Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • سابق چیف سلیکٹر کو میلبورن ٹیسٹ میں سینئر کرکٹرز سے پرفارمنس کی توقع

    سابق چیف سلیکٹر کو میلبورن ٹیسٹ میں سینئر کرکٹرز سے پرفارمنس کی توقع

    سابق چیف سلیکٹر محمد وسیم نے کہا ہے کہ اگر پاکستان آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ میچوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے تو صحیح کمبی نیشن بنانے کی اہمیت پر زور دینا ہو گی، سابق کرکٹر نے روشنی ڈالی کہ 26 دسمبر سے شروع ہونے والے میلبورن ٹیسٹ میں بابر اعظم، شان مسعود اور شاہین آفریدی کی کارکردگی پاکستان کے لیے اہم ثابت ہوگی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آسٹریلیا میں پاکستان کی جدوجہد بنیادی طور پر باؤلنگ کے مسائل کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا.”ہم عام طور پر کہتے ہیں کہ ہمارے بلے باز آسٹریلیا میں اچھی کارکردگی نہیں دکھاتے، لیکن اگر ہم تاریخ میں جائیں تو ہم دیکھیں گے کہ ہمارے بلے بازوں کی جانب سے کچھ شاندار پرفارمنس ہے لیکن جب ٹیسٹ میں 20 وکٹیں لینے کی بات آتی ہے تو ہمارے پاس عام طور پر کمی ہوتی ہے”۔ سابق چیف سلیکٹر نے روشنی ڈالی، "تاریخ میں کچھ سرفہرست بولرز تھے، جن کی آسٹریلیا میں اچھی تعداد نہیں ہے۔”انہوں نے پرتھ میں پاکستان کی ایسی ہی صورتحال پر روشنی ڈالی، جہاں ٹیم نے پلیئنگ الیون سے ایک ماہر اسپنر کو چھوڑ کر حکمت عملی سے غلطی کی۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ فائنل الیون میں ماہر اسپنر کا ہونا ہمیشہ ضروری ہے۔
    محمد وسیم نے کہا۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ وکٹ کیسی بھی ہو، آپ کو کھیلنے والی ٹیم میں ہمیشہ ایک مناسب اسپنر کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ نے دیکھا، سلمان آغا تھوڑا سا گھوم رہا تھا، اس لیے پاکستان نے وہاں چال چھوٹ دی، انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان میلبورن میں بہتر حکمت عملی وضع کرے گا۔سابق چیف سلیکٹر نے فائنل الیون میں آل راؤنڈرز کو شامل کرنے کی بجائے فیلڈنگ کے تجربہ کار ماہرین کی اہمیت پر بھی زور دیا۔انہوں نے کہا کہ کاغذ پر 9ویں پوزیشن تک آپ کی بیٹنگ مضبوط دکھائی دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ کے 7 بلے باز کارکردگی نہیں دکھا سکتے،تو باقی کو اپنا حصہ ڈالنے دے انہوں نے مزید کہا کہ "چھ ماہر بلے باز اور ایک وکٹ کیپر، پانچ گیند بازوں کے ساتھ کافی ہے۔ اسپنرز اور فاسٹ باؤلرز کے امتزاج کا فیصلہ پچ کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے۔”انہوں نے پرتھ ٹیسٹ میں تجربہ کار پیسرز پر ناتجربہ کار آل راؤنڈرز کو ترجیح دینے پر حیرت کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ جب آپ کے پاس حسن علی اور میر حمزہ کی پسند ہے اور پھر آپ آل راؤنڈرز یا ڈیبیو کرنے والوں کو ان پر ترجیح دیتے ہیں تو یہ عجیب بات ہے۔اس کے علاوہ، تین میچوں کی سیریز میں 18 کھلاڑیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ وضاحت کی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔ سابق چیف سلیکٹر نے مزید کہا کہ واضح سمت کے ساتھ 15 کا اسکواڈ کافی ہوتا۔
    ایک سوال کے جواب میں وسیم نے کہا کہ شان کو کافی اننگز کھیلے ہوئے کافی عرصہ ہو گیا ہے، اور ٹیم کے کپتان کی حیثیت سے ان کی اضافی ذمہ داری کو مدنظر رکھتے ہوئے وقت گزر چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بابر کی جانب سے ایک بڑی اننگز کافی عرصے سے التوا میں ہے۔میلبورن کی وکٹ بابر اعظم کے مطابق ہوگی اور انہیں وہاں اسکور کرنا ہوگا۔ میرے خیال میں بابر کا بھی وہی فرض ہے جو شاہین کا ہے۔ اگر پاکستان کو جیتنا ہے تو بابر کو رنز بنانے ہوں گے، شاہین کو وکٹیں لینا ہوں گی۔

