ن لیگ کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نواز شریف ہوں گے۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہواؤں کا رخ ن لیگ کی طرف چل رہا ہے، بلوچستان سے کافی لوگ ہماری پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں۔ ن لیگی رہنما نے مزید کہا کہ سرفراز بگٹی کے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کے بعد بلاول بھٹو زرداری کا شکوہ ختم ہوجائے گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ دراصل بلاول بھٹو پر نگراں حکومت کی عنایتیں ہیں، انہیں اب شکوہ نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں زیادہ تر تحریک انصاف کے ایم این ایز اور ایم پی ایز ہیں، اُن کی ن لیگ سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ یا الیکشن لڑنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔جبکہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے حوالے سے تاحال پارٹی نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ن لیگی رہنما نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے 2014 میں پارلیمنٹ پر حملہ کیا تھا اس وقت انہیں نااہل کر دینا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کا لاڈلا سیزن ختم ہوچکا ہے، ہرجماعت کولیول پلینگ فیلڈ ملنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم بانی پی ٹی آئی کا ہر صورت میں مقابلہ کریں گے، جو لوگ 9 مئی کی سازش میں ملوث نہیں، اُن کو مشکلات کا سامنا نہیں ہے۔
Author: صدف ابرار
-

پاکستان اور بھارت کو 2024 ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ایک ہی گروپ میں رکھا جائے گا
پاکستان اور بھارت کو اگلے سال ویسٹ انڈیز اور امریکا میں 4 سے 30 جون تک شیڈول ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے ایک ہی گروپ میں رکھا جائے گا۔ دی ٹیلی گراف کے مطابق، دوسرے روایتی حریف انگلینڈ اور آسٹریلیا کو بھی ایک گروپ میں رکھا جائے گا۔ بارباڈوس کو کھیل کی میزبانی کے لیے مضبوط پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔دونوں ٹیمیں 2010 کے T20 ورلڈ کپ کے فائنل میں ایک ہی مقام پر آمنے سامنے تھیں جہاں انگلینڈ نے آسٹریلیا کو شکست دے کر اپنا پہلا ورلڈ کپ جیتا۔ 2013 کے بعد سے مردوں کے ہر ICC عالمی ایونٹ میں، ہندوستان اور پاکستان کو مسلسل ایک ساتھ جوڑا گیا ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ کھیل کا سب سے زیادہ متوقع میچ ہو۔ ان ٹیموں کی ایک طویل عرصے سے خواہش رہی ہے کہ وہ جنوبی ایشیائی باشندوں کی دلچسپی کے لیے امریکہ میں گروپ گیمز کھیلیں۔ مین ہٹن سے 30 میل مشرق میں واقع نیو یارک کے آئزن ہاور پارک میں بھارت کا مقابلہ پاکستان سے ہونا ہے۔دیگر بڑے کھیلوں کے برعکس، کرکٹ براہ راست ٹیلیویژن ڈرا نہیں کرتی ہے۔ اس کے بجائے، گروپس مختلف عوامل کی بنیاد پر بنائے گئے ہیں، جن کی ترجیح پاکستان-بھارت میچ ہے، جبکہ مختلف پولز کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک بار جب ہندوستان اور پاکستان کی امریکہ میں ملاقات کا فیصلہ ہو گیا، تو ویسٹ انڈیز میں ہونے والے ٹورنامنٹ کے دیگر باوقار میچوں کا اہتمام کرنا انتہائی اہم ہو گیا۔اشاعت کے مطابق، دفاعی چیمپئن ویسٹ انڈیز میں گروپ اور سپر ایٹ دونوں مرحلوں میں اپنے تمام میچ کھیلے گی۔تاہم، 20 مسابقتی ممالک میں سے 10 کے میچز امریکہ میں ہوں گے، یہ ملک پہلی بار ورلڈ کپ کے میچوں کی میزبانی کر رہا ہے۔بارباڈوس مسلسل انگلینڈ کے سفری حامیوں کے لیے پسندیدہ مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ بارباڈوس کے علاوہ انگلینڈ کو اینٹیگوا اور سینٹ لوشیا میں کھیلنا ہے۔ٹورنامنٹ میں 20 ممالک شامل ہوں گے جنہیں پانچ کے چار گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر گروپ سے سرفہرست دو ٹیمیں سپر ایٹ مرحلے میں جائیں گی، جس میں چار کے دو گروپ شامل ہیں۔ دونوں سپر ایٹ پولز سے ٹاپ دو سیمی فائنل میں پہنچ جائیں گے۔ میچوں کے شیڈول کی تصدیق اس ہفتے کے آخر میں کر دی جائے گی۔
