پنجاب یونیورسٹی کی ہاسٹل نمبر 8 میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں سمبڑیال سے تعلق رکھنے والی اُمِ حبیبہ، جو انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (IER) کے پانچویں سمسٹر کی طالبہ تھیں، نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔ اُمِ حبیبہ کی لاش ہاسٹل کے کمرہ نمبر 91 میں پنکھے سے لٹکی ہوئی پائی گئی۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق، اُمِ حبیبہ کو سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والا ایک لڑکا مبینہ طور پر بلیک میل کر رہا تھا، جو اس سانحے کی ممکنہ وجہ سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم، پولیس کی جانب سے اس بات کی تصدیق ہونا باقی ہے اور تفتیش جاری ہے۔
پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا ہے۔ ہاسٹل وارڈن نے دروازہ توڑ کر اُمِ حبیبہ کی لاش کمرے سے نکالی۔ پنجاب یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق، اُمِ حبیبہ کے والدین کو اس افسوسناک واقعے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ خودکشی کی اصل وجوہات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
Author: صدف ابرار

پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ نے ہاسٹل میں خودکشی کر لی، بلیک میلنگ کا انکشاف

حزب اللہ کا اسرائیل پر مہلک ڈرون حملہ: 3 ہلاکتیں، 67 زخمی
حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کے شمالی علاقے حیفا میں ڈرون حملے کے نتیجے میں بڑی تباہی دیکھنے میں آئی ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق، اس حملے میں 3 اسرائیلی ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ 67 دیگر افراد زخمی ہیں، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیلی فضائی دفاعی نظام حملے کو روکنے میں ناکام رہا، جس کے باعث علاقے میں فضائی حملے کے سائرن بھی متحرک نہیں ہوئے۔حزب اللہ کے ڈرون نے حیفا کے جنوب میں واقع گولانی بریگیڈ بیس کے ڈائننگ ہال کو نشانہ بنایا۔ یہ ڈائننگ ہال ایک اہم فوجی اڈے کے اندر موجود ہے، جہاں فوجی اہلکار کھانے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ اس حملے کے بعد، حزب اللہ نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ یہ کارروائی بیروت اور لبنان پر اسرائیل کی جارحیت کے جواب میں کی گئی ہے، اور یہ "خیبر” سیریز کی کارروائیوں کا حصہ ہے۔حزب اللہ نے مزید وضاحت کی کہ انہوں نے "حیفہ کے جنوب میں بنیامینہ میں گولانی بریگیڈ کے ایک تربیتی کیمپ” کو نشانہ بنانے کے لیے کئی کامیکاز ڈرونز کا استعمال کیا۔ اس حملے سے قبل، حزب اللہ نے ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کو بھی ڈرونز کے ذریعے کریات شمونہ بستی میں کئی اہداف کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پورے علاقے میں دھوئیں کے بادل چھا گئے۔
اسرائیلی فوج نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ حزب اللہ کی طرف سے لبنان سے تقریباً 320 پروجیٹائل فائر کیے گئے۔ یہ گولہ باری خاص طور پر ایسے وقت میں کی گئی جب یہودیوں کے مذہبی تہوار "یوم کپور” کے باعث ہفتے کو عام تعطیل تھی۔ اسرائیلی فوج کے مطابق، یوم کپور کے دوران حزب اللہ کی طرف سے فائر کیے گئے تقریباً 320 میزائل اسرائیل میں داخل ہوئے۔اس واقعے کے بعد عالمی برادری کی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا یہ حملہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نیا آغاز ہے یا یہ ایک اور سرحدی جھڑپ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ہمیشہ موجود رہی ہے، اور اس طرح کے حملے علاقے میں عدم استحکام کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
13 اکتوبر کو پیدا ہونے والی چند مشہور شخصیات
تحقیق و ترسیل : آغا نیاز مگسی
کلاڈیوس (54ء)
