کہ آج بھی ظالم کو مظلوم بنانے کے لیے سہولتکاری کی جارہی ہے۔ شیخوپورہ میں میڈیا سے گفتگو میں جاوید لطیف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے عالمی قوتوں کے اشاروں پر وہ کام کیا جو کبھی کسی نے نہیں کیا۔ جاوید لطیف نے کہا کہ خدا کا واسطہ دے کر کہتا ہوں انصاف کے تقاضے پورے کرو، جوں جوں نواز شریف باہر نکل رہا ہے تمام چیزیں ان کے خلاف اکٹھی ہو رہی ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ تشدد اور کاغذات نامزدگی چھیننے کا عمل اگر ہو رہا ہے تو ہم مذمت کرتے ہیں اگر ڈرامہ ہو رہا ہے تو ادارے تفتیش کریں۔ میاں جاوید لطیف نے یہ بھی کہا کہ ایک جماعت کو مظلوم اور ن لیگ کو ظالم ثابت کرنے کا ڈرامہ ہو رہا ہے۔انکا یہ بھی کہنا تھا کہ نواز شریف کو کبھی لیول پلئنگ فیلڈ نہیں ملی، انہیں بے گناہ ہوتے ہوئے سزا ملی۔
Author: صدف ابرار
-

ملک کو میٹرو، بجلی کی سہولت اور ترقی دینے والے ن لیگی قائد کو ملک بدر کیا گیا،عابد شیر علی
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر عابد شیر علی نے این اے 102 فیصل آباد سے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے ہیں۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں عابد شیر علی نے کہا کہ شیر کا نشان بےشمار قربانیوں کا نشان ہے۔ عوام کی دعاؤں سے نواز شریف ایک بار پھر میدان عمل میں ہے۔ن لیگ کے امیدوار طاہر جمیل نے پی پی 115 پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں، وہ عابد شیر علی کے ہمراہ گھوڑوں پر سوار ہوکر آر او آفس پہنچے۔ عابد شیر علی نے مزید کہا کہ عوام کی دعاؤں سے نواز شریف پھر میدان عمل میں ہے، ملک کے عوام چوتھی بار پھر نواز شریف کو لا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو اقامے کی بنیاد پر نااہل کیا گیا، ملک کو میٹرو، بجلی کی سہولت اور ترقی دینے والے ن لیگی قائد کو ملک بدر کیا گیا۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم کوئی یوٹرن نہیں لیتے، یہ ترقی کی سیدھی موٹروے ہے، نواز شریف ملک کو ترقی اور خوشحالی کی طرف لے کر جائے گا۔ن لیگی رہنما نے یہ بھی کہا کہ ہم 50 لاکھ نوکریوں اور گھروں کا وعدہ نہیں کریں گے بلکہ عملی اقدامات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 9 مئی کا جرم کرنے والوں کو کسی صورت معافی نہیں ملے گی، 2018 میں آر ٹی ایس بٹھا کر ہمیں ہرایا گیا ہم نے شکوہ نہیں کیا۔
-

