Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • ملک میں چوبیس گھنٹو ں کے   دوران بارش کا امکان

    ملک میں چوبیس گھنٹو ں کے دوران بارش کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق پاکستان کے بالائی علا قوں میں مطلع ابر آلود رہنے کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے، برفباری کے باعث ان علاقوں میں آمدورفت متاثر ہونے کے خدشہ کے پیش سیاحوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق کل بدھ کے روز گلگت بلتستان ، بالائی خیبر پختونخوا ،خطہ پوٹھوہار ، اسلام آباد،شمال مشرقی پنجاب، کشمیراور ملحقہ پہاڑی علا قوں میں مطلع ابر آلود رہنے کے ساتھ بارش اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان ہے۔پنجاب اور بالا ئی سندھ کے بعض میدانی علاقے دھند /سمو گ کی لپیٹ میں رہے۔سب سے زیادہ بارش کشمیر میں مظفرآباد (سٹی 10 اور ایئرپورٹ 05)، گڑھی دوپٹہ 04، کوٹلی 01، خیبر پختونخوا میں بالاکوٹ، مالم جبہ، پتن 04، کاکول 03، سیدو شریف 02، بلوچستان میں کوئٹہ سمنگلی 02،گلگت بلتستان میں گوپس میں 01 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
    ملک کے دیگرعلاقوں میں موسم سرد رہے گا ۔ جنوبی پنجاب اور بالائی سندھ کے بعض میدانی علا قوں میں ہلکی سے درمیانی دھند چھائی رہے گی۔گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم سرداور مطلع جزوی ابر آلود رہا جبکہ خیبر پختونخوا ، کشمیر ، خطہ پوٹھوہار اور گلگت بلتستان میں بارش ہوئی ۔

  • پی ٹی آئی کا  صدر تحریک انصاف کراچی خرم شیر زمان کو شوکاز نوٹس جاری

    پی ٹی آئی کا صدر تحریک انصاف کراچی خرم شیر زمان کو شوکاز نوٹس جاری

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سندھ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری عبدالجلیل خان مروت نے صدر تحریک انصاف کراچی خرم شیر زمان کو شوکاز نوٹس جاری کردیا، جس میں ان پر پارٹی اور کارکنان کے خلاف سازش کا الزام لگایا گیا ہے۔شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف سندھ کے صدر اس وقت جیل میں ہیں، جنرل سیکریٹری سندھ اور ایڈیشنل جنرل سیکریٹری سندھ الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں اور وہ اپنی انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ اس لیے بحیثیت ڈپٹی جنرل سیکریٹری سندھ میں اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں کہ 28 جنوری 2024 کے واقعہ پر آپ سے وضاحت طلب کی جائے، جس سے پارٹی کی کراچی میں جاری الیکشن مہم کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ سوشل میڈیا اور واٹس اپ گروپس میں اس کو ایک سازش قرار دیا جارہا ہے۔شوکاز نوٹس میں خرم شرم زمان سے وضاحت طلب کی گئی ہے کہ 28 جنوری بروز اتوار آپ نے کراچی کے صوبائی و قومی اسمبلی کے تمام امیدواروں کو اپنے حلقہ این اے 241 تین تلوار کے مقام پر ریلی کے لیے اکٹھا کیا لیکن سامنے آکر آپ نے قیادت کیوں نہیں کی؟شوکاز نوٹس میں کہا گیا ہے کہ خرم شیر زمان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے نام کا غلط استعمال کیا کہ ’بانی چیئرمین عمران خان کا حکم ہے تمام امیدوار کسی ایک جگہ پر ریلی نکالیں۔

  • بانی پی ٹی آئی کو غرور اور تکبر کی سزا ملی،پرویز خٹک

    بانی پی ٹی آئی کو غرور اور تکبر کی سزا ملی،پرویز خٹک

    پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز (پی ٹی آئی پی) کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کو غرور اور تکبر کی سزا ملی۔نوشہرہ کے علاقے نظام پور میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پرویز خٹک کا کہنا تھا کہ سائفر کیس میں سزا ملنے کے ذمہ دار بانی پی ٹی آئی خود ہیں۔پی ٹی آئی پی سربراہ نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا مشن غربت کا خاتمہ نہیں بلکہ غریب کو غریب تر بنانا تھا۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ سابق حکومتوں نے قرضے لے کر ملک کا خانہ خراب کیا۔

  • آج آپ کا جذبہ دیکھ کر نظر آرہا ہے کہ تیروں کی بارش ہوگی،بلاول بھٹو زرداری

    آج آپ کا جذبہ دیکھ کر نظر آرہا ہے کہ تیروں کی بارش ہوگی،بلاول بھٹو زرداری

    ہمارا اور آپ کا رشتہ 3 نسلوں سے چلتا آرہا ہے، ذوالفقار بھٹو نے ڈیرہ اسماعیل خان سے الیکشن لڑا تھا، بے نظیر بھٹو بھی ڈیرہ اسماعیل خان آتی تھیں، آج میں اپنے بہادر بہن بھائیوں کے درمیان کھڑا ہوں، لوگ کہتے تھے بہت سردی ہے انتخابی مہم مشکل ہوگی، آج تو ڈیرہ اسماعیل خان میں سورج نکلا ہوا ہے، سردی بھی کم ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم معاشی بحران سے پاکستان کو نجات دلانا مشن ہے، پاکستانی عوام کی آمدنی میں اضافہ کر کے دکھاؤں گا.جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ مجھے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ ڈیرہ کے عوام نے اتنی محبت دی، اس کا کوئی ثانی نہیں، میرا اور ڈیرہ کے عوام کا رشتہ تین نسلوں سے چلتا آ رہا ہے، شہید ذوالفقار بھٹو نے ڈیرہ سے الیکشن لڑا تھا۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ، میں عوام کے لیے دن رات محنت کررہا ہوں، پیپلزپارٹی کے جیالے بہادر اور وفادار ہیں، روایتی سیاست دانوں کوعوام کا کوئی احساس نہیں، روایتی سیاست دانوں میں مسائل حل کرنے کی اہلیت نہیں۔
    انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں سے مقابلہ کرتے ہوئے بینظیر نے قربانی دی تھی، وہی دہشت گرد سر اٹھا رہے ہیں، سیلاب سے ڈیرہ کے عوام متاثر ہوئے لیکن حکمرانوں نے ڈیرہ کے عوام کو نظر انداز کیا۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کا کیا بنے گا جو ٹھنڈ کی وجہ سے الیکشن نہیں لڑنا چاہ رہے تھے؟ اب تو موسم اچھا ہے اب کہاں جائیں گے؟ ڈیرہ اسماعیل خان میں اس بار تیروں کی بارش ہو گی۔بلاول بھٹو نے کہا کہ دہشت گرد ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں، ایک بار پھر ہمارا ملک خطرے میں ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے بہادر لوگ ہیں، آج عوام مشکل دور سے گزر رہے ہیں، میں عوام کیلئے جدوجہد کر رہا ہوں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوام کی جماعت ہے، باقی جماعتیں امیروں کو امیر اور غریبوں کو غریب تر بناتی جا رہی ہیں، پاکستان میں بڑے مسائل غربت اور بیروزگاری ہیں، روایتی سیاستدانوں میں اہلیت نہیں کہ ان مسائل کا سامنا کر سکیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پاکستان کے عوام کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی، آپ میرے لیے محنت کر رہے ہیں، میں آپ کے لیے دن رات محنت کروں گا، میں بہادر بہن اور بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہوں۔

  • مناظرہ کرنے والوں کے  اسکولوں میں ڈیسک ہیں نہ چھتیں، پنجاب سے کیا مقابلہ کریں گے،شہباز شریف

    مناظرہ کرنے والوں کے اسکولوں میں ڈیسک ہیں نہ چھتیں، پنجاب سے کیا مقابلہ کریں گے،شہباز شریف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو نشانے پر رکھ لیا اور کہا کہ ایک پارٹی دن رات بات کرتی ہے کہ مناظرہ کر لیں حالانکہ ان کے اسکولوں میں ڈیسک ہیں نہ چھتیں، پنجاب کے اسپتالوں کا دیگر صوبوں سے مقابلہ کر لیں تو مناظرہ بھی ہو جائے گا۔ شہباز شریف نے کہا کہ ہماری حکومت میں وہ جماعتیں بھی تھیں جو بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ بھی تھیں، سوال ذہن میں آتا ہے کہ جنہوں نے ہمیں اعتماد کا ووٹ دیا تو اس دور میں کرپشن کیسے کم ہوئی، وعدہ ہے اگر کامیاب ہوئے تو نوجوانوں کو دوبارہ لیپ ٹاپ اور تعلیمی وظائف دیں گے۔
    مسلم لیگ ن کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ ایک پارٹی دن رات بات کرتی ہے کہ ایک مہربان سے مناظرہ کرلیں حالانکہ ان کے اسکولوں میں نہ ڈیسک ہیں اور نہ چھتیں، پنجاب کے اسپتالوں کا دیگر صوبوں سے مقابلہ کر لیں تو مناظرہ بھی ہو جائے گا۔لاہور کے حلقہ پی پی 172 میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ بارش کے باوجود پرجوش مجمع گلشن راوی میں موجود ہے، یہ مجمع گواہی دے رہا ہے کہ 8 فروری کا سورج نواز شریف اور آپ کا سورج ہو گا، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ جاری کی ہے، بانی پی ٹی آئی بھی ان کی رپورٹ کا حوالہ دیتے تھے، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2018 میں مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہوئی تو کرپشن کم تھی اور یہ کرپشن 2018 کے بعد بڑھی اور میرے 16 ماہ کے دور حکومت میں پھر کم ہوئی۔
    سابق وزیراعظم نے کہا کہ آپ نے 8 فروری کو شیر کے نشان پر مہر لگانی ہے، 20 سال پہلے مال روڈ کے حوالے سے فقرہ نکل گیا کہ میں لاہور کو پیرس بنا دوں گا، اس فقرے پر مجھے مذاق کا نشانہ بنایا گیا لیکن آپ بتائیں کہ کیا لاہور پیرس جیسا بنا کہ نہیں لیکن پھر لاہور کو برباد کر دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 13 جماعتوں کی حکومت چلانا آسان نہیں، میں میرٹ والا بندہ ہوں، اگر ٹیچر بھی بھرتی کیے تو میرٹ پر کیے، 20 ارب روپے لاگت کے منصوبے کے پی کے ایل آئی کو برباد کر دیا گیا، نواز شریف کے دور کے تمام ترقیاتی کاموں کو ختم کر دیا گیا۔شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمیٹی رات کو کوڑا اٹھاتی تھی لیکن پھر ایسا نہیں ہوتا رہا، 8 فروری کو نواز شریف کامیاب ہوئے تو ایک بار پھر لاہور کی گلیوں کی صفائی ہوگی، اسپتالوں میں مفت ادویات ملا کریں گی اور مفت ٹیسٹ ہوا کویں گے، ذہانت اور قابلیت کی بنیاد پر پورے پاکستان کے بچوں کو لیپ ٹاپ اور وظائف دیں گے، نواز شریف کا منصوبہ نوجوان نسل کو آئی ٹی، سکلز ڈویلپمنٹ، ووکیشنل ایجوکیشن دینے کا ہے، ہمارے اس منصوبے سے سب کو عزت والا روزگار ملے گا۔مسلم لیگ ن کے صدر نے کہا کہ 8 فروری کو نواز شریف کی قیادت میں عوام کی خدمت کے لیے دن رات ایک کر دیں گے، تیز پر ایک نکتہ لگائیں تو وہ شیر بن جاتا ہے، اس لیے آپ نے شیر کے نشان پر مہر لگانی ہے۔

  • ملک برے حالات میں ہے مگر ہم ملک کو برے حالات سے نکالنا جانتے ہیں، آصف علی زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہوٹہ کے لیے بڑی ترقیاتی اسکیمیں لانے کا اعلان کردیا۔شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کو پتہ ہے کہ ملک کو برے حالات سے کیسے نکالنا ہے۔ پہلے بھی ملک کو برے حالات سے نکالا تھا، آگے بھی نکالیں گے۔انتخابی جلسے سے خطاب میں آصف علی زرداری نے کہوٹہ میں اسپتال، سڑکیں، میڈیکل کالج، یونیورسٹی بنانے کے ساتھ گیس کی سہولت فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
    پی پی چیئرمین نے مزید کہا کہ میں آپ کے پاس آتا جاتا رہوں گا، پاکستان کو دوبارہ بنائیں گے، ہر چیز وہ گی جو عوام کی خواہش ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ملک برے حالات میں ہے، ہم برے حالات سے نکالنا جانتے ہیں، پہلے بھی ملک کو برے حالات سے نکالا ہے۔

    اُن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کو یہ نہیں پتا کہ کہوٹہ کہاں ہے، یہاں آنےکے لیے ان کو راستہ ڈھونڈنا پڑتا ہے، یہاں بہت ٹھنڈ ہے اور راستہ خراب بھی ہے، پہلا اعلان کرتا ہوں کہ یہاں سڑک بناؤں گا۔آصف علی زرداری نے یہ بھی کہا کہ عوام کا جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی، آپ کے مسائل حل کریں گے، ہم پاکستان کو دوبارہ بنائیں گے اور بدلیں گے۔انہوں نے کہا کہ کہوٹہ کے عوام کو گیس سمیت تمام سہولیات فراہم کریں گے، یہاں اسپتال، میڈیکل کالج اور یونیورسٹی بھی بنائیں گے۔
    سابق صدر نے کہا کہ ملک برے حالات میں ہے مگر ہم ملک کو برے حالات سے نکالنا جانتے ہیں۔

  • بلوچستان. سبی میں دھماکہ 2 افراد جاں بحق

    بلوچستان. سبی میں دھماکہ 2 افراد جاں بحق

    بلوچستان کے شہر سبی میں دھماکے کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوگئے۔پولیس کے مطابق دھماکا سبی میں جناح روڈ پر ہوا، دھماکے کے زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کردیا گیا۔میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سول اسپتال سبی ڈاکٹر شاہد کے مطابق جناح روڈ پر دھماکے میں 2 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوئے، زخمیوں میں سے 3 کی حالت تشویشناک ہے۔ایم ایس ڈاکٹر شاہد کے مطابق سبی سول اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

  • جمہوریت پر چلنے سے مسائل حل ہوں گے اور بلوچستان کی بقا اسی میں ہے .آصف علی زرداری

    جمہوریت پر چلنے سے مسائل حل ہوں گے اور بلوچستان کی بقا اسی میں ہے .آصف علی زرداری

    بلوچستان کی بقا جمہوریت میں ہے۔ حب میں پانی کی سہولت اور یونیورسٹیاں ہونی چاہئییں۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ امن وامان بحال کریں گے تو کراچی کے سرمایہ کار خود یہاں آئیں گے۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ کیا کیا زیادتی نہیں ہوئی مگر کبھی لڑنے کی بات نہیں کی۔پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری نے کہا حب کو بھی کراچی جیسا ہونا چاہیے۔ بھولے بھٹکے دوستوں کو سمجھائیں جو ہتھیار اٹھاتے ہیں۔ امن امان بہتر کریں تو کراچی کے سرمایہ کار حب آئیں گے۔ سابق صدر نےان خیالات کا اظہار بلوچستان کے شہر حب میں جلسہ سے خطاب کے دوران کیا۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ امن وامان بحال کریں گے تو کراچی کے سرمایہ کار خود یہاں آئیں گے۔ پیپلز پارٹی کے ساتھ کیا کیا زیادتی نہیں ہوئی مگر کبھی لڑنے کی بات نہیں کی۔ انھوں نے کہا کہ بلوچستان کا حق آپ کو دلائیں گے۔ بلوچوں کو ان کی دھرتی کا حق دلوائیں گے۔ ان دوستوں کو سمجھائیں جو ہتھیار اٹھاتے ہیں۔ آصف زرداری نے کہا کہ آپ کیوں ہتھیار اٹھاتے ہیں،جمہوریت کی طرف چلیں۔
    جمہوریت پر چلنے سے مسائل حل ہوں گے۔ پیپلز پارٹی نے کبھی لڑنےکی بات نہیں کی۔ بلوچستان کی بقاء ہی جمہوریت میں ہے۔ کسی کابیٹا، بھتیجا، بھانجا مرتا ہے کیوں اس طرف جاتے ہیں۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ حب کا بجٹ یہاں نظر نہیں آتا شاید دوستوں کی جیب میں نظر آتا ہے، آپ ہمارے امیدواروں کو ووٹ دیں۔ آپ کی بقاء جمہوریت میں ہے۔آصف زرداری نے کہا کہ الیکشن کے دن جمہوریت اور تیر کو ووٹ دیں۔ بلوچستان پاکستان کا دل ہے۔ جمہوریت کیلئے جنگ کی اور اب بھی کر رہے ہیں۔ آپ سب الیکشن کے دن ہمارےاُمیدواروں کو ووٹ دیں۔ سابق صدر نے کہا ان شاء اللہ بلوچوں کو ان کی دھرتی کا حق دلوائیں گے۔ ہم اس شہر کو سنبھالیں گے۔آصف زرداری نے کہا کہ میری آپ دوستوں سے درخواست ہے کہ بھولے بھٹکے دوستوں کو سمجھائیں۔ بےنظیربھٹو نے جمہوریت کا علم اٹھایا۔

