ترجمان موٹروے سید عمران احمد نے بتایا کہ موٹروے ایم 3 فیض پور سے رجانہ تک دھند کی وجہ سے بند کر دی گئی، موٹر وے ایم 4 بھی عبدالحکیم سے پنڈی بھٹیاں تک دھند کی وجہ سے بند کر دی گئی۔موٹروے وے ترجمان کے مطابق موٹرویز کو عوام کی حفاظت اور محفوظ سفر یقینی بنانے کے لئے بند کیا جاتا ہے، قومی شاہرات پر دھند کا دورانیہ موسم سرد ہونے کے ساتھ بڑھ گیا ہے، روڈ یوزرز زیادہ سے زیادہ دن کے اوقات میں سفر کرنے کو ترجیح دیں، صبح 10 سے شام 6 بجے تک دھند کے موسم میں بہترین سفری اوقات ہیں۔
Tweets by NHMPofficial
سید عمران احمد نے مزید کہا کہ روڈ یوزرز آگے اور پیچھےدھند والی لائٹس کا استعمال کریں، روڈ یوزرز غیر ضروری سفر سے گریز کریں، تیز رفتاری سے پرہیز کریں اور اگلی گاڑی سے مناسب فاصلہ رکھیں، روڈ یوزرز معلومات اور مدد کے لئے ہیلپ لائن 130 سے رابطہ کریں۔
Author: صدف ابرار
-

موٹروے ایم 2 لاہور سے خانقاہ ڈوگرہ تک دھند کی وجہ سے بند،موٹر وے پولیس
-

ایم کیو ایم کے منتخب نمائندے آپ کا مقدمہ ایوانوں میں لڑیں گے، خالد مقبول صدیقی
ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی نے کہاکہ کراچی شہر کو تقسیم کرکے آگ و خون میں نہلایا گیا۔لیکن کراچی جب کھڑا ہوتا ہے تو تخت و تاج گر جایا کرتے ہیں، آج کے اجتماع کو ہم اپنے تین شہید ساتھیوں کے نام کرتے ہیں، ہمارے ان شہید ساتھیوں کا خون ضرور رنگ لائے گا، ایم کیوایم پاکستان ایسی تبدیلی لائے گی کے مچھرکالونی کے عام لوگ وقت کے فرعونوں کو شکست دیں گے۔ کنوینر ایم کیو ایم نے مزید کہا کہ یہ نقطہ آغاز ہے، کیماڑی نے خطرے کی گھنٹی بجادی ہے، ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آئندہ بھی اس علاقے سے غریب بلوچ، پختون اور بنگالی کو اسمبلیوں میں پہنچائیں گے، آج کا جلسہ یہ ذمہ داری لگا رہا ہے کہ ایم کیو ایم کے منتخب نمائندے آپ کا مقدمہ ایوانوں میں لڑیں، آپ کے بچوں کے مستقبل کیلئے ہم ملکر ایوانوں میں آواز بلند کریں گے۔خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اب جاگیردارانہ جمہوریت کا وقت ختم ہورہا ہے، آپ سب کو ایک نئی صبح کا سورج مبارک ہو۔
دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے سینئر رہنما خواجہ اظہار الحسن نے کہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں 2013ء کی کھوئی ہوئی نشستیں بھی واپس لیں گے۔خواجہ الحسن نے کراچی میں 4 انتخابی حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ طویل انٹرویو پراسس کے بعد امیدوار سامنے لائے ہیں۔ الیکشن میں 2013 کی کھوئی ہوئی نشستیں واپس لیں گے۔ خواجہ اظہار الحسن نے مزید کہا کہ منتخب ہو کر اچھی قانون سازی کی کوشش کریں گے۔ وفاق کے ساتھ نہ چل سکے تو اپنے اپنے حلقے میں عوام کو ڈلیور کرنے کی حکمت عملی مرتب کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی صوبے میں 18ویں ترمیم کے بعد علاقائی مسائل ظاہر کرتے ہیں کہ ترمیم ڈرامہ تھا۔ -