آئی جی اور ڈی سی کو تبدیل نہ کرانے پر الیکشن کمیشن کی سماعت مقرر
آئی جی اور ڈی سی اسلام آباد کو تبدیل نہ کرنے کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے کیس 26 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے آئی جی اور ڈی سی اسلام آباد کو تبدیل نہ کرنے پر وضاحت طلب کرلی۔ اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 17 اگست اور 20 اکتوبر کو آئی جی اور ڈی سی کو ہٹانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو 2 خطوط لکھے تھے۔خط میں موقف ا ختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے احکامات کے باوجود تاحال تبادلے نہیں کیے گئے، آئین کے آرٹیکل 218(3) کے تحت شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے، آرٹیکل 220 کے تحت تمام ادارے انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے نہ الیکشن کمیشن کے حکم پر عمل کیا نہ ہی کوئی وجوہات بتائیں، عام انتخابات کے شفاف انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کو یہ انتظامی تبدیلیاں کرنا ہوتی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو فوری طور پر رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی
علاہ ازیں نگراں وزیر اعظم کے مشیر احد چیمہ کو عہدے سے نہ ہٹانے کا الیکشن کمیشن نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کیس 26 دسمبر کو سماعت کے لئے مقرر کر دیا۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن نے سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو خط میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے مشیر وزیراعظم احد چیمہ کو ہٹانے سے متعلق عملدرامد رپورٹ مانگی تھی، احد چیمہ کو مشیر کے عہدے سے ہٹانے کے لیے کوئی بھِی رپورٹ جمع نہیں کرائی گئی۔الیکشن کمیشن نے احمد چیمہ کے معاملے پر سختی سے نوٹس لیا ہے، الیکشن کمیشن 26 دسمبر کو احمد چیمہ کیس کی سماعت کرے گا۔احمد چیمہ کو نہ ہٹایا گیا تو سیکریٹری وزیراعظم اور سیکریٹری کابینہ ڈویژن ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔ -

الیکشن کمیشن نے آج سب سے بڑی دھاندلی کی،نعیم پنجو تھا
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم پنجوتھا کاکہنا ہے کہ انٹراپارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے پر حیران ہوں، فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تک جن نے لوگوں نےکاغذات جمع کرائے ان میں پی ٹی آئی لکھا گیا ہے۔ آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت کریں گے۔ الیکشن کمیشن نے آج سب سے بڑی دھاندلی کی۔ پوری دنیا جانتی ہے ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ حاصل نہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم پنجوتھا نے نجی ٹی وی پر انٹرویو میں کہاکہ انٹراپارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے پر حیران ہوں، فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت ہمیں غیریقینی صورتحال میں رکھا گیا۔ ہماری کوششوں سے انٹرا پارٹی الیکشن کی اہمیت سامنے آئی،نعیم پنجوتھا کے مطابق سپریم کورٹ میں ثابت ہوگیا ضمانت خارج کرنے کی قانونی بنیاد نہیں تھی۔
-

کیا فیصل واوڈا پاکستان پیپلز پارٹی میں جانے والے ہے؟
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدرآصف علی زرداری سےپی ٹی آئی کے سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے طویل ملاقات کی ہے ۔ ملک بھر میں آئندہ سال8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کی گہما گہمی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے، اور اس صورتحال میں سیاسی رہنمائوں میں ملاقاتوں کا سلسلہ بھی عروج پر پہنچ چکا ہے۔
کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے فیصل واؤڈا کی ملاقات ہوئی جس میں سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔@AAliZardari pic.twitter.com/eOMgLVs54i
— PPP (@MediaCellPPP) December 22, 2023
اسی سلسلے میں تحریک انصاف کے دور حکومت میں وفاقی وزیررہنے والے اور بعد ازاں پارٹی کو خیرآباد کہنے والے فیصل واوڈا نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے طویل ملاقات کی ۔پیپلز پارٹی کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس( ٹویٹر) پر جاری ایک پوسٹ میں بتایا گیا کہ سابق صدر آصف زرداری اور فیصل واوڈا کی ملاقات میں سیاسی حالات اور آئندہ عام انتخابات سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
-

متحدہ قومی موومنٹ اور پی ایم ایل این کو سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق نہ ہو سکا
کراچی میں بھی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان اور مسلم لیگ (ن) کے معاملات اب تک حل طلب ہیں۔ایم کیو ایم پاکستان شہباز شریف کو کراچی سے این اے 242 کی نشست بھی دینے کو بھی تیار نہیں، جہاں سے ایم کیو ایم پچھلے الیکشن میں چوتھے نمبر پر رہی تھی۔2018 کے انتخابات میں شہباز شریف اس حلقے سے دوسرے نمبر پر رہے تھے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے فیصل واوڈا صرف 723 ووٹوں کی سبقت سے یہ نشست جیت گئے تھے۔تیسرے نمبر پر تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے عابد حسین تھے جبکہ ایم کیو ایم کے اسلم شاہ کا چوتھا نمبر تھا۔اسی نشست پر ضمنی الیکشن پیپلز پارٹی کے قادر مندوخیل نے جیت لیا تھا، مسلم لیگ ن کے مفتاح اسماعیل دوسرے، مصطفیٰ کمال چوتھے اور ایم کیو ایم چھٹے نمبر پر رہی تھی۔ایم کیو ایم سے بات چیت کے لیے شہباز شریف کے کراچی جانے کا امکان ہے۔
-

الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے پر سیاسی پارٹیوں کا ردعمل
بلوچستان عوامی پارٹی نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کے فیصلے کو شفاف فیصلہ قرار دیا ہے۔الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر خالد مگسی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت لازم ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی قوانین کی پاسداری اور الیکشن کمیشن سے تعاون کرنا چاہیے۔صدر بی اے پی خالد مگسی کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی میں الیکشن کے بجائے سلیکشن کو ترجیح دی، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قانون و آئین کے مطابق فیصلہ دیا۔
اسی طرح استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کی رہنما فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے آج کے فیصلے سے پی ٹی آئی کا تصوراتی محل زمین بوس ہوگیا ہے۔الیکشن کمیشن کے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے استحکام پاکستان پارٹی کی رہنما فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کا موقع دیا تھا۔ فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے افراتفری میں چند گھنٹوں میں انٹرا پارٹی الیکشن کروائے تھے، پی ٹی آئی نے اپنا بیانیہ ہی زمین بوس کر دیا ہے۔
جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنمااعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو فیصلے کا اختیار ہے، الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے تو اس کی وجوہات ہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے انتخابی نشان ’بلا‘ واپس لیے جانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل دیا۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ رولز بناتے ہیں تو ان پر عمل کرنا چاہیے، پی ٹی آئی واحد جماعت نہیں جس کا انتخابی نشان واپس لیا گیا ہو۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے انتخابات نشان بھی واپس لے لیے گئے تھے۔ -

سابق چیف سلیکٹر کو میلبورن ٹیسٹ میں سینئر کرکٹرز سے پرفارمنس کی توقع
سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے کہا ہے کہ اگر پاکستان آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے تو صحیح کمبی نیشن بنانے کی اہمیت پر زور دینا ہو گی، سابق کرکٹر نے روشنی ڈالی کہ 26 دسمبر سے شروع ہونے والے میلبورن ٹیسٹ میں بابر اعظم، شان مسعود اور شاہین آفریدی کی کارکردگی پاکستان کے لیے اہم ثابت ہوگی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آسٹریلیا میں پاکستان کی جدوجہد بنیادی طور پر باؤلنگ کے مسائل کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا.”ہم عام طور پر کہتے ہیں کہ ہمارے بلے باز آسٹریلیا میں اچھی کارکردگی نہیں دکھاتے، لیکن اگر ہم تاریخ میں جائیں تو ہم دیکھیں گے کہ ہمارے بلے بازوں کی جانب سے کچھ شاندار پرفارمنس ہے لیکن جب ٹیسٹ میں 20 وکٹیں لینے کی بات آتی ہے تو ہمارے پاس عام طور پر کمی ہوتی ہے”۔ سابق چیف سلیکٹر نے روشنی ڈالی، "تاریخ میں کچھ سرفہرست بولرز تھے، جن کی آسٹریلیا میں اچھی تعداد نہیں ہے۔”انہوں نے پرتھ میں پاکستان کی ایسی ہی صورتحال پر روشنی ڈالی، جہاں ٹیم نے پلیئنگ الیون سے ایک ماہر اسپنر کو چھوڑ کر حکمت عملی سے غلطی کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ فائنل الیون میں ماہر اسپنر کا ہونا ہمیشہ ضروری ہے۔
محمد وسیم نے کہا۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ وکٹ کیسی بھی ہو، آپ کو کھیلنے والی ٹیم میں ہمیشہ ایک مناسب اسپنر کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ نے دیکھا، سلمان آغا تھوڑا سا گھوم رہا تھا، اس لیے پاکستان نے وہاں چال چھوٹ دی، انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان میلبورن میں بہتر حکمت عملی وضع کرے گا۔سابق چیف سلیکٹر نے فائنل الیون میں آل راؤنڈرز کو شامل کرنے کی بجائے فیلڈنگ کے تجربہ کار ماہرین کی اہمیت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ کاغذ پر 9ویں پوزیشن تک آپ کی بیٹنگ مضبوط دکھائی دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ کے 7 بلے باز کارکردگی نہیں دکھا سکتے،تو باقی کو اپنا حصہ ڈالنے دے انہوں نے مزید کہا کہ "چھ ماہر بلے باز اور ایک وکٹ کیپر، پانچ گیند بازوں کے ساتھ کافی ہے۔ اسپنرز اور فاسٹ باؤلرز کے امتزاج کا فیصلہ پچ کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔”انہوں نے پرتھ ٹیسٹ میں تجربہ کار پیسرز پر ناتجربہ کار آل راؤنڈرز کو ترجیح دینے پر حیرت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ جب آپ کے پاس حسن علی اور میر حمزہ کی پسند ہے اور پھر آپ آل راؤنڈرز یا ڈیبیو کرنے والوں کو ان پر ترجیح دیتے ہیں تو یہ عجیب بات ہے۔اس کے علاوہ، تین میچوں کی سیریز میں 18 کھلاڑیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ وضاحت کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ سابق چیف سلیکٹر نے مزید کہا کہ واضح سمت کے ساتھ 15 کا اسکواڈ کافی ہوتا۔
ایک سوال کے جواب میں وسیم نے کہا کہ شان کو کافی اننگز کھیلے ہوئے کافی عرصہ ہو گیا ہے، اور ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے ان کی اضافی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے وقت گزر چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بابر کی جانب سے ایک بڑی اننگز کافی عرصے سے التوا میں ہے۔میلبورن کی وکٹ بابر اعظم کے مطابق ہوگی اور انہیں وہاں اسکور کرنا ہوگا۔ میرے خیال میں بابر کا بھی وہی فرض ہے جو شاہین کا ہے۔ اگر پاکستان کو جیتنا ہے تو بابر کو رنز بنانے ہوں گے، شاہین کو وکٹیں لینا ہوں گی۔ -

