Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • قومی  ٹیم  کل رات آکلینڈ سے براستہ دبئی پاکستان کے لیے روانہ ہوگی

    قومی ٹیم کل رات آکلینڈ سے براستہ دبئی پاکستان کے لیے روانہ ہوگی

    پاکستان کرکٹ ٹیم نیوزی لینڈ کا دورہ مکمل کرکے پیر کے روز نیوزی لینڈ سے روانہ ہوگی۔ ایک گروپ کل رات آکلینڈ سے براستہ دبئی پاکستان کے لیے روانہ ہوگا جس کے بعد یہ اپنے اپنے شہروں کے لیے روانہ ہوجائیں گے۔ پاکستان کے لئے روانہ ہونے والے کھلاڑی 23 جنوری کو پاکستان پہنچیں گے۔ لاہور کے لیے روانہ ہونے والوں میں عامر جمال کے علاوہ ٹیم منیجمنٹ شامل ہے ۔شاہین آفریدی اور اعظم خان آئی ایل ٹی ٹوئنٹی کے لیے دبئی میں ٹھہریں گے۔پشاور جانے والے کھلاڑیوں میں افتخار احمد اور صاحبزادہ فرحان شامل ہیں ۔کراچی جانے والے کھلاڑی صائم ایوب اور حسیب اللہ ہیں جبکہ عمر گل ۔ یاسر عرفات حارث رؤف زمان خان اور محمد نواز اسلام آباد اور اسامہ میر سیالکوٹ کےلیے روانہ ہونگے۔ بنگلہ دیش پریمیئر لیگ کھیلنے والے کھلاڑی کل کرائسٹ چرچ سے ڈھاکہ کے لیے روانہ ہونگے ان میں بابراعظم۔ وسیم جونیئر ۔ محمد رضوان اور عباس آفریدی شامل ہیں۔

  • بھارت سے کابل جانے والا طیارہ گر کر تباہ

    بھارت سے کابل جانے والا طیارہ گر کر تباہ

    بھارت نئی دہلی سے کابل جانے والا طیارہ اتوار کی صبح افغانستان کے صوبے بدخشاں میں گر کر تباہ ہوگیا۔ طیارے میں 71 افراد سوار تھے جن میں عملے کے 6 افراد بھی شامل تھے۔ جس میں کسی کے بچنے کی امید نہیں۔یہ حادثہ اس وقت رونما ہوا جب طیارہ شدید خراب موسم میں کنٹرول ٹاور سے رابطہ کھو بیٹھا اور پھر راڈار سے بھی غائب ہوگیا۔ ابتدائی اطلاع کے مطابق جس علاقے میں یہ حادثہ رونما ہوا وہ طالبان کے کنٹرول میں ہے۔ ایک بیان میں طالبان نے کہا ہے کہ ان کا اس حادثے سے کوئی تعلق نہیں اور تحقیقات میں مکمل تعاون کیا جائے گا۔


    بھارت کی وزارتِ ہوابازی نے سوشل میڈیا پورٹل X پر ایک پوسٹ کے ذریعے واضح کیا ہے کہ یہ طیارہ بھارت کا نہیں ہے اور نہ ہی یہاں رجسٹرڈ ہے۔ پوسٹ کے مطابق یہ طیارہ مراکش سے تعلق رکھتا ہے۔افغانستان کے میڈیا آؤٹ لیڈ طلوع نیوز کے مطابق صوبہ بدخشاں کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ ذبیح اللہ امیری نے کہا ہے کہ یہ حادثہ ضلع کرنجان منجان میں رونما ہوا۔زیبام ضلع کی پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا کہ طیارہ توپ خانہ کے علاقے میں پہاڑ سے ٹکرا گیا تھا۔

