بھر کے امیدوار ٹی وی پر مناظرہ کرتے ہیں۔

  • میرے بولنے بعد تمام سیاسی جماعتوں کو مہنگائی کے حوالے سے شعور ملا،دانیال عزیز

    میرے بولنے بعد تمام سیاسی جماعتوں کو مہنگائی کے حوالے سے شعور ملا،دانیال عزیز

    میرے بولنے سے پہلے مہنگائی پر خاموشی تھی اب سب جماعتیں مہنگائی کو منشور میں جگہ دے رہی ہیں۔ قومی اسمبلی کے حلقے این اے 75 کے آزاد امیدوار دانیال عزیز نے کہا ہے کہ مشکل حالات میں ن لیگ کے ساتھ کھڑا رہا، نہ بکا نہ ہی کبھی جھکا۔نارووال میں میڈیا سے گفتگو میں دانیال عزیز نے کہا کہ 2019ء میں مشکل حالات میں ن لیگ کے ساتھ کھڑا رہا اور مقدمات بھی بھگتے۔ کہ مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے والے کا ساتھ دوں گا ۔
    انہوں نے کہا کہ احسن اقبال کے پاس کوئی دلیل نہیں، اس لیے وہ گھناؤنے الزامات لگاتے ہیں، تحریک انصاف یا پیپلز پارٹی میں نہیں جارہا، کبھی نہ بکا ہوں اور نہ ہی جھکا ہوں۔دانیال عزیز نے یہ بھی کہا کہ احسن اقبال نارووال میں یونیورسٹیاں اور کالج سٹی بنانے کا بہت پرچار کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شکر گڑھ کی شرح خواندگی 97 فیصد، ظفر وال کی 84 فیصد اور نارووال کی 77 فیصد ہے، یہ فرق ہے۔آزاد امیدوار نے کہا کہ احسن اقبال 15 سال سے قابض ہیں، پوچھتا ہوں اس کے باوجود نارووال کی شرح خواندگی 77 فیصد کیوں ہے؟

  • بشریٰ بی بی کا دفعہ 342 کے تحت بیان قلم بند ، جبکہ  جج محمد بشیر کی طبیعت خراب ہونے پر سماعت کل تک ملتوی

    بشریٰ بی بی کا دفعہ 342 کے تحت بیان قلم بند ، جبکہ جج محمد بشیر کی طبیعت خراب ہونے پر سماعت کل تک ملتوی

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا دفعہ 342 کے تحت بیان قلم بند کرلیا گیا جبکہ احتساب عدالت اسلام اباد کے جج محمد بشیر کی طبیعت خراب ہونے پر سماعت کل صبح تک ملتوی کردی گئی، بانی چیئرمین پی ٹی ائی کا بیان کل صبح قلم بند کیا جائے گا۔اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پاکستان راولپنڈی کی اڈیالا جیل میں توشہ خانہ رریفرنس کی سماعت ہوئی۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریفرنس پر سماعت کی۔عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں بشریٰ بی بی کا 342 کا بیان قلمبند کرلیا جبکہ بشریٰ بی بی کو 25 سوالوں پر مشتمل سوال نامہ دیا گیا تھا۔دوران سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی طبیعت خراب ہوگئی جس پر ان کا جیل اسپتال میں طبی معائنہ جاری ہے۔عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی اور کل بانی پی ٹی آئی کا 342 کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔خیال رہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے آج سائفر کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ سماعت کے دوران جج محمد بشیر کی طبیعت خراب ہونے پر جیل اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ جج کے اسپتال منتقل ہونے کے بعد ریفرنس کی سماعت کل صبح تک ملتوی کردی گئی۔
    کل ملزمان کی جانب سے گواہان صفائی کی لسٹ بھی عدالت پیش کی جائے گی۔توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہمارا حق دفاع ختم کیا، میں گواہوں پر خود جرح کرنا چاہتا تھا، میری گزارش ہے کہ ہمارا حق جرح بحال کیا جائے، کیا آج ہی سزا کا اعلان کرنا ہے، اس پر جج محمد بشیر نے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے پاس توشہ خانہ تحائف کی اصل قیمت آئی ہے، ہم نے اس لئے جرح کرنی تھی،میں نے جھوٹے گواہوں کو ایکسپوز کرنا تھا ،آپ نے جلدی جلدی میں سب کچھ کیا، میرے اوپر جو الزام ہے میرے خلاف جھوٹے گواہوں کو پیش کیا گیا، میں بار بار کہہ رہا ہوں میری بیوی کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ،وزیر اعظم ہاوس کے ملٹری سیکرٹری کے ذریعے جھوٹ بلوایا گیا.

