الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سیاسی جماعتوں کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کردیا۔ اعلامیہ کے مطابق سیاسی جماعتیں ایسی رائے کا اظہار نہیں کریں گی جس سے عدلیہ یا فوج کی شہرت کو نقصان پہنچے یا ان کی تضحیک ہو، سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کی تضحیک سے اجتناب کریں گی۔ ای سی پی کی جانب سے جاری کیے گئے ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں، امیدوار ایسی رائے کا اظہار نہیں کریں گے جو نظریہ پاکستان کے خلاف ہو۔سیاسی جماعتیں، امیدوار ایسی رائے کا اظہار نہیں کریں گے جو ملکی خود مختاری، سلامتی، سالمیت کے خلاف ہو۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں سرکاری ملازم کی حمایت یا امداد حاصل نہیں کریں گی، سرکاری ملازم کسی امیدوار یا جماعت کی حمایت نہیں کرے گا جو مہم یا رزلٹ پر اثر انداز ہو، سیاسی جماعتیں تشدد، ڈرانے اور دھمکیاں دینے سے اجتباب کریں گی۔ضابطہ اخلاق کے مطابق مخالف امیدوار کو دستبردار یا ریٹائر ہونے کی ترغیب یا اس کیلئے رشوت یا تحفہ دینے سے گریز کیا جائے گا، امیدواروں کے انتخاب کے وقت خواتین کی 5 فیصد نمائندگی کو یقینی بنایا جائے گا، سیاسی جماعتیں ایسے معاہدے میں شرکت نہیں کریں گی جس کا مقصد مرد، خواتین اور ٹرانسجینڈر کو امیدوار بننے سے روکنا یا ان کو ووٹ سے محروم کرنا ہو۔ضابطہ اخلاق کے مطابق سیاسی جماعتیں میڈیا کے خلاف کارکنان کو تشدد سے روکیں گی، انتخابی مہم اور انتخابات کے دوران ہتھیار، اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہوگی، اجتماعات، پولنگ اسٹیشن پر فائرنگ، ہوائی فائرنگ، پٹاخوں کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ صدر، وزیر اعظم، چیئرمین سینیٹ، وزراء، مشیران انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیں گے۔
Author: صدف ابرار
-

سیاسی جماعتیں، امیدوار ایسی رائے سے اجتناب کرے جو ملکی خود مختاری، سلامتی، سالمیت کے خلاف ہو، ای سی پی
-