  • پارٹی نے  آئین کے تحت انتخابات نہیں کروائے،انتخابی نشان بلے کے مسحق نہیں ،الیکشن کمیشن کا فیصلہ

    پارٹی نے آئین کے تحت انتخابات نہیں کروائے،انتخابی نشان بلے کے مسحق نہیں ،الیکشن کمیشن کا فیصلہ

    پی ٹی آئی پارٹی آئین کے مطابق الیکشن کروانےمیں ناکام رہی۔ الیکشن کمیشن کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی کو درخواست گزاروں نے چیلنج کیا تھا، الیکشن کمیشن کے پولیٹیکل فنانس ونگ نے بھی انٹرا پارٹی انتخابات پر اعتراضات اٹھائے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اعتراض تھا کسی بھی ممبر کو الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی، پی ٹی آئی کے دفتر میں کاغذات نامزدگی نہیں تھے، یہ بھی اعتراض تھا کہ خواہاں شخص نے بلے کا انتخابی نشان لینے کے لیے ایسا کیا۔پی ٹی آئی کے مبینہ نئے چیئرمین نے انٹراپارٹی الیکشن سے متعلق دستاویز جمع کروائیں، پی ٹی آئی پر عام اعتراض یہ تھا کہ پارٹی آئین کے تحت انتخابات نہیں کروائے، پی ٹی آئی پر اعتراض تھا کہ اس نے خفیہ طور پر انتخابات کروائے۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر کو انتخابات کروانے کا کوئی اختیار نہیں تھا، الیکشن کمیشن کو پارٹی کے سابق چیف الیکشن کمشنر جمال اکبر انصاری کا کوئی استعفیٰ نہیں ملا، جمال اکبر انصاری کو ہٹانے کی بھی کوئی دستاویزات نہیں، پی ٹی آئی کے آئین کے مطابق وفاقی الیکشن کمشنر 5 سال کے لیے تعینات ہوتا ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے جمال اکبر انصاری کو عہدے سےہٹانے کی کوئی قرارداد جمع نہیں ہوئی۔