کلاڈیوس ایک رومی حکمران تھے، جن کی پیدائش 10 ق م میں ہوئی۔ وہ رومی سلطنت کے چوتھے امپراتور تھے، جنہوں نے 41 سے 54 عیسوی تک حکومت کی۔ ان کا پورا نام کلاودیوس ڈسکوس تھا اور وہ اپنی حکومت کے دوران بہت سے اہم اصلاحات کے لئے مشہور تھے۔ انہوں نے سلطنت کی حدود کو بڑھایا، خاص طور پر برطانیہ کی فتح کے ذریعے، اور مختلف سماجی اور انتظامی اصلاحات بھی کیں۔ کلاڈیوس نے اپنے دور میں کئی اہم تعمیری منصوبوں کا آغاز کیا، جن میں روم میں نئے راستوں، پلوں، اور عوامی عمارتوں کی تعمیر شامل تھی۔ ان کی حکومت کو طبعی اور ذہنی طور پر کمزور سمجھا جاتا تھا، لیکن انہوں نے اپنی فطرت اور حکومتی اصلاحات کے ذریعے سلطنت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔رضیہ سلطانہ (1240ء)
رضیہ سلطانہ، دہلی کی پہلی اور واحد خاتون حکمران تھیں، جن کی پیدائش 1205 میں ہوئی۔ وہ سلطنت دہلی کی حکمرانی میں ایک اہم شخصیت تھیں اور 1236 سے 1240 تک تخت پر رہیں۔ رضیہ نے اپنے والد، شمس الدین التمش کے بعد اقتدار سنبھالا، اور اپنے دور حکومت میں کئی اہم اصلاحات کیں۔ انہوں نے اپنی حکمرانی کے دوران خواتین کے حقوق کے فروغ، تعلیم کی بہتری، اور نظام انصاف کو مضبوط کرنے کی کوشش کی۔ رضیہ سلطانہ نے اپنی فوج کو فعال رکھا اور کئی کامیاب جنگوں میں شرکت کی، جس نے انہیں عوام میں مقبول بنا دیا۔ ان کی حکومت کو کچھ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر درباری سیاست اور مخالفین کی جانب سے مزاحمت کا۔ لیکن وہ ایک مضبوط اور بااثر حکمران کی حیثیت سے یاد کی جاتی ہیں۔ ان کا دور حکومت، خواتین کی قیادت کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور ان کی خدمات نے تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔1857ء۔مرزا الغ طاہر ۔ مغل شہزادہ تھا۔مرزا الغ طاہر کی پیدائش 1830ء میں لال قلعہ، دہلی میں ہوئی، اُس وقت اُن کے دادا اکبر شاہ ثانی کی حکومت قائم تھی۔ الغ طاہر کی والدہ کریم النساء خانم تھیں۔ 1837ءمیں جب اُن کے والد بہادر شاہ ظفر تخت نشیں ہوئے تو الغ طاہر کی عمر 7 سال تھی۔ جنگ آزادی 1857ءکے سارے واقعات الغ طاہر نے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔انگریزوں نے اُنہیں 13 اکتوبر 1857ء کو دہلی میں پھانسی دے دی۔ اُس وقت عمر 27 سال تھی،
1900ء۔۔امیر مینائی۔ اردو کے مشہور و معروف شاعر و ادیب تھے۔ وہ 21 اکتوبف 1829 کو شاہ نصیر الدین شاہ حیدر نواب اودھ کے عہد میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ امیر احمد نام مولوی کرم محمد کے بیٹے اور مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تھے۔ لکھنؤ میں پیداہوئے درسی کتب مفتی سعد اللہ اور ان کے ہمعصر علمائے فرنگی محل سے پڑھیں۔ خاندان صابریہ چشتیہ کے سجادہ نشین حضرت امیر شاہ سے بیعت تھی۔ شاعری میں اسیر لکھنوی کے شاگرد ہوئے۔ 1852ء میں نواب واجد علی شاہ کے دربار میں رسائی ہوئی اور حسب الحکم دو کتابیں شاد سلطان اور ہدایت السلطان تصنیف کیں۔ 1857ء کے بعد نواب یوسف علی خاں کی دعوت پررامپور گئے۔ ان کے فرزند نواب کلب علی خاں نے اُن کو اپنا استاد بنایا۔ نواب صاحب کے انتقال کے بعد رامپور چھوڑنا پڑا۔ 1900 میں حیدرآباد گئے وہاں کچھ دن قیام کیا تھا۔ کہ بیمار ہو گئے۔ اور وہیں انتقال کیا۔
سوامی وویکانند کیشا گردا (1911ء)
سوامی وویکانند کیشا گردا ایک اہم ہندو رہنما تھے، جنہوں نے روحانیت اور سماجی اصلاحات کے لئے کام کیا۔ ان کی مشہوریت کا بڑا سبب ان کی تعلیمات اور نظریات تھے، جنہوں نے ہندو مذہب کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے 1893 میں شکاگو میں ہونے والی عالمی مذہبی کانفرنس میں ہندوستان کی نمائندگی کی، جہاں ان کی تقریر نے دنیا بھر میں ہندو ثقافت کو متعارف کروایا۔ سسٹر نویدیتا، جو ایک سماجی کارکن تھیں، ان کے کام کی ساتھی تھیں اور انہوں نے خواتین کے حقوق اور تعلیم کے فروغ کے لئے بھی کام کیا۔کارل ایڈلف گجرلپ (1919ء)
کارل ایڈلف گجرلپ ایک نوبل انعام یافتہ ڈنمارکی مصنف اور شاعر تھے، جن کی پیدائش 1857 میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی تحریروں میں انسانی زندگی، محبت، اور سماجی مسائل کو عکاسی کی۔ ان کے کاموں نے ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا، اور انہیں ان کی منفرد تخلیقی صلاحیتوں کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ انہیں 1917 میں نوبل انعام برائے ادب سے نوازا گیا۔مولانا خلیل احمد سہارنپوری (1927ء)
مولانا خلیل احمد سہارنپوری ایک اہم عالم دین اور مصنف تھے، جنہیں "براہین قاطعہ” کے مؤلف کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان کی تحریریں اسلامی تعلیمات اور فلسفے پر مبنی تھیں، اور انہوں نے اپنے زمانے میں کئی اہم مسائل پر اپنی رائے دی۔ ان کی تحریروں کا اثر آج بھی مسلمانوں کے درمیان محسوس کیا جاتا ہے۔بی بیناڈیریٹ (1968ء)
بی بیناڈیریٹ ایک امریکی اداکارہ، گلوکارہ، اور سماجی کارکن تھیں، جو 1906 میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے اپنی فنی زندگی میں کئی کامیاب کردار نبھائے اور اپنے گانے کی وجہ سے بھی مشہور ہوئیں۔ وہ سماجی انصاف اور انسانی حقوق کے لئے اپنی سرگرمیوں کے لئے بھی معروف تھیں۔ ان کی کامیابیوں نے انہیں ایک اہم شخصیت بنا دیا۔والٹر ہوایسن (1987ء)
والٹر ہوایسن ایک نوبل انعام یافتہ امریکی طبیعیات دان تھے، جن کی پیدائش 1902 میں ہوئی۔ انہیں 1965 میں نوبل انعام برائے طبیعیات سے نوازا گیا، جو ان کی فزکس میں مہارت اور تحقیق کے اعتراف کے طور پر دیا گیا۔ ان کی تحقیق نے طبیعیات کے کئی شعبوں میں اہم پیش رفت کی اور انہوں نے سائنسی کمیونٹی میں اپنا نام قائم کیا۔
13 اکتوبر 1987ء کو پاکستان کے نامور فلمی ہدایت کار انور کمال پاشا وفات پا گئے۔ انور کمال پاشا کا تعلق لاہور کے ایک علمی گھرانے سے تھا۔ ان کے والد حکیم محمد شجاع کا شمار اردو کے مشہور ادیبوں میں ہوتا ہے جن کی تحریر کردہ کئی کہانیوں پر برصغیر کے نامور ہدایت کاروں نے فلمیں بنائی تھیں۔ انور کمال پاشا نے سرکاری ملازمت کو خیرباد کہہ کر ہدایت کار لقمان کی فلم ’’شاہدہ‘‘ کے مکالمے لکھ کر فلمی صنعت سے وابستگی اختیار کی، پھر بطور ہدایت کار اپنے والد کے ناول ’’باپ کا گناہ‘‘ پر فلم ’’دو آنسو‘‘ بنائی۔ 7 اپریل 1950ء کو ریلیز ہونے والی یہ فلم پاکستان کی پہلی اردو سلور جوبلی فلم تھی۔ اس فلم میں صبیحہ، سنتوش کمار، شمیم بانو، ہمالیہ والا، شاہنواز،گلشن آرا،اجمل، علائو الدین اور آصف جاہ نے اہم کردار ادا کئے تھے۔ انور کمال پاشا نے فلمی دنیا کو متعدد کامیاب فلمیں دیں جن میں غلام، قاتل، سرفروش، چن ماہی اور انار کلی کے نام سرفہرست ہیں جبکہ ان کی دیگر فلموں میںگھبرو، دلبر، رات کی بات،انتقام،گمراہ، لیلیٰ مجنوں، وطن، محبوب ، سازش، سفید خون، خاناں دے خان پروہنے، پروہنا، ہڈحرام اور بارڈر بلٹ کے نام شامل ہیں۔ انور کمال پاشا نے فلم ’’وطن‘‘ کے کہانی نگار کے طور پر نگار ایوارڈ حاصل کیا۔ اس کے علاوہ 1981ء میں انہیں ان کی تیس سالہ فلمی خدمات پر خصوصی نگار ایوارڈ بھی عطا ہوا تھا۔ انور کمال پاشا اپنے والد کی طرح ایک اچھے ادیب اور مترجم بھی تھے۔ انہوں نے پرل ایس بک کے مشہور ناول گڈ ارتھ کا اردو ترجمہ بھی کیا تھا۔ انور کمال پاشا نے فلمی اداکارہ شمیم بانو سے شادی کی تھی۔وہ لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔کشور کمار (1987ء)
کشور کمار، جن کا اصل نام آشرم گنگولی تھا، ایک معروف بھارتی گلوکار، ہدایت کار، اور اداکار تھے۔ ان کی پیدائش 1929 میں ہوئی۔ انہوں نے اپنی فنی زندگی میں ہندی سنیما کے لیے کئی یادگار گانے گائے، جن میں رومانوی، غمگین، اور خوشی کے گانے شامل ہیں۔ کشور کمار کی آواز کی خوبصورتی اور ان کے گانے کی تخلیقی صلاحیت نے انہیں اپنی نسل کا سب سے مقبول گلوکار بنا دیا۔ انہوں نے کئی کامیاب فلموں میں بھی اداکاری کی، اور اپنی ہدایت کاری کے ذریعے بھی سنیما کی دنیا میں اپنا مقام بنایا۔ ان کا انتقال 1987 میں ہوا، لیکن ان کی موسیقی آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔لی ڈک تھو (1990ء)
لی ڈک تھو، ویتنام کے ایک نوبل انعام یافتہ جنرل اور سیاست دان تھے، جن کی پیدائش 1911 میں ہوئی۔ انہوں نے ویتنام کی جنگ میں اہم کردار ادا کیا اور ملکی سیاست میں ایک اہم شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہیں 1973 میں نوبل انعام برائے امن سے نوازا گیا، جو ان کی امن کے فروغ کی کوششوں کے اعتراف میں تھا۔ ان کی قیادت نے ویتنام کو ایک طاقتور قوم میں تبدیل کرنے میں مدد فراہم کی۔جین پیٹرس (2000ء)