-

علی محمد خان نے پی ٹی آئی کارکنان کو معاف کرنے کی اپیل کر دی
پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما علی محمد خان نے ریاست سے تمام گرفتار کارکنوں کو تنبیہ کرکے معاف کرنے کی اپیل کردی۔اور کہا کہ مراد سعید اور شہریار آفریدی کو بھی الیکشن لڑنے کا موقع دیا جائے۔ان کاکہنا تھا کا ان رہنماؤں نے ہمیشہ ریاستی اداروں کے دفاع کی بات کی ہے اور پاکستان زندہ باد کہا ہے۔ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما علی محمد خان نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں ریاست سے تمام گرفتار کارکنوں کو تنبیہ کرکے معاف کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے ا یک سوال کے جواب میں کہاکہ نئی انتخابی حلقہ بندیوں میں میرے حلقے سے میرا گاؤں نکال دیا گیا ہے۔ اگر کوئی پارٹی چھوڑ کر جانا چاہتا ہے تو وہ اپنی مرضی سے جائے، جو اپنی مرضی سے نہیں گیا تو ان کی واپسی کا طریقہ کار بانی پی ٹی آئی طے کریں گے۔اُن کا کہنا تھا کہ اگر کوئی پارٹی چھوڑ کر جانا چاہتا ہے تو وہ اپنی مرضی سے جائے، جو اپنی مرضی سے نہیں گیا تو ان کی واپسی کا طریقہ کار بانی پی ٹی آئی طے کریں گے۔
-

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں زلزلے کے جھٹکے
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اسکے گرد و نواح میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق راولپنڈی، اٹک اور چکوال میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 3.2 ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ زلزلے کی گہرائی 25 کلومیٹر تھی اور اسکا مرکز اسکردو تھا۔
-

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے گھر پر نامعلوم افراد کا حملہ
سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے گھر پر حملے کی ابتدائی رپورٹ تیارکر لی گئی
رپورٹ کے مطابق ثاقب نثار کے گھر پر حملہ 8 بج کر 40 منٹ پر ہوا،پولیس کو حملے سے متعلق اطلاع 9 بجے کی گئی، حملہ آوروں نے گھر کے اندر دیسی ساختہ ہینڈ گرنیڈ پھینکا، حملہ آور ثاقب نثار کے گھر موٹرسائیکل پر آئےتھے،گرنیڈ حملے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے،گھر کے پورچ میں کھڑی ثاقب نثار کی ذاتی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا، تحقیقاتی ٹیموں نے ابتدائی رپورٹ آئی جی پنجاب کو ارسال کردی،
سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ گھر کے اندر کسی نے کوئی چیز پھینکی ، دھماکے سے گھر میں گاڑی تباہ ہو گئی، ہم سب گھر والے خیریت سے ہیں ،باہر کھڑے گارڈ اور ملازمین معمولی زخمی ہوئے ، پولیس تفتیش کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے ،تفتیش سے ہی پتہ چلے گا کہ کس نے یہ دھماکہ کیا اور مقصد کیا تھا
ایڈووکیٹ انجم حمید کا کہنا ہے کہ میں ابھی سابق چیف سے مل کر آئی ہوں،سب صدمے میں ہیں،اللہ کا شکر ہے سب محفوظ ہیں، تمام گھر کے افراد گھر میں تھے،جب دھماکہ ہوا،ان کی بہو اور پوتا ابھی گھر پر پہنچے تھے تو دھماکہ ہوا،یہ دستی بم کا دھماکہ تھا،تین افراد زخمی ہوئے،دو پولیس اہلکار اور ان کا ملازم زخمی ہوا، سابق چیف جسٹس کی گیراج میں کھڑی گاڑی کے بلکل قریب دھماکہ ہوا،پی ڈی ایم کی حکومت نے ان سے سیکورٹی واپس لے لی گئی، اس دھماکے میں ٹارگٹ سابق چیف جسٹس ہی تھے
بم ڈسپازل اسکواڈ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی رہائشگاہ کو کلئیر قرار دےدیا،بم ڈسپازل اسکواڈ کی ٹیم معائنے کے بعد واپس روانہ ہوگئی،کرائم سین یونٹ اور فرانزک ماہرین کی ٹیمیں شواہد جمع کرنے میں مصروف ہیں،سی ٹی ڈی سمیت دیگر تفتیشی ٹیمیں کیمروں کی فوٹیجز حاصل کرنے میں مصروف ہیں،سربراہ سی ٹی ڈی وسیم سیال بھی ابتدائی معائنے کے بعد روانہ ہو گئے،
واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے گھر کے گیراج میں دھماکہ، دھماکے سے گھر کے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اور دو سیکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے،پولیس کے مطابق نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی جانب سے کریکر پھینکے گئے، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکے ہوئے،پولیس نے شواہد اکھٹے کر کے تفتیش کا آغاز کر لیا ہے،لاہور پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی ،دھماکے کے وقت ثاقب نثار گھر پر موجود تھے،،دھماکہ گیراج مین ہوا ہے،ایمرجنسی کا تعین کرنے کی وجوہات جانی جا رہی ہیں. پولیس کا کہنا ہے کہ سابق چیف جسٹس کے اہل خانہ محفوظ ہیں، پولیس کانسٹیبل عامر اور کانسٹیبل خرم معمولی زخمی ہوئے،
آئی جی پنجاب نے واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کرنے کا حکم دے دیا۔انسپکٹر جنرل ( آئی جی) پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) لاہور سے رپورٹ طلب کرلی، آئی جی پنجاب نے دھماکے میں زخمی اہلکاروں کو علاج معالجے کی بہترین سہولتیں فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ سی سی پی او لاہور، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور، ایس ایس پی آپریشنز سمیت سینئر پولیس افسران موقع پر موجود ہیں۔واقعہ کے نتیجہ میں کوئی شدید زخمی نہیں ہے 2 لوگوں کو موقع پہ فرسٹ ایڈ دی گی ہے.
-

پی ٹی آئی والے غلط بیانی کر کے الیکشن سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں،خواجہ محمد آصف
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ عثمان ڈار چاہیں تو میرے خلاف درخواست دیں اور اپنی مرضی کے افسران سے تحقیقات کروائیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ الیکشن لڑنے کے لیے نواز شریف کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ وہ لاہور سمیت مختلف حلقوں سے الیکشن لڑیں گے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے اراکین الیکشن کو مشکوک بنانے کےلیے کاغذاتِ نامزدگی چھینے جانے کے الزامات لگا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے غلط بیانی کر رہے ہیں وہ الیکشن سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں، اگر پی ٹی آئی امیدوار سے کاغذات نامزدگی چھینے گئے ہیں تو وہ دوبارہ حاصل کر سکتے ہے، انکا کہنا تھا کہ ن لیگ چاہتی ہے 8 فروری کو انتخابات ہوں، چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے کی حمایت نہیں کرتے۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ میری اطلاع ہے کہ نواز شریف لاہور اور دیگر حلقوں سے الیکشن لڑیں گے۔ نواز شریف کے الیکشن لڑنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے قانون پاس کرلیا ہے کہ پانچ سال سے زیادہ نااہلی نہیں ہوسکتی۔ عثمان ڈار کے گھر پر چھاپے سے متعلق انہوں نے کہا کہ پولیس اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ عمر ڈار کی گرفتاری کےلیے گئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کی گئی انہوں نے جواب میں کچھ نہیں کیا۔خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی الیکشن لڑسکتے ہیں یا نہیں یہ قانونی معاملہ ہے، عدالتوں کو دیکھنا ہے۔انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق خواجہ آصف نے کہا کہ سیالکوٹ کے اسی حلقے سے الیکشن لڑوں گا جس سے لڑتا رہا ہوں۔ کل صبح کاغذات نامزدگی لوں گا۔
-

عام انتخابات،سیاسی رہنمامیدان میں آ گئے،مولانا،نواز،بلاول،شہباز کہاں سے لڑینگے الیکشن؟
ڈیرہ اسماعیل خان سے جمعیت علما اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 44 کیلئے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے۔ نواب شاہ سے سابق صدر آصف علی زرداری نے این اے 207 سے انتخابی فارم وصول کیا، مانسہرہ سے ن لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے این اے 15 کیلئے کاغذات نامزدگی وصول کیے، ملتان سے یوسف رضا گیلانی این اے 148 سے انتخابی دنگل میں حصہ لینے کیلئے تیار ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما فیصل کریم کنڈی نے بھی این اے 44 کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں، جبکہ سابق سینیٹر وقار احمد خان نے این اے 45 کیلئے کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں۔