  • ناظم آباد کے واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائے گی،کامران ٹیسوری

    ناظم آباد کے واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائے گی،کامران ٹیسوری

    کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ناظم آباد کے واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائے گی۔گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری سے متحدہ قومی موومنٹ کے وفد نے ملاقات کی ہے ،گورنر سندھ سے ملاقات کے موقع پر وفد میں کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سینئر رہنما سید مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار اور انیس قائم خانی شامل تھے، متحدہ قومی موومنٹ کے وفد نے گورنر سندھ کو ناظم آباد واقعہ کے بارے میں آگاہ کیا۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم عدم تشدد پر کار بند سیاسی جماعت ہے، مصفیٰ کمال نے کہا کہ ہمارے دفتر پر حملہ کیا گیا، کارکن کو شہید کیا گیا، ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ تفریق برتی جارہی ہے۔

  • عمران خان چوہدری پرویز الہی اور شاہ محمود قریشی کے معترف

    عمران خان چوہدری پرویز الہی اور شاہ محمود قریشی کے معترف

    اڈیالہ جیل راولپنڈی میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو مشکل میں کھڑا رہتا ہے وہی اصل وفادار ہوتا ہے،بانی پی ٹی آئی عمران کا کہنا ہے کہ جو مشکل میں کھڑا رہتا ہے وہی اصل وفادار ہوتا ہے، شاہ محمود کو خراج تحسین، پرویز الٰہی کو بھی مان گیا ہوں۔ شاہ محمود قریشی جس طرح کھڑا رہا میں اس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، چوہدری پرویز الٰہی کو مان گیا ہوں، صحافی نے سوال کیا کہ وزیراعظم ہاوس سے سائفر کس طرح چوری ہوا؟ بانی پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ مجھے ایک اے ڈی سی پر شک ہے جس نے سائفر چوری کیا۔ صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ اے ڈی سی کا نام بتانا پسند کریں گے؟ بانی پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ اے ڈی سی سمیت 3 لوگوں پر شک ہے نام اس لئے نہیں لوں گا کیونکہ صرف شک تھا۔بانی پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ سائفر کیس کی انکوائری پر جب جنرل طارق پیچھے ہٹ گیا تو سب کو پتا چل گیا کہ اس کے پیچھے کون ہے، ڈونلڈ لو کہہ رہا ہے وزیر اعظم کو ہٹاؤ اس میں ثبوت کی کیا ضرورت ہے، سائفر کی انکوائری ہوتی تو سب کچھ سامنے آجاتا۔ ایک اور صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آپ نے کہا آئی ایس آئی نے آپ کی حکومت کیخلاف پلان تیار کیا، جرنل فیض آئی ایس آئی کا چیف تھا اس کا نام کیوں نہیں لیتے؟ سابق وزیراعظم نے جواب دیا کہ جنرل فیض کو جب عہدے سے ہٹایا گیا تو ان سب نے مٹھائیاں بانٹی، مبارکبادیں دی۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ شیخ رشید کا سنا ہے وہ بستر سے باہر نہیں نکلتا۔

  • 2 لاکھ طالبعلموں کو فیل کر کے پاکستان کے مستقبل سے کھلواڑ کیا گیا۔ فاروق ستار

    2 لاکھ طالبعلموں کو فیل کر کے پاکستان کے مستقبل سے کھلواڑ کیا گیا۔ فاروق ستار

    فاروق ستار نے کہا کہ تین ماہ میں ایم کیو ایم کے 6 سے زائد کارکنوں کو شہید کیا گیا۔ ناظم آباد کے جوائنٹ انچارج فراز کو دو روز قبل شہید کر دیا گیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ انتخابی دفاتر میں گھس کر کارکنوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ناظم آباد کے جوائنٹ انچارج فراز کو 2 روز قبل شہید کردیا گیا۔فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان اپنے شہید ساتھیوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دے گی۔ ایم کیو ایم پاکستان کی انتخابی مہم نونہالوں کے مستقبل کیلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے 2 لاکھ طالبعلموں کو فیل کر کے پاکستان کے مستقبل سے کھلواڑ کیا گیا۔ 15برس کی بدترین کرپشن زدہ حکومت کا شاخسانہ ہے۔ رہنما ایم کیوایم پاکستان فاروق ستار نے کہا ہے کہ سازش کے ذریعے ایم کیوایم کی انتخابی مہم پر شرانگیزی کی گئی، ایم کیو ایم شہید ساتھیوں کے خون کو رائیگا نہیں جانے دے گی۔انھوں نے کہا کہ ایم کیوایم کے کارکنوں سے جینے کا حق چھینا جارہا ہے، 3 ماہ میں ایم کیوایم کے 6 کارکنوں کو شہید کیا گیا۔پیپلزپارٹی کا نام لیے بغیر رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ 15سالوں کی بدترین کرپشن سابقہ حکومت کا شاخسانہ ہے۔
    میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے انتخابی نتائج کی بات کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیوایم کی انتخابی مہم ہمارے نونہالوں کے مستقبل کیلئے ہے، کراچی کے 2 لاکھ بچوں کو امتحانات میں فیل کردیا گیا، بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔فاروق ستار نے کہا کہ سرجانی ٹاؤن میں 6 آزاد امیدواروں نے ایم کیوایم کی حمایت کا اعلان کیا ہے، آزاد امیدوار محمد علی مری، فیضان حسین، مزمل ممتاز، محمد بلال، شہزاد احمد اور محسن الحق قریشی دستبردارہوگئے ہیں۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ اندرون سندھ اور لاڑکانہ کے بچوں کو90 فیصد نمبر دے کر پاس کیا گیا، ایم کیو ایم کراچی کے بچوں کو انصاف دلائے گی۔

  • حلقہ این اے 127 میں جلسہ،مریم نواز اور شہباز شریف کی شرکت

    حلقہ این اے 127 میں جلسہ،مریم نواز اور شہباز شریف کی شرکت

    پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا کہ این اے 127 میں کوئی سمجھتا ہے ووٹ خرید لے گا تو یہ اس کی بھول ہے، یہ نوازشریف کے نوجوان ہیں۔ چیف آرگنائزر مسلم لیگ ن مریم نواز نے ٹاؤن شپ میں این اے 127 میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کا یہاں آنے کا بہت شکریہ ادا کرتی ہوں۔ مریم نواز نے کہا کہ یہاں کسی کو مناظرہ کرنے کا بہت شوق ہے، مناظرہ کرنا ہے تو کر لو، مناظرہ تو تب بنتا ہے جب آپ نے نواز شریف اور شہباز شریف کے جتنے ترقیاتی کام کیے ہوں، تم نے دانش سکول جیسے تعلیمی ادارے بنائے ہیں تو مقابلہ بنتا ہے، تم نے لاہور کی میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین جیسا کچھ بنایا ہے تو مناظرہ کرلو۔ چیف آرگنائزر مسلم لیگ ن نے مزید کہا کہ یہاں سے ترقی کراچی لیکر جائیں گے، عطاء اللہ تارڑ نواز شریف کا وہ کارکن ہے جب سب لوگ گھروں میں بیٹھے ہوتے تھے تو عطاء اللہ تارڑ اکیلا لڑتا تھا، یہ بہادر، محنتی اور وفادار بھی ہے، جب عطاء اللہ تارڑ یہاں سے جیتیں گے تو آپ کی بہت خدمت کریں گے۔مریم نواز نے کہا کہ پچھلے پانچ سال میں ایسا لگتا تھا کہ لاہور لاوارث ہو گیا، وہ لاہور جس کو شہباز شریف نے بہت محنت سے سجایا تھا، وہ سب کچھ تباہ کردیا گیا، شہباز شریف صبح پانچ بجے اُٹھ کر ترقیاتی پراجیکٹس پر پہنچ جاتے تھے۔


    نواز شریف اور شہباز شریف نے دن رات عوام کی خدمت کی ہے، جب خدمت کی ہو تو پیسے لے کر ووٹ نہیں خریدنے پڑتے، یہ لوگ لاہور میں آکر لاہور پر بہت تنقید کرتے ہیں مگر ان کا اور مسلم لیگ ن کے منصوبوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف کاکہنا تھا کہ تحریک انصاف کے دور میں کرپشن زیادہ ہوئی یہ ثابت ہوگیاہے۔حالیہ سروے ہے کہ پنجاب میں نوازشریف سب سے آگے ہیں۔بلوچستان میں بھی نوازشریف کو بڑی پذیرائی ملی ہے۔ہمیں موقع ملا تو پاکستان کی بہتری کیلئے جان لڑادیں گے۔جیل میں ہوتے ہوئے بھی لوگوں نے نوازشریف کو ووٹ دیئے۔بانی پی ٹی آئی نے تو اینٹ سے اینٹ بجادی ترقی کاسفر تباہ ہوگیا۔بیانیہ اور سازش میں زمین اور آسمان کا فرق ہے ۔سابق وزیراعظم کاکہنا تھا کہ نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اور تعلیمی وظائف ملتے تھے اگر اللّٰه تعالیٰ نے دوبارہ نوازشریف کو موقع دیا میرا آپ سے وعدہ ہے کہ نوجوانوں کیلئے وہی پروگرام دوبارہ شروع ہوگا۔شہبازشریف کا پیپلزپارٹی قیادت پرتنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مہربان دن رات مناظرے کی بات کرتا ہے جن کے سکولوں میں نہ ڈیسک نہ پنسل اور نہ ہی چھت ہے کیا میں ان سے مناظرہ کروں؟ پنجاب یا راجن پور کے ہسپتال کا کسی دوسرے صوبے کے ہسپتال سے مقابلہ کرلیں مقابلہ، مناظرہ اور موازنہ بھی ہوجائے گا۔لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی جو سڑکیں صاف کرتی تھیں پچھلے 4 سال میں برباد کردیا گیا۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اگر آپ نے 8 فروری کو نوازشریف کو کامیاب کروایا تو لاہور کی سڑکیں صاف ہوں گی۔

  • خود پر ظلم برداشت کیے، زخم سہنے کے باوجود پاکستان پر زخم نہیں لگنے دیا، نواز شریف

    خود پر ظلم برداشت کیے، زخم سہنے کے باوجود پاکستان پر زخم نہیں لگنے دیا، نواز شریف

    مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہارون آباد میں 1992ء میں آیا تھا، ہارون آباد والوں میں بہت جوش و جذبہ ہے، ہمارے ساتھی ہارون آباد سے الیکشن لڑ رہے ہیں، آپ نے سب کو کامیاب کرانا ہے۔نوازشریف نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ ہارون آباد پچھلے تمام جلسوں کا ریکارڈ توڑ جائے گا، یہ جلسہ مجھے پاکستان کی خوش نصیبی کا نقشہ دکھا رہا ہے، میرے دور میں روٹی، نان، گیس اور بجلی سستی تھی،نوازشریف نے کہا کہ مجھے نااہل کیا گیا لیکن آج سرخرو ہوکر عوام کے سامنے کھڑا ہوں، آپ کے نعرے سن کر میرا 5 کلو خون بڑھ گیا، کسانوں سے پوچھو نواز شریف کے دور میں ٹریکٹر کتنے کا تھا اور آج پوچھو کتنے کا ہے، میں نے لوڈ شیڈنگ ختم کی، سستی بجلی لے کر آیا، بتاؤ نوازشریف یاد آتا ہے کہ نہیں آتا۔
    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوازشریف کے دور میں چینی 35 روپے کلو تھی، آج 150روپے کلو ہے، کسان میرے عزیز بھائی ہیں، ٹریکٹر پہلے 8 لاکھ کا تھا، آج 40 لاکھ روپے کا ہے، نوازشریف کے دور میں یوریا 1300 روپے کا تھا، آج 5 ہزار روپے کا ہے۔مسلم لیگ ن کے قائد کا کہنا تھا کہ تبدیلی نے پاکستان کا یہ حشر کیا کہ روٹی 25 روپے کی ہوگئی، نوازشریف کے دور میں گیس اور بجلی سستی تھی، تبدیلی نے عوام کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے، نوازشریف نے لوڈشیڈنگ ختم کی، سستی بجلی لے کر آیا، ہمارے دور میں جس کا بل ایک ہزار آتا تھا اس کا بل اب 20 ہزار آتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج 280 کا ڈالر ہے، ہمارے دور میں ڈالر 140 روپے کا تھا، پیٹرول ہمارے دور میں 60 روپے لیٹر تھا، ہمارے دور میں ادویات مفتی ملتی تھیں، ہم نے آئی ایم ایف کو خدا حافظ کہا تھا اور ملک اپنے پاؤں پر کھڑا ہوگیا تھا۔مسلم لیگ ن کے قائد کا کہنا تھا کہ والدہ کے جنازے کو کندھا نہیں دے سکا، اہلیہ فوت ہوتی ہیں تو جیل میں اطلاع ملتی ہے، والدہ کو قبر میں نہیں اتار سکا، میں نے خود پر ظلم برداشت کیے، زخم سہنے کے باوجود پاکستان پر زخم نہیں لگنے دیا، قومی راز فاش نہیں کیے لیکن عمران خان نے اقتدار جاتا دیکھ کر پاکستان پر حملہ کر دیا، آج نتیجہ دیکھ لیا، اس کا کردار بہت افسوس ناک تھا، اس نے گھناؤنی سازش کرکے قومی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نوازشریف نے قومی سلامتی کو کبھی داؤ پر نہیں لگایا، ثاقب نثار نے بانی پی ٹی آئی کو صادق و امین قرار دیا تھا، ہم تو ملک میں موٹرویز بنارہے تھے، سی پیک آرہا تھا، ہمارے دور میں کرپشن کم ہوئی تھی، ان کے دور میں پاکستان کرپشن انڈیکس میں پھر اوپر چلا گیا تھا۔

  • عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہیے جو دہشت گردوں کے ساتھ ہوتا ہے۔مریم نواز

    عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہیے جو دہشت گردوں کے ساتھ ہوتا ہے۔مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہیے جو دہشت گردوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
    ہارون آباد میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ کیا کوئی سیاسی جماعت اپنے کارکنوں کو دہشت گردی کی تربیت دیتی ہے؟ کیا وہ قومی سلامتی اور سکیورٹی اداروں پر حملوں کی تربیت دیتی ہے؟عمران خان نے اپنی سیاست کا آغاز ہی چور چور کہہ کر کیا، اس کے پاس الزامات کے سوا کرنے کو کوئی دوسری بات ہی نہیں تھی مگر اللہ کا کرنا دیکھو کہ آج ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل جیسی تنظیم نے کہا ہے کہ سب سے کرپٹ دور عمران خان کا تھا۔مریم نواز نے کہا کہ مجھے کسی نے تصویر دکھائی کہ جب نواز شریف کو پاناما جیسے ڈراما کیس میں سزا ہوئی تو عوام خان لوگوں کو مٹھائی کھلا رہا تھا، آج عمران خان کو دس سال کی سزا ہوئی ہے لیکن نواز شریف نے نہ کوئی خوشی منائی نہ کسی کو مٹھائی کھلائی۔انہوں نے حاضرین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ عوام کو جب روٹی مہنگی ہے تو نواز شریف یاد آتا ہے، بے روزگاری ہو تو نواز شریف یاد آتا ہے۔ چار سال کی دُوری کے باوجود بھی عوام کی نواز شریف سے محبت میں کوئی کمی نہیں آئی، بلکہ یہ محبت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔
    مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کا جرم بیٹے سے تنخواہ نہ لینا نہیں تھا ، مگر اس کا جرم کوئی مذاق نہیں تھا، اس نے سنگین جرم کیا تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ اقتدار جا رہا تھا کہ تو وزیراعظم ہوتے ہوئے اس نے جھوٹا کاغذ لہراتے ہوئے کہا کہ میرے خلاف سازش ہوئی ہے، اس نے قومی سلامتی کے ساتھ کھیلا۔ آپ بتائیں عمران خان کو سزا ٹھیک ہوئی ہے یا غلط ہوئی ہے۔لیگی رہنما نے کہا کہ نواز شریف کو سزا اس بات پہ ہوئی تھی کہ اس نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی۔ اس مذاق کا تماشا پوری دنیا نے دیکھا اور رہتی دنیا تک لوگ پاناما جیسے بدنام زمانہ فیصلے کا مذاق اڑاتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف تین بار عوام کی طاقت سے وزیر اعظم بنے، مگر ایک انہوں نے کبھی قومی سلامتی کے ساتھ نہیں کھیلا۔ تین بار کے وزیراعظم کے دل میں سیکڑوں راز ہوتے ہیں لیکن آفرین ہے اس قوم کے بیٹے پر کہ اس کے خلاف سازشیں ہوئیں، جیلوں میں ڈالا گیا، جھوٹے مقدمے بنائے گئے مگر انہوں نے کبھی قومی سلامتی پر آنچ نہیں آنے دی۔ یہی فرق ہے نواز شریف میں اور ان کے دشمنوں میں۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران خان کا اپنا پرنسپل سیکرٹری جو تھا، اس نے قرآن پر حلف لے لے کر کہا کہ عمران خان نے سائفر کے معاملے پر جھوٹ بولا اور کہا کہ ہمیں سائفر سے کھیلنا ہے۔ اس گھناؤنے جرم پر اس کے اپنے آج اس کو چھوڑ کر چلے گئے مگر دوسری طرف دیکھیں کیا کسی نے نواز شریف کو چھوڑا؟

  • کراچی،کلفٹن میں ہنگامہ آرائی کے الزام میں پی ٹی آئی کارکنان گرفتار

    کراچی،کلفٹن میں ہنگامہ آرائی کے الزام میں پی ٹی آئی کارکنان گرفتار

    2 دن قبل ہنگامہ آرائی کراچی کے علاقے کلفٹن میں تین تلوار پر فائرنگ، پولیس پر تشدد اور سرکاری گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کے مقدمہ میں ملوث مزید 18 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ایس ایس پی ساؤتھ کے مطابق گرفتار ملزمان کا تعلق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے ہے جنہیں پی ٹی آئی کے احتجاج کی آڑ میں توڑ پھوڑ پُرتشدد کاروائیوں اور ہنگاموں کے موقع سے حاصل کیے گئے ڈیجیٹل شواہد میں شناخت کے بعد گرفتار کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ملزمان کو کراچی کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والے ملزمان میں یاسر ولد اسحاق، سجاد الرحمان ولد عبدالہادی، ایم طارق ولد محمد دین، خیر محمد ولد گل شیریں، آصف اعوان ولد محمد صادق، اکبر اعوان ولد محمد اعوان، وقار ولد الیاس، جواد ولد ناصر، حافظ محمد ادریس ولد محمد اقبال، راجہ اعظم ولد نذیر اعظم، علی رضا ولد شیر بہادر، عزیز الرحمٰن ولد محمد حق، فہیم خان ولد محمد شبیر، فضل ولد گل فراز، ساجد ولد عبدالحمید، سلمان ولد محمد فیاض، محمد بلال ولد تاج محمد اور احمد رشید ولد رحمت شامل ہیں۔یہ گرفتاریاں تھانہ فریئر میں درج مقدمہ 31/2024 کے تحت عمل میں لائی گئیں۔ اس ایف آئی آر کے تحت ڈیڑھ درجن سے زائد افراد کو موقع سے ہی رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق مزید گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا رہی ہیں۔