پارٹی نے آئین کے تحت انتخابات نہیں کروائے،انتخابی نشان بلے کے مسحق نہیں ،الیکشن کمیشن کا فیصلہ
پی ٹی آئی پارٹی آئین کے مطابق الیکشن کروانےمیں ناکام رہی۔ الیکشن کمیشن کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی کو درخواست گزاروں نے چیلنج کیا تھا، الیکشن کمیشن کے پولیٹیکل فنانس ونگ نے بھی انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراضات اٹھائے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اعتراض تھا کسی بھی ممبر کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی، پی ٹی آئی کے دفتر میں کاغذات نامزدگی نہیں تھے، یہ بھی اعتراض تھا کہ خواہاں شخص نے بلے کا انتخابی نشان لینے کے لیے ایسا کیا۔پی ٹی آئی کے مبینہ نئے چیئرمین نے انٹراپارٹی الیکشن سے متعلق دستاویز جمع کروائیں، پی ٹی آئی پر عام اعتراض یہ تھا کہ پارٹی آئین کے تحت انتخابات نہیں کروائے، پی ٹی آئی پر اعتراض تھا کہ اس نے خفیہ طور پر انتخابات کروائے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر کو انتخابات کروانے کا کوئی اختیار نہیں تھا، الیکشن کمیشن کو پارٹی کے سابق چیف الیکشن کمشنر جمال اکبر انصاری کا کوئی استعفیٰ نہیں ملا، جمال اکبر انصاری کو ہٹانے کی بھی کوئی دستاویزات نہیں، پی ٹی آئی کے آئین کے مطابق وفاقی الیکشن کمشنر 5 سال کے لیے تعینات ہوتا ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے جمال اکبر انصاری کو عہدے سےہٹانے کی کوئی قرارداد جمع نہیں ہوئی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پولیٹیکل فنانس ونگ نے پی ٹی آئی کو سوالنامہ دیا، پولیٹیکل فنانس ونگ نے نیاز اللّٰہ نیازی کی بطور چیف الیکشن کمشنر تعیناتی پر اعتراض اٹھایا، عمر ایوب کو کسی آئینی فورم نے سیکریٹری جنرل تعینات نہیں کیا، عمر ایوب نیاز اللّٰہ نیازی کو پارٹی چیف الیکشن کمشنر تعینات نہیں کر سکتے۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے وکیل نے اعتراف کیا کہ پی ٹی آئی الیکشن کمشنر کی تعیناتی میں طریقہ کار اختیار نہیں ہوا، پی ٹی آئی کے 2017 میں منتخب عہدیداران کی مدت ختم ہوچکی ہے، عمر ایوب کبھی بھی پی ٹی آئی کے آئینی سیکریٹری جنرل منتخب نہیں ہوئے، اسد عمر دستیاب ریکارڈ کے مطابق پارٹی کے سیکریٹری جنرل ہیں، پی ٹی آئی کے آئین میں کچھ ایسا نہیں کہ چیئرمین عہدیداران کی معیاد بڑھا سکتا ہے۔اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے کہا تھا کہ وہ اپنے انٹرا پارٹی الیکشن دوبارہ کروائے، پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن کروائے جن میں گوہر خان کو بلا مقابلہ چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔تاہم اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی کہ پی ٹی آئی کے الیکشن اس کے آئین کے مطابق نہیں ہوئے، جس کے بعد یہ کیس الیکشن کمیشن میں چلا۔الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد بیرسٹر گوہر علی چیئرمین پی ٹی آئی نہیں رہے۔پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو فیصلے سے روکا لیکن پھر آج فیصلے کی ہدایت کی۔اس سے قبل پی ٹی آئی کا وفد لیول پلیئنگ فیلڈ کے مطالبات لے کر الیکشن کمیشن دفتر پہنچا تھا، جہاں الیکشن کمیشن نے وفد کو یقین دہانی کروائی۔الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی وفد کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے ارکان نے ان کے تحفظات نوٹ کیے اور یقین دلایا کہ جن ریٹرننگ افسروں اور پولیس افسروں نے پی ٹی آئی کے لیے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، انہیں جلد تبدیل کردیا جائے گا۔پی ٹی آئی وفد کے ارکان نے امید ظاہر کی تھی کہ صاف شفاف الیکشن کے لیے الیکشن کمیشن پاکستان اپنا کردار ادا کرے گا۔
-

پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا
پاکستان تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ جائیں گے، الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔ بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر ہمارے تحفظات ہیں، آئین کے کون سی شق کی خلاف ورزی کی ہے، الیکشن کمیشن نے ہمارا انتخابی نشان واپس لینے کا تہیہ کر رکھا تھا۔بیرسٹر گوہر خان نے مزید کہا کہ صرف ہماری پارٹی کا الیکشن دیکھا گیا باقی پارٹیوں کو چھوڑا گیا، 8 جون 2022 کو پارٹی الیکشن ہوئے، الیکشن کمیشن نے اس کو بھی قبول نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی سوموار کو 25 دسمبر چھٹی کی وجہ سے منگل کو عدالت جائے گی۔