پنجاب کے شہر سیالکوٹ سے سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک قومی اور دو صوبائی حلقوں سے کاغذات نامزدگی حاصل کیے، جبکہ سیالکوٹ سے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی این اے 70 سے کاغذات وصول کیے ہیں۔ خیرپور سے سابق وزرائے اعلیٰ غوث علی شاہ اور قائم علی شاہ نے کاغذات وصول کیے، جبکہ سابق ارکان اسمبلی پیر صدر الدین شاہ، نفیسہ شاہ، نواب خان وسان نے بھی خیر پور سے ہی کاغذات نامزدگی وصول کرلیے۔سکھر سے پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ، نعمان اسلام شیخ، ناصر شاہ نے کاغذات وصول کیے، بدین سے سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سابق ایم پی اے حسنین مرزا نے کاغذات وصول کیے۔لسبیلہ سے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال، سابق صوبائی وزیر صالح بھوتانی اور اسلم بھوتانی کے کاغذات وصول کیے گئے، جہانگیر ترین کی بیٹی مہر خان ترین نے این اے 155 اور پی پی 227 سے کاغذات نامزدگی وصول کیے۔ مظفرگڑھ سے جمشید دستی نے این اے 175 اور 176 کیلئے کاغذات حاصل کرلیے۔
جہانگیر ترین نے لودھراں اور ملتان سے کاغذات نامزدگی حاصل کرلئے ،جاوید ہاشمی ملتان سے الیکشن لڑینگے،حلقہ این اے 242کراچی سے شہبازشریف کے لیے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے گئے ،این اے 194 لاڑکانہ سے بلاول بھٹو کیلئے کاغذات نامزدگی وصول کرلیے گئے.چوہدری پرویزالٰہی تین قومی اورتین صوبائی کل چھ حلقوں سے انتخاب لڑیں گےگجرات منڈی بہاؤالدین ،تلہ گنگ سےقومی اورصوبائی اسمبلی کااین اے59،64اور 69سےاورپی پی23، 32اور 34سےالیکشن لڑیں گے،این اے 77 سے عطا تارڑنے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے،این اے 78 سے خرم دستگیر نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیئے،شرجیل میمن حیدرآباد کے پی ایس 61 سے الیکشن لڑیں گے، صنم جاوید کے والد نےخصوصی نشست پر بیٹی کیلئے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے ،سائرہ بانو این اے 210 سے امیدوار ہوں گی، پیپلزپارٹی کے روشن جونیجو کا مقابلہ کریں گی،شیخ راشد نے این اے 55 اور 56 سے اپنے اور شیخ رشید کے کاغذات نامزدگی جمع کر ادیئے.
شوکت بسرا کا کہنا ہے کہ میرے وکلاء اور میرے دوستوں نے ریٹرننگ آفیسر NA-163 ڈسٹرکٹ بہاولنگر تحصیل فورٹ عباس سے کاغذات نامزدگی حاصل کیے لیکن فورٹ عباس پولیس نے میرے وکلاء کو بھی گرفتار کر لیا ہے اورکاغذات نامزدگی بھی پولیس کے قبضے میں ہیں .
فیصل آباد ،دوسرے روز بھی امیدواروں نے 250 سے زائد کاغذات نامزدگی حاصل کر لئے ، رانا ثناء اللہ نے این اے 100 سے کاغذات نامزدگی حاصل کر لئے، عابد شیر علی نے این اے 102 سے کاغذات نامزدگی حاصل کر لئے ،راجہ ریاض احمد نے این اے 104 سے کاغذات نامزدگی حاصل کر لئے، رانا ثناء اللہ کے داماد احمد شہریار نے پی پی 116 سے کاغذات حاصل کئے ،ڈویژنل صدر نون لیگ اکرم انصاری نے این اے 103 سے کاغذات نامزدگی حاصل کئے ،پی ٹی آئی کے منحرف ایم این اے خرم شہزاد نے این اے 103 سے کاغذات لئے،سابق صدر ڈسٹرکٹ بار شہزاد بشیر چیمہ این اے 99 اور پی پی 106 سے امیدوار ہیں، سیکرٹری ڈسٹرکٹ بار ایم اے بابر نے این اے 103 اور دو صوبائی حلقوں سے کاغذات لئے،
بلوچستان سے قومی اسمبلی کی 16نشستوں کے لئے مختلف حلقوں میں 11 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرادیئے ،الیکشن کمیشن حکام کے مطابق این اے 252سے 1 ،این اے 256خضدار سے 3 امیدوار وں نے کاغذات جمع کرائے ، این اے 257سے 2،این اے 258سے 1 امیدوار نے کاغذات جمع کرائے ، این اے262کوئٹہ سے 1، این اے 263سے 3 امیدوار وں نے کاغذات جمع کرائے ، بلوچستان اسمبلی 51 نشستوں کےلئے 46کاغذات نامزدگی جمع کرائے گئے ، سب سے زیادہ چار چار کاغذات نا مزدگی پی بی 11جھل مگسی اور کوئٹہ 41 پر جمع ہوئے.