**تفصیلات:** جین پیٹرس ایک معروف امریکی اداکارہ تھیں، جن کی پیدائش 1926 میں ہوئی۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں مختلف ٹیلی ویژن شوز اور فلموں میں کام کیا، اور ان کی اداکاری کو سراہا گیا۔ جین پیٹرس نے اپنی صلاحیتوں کے ذریعے سنیما میں ایک خاص مقام بنایا، اور ان کے کردار آج بھی یاد کیے جاتے ہیں۔ ان کا انتقال 2000 میں ہوا۔برٹرام بروک ہاؤس (2003ء)
برٹرام بروک ہاؤس ایک مشہور کینیڈی طبیعیات دان تھے، جن کی پیدائش 1918 میں ہوئی۔ انہوں نے اپنے تحقیق کے ذریعے طبیعیات کے کئی شعبوں میں اہم ترقیات کیں اور انہیں 1994 میں نوبل انعام برائے طبیعیات سے نوازا گیا۔ ان کی تحقیق نے طبیعیات کے بنیادی اصولوں کی وضاحت میں مدد فراہم کی اور وہ سائنسی دنیا میں ایک معتبر شخصیت بن گئے۔ ان کا انتقال 2003 میں ہوا، اور ان کی خدمات سائنسی برادری میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔یہ شخصیات اپنی فنی، سائنسی، اور سماجی خدمات کی وجہ سے تاریخ میں نمایاں مقام رکھتی ہیں، اور ان کی وراثت آج بھی جاری ہے۔
2004ء۔نروپا رائے- بالی وڈ کی معروف اداکارہ۔ انہوں نے بالی وڈ فلموں میں ماں کے کردار نبھا کر بہت شہرت حاصل کی۔ نروپا نے 1946 میں گجراتی فلموں سے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز کیا اور درجنوں فلموں میں اپنے کردار سے پورا پورا انصاف کیا۔ ’ امر اکبر انتھونی‘، ’ دیوار‘، ’ سہاگ‘ اور ’ خون پسینہ‘ ان کی کامیاب فلمیں رہیں تاہم ’ دو بیگھے زمین‘ میں وہ اپنے فن کے عروج پر نظر آئیں۔باربرا کینٹ (1907-2011)
باربرا کینٹ ایک کینیڈی نژاد امریکی اداکارہ تھیں جنہوں نے اپنی فنی زندگی کے دوران کئی مشہور فلموں میں کام کیا۔ وہ 1907 میں پیدا ہوئیں اور 1920 کی دہائی کے آخر سے 1930 کی دہائی کے اوائل تک ہالی ووڈ کی مشہور چہروں میں شمار ہوتی تھیں۔ کینٹ نے اپنی مسکراہٹ اور دلکش شخصیت کی وجہ سے شائقین کے دلوں میں جگہ بنائی۔ انہوں نے خاص طور پر خاموش فلموں میں کام کیا، لیکن بعد میں آنے والی بولتی فلموں میں بھی اپنی شراکت رکھی۔ ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ سنیما کی دنیا میں گزرا، جہاں انہوں نے مختلف کرداروں کے ذریعے اپنی اداکاری کا لوہا منوایا۔پھومیپھون ادونیادیت (1927-2016)
پھومیپھون ادونیادیت، تھائی لینڈ کے بادشاہ تھے، جو 1946 سے 2016 تک حکومت میں رہے۔ ان کی حکمرانی کے دوران، وہ ملک کی سیاسی، سماجی، اور اقتصادی ترقی میں ایک اہم کردار ادا کرتے رہے۔ بادشاہ پھومیپھون نے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کی اور تھائی لینڈ کے عوام کے لئے بہت سے فلاحی پروگرام شروع کیے۔ ان کا عہد 70 سال سے زیادہ طویل تھا، جو انہیں تاریخ کے طویل ترین حکمرانوں میں سے ایک بناتا ہے۔ ان کی وفات 2016 میں ہوئی، جس کے بعد ملک بھر میں سوگ کی فضا چھا گئی۔ڈاریو فو (1926-2016)
ڈاریو فو ایک مشہور اطالوی ڈراما نگار، اداکار، ہدایت کار، اور کمپوزر تھے، جنہیں 1997 میں ادب کے شعبے میں نوبل انعام دیا گیا۔ ان کی تخلیقات میں طنز، سیاسی و سماجی مسائل، اور انسانی حقوق کے مسائل کو اجاگر کیا گیا۔ ان کی سب سے مشہور تخلیقات میں "ماضی کے چور” اور "آسکینٹو کا چہرہ” شامل ہیں، جنہوں نے انہیں بین الاقوامی شہرت دی۔ ڈاریو فو کی زندگی کا مقصد سچائی کو سامنے لانا اور ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔ ان کی وفات 2016 میں ہوئی، اور ان کے کام آج بھی عالمی سنیما اور تھیٹر میں متاثر کن سمجھے جاتے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کا آئینی ترمیم کے خلاف سخت موقف
