Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • آلودہ ترین شہروں میں  آج کراچی تیسرے جبکہ لاہور پانچویں نمبر پر موجود ہے

    آلودہ ترین شہروں میں آج کراچی تیسرے جبکہ لاہور پانچویں نمبر پر موجود ہے

    شہر قائد کراچی کی فضائی آلودگی انتہائی مضرِ صحت ہے، ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق آج کراچی آلودگی کے اعتبار سے دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق کراچی کی فضاؤں میں آلودہ ذرات کی مقدار 213 پرٹیکیولیٹ میٹرز ریکارڈ کی گئی ہے۔لاہور دنیا بھر میں آلودگی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر ہے۔ ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق لاہور کی فضاؤں میں آلودہ ذرات کی مقدار 178 پرٹیکیولیٹ میٹرز ہے۔ آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں بنگلا دیش کا دارالحکومت ڈھاکا پہلے نمبر پر ہے۔ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق ڈھاکا کا ایئر کوالٹی انڈیکس 304 ریکارڈ کیا گیا ہے۔درجہ بندی کے مطابق 151 سے 200 درجے تک آلودگی مضر صحت ہے جبکہ 201 سے 300 درجے تک آلودگی انتہائی مضرِ صحت ہوتی ہے۔ایئر کوالٹی انڈیکس کے مطابق 301 سے زائد درجہ خطرناک آلودگی کو ظاہر کرتا ہے۔

  • حکومت کا آئی ایم ایف کو رواں مالی سال سرکاری ملازمین کی پینشن اور تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کی یقین دہانی

    حکومت کا آئی ایم ایف کو رواں مالی سال سرکاری ملازمین کی پینشن اور تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے کی یقین دہانی

    انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے گیس کی قیمتوں میں ششماہی بنیادوں پر ردوبدل کرنے، ٹیکسٹائل اور لیدر سیکٹر پر سیلز ٹیکس بڑھانے اور چینی پر 5 روپے فی کلو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ دستاویزات کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف کو کہا ہے کہ رواں مالی سال پینشن اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کریں گے، وفاقی ترقیاتی بجٹ میں ترجیحات بہتر بناکر 61 ارب روپے کی بچت بھی کی جائے گی۔ قدرتی آفات کے علاوہ کوئی سپلیمنٹری گرانٹ جاری نہ کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق نگران حکومت نے توانائی کے شعبے میں دو سال میں سبسڈی ختم کرنے کا پلان آئی ایم ایف کو دیدیا ہے۔پنجاب، سندھ اور خٰبرپختونخوا میں ٹیوب ویلز پر حکومتی سبسڈی آئندہ مالی سال سے ختم کی جائے گی۔
    اس کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کو متعدد سیکٹرز میں سیلز ٹیکس، ایڈوانس انکم ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی یقین دہانی بھی کروائی گئی ہے۔
    آئی ایم ایف دستاویز کے مطابق حکومت نے کہا ہے کہ توانائی کی قیمتوں کو بروقت بڑھا کر سبسڈی کا بوجھ کم سے کم کرنے کی کوشش کی جائے گی اور اگر ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل ہوتا ہوا نہ محسوس ہوا تو اقدامات اٹھائیں گے۔دستاویزات کے مطابق ایف بی آر نے آئی ایم ایف کو کہا ہے کہ ریٹیلز، پراپرٹی، تعمیرات اور ڈیجیٹل مارکیٹس جیسے شعبوں سے پورا ٹیکس وصول کریں گے، اسی طرح ٹیکسٹائل اور لیدر کے شعبوں کیلئے سیلز ٹیکس پندرہ فیصد سے بڑھا کر اٹھارہ فیصد کریں گے، ماہانہ آٹھ ارب روپے وصولی کیلئے چینی پر پانچ روپے فی کلو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگائیں گے اور مشینری کی درآمد، ایک فیصد، صنعتی خام مال کی درآمد پر ایک فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس لگائیں گے۔ اسکے علاوہ کنٹریکٹس، سروسز، سپلائی پر ایک فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس، کمرشل امپورٹرز پر بھی ایک فیصد ٹیکس عائد کریں گے اور نان فائلزر کو فائلز بنانے کیلئے ڈور ٹو ڈور مہم بھی شروع کریں گے۔دوسرے مرحلے میں ٹیوب ویلز پر ایک چوتھائی کراس سبسڈی ختم کرنے کا ارادہ ہے، بلوچستان میں بھی ٹیوب ویلز پر سبسڈی ختم کرنے کے مختلف آپشنز پر کام کیا جارہا ہے اور فرٹیلائزر سیکٹر کو گیس پر دی جانے والی کراس سبسڈی مارچ تک ختم کردی جائے گی۔دستاویزات میں مزید بتایا گیا کہ پاور جنریشن لاگت پورا کرانے کیلئے مقامی گیس اور درآمدی آر ایل این جی کی قیمتیں برابر کی جائیں گی۔ڈسکوز کا انتظامی کنٹرول نجی شعبے کو دینے کیلئے ٹرانزیکشن ایڈوائزر اپریل تک تعینات ہوجائے گا، سب سے زیادہ نقصان کرنے والے پچیس سو فیڈرز پر آزادانہ مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔جبکہ ایکسپورٹ کو دی جانے والی کراس سبسڈی ختم کرکے نان ایکسپورٹ انڈسٹری کے برابر کی جائیں گی۔رپورٹ کے مطابق سال میں گیس کا سرکلر ڈیٹ چار سو اکیس ارب روپے اضافے سے دوہزا چوراسی ارب روپے ہوگیا ہے۔گیس کی قیمتوں میں ششماہی بنیادوں پر ردروبدل کرنے کو فریم ورک پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا، اس کے لیے اوگرا پندرہ فروری تک گیس کی قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔

  • اسلام آباد میں شدید دھند کی وجہ سے فلائٹ آپریشن متاثر

    اسلام آباد میں شدید دھند کی وجہ سے فلائٹ آپریشن متاثر

    وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں گزشتہ رات سے شدید دھند چھائی ہو ئی ہے جسکی وجہ سے اسلام آباد کا فلائٹ شیڈول متاثر ہوا ہے، مختلف ایئر پورٹس کی 19 پروازیں منسوخ اور 2 پروازیں متبادل ایئر پورٹس پر منتقل کی گئیں۔ پی آئی اے کی اسلام آباد سے دوحہ پی کے 287 اور دبئی پی کے 233 کو منسوخ کر دیا گیا جبکہ ابوظہبی، مسقط اور شارجہ سے اسلام آباد کی پروازیں پی کے 262، 292 اور 181 بھی منسوخ کر دی گئیں۔ایوی ایشن ذرائع کے مطابق دبئی سے اسلام آباد کے لیے پی آئی اے کی پرواز پی کے 234 کراچی اتار لی گئی جبکہ پی آئی اے کی العین سے اسلام آباد کی پرواز پی کے 144 کی پشاور میں لینڈنگ کی گئی۔اسلام آباد سے کوئٹہ کے لیے ای آر 540، 541 اور گلگت کے لیے پی کے 601، 602 بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔کراچی سے اسلام آباد کے لیے ای آر 504، لاہور کے لیے ای آر 522، 523 اور پشاور کے لیے ای آر 551 کو منسوخ کیا گیا ہے۔جدہ سے سعودی ایئر کی لاہور کے لیے پرواز ایس وی 738 اور ایس وی 739 بھی منسوخ کر دی گئی ہے جبکہ پی آئی اے کی دبئی سے لاہور پی کے 236 اور شارجہ سے ملتان پی کے 294 کو بھی منسوخ کیا گیا ہے۔

  • پی سی بی چئیر مین زکاء اشر ف کا مستعفی ہونے سے پہلے  مینجمنٹ کمیٹی کا چوتھا اجلاس

    پی سی بی چئیر مین زکاء اشر ف کا مستعفی ہونے سے پہلے مینجمنٹ کمیٹی کا چوتھا اجلاس

    اپنے عہدے سے مستعفی ہونے سے پہلے پی سی بی چئیر مین ذکا اشرف نے جمعہ کو لاہور میں نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی مینجمنٹ کمیٹی (MC) کے چوتھے اجلاس کی صدارت کی۔ کمیٹی کے دس ارکان میں سے ایک رکن خرم کریم سومرو آن لائن میٹنگ میں شامل ہوئے۔جبکہ کلیم اللہ خان، اشفاق اختر، محمد مصدق اسلام، عظمت پرویز، ظہیر عباس، خواجہ ندیم، مصطفی رمدے، اے ایس سی، ذوالفقار ملک اور ذکا اشرف خود موجود تھے۔اراکین کو پی سی بی کے امور اور مالیاتی امور پر بریفنگ دی گئی۔ سی ایف او نے بقیہ موجودہ مالی سال کے لیے وقفہ وقفہ سے مینجمنٹ اکاؤنٹس اور مالی تخمینہ پیش کیا۔چیئرمین ایم سی جناب ذکاء اشرف نے موجودہ ایم سی کے دور میں حاصل کیے گئے سنگ میلوں کا خلاصہ پیش کیا جو جولائی کے پہلے ہفتے میں تشکیل دیا گیا تھا۔ جن کے مطابق
    • آئی سی سی کی جانب سے پی سی بی کے تعاون میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
    • BCCI کے وفد نے 2008 کے بعد پہلی بار پاکستان کا دورہ کیا۔
    • پاکستان نے ایمرجنگ ایشیا کپ (پاکستان شاہینز) اور سری لنکا کے خلاف اوے ٹیسٹ سیریز جیتی۔
    • پاکستان نے ICC رینکنگ میں دوبارہ نمبر 1 ون ڈے مقام حاصل کر لیا۔
    • پاکستان نے 15 سال بعد ایشیا کپ کی میزبانی کی۔
    • 80 تک خواتین کے گھریلو معاہدے پہلی بار پیش کیے گئے ہیں۔
    • پاکستانی خواتین نے پہلی بار جنوبی افریقہ کے خلاف T20I سیریز 3-0 سے جیتی۔
    • پاکستان کی خواتین ٹیم نے پہلی بار نیوزی لینڈ کے خلاف T20I سیریز جیتی۔
    • HBL پاکستان سپر لیگ 9 اور 10 کے لیے میڈیا کے حقوق اور لائیو سٹریمنگ کے حقوق ٹینڈر کیے گئے اور اب تک کی سب سے زیادہ پیشکشیں حاصل کی گئیں۔
    • پاکستان کے کرکٹ ماحولیاتی نظام میں سائنس، مصنوعی ذہانت، اور بائیو مکینکس کے انضمام کے لیے Loughborough یونیورسٹی کے ذیلی ادارے DineticQ کے ساتھ سروس لیول کے معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
    • کرکٹ کی ترقی کے متعدد منصوبوں پر تعاون کے لیے مڈل سیکس کاؤنٹی کرکٹ کلب (MCCC) کے ساتھ مفاہمت نامے پر عمل درآمد
    • کھلاڑیوں کی ترقی، HBL PSL-BBL کے درمیان اسٹریٹجک اتحاد، کیوریٹر کے تربیتی پروگراموں، اور مرد اور خواتین جونیئر کرکٹ کے باہمی دوروں کے لیے کرکٹ آسٹریلیا کے ساتھ مفاہمت تک پہنچ گئی۔
    انہوں نے ایم سی کے اراکین، پی سی بی انتظامیہ اور عملے کا اس دور میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ ایم سی کے ممبران اور پی سی بی انتظامیہ نے چیئرمین ایم سی کا ان کی قیادت پر شکریہ ادا کیا۔میٹنگ کے اختتام پر ذکاء اشرف نے اعلان کیا کہ انہوں نے بطور چیئرمین اور ممبر ایم سی اپنا استعفیٰ معزز سرپرست نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اپنے اختتامی کلمات میں ذکاء اشرف نے پی سی بی کے معزز سرپرست کا شکریہ ادا کیا کہ ان پر اعتماد اور اعتماد کیا گیا اور پاکستان اور پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا اظہار کیا۔

  • پی سی بی  کے قائم مقام چیئرمین  مینجمنٹ کمیٹی کون ہونگے؟

    پی سی بی کے قائم مقام چیئرمین مینجمنٹ کمیٹی کون ہونگے؟

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی ) مینجمنٹ کمیٹی کے قائم مقام چیئرمین کا نام سامنے آگیا۔ذرائع کے مطابق شاہ خاور کو ذکاء اشرف کے مستعفی ہوجانے کے بعد قائم مقام چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی بنایا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق شاہ خاور کی زیر نگرانی ہی پی سی بی کے نئے الیکشن ہوں گے۔پی سی بی حکام کے مطابق ذکاء اشرف کی طرف استعفیٰ نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کو پیش کا بتایا گیا ہے۔پی سی بی حکام کے مطابق ذکاء اشرف نے اس موقع پر پیٹرن انچیف پی سی بی کے اعتماد کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کرکٹ کےلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔اس سے قبل ذکاء اشرف نے چیئرمین پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی اور ممبر بورڈ آف گورنرز کے عہدے سے استعفیٰ دیاتھا۔

  • وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے موبائل فنانسنگ اسکیم ناکامی کا شکار

    وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے موبائل فنانسنگ اسکیم ناکامی کا شکار

    وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے موبائل فون فنانسنگ اسکیم کے متوقع آغاز کو دھچکا لگا ہے۔ وفاقی حکومت نے دوبارہ جائزہ لینے کے لیے پالیسی مسودہ واپس لے لیا ہے۔ اس وقت وزارت قانون کی جانب سے زیر غور اس پالیسی کو آنے والے دنوں میں وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔ اگر منظوری مل جاتی ہے تو توقع ہے کہ یہ اسکیم اس ماہ کے آخر یا اگلے مہینے کے اوائل میں شروع کی جائے گی۔حکومت نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزارت قانون کی جانب سے مکمل جانچ پڑتال کے بعد پالیسی کو دوبارہ جمع کرائے۔
    رواں ماہ کے اوائل میں وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے موبائل فونز قسط پر دینے کی پالیسی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کی تھی۔ ذرائع نے انکشاف کیا کہ وفاقی حکومت کی منظوری ملنے کے بعد وزارت آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے پالیسی ہدایات جاری کرنے کا ارادہ کیا۔ جس سے سیل فون فنانسنگ پروگرام کے آغاز کی راہ ہموار ہوگی۔اقساط پر موبائل فونز کی پہل کا مقصد شہریوں کو بااختیار بنانا ہے، خاص طور پر محدود مالی وسائل کے حامل افراد کو بلا سود اقساط کے منصوبوں کے ذریعے موبائل فون رکھنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ حکومت تیزی سے بدلتے ہوئے تکنیکی منظر نامے میں رسائی اور استطاعت کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
    یہ پالیسی کم آمدنی والے افراد کی مدد کرنے کے لئے اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ انہیں ضروری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو۔ یہ اقدام ایک جامع ڈیجیٹل منظر نامہ تخلیق کرنے کے وژن کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے جو آبادی کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔

  • اسلام آباد میں  100 کرکٹ لیگ کی ٹرافی کی رونمائی

    اسلام آباد میں 100 کرکٹ لیگ کی ٹرافی کی رونمائی

    100 بالوں پر مشتمل منفرد کرکٹ لیگ پاکستان بھی پہنچ پہنچ گئی 100 کرکٹ لیگ کی ٹرافی کی رونمائی اسلام آباد میں کردی گئی، 100 کرکٹ لیگ ٹورنامنٹ 30 جنوری سے 14 فروری تک اسلام آباد میں منعقد ہوگا،100کرکٹ لیگ میں ملک بھر سے 12 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں،100کرکٹ لیگ میں سہیل تنویر سمیت ملک کے نامور کرکٹرز حصہ لے رہے ہیں ، صدر 100 لیگ سید ذیشان نقوی نے عزم ظاہر کیا کہ کوشش کریں گے 100لیگ سالانہ بنیادوں پر ہو اسکے علاوہ چیئرمین 100 لیگ سید مخدوم شاہ نے کہا کہ 100 لیگ جڑواں شہروں کے لئے بڑا اچھا پلیٹ فارم ہے، واضح رہے اس سے پہلے 100 لیگ صرف انگلینڈ میں کھیلی جاتی تھی،

  • بانی پی ٹی آئی جس حال میں ہیں اس کے ذمے دار وہ خود ہیں، پرویز خٹک

    بانی پی ٹی آئی جس حال میں ہیں اس کے ذمے دار وہ خود ہیں، پرویز خٹک

    نوشہرہ میں جلسے سے خطاب میں چیئرمین پی ٹی آئی پی نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل بانی پی ٹی آئی کے بغیر روشن ہے، ن لیگ،پی پی پی نے باریاں بانٹ کر ملکی معیشت کوکمزور کیا۔ پرویز خٹک نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی جس حال میں ہیں اس کے ذمے دار وہ خود ہیں، آٹھ فروری کو ہونے والے انتخابات میں مخالفین کو اپنی حیثیت کا اندازہ ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے پاکستان کو نقصان اٹھانا پڑا ہے، بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ جھوٹ پر جھوٹ بولا۔ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرین (پی ٹی آئی پی) اور سابق وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ کرپٹ حکمرانوں نے پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

  • ن لیگ نے مدمقابل امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ نہ دے کر ہمیں عزت دے دی،چوھدری سالک

    ن لیگ نے مدمقابل امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ نہ دے کر ہمیں عزت دے دی،چوھدری سالک

    شہباز شریف نے ہر معاملے میں ہمیں سپورٹ کیا،ہم نے ن لیگ سے وہ ہی4 سیٹیں مانگیں۔ جہاں سے ق جیتی تھی۔مسلم لیگ (ق) کے سینئر رہنما چوہدری سالک حسین نے کہا ہے کہ ن لیگ کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ اب ختم ہوچکا ہے۔گجرات میں میڈیا سے گفتگو میں چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ن لیگ نے گجرات میں پارٹی ٹکٹیں نہ دینے کا فیصلہ اپنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے مدمقابل امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ نہ دے کر ہمیں عزت دی ہے۔چوہدری سالک نے یہ بھی کہا کہ سیاستدانوں کو اپنی غلطی تسلیم کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایران ایشو پردنیا نے مذمت کی، ہر کوئی چاہتا ہے امن رہے۔

  • پانامہ ایک حقیقت ہے جسکا جواب آج تک نہیں دیا گیا،بلاول بھٹو زرداری

    پانامہ ایک حقیقت ہے جسکا جواب آج تک نہیں دیا گیا،بلاول بھٹو زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے پاناما ایک حقیقت ہے جس کا آج تک جواب نہیں دیا گیا، یہ خان صاحب کا بنایا ہوا نہیں تھا۔ پاناما ایک انٹرنیشنل ایشو تھا، لیکن یہ لوگ جیل سے نکل کر انہیں اپارٹمنٹ میں رہنے لگے جس کا پاناما میں الزام تھا۔نجی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم سے بھی انتخابی نشان چھینا گیا تھا، قانون میں لکھا ہوا ہے کہ انٹراپارٹی الیکشن ہوں، میں نہیں چاہوں گا کہ کسی سیاسی جماعت سے انتخابی نشان چھینا جائے، کہ ن لیگ کے ساتھ مل کر حکومت نہیں بنائیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے عام انتخابات 2024ء کے بعد حکومت سازی کی پارٹی پالیسی بیان کردی۔
    اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے ن لیگ کی محبت میں نہیں پاکستان اور جمہوریت کے لیے فیصلے لیے، ہمیں ن لیگ کی ضرورت نہیں پڑے گی آزاد امیدواروں کے ساتھ ملکر حکومت بنائیں گے۔پی پی چیئرمین نے کہا کہ کس نے کہا کہ پیپلز پارٹی ن لیگ کے ساتھ اتحادی حکومت میں آئے گی، دسمبر سے خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ میں مہم چلا رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ چاروں صوبوں سے اچھا رسپانس مل رہا ہے الیکشن میں سرپرائز دیں گے، عوام کی اکثریت نواز شریف کو چوتھی مرتبہ وزیراعظم نہیں دیکھنا چاہتی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم کبھی تشدد یا غیر جمہوری راستہ نہیں اپنایا، ہمارے فیصلے پر تنقید ہوسکتی ہے لیکن ہماری نیت غلط نہیں تھی،پی پی چیئرمین نے کہا کہ اگست میں آئی ایم ایف ڈیل بڑی مشکل سے حاصل کی، اسی وقت سیلاب اور پنجاب میں ضمنی الیکشن آرہے تھے، پی ایم ایل این کی سوچ تھی کہ سیاسی فائدہ ہوگا اور یہ ضمنی الیکشن جیت جائیں، ان کے فیصلے سے معیشت کا نقصان ہوا اور یہ ضمنی الیکشن بھی ہارے۔ان کا کہنا تھا کہ پھر آخر میں شہباز شریف وزیر خزانہ کو پاکستان میں چھوڑ کر آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے کیے، یہ ان کا سیاسی فیصلہ تھا جس کا نقصان اب ان کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