صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سینیٹ کا اجلاس طلب کرلیا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سینیٹ 26 دسمبر کو سینٹ کا اجلاس طلب کر لیا، سینیٹ سیکرٹریٹ نے اجلاس کی طلبی کا باقاعدہ طور پر نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا۔ سینیٹ سیکرٹریٹ کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 54 کی شق نمبر ایک سے ملنے والے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے 26 دسمبر بروز منگل صبح ساڑھے 10 بجے پارلیمنٹ بلڈنگ اسلام آباد میں اجلاس طلب کیا ہے۔

Author: صدف ابرار
-

صدر مملکت نے سینٹ اجلاس طلب کر لیا
-

وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے لئے 160 سے زائد امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کر دی
الیکش کمیشن کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے قومی اسمبلی کے 3 حلقوں کے لیے 160 سے زائد امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے رفعت چودھری نے این اے48 اور ذیشان نقوی نے این اے 47 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ اسی طرح ن لیگ کے نور اعوان سمیت تقریبا 15 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔جبکہ پی ٹی آئی کے شعیب شاہین نے تینوں یعنی این ایز 46 تا 48، عامر مغل اور مصطفین کاظمی نے این اے 46 اور 47 سے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ پی ٹی آئی ہی کے عامر شیخ نے این اے 47، سردار مصروف ایڈووکیٹ نے این اے 46 کے لیے کاغذات جمع کروائے ہیں۔
اسکے علاوہ خواجہ سرا نایاب علی، اقلیتی امیدوار ثانیہ یونس نے اسلام آباد سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔ اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)، عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے امیدواروں نے بھی اسلام آباد سے کاغذات جمع کروائے ہیں۔ -

حماد اظہر،لطیف کھوسہ اور احسن اقبال نے کہا ں سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دئے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما حماد اظہر اور لطیف کھوسہ کے دو دو حلقوں سے کاغذات نامزدگی جمع کرودایے گئے۔ پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کی جانب سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 129 سے کاغذات نامزدگی جمع کروادیے گئے جبکہ پنجاب اسمبلی کے حلقے پی پی 171 سے بھی پی ٹی آئی رہنما کے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے ہیں۔سردار لطیف کھوسہ کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 127 سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے۔ لطیف کھوسہ کے این اے 122 سے بھی کاغذات نامزدگی جمع ہوگئے۔پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ نے ریٹرننگ افسر کے روبرو خود کاغذات نامزدگی جمع کروائے۔
جبکہ پی ایم ایل این کے ن احسن اقبال نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 76 سے کاغذات نامزدگی جمع کروادیے۔اس موقع پر نارووال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان میں لاڈلوں کا بہت چرچا ہے۔ ہر کوئی کسی نا کسی کا لاڈلہ ہے، نواز شریف پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا لاڈلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے ہمیشہ عوام کے درد کو محسوس کیا، نواز شریف نے ملک اور عوام کی ترقی کےلیے کام کیا، پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ نواز شریف کا خواب ہے پاکستان کی معیشت بھی ناقابل تسخیر بنے۔ ہمیشہ نواز شریف کے خوابوں کو مکمل نہیں ہونے دیا گیا۔
-

بانی پی ٹی آئی نے عالمی قوتوں کے اشاروں پر ملک کو داؤ پر لگا دیا،جاوید لطیف
کہ آج بھی ظالم کو مظلوم بنانے کے لیے سہولتکاری کی جارہی ہے۔ شیخوپورہ میں میڈیا سے گفتگو میں جاوید لطیف نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے عالمی قوتوں کے اشاروں پر وہ کام کیا جو کبھی کسی نے نہیں کیا۔ جاوید لطیف نے کہا کہ خدا کا واسطہ دے کر کہتا ہوں انصاف کے تقاضے پورے کرو، جوں جوں نواز شریف باہر نکل رہا ہے تمام چیزیں ان کے خلاف اکٹھی ہو رہی ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ تشدد اور کاغذات نامزدگی چھیننے کا عمل اگر ہو رہا ہے تو ہم مذمت کرتے ہیں اگر ڈرامہ ہو رہا ہے تو ادارے تفتیش کریں۔ میاں جاوید لطیف نے یہ بھی کہا کہ ایک جماعت کو مظلوم اور ن لیگ کو ظالم ثابت کرنے کا ڈرامہ ہو رہا ہے۔انکا یہ بھی کہنا تھا کہ نواز شریف کو کبھی لیول پلئنگ فیلڈ نہیں ملی، انہیں بے گناہ ہوتے ہوئے سزا ملی۔
-

