Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • غلام مرتضیٰ ستی کا اپنے رفقا کیساتھ پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان

    غلام مرتضیٰ ستی کا اپنے رفقا کیساتھ پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان

    سابق این پی اے غلام مرتضیٰ ستی نے آصف علی زرداری سے ملاقات کی جس میں غلام مرتضی نے اپنے رفقا کیساتھ پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا۔
    غلام مرتضیٰ ستی نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں کی حمایت کا اعلان کردیا۔ صدر آصف علی زردای کا کہنا ہے کہ غلام مرتضیٰ ستی اور دیگر رہنماؤں کو پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کرنے پر خوش آمدید کہتا ہوں ، روالپنڈی اور اسلام آباد میں پاکستان پیپلز پارٹی سرپرائیز دےگی ، راولپنڈی اور اسلام آباد کے جیالوں کی پی پی پی کے شانہ بشانہ جدوجہد کو لازوال تاریخ ہے، روالپنڈی اور اسلام آباد کے سیاسی کارکنان جمہوری روایتوں کے آمین رہے ہیں۔ پی پی پی میں شمولیت کرنے والوں میں غلام یونس ستی، عابد مجید، مصطفی لطیف ستی اور ثاقب ستی شامل ہیں۔


    صدر آصف علی زرداری کے ہمراہ پی پی پی پی کے مرکزی جنرل سیکریٹری نئئیر حسن بخاری اور آزاد کشمیر کے سابق صدر سردارمحمد یعقوب اس موقع پر موجود تھے۔

  • اگر   مفادات کی خاطر ضمیر کا سودا کر دیتا, تو آج میں بھی ڈارلنگ ہوتا،شاہ محمود قریشی

    اگر مفادات کی خاطر ضمیر کا سودا کر دیتا, تو آج میں بھی ڈارلنگ ہوتا،شاہ محمود قریشی

    سائفر کیس میں جس بھونڈے طریقے سے فیصلہ دیا گیا اس کا اندازہ نہیں تھا، ہمیں پہلے معلوم تھا کہ میچ فکس ہے جج نے میرا 342 کا بیان لینے سے پہلے ہی فیصلہ سنا دیا، میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں ایک تہلکہ خیز بیان دوں گا۔راولپنڈی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھ کہ سوال یہ ہے کہ قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں، ہمیں اپنے دفاع میں وکیل کھڑے نہیں کرنے دیے، میرا 342 کا بیان لینے سے پہلے ہی جج نے اپنا فیصلہ سنا دیا، سزا تو ہونی تھی یہ معلوم تھا۔ سائفر کیس کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فیصلہ سنانے کے بعد جج صاحب کمرہ عدالت سے بھاگ گئے، سزا کے باوجود میرا ضمیر مطمئن ہے، بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کو پارلیمنٹ سے باہر رکھنے کا منصوبہ بن چکا تھا۔سابق وزیرخارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں اس نوعیت کا سیاسی کیس نہیں چلا، ذوالفقار علی بھٹو کا جو فیصلہ تھا یہ تو اس سے بھی دو قدم آگے چلے گئے ہیں، ہم اس فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے۔ میں چاہتا تو آج مفادات کی خاطر ضمیر کا سودا کر دیتا، اگر میں اس پیش کش کو قبول کر لیتا تو آج میں ڈارلنگ آئی ہوتا، میں اس نظریے کے ساتھ کھڑا ہوں جس پر پی ٹی آئی کی بنیاد رکھی گئی، مجھے عمران خان سے کچھ نہیں لینا، میں مشکل وقت میں ڈٹا رہوں گا۔

  • مچ، کولپور کمپلیکس پر دہشتگردوں کا حملہ نا کام ، 3 خودکش حملہ آوروں سمیت 9 دہشتگرد ہلاک

    مچ، کولپور کمپلیکس پر دہشتگردوں کا حملہ نا کام ، 3 خودکش حملہ آوروں سمیت 9 دہشتگرد ہلاک

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق مچ، کولپور کمپلیکس پر خودکش بمباروں سمیت دہشت گردوں نے حملہ کیا، فائرنگ کے شدید تبادلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 4 بہادر جوان شہید ہوگئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوإں کے حملے میں 2 معصوم شہری بھی شہید ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق مچ، کولپور کمپلیکسز پر حملہ 29 اور 30 جنوری کی درمیانی رات کیا گیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے حملے پر علاقے میں سیکیورٹی فورسز کو فوری متحرک کیا گیا۔آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مؤثر جواب دہشتگردی کےخلاف جنگ میں ان کے بےلوث عزم کا ثبوت ہے، سیکیورٹی فورسز ملک میں امن و استحکام کےلیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہیں۔ اب تک 3 خودکش حملہ آوروں سمیت 9 دہشت گرد جہنم واصل اور 3 زخمی ہو چکے ہیں۔