عام انتخابات، 22 دسمبر تک امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کراسکیں گے، امیدواروں کے ناموں کی فہرست 23دسمبر کو جاری کی جائیگی ،
-

سیاسی جماعتیں، امیدوار ایسی رائے سے اجتناب کرے جو ملکی خود مختاری، سلامتی، سالمیت کے خلاف ہو، ای سی پی
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے سیاسی جماعتوں کیلئے ضابطہ اخلاق جاری کردیا۔ اعلامیہ کے مطابق سیاسی جماعتیں ایسی رائے کا اظہار نہیں کریں گی جس سے عدلیہ یا فوج کی شہرت کو نقصان پہنچے یا ان کی تضحیک ہو، سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کی تضحیک سے اجتناب کریں گی۔ ای سی پی کی جانب سے جاری کیے گئے ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں، امیدوار ایسی رائے کا اظہار نہیں کریں گے جو نظریہ پاکستان کے خلاف ہو۔سیاسی جماعتیں، امیدوار ایسی رائے کا اظہار نہیں کریں گے جو ملکی خود مختاری، سلامتی، سالمیت کے خلاف ہو۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں سرکاری ملازم کی حمایت یا امداد حاصل نہیں کریں گی، سرکاری ملازم کسی امیدوار یا جماعت کی حمایت نہیں کرے گا جو مہم یا رزلٹ پر اثر انداز ہو، سیاسی جماعتیں تشدد، ڈرانے اور دھمکیاں دینے سے اجتباب کریں گی۔ضابطہ اخلاق کے مطابق مخالف امیدوار کو دستبردار یا ریٹائر ہونے کی ترغیب یا اس کیلئے رشوت یا تحفہ دینے سے گریز کیا جائے گا، امیدواروں کے انتخاب کے وقت خواتین کی 5 فیصد نمائندگی کو یقینی بنایا جائے گا، سیاسی جماعتیں ایسے معاہدے میں شرکت نہیں کریں گی جس کا مقصد مرد، خواتین اور ٹرانسجینڈر کو امیدوار بننے سے روکنا یا ان کو ووٹ سے محروم کرنا ہو۔ضابطہ اخلاق کے مطابق سیاسی جماعتیں میڈیا کے خلاف کارکنان کو تشدد سے روکیں گی، انتخابی مہم اور انتخابات کے دوران ہتھیار، اسلحہ کی نمائش پر پابندی ہوگی، اجتماعات، پولنگ اسٹیشن پر فائرنگ، ہوائی فائرنگ، پٹاخوں کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ صدر، وزیر اعظم، چیئرمین سینیٹ، وزراء، مشیران انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیں گے۔ -

اسلام آباد میں آٹھویں سی پیک میڈیا فورم کا انعقاد
پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ نے چائنہ اکنامک نیٹ اور عوامی جمہوریہ چین کے سفارت خانہ کے تعاون سے اسلام آباد میں آٹھویں سی پیک میڈیا فورم کا انعقاد کیا۔ فورم میں شرکاء و مقررین نے بیجنگ اور یونیورسٹی آف گوادر سے بھی ورچول طور پر شرکت کی ۔ فورم میں وزیراطلاعات و نشریات نگران وزیر مرتضیٰ سولنگی ، پاکستان میں عوامی جمہوریہ چین کے سفیر ژانگ زیڈونگ ، چیئرمین سینیٹ کمیٹی برائے دفاع اور پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ سینیٹر مشاہد حسین سید، اکنامک ڈیلی کے صدر اور ایڈیٹر ان چیف ژینگ چنگ ڈونگ، چائنا اکنامک نیٹ کے صدر کیوئی جون، چائنا جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو سیکرٹری وو سو، چین میں تعینات پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی، ینئر صحافی حامد میر اور اینکر 92 نیوز ایچ ڈی کی اینکرشفا یوسفزئی نے شرکت کر کے اپنے خیالات کا اظہار کیا،