  • عوام کا سمندر بتا رہا ہے کہ آٹھ فروری کو شیر آرہا ہے ،شہباز شریف

    عوام کا سمندر بتا رہا ہے کہ آٹھ فروری کو شیر آرہا ہے ،شہباز شریف

    آج سیالکوٹ والوں نے نواز شریف کے حق میں فیصلہ دے دیا، عوام کا سمندر بتا رہا ہے کہ آٹھ فروری کو شیر آرہا ہے، نواز شریف آٹھ فروری کو چوتھی بار وزیراعظم بنیں گے، آٹھ فروری کو سیاسی مخالفین کا جلوس نکل جائےگا۔شہباز شریف نے کہا کہ ایک سیاسی مہربان جلسوں میں مزدور اور کسان کارڈ نکال کر دکھاتے ہیں، غور سے دیکھیں تو لگتا ہے یہ کوئی فٹ بال میچ کے ریفری ہیں، عوام کا سمندرآٹھ فروری کو ییلو کارڈ دکھا کر ان کو میدان سے باہر کردے گا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کاکہنا ہے کہ سیالکوٹ والوں نے میری اور نواز شریف کی تھکن دور کردی، جلسہ گواہی دے رہا ہے کہ 8 فروری کو مخالفین کا جلوس نکل جائے گاہ 8 فروری کا سورج ہماری پارٹی کی فتح کا سورج ہوگا۔سیالکوٹ میں پارٹی کے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ سیالکوٹ والوں نے میری اور نواز شریف کی تھکن دور کردی، جلسہ گواہی دے رہا ہے کہ 8 فروری کو مخالفین کا جلوس نکل جائے گاہ 8 فروری کا سورج ہماری پارٹی کی فتح کا سورج ہوگا۔
    شہباز شریف نے کہا کہ کچھ مخالفین کہتے ہیں ن لیگ باہر نکل کر جلسے نہیں کر رہی، کیا آج ہم سیالکوٹ کے کسی کمرے میں جلسہ کر رہے ہیں،جلسہ گواہی دے رہا ہے کہ 8 فروری کو مخالفین کا جلوس نکل جائے گا۔نواز شریف چوتھی مرتبہ وزیراعظم بنیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ ترقی اور خوشحالی کا سفردوبارہ شروع کرے گی، نواز شریف پہلی بار وزیراعظم بنا تو معیشت ترقی کرنے لگی، بھارت کے 5 ایٹمی دھماکوں کے جواب میں نواز شریف نے 6 دھماکے کئے، امریکی صدرنے ایٹمی دھماکے نہ کرنے کے بدلے 5 ارب ڈالر کی آفر کی تھی، نواز شریف نے 5 ارب ڈالر کی آفر ٹھکرا دی تھی۔ بھارت نے جب پانچ ایٹمی دھماکے کیے تو نواز شریف نے چھ ایٹمی دھماکے کئے۔ آج عوامی سورج گواہی دے رہا ہے کہ آٹھ فروری کا سورج ن لیگ کا ہوگا۔آج سیالکوٹ والوں نے نواز شریف کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔ ہمارے دور میں معیشت ترقی کررہی تھی، برسراقتدار آکر ترقی کاسفردو بارہ شروع کریں گے۔

  • الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے راستے میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں،بیر سٹر گوہر

    الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے راستے میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں،بیر سٹر گوہر

    بیرسٹر گوہر نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر نے ہمیں یقین دہانی کروائی تھی کہ مساوی سلوگ ہوگا، ہم الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمارے راستے میں رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں۔تحریک انصاف کے رہنما گوہر خان نے کہا ہے کہ ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ تو کیا فیلڈ ہی نہیں دی گئی، بلا چھین لیا گیا۔اسلام آباد میں سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی رؤف حسن کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ٹرائل اور الیکشن مہم کے مسائل پر بات کرنا چاہتا ہوں۔
    انہوں نے کہا کہ صبح 8 سے شام 4 تک انتہائی جلد بازی میں کیس چلایا جارہا ہے، ملزم کی مرضی کے خلاف جج صاحب نے سرکاری وکلا کو متعین کردیا، سزائے موت کی طرف بڑھنے والے اس کیس میں عدل اور آئین کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نہ ہمیں کاغذات فراہم کیے گئے نہ ہی مخالفین سے سوالات کرنے کا موقع ملا، سائفر اور نیب کے کیسز سمیت الیکشن کمیشن کی توہین کا کیس بھی جیل میں ہی چل رہا ہے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے ہمیں بطور شہری اور سیاسی جماعت برابری کی سطح پر الیکشن لڑنے کے مواقع دیں، ہمیں پرامن طور پر برابری کی سطح پر الیکشن کا حصہ تو دور ہم سے فیلڈ ہی چھین لی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے امیدوار آزاد نشان سے لڑ رہے ہیں لیکن وہ اپنی پارٹی کیساتھ ہیں، شاندار پاکستان، شاندار مستقبل اور خراب ماضی سے چھٹکارا، یہ ہمارا نعرہ ہے۔