الیکشن کمیشن نے پارٹی سربراہان کی فہرست سے بانی پی ٹی آئی کا نام ہٹا دی
الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کی تازہ ترین فہرست جاری کردی۔الیکشن کمیشن نے پارٹی سربراہان کی فہرست سے بانی پی ٹی آئی کا نام ہٹا دیا، الیکشن کمیشن نے فہرست میں تحریک انصاف کو بغیر قیادت کے ظاہر کیا ہے، پرویز خٹک کی جماعت پی ٹی آئی پارلیمنٹرینز کو بھی بطور سیاسی جماعت فہرست میں شامل کر لیا گیا۔
الیکشن کمیشن نے پاکستان تحریک انصاف کی ترجیحی لسٹ بھی روک لی، ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے مخصوص نشستوں پر ترجیحی لسٹ الیکشن کمیشن کو بھجوائی گئی، پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کے فیصلے کے نتیجے میں پی ٹی آئی سے انتخابی نشان واپس لے لیا گیا ہے، ذرائع نے بتایا کہ انتخابی نشان نہ ہونے کی وجہ سے پی ٹی آئی کی ترجیحی لسٹ جاری نہیں کی گی، -

ہری پور : خواجہ سرا ایسوسی ایشن کی صدر صائمہ نے کاغذات نامزدگی جمع کر ادئے
ملک بھر سے خواتین اور مردوں کے ساتھ خواجہ سرا بھی الیکشن میں بھرپور حصہ لینے لئے پرجوش ہے ، ہری پور حلقہ پی کے چھیالیس سے خواجہ سرا شی میل ایسوسی ایشن کی صدر صائمہ شوکت نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے۔ صائمہ شوکت نے کامیابی کے بعد حلقہ کی تعمیر و ترقی اور عوام کے مسائل حل کرنے کا عزم کیا ہے۔
خواجہ سرا شی میل ایسوسی ایشن کی صدر صائمہ شوکت دو مرتبہ کونسلر کا الیکشن بھی جیت چکی ہیں۔ اس سے قبل 21 دسمبر کو پشاور میں پہلی بار خواجہ سرا نے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے صوبائی نشست پر آزاد حیثیت سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے۔اس موقع پر خواجہ سراء صوبیا خان نے کہا تھا کہ خواجہ سراؤں کے لئے علیحدہ سیٹ نہ ہونے کہ وجہ سے جنرل سیٹ پر کاغذات جمع کروائے ہیں۔پشاور سے تعلق رکھنے والی خواجہ سراء صوبیا خان نے حلقہ پی کے 81 سے صوبائی سیٹ پر آزاد حیثیت سے کاغذات نامزدگی کوہاٹ روڈ میں اسسٹنٹ کمشنر سید احسن علی شاہ کے دفتر میں جمع کرائے تھے۔ -

پی ٹی آئی کے روپوش رہنما مراد سعید نے کاغذات نامزدگی جمع کروادئے
9 مئی کے واقعات میں نامزد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے روپوش رہنماء مراد سعید کے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے گئے۔مراد سعید کے سوات کے حلقے این اے 3 اور 4 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے۔ پی ٹی آئی رہنما مراد سعید کے وکلاء نے ان کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔ پشاور سمیت خیبر پختونخوا میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی مخصوص اور جنرل نشستوں پر کاغذات نامزدگی جمع کرنے کا عمل مکمل ہو چکا یے، جس کے بعد اسکروٹنی کل سے شروع ہوگی۔یاد رہے کہ پی ٹی آئی رہنما مراد سعید 9 مئی واقعات کے بعد سے رپوش ہیں، تاہم وہ 8 فروری 2024 کو شیڈول الیکشن لڑیں گے اور اس کے لئے ان کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے۔
-

منشیات مقدمات کی ناقص تفتیش، 33 پولیس اہلکار برطرف
منشیات کے مقدمات میں ناقص تفتیش و پیروی پر 33 پولیس افسران و اہلکار کو ملازمتوں سے برطرف کردیا۔ ترجمان راولپنڈی پولیس کی جانب سے منشیات کے مقدمات کی ناقص تفتیش اور پیروی نہ کیے جانے کے باعث ملزمان کو فائدہ پہنچا اور وہ سزائیں نا پاسکے، محکمہ پولیس سے برخاست کیے جانے والے افسران میں 9 سب انسپکٹر، 11 اسسٹنٹ سب انسپکٹر، 01 ہیڈ کانسٹیبل اور 12 کانسٹیبل شامل ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ڈسمس کیے گئے افسران کو محکمانہ انکوائری کے بعد محکمہ سے برطرف کیا گیا، برطرف ہونے والے افسران نے منشیات کے مقدمات کی تفتیش میں غفلت اور غیر پیشہ وارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا جو محکمانہ انکوائریز میں ثابت ہوا۔میں آتشزدگی سے سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی کا کہنا تھا کہ منشیات کیخلاف کریک ڈاؤن میں کسی قسم کی غفلت یا غلطی برداشت نہیں کی جائے گی، ملزمان کی رنگے ہاتھوں گرفتاری اور برآمدگی کے باوجود سزایابی نہ ہونا برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ سی پی او راولپنڈی کا مزید کہنا تھا کہ سزایابی نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ افسران کو ہر صورت جوابدہ ہونا پڑے گا، راولپنڈی پولیس نے دو ماہ کے کریک ڈاؤن میں 1100 سے زائد بڑے منشیات اسمگلرز کو جیل بھجوا کر بھاری مقدار میں چرس، ہیروئین، آئس اور دیگر منشیات برآمد کی۔
-

ججز اور انکے بیگمات کے خلاف چلانے والے مہمات میں سیاسی جماعت ملوث
سوشل میڈیا پر ججز اور انکے خاندانوں کو بدنام کرنے لئے حالیہ دنوں میں ہتک آمیز مہم چلائی گئی، جس میں سیاسی جماعت سے جڑے اکاونٹس ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ہوا بازی ڈویژن کا 12 اکتوبر کا مراسلہ 12 دسمبر کو جے بی نامی اکاؤنٹ سے پوسٹ ہوا، اس کے بعد عمر محمود حیات کے اکاؤنٹ سے 16 دسمبر رات 11:39 پر مراسلہ پوسٹ ہوا، ان اکاؤنٹس سے ججز، عدلیہ کو پہلے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، جب کہ ان اکاؤنٹس سے بانی پی ٹی آئی کے مقدمات پر ججز اورعدلیہ پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ ججز، ان کی فیملی اور عدلیہ کے خلاف سوشل میڈیا پر حالیہ کردار کشی مہم میں سیاسی جماعت سے جڑے جانے مانے پروپیگنڈا اکاؤنٹس ملوث نکلے، جب کہ ججز کی بیگمات کو چیکنگ سے استثنیٰ دینے والا پرانا خط بھی استعمال کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ججز کی کردارکشی مہم میں سیاسی جماعت سےجڑےاکاؤنٹس پیش پیش رہے، جب کہ چند سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے بھی اس مخصوص سیاسی جماعت کے ٹارگٹڈ ایجنڈے کو آگے بڑھایا، اور چند وی لاگر ٹرینڈ بنانے میں پیش پیش رہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری وضاحت سے پروپیگنڈے کو کاؤنٹر کیا گیا، تاہم فیک نیوز کو پھیلانے والوں نے وضاحت کے بعد بھی اپنے فالوورز کو کوئی وضاحت تک نہ دی۔
-

فارم (ب) میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جا رہی،نادرا
نادرا نے "فارم ب” کے اجراء کی پالیسی سے متعلق چلنے والی خبروں کی تردید کر کے وضاحت پیش کر دی ،ترجمان نادرا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نادرا نے "فارم ب” کے اجراء کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی، "فارم ب” کے اجراء کی پالیسی میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی زیر غور بھی نہیں ہے۔نادرا کا کہنا ہے کہ پیدائش کے اندراج اور "فارم ب” بنوانے کےلیے بچوں کی عمر کی مختلف حدود مقرر ہیں، بچوں کی عمر کی مختلف حدود کو ڈیڈ لائن سے تشبیہ دینا درست نہیں۔
🔊 نادرا کی جانب سے "فارم ب" کے اجراء کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی قسم کی کوئی تبدیلی زیرغور ہے۔
بعض حلقوں کی جانب سے انٹرنیٹ پر سامنے آنے والے کچھ بیانات حقائق کے منافی ہیں اور شہریوں کو گمراہ کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
ذمہ دار شہری ہونے کا تقاضا ہے کہ…
— NADRA (@NadraPak) December 24, 2023
ترجمان نادرا نے مزید کہا کہ بعض حلقوں کے سوشل میڈیا پر اس سے متعلق بیانات حقائق کے منافی ہیں، ذمہ دار شہری ہونے کا تقاضا ہے کہ ایسی بےبنیاد خبریں پھیلانے سے گریز کیا جائے۔ -

ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کےلیے انتخابات ہونا ضروری ہے ، سعید غنی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کراچی ڈویژن کے صدر اور سابق صوبائی وزیر سعید غنی نے کراچی میں صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایس 105 سے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث پی ٹی آئی کے لوگوں کو سزا ملنی چاہیے، پیپلز پارٹی بھر پور طریقے سے الیکشن مہم چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن نہ ہوں کچھ لوگوں کی خواہش ضرور ہوسکتی ہے۔ ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کےلیے انتخابات ہونا ضروری ہے۔ پیپلز پارٹی ایک لمحے بھی الیکشن سے نہیں بھاگی۔ سعید غنی نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی الیکشن سے فرار کی کوشش نہیں کی، ہر جماعت کو انتخابات میں حصہ لینے کا موقع ملنا چاہیے۔ کوشس ہے مضبوط ترین امیدوار میدان میں اتاریں۔ انہوں نے کہا کہ بشمول پی ٹی آئی لیول پلیئنگ کی سب بات کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کراچی میں اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ بات نئے، پرانے کی نہیں، پارٹی کی نظر میں جو بہترین امیدوار ہوگا اسے موقع ملے گا۔ بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی لیاری سے 13 میں سے 12 سیٹیں جیتی ہے۔سعید غنی نے کہا کہ 2018 میں عرفان اللّٰہ مروت کو بدترین شکست ہوئی۔ ایسے امیدوار جو الیکشن میں نظر آتے ہیں ان کو لوگ پسند نہیں کرتے۔ عرفان اللّٰہ مروت حلقے میں نسلی تعصب پھیلا رہے ہیں۔ سعید غنی نے کہا لوگ با شعور ہیں کسی سازشی عمل میں نہیں آئیں گے۔ کچھ لوگوں کی خواہش ہے الیکشن نہ ہو یا تاخیر کا شکار ہو جائیں۔ ملک کو سیاسی و معاشی بحران سے نکالنے کےلیے انتخابات ضروری ہیں۔
-

پشاور ، پیپلز پارٹی نے اپنے روٹھے ہوئے اراکین کا منا لیا
پیپلز پارٹی نے ارباب عالمگیر اور عاصمہ عالمگیر کو منا لیا، ذرائع کے مطابق ارباب خاندان کو منانے میں سابق وزیرِ اعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
جبکہ انکو پیپلز پارٹی میں دوبارہ لانے کے لئے پیپلز پارٹی خیبر پختون خوا کے صدر محمد علی شاہ باچا نے بھی خوب بھاگ دوڑ کی ، تاہم ارباب عالمگیر قومی اور ان کے بیٹے خیبر پختون خوا اسمبلی کی نشست سے انتخابات میں حصہ لیں گے۔جبکہ پیپلز پارٹی کی طرف سے خواتین کی مخصوص نشست عاصمہ عالمگیر کو ملے گی۔ ارباب عالمگیر نے این اے 31 اور زرک خان نے پی کے 80 کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے ہیں جبکہ عاصمہ عالمگیر نے قومی اسمبلی کے لیے خواتین کی مخصوص نشست پر کاغذات جمع کرا دیے۔مقامی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے ارباب عالمگیر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت سے گلے شکوے تھے جو دور ہو گئے، پیپلز پارٹی جمہوری پارٹی ہے، اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ارباب عالمگیر کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ طویل وابستگی ہے، آصف زرداری، بلاول بھٹو اور یوسف رضا گیلانی سے بہت پیار اور اپنائیت ملی۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ دونوں رہنماؤں نے پیپلز پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔عاصمہ عالمگیر نے میڈیا کو بتایا تھا کہ پارٹی قیادت کی پالیسیوں سے نالاں تھے، پارٹی کے مرکزی ڈپٹی اطلاعات کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