دھند کی شدت میں اضافے کے باعث مختلف موٹر ویز کو ٹریفک کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا۔ترجمان موٹر وے پولیس عمران احمد کے مطابق مقام: ایم-2، اسلام آباد ٹول پلازہ (کلومیٹر 349) تا ٹھلیاں انٹرچینج (کلومیٹر 343)۔ موٹر وے ایم 5 ظاہر پیر سے شیر شاہ، ایم 3 فیض پورسے رجانہ تک بند کر دی گئی ہے۔عمران احمد نے بتایا کہ موٹر وے ایم 4 کو شیر شاہ سے پنڈی بھٹیاں تک بند کر دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ موٹرویز کو عوام کی حفاظت اور محفوظ سفر یقینی بنانے کے لیے بند کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دھند کے موسم میں صبح 10 سے شام 6 بجے تک بہترین سفری اوقات ہیں، روڈ یوزرز گاڑی کے آگے اور پیچھے دھند والی لائٹس کا استعمال کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ترجمان موٹر وے پولیس کا کہنا تھا کہ قومی شاہراہوں پر دھند کا دورانیہ موسم سرد ہونے کے ساتھ بڑھ گیا، روڈ یوزرز زیادہ سے زیادہ دن کے اوقات پر سفر کرنے کو ترجیح دیں۔عمران احمد کے مطابق دھند میں تیز رفتاری سے پرہیز کیا جائے اور اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھا جائے، شہری معلومات اور مدد کے لیے ہیلپ لائن 130 سے رابطہ کر سکتے ہیں۔
Author: صدف ابرار
-

شدید دھند کے باعث مختلف موٹرویز بند
-
پاکستانی وزیر خارجہ کا ایرانی ہم منصب کو اسلام آباد دورے کی دعوت
تہران سے بیان جاری کی گئی ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایرانی ہم منصب حسین امیر عبداللہیان کو اسلام آباد کے دورے کی دعوت دے دی۔
تہران سے جاری بیان میں ایرانی وزارت خارجہ نے پاکستانی وزیر خارجہ کی طرف سے ملنے والی دعوت کی تصدیق کی ہے۔ یرانی وزارت خارجہ نے پاکستان کے ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ رحیم حیات کا خصوصی حوالہ دیا اور کہا کہ میرے ساتھی رحیم حیات کی مدد سے ہم دونوں دوست ممالک تناؤ ختم کرنے کا نیا رکارڈ قائم کرسکتے ہیں۔
ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ پاک ایران وزرائے خارجہ کی ٹیلیفونک گفتگو انتہائی مثبت رہی، جلیل عباس جیلانی اور حسین امیر عبداللہیان نے اعلیٰ سطح پر تعلقات کی بحالی پر بات کی۔وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ ہم یہ اقدام دونوں ممالک کے سفیروں کی واپسی اور وزراء خارجہ کے باہمی دوروں سے کرسکتے ہیں۔ -