اسلام آباد میں آٹھویں سی پیک میڈیا فورم کا انعقاد
پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ نے چائنہ اکنامک نیٹ اور عوامی جمہوریہ چین کے سفارت خانہ کے تعاون سے اسلام آباد میں آٹھویں سی پیک میڈیا فورم کا انعقاد کیا۔ فورم میں شرکاء و مقررین نے بیجنگ اور یونیورسٹی آف گوادر سے بھی ورچول طور پر شرکت کی ۔ فورم میں وزیراطلاعات و نشریات نگران وزیر مرتضیٰ سولنگی ، پاکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے سفیر ژانگ زیڈونگ ، چیئرمین سینیٹ کمیٹی برائے دفاع اور پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ سینیٹر مشاہد حسین سید، اکنامک ڈیلی کے صدر اور ایڈیٹر ان چیف ژینگ چنگ ڈونگ، چائنا اکنامک نیٹ کے صدر کیوئی جون، چائنا جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو سیکرٹری وو سو، چین میں تعینات پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، ینئر صحافی حامد میر اور اینکر 92 نیوز ایچ ڈی کی اینکرشفا یوسفزئی نے شرکت کر کے اپنے خیالات کا اظہار کیا،
پاک چائنا انسٹی ٹیوٹ ( پی سی آئی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید نے 2014 ءسے چین اور پاکستان کے درمیان ایک سالانہ ایونٹ کے طور پر شروع ہونے کے بعد سے سی پیک میڈیا فورم کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک تعاون کا دائرہ کارمحض بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں سے بڑھ کر عوامی روابط تک پہنچا ہےاور کہا کہ چین اور پاکستان کے شہری دونوں ممالک کے درمیان گہرے دوستی کے حقیقی نگہبان ہیں۔اس فورم کے وقت کو خاص طور پر اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی کامیاب دہائی کی تکمیل کو نہایت خوش آئند قرار دیا۔ مزید برآں، انہوں نے صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) ممالک کی سبز ترقی میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان کو ایک تاریخی سازلمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کووڈ -19وباکے بعد کے عالمی نظام اور سبز ترقی دونوں میں چین کی قیادت پر روشنی ڈالی اور شرکاء پر زور دیا کہ وہ ان اقدامات کے ذریعے پیش کردہ مواقع سے فائدہ اٹھائیں ۔
اس موقع پر صدر سوئی جون نےچائنا اکنامک نیٹ نے آٹھویں چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) میڈیا فورم سے متعلق چین کے نائب وزیر خارجہ سن ویڈونگ کا مبارکبادی پیغام پیش کیا۔ اس پیغام میں نائب وزیر سن ویڈونگ نے فورم کے کامیاب انعقاد پر شرکاء کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کی۔ دوطرفہ تعلقات کی پائیدار نوعیت کا احاطہ کرتے ہوئے، نائب وزیر سن نے تیسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے دوران حاصل ہونے والی اہم پیش رفتوں پر روشنی ڈالی جہاں دونوں ممالک نے مفاہمت کی مختلف یادداشتوں پر دستخط کے ذریعے اپنے تعاون کو مستحکم کیا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے سی پیک پر معروضی رپورٹنگ کو یقینی بنانے میں میڈیا کے اہم کردار اور ان کی اہم ذمہ داری پر زور دیا۔ نگراں وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے 2023 کے اہم سال کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے مثبت تبدیلی کے اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نےپروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے اور معلومات کی درست ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے معروضی رپورٹنگ پر زور دینا۔ نگران وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کے سماجی اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے میں سی پیک کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے جعلی خبروں کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ذمہ دارانہ صحافت کی ضرورت پر زور دیا اور سی پیک کو ایک تبدیلی کے اہم محرک کے طور پر کردار کا اعتراف کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس نے قوم کو نئی شکل دی ہے اور ایک روشن، زیادہ خوشحال پاکستان کی امید فراہم کی ہے۔ -

مسلم لیگ ن کی قیادت کہاں سے الیکشن لڑے گی؟
نواز شریف لاہور اور مانسہرہ سے الیکشن لڑیں گے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے لاہور سے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز کے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے گئے۔ذرائع کے مطابق ن لیگ کی قیادت اپنے پرانے حلقوں سے ہی الیکشن میں حصہ لے گی۔
مریم نواز این اے 119 کے ساتھ ساتھ اسی حلقے سے صوبائی اسمبلی کی سیٹ کےلیے الیکشن لڑیں گی۔ حمزہ شہباز این اے 118 سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔نواز شریف لاہور کے این اے 130 اور مانسہرہ سے بھی الیکشن لڑیں گے جبکہ شہباز شریف لاہور کے این اے 123 اور اسکے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر بھی ایکشن لڑیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ مریم نواز دو صوبائی حلقوں سے الیکشن میں حصہ لیں گی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ایاز صادق اور روحیل اصغر کی سیٹ کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔
-

سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر مردان جیل سے رہا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اسد قیصر کو مردان جیل سے رہا کردیا گیا۔ پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر تھری ایم پی او معطل کرنے پر اسد قیصر کو مردان جیل سے رہا کیا گیا۔ سابق اسپیکر قومی اسمبلی کو 18 دن کے بعد رہائی ملی ہے۔خیال رہے کہ سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر 3 ایم پی او کے تحت جیل میں تھے۔ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے نائب صدر ظاہر شاہ طورو نے 9 دسمبر کو تصدیق کی تھی کہ اسد قیصر کو دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔اپنے بیان میں پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر کا کہنا تھا کہ اسد قیصر کو صوابی پولیس نے تین ایم پی او کے تحت گرفتار کیا ہے۔انہوں نے بتایا تھا کہ اسد قیصر کو سینٹرل جیل مردان سے حراست میں لیا گیا ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل اسد قیصر کو مردان پولیس نے 9 مئی توڑ پھوڑ کیس میں گرفتار کیا تھا۔
-

نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر کے زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس،اہم فیصلے
نگران وزیرخزانہ ڈاکٹرشمشاد اختر کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں پاورپلانٹس کو آئی پی پیز کی طرز پر تکینیکی گرانٹ کے طور پر رقم دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ای سی سی نے سرکاری پاور پلانٹس کو 262 ارب کی ادائیگی کرنے کی منظوری دے دی ہے، جب کہ کے الیکٹرک کے واجبات کی ادائیگی کیلئے 57 ارب ایڈوانس سبسڈی منظور کرلی گئی ہے۔انٹرنیشنل مانیٹری فنڈز (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت ایکسپورٹ فنانس اسکیم فیز آؤٹ کرنے کی منظوری دی گئی، آئی بی کو رواں مالی سال کے دوران 25 کروڑ روپے اضافی فنڈز فراہمی کی منظوری بھی دی گئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں گندم کی امدادی قیمت اور تمباکو کی فصل کی کم از کم قیمت کے تعین کی بھی منظوری دی گئی، تاپی منصوبے سے متعلق وزارت پیٹرولیم کی سمری مؤخر کر دی گئی۔ نیکا ادارے کو سائنس و ٹیکنالوجی ڈویژن سے وزارت توانائی کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس مقصد کیلئے 15 کروڑ 24 لاکھ روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ بھی منظور کی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف شرائط کے تحت ایکسپورٹ فنانس اسکیم فیز آوٹ کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے، اور نیکا ادارے کو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈویژن سے وزارت توانائی منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ -

چوہدری نثار علی خان کا آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان
سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا جس کے لئے وہ 23 دسمبر سے اپنی انتخابی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے۔ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان آزاد حیثیت میں الیکشن میں حصہ لیں گے، چوہدری نثار 23 دسمبر سے اپنی انتخابی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے، چوہدری نثار اپنے آبائی انتخابی حلقے این اے 53 سے انتخابی میدان میں اترے ہیں، انتخابی مہم کے سلسلے میں سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان 23 دسمبر کو راجڑ کے مقام پر پہلے جلسہ سے خطاب کریں گے۔ واضح رہے کہ راولپنڈی سے 30 کلومیٹر کی مسافت پر واقع چوہدری نثار کا اپنے نواحی علاقہ میں 23 دسمبر کو جلسہ کا وقت دن 2 بجے مقرر ہے۔
-

جج محمد بشیر کی گاڑی پر فائرنگ کی خبر درست نہیں، پولیس کی تردید
راولپنڈی میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی گاڑی کے قریب فائرنگ کی گئی۔ فائرنگ تھانہ ائیر پورٹ کے حدود میں ہوئی ، تاہم راولپنڈی پولیس نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی گاڑی پر فائرنگ کی تردید کی ہے۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر اڈیالہ جیل سے کیس کی سماعت سے واپس آ رہے تھے، فائرنگ سے ٹریفک جام ہوگیا جبکہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا۔احتساب عدالت کےجج محمد بشیرکی گاڑی پر فائرنگ کردی گئی، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جج اڈیالہ جیل سے کیس کی سماعت کرکے واپس آرہے تھے۔ جج محمد بشیراڈیالہ جیل سے کیس کی سماعت سے واپس آ رہے تھے کہ راستے میں تھانہ ایئرپورٹ کی حدود میں ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی گئی، تاہم محمد بشیر محفوظ رہے۔ حکام نے بتایا کہ فائرنگ سے ٹریفک جام ہوگئی اور پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتارکرلیا۔ جس کی شناخت شایان علی کے نام سے ہوئی ہے اور وہ راولپنڈی ہارلے اسٹریٹ کا رہائشی ہے۔ پولیس ترجمان نے کہا کہ راولپنڈی پولیس نے ملزم شایان ذوالفقار کو حراست میں لیا تو وہ نشے میں تھا، ملزم کو تھانہ ائیرپورٹ منتقل کردیا ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کا آ غاز کر دیا گیا ہے۔ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم شایان گاڑی میں اپنی فیملی کے ساتھ جا رہا تھا کہ فیملی سے تلخ کلامی ہوئی، اور تلخ کلامی کے باعث اس نے گاڑی سے اتر کر ہوائی فائرنگ گی، فائرنگ کا واقعہ مقامی جج کے اسکواڈ کے قریب پیش آیا، تاہم جج اور پولیس سکواڈ محفوظ رہے۔واضح رہے کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت دیگر اہم شخصیات کے نیب کیسز کی سماعت کر رہے ہیں، اور آج بھی اڈیالہ جیل سے عمران خان کے کیس
-