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پولیٹیکل فنانس ونگ نے پی ٹی آئی کو سوالنامہ دیا، پولیٹیکل فنانس ونگ نے نیاز اللّٰہ نیازی کی بطور چیف الیکشن کمشنر تعیناتی پر اعتراض اٹھایا، عمر ایوب کو کسی آئینی فورم نے سیکریٹری جنرل تعینات نہیں کیا، عمر ایوب نیاز اللّٰہ نیازی کو پارٹی چیف الیکشن کمشنر تعینات نہیں کر سکتے۔فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ پی ٹی آئی کے وکیل نے اعتراف کیا کہ پی ٹی آئی الیکشن کمشنر کی تعیناتی میں طریقہ کار اختیار نہیں ہوا، پی ٹی آئی کے 2017 میں منتخب عہدیداران کی مدت ختم ہوچکی ہے، عمر ایوب کبھی بھی پی ٹی آئی کے آئینی سیکریٹری جنرل منتخب نہیں ہوئے، اسد عمر دستیاب ریکارڈ کے مطابق پارٹی کے سیکریٹری جنرل ہیں، پی ٹی آئی کے آئین میں کچھ ایسا نہیں کہ چیئرمین عہدیداران کی معیاد بڑھا سکتا ہے۔اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے کہا تھا کہ وہ اپنے انٹرا پارٹی الیکشن دوبارہ کروائے، پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن کروائے جن میں گوہر خان کو بلا مقابلہ چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔تاہم اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی کہ پی ٹی آئی کے الیکشن اس کے آئین کے مطابق نہیں ہوئے، جس کے بعد یہ کیس الیکشن کمیشن میں چلا۔الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد بیرسٹر گوہر علی چیئرمین پی ٹی آئی نہیں رہے۔پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو فیصلے سے روکا لیکن پھر آج فیصلے کی ہدایت کی۔اس سے قبل پی ٹی آئی کا وفد لیول پلیئنگ فیلڈ کے مطالبات لے کر الیکشن کمیشن دفتر پہنچا تھا، جہاں الیکشن کمیشن نے وفد کو یقین دہانی کروائی۔الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی وفد کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے ارکان نے ان کے تحفظات نوٹ کیے اور یقین دلایا کہ جن ریٹرننگ افسروں اور پولیس افسروں نے پی ٹی آئی کے لیے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، انہیں جلد تبدیل کردیا جائے گا۔پی ٹی آئی وفد کے ارکان نے امید ظاہر کی تھی کہ صاف شفاف الیکشن کے لیے الیکشن کمیشن پاکستان اپنا کردار ادا کرے گا۔

  • پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا

    پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا

    پاکستان تحریک انصاف نے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ جائیں گے، الیکشن کا بائیکاٹ نہیں کریں گے۔ بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر ہمارے تحفظات ہیں، آئین کے کون سی شق کی خلاف ورزی کی ہے، الیکشن کمیشن نے ہمارا انتخابی نشان واپس لینے کا تہیہ کر رکھا تھا۔بیرسٹر گوہر خان نے مزید کہا کہ صرف ہماری پارٹی کا الیکشن دیکھا گیا باقی پارٹیوں کو چھوڑا گیا، 8 جون 2022 کو پارٹی الیکشن ہوئے، الیکشن کمیشن نے اس کو بھی قبول نہیں کیا۔
    ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی سوموار کو 25 دسمبر چھٹی کی وجہ سے منگل کو عدالت جائے گی۔

  • پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لے لیا گیا،

    پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لے لیا گیا،

    الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن کا فیصلہ سنا دیا،الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لے لیا ،اور پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو کالعدم قرار دے دیا گیا،فیصلے کے مطابق پی ٹی آئی نے اپنے انتخابات شفاف اور آئین کے مطابق نہیں کروائے،اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی سے کہا تھا کہ وہ اپنے انٹرا پارٹی الیکشن دوبارہ کروائے، پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن کروائے جن میں گوہر خان کو بلا مقابلہ چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔تاہم اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی کہ پی ٹی آئی کے الیکشن اس کے آئین کے مطابق نہیں ہوئے، جس کے بعد یہ کیس الیکشن کمیشن میں چلا۔پشاور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو فیصلے سے روکا لیکن پھر آج فیصلے کی ہدایت کی۔
    اس سے قبل پی ٹی آئی کا وفد لیول پلیئنگ فیلڈ کے مطالبات لے کر الیکشن کمیشن دفتر پہنچا، جہاں الیکشن کمیشن نے وفد کو یقین دہانی کروائی۔الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں پی ٹی آئی وفد کا کہنا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے ارکان نے ان کے تحفظات نوٹ کیے اور یقین دلایا کہ جن ریٹرننگ افسروں اور پولیس افسروں نے پی ٹی آئی کے لیے مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی ہے، انہیں جلد تبدیل کردیا جائے گا۔پی ٹی آئی وفد کے ارکان نے امید ظاہر کی تھی کہ صاف شفاف الیکشن کے لیے الیکشن کمیشن پاکستان اپنا کردار ادا کرے گا۔

  • توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس ،5 رکنی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل

    توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس ،5 رکنی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل

    نیب نے بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل کیس کی پیروی کیلئے 5 رکنی پراسیکیوشن ٹیم تشکیل دے دی۔ جس کی سربراہی سردار مظفر عباسی 5 رکنی پراسیکیوشن ٹیم کریں گے، نیب کی پراسیکیوشن ٹیم میں سپیشل پراسیکیوٹر نیب عرفان احمد اور سہیل عارف شامل ہیں، بیرسٹر اویس ارشد اور امجد پرویز بھی 5 رکنی کمیٹی کا حصہ ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ کیس اور 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل میں نیب نے حال ہی میں دو ریفرنسز دائر کیے ہیں، دونوں ریفرنسز کی پیروی کیلئے 5 رکنی ٹیم نے کام شروع کر دیا ہے، توشہ خانہ کیس کی سماعت کل اڈیالہ جیل میں ہوگی۔خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے توشہ خانہ فوجداری کیس میں ضمانت ملنے اور سپریم کورٹ سے سائفر کیس میں ضمانت منظور ہونے کے باوجود بھی بانی پی ٹی آئی کی جیل سے رہائی ممکن نہیں ہے۔نیب نے سابق وزیراعظم کو دو ریفرنسز توشہ خانہ کیس اور 190 ملین پاؤنڈ سکینڈل میں گرفتار کر رکھا ہے، دونوں کیسز ٹرائل کورٹ میں زیر سماعت ہیں جن کا فیصلہ آنے تک بانی پی ٹی آئی کی جیل سے رہائی ممکن نہیں۔

  • صدر اور وزیر اعظم کا ٹیلی فونک رابطہ، بلوچ مظاہرین کے ساتھ ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار

    صدر اور وزیر اعظم کا ٹیلی فونک رابطہ، بلوچ مظاہرین کے ساتھ ناروا سلوک پر تشویش کا اظہار

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کا ٹیلی فونک رابطہ ہو ہے، صدر اور وزیر اعظم نے بلوچ مظاہرین کے خلاف پولیس کے غیر مناسب سلوک پر تشویش کا اظہار کیا ہے، اور کہا کہ پولیس کو مظاہرین کے خلاف سختی سے پیش نہیں آنا چاہیے تھا، وزیر اعظم نے کہا کہ گرفتار مظاہرین کو ذاتی مچلکوں پر رہا کر رہے ہیں ، علاوہ ازیں صدر مملکت سے گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے بھی ملاقات کی، ملاقات میں صوبے کی مجموعی صورتحال، بلوچ مظاہرین پر پولیس کے تشدد بارے تبادلہ خیال کیا گیا۔گورنر بلوچستان کا کہنا تھا کہ پولیس کو مظاہرین کے ساتھ تحمل اور ہمدردی سے پیش آنا چاہئے، پولیس کو حدود اور اختیارات سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے تھا۔ملاقات کے دوران گورنر بلوچستان نے کہا کہ پولیس احتجاج کرنے والوں کو فوری رہا کرے، اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال بہتر بنانے پر زور دیا۔

  • پنجاب میں رنگ گورا کرنے والی کریموں اور انجکشنز سے بیماریاں پھیل رہی ہے،نگران وزیر صحت

    پنجاب میں رنگ گورا کرنے والی کریموں اور انجکشنز سے بیماریاں پھیل رہی ہے،نگران وزیر صحت