نگراں وفاقی کابینہ نے ایران کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے اور سفارتی تعلقات کو بحال کرنے کا فیصلہ کرلیا ،اجلاس کا اعلامیہ جاری
قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت نگراں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں نگراں وزیرخارجہ نے کابینہ کو پاک ایران کشیدگی بارے اگاہ کیا۔نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ایران کے ساتھ تناؤ ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایران سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کی منظوری دے دی۔ نگراں وزیراعظم نے کابینہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک ہے ، اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، ایران برادرملک ہے جس کے ساتھ برادرانہ، احترام اور پیار کے تعلقات ہیں، پاکستان ایران کی جانب سے تمام مثبت اقدامات کا خیرمقدم کرے گا۔
وفاقی کابینہ اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کی گئی۔اس سے قبل نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملکی سالمیت اور خود مختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔وفاقی کابینہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ ایران سے تعلقات خراب ہوں، ایران نے غلط اقدام کیا جس کا جواب دیا۔ذرائع کے مطابق نگراں وزیر خارجہ نے کابینہ اجلاس کو بریفنگ دی۔قومی سلامی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان اور ایران کے درمیان کشیدگی کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، سربراہ پاک فضائیہ اور نیول چیف بھی شریک ہوئے۔نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی، نگراں وزیر خزانہ شمشاد اختر، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری خارجہ اور انٹیلی جنس اداروں کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ کوئی کشیدگی نہیں چاہتا، تاہم قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں پاکستان کے ایران میں تعینات سفیر نے بریفنگ دی، بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان نے ایرانی سرزمین پر کامیاب انٹیلیجینس بیسڈ آپریشن کیا، پاکستان نے ایرانی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی۔
نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے زیر صدارت ہونے والے قومی سلماتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، آرمی، نیوی اور ایئر چیف شریک ہوئے، اجلاس میں پاکستان کی خودمختاری کی بلا اشتعال اور غیر قانونی خلاف ورزی کے خلاف افواج پاکستان کے پیشہ ورانہ اور متناسب ردعمل کو سراہا گیا، اجلاس کے دوران شرکا کو پاکستان اور ایران کے درمیان موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس کے شرکا کو خطے میں مجموعی سکیورٹی صورتحال پر اس کے اثرات کے حوالے سے سیاسی اور سفارتی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا، فورم نے آپریشن مارگ بر سرمچار کا بھی جائزہ لیا، آپریشن ایران کے اندر غیر حکومتی جگہوں پر مقیم پاکستانی نژاد بلوچ دہشت گردوں کے خلاف کامیابی سے انجام دیا،اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں سرحدوں کی صورتحال کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی، اجلاس میں قومی خودمختاری کی مزید خلاف ورزی کا جامع جواب دینے کے لیے ضروری مکمل تیاریوں کے بارے میں بھی غور کیا گیا۔
پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت قطعی طور پر ناقابل تسخیر اور مقدم ہے، کسی کی طرف سے کسی بھی بہانے اسے پامال کرنے کی کوشش کا ریاست کی پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا، پاکستانی عوام کی سلامتی اور تحفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اسے یقینی بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔ -

غیر قانونی سموں کے خلاف کریک ڈاؤن
اسلام آباد میں سموں کے غیر قانونی اجراء کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، وفاقی دارالحکومت میں واقع موبائل فون کمپنی کی فرنچائز کے خلاف کارروائی کی گئی۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور ایف آئی اے سائبر کرائم نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سموں کے غیر قانونی اجراء کے خلاف مشترکہ کارروائی کی ہے۔فرنچائز، سموں کے غیرقانونی اجرا میں ملوث پائی گئیں، سم اسٹاک کے اندر سے 2 فعال اور 151 مشتبہ سمیں برآمد ہوئیں۔ سموں کے ساتھ 4 بی وی ایس ڈیوائسز بھی قبضے میں لے لیں، ایف آئی اے ٹیم نے موقع پر ہی 2 افراد کو گرفتار کرلیا۔ -

کراچی کے عوام 75 سال سے قر بانیاں دے رہی ہے،خالد مقبول صدیقی
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ کراچی اب کراچی کے نمائندوں کو ملنے والا ہے۔ سندھ کے شہری علاقے 75 سال سے جمہوریت کیلئے قربانی دیتے رہے۔ کراچی کے عوام کی رائے ایم کیو ایم کے انتخابی جلسوں میں سامنے آگئی۔کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کنوینر ایم کیو ایم خالد مقبول صدیقی کراچی کے عوام نے ایم کیو ایم کے جلسوں میں آکر اپنے حقیقی نمائندوں کو انتخابات سے پہلے ہی مینڈیٹ دے دیا ہے،21 جنوری کو اس مینڈیٹ پر مہر لگے گی۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ 21 جنوری کو ایم کیو ایم پاکستان کا جلسہ ہوگا۔ خالد مقبول صدیقی نے کہا اہل کراچی نے جلسوں میں شرکت کر کے اپنا مینڈیٹ پہلے ہی دے دیا ہے۔
-

نیپرا نے کےالیکٹرک کو بجلی تقسیم کا نیا لائسنس جاری کر دیا
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے مطابق کےالیکٹرک کو 20 سال کے لیے لائسنس جاری کیا گیا ہے، کےالیکٹرک کے عبوری لائسنس کی مدت آج پوری ہو رہی تھی۔کےالیکٹرک کو بجلی تقسیم کا نیا لائسنس جاری کر دیا گیا۔نیپرا کا کہنا ہے کہ کےالیکٹرک کو اس سے پہلے 6 ماہ کا عبوری لائسنس دیا گیا تھا، اب کےالیکٹرک کو بجلی تقسیم کا لائسنس 18 جنوری 2044 تک جاری کیا گیا ہے۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے کےالیکٹرک کے لائسنس کی تجدید کی درخواست پر سماعت کی تھی اور نیپرا نے 28 نومبر 2023 کو سماعت مکمل کرنے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
-

الیکشن کمیشن کی جانب سے پلاسٹک پینافلیکس پر پابندی لگا نے کا خدشہ
انتخابی مہم اور عام انتخابات میں ہزاروں ٹن پلاسٹک استعمال کئے جانے کا خدشہ ہے،لاکھوں پینا فلیکس اور بینرز بننے سے فضائی آلودگی کا خدشہ ہے،غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے الیکشن کمیشن سے انتخابی مہم میں پلاسٹک کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی درخواست جمع کرائی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن میں عام انتخابات میں پلاسٹک کے پینا فلیکس پر پابندی کیلئے درخواست دائرکردی گئی ،الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی مہم میں پلاسٹک کے پینا فلیکس پر پابندی عائد کرنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عام انتخابات میں سیاسی امیدواروں کی جانب سے انتخابی مہم میں لاکھوں ٹن پلاسٹک کا استعمال کیا جائے گا،پلاسٹک کے پینافلیکس،بینرز انتخابی نشان پر پابندی لگائی جائے ،درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن ایسی پالیسی بنائے کہ انتخابی مہم میں پلاسٹک کے استعمال پر پاپندی لگائی جائے،8 فروری کو انتخابات میں ووٹروں کیلئے کھانے پینے کے انتظامات میں ڈسپوزیبل میٹریل استعمال کیا جائے گا، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے جاری کردہ ماحول دوست نوٹیفکیشن پر عمل درآمد کروائے،غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے گورنمنٹ پنجاب اور اسلام آباد یائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کر دی گئی۔
-

پی سی بی منیجمنٹ کمیٹی کے سربراہ ذکا اشرف نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ ذکا اشرف نے استعفیٰ دیدیا ۔ چئیرمین پی سی بی مستعفی ہوگئے ۔ذرائع کے مطابق چیئر مین پی سی بی نے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کو اپنا استعفی بھیج دیا۔ذرائع کے مطابق ذکا اشرف نےبطور چئیرمین مینجمنٹ کمیٹی اور ممبر بورڈ آف گورنر سے استعفی دیا،ذکا اشرف نے مینجمنٹ کمیٹی اجلاس میں استعفے کا اعلان کیا۔ان کا کہنا تھاکہ میں کرکٹ کی بہتری کےلیے کام کر رہا تھا، اس طرح ہمارے لیے کام کرناممکن نہیں۔انہوں نے کہاکہ میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں، اب وزیر اعظم پر منحصر ہے کہ وہ کس کو نامزد کرتے ہیں۔
-

پنجاب حکومت کو ایک ارب 19 کروڑ روپے درکار
عام انتخابات کی سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور نفری کے کھانے پینے، پیٹرول اور خریداری کے لیے ایک ارب 19 کروڑ روپے درکار ہونگے ، پنجاب پولیس ذرائع کے مطابق جلسوں، جلوسوں کی مانیٹرنگ اور الیکشن کے لیے آئی جی آفس لاہور میں کنٹرول روم بنا دیا گیا جبکہ پولنگ اسٹیشن کا ازسر نو سروے کرکے پولنگ اسٹیشنز کی اسکیم بھی الیکشن کمیشن کو بھجوادی گئی۔ پولیس حکام کی جانب سے کہا گیا ہے کہ مطلوبہ فنڈ سے الیکشن کی ڈیوٹی پر تعینات نفری کے کھانے پینے، پیٹرول اور سیکیورٹی اشیا کی خریداری کی جائے گی، فنڈز میں 53 کروڑ پیٹرول کی مد میں جبکہ 66 کروڑ روپے کھانے پینے اور سیکیورٹی آلات کے لیے طلب کیے ہیں۔
پولیس حکام نے بتایا کہ کنٹرول روم اے آئی جی آپریشنز کی سربراہی میں کام کرے گا جبکہ کنٹرول روم میں 15 ڈیٹا انٹری آپریٹرز اضافی تعینات کردیے گئے، کنٹرول روم سے جلسے، جلوسوں کے دوران تمام خلاف ورزیوں کے حوالے سے رپورٹس لی جائیں گی۔48 ہزار 817 پولنگ اسٹیشنز میں 5 ہزار 624 انتہائی حساس، 14ہزار 72 حساس اور 30 ہزار کے قریب نارمل ڈیکلئیر کیے گئے ہیں۔پنجاب پولیس نے کہا کہ تمام اضلاع میں کنٹرول روم میں بروقت رپورٹس کے لیے افسران کو فوکل پرسنزمقرر کیا گیا ہے، الیکشن ڈے پر ڈیوٹی کے لیے ایک لاکھ 30 ہزار جوان ڈیوٹی سرانجام دیں گے -

بابر اعظم کے ساتھ ان کی کامیاب اوپننگ جوڑی ٹوٹنے سے ٹیم پر منفی اثرات مرتب ہوئے،رضوان
محمد رضوان کے 90 کے شاندار ناقابل شکست اسکور کے باوجود، نیوزی لینڈ نے کرائسٹ چرچ کے ہیگلے اوول میں چوتھے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کو سات وکٹوں سے شکست دے کر پانچ میچوں کی سیریز میں مسلسل چوتھی جیت حاصل کر دی اور 4-0 کی اہم برتری قائم کی۔ پاکستان کو ابتدا میں مشکل کا سامنا کر نا پڑا کیونکہ صائم ایوب دوبارہ بلے سے اثر کرنے میں ناکام رہے اور اننگز کے دوسرے اوور میں 1 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ پاکستان نے وکٹ کیپر بلے باز رضوان کے ناقابل شکست 90 رنز کی بدولت 20 اوورز میں 5 وکٹوں پر 158 رنز بنائے۔ اوپننگ بلے باز نے اپنی 63 گیندوں کی اننگز کے دوران چھ چوکے اور دو چھکے لگائے۔ انہوں نے بابر اعظم 19، کے ساتھ 51 رنز کی شراکت داری جوڑی اور افتخار احمد (10، 14b) کے ساتھ پانچویں وکٹ کے لیے 40 رنز کی شراکت قائم کی۔رضوان نے میچ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی میں بابر اعظم کے ساتھ ان کی کامیاب اوپننگ جوڑی ٹوٹنے سے ٹیم پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔رضوان نے کہا، "آپ کہہ سکتے ہیں کہ [افتتاحی جوڑی کو توڑنے سے] پاکستان کو نقصان پہنچا ہے۔ لیکن میں کہہ سکتا ہوں کہ بابر بھائی کا دل بڑا ہے۔ ہم دونوں نے اتفاق کیا کہ افتتاحی جوڑی کو الگ کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہم دونوں نے انتظامیہ سے کہا کہ وہ جو بھی امتزاج چاہیں آزما سکتے ہیں۔ مشکل اس وقت پیدا ہوتی ہے جب آپ ان چیزوں کو توڑ دیتے ہیں جو پہلے سے اچھی طرح کام کر رہی تھیں۔ تاہم، انتظامیہ اس بات کو دیکھ رہی ہے کہ مختلف امتزاج سے کیا بہترین نکالا جا سکتا ہے۔” سیریز کا پانچواں اور آخری ٹی ٹوئنٹی اتوار کو اسی مقام پر کھیلا جائے گا