پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے حالیہ پریس کانفرنس میں سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے جرگہ میں شرکت کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے یہ جرگہ بلایا گیا تھا، جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔گورنر کنڈی نے سپیکر اسمبلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "میں شکر گزار ہوں کہ انہوں نے اس اہم مسئلے پر اجلاس بلایا۔” انہوں نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے امن کی بات کی اور اس حوالے سے آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ "امن و امان کی صورت حال بگڑتی جا رہی تھی، اس لئے ہمیں سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر اس جرگہ میں شرکت کرنی پڑی۔
جرگہ میں تمام سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، تاکہ وہ مل کر امن و امان کی صورت حال پر غور و خوض کر سکیں۔ فیصل کریم کنڈی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ "احتجاج ہر کسی کا جمہوری حق ہے” اور اس کے ذریعے عوامی مسائل کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔گورنر نے اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی تاریخ پر بھی روشنی ڈالی، کہ پی پی پی نے ہمیشہ جمہوریت کی بات کی ہے اور اس کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا، "ہمارے پاس قربانیوں کا ریکارڈ ہے اور ذو الفقار علی بھٹو کو 50 سال بعد انصاف ملا۔اس جرگہ کا مقصد خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنانا ہے، اور گورنر کنڈی کی جانب سے اس کی اہمیت کا اظہار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سیاسی قیادت اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس اجلاس کے ذریعے سیاسی جماعتیں مل کر مثبت تبدیلیاں لا سکیں گی۔ یہ پیش رفت سیاسی تناؤ کے دوران ایک مثبت اقدام سمجھا جا رہا ہے، جس سے عوام میں بھی اطمینان کی لہر دوڑنے کی توقع ہے۔
Author: صدف ابرار

سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر جرگہ میں شرکت کی، گورنر کے پی

اوگرا کی پٹرول و ڈیزل مارجن میں اضافے کی تجویز
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز مارجن اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سی) کے مارجن میں اضافے کے لیے سیکرٹری پٹرولیم کو ایک تفصیلی خط ارسال کیا ہے۔ اس خط میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ڈیلرز اور او ایم سی کے مارجن میں نمایاں اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ اوگرا کی جانب سے ارسال کردہ خط میں تجویز دی گئی ہے کہ ڈیزل اور پٹرول پر او ایم سی مارجن میں ایک روپے 35 پیسے کا اضافہ کیا جائے، جبکہ ڈیلرز مارجن میں ایک روپے 40 پیسے کا اضافہ کیا جائے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن 7 روپے 87 پیسے فی لیٹر ہے، جسے بڑھا کر 9 روپے 22 پیسے فی لیٹر کیا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ڈیلرز مارجن کو بھی 8 روپے 64 پیسے سے بڑھا کر 10 روپے 4 پیسے فی لیٹر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اضافے کی تجویز پٹرولیم مصنوعات کی مارکیٹنگ اور فروخت میں پیش آنے والی مالیاتی اور انتظامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، پٹرول پمپس کی ڈیجیٹائزیشن کا عمل بھی اس مارجن میں شامل کیا گیا ہے۔ اوگرا نے واضح کیا ہے کہ ملک بھر کے تمام پٹرول پمپس کو ڈیجیٹل سسٹم میں منتقل کرنا ضروری ہے، تاکہ فروخت کی نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔پٹرول پمپس کی ڈیجیٹائزیشن کے منصوبے کے تحت، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو اپنے پٹرول پمپس کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہوگا، جس سے نہ صرف کاروباری عمل بہتر ہو گا بلکہ عوام کو بھی بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں گی۔ یہ عمل ڈیجیٹل ادائیگیوں، فروخت کے ڈیٹا کی بہتر رپورٹنگ اور شفافیت کو یقینی بنائے گا۔
اوگرا نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مارجن میں یہ اضافہ صنعت کے مختلف پہلوؤں میں آنے والی لاگتوں اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جا رہا ہے، تاکہ آئل سیکٹر میں تسلسل کے ساتھ سرمایہ کاری اور کاروبار کو فروغ دیا جا سکے۔ مزید برآں، اس اضافے کا مقصد پٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں شفافیت کو بڑھانا اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلرز کو درپیش مالی مشکلات کا حل فراہم کرنا ہے۔اس تجویز پر سیکرٹری پٹرولیم کی جانب سے فیصلہ جلد متوقع ہے، جس سے نہ صرف آئل سیکٹر میں تبدیلیاں متوقع ہیں بلکہ عوام کو بھی ممکنہ قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
قائداعظم یونیورسٹی میں طلبا گروہوں کے درمیان تصادم، ہاسٹل میں آگ لگادی گئی، متعدد زخمی
اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی میں طلبا کے دو گروہوں کے درمیان شدید تصادم کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے بعد صورت حال کشیدہ ہوگئی۔ یہ تصادم یونیورسٹی کے ہاسٹل میں ہوا جہاں طلبا تنظیم کی جانب سے ہاسٹل میں آگ بھی لگا دی گئی۔ اس واقعے میں متعدد طلبا زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے تین کی حالت انتہائی تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔یونیورسٹی کے اندر جاری یہ جھگڑا طلبا کے دو گروہوں کے درمیان تنازع کا نتیجہ تھا، جو دیکھتے ہی دیکھتے بڑھتا گیا اور ہاسٹل میں تشدد تک جا پہنچا۔ صورتحال اس قدر خراب ہوگئی کہ تصادم کے دوران طلبا تنظیم کے چند افراد نے ہاسٹل میں آگ بھی لگا دی، جس سے مالی نقصان کے ساتھ ساتھ طلبا کی جانوں کو بھی خطرہ لاحق ہوا۔
زخمی ہونے والے طلبا میں سے تین کی حالت انتہائی نازک ہے اور انہیں فوری طور پر پمز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں تشویشناک حالت میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق زخمی طلبا کی حالت تشویشناک ہے، اور ان کی جان بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔یونیورسٹی کی انتظامیہ نے واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے ہیں۔ انتظامیہ نے ہنگامی بنیادوں پر بوائز ہاسٹل خالی کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایت کے مطابق، تمام طلبا کو کل سے ہاسٹل خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس ہدایت پر عمل کرتے ہوئے بوائز ہاسٹل 20 اکتوبر تک بند رہیں گے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق، ہاسٹلز خالی کروانے کا فیصلہ ایس سی او سمٹ کی تیاریوں کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی مزید ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔ پولیس کی بھاری نفری بھی یونیورسٹی کے اندر تعینات کر دی گئی ہے تاکہ حالات کو قابو میں رکھا جا سکے اور مزید تصادم سے بچا جا سکے۔قائداعظم یونیورسٹی میں طلبا تنظیموں کے درمیان کشیدگی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے یونیورسٹی میں طلبا گروہوں کے درمیان اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں، جن میں اکثر مواقع پر یہ اختلافات تشدد کا رخ اختیار کر چکے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلبا تنظیموں کو بارہا انتباہ کیا جا چکا ہے، لیکن اس کے باوجود صورتحال بہتر نہیں ہو سکی۔
یونیورسٹی کے طلبا، اساتذہ اور والدین ان حالات پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ طلبا کے مابین جاری کشیدگی کو فوری طور پر ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔پولیس کی جانب سے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، تصادم کا آغاز ہاسٹل میں ایک معمولی جھگڑے سے ہوا تھا، جو بعد میں بڑھتے ہوئے بڑے پیمانے پر تشدد میں تبدیل ہو گیا۔ پولیس نے کچھ طلبا کو گرفتار بھی کیا ہے، اور مزید تفتیش جاری ہے۔
مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف: آئینی ترمیم پر اتفاق، مگر اختلافات بھی موجود
مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف (PTI) کے رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ آئینی ترمیم کسی ایک مخصوص فرد کے لیے نہیں ہونی چاہیے۔ یہ گفتگو نجی ٹی وی میں گفتگو کے دوران ہوئی،مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللّٰہ نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ آئینی عدالت کے سربراہ کا انتخاب سپریم کورٹ کے تین سب سے سینئر معزز ججز میں سے کیا جانا چاہیے اور یہ عہدہ کسی ریٹائرڈ جج کے سپرد نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی ترامیم کسی ایک مخصوص شخص کو فائدہ پہنچانے کے لیے نہیں بنائی جانی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں جو ترامیم تجویز کی گئی ہیں، وہ عدلیہ کے لیے بہتری کا باعث ہوں گی اور آئینی عدالت کے قیام سے عدلیہ کے نظام میں توازن آئے گا۔رانا ثناء اللّٰہ نے مزید کہا کہ آئینی ترامیم کے لیے مسلم لیگ (ن) کو تحریک انصاف (PTI) کی حمایت کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ان کے پاس پہلے سے ہی قومی اسمبلی میں مطلوبہ تعداد موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی ترامیم کی حمایت نہ بھی کرے تو ان کی جماعت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا اور آئینی ترامیم کو منظور کروانے کے لیے ان کے پاس کافی اراکین موجود ہیں۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے رہنما شیخ وقاص اکرم نے رانا ثناء اللّٰہ کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ آئینی ترمیم کسی ایک شخص کے لیے مخصوص نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ آئینی ترامیم کو قومی مفاد میں ہونا چاہیے اور کسی مخصوص شخصیت کو فائدہ پہنچانے کے لیے ان کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔شیخ وقاص اکرم نے پروگرام میں گفتگو کے دوران اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ان کی مولانا فضل الرحمان سے حالیہ ملاقات ہوئی ہے، جس میں مولانا نے واضح طور پر کہا کہ وہ کسی ایسی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے جو عدلیہ کے وقار یا اس کی آزادی کو نقصان پہنچا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کسی بھی ایسی ترمیم کی مخالفت کرے گی جس سے عدلیہ پر کسی قسم کا حملہ تصور کیا جائے۔شیخ وقاص نے مسلم لیگ (ن) کی جانب سے ترامیم کے حوالے سے قومی اسمبلی میں اراکین کی تعداد کے دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے پاس واقعی نمبرز پورے ہوتے تو آئینی ترمیم اب تک منظور ہو چکی ہوتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی اس معاملے میں کوئی دوغلی پالیسی نہیں اپنائیں گے اور جماعت کے اندر کسی بھی قسم کا اختلاف نہیں ہے۔
آئینی عدالت کے قیام کے حوالے سے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ یہ کہنا کہ اس عدالت کا قیام عدلیہ پر حملہ ہے، درست نہیں ہے۔ ان کے مطابق، اگر پارلیمان کے اراکین کو آئینی عدالت کے معاملات میں شامل کیا جائے تو اس سے عدلیہ کی آزادی پر کوئی زد نہیں پڑے گی، بلکہ یہ نظام کو مزید بہتر اور شفاف بنائے گا۔ رانا ثناء اللّٰہ نے مزید کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق ترامیم کا ڈرافٹ پہلے ہی تحریک انصاف کے چیئرمین کو بھجوا دیا گیا تھا۔ تاہم، شیخ وقاص اکرم نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آن ریکارڈ کہا ہے کہ قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر ایاز صادق کی جانب سے تحریک انصاف کو ترامیم کا کوئی ڈرافٹ نہیں بھیجا گیا۔ شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ اگر ایسا کوئی ڈرافٹ تحریک انصاف کو موصول ہوا ہوتا، تو وہ اس کا ضرور جائزہ لیتے اور اس پر بات چیت ہوتی۔اس دوران، مولانا فضل الرحمان کا ذکر بھی کیا گیا جنہوں نے اپنے مؤقف میں صاف طور پر کہا کہ وہ کسی ایسی آئینی ترمیم کا حصہ نہیں بنیں گے جس سے عدلیہ کی خود مختاری کو نقصان پہنچے۔ مولانا فضل الرحمان کے اس بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جے یو آئی (ف) اس معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور وہ کسی ایسی تجویز کی حمایت نہیں کرے گی جو عدلیہ پر حملہ تصور کی جائے۔

پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کی حکمت عملی اور مقامات کا تعین