ملک کو میٹرو، بجلی کی سہولت اور ترقی دینے والے ن لیگی قائد کو ملک بدر کیا گیا،عابد شیر علی
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر عابد شیر علی نے این اے 102 فیصل آباد سے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے ہیں۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں عابد شیر علی نے کہا کہ شیر کا نشان بےشمار قربانیوں کا نشان ہے۔ عوام کی دعاؤں سے نواز شریف ایک بار پھر میدان عمل میں ہے۔ن لیگ کے امیدوار طاہر جمیل نے پی پی 115 پر کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں، وہ عابد شیر علی کے ہمراہ گھوڑوں پر سوار ہوکر آر او آفس پہنچے۔ عابد شیر علی نے مزید کہا کہ عوام کی دعاؤں سے نواز شریف پھر میدان عمل میں ہے، ملک کے عوام چوتھی بار پھر نواز شریف کو لا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو اقامے کی بنیاد پر نااہل کیا گیا، ملک کو میٹرو، بجلی کی سہولت اور ترقی دینے والے ن لیگی قائد کو ملک بدر کیا گیا۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم کوئی یوٹرن نہیں لیتے، یہ ترقی کی سیدھی موٹروے ہے، نواز شریف ملک کو ترقی اور خوشحالی کی طرف لے کر جائے گا۔ن لیگی رہنما نے یہ بھی کہا کہ ہم 50 لاکھ نوکریوں اور گھروں کا وعدہ نہیں کریں گے بلکہ عملی اقدامات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ 9 مئی کا جرم کرنے والوں کو کسی صورت معافی نہیں ملے گی، 2018 میں آر ٹی ایس بٹھا کر ہمیں ہرایا گیا ہم نے شکوہ نہیں کیا۔
-

آئی جی اور ڈی سی کو تبدیل نہ کرانے پر الیکشن کمیشن کی سماعت مقرر
آئی جی اور ڈی سی اسلام آباد کو تبدیل نہ کرنے کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے کیس 26 دسمبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے آئی جی اور ڈی سی اسلام آباد کو تبدیل نہ کرنے پر وضاحت طلب کرلی۔ اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے 17 اگست اور 20 اکتوبر کو آئی جی اور ڈی سی کو ہٹانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو 2 خطوط لکھے تھے۔خط میں موقف ا ختیار کیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے احکامات کے باوجود تاحال تبادلے نہیں کیے گئے، آئین کے آرٹیکل 218(3) کے تحت شفاف انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے، آرٹیکل 220 کے تحت تمام ادارے انتخابات کے انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کی معاونت کے پابند ہیں۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے نہ الیکشن کمیشن کے حکم پر عمل کیا نہ ہی کوئی وجوہات بتائیں، عام انتخابات کے شفاف انعقاد کے لیے الیکشن کمیشن کو یہ انتظامی تبدیلیاں کرنا ہوتی ہیں۔
الیکشن کمیشن نے سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کو فوری طور پر رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی
علاہ ازیں نگراں وزیر اعظم کے مشیر احد چیمہ کو عہدے سے نہ ہٹانے کا الیکشن کمیشن نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے کیس 26 دسمبر کو سماعت کے لئے مقرر کر دیا۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن نے سیکرٹری کابینہ ڈویژن کو خط میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے مشیر وزیراعظم احد چیمہ کو ہٹانے سے متعلق عملدرامد رپورٹ مانگی تھی، احد چیمہ کو مشیر کے عہدے سے ہٹانے کے لیے کوئی بھِی رپورٹ جمع نہیں کرائی گئی۔الیکشن کمیشن نے احمد چیمہ کے معاملے پر سختی سے نوٹس لیا ہے، الیکشن کمیشن 26 دسمبر کو احمد چیمہ کیس کی سماعت کرے گا۔احمد چیمہ کو نہ ہٹایا گیا تو سیکریٹری وزیراعظم اور سیکریٹری کابینہ ڈویژن ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔ -

الیکشن کمیشن نے آج سب سے بڑی دھاندلی کی،نعیم پنجو تھا
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم پنجوتھا کاکہنا ہے کہ انٹراپارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے پر حیران ہوں، فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تک جن نے لوگوں نےکاغذات جمع کرائے ان میں پی ٹی آئی لکھا گیا ہے۔ آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت کریں گے۔ الیکشن کمیشن نے آج سب سے بڑی دھاندلی کی۔ پوری دنیا جانتی ہے ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ حاصل نہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نعیم پنجوتھا نے نجی ٹی وی پر انٹرویو میں کہاکہ انٹراپارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے پر حیران ہوں، فیصلے کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے وقت ہمیں غیریقینی صورتحال میں رکھا گیا۔ ہماری کوششوں سے انٹرا پارٹی الیکشن کی اہمیت سامنے آئی،نعیم پنجوتھا کے مطابق سپریم کورٹ میں ثابت ہوگیا ضمانت خارج کرنے کی قانونی بنیاد نہیں تھی۔
-