پاک چائنا انسٹی ٹیوٹ ( پی سی آئی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مصطفیٰ حیدر سید نے 2014 ءسے چین اور پاکستان کے درمیان ایک سالانہ ایونٹ کے طور پر شروع ہونے کے بعد سے سی پیک میڈیا فورم کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک تعاون کا دائرہ کارمحض بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں سے بڑھ کر عوامی روابط تک پہنچا ہےاور کہا کہ چین اور پاکستان کے شہری دونوں ممالک کے درمیان گہرے دوستی کے حقیقی نگہبان ہیں۔اس فورم کے وقت کو خاص طور پر اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے انہوں نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی کامیاب دہائی کی تکمیل کو نہایت خوش آئند قرار دیا۔ مزید برآں، انہوں نے صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی آر آئی) ممالک کی سبز ترقی میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان کو ایک تاریخی سازلمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کووڈ -19وباکے بعد کے عالمی نظام اور سبز ترقی دونوں میں چین کی قیادت پر روشنی ڈالی اور شرکاء پر زور دیا کہ وہ ان اقدامات کے ذریعے پیش کردہ مواقع سے فائدہ اٹھائیں ۔
اس موقع پر صدر سوئی جون نےچائنا اکنامک نیٹ نے آٹھویں چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک) میڈیا فورم سے متعلق چین کے نائب وزیر خارجہ سن ویڈونگ کا مبارکبادی پیغام پیش کیا۔ اس پیغام میں نائب وزیر سن ویڈونگ نے فورم کے کامیاب انعقاد پر شرکاء کو تہہ دل سے مبارکباد پیش کی۔ دوطرفہ تعلقات کی پائیدار نوعیت کا احاطہ کرتے ہوئے، نائب وزیر سن نے تیسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے دوران حاصل ہونے والی اہم پیش رفتوں پر روشنی ڈالی جہاں دونوں ممالک نے مفاہمت کی مختلف یادداشتوں پر دستخط کے ذریعے اپنے تعاون کو مستحکم کیا ہے۔ مزید برآں، انہوں نے سی پیک پر معروضی رپورٹنگ کو یقینی بنانے میں میڈیا کے اہم کردار اور ان کی اہم ذمہ داری پر زور دیا۔ نگراں وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے 2023 کے اہم سال کے دوران چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے مثبت تبدیلی کے اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نےپروپیگنڈے کا مقابلہ کرنے اور معلومات کی درست ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے معروضی رپورٹنگ پر زور دینا۔ نگران وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کے سماجی اقتصادی چیلنجوں سے نمٹنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور اقتصادی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرنے میں سی پیک کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے جعلی خبروں کے منفی اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ذمہ دارانہ صحافت کی ضرورت پر زور دیا اور سی پیک کو ایک تبدیلی کے اہم محرک کے طور پر کردار کا اعتراف کرنے کی ضرورت پر زور دیا جس نے قوم کو نئی شکل دی ہے اور ایک روشن، زیادہ خوشحال پاکستان کی امید فراہم کی ہے۔ -

مسلم لیگ ن کی قیادت کہاں سے الیکشن لڑے گی؟
نواز شریف لاہور اور مانسہرہ سے الیکشن لڑیں گے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے لاہور سے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف، شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز کے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے گئے۔ذرائع کے مطابق ن لیگ کی قیادت اپنے پرانے حلقوں سے ہی الیکشن میں حصہ لے گی۔
مریم نواز این اے 119 کے ساتھ ساتھ اسی حلقے سے صوبائی اسمبلی کی سیٹ کےلیے الیکشن لڑیں گی۔ حمزہ شہباز این اے 118 سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔نواز شریف لاہور کے این اے 130 اور مانسہرہ سے بھی الیکشن لڑیں گے جبکہ شہباز شریف لاہور کے این اے 123 اور اسکے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر بھی ایکشن لڑیں گے۔ذرائع نے بتایا کہ مریم نواز دو صوبائی حلقوں سے الیکشن میں حصہ لیں گی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ ایاز صادق اور روحیل اصغر کی سیٹ کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔
