Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • صوابی،جلسے کے دوران سابق سپیکر اسد قیصر آپے سے باہر

    صوابی،جلسے کے دوران سابق سپیکر اسد قیصر آپے سے باہر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر جلسے کے دوران آپے سے باہر ہو گئے،صوابی میں پاکستان تحریک انصاف کے جلسے میں اسد قیصر تقریر کررہے تھے کہ وہاں موجود نوجوان نے ان سے سوال پوچھ لیا۔نوجوان نے اسد قیصر سے کہا آپ ایک کام بتائیں جو ہمارے علاقے میں کروایا ہو۔ اس پر اسد قیصر نے کہا کہ ووٹ جس کو دینا ہے دیں، بات سلیقے سے کریں۔ پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ انتخابات میں کامیابی کے بعد علاقے کے مسائل حل کروں گا۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ نواز شریف دو تہائی اکثریت کا مطالبہ کررہے ہیں۔
    انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کہتے ہیں کہ میں معیشت کو سنبھالوں گا، پوچھتا ہوں کہ ان کی 16 ماہ کی حکومت میں ان کا وزیرخزانہ کون تھا؟ صوابی کے علاقے کامرغز میں خطاب کے دوران اسد قیصر نے کہا کہ ن لیگ کے قائد نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ میرا وزیراعظم بننے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔اُن کا کہنا تھا کہ عوام کو پہلی بار صحت کارڈ کی سہولت ملی تھی وہ بھی چھین لی، ہماری حکومت آئے گی تو سب سے پہلے صحت کارڈ بحال کریں گے۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے یہ بھی کہا کہ اسحاق ڈار کے پاس کون سا فارمولا ہے جو وہ اب نواز شریف کی حکومت میں استعمال کریں گے۔اسد قیصر نے کہا کہ کہتے ہیں کہ یہ آزاد اُمیدوار ہیں یہ میرے ساتھ آئیں گے، یہ آزاد اُمیدوار نہیں تحریک انصاف کے کارکن ہیں۔انہوں نے کہا کہ حلف لیا ہے کہ وہی کریں گے جو بانی پی ٹی آئی کہیں گے، خیبر پختونخوا اور مرکز میں ہماری حکومت بنے گی۔سابق اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ انہوں نے ہماری پارٹی کےنام سے ایک پارٹی بنائی ہوئی ہے، نوشہرہ کے عوام اس کو بھرپور شکست دیں گے۔

  • فلسطینی وزیر خارجہ اور  اسرائیلی وزیراعظم کا عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر رد عمل

    فلسطینی وزیر خارجہ اور اسرائیلی وزیراعظم کا عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر رد عمل

    عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ اسرائیل اپنا اور اپنے شہریوں کا دفاع جاری رکھے گا۔اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے وزراء کو آئی سی جے کے فیصلے پر تبصرہ نہ دینے کی ہدایت بھی کردی ہے۔ تل ابیب سے جاری اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اس وقت بڑی جنگ میں مصروف ہے۔ نتن یاہو کا کہنا تھا کہ عالمی قوانین کے تحت اسرائیل کا دفاع جاری رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ منظور کرنا نہ مٹنے والا سیاہ دھبہ ہے۔
    دوسری طرف فلسطین کا اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر ردعمل بھی سامنے آیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کو خوش آئند قرار دے دیا۔انہوں نے کہا کہ عالمی عدالت نے قانون کے مطابق اور انسانیت کے حق میں فیصلہ دیا۔ریاض المالکی نے اسرائیل سمیت تمام ملکوں سے مطالبہ کیا کہ عالمی عدالت کی جانب سے دیئے گئے احکامات پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔
    اسرائیل، فلسطین اور جنوبی افریقا کا ”عالمی عدالت انصاف“ کے فیصلے پر ردعمل سامنے آگیا۔ فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے کہا ہے کہ فلسطین اتھارٹی عالمی عدالت انصاف آئی سی جے کے عبوری حکم کا خیر مقدم کرتی ہے، آئی سی جے کے ججوں نے حقائق اور قانون کا جائزہ لیا۔ فلسطینی وزیر خارجہ نے کہا کہ آئی سی جے نے قانون کے مطابق اور انسانیت اور بین الاقوامی قانون کے حق میں فیصلہ دیا۔ ریاض المالکی نے تمام ملکوں بشمول قابض طاقت اسرائیل سے کہا کہ وہ انٹر نیشنل کورٹ کی جانب سے دیئے گئے عبوری اقدامات کے نفاذ کو یقینی بنائیں۔ ریاض المالکی نے کہا کہ یہ ایک پابندی پر مبنی قانونی ذمہ داری ہے اب ریاستوں پر واضح قانونی ذمہ داری ہے کہ وہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی پر مبنی جنگ کو روکیں، تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ وہ اس میں شریک نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی عدالت کا حکم ایک اہم یاد دہانی بھی ہے کہ کوئی ریاست قانون سے بالاتر نہیں۔عالمی عدالتِ انصاف نے غزہ میں نسل کشی سے متعلق اسرائیل کے خلاف دائر مقدمے کا عبوری فیصلہ سنا دیا ہے۔عالمی عدالت انصاف اسرائیل کو جنگ بندی کا حکم دینے میں ناکام ہوگئی ہے تاہم عدالت نے اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی نسل کشی کا مقدمہ خارج کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ اسرائیلی فورسز فلسطینیوں کے نسل کشی کے اقدامات سے گریز کریں۔
    تاہم اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی کے خلاف جنوبی افریقا نے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا تھا۔فیصلے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں جنوبی افریقی حکومت نے فوری فیصلے پر آئی سی جے کا شکریہ ادا کیا۔جنوبی افریقہ کے وزیر برائے بین الاقوامی تعلقات اور تعاون ڈاکٹر نالیدی پانڈور نے اس فیصلے کو بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے لیے ’فیصلہ کن فتح‘ قرار دیا ہے۔

  • پی ٹی آئی کی رہنما صنم جاوید اور شوکت بسرا کو الیکشن لڑنے کے اہل قرار

    پی ٹی آئی کی رہنما صنم جاوید اور شوکت بسرا کو الیکشن لڑنے کے اہل قرار

    سپریم کورٹ نے صنم جاوید کے کاغذات نامزدگی منظور ہونے اور انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دینے کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ صنم جاوید کو حلقہ این اے 119 سے انتخابات لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے، حلقہ این اے 119 میں انتخابات 8 فروری کو ہی کرائے جائیں، صنم جاوید کا نام حتمی فہرست اور بیلٹ پیپر میں شامل کیا جائے، الیکشن کمیشن صنم جاوید کو انتخابی نشان دے۔عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے شوکت بسرا کو این اے 163 بہاولنگر سے الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ صنم جاوید کو این اے 119، 120 اور پی پی 150 سے الیکشن لڑنے کی اجازت دی گئی ہے۔سپریم کورٹ نے صنم جاوید اور شوکت بسرا کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد کرنے کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔عدالتِ عظمیٰ نے الیکشن کمیشن کو صنم جاوید اور شوکت بسرا کو انتخابی نشان دینے کا حکم بھی دیا ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ 8 فروری کو ان حلقوں میں الیکشن شیڈول کے مطابق انتخابات کرائے جائیں۔دورانِ سماعت درخواست گزاروں کے وکیل نے بتایا کہ صنم جاوید کے کاغذاتِ نامزدگی الگ بینک اکاؤنٹ نہ کھلوانے پر مسترد ہوئے، صنم جاوید نے اپنے والد کے ساتھ مشترکہ اکاؤنٹ کاغذات میں ظاہر کیا تھا، اعتراض کیا گیا کہ الیکشن کے لیے الگ اکاؤنٹ کیوں نہیں بنایا گیا، صنم جاوید گزشتہ 9 ماہ سے جیل میں ہیں، جیل میں موجود خاتون بینک اکاؤنٹ کیسے کھلوا سکتی ہے؟ دوسری جانب شوکت بسرا نے ایک مشترکہ دوسرا الگ اکاؤنٹ ریٹرننگ افسر کو دیا، جس پر ریٹرننگ افسر نے کہا کہ 3 بجے کا وقت ختم ہو چکا۔
    جسٹس عرفان سعادت خان نے سوال کیا کہ الیکشن کمیشن نے 3 بجے کا وقت کہاں سے نکالا ہے؟ الیکشن شیڈول میں تو نہیں لکھا کہ 3 بجے تک کاغذات جمع ہوں گے، مقررہ وقت کے آدھے گھنٹے بعد کاغذات جمع کرانے والوں کو الیکشن سے محروم کیسے رکھا جا سکتا ہے.جسٹس منیب اختر نے کہا کہ قانون میں مشترکہ اکاؤنٹ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔وکیل نے بتایا کہ صنم جاوید نے 21 دسمبر کو اوتھ کمشنر کے سامنے 22 دسمبر کی تاریخ کا بیانِ حلفی دیا، اوتھ کمشنر نے صنم جاوید کے دستخط کی تصدیق کی، آر او نے کہاکہ 22 دسمبر کو صنم جاوید سے جیل میں کوئی نہیں ملا تو کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہو جائیں گے۔جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ ریٹرننگ افسر نے از خود کیسے صنم جاوید کے دستخط کی تصدیق کی؟وکیل شاہزیب رسول نے جواب دیا کہ آر او کے خط پر جیل حکام نے بتایا ہے کہ 22 دسمبر کو کوئی ملاقاتی نہیں آیا، اس پر کاغذات مسترد کر دیے، صنم جاوید 10 مئی سے جیل میں ہیں اور ان کے شوہر بھی گرفتار ہیں۔جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ صنم جاوید نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ انہوں نے 22 دسمبر کو دستخط کیے۔جسٹس منیب نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک ہی امیدوار کے پیچھے سپریم کورٹ تک آیا، پھر کہتے ہیں کہ انفرادی شخص کے خلاف نہیں۔تحریری فیصلے میں لکھا گیا لاہور ہائیکورٹ کا کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جاتا ہے، فیصلے کی تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی، صنم جاوید کو حلقہ این اے 120 اور پی پی 150 میں بھی انتخابات لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

  • مخالفین جہاں سے آئے ہیں وہاں اسکولوں میں مویشی بندھے ہوتے ہیں،مریم نواز

    مخالفین جہاں سے آئے ہیں وہاں اسکولوں میں مویشی بندھے ہوتے ہیں،مریم نواز

    نواز شریف کے ترقیاتی منصوبے ہی ہمارا منشور ہیں، جنوبی پنجاب کی حقیقی معنوں میں خدمت کرنے والے نوازشریف ہیں، ہم نے جو منصوبہ لاہور میں بنایا وہ ملتان تک بھی پہنچایا، وہاڑی میں میڈیکل کالج بنائیں گے۔ چیف آرگنائزر مسلم لیگ ن مریم نواز نے کہا کہ یہاں نوجوانوں کو بڑی تعداد میں دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے، میں سب کو سلام پیش کرتی ہوں، بہت تکلیف ہوتی ہے جب کسی بے روزگار نوجوان کو ہاتھ اٹھاتے دیکھتے ہیں، آپ شیر کو ووٹ دیں گے تو ن لیگ کامیاب ہوکر دن رات آپ کی خدمت کرے گی۔بورے والا میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پنجاب آکر نواز شریف پر تنقید کرنے والے جہاں بھی جاتے ہیں ان کے دائیں بائیں ن لیگ کے منصوبے ہوتے ہیں، وہ جہاں سے آئے ہیں وہاں اسکولوں میں مویشی بندھے ہوتے ہیں۔رہنما مسلم لیگ ن نے مزید کہا کہ ہم ہر ضلع میں دانش اسکول بنائیں گے، روٹی، چینی، آٹا، دالوں کی قیمتیں کم کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور یہ ہی ہمارا منشور ہے۔مریم نواز نے یہ بھی کہا کہ عثمان بزدار کو کوئی نہیں جانتا تھا تو وہ لوگوں کو کہتے تھے کہ وہ پنجاب کے شہباز شریف لگے ہوئے ہیں۔
    نہوں نے کہا کہ نواز شریف اگر 3 سال میں 22 گھنٹے ہونے والی لوڈ شیڈنگ کو ختم کر سکتے ہیں تو اس کے پیچھے اللہ کا فضل، ان کی محنت، آپ سے محبت کارفرما ہے، جنوبی پنجاب والوں سے کہنا چاہتی ہوں کہ مسلم لیگ ن واحد جماعت ہے جس نے حقیقی معنوں میں یہاں کی دل سے خدمت کی ہے۔چیف آرگنائزر مسلم لیگ ن نے کہا کہ بڑے بڑے لوگ یہاں آئے اور جنوبی پنجاب کے نام پر بے وقوف بنا کر چلے گئے، 2013ء ، 2017ء کے جنوبی پنجاب کا موازنہ کرلیں اور آج کی صورت حال دیکھ لیں تو آپ کو فرق نظر آئے گا اور پتہ چل جائے گا کہ نوازشریف اور شہبازشریف نے یہاں آپ کی خدمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا منشور کل جاری کردیا جائے گا، ہمارا منشور بالکل واضح ہے، ہر شہر کی ترقی، ہر گاؤں کی ترقی، کسانوں کی ترقی، ہسپتال، مفت دوائیں، طبی سہولیات، تعلیم مفت اور عام تعلیمی اداروں کا قیام، ہر ڈسٹرکٹ میں دانش سکول بنانا، موٹر وے کا جال بچھانا، بجلی کے بلوں کو کم کرنا، گیس فراہم کرنا، روٹی اور آٹا سستا کرنا، سبزی، گوشت دالیں سستی کرنا، یہ سب ہماری ذمہ داری ہے، یہی ہمارا منشور ہے۔

  • پی ٹی آئی نے الیکشن میں بڑی دھاندلی کا خدشہ ظاہر کر دیا

    پی ٹی آئی نے الیکشن میں بڑی دھاندلی کا خدشہ ظاہر کر دیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے انتخابی نتائج میں تبدیلی کےلیے خفیہ سافٹ ویئر کی تیاری کا خدشہ ظاہر کیا ہے ،ترجمان پی ٹی آئی نے ایک بیان میں کہا کہ نتائج میں ردّوبدل کےلیے خفیہ سافٹ ویئر کی تیاری کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ پی ٹی آئی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ تحریک انصاف کی ویب سائٹ بند کرکے عوام کو معلومات سے روکا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابی نتائج سے چھیڑ چھاڑ انتخابات کی ساکھ کو خاک میں ملا دے گا۔ترجمان نے مزید کہا کہ ووٹ کی حرمت پامال کرنا ملک کےلیے تباہ کن ثابت ہوگا، منصوبہ ساز ووٹرز کو نشانہ بنانے کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ترجمان نے کہا کہ عوام تحریک انصاف کو سیاست و حکومت کی قیادت سونپنے کےلیے پرعزم ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ اکبر ایس بابر کو ریاستی پشت پناہی سے پی ٹی آئی میں داخل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، بتایا جائے کہ وہ کس کے اشاروں پر شر اور شرارت کررہے ہیں؟

