Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں کے ساتھ جھڑپ،سپاہی شہید

    جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں کے ساتھ جھڑپ،سپاہی شہید

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق جنوبی وزیرستان میں دہشتگردوں سے جھڑپ کے دوران سپاہی وطن عزیز پر قربان ہو گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سراروغہ میں سکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، سکیورٹی فورسز نے مؤثر طریقے سے دہشت گردوں کے ٹھکانے کا پتہ لگایا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں سپاہی احمد علی نے بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق شہید سپاہی احمد علی کی عمر 26 سال اور تعلق ضلع چارسدہ سے ہے، علاقے میں دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے سینی ٹائزیشن آپریشن جاری ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، ہمارے بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔

  • خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کے لئے مفت قانونی اقدامات

    خیبر پختونخوا میں خواجہ سراؤں کے لئے مفت قانونی اقدامات

    لائرز فار رائٹس نیٹ ورک کے تحت خواجہ سراؤں کو مفت قانونی مدد کے لیے اقدامات کا آغاز ہوگیا ہے۔ مفت لیگل سہولیات میسر آنے سے اس طبقے کو کافی سپورٹ ملے گی۔ پشاور میں خواجہ سرا کمیونٹی کے خلاف قتل اور تشدد کے واقعات تھم نہ سکے، پولیس کے مطابق رواں سال صوبائی دارالحکومت میں تین خواجہ سرا کو قتل کیا گیا
    آرزو خان جو خواجہ سرا کمیونٹی کی ڈی آر سی ممبر ہیں ان کا کہنا ہے کہ قانونی سہولیات دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے خواجہ سراؤں کے قاتل با آسانی رہا ہوجاتے ہیں۔
    غیرسرکاری تنظیم سے تعلق رکھنے والی خورشید بانو کا کہنا ہے کہ لائرز فار رائٹس نیٹ ورک کے تحت خواجہ سراؤں کو مفت لیگل سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
    دوسری طرف وکلاء کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر 4 اضلاع میں خواجہ سراؤں کو مفت قانونی مدد فراہم کی جائے گی۔
    معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایک غیرسرکاری تنظیم نے لائرز فار رائٹس نیٹ ورک کا آغاز کردیا ہے۔ جس کے بعد امید ہے کہ اب خواجہ سراؤں کے قاتل انجام کو پہنچیں گے۔سکسٹین ڈیزآف ایکٹی وزم میں محروم طبقوں کے حقوق کے لیے یہ اقدام نہایت قابل ستائش تصور کیا جارہا ہے۔

  • پی ٹی آئی  کو  پشاور میں ورکر کنونش کرنے کے لئے سخت شرائط کی بنیاد پر اجازت مل گئی

    پی ٹی آئی کو پشاور میں ورکر کنونش کرنے کے لئے سخت شرائط کی بنیاد پر اجازت مل گئی

    پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو ورکر کنونشن کا این او سی ورکر جاری کر دیا، جس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سید قاسم علی شاہ نے پشاور میں ورکرز کنونشن کی اجازت کے لیے درخواست دی تھی۔ جو تحریک انصاف 6 دسمبر کو جی ٹی روڈ پر واقع شادی ہال میں کرنے جا رہی ہے۔ اجازت نامے میں لکھا ہے کہ ورکرز کنونشن کی اجازت ہو گی لیکن شرائط پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہو گا۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری 2 صفحات پر مشتمل اجازت نامے میں 22 سخت شرائط بھی عائد کی گئی ہیں جن میں سے کسی کی بھی خلاف ورزی پر اجازت نامہ منسوخ تصور ہو گا۔ اجازت نامے میں مزید لکھا ہے کہ غیراخلاقی حرکتوں اور غیرقانونی اقدامات پر مکمل پابندی ہو گی، کنونشن کے دوران سڑک بند نہیں کی جائے گی تاکہ ٹریفک کی روانی متاثر نہ ہو، ٹک ٹاک، ہالووین، مغربی تھیم پارٹی اور غیر اسلامی ویڈیوز کی اجازت نہیں ہو گی جبکہ آتش بازی بھی نہیں کی جا سکے گی۔
    انتظامیہ نے ہدایات دی ہیں کہ شرکا کی مکمل چیکنگ کا انتظام کیا جائے جبکہ مقررہ وقت کے اندر پروگرام کو ختم کرنا ہو گا۔پی ٹی آئی انتظامیہ کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ پروگرام کی ویڈیو ریکارڈنگ کر کے پولیس کو فراہم کرے گی۔ کنونشن میں ریاست مخالف، اداروں کے خلاف تقریر اور نعرہ بازی کی اجازت نہیں ہو گی۔ پاکستان تحریک انصاف نے اجازت کے بعد ورکرز کنونشن کی تیاری تیز کر دی ہے۔ضلعی انتظامیہ نے مزید لکھا ہے کہ کنونشن کرنے والے یقینی بنائیں گے کہ پروگرام میں اسلحہ کی نمائش نہ ہو اور مکمل سیکیورٹی کی ذمہ داری بھی منتظمین پر ہو گی۔

  • عوام  گیس کے قیمتوں میں اضافے کے لئے ہو جائے تیار

    عوام گیس کے قیمتوں میں اضافے کے لئے ہو جائے تیار

    ملک میں مہنگائی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے سوئی ناردرن نے اوگرا کو گیس مزید 137.62 فیصد مہنگی کرنے کی درخواست دے دی۔ سوئی ناردرن نے گیس 1715 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو مہنگی کرنے کی درخواست دی ہے جس میں گیس کی قیمت میں اضافہ یکم جولائی 2023ء سے مانگا گیا ہے۔ درخواست 2023-24ء کی آمدنی ضروریات میں کمی کو پورا کرنے کیلئے دائر کی گئی ہے۔ سوئی ناردرن کا کہنا ہے کہ سال 2023-24ء کیلئے 181 ارب 51 کروڑ 60 لاکھ کمی کا تخمینہ ہے، گیس کی قیمت 2961 روپے 98 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی جائے۔ یہ بھی پڑھیے: بجلی 3 روپے 7 پیسے فی یونٹ مزید مہنگی سوئی ناردرن کے مطابق گیس کی موجودہ قیمت 1246 روپے 49 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو ہے جبکہ درخواست میں بقایا جات کی مد میں 1209 روپے 14 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ مانگا گیا ہے۔ درخواست میں روپے کی قدر میں کمی کی مد میں 56 روپے 48 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ مانگا گیا ہے۔ اوگرا کی جانب سے سوئی ناردرن کی درخواست پر سماعت 11 دسمبر کو ہوگی۔

  • پی ٹی آئی کا عوام بھول چکی ہے وہ ایک پرانی کہانی ہے،پرویز خٹک

    پی ٹی آئی کا عوام بھول چکی ہے وہ ایک پرانی کہانی ہے،پرویز خٹک

    پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹرین (پی ٹی آئی پی) کے سربر اہ پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اب قصہ پارینہ بن چکے، ہمیں اب مستقبل کا سوچنا چاہیے۔
    نوشہرہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل بانی پی ٹی آئی کے بغیر روشن ہے۔ عمران خان نے عوام کو ٹرک کے بتی کے پیچھے لگا لیا تھا ، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے باریاں بانٹ کر ملک کا خانہ خراب کردیا، رہی سہی کسر تبدیلی کے نام پر دھوکا دے کر بانی پی ٹی آئی نے پوری کردی۔پرویز خٹک نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی پارٹی میں ایک ڈکٹیٹر کی شکل اختیار کر گئے تھے، وہ اپنے مخلص دوستوں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔

  • فیض آباد دھرنا کیس،فواد حسن فواد نے اپنا بیان قلم بند کروا دیا

    فیض آباد دھرنا کیس،فواد حسن فواد نے اپنا بیان قلم بند کروا دیا

    نگراں وفاقی وزیر فواد حسن فواد نے فیض آباد دھرنا کمیشن کو اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا۔ ذرائع کے مطابق ڈاکٹر اختر علی شاہ کی زیرِ صدارت فیض آباد دھرنا کمیشن کا اجلاس ہوا۔ فواد حسن فواد نے 22 نومبر 2017ء کے کابینہ اجلاس پر اپنی معلومات شئیر کیں۔ ذرائع نے بتایا کہ فیض آباد دھرنا کمیشن کے سربراہ اختر علی شاہ نے فواد حسن فواد سے سوال کیے۔ فواد حسن فواد کو کمیشن کی طرف سے سوالنامہ بھی جاری کیا جائے گا۔اخیال رہے کہ فواد حسن فواد فیض آباد دھرنا کے وقت وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری تھے، اس سے قبل سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کو بھی سوالنامے دیے جا چکے ہیں جبکہ سابقہ آئی جی پنجاب اور سی پی او راولپنڈی بھی کمیشن کے سامنے پیش ہو چکے ہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر وزارت قانون و انصاف کے نوٹیفکیشن کے بعد کمیشن اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے لیکن کمیشن کی جانب سے تاحال فیض حمید کو بلانے کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔

  • پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے پارٹی کے انٹرا پارٹی الیکشن چیلنج کر دیئے

    پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے پارٹی کے انٹرا پارٹی الیکشن چیلنج کر دیئے

    پی ٹی آئی الیکشن محض دکھاوا، فریب اور الیکشن کمیشن کو دھوکہ دینے کی ناکام کوشش تھی ،پاکستان تحریک انصاف کے بانی رہنما اکبر ایس بابر نے پارٹی کے انٹرا پارٹی الیکشن چیلنج کر دیئے۔ بانی رہنما پی ٹی آئی نے انتخابات کیخلاف الیکشن کمیشن میں باقاعدہ درخواست دائر کر دی۔ چیف الیکشن کمشنر کے نام تین صفحات پر مشتمل درخواست میں الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 208 کا حوالہ دیا گیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ، فراڈ انتخابی عمل نے پی ٹی آئی ارکان کو ووٹ دینے اور انتخاب میں حصہ لینے کے حق سے محروم کر دیا، پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن ایکٹ 217 کے سیکشن 208 اور ذیلی شق 2 کی خلاف ورزی ہے۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کو جمہوری نہیں بنائیں گے تو قابل لیڈرشپ سامنے نہیں آئے گی۔الیکشن کمیشن اسلام آباد کے باہر میڈیا سے گفتگو میں اکبر ایس بابر نے کہا کہ آج ہم سب نے الگ الگ درخواستیں جمع کرائی ہیں، ہم بلے کا نشان بچانے نکلے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں نے اسی الیکشن کمیشن میں بلے کےلیے درخواست دی تھی، آج انتخابی نشان بلا خطرے میں ہے۔ا ن کا کہنا تھا کہ یوسف علی اور نورین فاروق نے بھی درخواست جمع کرائی ہے، عدالت کا فیصلہ درخواست کے ساتھ منسلک ہے، جس میں میری پارٹی ممبرشپ بحال کی گئی۔اکبر ایس بابر نے یہ بھی کہا کہ میں واحد پارٹی ممبر ہوں، جس کے حق میں تین جوڈیشل فورمز سے تحریری فیصلے آئے۔پی ٹی آئی کے بانی رکن نے مزید کہا کہ پارٹی کے کچھ ممبران بھی میرے ساتھ ہیں، یوسف علی پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری تھے، نورین فاروق خان لیبر ونگ کی صدر تھیں۔
    ی ٹی آئی کے بانی رکن نے کہا کہ درخواست میں لکھا ہے کہ تمام پارٹیوں کو انٹراپارٹی الیکشن کے عمل سے گزاریں، الیکشن کمیشن دیگر جماعتوں کی فنڈنگ اسکروٹنی کرے، جیسے پی ٹی آئی کی ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو جمہوری نہیں بنائیں گے تو قابل لیڈرشپ سامنے نہیں آئے گی، پی ٹی آئی میں ایسے شخص کو چیئرمین بنایا گیا جس کا پارٹی سے تعلق ہی نہیں، پارٹی کارکن کو حق کیوں نہیں دیتے کہ وہ قیادت کا انتخاب کرےانہوں نے کہا کہ درخواست کے ساتھ تمام ثبوت رکھے ہیں، جعلی الیکشن کالعدم قرار دینے کی استدعا کی، الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کو فوری شفاف الیکشن کرانے کا حکم دے۔

  • لاہور ہائی کورٹ نے پرویز الہی کے حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    لاہور ہائی کورٹ نے پرویز الہی کے حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کر دیا

    لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کو بحفاظت گھر نہ پہچانے کے خلاف توہین عدالت کا فیصلہ جسٹس سلطان تنویر احمد نے سات صفحات پر مشتمل تحریر جاری کیا ۔پرویز الہی کی اہلیہ قیصرہ الہی نے توہین عدالت کی درخواست دائر کررکھی تھی۔تحریری فیصلے کے مطابق ڈی آئی جی آپریشن اور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن نے تحریری طور پر غیر مشروط معافی مانگی ۔مستقبل میں دونوں افسران نے احتیاط کرنے کی یقین دہانی کروائی ۔عدالت کو مزید کرائمنل کارروائی کی ضرورت نظر نہیں آتی ۔توہین عدالت میں سزا دینے کا اختیار ایک غیر معمولی طاقت ہے ۔جہاں ضروری ہو اس کا استعمال انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔توہین کا مقصد انتقام لینا نہیں ہے ۔ اسلام میں معافی کرنے کا ذکر بھی ہے۔
    عدالت نے مزید کہا مستقبل میں دونوں افسران نے احتیاط کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ عدالت کو مزید کرمنل کارروائی کی ضرورت نظر نہیں آتی۔لاہور ہائیکورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ توہین عدالت میں سزا دینے کا اختیار ایک غیر معمولی طاقت ہے، فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پولیس افسر کے مطابق عدالتی حکم کے بعد گھر کے قریب اسلام آباد پولیس نے پرویز الہی کو گرفتار کیا۔