مہنگائی کے ستائے عوام پر ایک اور بجلی گرا دی گئی
پاکستان کے عوام کے مشکلات ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے، نیپرا نے ملک بھر میں بجلی 1 روپے 15 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی۔ بجلی کی قیمت میں اضافہ پہلی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا ہے۔ نیپرا کا کہنا ہے کہ بجلی صارفین کوجنوری تا مارچ 2024 اضافی ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔ بجلی صارفین پر 22 ارب 29 کروڑ 70 لاکھ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ بجلی کی قیمت میں اضافے کا اطلاق کے الیکٹرک صارفین پر بھی ہوگا۔ علاوہ ازیں سینٹرل پاور پرچیز ایجنسی (سی پی پی اے) نے نومبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں اضافے کی درخواست دے دی جس پر نیپرا 27 دسمبر کو سماعت کرے گا۔ اضافے کی منظوری سے بجلی صارفین پر 40 ارب کا بوجھ پڑے گا۔ سی پی پی اے کا کہنا ہے کہ نومبر میں 7 ارب 22 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی اور بجلی کی فی یونٹ لاگت 9 روپے 44 پیسے رہی۔
-

تحریک انصاف کا ملک بھر کے ہائی کورٹس میں درخواستیں جمع کرانے کا اعلان
لطیف کھوسہ نےتحریک انصاف کی جانب سے کل ملک کی تمام ہائیکورٹس میں حلقہ بندیوں کے خلاف درخواستیں دائر کرنے کا اعلان کر دیا ، جن میں صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو فریق بنایا جائے گا۔ تحریک انصاف میں شمولیت کرنے والے معروف قانون دان لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ کاغذات نامزدگی کے حصول میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، کسی جماعت پر پابندی وفاقی حکومت کے اختیار میں نہیں، گرفتاری ہوئی تو پی ٹی آئی کا امیدوار جیل سے الیکشن لڑے گا۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ نوازشریف چاہتے ہیں آر اوز اور انتخابات کی تاریخ ان کی مرضی کی ہو، ن لیگ چاہتی ہے ان کیخلاف کوئی الیکشن نہ لڑے، بانی پی ٹی آئی انتخابات میں حصہ لیں گے، انہیں کوئی روک سکتا ہے تو روک کر دکھائے۔لطیف کھوسہ کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں پر اعتراضات کرنے جا رہے ہیں، کل ملک کی تمام ہائیکورٹس میں درخواستیں دائر کریں گے، جن میں صوبائی حکومتوں اور ضلعی انتظامیہ کو بھی فریق بنایا جائے گا۔ -

خواتین کو نمائندگی دے کر انہیں ملکی ترقی کا حصہ بنانا ہے،عظمی بخاری
خواتین امیدواروں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اپنے شعبے میں ٹیکنوکریٹس نے حصہ لے کے یہ ثابت کیا کہ وہ کسی میدان میں مردوں سے پیچھے نہیں،۔ خواتین کو نمائندگی دے کر انہیں ملکی ترقی کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا کہ آج مخصوص نشستوں پر خواتین امیدواروں کے انٹرویوز کیے گیے۔ سو سے زائد خواتین نے انٹرویوز میں حصہ لیا۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پارٹی قائد نواز شریف نے خود خواتین امیدواروں کے انٹرویو کیے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت خواتین کو ڈھال کے طور پر استعمال نہیں کرتی۔ خواتین ہر پولنگ اسٹیشن پر اپنا مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے نظر آئیں گی۔ عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مسلم لیگ ن جمہوری ذہن رکھنے والی جماعت ہے۔ بورڈ میں خواتین امیدواروں کے 5 گھنٹے طویل انٹرویوز ہوئے۔ عظمیٰ بخاری نے کہا جو خواتین جنرل الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں ان کا آج کے اجلاس سے کوئی تعلق نہیں۔