  • ٹیکس آمدن میں ممکنہ شارٹ فال کی صورت میں ہنگامی پلان تیار

    ٹیکس آمدن میں ممکنہ شارٹ فال کی صورت میں ہنگامی پلان تیار

    ملک میں ٹیکس آمدن میں ممکنہ شارٹ فال کی صورت کے لیے ہنگامی پلان تیار کر لیا گیا۔ایف بی آر نے مزید ٹیکس لگانے کا منصوبہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے شیئر کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق ہنگامی پلان پر عمل کی صورت میں ماہانہ 18 ارب روپے آمدن متوقع ہے جس کے لیے چینی پر 5 روپے فی کلو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق مشینری، خام مال، سپلائز، خدمات اور ٹھیکوں پر بھی اضافی ٹیکس کا امکان ہے اور نگراں حکومت نے ٹیکس آمدن بڑھانے کا پلان آئی ایم ایف سے شیئر کر دیا ہے۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ذرائع کے مطابق ٹیکسٹائل اور لیدر کی مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) 15 سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے سال ٹیکس ہدف11 ہزار ارب روپے مقرر کرنے کا پلان ہے، اگلے سال کا ٹیکس وصولیوں کا ہدف رواں سال کے مقابلے میں 1590 ارب روپے زیادہ ہو گا۔ذرائع کے مطابق پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کا سالانہ ہدف 918 سے بڑھا کر 1065 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے۔ذرائع کے مطابق رواں سال 30 جون تک 49 ارب اور آئندہ سال147 ارب اضافی لیوی وصول کی جائے گی۔

  • تحقیقات کی جائیں کہ پیپلزپارٹی کے دفتر پر کس کی ہدایت پر حملہ کیا گیا؟ سعید غنی

    تحقیقات کی جائیں کہ پیپلزپارٹی کے دفتر پر کس کی ہدایت پر حملہ کیا گیا؟ سعید غنی

    کراچی میں رہنما پیپلزپارٹی سعید غنی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کل رات نارتھ ناظم آباد ڈسٹرکٹ سینٹرل آفس میں واقعہ پیش آیاجس کی سی سی ٹی وی موجودہے ، ہم نےسی سی ٹی وی فوٹیج اورمقدمےکےلئےدرخواست پولیس کودےدی ہے۔ سعید غنی نے کہاکہ ہم انہیں ان جیسا جواب نہیں دےسکتے، قانون کو ہاتھ میں نہیں لیں گے، ضلع وسطی میں بھی انہیں پریشانی ہورہی ہے، تمام سیاسی جماعتوں سےزیادہ کارکن ہمارے پاس ہیں، کل والےحملےمیں جوملوث ہیں انکے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتےہیں، حملہ کرنےوالوں کےسرپرستوں کو بھی بےنقاب کیاجائے،الیکشن کمیشن، پولیس اوررینجرز کوچاہیےکہ نوٹس لیں۔
    انہوں نے کہا کہ تحقیقات کی جائیں کہ پیپلزپارٹی کے دفتر پر کس کی ہدایت پر حملہ کیا گیا؟ ایم کیوایم کو گمان تھاکہ جس جگہ کوئی دوسری سیاسی جماعت کوئی کام نہیں کرسکتی تھی وہاں تمام جماعتیں کام کررہی ہیں ، انہوں نےکھلی دھمکی دی ہےکہ لڑنےپرآئیں گےتویہ کردیں گے،وہ کردیں گے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی انتخابات کیلئے بھرپور تیاری کررہی ہے، ن لیگ پنجاب میں خود کو بڑا مضبوط سمجھتے تھے، جب ن لیگ گراونڈ میں اتری تو پتہ چلا ان کے ساتھ کتنی عوام ہے۔پیپلز پارٹی رہنما نے کہا کہ عدالتی حکم تھاکہ شہربھرمیں جہاں سرکاری مقامات پرپوسٹرہیں اتاردیےجائیں، سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک ہوناچاہیے، یہ بھی کہا گیاکہ کہیں بڑی تصویرلگی ہےتوہٹادیں، قانون کےتحت ایف آئی آرکریں، بہت نامناسب رویہ ہے،ہم ایسےفیصلے نہیں مانیں گے، جبرا ایسا نہیں کروایاجاسکتا، پانی کی لائن کا کام 95 فیصد مکمل تھا،روک دیا گیا۔ یاد رہے کہ ایک روز قبل لاہور میں بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے الیکشن آفس پر نامعلوم مسلح افراد نے پیٹرول بم حملہ کردیا تھا جس میں آفس کے دروازے پر لگے بینرز اور پینا فلیکس سمیت دیگر اشیا جل کر راکھ ہوگئی تھیں۔

  • کراچی پولیس کے بعد کسٹم حکام بھی سنگین واردات میں ملوث نکلے

    کراچی پولیس کے بعد کسٹم حکام بھی سنگین واردات میں ملوث نکلے

    کراچی کے ایک شہری مدثر نے پریڈی تھانے میں مقدمہ درج کرایا ہے جس میں اغوا اور ڈکیتی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ درج مقدمے کے مطابق ملزمان میں کسٹمز انفورسمنٹ سندھ کا اسکواڈ انچارج اور ویئر ہاؤس کسٹم بلڈنگ شامل ہیں، جنہیں پولیس تاحال گرفتار نہ کرسکی۔پولیس کے بعد اب کسٹم حکام کے بھی مبینہ ڈکیتی اور شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے، شہری نے کسٹم اہلکاروں کے خلاف مقدمہ میں درج کرادیا۔
    پولیس کے مطابق 19 ملزمان کے خلاف ستمبر 2023 کو ڈکیتی کی درخواست دائر کی گئی تھی، ملزمان کے دیگر ساتھیوں میں شاہ وزیر اور اشلاح شامل ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف انکوائری مکمل کرلی گئی ہے، جوڈیشل مجسٹریٹ نے 17 جنوری 2024 کو گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔انکوائری رپورٹ کے مطابق ملزمان شہریوں کو بیوقوف بناکر نان کسٹم گاڑیاں فروخت کرنے میں ملوث ہیں، ملزمان نے شہری شہروز کو دھوکا دہی سے نان کسٹم پیڈ قیمتی گاڑی بیچی تھی، ملزمان نے اگست 2023 میں شہری شہروز کی گاڑی چھین لی تھی۔ملزمان کوعدالت نے پریڈی تھانے میں درج مقدمہ میں 6 فروری کو طلب کر رکھا ہے۔

  • خیبر پختونخوا مالی مشکلات کا شکار،ہسپتالوں میں دوایوں کی قلت

    خیبر پختونخوا مالی مشکلات کا شکار،ہسپتالوں میں دوایوں کی قلت

    خیبر پختونخوا میں دوایوں کی شدت قلت سامنے آگئی جس کی وجہ سے عوام مشکلات کا شکار ہے اس حوالے سے ڈی جی ہیلتھ نے سیکریٹری ہیلتھ کو اسپتالوں کے مالی مشکلات سے آگاہ کر دیا ہے، ڈی جی ہیلتھ کی جانب سے بھیجے گئے دستاویز کے مطابق اسپتالوں میں امیونوگلوبولینز، اینٹی ریبیز ویکسین اور ایمرجنسی ادویات کی کمی ہے، فنڈز نہ ہونے کے باعث ادویات کی خریداری کے لیے تاحال کوئی آرڈر نہیں دیا گیا۔ لہذا ادویات کی قلت دور کرنے کے لیے 9 ارب روپے فوری درکار ہیں، ادویات کی خریداری کی مد میں 2.67 ارب روپے کے بقایاجات ہیں، بقایات اور اضافی 6 ارب روپے جاری کیے جانے کی درخواست کی گئی ہے۔دستاویز میں کہا گیا ہے کہ محکمۂ خزانہ نے 2022-23 میں 99 کروڑ 77 لاکھ روپے کا بجٹ دیا، 99 کروڑ 77 لاکھ روپے کے بجٹ سے ادویات کی قلت ختم نہیں ہو سکتی۔سیکریٹری ہیلتھ خیبر پختون خوا محمود اسلم نے مقامی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ صوبہ مالی مشکلات کا شکار ہے، فنڈز کی کمی کا سامنا ہے۔ محمود اسلم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ادویات اور طبی آلات کے لیے خیبر پختون خوا حکومت سے پیسے مانگے ہیں، حکومت نے کہا ہے کہ وفاق سے فنڈز ملتے ہی رقم جاری کر دیں گے۔

  • ہاکی اولمپک کوالیفائر ایونٹ: جرمنی کے ہاتھوں پاکستان کو شکست کا سامنا

    ہاکی اولمپک کوالیفائر ایونٹ: جرمنی کے ہاتھوں پاکستان کو شکست کا سامنا

    عمان میں جاری ہاکی اولمپک کوالیفائر ایونٹ میں سیمی فائنل میچ میں جرمنی نے پاکستان کو چار گول سے شکست دیدی۔ عمان کے شہر مسقط میں جاری اولمپک کوالیفائر ایونٹ اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہوگیا ۔ جرمنی اور انگلینڈ کی ٹیمیں فائینل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں ۔ پہلے سیمی فائینل میں جرمنی نے پاکستان کو یکطرفہ چار گول سکور کرکے ایونٹ کے فائینل میں قدم رکھ دیا۔ پاکستان ہاکی ٹیم کو میچ میں ایک پینلٹی کارنر ملا جس سے فائدہ نہ اٹھایا جاسکا جبکہ جرمن ٹیم نے چار پینلٹی کارنرز حاصل کئے جس پر 50فیصد تناسب کے ساتھ دو گول سکور کرنے میں کامیاب رہی۔ جرمن ٹیم کی جانب سے دو فیلڈ گول بھی سکور کئے گئے۔ جرمنی کی جانب سے نکلس نے دو گول جبکہ جسٹس اور ٹام نے ایک ایک گول سکور کیا۔
    دوسرے سیمی فائینل میں برطانیہ نے نیوزی لینڈ کو ایک سنسنی خیز میچ میں 1-3 گول سے شکست دیکر فائینل کھیلنے کا اعزاز حاصل کرلیا۔ پاکستان ہاکی ٹیم کے پاس پیرس اولمپکس تک رسائی کا آخری موقع ابھی موجود ہے۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے مابین تیسری اور چوتھی پوزیشن کا میچ آج پاکستانی وقت کے مطابق 19:00 بجے کھیلا جائے گا۔پاکستان ہاکی ٹیم مینجمنٹ میں ہیڈ کوچ اولمپیئن شہناز شیخ، مینجر اولمپیئن دلاور حسین اور اسسٹنٹ کوچ و کنسلٹنٹ اولمیئن شکیل عباسی شامل ہیں۔

  • ملک میں شدید سرد موسم رہنے کا امکان ،محکمہ موسمیات

    ملک میں شدید سرد موسم رہنے کا امکان ،محکمہ موسمیات

    محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے اتوار کو ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم سرد اور خشک جبکہ شمالی علاقوں اورشمالی بلوچستان میں شدید سرد رہے گا۔اسلام آباد، پنجاب ، خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں اور بالائی سندھ میں شدید دھند/ سموگ چھائے رہے گی۔ جبکہ کشمیر میں صبح کے اوقات میں بعض مقامات پر کہر پڑنے کا امکان ہے۔ جبکہ آئندہ چند روز کے دوران یہی علاقے شدید دھند کی لپیٹ میں رہیں گے۔ دھند کے باعث شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ شدید دھند کے باعث پنجاب کے بیشتر علاقوں میں دن کے درجہ حرارت معمول سے کم رہیں گے۔
    محکمہ موسمیات کے مطابق پیر کو اسلام آباد، پنجاب ، خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں اور بالائی سندھ میں شدید دھند/ سموگ چھائے رہے گی۔ کشمیر میں صبح کے اوقات میں بعض مقامات پر کہر پڑنے کا امکان ہے۔پیر کو ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہے گا جبکہ شمالی علاقوں اور شمالی بلوچستان میں شدید سرد رہے گا۔
    گذشتہ 24 گھنٹے کا موسم ملک کے بیشتر علاقوں میں سرد اور خشک رہا جبکہ شمالی علاقوں میں شدید سرد رہا۔ اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار ،پنجاب ، بالائی سندھ اورخیبر پختونخوا کے میدانی علاقے شدید دھند/سموگ کی لپیٹ میں رہے۔آج لہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 12 ، اسکردو منفی 09 ، گلگت ، استور، کالام منفی 06 اور سری نگر میں منفی 05 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