  • بانی پی ٹی آئی ہر بار نیا جھوٹ بول کر عوام کو بیوقوف بناتا ہے۔پرویز خٹک

    بانی پی ٹی آئی ہر بار نیا جھوٹ بول کر عوام کو بیوقوف بناتا ہے۔پرویز خٹک

    سربراہ پی ٹی آئی پی پرویز خٹک نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کہتا تھا قرضہ لیا تو خود کشی کرلوں گا، انہوں نے سعودی ولی عہد کی دی ہوئی گھڑی بیچ کر قوم کا سر شرم سے نیچے کر دیا.پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی پی) کے چیئرمین پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ایک نہیں سیکڑوں جھوٹ بولے، نوشہرہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ کہتا تھا اقتدار میں آؤں گا تو ڈالرکی بارش ہوگی، بانی پی ٹی آئی کے آتے ہی ڈالر غائب ہونا شروع ہو گئے۔ بانی پی ٹی آئی ہر بار نیا جھوٹ بول کر عوام کو بیوقوف بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور مرکز میں حکومت میں نے بنائی تھی انہیں تو کچھ پتہ ہی نہیں تھا، خیبرپختونخوا پولیس، سرکاری اسکولز اور پٹواریوں کیلئے اصلاحات کیں۔ 8فروری کو میں وزیراعلیٰ بنوں گا اور خیبر پختونخواہ میں حکومت پی ٹی آئی پی کی ہوگی، ماضی میں ہمیں پختون اور اسلام کے نام پر لوٹا گیا، جو حکمران ملک کو بحرانوں سے نہیں نکال سکتے انہیں حکومت کا کوئی حق نہیں ہے ، میں نے اپنے دور میں مساجد کے اماموں کی تنخواہیں مقرر کیں۔
    پرویز خٹک نے مزید کہا کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی نے نئے پاکستان کے نام پر مجھے بیوقوف بنایا، انہوں نے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا،عمران خان میرے بغیر اقتدار میں نہیں آسکتا تھا۔

  • الیکشن 2024: سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کے کھانے، فیول اور رینٹل گاڑیوں کی مد میں 30 کروڑ روپے درکار

    الیکشن 2024: سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کے کھانے، فیول اور رینٹل گاڑیوں کی مد میں 30 کروڑ روپے درکار

    اسلام آباد پولیس نے 8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے 30 کروڑ روپے مانگ لیے۔ سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کے کھانے، فیول اور رینٹل گاڑیوں کی مد میں فنڈ خرچ ہوگا، 28 مارچ کے سیاسی پرتشدد مظاہرے اور احتجاج کے دوران 17 گاڑیوں کو جلایا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ اسلام آباد پولیس کو نارمل حالات میں 75 چھوٹی بڑی گاڑیوں کی ضرورت ہے، الیکشن میں یہ ڈیمانڈ بڑھ جاتی ہے،عام انتخابات میں حساس پولنگ اسٹیشنز کی سیف سٹی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ کی جائے گی انتخابات کی مانیٹرنگ کی کے لیے سیف سٹی میں کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے جس کو سینئر افسر دیکھے گا۔

  • حیدر آباد میں این اے 219 اور 220 پر  سنی تحریک کا ایم کیو ایم کی حمایت کا اعلان

    حیدر آباد میں این اے 219 اور 220 پر سنی تحریک کا ایم کیو ایم کی حمایت کا اعلان

    ا یم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنوینر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چار سال میں کوئی کام نہیں ہوا۔ آج کراچی بدترین شہروں میں چوتھے نمبر پر ہے۔ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی کے ناظمین انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال کی قیادت میں وفد نے سنی تحریک کے رہنما ثروت اعجاز قادری سے کراچی میں ملاقات کی۔ ثروت اعجاز قادری سے ملاقات کے بعد مصطفیٰ کمال نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے کیخلاف الیکشن لڑنے والے ایک جگہ بات کرسکتے ہیں۔ دیکھ رہے ہیں کہاں ایک دوسرے کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کر سکتے ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ کشمور سے لیکر کراچی تک کے حالات سب کے سامنے ہیں، اگر پیپلزپارٹی کی کارکردگی اچھی ہوتی تو ہم جیسی جماعتوں کو بند ہو جانا چاہئے تھا، ایک جگہ ایسی نہیں جہاں کھڑے ہوں اور مسائل نہ ہوں، دنیا چاند پر جا رہی ہے اور یہاں ہر تیسرے دن خبر آرہی ہوتی ہے کہ بچے گٹر میں گر کر مر رہے ہیں۔
    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہم کبھی بھی پیپلزپارٹی کے دروازے پر نہیں گئے ہمیشہ پیپلزپارٹی ہمارے پاس آتی ہے، ہم نے آئینی ترامیم سے متعلق تجاویز کو اپنے منشور کا حصہ بنایا، اگر بلاول بھٹو جیت گئے تو وہ پاکستان کو سندھ بنا دیں گے، الیکشن کمیشن صرف نوٹس جاری نہ کرے ایکشن بھی لے۔سینئر ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم نے کہا کہ سنی تحریک نے حیدر آباد میں حلقہ این اے 219 اور220 میں ایم کیو ایم کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر دیا، 11 دنوں کے بعد انشاء اللہ ہمیں مینڈیٹ ملے گا، مخالفین ہماری ساری خامیوں کو بھول کر ہمارے پاس کھڑے ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو نون لیگ سمیت ہر جماعت کے ساتھ اچھی باتوں پر اتفاق کرنا چاہیے۔ پیپلز پارٹی کی کارکردگی اچھی ہوتی تو ایم کیو ایم ختم ہوجاتی۔اس موقع پر گفتگو میں سنی تحریک کے رہنما ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں شہر کا امن بحال ہو۔ مصطفیٰ کمال نے رنگ و نسل سے بالا ہو کر کراچی کیلئے کام کیا۔ ثروت اعجاز قادری نے کہا حیدر آباد میں این اے 219 اور 220 پر ایم کیو ایم کی حمایت کریں گے۔ ثروت اعجاز قادری نے کہا کہ باقی سیٹوں پر ہماری بات جاری ہے۔

  • نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ سے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی  کی ملاقات

    نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ سے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی ملاقات

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے چیئرمین پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمن کی ملاقات، وزیرِ اعظم کو سالانہ رپورٹ 2023 پیش کی گئی۔ چیئرمین پی ٹی اے نے وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا کہ گزشتہ برس کے مقابلے پی ٹی اے کی آمدن 17 فیصد اضافے کے بعد 850 ارب تک پہنچ گئی جبکہ ملک بھر موبائل سروسز تک رسائی 90 فیصد تک پہنچ گئی.انہوں نے مزید بتایا کہ 2023 میں موبائل فون صارفین کی تعداد 19.2 کروڑ جبکہ ہائی اسپیڈ براڈبینڈ صارفین کی تعداد 13 کروڑ تک پہنچ گئی.
    وزیرِ اعظم نے چیئرمین پی ٹی اے اور انکی ٹیم کی پاکستان میں موبائل و انٹرنیٹ سروسزکی رسائی عام آدمی تک پہنچانے کیلئے اقدامات کو سراہا.
    چیئرمین پی ٹی اے نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ گزشتہ برس کے مقابلے پی ٹی اے کی آمدن 17 فیصد اضافہ کے بعد 850 ارب تک پہنچ گئی جبکہ ملک بھر میں موبائل سروسز تک رسائی 90 فیصد تک پہنچ گئی ۔وزیرِ اعظم نے چیئرمین پی ٹی اے اور ان کی ٹیم کی پاکستان میں موبائل و انٹرنیٹ سروسزکی رسائی عام آدمی تک پہنچانے کیلئے اقدامات کو سراہا۔

  • پی ٹی آئی کی جانب سے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر شوکاز جاری

    پی ٹی آئی کی جانب سے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر شوکاز جاری

    پی ٹی آئی کی جانب سے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے حق میں دستبرداری پر شوکاز نوٹس جاری کیا گیا۔
    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سینیٹر سیف اللہ ابڑو کو پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی اور بلاول بھٹو زرداری کے حق میں دستبرداری پر شوکاز نوٹس جاری کردیا۔
    نوٹس کے متن میں کہا گیا کہ پارٹی قیادت کے علم میں آیا ہے کہ آپ نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے، سیف اللہ ابڑو نے بلاول بھٹو کے حق میں پارٹی ٹکٹ سے دستبرداری کا اعلان کیا۔


    نوٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ پارٹی ڈسپلن کی سنگین خلاف ورزی کرنے پر سیف اللہ ابڑو کو شوکاز نوٹس دیا جاتا ہے، سیف اللہ ابڑو پارٹی کو تین دن کے اندر وضاحتی بیان جمع کرائیں، جواب نہ دینے کی صورت میں پارٹی پالیسی اور قواعد و ضوابط کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔
    نوٹس میں مزید کہا گیا کہ سیف اللہ ابڑو سینیٹ آف پاکستان میں پارٹی کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے، تحریک انصاف نے سیف اللہ ابڑو کو 2024 کے عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے پارٹی ٹکٹ سے نوازا۔اس سے قبل پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کر کے ان کے حق میں دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