  • بجلی مزید مہنگی،نیپرا کا نوٹیفکیشن جاری

    بجلی مزید مہنگی،نیپرا کا نوٹیفکیشن جاری

    حکومت کی جانب سے بجلی مزید مہنگی کی گئی فی یونٹ 3روپے 5پیسے مہنگی کردی گئی۔نیپرا نے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ۔نیپرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی اکتوبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں مہنگی کی گئی ۔بجلی کی قیمت میں اضافہ دسمبر کے بجلی بلوں میں وصول کیا جائے گا ۔لائف لائن صارفین اور کے الیکٹرک صارفین پراطلاق نہیں ہوگا ۔نیپرا نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ اکتوبر میں نو ارب پچیس کروڑ یونٹ بجلی پیدا کی گئی، جو ریفرنس سے کم ہے۔ اکتوبر کے فیول کاسٹ ایڈجسمنٹ میں 3 روپے سے ذائد فی یونٹ پیسے بقایا جات کی مد میں شامل کیے گئے ہیں۔

  • نیپرا کی جانب اضافی بلز  بھیجنا عوام کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہے،رضا ربانی

    نیپرا کی جانب اضافی بلز بھیجنا عوام کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہے،رضا ربانی

    سابق چیئرمین سینیٹ اور پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی انکوائری نے گھپلوں کا انکشاف تشویش ناک ہے،اسلام آباد سے جاری بیان میں رضا ربانی نے کہا کہ نجی بجلی کمپنیاں مہنگے بلوں کے ذریعے صارفین کو زندہ درگور کر رہی ہیں، اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ نے ڈسکوز کے میٹر ریڈنگ سے لے کر بلنگ اور جرمانے تک پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔رضا ربانی نے یہ بھی کہا کہ رپورٹ کے مطابق صارفین سے وصول بلوں کی رقم میٹر ریڈنگ سے مطابقت نہیں رکھتی، کچھ کیسز میں میٹر ریڈنگ کی تصاویر مبہم تھیں یا جان بوجھ کرلی ہی نہیں گئیں۔
    پی پی سینیٹر نے مزید کہا کہ بجلی فراہمی میں اوور بلنگ سب سے بڑی بد دیانتی ہے، نیپرا رپورٹ ہے بجلی تقسیم کار کمپنیاں صارفین سے 100 فیصد زائد وصولیاں کر رہی ہیں۔
    پی پی سینیٹر نے کہا کہ ‏اوور چارج شدہ رقم کو صارفین کے بلوں میں ایڈجسٹ کیا جانا چاہیے، نیپرا رپورٹ کو سینیٹ کی ہول کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔
    اُن کا کہنا تھا کہ سینیٹ کمیٹی مجرمانہ سرگرمی کے خلاف کارروائی تجویز کرے، ‏ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے سی ای اوز کے نام ای سی ایل پر رکھے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق مجرمانہ سرگرمیوں کے مترادف ہیں، بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔
    واضح رہے کہ عوام کو اضافی بل بھیجنے پ رنیپرا کے کی تحقیقات کا فیصلہ کی گیا تھا جس کے اعلامیہ کے مطابق خراب میٹرز کو جلد از جلد تبدیل کرنے اور غلط بلوں کو درست کرنے کاحتمی وقت دے دیا گیا ہے۔ بجلی کمپنیوں کو 30 دنوں میں خراب میٹرز کو تبدیل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اعلامیہ کے مطابق مقررہ وقت تک عملدرآمد نہ کرنے پر کمپنیوں کےخلاف کارروائی کی جائے گی۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پالیسی کے مطابق میٹرز تبدیل نہ کرنے پر کے الیکٹرک کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
    اعلامیہ کے مطابق نیپرا نے معاملے پر کےالیکٹرک سے وضاحت طلب کرلی ہے۔