  • ایک اور دن گزر گیا، لگتا ہے کہ ان میں مجھ سے مباحثہ کرنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔بلاول کی ٹویٹ

    ایک اور دن گزر گیا، لگتا ہے کہ ان میں مجھ سے مباحثہ کرنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔بلاول کی ٹویٹ

    یک اور دن گزر گیا اور نواز شریف نے 8 فروری کو ہونے والے انتخابات سے پہلے وزیر اعظم کے امیدواروں کی براہ راست مناظرے کی ہماری دعوت کو قبول کرنے سے ابھی تک انکار ی ہے .پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو مناظرے کی دعوت یاد دلاتے ہوئے کہا ہے کہ ایک اور دن گزر گیا۔ملک میں الیکشن کی گہما گہمی عروج پر ہے اور سیاسی جماعتیں بھرپور انتخابی مہم چلانے میں مصروف ہیں۔انتخابی مہم میں سیاسی قائدین اپنی سابقہ کارکردگی اور مستقبل کا منشور بتا کر عوام کو اپنے حق میں ووٹ دینے کے لئے قائل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ایسے میں چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنے تیروں کا رُخ شیر کی جانب کررکھا ہے یعنی وہ انتخابی جلسوں میں پاکستان مسلم لیگ اور اس کی قیادت پر کھل کر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔


    گزشتہ دنوں بلاول نے قائد ن لیگ کو مناظرے کا چیلنج دیا تھا جس کے بعد شہباز شریف نے اس کا جواب دیا تھا، اور اس کے بعد چیئرمین پیپلزپارٹی نے پھر جواب دیتے ہوئے جگہ کا انتخاب بھی کیا۔آج بروز منگل بلاول بھٹو زرداری نے ایک بار پھر مناظرے سے متعلق ٹوئیٹ کیا۔ بلاول نے ایکس پر لکھا کہ ایک اور دن گزر گیا اور نواز شریف نے 8 فروری کے انتخابات سے قبل وزیر اعظم کے امیدواروں کے ساتھ براہ راست مباحثے کی دعوت ابھی تک قبول نہیں کی۔ لگتا ہے کہ ان میں مجھ سے مباحثہ کرنے کی ہمت ہی نہیں ہے۔
    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کو 8 فروری سے قبل مناظرے کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ نوازشریف جہاں چاہیں مناظرے کے لیے تیار ہوں، دنیا بھر کے امیدوار ٹی وی پر مناظرہ کرتے ہیں۔

  • میرے بولنے بعد تمام سیاسی جماعتوں کو مہنگائی کے حوالے سے شعور ملا،دانیال عزیز

    میرے بولنے بعد تمام سیاسی جماعتوں کو مہنگائی کے حوالے سے شعور ملا،دانیال عزیز

    میرے بولنے سے پہلے مہنگائی پر خاموشی تھی اب سب جماعتیں مہنگائی کو منشور میں جگہ دے رہی ہیں۔ قومی اسمبلی کے حلقے این اے 75 کے آزاد امیدوار دانیال عزیز نے کہا ہے کہ مشکل حالات میں ن لیگ کے ساتھ کھڑا رہا، نہ بکا نہ ہی کبھی جھکا۔نارووال میں میڈیا سے گفتگو میں دانیال عزیز نے کہا کہ 2019ء میں مشکل حالات میں ن لیگ کے ساتھ کھڑا رہا اور مقدمات بھی بھگتے۔ کہ مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف ٹھوس اقدامات کرنے والے کا ساتھ دوں گا ۔
    انہوں نے کہا کہ احسن اقبال کے پاس کوئی دلیل نہیں، اس لیے وہ گھناؤنے الزامات لگاتے ہیں، تحریک انصاف یا پیپلز پارٹی میں نہیں جارہا، کبھی نہ بکا ہوں اور نہ ہی جھکا ہوں۔دانیال عزیز نے یہ بھی کہا کہ احسن اقبال نارووال میں یونیورسٹیاں اور کالج سٹی بنانے کا بہت پرچار کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شکر گڑھ کی شرح خواندگی 97 فیصد، ظفر وال کی 84 فیصد اور نارووال کی 77 فیصد ہے، یہ فرق ہے۔آزاد امیدوار نے کہا کہ احسن اقبال 15 سال سے قابض ہیں، پوچھتا ہوں اس کے باوجود نارووال کی شرح خواندگی 77 فیصد کیوں ہے؟

  • بشریٰ بی بی کا دفعہ 342 کے تحت بیان قلم بند ، جبکہ  جج محمد بشیر کی طبیعت خراب ہونے پر سماعت کل تک ملتوی

    بشریٰ بی بی کا دفعہ 342 کے تحت بیان قلم بند ، جبکہ جج محمد بشیر کی طبیعت خراب ہونے پر سماعت کل تک ملتوی

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا دفعہ 342 کے تحت بیان قلم بند کرلیا گیا جبکہ احتساب عدالت اسلام اباد کے جج محمد بشیر کی طبیعت خراب ہونے پر سماعت کل صبح تک ملتوی کردی گئی، بانی چیئرمین پی ٹی ائی کا بیان کل صبح قلم بند کیا جائے گا۔اسلام آباد کی احتساب عدالت نے پاکستان راولپنڈی کی اڈیالا جیل میں توشہ خانہ رریفرنس کی سماعت ہوئی۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ریفرنس پر سماعت کی۔عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں بشریٰ بی بی کا 342 کا بیان قلمبند کرلیا جبکہ بشریٰ بی بی کو 25 سوالوں پر مشتمل سوال نامہ دیا گیا تھا۔دوران سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی طبیعت خراب ہوگئی جس پر ان کا جیل اسپتال میں طبی معائنہ جاری ہے۔عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی اور کل بانی پی ٹی آئی کا 342 کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔خیال رہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خصوصی عدالت نے آج سائفر کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ سماعت کے دوران جج محمد بشیر کی طبیعت خراب ہونے پر جیل اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ جج کے اسپتال منتقل ہونے کے بعد ریفرنس کی سماعت کل صبح تک ملتوی کردی گئی۔
    کل ملزمان کی جانب سے گواہان صفائی کی لسٹ بھی عدالت پیش کی جائے گی۔توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق وزیراعظم عمران خان نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہمارا حق دفاع ختم کیا، میں گواہوں پر خود جرح کرنا چاہتا تھا، میری گزارش ہے کہ ہمارا حق جرح بحال کیا جائے، کیا آج ہی سزا کا اعلان کرنا ہے، اس پر جج محمد بشیر نے کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے پاس توشہ خانہ تحائف کی اصل قیمت آئی ہے، ہم نے اس لئے جرح کرنی تھی،میں نے جھوٹے گواہوں کو ایکسپوز کرنا تھا ،آپ نے جلدی جلدی میں سب کچھ کیا، میرے اوپر جو الزام ہے میرے خلاف جھوٹے گواہوں کو پیش کیا گیا، میں بار بار کہہ رہا ہوں میری بیوی کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں ،وزیر اعظم ہاوس کے ملٹری سیکرٹری کے ذریعے جھوٹ بلوایا گیا.

  • ناظم آباد کے واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائے گی،کامران ٹیسوری

    ناظم آباد کے واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائے گی،کامران ٹیسوری

    کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، ناظم آباد کے واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائے گی۔گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری سے متحدہ قومی موومنٹ کے وفد نے ملاقات کی ہے ،گورنر سندھ سے ملاقات کے موقع پر وفد میں کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سینئر رہنما سید مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار اور انیس قائم خانی شامل تھے، متحدہ قومی موومنٹ کے وفد نے گورنر سندھ کو ناظم آباد واقعہ کے بارے میں آگاہ کیا۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم عدم تشدد پر کار بند سیاسی جماعت ہے، مصفیٰ کمال نے کہا کہ ہمارے دفتر پر حملہ کیا گیا، کارکن کو شہید کیا گیا، ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ تفریق برتی جارہی ہے۔

  • عمران خان چوہدری پرویز الہی اور شاہ محمود قریشی کے معترف

    عمران خان چوہدری پرویز الہی اور شاہ محمود قریشی کے معترف

    اڈیالہ جیل راولپنڈی میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو مشکل میں کھڑا رہتا ہے وہی اصل وفادار ہوتا ہے،بانی پی ٹی آئی عمران کا کہنا ہے کہ جو مشکل میں کھڑا رہتا ہے وہی اصل وفادار ہوتا ہے، شاہ محمود کو خراج تحسین، پرویز الٰہی کو بھی مان گیا ہوں۔ شاہ محمود قریشی جس طرح کھڑا رہا میں اس کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، چوہدری پرویز الٰہی کو مان گیا ہوں، صحافی نے سوال کیا کہ وزیراعظم ہاوس سے سائفر کس طرح چوری ہوا؟ بانی پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ مجھے ایک اے ڈی سی پر شک ہے جس نے سائفر چوری کیا۔ صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ اے ڈی سی کا نام بتانا پسند کریں گے؟ بانی پی ٹی آئی نے جواب دیا کہ اے ڈی سی سمیت 3 لوگوں پر شک ہے نام اس لئے نہیں لوں گا کیونکہ صرف شک تھا۔بانی پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ سائفر کیس کی انکوائری پر جب جنرل طارق پیچھے ہٹ گیا تو سب کو پتا چل گیا کہ اس کے پیچھے کون ہے، ڈونلڈ لو کہہ رہا ہے وزیر اعظم کو ہٹاؤ اس میں ثبوت کی کیا ضرورت ہے، سائفر کی انکوائری ہوتی تو سب کچھ سامنے آجاتا۔ ایک اور صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ آپ نے کہا آئی ایس آئی نے آپ کی حکومت کیخلاف پلان تیار کیا، جرنل فیض آئی ایس آئی کا چیف تھا اس کا نام کیوں نہیں لیتے؟ سابق وزیراعظم نے جواب دیا کہ جنرل فیض کو جب عہدے سے ہٹایا گیا تو ان سب نے مٹھائیاں بانٹی، مبارکبادیں دی۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ شیخ رشید کا سنا ہے وہ بستر سے باہر نہیں نکلتا۔

  • 2 لاکھ طالبعلموں کو فیل کر کے پاکستان کے مستقبل سے کھلواڑ کیا گیا۔ فاروق ستار

    2 لاکھ طالبعلموں کو فیل کر کے پاکستان کے مستقبل سے کھلواڑ کیا گیا۔ فاروق ستار

    فاروق ستار نے کہا کہ تین ماہ میں ایم کیو ایم کے 6 سے زائد کارکنوں کو شہید کیا گیا۔ ناظم آباد کے جوائنٹ انچارج فراز کو دو روز قبل شہید کر دیا گیا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ انتخابی دفاتر میں گھس کر کارکنوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے، ناظم آباد کے جوائنٹ انچارج فراز کو 2 روز قبل شہید کردیا گیا۔فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان اپنے شہید ساتھیوں کا خون رائیگاں نہیں جانے دے گی۔ ایم کیو ایم پاکستان کی انتخابی مہم نونہالوں کے مستقبل کیلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے 2 لاکھ طالبعلموں کو فیل کر کے پاکستان کے مستقبل سے کھلواڑ کیا گیا۔ 15برس کی بدترین کرپشن زدہ حکومت کا شاخسانہ ہے۔ رہنما ایم کیوایم پاکستان فاروق ستار نے کہا ہے کہ سازش کے ذریعے ایم کیوایم کی انتخابی مہم پر شرانگیزی کی گئی، ایم کیو ایم شہید ساتھیوں کے خون کو رائیگا نہیں جانے دے گی۔انھوں نے کہا کہ ایم کیوایم کے کارکنوں سے جینے کا حق چھینا جارہا ہے، 3 ماہ میں ایم کیوایم کے 6 کارکنوں کو شہید کیا گیا۔پیپلزپارٹی کا نام لیے بغیر رہنما ایم کیو ایم نے کہا کہ 15سالوں کی بدترین کرپشن سابقہ حکومت کا شاخسانہ ہے۔
    میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے انتخابی نتائج کی بات کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیوایم کی انتخابی مہم ہمارے نونہالوں کے مستقبل کیلئے ہے، کراچی کے 2 لاکھ بچوں کو امتحانات میں فیل کردیا گیا، بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا گیا۔فاروق ستار نے کہا کہ سرجانی ٹاؤن میں 6 آزاد امیدواروں نے ایم کیوایم کی حمایت کا اعلان کیا ہے، آزاد امیدوار محمد علی مری، فیضان حسین، مزمل ممتاز، محمد بلال، شہزاد احمد اور محسن الحق قریشی دستبردارہوگئے ہیں۔انھوں نے دعویٰ کیا کہ اندرون سندھ اور لاڑکانہ کے بچوں کو90 فیصد نمبر دے کر پاس کیا گیا، ایم کیو ایم کراچی کے بچوں کو انصاف دلائے گی۔

  • حلقہ این اے 127 میں جلسہ،مریم نواز اور شہباز شریف کی شرکت

    حلقہ این اے 127 میں جلسہ،مریم نواز اور شہباز شریف کی شرکت

    پاکستان مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے کہا کہ این اے 127 میں کوئی سمجھتا ہے ووٹ خرید لے گا تو یہ اس کی بھول ہے، یہ نوازشریف کے نوجوان ہیں۔ چیف آرگنائزر مسلم لیگ ن مریم نواز نے ٹاؤن شپ میں این اے 127 میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کا یہاں آنے کا بہت شکریہ ادا کرتی ہوں۔ مریم نواز نے کہا کہ یہاں کسی کو مناظرہ کرنے کا بہت شوق ہے، مناظرہ کرنا ہے تو کر لو، مناظرہ تو تب بنتا ہے جب آپ نے نواز شریف اور شہباز شریف کے جتنے ترقیاتی کام کیے ہوں، تم نے دانش سکول جیسے تعلیمی ادارے بنائے ہیں تو مقابلہ بنتا ہے، تم نے لاہور کی میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین جیسا کچھ بنایا ہے تو مناظرہ کرلو۔ چیف آرگنائزر مسلم لیگ ن نے مزید کہا کہ یہاں سے ترقی کراچی لیکر جائیں گے، عطاء اللہ تارڑ نواز شریف کا وہ کارکن ہے جب سب لوگ گھروں میں بیٹھے ہوتے تھے تو عطاء اللہ تارڑ اکیلا لڑتا تھا، یہ بہادر، محنتی اور وفادار بھی ہے، جب عطاء اللہ تارڑ یہاں سے جیتیں گے تو آپ کی بہت خدمت کریں گے۔مریم نواز نے کہا کہ پچھلے پانچ سال میں ایسا لگتا تھا کہ لاہور لاوارث ہو گیا، وہ لاہور جس کو شہباز شریف نے بہت محنت سے سجایا تھا، وہ سب کچھ تباہ کردیا گیا، شہباز شریف صبح پانچ بجے اُٹھ کر ترقیاتی پراجیکٹس پر پہنچ جاتے تھے۔


    نواز شریف اور شہباز شریف نے دن رات عوام کی خدمت کی ہے، جب خدمت کی ہو تو پیسے لے کر ووٹ نہیں خریدنے پڑتے، یہ لوگ لاہور میں آکر لاہور پر بہت تنقید کرتے ہیں مگر ان کا اور مسلم لیگ ن کے منصوبوں کا کوئی مقابلہ نہیں۔ اسی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے شہبازشریف کاکہنا تھا کہ تحریک انصاف کے دور میں کرپشن زیادہ ہوئی یہ ثابت ہوگیاہے۔حالیہ سروے ہے کہ پنجاب میں نوازشریف سب سے آگے ہیں۔بلوچستان میں بھی نوازشریف کو بڑی پذیرائی ملی ہے۔ہمیں موقع ملا تو پاکستان کی بہتری کیلئے جان لڑادیں گے۔جیل میں ہوتے ہوئے بھی لوگوں نے نوازشریف کو ووٹ دیئے۔بانی پی ٹی آئی نے تو اینٹ سے اینٹ بجادی ترقی کاسفر تباہ ہوگیا۔بیانیہ اور سازش میں زمین اور آسمان کا فرق ہے ۔سابق وزیراعظم کاکہنا تھا کہ نوجوانوں کو لیپ ٹاپ اور تعلیمی وظائف ملتے تھے اگر اللّٰه تعالیٰ نے دوبارہ نوازشریف کو موقع دیا میرا آپ سے وعدہ ہے کہ نوجوانوں کیلئے وہی پروگرام دوبارہ شروع ہوگا۔شہبازشریف کا پیپلزپارٹی قیادت پرتنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مہربان دن رات مناظرے کی بات کرتا ہے جن کے سکولوں میں نہ ڈیسک نہ پنسل اور نہ ہی چھت ہے کیا میں ان سے مناظرہ کروں؟ پنجاب یا راجن پور کے ہسپتال کا کسی دوسرے صوبے کے ہسپتال سے مقابلہ کرلیں مقابلہ، مناظرہ اور موازنہ بھی ہوجائے گا۔لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی جو سڑکیں صاف کرتی تھیں پچھلے 4 سال میں برباد کردیا گیا۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اگر آپ نے 8 فروری کو نوازشریف کو کامیاب کروایا تو لاہور کی سڑکیں صاف ہوں گی۔