کیا فیصل واوڈا پاکستان پیپلز پارٹی میں جانے والے ہے؟
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدرآصف علی زرداری سےپی ٹی آئی کے سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے طویل ملاقات کی ہے ۔ ملک بھر میں آئندہ سال8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کی گہما گہمی ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے، اور اس صورتحال میں سیاسی رہنمائوں میں ملاقاتوں کا سلسلہ بھی عروج پر پہنچ چکا ہے۔
کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے فیصل واؤڈا کی ملاقات ہوئی جس میں سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔@AAliZardari pic.twitter.com/eOMgLVs54i
— PPP (@MediaCellPPP) December 22, 2023
اسی سلسلے میں تحریک انصاف کے دور حکومت میں وفاقی وزیررہنے والے اور بعد ازاں پارٹی کو خیرآباد کہنے والے فیصل واوڈا نے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری سے طویل ملاقات کی ۔پیپلز پارٹی کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس( ٹویٹر) پر جاری ایک پوسٹ میں بتایا گیا کہ سابق صدر آصف زرداری اور فیصل واوڈا کی ملاقات میں سیاسی حالات اور آئندہ عام انتخابات سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
-

متحدہ قومی موومنٹ اور پی ایم ایل این کو سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق نہ ہو سکا
کراچی میں بھی متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان اور مسلم لیگ (ن) کے معاملات اب تک حل طلب ہیں۔ایم کیو ایم پاکستان شہباز شریف کو کراچی سے این اے 242 کی نشست بھی دینے کو بھی تیار نہیں، جہاں سے ایم کیو ایم پچھلے الیکشن میں چوتھے نمبر پر رہی تھی۔2018 کے انتخابات میں شہباز شریف اس حلقے سے دوسرے نمبر پر رہے تھے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے فیصل واوڈا صرف 723 ووٹوں کی سبقت سے یہ نشست جیت گئے تھے۔تیسرے نمبر پر تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے عابد حسین تھے جبکہ ایم کیو ایم کے اسلم شاہ کا چوتھا نمبر تھا۔اسی نشست پر ضمنی الیکشن پیپلز پارٹی کے قادر مندوخیل نے جیت لیا تھا، مسلم لیگ ن کے مفتاح اسماعیل دوسرے، مصطفیٰ کمال چوتھے اور ایم کیو ایم چھٹے نمبر پر رہی تھی۔ایم کیو ایم سے بات چیت کے لیے شہباز شریف کے کراچی جانے کا امکان ہے۔
-

الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے پر سیاسی پارٹیوں کا ردعمل
بلوچستان عوامی پارٹی نے الیکشن کمیشن کا پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کالعدم قرار دینے کے فیصلے کو شفاف فیصلہ قرار دیا ہے۔الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے بلوچستان عوامی پارٹی کے صدر خالد مگسی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے اندر جمہوریت لازم ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی قوانین کی پاسداری اور الیکشن کمیشن سے تعاون کرنا چاہیے۔صدر بی اے پی خالد مگسی کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی میں الیکشن کے بجائے سلیکشن کو ترجیح دی، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قانون و آئین کے مطابق فیصلہ دیا۔
اسی طرح استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کی رہنما فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے آج کے فیصلے سے پی ٹی آئی کا تصوراتی محل زمین بوس ہوگیا ہے۔الیکشن کمیشن کے تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کالعدم قرار دینے کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے استحکام پاکستان پارٹی کی رہنما فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کا موقع دیا تھا۔ فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے افراتفری میں چند گھنٹوں میں انٹرا پارٹی الیکشن کروائے تھے، پی ٹی آئی نے اپنا بیانیہ ہی زمین بوس کر دیا ہے۔
جبکہ مسلم لیگ ن کے رہنمااعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو فیصلے کا اختیار ہے، الیکشن کمیشن نے فیصلہ کیا ہے تو اس کی وجوہات ہیں۔اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے انتخابی نشان ’بلا‘ واپس لیے جانے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ردعمل دیا۔ اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ رولز بناتے ہیں تو ان پر عمل کرنا چاہیے، پی ٹی آئی واحد جماعت نہیں جس کا انتخابی نشان واپس لیا گیا ہو۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے انتخابات نشان بھی واپس لے لیے گئے تھے۔