  • عام انتخابات میں موروثی سیاست کا رواج  کیسے برقرار رکھا گیا ہے ؟

    عام انتخابات میں موروثی سیاست کا رواج کیسے برقرار رکھا گیا ہے ؟

    جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن آبائی علاقے ڈیرہ اسماعیل خان سے قومی اسمبلی کی نشست پر امیدوار ہیں جبکہ ان کے 2 بھائی مولانا عبید الرحمٰن اور مولانا لطف الرحمٰن بھی وہیں سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔مولانا فضل الرحمٰن کے 2 بیٹے مولانا اسعد محمود اور مولانا اسجد قومی اسمبلی کی نشستوں کے لیے انتخابی دنگل میں موجود ہیں۔سابق وزیرِ اعلیٰ اکرم خان درانی بنوں سے صوبائی اسمبلی کی 2 نشتوں پر قسمت آزما رہے ہیں جبکہ ان کے بیٹے زاہد اکرم درانی جے یو آئی کے ہی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کی سیٹ کے لیے میدان میں ہیں۔علاوہ ازیں خواتین کی مخصوص نشستوں پر خواہر نسبتی شاہدہ اختر علی کو قومی اسمبلی اور ریحانہ اسماعیل کو صوبائی اسمبلی کے لیے ٹکٹ جاری کیا گیا ہے۔
    سابق وزیرِ اعلیٰ اور تحریکِ انصاف پارلیمنٹیرینز کے چیئرمین پرویز خٹک بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں رہے انہوں نے بھی ورکرز کو پیچھے دھکیل کر ٹکٹ اپنوں میں ہی بانٹے ہیں۔پرویز خٹک نوشہرہ سے قومی اسمبلی جبکہ ان کے بیٹے ابراہیم خٹک اور اسماعیل خٹک صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر اور داماد عمران خٹک بھی قومی اسمبلی کے لیے قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے صوبائی صدر علی امین گنڈاپور نے بھی اپنوں میں ہی ٹکٹ تقسیم کیے ہیں۔علی امین گنڈا پور کے بھائی فیصل امین بھی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اور ان کے بھائی عاقب اللّٰہ بھی صوابی سے پی ٹی آئی کی طرف سے میدان میں ہیں۔
    سابق وزیرِ اعلیٰ ارباب جہانگیر (مرحوم) کے فرزند سابق وفاقی وزیر ارباب عالمگیر اور ان کی اہلیہ عاصمہ عالمگیر دونوں الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔ ارباب عالمگیر کے بیٹے ارباب زرک خان پشاور سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر پی پی پی کے امیدوار ہیں۔پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب اور ان کے کزنز بھی قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر امیدوار ہیں۔علاوہ ازیں نواز لیگ کے امیر مقام اور ان کے بھائی ڈاکٹر عباد سوات اور شانگلہ سے کھڑے ہوئے ہیں۔قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پاؤ اور اور ان کے صاحبزادے اسکندر شیر پاؤ چارسدہ سے الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

  • جلسے میں لہرایا جانے والا پرچہ عمران خان نے نہ کھولا اور نہ پڑھا تھا،اعظم خان

    جلسے میں لہرایا جانے والا پرچہ عمران خان نے نہ کھولا اور نہ پڑھا تھا،اعظم خان

    جلسے میں لہرائے جانے والے پرچے کو بانی پی ٹی آئی عمران خان نے نہ پڑھا اور نہ ہی کھولا تھا لہذا مجھے یہ نہیں پتہ کہ بانی پی ٹی آئی سے کونسا پرچہ لہرایا تھا ،۔سائفر کیس میں ایف آئی اے کی جانب سے بطور گواہ پیش کیے گئے سابق پرنسپل سیکریٹری اور پی ٹی آئی کے رہنما اعظم خان نے اڈیالہ جیل میں قائم آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں بیان دیا کہ مجھے نہیں معلوم ریلی میں لہرایا جانے والا صفحہ کیا تھا۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ تفتیشی افسر کے سامنے 161 کا بیان بغیر حلف اور 164 کا بیان مجسٹریٹ کے سامنے بھی بغیر حلف کے ریکارڈ کیا گیا۔انہوں نے اعتراف کیا کہ 161 اور 164 کے بیان پر دستخط ان کے ہی ہیں، تاہم، کہا کہ ریلی میں لہرائے جانے والے پرچے کا علم نہیں ہے، وہ پرچہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے نہ پڑھا اور نہ ہی کھولا تھا۔انہوں نے کہا کہ ’بانی پی ٹی نے کہا کہ امریکی حکام نے سائفر پیغام کے ذریعے بلنڈر کیا اور اندرونی عناصر کو اس کے ذریعے پیغام بھیجا ہے، سائفر کو اس وقت کے آرمی چیف اور اپوزیشن پارٹیز کے منتخب حکومت کی تبدیلی کے لیے اکٹھا ہونے پر ایکسپوز کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے‘۔
    اعظم خان نے عدالت میں دیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ میں نے نہیں جانتا وہ پیپر کیا تھا، جب عمران خان کو سائفر کی کاپی دی تو وہ پُرجوش ہو گئے تھے، اس کاپی میں ہمارے سفیر کی امریکی حکومت سے میٹنگ کی تفصیلات تھیں۔اعظم خان نے بیان میں کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ سائفر میں واضح طور پر عدم اعتماد کی تحریک کا ذکر ہے، بانی پی ٹی آئی نے کہا سائفر عدم اعتماد کی تحریک کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے، سابق وزیراعظم نے سائفر کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت تصور کیا اور اسے مزید پڑھنے کے لیے اپنے پاس رکھ لیا تھا، پھر کچھ دنوں بعد میں نے پوچھا تو بانی پی ٹی آئی نے کہا سائفر گم ہو گیا ہے۔انہوں نے عدالت میں بیان دیا کہ بانی پی ٹی آئی نے ملٹری سیکرٹری، اے ڈی سی اور ذاتی اسٹاف کو سائفر تلاش کرنے کی ہدایت کی، بانی پی ٹی آئی نے کہا وہ عوام کو اعتماد میں لینا چاہتے ہیں کہ کیسے ان کی حکومت کے خلاف سازش تیار ہوئی، میں نے بانی پی ٹی آئی کو بتایا کہ سائفر ڈی کوڈ دستاویز ہے وہ مخصوص الفاظ میں منکشف نہیں کیا جاسکتا۔
    اپنے بیان میں اعظم خان نے بتایا کہ میری تجویز پر بنی گالہ میں وزیراعظم کی زیر صدارت میٹنگ ہوئی، جس میں اُس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سیکرٹری خارجہ اور میں نے شرکت کی، جس میں سائفر ماسٹر کاپی سے پڑھا گیا۔اعظم خان نے کہا کہ ’جہاں تک مجھے یاد پڑھتا ہے سائفر کا معاملہ مارچ کے آخری ہفتے میں وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ ہوا، جس کے بعد کابینہ نے اس معاملے کو قومی سلامتی کمیٹی کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا‘۔
    انہوں نے بیان دیا کہ ’نیشنل سیکورٹی کمیٹی میٹنگ میں پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر متعلقہ ملک کو احتجاجی مراسلے دینے کا فیصلہ ہوا، سائفر کاپی ملنے کے بعد میرے خیال میں زیادہ سے زیادہ ایک سال میں واپس کرنا ضروری ہوتا ہے، جب تک میں پرنسپل سیکرٹری رہا تب تک سائفر کاپی واپس نہیں ہوئی تھی، بانی پی ٹی آئی نے کافی بار ملٹری سیکرٹری اور دیگر اسٹاف کو کاپی تلاش کرنے کی ہدایت کی اور یہ کام وہ دونوں کررہے تھے‘۔