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 14 اکتوبر کو ہونے والے احتجاج کے لیے حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ لاہور تنظیم کا اجلاس زوم میٹنگ کے ذریعے منعقد ہوا، جس میں احتجاج کے مقامات اور طریقہ کار پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔اجلاس کے دوران، پی ٹی آئی کی قیادت نے مختلف مقامات پر احتجاج کی حکمت عملی پر غور کیا۔ ذرائع کے مطابق، لاہور میں ممکنہ احتجاجی مقامات میں لبرٹی چوک، جی پی او، یا مینار پاکستان شامل ہیں۔ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ احتجاج کے مقام کی حتمی اطلاع کارکنوں کو احتجاج سے ایک روز قبل دی جائے گی۔ یہ قدم حماد اظہر کی ہدایت پر اٹھایا گیا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت دیگر شہروں میں پی ٹی آئی کے جلسوں میں درپیش مشکلات کے بعد، پارٹی نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔ اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ 11 اکتوبر کو ملتان اور ساہیوال، 12 اکتوبر کو گجرانوالہ اور سرگودھا، اور 13 اکتوبر کو ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔14 اکتوبر کو لاہور اور فیصل آباد میں بڑے احتجاجی مظاہرے ہونگے۔ ان مظاہروں کے بعد، پی ٹی آئی کی پولیٹکل کمیٹی اسلام آباد کے لیے کال دینے کا اعلان کرے گی، جس کی تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔پی ٹی آئی کی یہ کوششیں سیاسی میدان میں ایک نئی ہلچل پیدا کرنے اور اپنی حمایت کو دوبارہ متحرک کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ پارٹی کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ یہ احتجاج ملکی مسائل اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے اہم ہیں۔
آئینی ترمیم پر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات جاری”سینئر رہنما شیری رحمان
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شیری رحمان نے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، جس میں آئینی عدالت کے قیام اور جوڈیشل ریفارمز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمان نے اس ملاقات کو انتہائی اہم اور خوشگوار قرار دیا اور بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے ملکی آئینی معاملات اور اصلاحات پر گہرائی سے بات کی۔شیری رحمان نے کہا کہ ملاقات میں آئینی ترمیم پر اتفاق رائے قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا، اور اس حوالے سے دونوں جماعتوں کے درمیان آگے بڑھنے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سیاست کا حصہ ہے کہ مختلف مسائل پر اتفاق رائے قائم کرنے کے لیے لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے اور مولانا فضل الرحمان سے ہونے والی گفتگو اسی سلسلے کی کڑی تھی۔
پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما نے کہا کہ ان کی پارٹی کی پوری کوشش ہے کہ آئینی اصلاحات کے حوالے سے بننے والی خصوصی کمیٹی میں تمام اہم معاملات کو زیر بحث لایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر سیاسی جماعت کے ساتھ مسلسل مشاورت کا عمل جاری ہے تاکہ آئینی ترامیم پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔شیری رحمان نے انکشاف کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کے ساتھ بھی ایک مفصل گفتگو ہوئی ہے، جس میں آئینی اور قانونی معاملات کے ساتھ ساتھ دیگر سیاسی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔شیری رحمان نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پیپلز پارٹی اور میاں نواز شریف کے درمیان میثاق جمہوریت کے حوالے سے پرانے تعلقات ہیں، اور یہ کہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کا یہ عمل جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 25 تاریخ کے بعد بھی اس حوالے سے مزید بات چیت ہو سکتی ہے، اور ملک کی سیاسی فضا میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
شیری رحمان نے واضح کیا کہ آئینی اور عدالتی اصلاحات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہے گا، اور عوام کے بہتر مفاد میں قانونی اصلاحات کو جلد عملی شکل دینے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی عمل کا ایک اہم حصہ ہے، اور ملک کی ترقی و استحکام کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں عدالتی اصلاحات کے حوالے سے مختلف آراء پائی جاتی ہیں، اور اس حوالے سے اتفاق رائے پیدا کرنا ایک مشکل کام سمجھا جا رہا ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری کا ترکمانستان کا دو روزہ دورہ، اشک آباد پہنچنے پر پرتپاک استقبال
اشک آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری ترکمانستان کے شہر اشک آباد میں دو روزہ سرکاری دورے پر پہنچ گئے، جہاں ترکمانستان کے وزرا کی کابینہ کے ڈپٹی چیئرمین نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ ترکمانستان کی سرزمین پر قدم رکھتے ہی صدر مملکت کو روایتی طور پر پھول پیش کیے گئے، جو دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات اور مہمان نوازی کی علامت تھے۔صدر مملکت کا یہ دورہ ترکمانستان کے قومی شاعر مخدوم گلی فراغی کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ عالمی فورم میں شرکت کے لیے ہے۔ اس تقریب میں عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے اور صدر پاکستان اس موقع پر اتحاد اور امن کے فروغ کے حوالے سے اہم خطاب کریں گے۔
صدر آصف علی زرداری عالمی فورم میں اپنے خطاب کے دوران اتحاد، علاقائی تعاون اور بین الاقوامی امن کی اہمیت پر زور دیں گے۔ ان کا خطاب دنیا بھر میں امن کے قیام اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک مثبت پیغام دینے کے ساتھ ساتھ، عالمی سطح پر پاکستان کی امن پسندانہ پالیسیوں کی نمائندگی کرے گا۔فورم میں شرکت کے دوران، صدر مملکت کی ترکمانستان کی اعلیٰ قیادت سے سائیڈ لائنز ملاقاتیں بھی متوقع ہیں، جن میں دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ تعلقات، تجارتی اور اقتصادی تعاون سمیت دیگر اہم امور پر بات چیت ہو گی۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید گہرائی اور فروغ کا موقع سمجھا جا رہا ہے۔پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان توانائی، تجارت اور ثقافت کے شعبوں میں پہلے سے مضبوط تعلقات موجود ہیں، اور اس دورے کے دوران ان تعلقات کو مزید وسعت دینے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
پاکستان کے لیے اقتصادی ترقی کے نئے مواقع: چینی وفد کی احسن اقبال سے ملاقات
چین ایشیا اکنامک ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن (CAEDA) کے ایک وفد نے، جس کی قیادت مسٹر چیان کیو ژو اور مسٹر جیان جن گو کر رہے تھے، جمعرات کے روز اسلام آباد میں وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں CAEDA نے پاکستان کے ساتھ مختلف اقتصادی اقدامات میں تعاون کے لیے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران، وفد اور وزیر احسن اقبال نے کئی اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا، جن میں “پاکستان زیرو ٹیرف ٹریڈ زون” کا قیام، چینی درآمدات کے لیے سروس سینٹر کا قیام، زراعت اور مویشیوں میں سرمایہ کاری، برآمداتی منصوبے اور B2B سرمایہ کاری شامل تھے۔وفد کے خیر مقدم کرتے ہوئے وزیر احسن اقبال نے پاکستان اور چین کے درمیان گہرے اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ایک منفرد اور انمول دوستی میں جڑے ہوئے ہیں۔ وزیر نے حال ہی میں کراچی میں ہونے والے دہشت گردی کے افسوسناک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے اسے پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی بزدلانہ کوشش قرار دیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ پاکستان کی حکومت اپنے چینی بھائیوں اور بہنوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
احسن اقبال نے سی پیک فیز ٹو پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مرحلے میں B2B شراکت داری کو فروغ ملے گا، جس سے پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان تعاون کے مواقع بڑھیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس تعاون سے پاکستان کے سرکاری اور نجی شعبوں کی استعداد کار میں اضافہ ہوگا۔معیشت کے استحکام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے لیے پختہ عزم رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں سیکورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانا اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ہے۔وفاقی وزیر نے چینی صنعتوں کی پاکستان منتقلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں لیبر اور پیداواری لاگت چین کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ چینی کمپنیوں کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے کہ وہ سستی مصنوعات تیار کر کے انہیں یورپ اور امریکہ کی منڈیوں میں برآمد کریں، جس سے زیادہ منافع کمانے کے مواقع حاصل ہوں گے۔
وزیر احسن اقبال نے پاکستان کے زرعی شعبے میں دستیاب مواقع کو نمایاں کرتے ہوئے خاص طور پر گلگت بلتستان جیسے علاقوں کا ذکر کیا، جہاں چیری جیسی مصنوعات کو مسابقتی نرخوں پر چین کو برآمد کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وسیع معدنی ذخائر، ماہی گیری، زراعت اور ٹیکسٹائل کے شعبوں میں چین کے ساتھ تعاون کے امکانات ہیں، اور پاکستان ان شعبوں میں ترقی کے لیے چین سے جدید ٹیکنالوجی اور مہارت حاصل کرنا چاہتا ہے۔خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر احسن اقبال نے چینی کاروباری برادری کے لیے سرمایہ کاری اور ترقی کے مواقع پر زور دیا۔ انہوں نے چینی سرمایہ کاروں کی ہر ممکن معاونت کے عزم کا اعادہ کیا اور پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے ون-اسٹاپ سروس سینٹر کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کی مزید مضبوطی کے لیے ایک اہم قدم ہے، جس کے ذریعے پاکستان اور چین کی دوستی کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کی توقع کی جا رہی ہے۔
ایف بی آر کی تحقیقات میں سیلز ٹیکس چوری کا بھانڈا پھوٹ گیا
وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے جمعرات کو ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں ایک پریس کانفرنس کے دوران چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کے ساتھ مختلف صنعتی شعبوں میں سیلز ٹیکس چوری کی تحقیقات کی تفصیلات کا اعلان کیا۔ ان تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹیکس چوری اور فراڈ کی وجہ سے ملک میں 3,400 ارب روپے کا ٹیکس گیپ موجود ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملک میں رجسٹر ہونے کے اہل تین لاکھ مینوفیکچررز میں سے صرف 14 فیصد نے ہی رجسٹریشن کرائی ہے، جس سے سیلز ٹیکس چوری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کئی رجسٹرڈ کمپنیاں بھی ٹرن اوور کی غلط رپورٹنگ، زائد ان پٹ ٹیکس کا دعویٰ کرنے اور جعلی رسیدیں استعمال کرنے میں ملوث ہیں۔ پاکستان میں سیلز ٹیکس بہترین بین الاقوامی طریقہ کار کے مطابق ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی صورت میں جمع کیا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت کاروباری اداروں پر بھروسہ کیا جاتا ہے کہ وہ خریداروں سے سیلز ٹیکس وصول کریں گے، لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ اس اعتماد کو بڑے پیمانے پر مجروح کیا جا رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے آئرن اینڈ اسٹیل، سیمنٹ، مشروبات، بیٹری اور ٹیکسٹائل کے شعبوں سے متعلق تحقیق کے نتائج کا بھی ذکر کیا۔ آئرن اینڈ اسٹیل کے 33 بڑے کاروباری ادارے 29 ارب روپے کے زائد ان پٹ ٹیکس کا دعویٰ کرتے ہوئے سیلز ٹیکس چوری میں ملوث پائے گئے ہیں۔ یہ ادارے کل فروخت کے 50 فیصد سے زیادہ حصہ کی نمائندگی کرتے ہیں، جبکہ جعلی ان پٹ ٹیکس کا بڑا ذریعہ سکریپ میٹل اور کوئلے کی خریداری ہے۔ بیٹری سیکٹر کے 6 کارخانہ داروں کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس شعبے کا ایک بڑا حصہ 11 ارب روپے سے زائد ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کر رہا ہے، جو کہ اس صنعت کے بہترین طریقوں سے زیادہ ہے۔ سیمنٹ کے 19 کارخانوں نے مالی سال 23-24 میں 18 ارب روپے سے زائد ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کیا ہے۔ مشروبات تیار کرنے والے 16 کارخانوں میں سے کچھ نے مالی سال 24-2023 میں 15 ارب روپے سے زائد ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کیا ہے۔ ٹیکسٹائل کے 228 کارخانوں کے بارے میں کی گئی تحقیق میں یہ سامنے آیا ہے کہ ان میں سے کئی نے 169 ارب روپے سے زائد ان پٹ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کیا ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ بڑے پیمانے پر ٹیکس چوری کی وجہ سے گزشتہ مالی سال کے دوران گرفتاریوں اور فوجداری مقدمات کے اندراج میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں مالی سال 24-2023 میں جعلی ان پٹ ٹیکس کے دعووں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر چوری اب بھی جاری ہے اور اس چوری سے نمٹنے کے لیے مزید سخت انفورسمنٹ کے اقدامات کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے یہ بھی بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مختلف شعبوں میں ٹیکس فراڈ کے ثبوت اکٹھے کر لیے ہیں، جن میں بیٹری سیکٹر کے 11 کیسز، آئرن اینڈ اسٹیل کے 897 کیسز اور کوئلے کی خریداری پر جعلی کلیمز کے 253 کیسز شامل ہیں۔ سیلز ٹیکس فراڈ کی کل رقم 227 ارب روپے ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جو آنے والے ہفتوں میں عمل درآمد کیا جائے گا۔ سیلز ٹیکس فراڈ ایک فوجداری جرم ہے اور قانون کے تحت اس کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جس میں 10 سال تک قید اور بھاری جرمانہ شامل ہو سکتا ہے۔ انفرادی ملکیت کی صورت میں کاروبار کے مالکان، کمپنیوں کے ڈائریکٹرز، سی ای اوز، سی ایف اوز اور دیگر مجاز افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔یہ تحقیقات اور اس کے نتائج واضح کرتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیکس نظام میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی موجود ہے، جس کا سدباب کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ وزیر خزانہ کی جانب سے کی جانے والی یہ پریس کانفرنس ٹیکس چوری کے خلاف حکومتی عزم کا مظہر ہے۔

پنجاب میں سیاسی اجتماعات پر پابندی، سیکیورٹی خدشات کی بنا پر دفعہ 144 کا نفاذ
پنجاب کے آٹھ شہروں میں سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس کا آغاز جمعرات 10 اکتوبر سے ہو رہا ہے اور یہ پابندی ہفتہ 12 اکتوبر تک جاری رہے گی۔ لاہور سے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کے مطابق، ملتان، ساہیوال، سرگودھا، گوجرانوالہ، وہاڑی، پاکپتن، اوکاڑہ اور وزیر آباد میں عوامی اجتماعات، دھرنے، جلسے اور مظاہرے منعقد نہیں کیے جا سکیں گے۔پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ متعلقہ ضلعی انتظامیہ کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی خطرات کا ذکر کرتے ہوئے حکام نے بتایا کہ ایسے عوامی اجتماعات دہشت گردوں کے لیے نرم ہدف بن سکتے ہیں، جس کی وجہ سے انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔
دفعہ 144 کے تحت عائد کردہ یہ پابندیاں عوامی امن و امان کو برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوامی اجتماعات کی غیر موجودگی میں سیکیورٹی فورسز کو زیادہ آسانی ہوگی کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام کر سکیں۔یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ملک میں سیاسی عدم استحکام اور سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس دوران سیکیورٹی فورسز کے احکامات کی پیروی کریں اور کسی بھی غیر قانونی اجتماع میں شرکت نہ کریں۔حکومت کے اس اقدام پر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ردعمل سامنے آ سکتا ہے، کیونکہ یہ پابندیاں ان کی سیاسی سرگرمیوں پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات عوامی رائے کو متاثر کر سکتے ہیں اور حکومت کی مقبولیت پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔حکومت کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ موجودہ حالات میں حکام کے ساتھ تعاون کریں تاکہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے۔ یہ نوٹیفکیشن اس بات کا عکاس ہے کہ حکومت سیکیورٹی کی صورتحال کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔