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ملک شفقت اعوان نے آئینی ترمیم کے معاملے پر سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کبھی بھی اس ترمیم کو پاس نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اپنے بانی کے ساتھ ہیں اور کسی بھی غیر قانونی یا غیر آئینی ترامیم کو روکنے کا عزم رکھتے ہیں۔ملک شفقت اعوان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہمیں کسی نے نہیں چھپایا، بلکہ ہم خود چھپ کر بیٹھے ہیں۔ ہماری پوری فیملی کہیں نہ کہیں چھپی ہوئی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھول جائیں کہ پی ٹی آئی کا کوئی ایک ایم این اے ان کے ساتھ دے گا، کیونکہ ہم ایسے غیر آئینی اقدامات کی حمایت نہیں کریں گے۔ شفقت اعوان نے یہ بھی کہا کہ "ہم آئینی ترمیم کبھی بھی پاس نہیں ہونے دیں گے۔ لوگوں کو 70 سے 100 کروڑ روپے تک کی آفر کی گئی ہے۔” انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کا پارٹی کے فیصلوں میں شامل رہنے کا ارادہ ہے اور باقی معاملات میں پارٹی کی پالیسی کے مطابق فیصلہ کریں گے۔
دوسری جانب، پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی خواجہ شیراز نے بھی اس موضوع پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر کسی نے رقم کی پیشکش نہیں کی۔ خواجہ شیراز نے کہا کہ "ہمارے گھروں کے تقدس کو پامال کیا جارہا ہے، اور ہم ہر سطح پر اس فسطائیت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔خواجہ شیراز نے یہ بھی واضح کیا کہ پنجاب کے تمام پی ٹی آئی ایم این ایز اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے ہیں اور انہوں نے اپنی فیملی کو 15 جولائی سے گھر پر نہیں رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم ضمیر کا سودا کریں اور آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیں، لیکن میں نے کسی سے رقم کی پیشکش نہیں لی۔یہ بیانات اس وقت سامنے آئے ہیں جب ملک میں سیاسی ہلچل جاری ہے، اور پی ٹی آئی رہنماوں کا عزم ہے کہ وہ آئینی ترمیم کے خلاف مضبوطی سے کھڑے رہیں گے۔
تعلیم سب کا حق، پاکستان میں 4 کروڑ بچے تعلیمی مواقع سے محروم ہے،حافظ نعیم الرحمان
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے ملک میں تعلیم کی حالت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں تقریباً 4 کروڑ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ انہوں نے تعلیم کو سب کے لیے ضروری قرار دیا اور کہا کہ تمام بچوں کو ایک جیسی تعلیم ملنی چاہیے۔ یہ بات انہوں نے ایکسپو سینٹر کراچی میں منعقدہ نمائش کے دوران طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں 5 فیصد لوگوں کو اچھی تعلیم میسر ہے جبکہ 95 فیصد اعلیٰ تعلیم سے محروم ہیں، جو کہ ایک بڑی تشویش کی بات ہے۔تقریب میں طلبہ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان ٹیکنالوجی کے حوالے سے شعور اجاگر کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسلامی جمعیت طلبہ نے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کے مواقع فراہم کر کے انہیں اپنے ٹیلنٹ کو ظاہر کرنے کے مواقع دیے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ پاکستان میں 40 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور 10 کروڑ لوگ معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پرائمری سطح سے ہی طلبہ کو آئی ٹی اور ٹیکنالوجی کی تعلیم دی جائے تاکہ ان کو بہتر روزگار کے مواقع میسر آسکیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کراچی کے بعد لاہور میں بھی "بنو قابل” پروگرام لانچ کرنے جارہی ہے، جس کا مقصد طلبہ کی تعلیم، تربیت، اور اخلاقیات کی بہتری ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور سرکاری سطح پر مفت آئی ٹی کی تعلیم فراہم کی جانی چاہیے۔خطاب کے دوران انہوں نے حکومتی اقدامات پر تنقید کی اور کہا کہ عوام کو بجلی کے بلوں کے بوجھ تلے دبا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے لوگ تعلیم کے بارے میں سوچنے کے لیے وقت نہیں نکال پا رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومتوں نے کرپشن اور "گھوسٹ سکولوں” کے باعث تعلیمی نظام میں اصلاحات کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ خاص طور پر پنجاب حکومت نے 13 ہزار سرکاری سکولوں کو پرائیوٹائز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ عوام کے مفاد میں نہیں ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے سندھ میں طلبہ تنظیموں کے انتخابات نہ کرانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام طلبہ کی تعلیمی حقوق کی جدوجہد کو روکنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں سے خوفزدہ ہے، اسی لیے وہ انتخابات کرانے سے گریز کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمعیت طلبہ نے نوجوانوں کو مفت آئی ٹی کی تعلیم اور مختلف کورسز فراہم کرنے کا آغاز کیا ہے، جس میں مختلف کمپنیوں کے ساتھ رابطے کے ذریعے ٹیکنالوجی پروگرام تیار کیا گیا ہے۔ اب تک 50 ہزار طلبہ کو آئی ٹی پروگرام میں تربیت دی جا چکی ہے، جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔حافظ نعیم الرحمان کے ان خیالات نے پاکستان میں تعلیم کی بہتری کے لیے حکومت کی ذمہ داریوں اور نوجوانوں کی طاقت پر زور دیا ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے جماعت اسلامی کی جانب سے تعلیمی اصلاحات کے لیے جاری کوششوں کا بھی ذکر کیا۔
جیل میں عمران خان کی صحت کی صورتحال تشویشناک ہے، شیخ وقاص اکرم
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیخ وقاص اکرم نے حال ہی میں ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے بانی، عمران خان، کی صحت کے حوالے سے ان کے پاس اچھی خبریں نہیں آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جیل کے اندر سے مثبت اطلاعات نہیں مل رہی ہیں، جو پارٹی کے مستقبل کے لیے تشویش کا باعث ہے۔شیخ وقاص اکرم نے مزید وضاحت کی کہ عمران خان کی صحت پر توجہ دینا انتہائی اہم ہے، اور ان کی بہنوں اور ڈاکٹروں کے بیان کے مطابق اگر وہ ٹھیک ہیں تو اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا عمران خان سے ڈاکٹروں کی ملاقات نہیں کروائی جا سکتی؟
رہنما نے یہ بھی بتایا کہ سنگجانی کا جلسہ مؤخر کرنے کے لیے صبح کو جیل کھولنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، اور یہ بھی کہا کہ عمران خان کو گزشتہ دو ہفتوں سے وکلا اور فیملی ممبرز تک ملنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے پارٹی کے اندر اختلافات کی خبریں مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام افواہیں غلط ہیں۔ پی ٹی آئی نے احتجاج کے ذریعے اپنے نقطہ نظر کو اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اور انہوں نے پنجاب کے احتجاج کے بعد اسلام آباد جانے کا بھی عندیہ دیا۔
شیخ وقاص اکرم نے آئینی ترمیم کے حوالے سے اپنی جماعت کے روابط کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ہم جس کے ساتھ رابطہ میں ہیں، ان کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما بھی اس معاملے پر بات چیت کر رہے ہیں، اور ہماری آواز ان تک پہنچنی چاہیے تاکہ مسئلے کا حل نکل سکے۔یہ تمام بیانات شیخ وقاص اکرم کی جانب سے اس وقت سامنے آئے ہیں جب پی ٹی آئی کے بانی، عمران خان، کو سیاسی چالوں کے باعث مشکلات کا سامنا ہے، اور ان کی صحت کی صورت حال پارٹی کے مستقبل کے لیے ایک اہم معاملہ بنی ہوئی ہے۔
ایران کی دفاع کے لیے کوئی سرخ لکیر نہیں، جنگ نہیں امن چاہتے ہیں: عباس عراقچی
بغداد: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عراقی دارالحکومت بغداد میں اپنے عراقی ہم منصب فواد حسین کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ایران کے پاس اپنے دفاع کے لیے کوئی سرخ لکیر نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ اگرچہ ایران جنگی صورتحال کے لیے پوری طرح تیار ہے، لیکن اس کی ترجیح جنگ نہیں بلکہ امن ہے۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور بڑی جنگ سے بچنے کی کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران اپنے عوام اور مفادات کے دفاع میں کسی بھی قسم کی حدود کو تسلیم نہیں کرتا، جس سے ان کی ملک کی سلامتی کے بارے میں عزم کا پتہ چلتا ہے۔
عراقچی نے مزید کہا کہ "ایران خطے میں تنازعات کی روک تھام کے لیے بات چیت جاری رکھے گا۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران غزہ اور لبنان میں جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیے بھی کام کر رہا ہے، جس کا مقصد خطے میں استحکام کو فروغ دینا ہے۔یہ بیان اس وقت آیا ہے جب خطے میں جاری تنازعات، خاص طور پر غزہ اور لبنان میں، ایران کے اثر و رسوخ کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں۔ عراقچی نے اپنی باتوں میں یہ واضح کیا کہ ایران کسی بھی قسم کے خطرات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن ان کا اصل مقصد امن کا قیام ہے۔ایران کی اس پوزیشن کا مقصد خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون کو بڑھانا اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ عراقچی کی یہ گفتگو اس وقت سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی برادری ایران کی خارجہ پالیسی اور خطے میں اس کے کردار پر نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایس سی او کانفرنس، بھارتی وفد سے ملاقات کا امکان نہیں، ممتاز زہرہ بلوچ
دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کی تیاریاں مکمل ہیں، جس کے تحت پاکستان پہلی بار اس تنظیم کی صدارت سنبھالے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایس سی او میں پاکستان کی حالیہ شمولیت اور چئیرمین شپ اہم سنگ میل ہیں، جو ملک کی خارجہ پالیسی میں نئی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ "ایس سی او کے قوانین کے مطابق، صدارت جس ملک کے پاس ہوتی ہے، وہی ملک کانفرنس کا انعقاد کرتا ہے۔” یہ کانفرنس مختلف موضوعات پر مرکوز ہوگی، جن میں معاشی تعاون، نوجوانوں کے امور، سماجی و اقتصادی ترقی، اور بڑھتی ہوئی غربت شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چینی وزیراعظم کی پاکستان آمد پر معاشی معاملات پر زیادہ زور دیا جائے گا۔ "ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ سی پیک (چین-پاکستان اقتصادی راہداری) کے معاملات کو کس طرح مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے اور کس طرح معاشی تعاون اور تجارت میں وسعت لائی جا سکتی ہے۔ممتاز زہرہ بلوچ نے یہ بھی بتایا کہ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر پیش رفت بہت اہم ہیں، خصوصاً جب پاکستان جنوری سے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا رکن بننے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "چین پہلے ہی سیکیورٹی کونسل کا مستقل رکن ہے، اور دونوں ممالک اگلے دو سالوں میں سیکیورٹی کونسل میں مل کر کام کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ "یہ چیزیں بھی ہم لیڈر شپ لیول پر ڈسکس کریں گے۔اس موقع پر ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ بھارتی وزیر خارجہ یا وفد کے ساتھ ایس سی او اجلاس کے دوران پاکستان کی جانب سے کوئی ملاقات طے نہیں کی گئی ہے، جس سے خطے میں تعلقات کی پیچیدگیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ یہ کانفرنس عالمی سطح پر تعاون اور ترقی کے امور پر ایک اہم موقع فراہم کرے گی، جس کا مقصد نہ صرف علاقائی مسائل کو حل کرنا ہے بلکہ مشترکہ ترقی کی راہوں کو بھی ہموار کرنا ہے۔
بلوچستان اسمبلی کا کل ہونے والا اجلاس: صحت، تعلیم اور مالیاتی مسائل پر اہم فیصلے متوقع
کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس کل سہ پہر تین بجے ہوگا جس میں صوبے کے مختلف اہم مسائل زیر بحث آئیں گے۔ اعلامیہ کے مطابق، بی بی عصمت ملک کی جانب سے ایک توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا جائے گا جس میں میمو ریک ہسپتال، خدا بادان، پنجگور کو فعال نہ کیے جانے کی طرف اسمبلی کی توجہ مبذول کرائی جائے گی۔بی بی عصمت ملک نے پنجگور کے لوگوں کو درپیش صحت کی بنیادی سہولیات کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ میمو ریک ہسپتال کا طویل عرصے سے غیر فعال رہنا عوام کے لیے شدید مشکلات پیدا کر رہا ہے، اور اس حوالے سے حکومت کی جانب سے کسی مؤثر اقدام کا نہ اٹھایا جانا قابل مذمت سمجھا جا رہا ہے۔اجلاس میں صوبے کے مالیاتی امور پر بھی گفتگو کی جائے گی۔ صوبائی وزیر خزانہ میر شعیب نوشیرانی آئین کے آرٹیکل 171 کے تحت بلوچستان کے مالی سال کی آڈٹ رپورٹس پیش کریں گے۔ ان آڈٹ رپورٹس کا مقصد صوبے کے مالی معاملات میں شفافیت کو یقینی بنانا اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگیوں کو سامنے لانا ہے۔ یہ رپورٹس حکومتی وسائل کے استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے متعلق تفصیلات فراہم کریں گی۔
اجلاس میں صوبے میں تعلیم کی ابتر صورتحال پر بھی توجہ دی جائے گی۔ ایک قرار داد پیش کی جائے گی جس میں صوبے میں تعلیمی سہولیات کی زبوں حالی اور بچوں کی تعلیم تک رسائی میں درپیش مشکلات پر روشنی ڈالی جائے گی۔ قرار داد کے ذریعے حکومت سے تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جائے گا تاکہ صوبے کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کی جا سکے اور ان کی تعلیم تک رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔اعلامیہ کے مطابق، اجلاس میں محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی اور محکمہ فشریز سے متعلق مختلف سوالات بھی دریافت کیے جائیں گے جن کے جوابات ایوان کو دیے جائیں گے۔ محکمہ فشریز کے حوالے سے مچھلیوں کے غیر قانونی شکار اور اس شعبے میں ہونے والی ممکنہ بے ضابطگیوں پر بھی بحث کی توقع ہے۔اجلاس میں شرکت کے لیے تمام اراکین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بروقت اسمبلی پہنچیں تاکہ صوبے کے عوامی مسائل پر بروقت کارروائی کی جا سکے۔ بلوچستان کے عوام اس اجلاس کو انتہائی اہمیت دے رہے ہیں کیونکہ صوبے کے صحت، تعلیم اور مالیاتی مسائل کے حوالے سے مؤثر فیصلے متوقع ہیں۔

پاکستان کی معیشت میں بہتری: چینی سرمایہ کاری کی اہمیت پر وزیر خزانہ کا خطاب
اسلام آباد: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ چین پاکستان کے توانائی کے شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے، جس کی بدولت چینی انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) پاکستان میں بڑے سرمایہ کار بن گئے ہیں۔ انہوں نے یہ بات چائنہ چیمبر آف کامرس کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری کو سراہا اور کہا کہ یہ قابل تحسین ہے۔وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ چین کی ترقی دنیا کے لیے ایک مثال ہے اور اس کے ساتھ پاکستان کی اسٹریٹجک شراکت داری انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم سی پیک فیز ٹو کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں، اور پاکستان کی معیشت مثبت سمت کی جانب گامزن ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ جلد ہی معاشی استحکام کی امید کی جا سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے چند مہینوں کے دوران پاکستان کی کرنسی میں استحکام آیا ہے اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہ پاکستان سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرنے جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ "پاکستان اور چین کی اسٹریٹیجک شراکت داری قابل تحسین ہے۔”
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے پاکستان اور چین کے تعلقات کو دہائیوں پر محیط دوستی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستان اور چین کے درمیان دوستی نسل در نسل آگے منتقل ہو رہی ہے، اور دونوں ممالک کے عوام کا ایک دوسرے کے ساتھ جذباتی لگاﺅ ہے۔” تارڑ نے چین کے اس تعاون کی تعریف کی جس نے ہر اچھے اور برے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ "سی پیک دونوں ملکوں کی قربت اور مثالی دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سی پیک صرف پاکستان اور چین کی خوشحالی کا منصوبہ نہیں بلکہ پورے خطے کی ترقی کے لیے بھی اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ "اس منصوبے کے تحت توانائی کے اہم منصوبے لگائے گئے ہیں، جو کہ توانائی کے مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوئے ہیں۔عطاءاللہ تارڑ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ "پاکستان کی معاشی بہتری میں چین کا کردار نہایت اہم ہے، اور دونوں ممالک سی پیک کے اگلے مرحلے کا آغاز کرنے جا رہے ہیں۔” ان کے اس بیان نے پاکستان اور چین کے درمیان موجود قریبی تعلقات کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے، جو دونوں ممالک کی مستقبل کی ترقی کے لیے خوش آئند ہے۔