    گورا لگنا کس کو نہیں پسند لیکن کھبی کھبی غیر معیاری ٹریٹمنٹ ہمارے اسکن کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، یہی وجہ ہے کہ بیوٹی پارلرز میں رنگ گورا کرنے والے انجکشن اور کریمیں بیماریاں پھیل رہی ہے، اس حوالے سے نگراں وزیر صحت ڈاکٹر جمال ناصر نےمقامی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کئی بیوٹی پالرز نے رنگ گورا کرنے کی اپنی کریمیں بنا رکھی ہیں جن کی سرٹیفکیشن نہیں، کئی بیوٹی پارلر رنگ گورا کرنے والے انجکشن لگا کر لاکھوں روپے بٹور رہے ہیں، ایسے انجکشن پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں نہ ہی ان کو امپورٹ کرنے کی اجازت ہے۔ نگراں وزیر صحت پنجاب کا کہنا تھا کہ رنگ گورا کرنے والی غیر قانونی کریموں اور انجکشنز سے جلد اور گردوں سمیت کئی اور بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں، غیر قانونی بیوٹی پارلرز اورکلینکس کے خلاف کارروائی کا آغاز لاہور اور راولپنڈی سے ہوگا۔
    ڈاکٹر جمال ناصر نے کہا کہ رنگ گورا کرنے والے غیر قانونی انجکشنز اور کریموں کے خلاف پالیسی بنائیں گے اور ایسی کریمیں اور انجکشن استعمال کرنے والے پارلرز کو سیل کر دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ لاہور کی مارکیٹوں میں لوکل سیرم، کریمیں با آسانی کم قیمتوں پر دستیاب ہیں۔دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ 75 فیصد خواتین وائٹننگ کریم خریدتی ہیں، خواتین میں گورا اور دلکش دکھنے کے لیے وائٹننگ کریم کی طرف رجحان بڑھ گیا ہے

  • امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے این اے 7 کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرا دی

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے این اے 7 کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرا دی

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 7 لوئر دیر سے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے۔ اس موقع پر سراج الحق نے کہا کہ شیڈول آنے کے بعد شکوک و شبہات بھی ختم ہوگئے، کچھ لوگ ایسے ہیں جو الیکشن نہیں چاہتے تھے۔ سراج الحق نے کہا ان لوگوں کو الیکشن میں شکست نظر آتی تھی۔ جن کے مقدمات عدالتوں میں ہے ان کے ساتھ انصاف اور عدل کے ساتھ معاملات طے کرنا چاہیے۔ سراج الحق نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے شفاف الیکشن کے انعقاد کو یقینی بنائے، تمام سیاسی جماعتوں کو الیکشن کیلئے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔سراج الحق نے کہا کہ 8 فروری کا الیکشن آئین کا تقاضہ ہے، شیڈول آنے کے بعد شکوک و شبہات بھی ختم ہوگئے ہیں، کچھ لوگ ایسے ہیں جو الیکشن نہیں چاہتے تھے، ان کی خواہش تھی کہ کسی بھی طریقے سے الیکشن ملتوی ہو جائیں، ان لوگوں کو الیکشن میں شکست نظر آتی تھی۔ امیر جماعت اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات پوری قوم کیلئے باعث شرم ہیں، ان واقعات سے پاکستان کو پوری دنیا کیلئے ایک تماشا بنایا گیا، جن کے مقدمات عدالتوں میں ہیں ان کے ساتھ انصاف اور عدل کے ساتھ معاملات طے کرنے چاہئیں۔

  • ایم کیو ایم کراچی اور حیدر آباد میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر کلین سوئپ کرے گی ، ایم کیو  ایم

    ایم کیو ایم کراچی اور حیدر آباد میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر کلین سوئپ کرے گی ، ایم کیو ایم

    ہمیں لیول پلیئنگ فیلڈ پیپلزپارٹی سے چاہئے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پیپلز پارٹی 15 سال میں ایک یو سی کو ماڈل نہیں بنا سکی، بلاول بھٹو لاہور میں کھڑے ہو کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ لاہور کو کراچی جیسا بنا دیں گے، کراچی میں بجلی، پانی اور گیس نہیں ہے، پیپلز پارٹی نے کراچی کو بدترین شہر بنا دیا ہے۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آج کل جماعت اسلامی کے لیے بانی پی ٹی آئی مسلمان ہیں، جب ان کا بانی پی ٹی آئی سے کام نکل جائے گا تو وہ بھی ان کے لیے کافر ہو جائیں گے۔ایم کیو ایم کے سینئر ڈپٹی کنوینئر نے کہا کہ ایم کیو ایم سندھ کی بڑی جماعت بن کر الیکشن میں ابھرے گی، انہوں نے کہا کہ میرے ترقیاتی کاموں کا کریڈٹ بھی نعمت اللہ خان کو دیا جا رہا ہے، جماعت اسلامی کا بس چلے تو کہہ دیں ملک بھی جماعت اسلامی نے بنایا تھا۔انہوں نے کہا کہ کراچی شہرمیں ترقیاتی کام ایم کیو ایم دورمیں ہوئے، 22 ہزار ارب خرچ ہونے کے بعد بھی ہسپتالوں میں ادویات نہیں ہیں۔ جبکہ کراچی کے حلقہ این اے 244 میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نوجوانوں کو موقع دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم میں عوامی حلقے ہیں اور منشور تیاری کے آخری مراحل میں ہے۔فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم کے بنیادی مطالبے کو مان کر کاغذات نامزدگی کیلئے وقت بڑھایا گیا۔ ہم الیکشن کمیشن کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
    فاروق ستار نے کہا انتخابات سے پہلے مذاکرات ہونے چاہیئیں، قومی مفاہمت اور اتفاق ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے مسائل حل کرنے کےلیے اضلاع کو بااختیار بنانا ہوگا۔

  • پی سی بی  آئندہ ماہ ٹی 10 کے نمائشی میچز  کی تیاری کر رہی ہے،

    پی سی بی آئندہ ماہ ٹی 10 کے نمائشی میچز کی تیاری کر رہی ہے،

    ٹی ٹین لیگ شروع کرنے کے ساتھ، پاکستان کرکٹ بورڈ اگلے ماہ راولپنڈی میں چھ نمائشی میچز کرانے پر غور کر رہی ہے، جس میں مرد اور خواتین دونوں ٹیمیں شامل ہوں گی۔مقامی میڈیا کے مطابق، ایک بین الاقوامی رابطے کو متاثر کرنے کے لیے، اس ممکنہ منصوبے کے لیے انگلش کاؤنٹی کلب مڈل سیکس کے ساتھ تعاون کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ پی سی بی مینجمنٹ کمیٹی کے سربراہ ذکاء اشرف کے ایک حالیہ بیان میں لیگ کو اپنے دور میں قائم ہونے کی خواہش کا اشارہ ملتا ہے۔ راولپنڈی کو ممکنہ میزبان شہر کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔ذکا اشرف کامیاب T10 لیگ کے ذریعے پاکستانی کرکٹ پر اثر ڈالنے کے لیے کام کر رہے ہے، اس کا مقصد قومی ٹیم کی نیوزی لینڈ سے واپسی کے بعد ان میچوں کا شیڈول بنانا ہے، جس سے کھلاڑیوں کی بہترین دستیابی اور شائقین کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے۔ یہ ٹیسٹ مرحلہ پاکستان کے اندر T10 کرکٹ میں عوامی دلچسپی کے بیرومیٹر کے طور پر بھی کام کرے گا۔ ان میچوں کا استقبال لیگ کے بارے میں مستقبل کے فیصلوں کو نمایاں طور پر متاثر کرے گا۔حال ہی میں بھارتی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ بی سی سی آئی ٹی 10 لیگ کے انعقاد پر بھی غور کر رہا ہے۔ امکان ہے کہ وہ اس منصوبے کے لیے سعودی سرمایہ کاروں کے ساتھ تعاون کریں گے۔ پی سی بی چئیر مین ذکاء اشرف آسٹریلیا کا دورہ کریں گے جہاں وہ کرکٹ آسٹریلیا کے حکام سے اس تجویز پر بات کریں گے۔ دونوں بورڈ مستقبل میں مشترکہ طور پر T10 لیگ کے انعقاد کے امکانات تلاش کریں گے۔ اشرف جلد آسٹریلیا روانہ ہوں گے۔کرکٹ آسٹریلیا نے اشرف کو میلبورن میں 26 دسمبر سے شروع ہونے والے باکسنگ ڈے ٹیسٹ کے لیے مدعو کیا ہے۔