Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پی سی بی نے بی بی ایل 13 میں شرکت کے لیے کھلاڑیوں کو محدود این او سی جاری کر دیا

    پی سی بی نے بی بی ایل 13 میں شرکت کے لیے کھلاڑیوں کو محدود این او سی جاری کر دیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بگ بیش لیگ (بی بی ایل) کے آئندہ سیزن 13 میں شرکت کے لیے تین کھلاڑیوں اسامہ میر، حارث رؤف اور زمان خان کو این او سی جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، یہ این او سی پورے ایونٹ کے بجائے مخصوص میچوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ محدود این او سی دینے کا فیصلہ پی سی بی کی جانب سے کھلاڑیوں کے کام کے بوجھ اور ان کے مستقبل کے وعدوں پر غور کرنے سے ہوا ہے۔ پی سی بی نے ایک پریس ریلیز میں کہا، "پی سی بی سمجھتا ہے کہ یہ فیصلہ اس میں شامل تمام اسٹیک ہولڈرز کے بہترین مفاد میں ہے اور کام کے بوجھ کے انتظام کے ساتھ کھیل کے وقت کی اہمیت کو متوازن کرتے ہوئے”۔
    حارث رؤف، پاکستان کے تیز گیند بازوں میں سے میں اہم شخصیت ہیں، انہیں پانچ میچوں میں کھیلنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسی طرح اسامہ میر (میلبورن سٹارز) اور زمان خان (سڈنی تھنڈرز) کو بالترتیب پانچ اور چار میچوں کے لیے این او سی مل چکے ہیں۔ ان کی شرکت اور قومی وابستگیوں میں توازن پیدا کرنے کے لیے، یہ این او سی ایک مخصوص مدت کے اندر مختص کیے گئے ہیں۔ قومی کرکٹرز کو 7 دسمبر سے 28 دسمبر کے درمیان آسٹریلیا کے پریمیئر ٹورنامنٹ میں شرکت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ میلبورن سٹارز کو حارث رؤف کی شرکت کے لیے کلیئرنس ملنے کے بعد اب راحت ملے گی۔ انہوں نے حارث کا خلا پُر کرنے کے لیے انگلینڈ کے اولی سٹون کو طلب کیا، جو پہلے ہی بی بی ایل کے لیے میلبورن میں اتر چکے تھے۔اس سے قبل، اسٹارز نے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے پاکستانی اسٹار عماد وسیم کو سائن کرنے کا اعلان کیا، جو انگلینڈ کے لیام ڈاسن کی جگہ ٹیم میں شامل ہوں گے۔

    میلبورن سٹارز کے جنرل منیجر بلیئر کراؤچ نے کہا، "پہلے تین میچوں کے لیے لیام کے دستیاب ہونے کے ساتھ، ہم نے عماد کی شناخت ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر کی جو اپنے بائیں بازو کی اسپن سے ہمارے لیے کردار ادا کر سکتا ہے اور ہماری بیٹنگ لائن اپ کو لمبا کر سکتا ہے۔” "میں واقعی میں ایم سی جی میں عماد کے ساتھ اپنے سابق قومی ساتھی اسامہ میر اور حارث رؤف کے ساتھ ہجوم میں بہت سارے پاکستانی شائقین کو دیکھنے کا منتظر ہوں۔”
    بی بی ایل 13 کے لیے میلبورن اسٹارز اسکواڈ میں اسکاٹ بولانڈ، جو برنز، ہلٹن کارٹ رائٹ، بروڈی کاؤچ، نیتھن کولٹر نائل، لیام ڈاسن (انگلینڈ)، سیم ہارپر، کیمبل کیلوے، نک لارکن، گلین میکسویل، اسامہ میر (پاکستان)، جوئل پیرس شامل ہیں۔ ، حارث رؤف (پاکستان)، ٹام راجرز، مارک سٹیکیٹی، مارکس اسٹوئنس، عماد وسیم (پاکستان) اور بیو ویبسٹر شامل ہیں ،بی بی ایل 7 دسمبر 2023 سے اگلے سال 24 جنوری تک چلے گا۔

  • اگست کے مہینے میں اوور بلنگ پر نیپرا کی رپورٹ آگئی

    اگست کے مہینے میں اوور بلنگ پر نیپرا کی رپورٹ آگئی

    اگست میں بجلی کی اوور بلنگ پر نیپرا نے انکوائری رپورٹ جاری کردی ، جس میں انکشاف کیا گیا کہ صارفین کو 30دن کے بجائے چالیس دن کے بل بھیجے گئے ۔
    نیپرا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صارفین کی جانب سےڈسکوز بشمول کے الیکٹرک کے خلاف جولائی اور اگست 2023 کے ماہانہ بلوں میں اوور بلنگ اور غلط میٹر ریڈنگ کرنے پر نیپرا کوکثیر تعداد میں درخواستیں جمع کروائی گئی تھی، نیپرا اتھارٹی کی جانب سے اس معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے 3 سینئر افسران پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی اور رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ۔ انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے اوور بلنگ کی ۔ ڈسکوز کے عملے کی غفلت سے بجلی صارفین پر بھاری بوجھ پڑا ۔ صارفین کو30 دن کی بجائے 40دن کے بل بھیجے گئے ۔ کمیٹی نے صارفین کی شکایات کا جائزہ لیا اور متعلقہ ڈسکوز کے دفاتر کا وزٹ کر کے ایک جامع رپورٹ اتھارٹی کو پیش کی، تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 30دن سے زائد بلنگ کرنے کی وجہ سے لاکھوں صارفین متاثر ہوئے، رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اپنی نا اہلی چھپانے کے لیے جان بوجھ کر اس قسم کی بددیانتی کر رہی ہیں ،ہزاروں صارفین بالخصوص گھریلو اور کم بجلی استعمال کرنے والوں کو بجلی کے غلط اور زیادہ بلوں کا سامنا کرنا پڑا۔

  • مسلم لیگ ن کے قائد اور مولانا  فضل الرحمن کے درمیان سیٹ ایڈجسمنٹ پر اتفاق

    مسلم لیگ ن کے قائد اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان سیٹ ایڈجسمنٹ پر اتفاق

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات ختم ہوگئی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور عام انتخابات سمیت دیگر اہم معاملات پر گفتگو کی گئی۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹریٹ پہنچے۔ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے صدر جماعت شہباز شریف کے ہمراہ پارٹی سیکریٹریٹ آمد پر مولانا فضل الرحمان کا استقبال کیا۔ دونوں جماعتوں کے مابین وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے، اس موقع پر ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق خواجہ سعد رفیق نے سندھ میں ایم کیو ایم کے ساتھ ہونے والے سیاسی مذاکرات کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی۔ملاقات میں دونوں جماعتوں نے ایم کیو ایم کے مجوزہ ملک گیر بلدیاتی نظام پر تفصیلی مشاورت کی اور ایم کیو ایم کے مجوزہ بلدیاتی نظام پر مکمل اتفاق رائے کیا۔پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ آئندہ پارلیمان میں اس بلدیاتی نظام بارے آئینی ترمیم لائی جائے گی۔نواز شریف نے فضل الرحمان کو ایم کیو ایم کے ساتھ طے پا جانے والے انتخابی معاہدے پر اعتماد میں لیا، دونوں جماعتوں نے سندھ میں ایم کیو ایم اور دیگر ہم خیال جماعتوں سے مل کر انتخابی اتحاد بنانے پر بھی اتفاق رائے کا اظہار کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علما اسلام (ف) میں مکمل سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق ہوگیا ہے۔ ملاقات میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ دونوں صوبوں میں ہر قومی و صوبائی نشست پر امیدوار باہمی اتفاق رائے سے اتارے جائیں گے اور یہ بھی طے پایا کہ جس نشست پر جس پارٹی کا امیدوار مضبوط ہوگا اسی کی نامزدگی اور حمایت کی جائے گی، کسی اتفاق رائے پر نہ پہنچا جا سکا تو ایک جماعت کا امیدوار قومی اور دوسری کا صوبائی نشست پر نامزد کیا جائے گا۔ملاقات میں دونوں جماعتوں نے آئندہ انتخابات کے بعد مل کر حکومت بنانے اور تمام امور پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا اور مشترکہ صدارتی امیدوار لائے جانے پر بھی مشاورت کی۔


    ملاقات میں سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز شریف، سینیٹر اسحاق ڈار، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، مریم اورنگزیب اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔
    اس موقع پر نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں دونوں قائدین کے درمیان مجموعی ملکی صورتحال، عام انتخابات کے انعقاد، سیاسی تعاون اور اشتراک عمل پر مشاورت ہوئی۔ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف ماڈل ٹاؤن سے روانہ ہوگئے جبکہ قائد مسلم لیگ ن نواز شریف بھی ماڈل ٹاؤن سے روانہ ہوگئے۔

  • عمران خان بشری بی بی کو درجنوں بار ملے بھی اور انکو دیکھا بھی ،عون چودھری کا دعویٰ

    عمران خان بشری بی بی کو درجنوں بار ملے بھی اور انکو دیکھا بھی ،عون چودھری کا دعویٰ

    استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما عون چوہدری نے عمران خان کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے یہ کہنا کہ بشریٰ بی بی کو نکاح سے پہلے نہیں دیکھنے کا دعویٰ اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے، سابق چیئرمین بشریٰ بی بی سے ایک بار نہیں کئی بار نکاح سے پہلے ملے، گھنٹوں ملاقات کرتے رہے۔ اس سے قبل بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کی شکل دیکھی ہی تب تھی جس دن نکاح کیا تھا۔
    انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی قرآن پر حلف دے دیں کہ انہوں نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا نکاح سے پہلے چہرہ نہیں دکھایا، میں خود سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو ملاقات کیلئے لے کر جاتا رہا۔عون چوہدری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے پول کھولے تو انہیں شرم سے سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی، بانی پی ٹی آئی بشریٰ بی بی سے نکا ح سے پہلے درجنوں بار ملے بھی اور دیکھا بھی تھا۔ عون چوہدری نے یہ بھی کہا کہ خود کو قوم کا لیڈر کہنے والا جھوٹ بولے تو میرا فرض ہے کہ سچ سامنے لاؤں، سابق چیئرمین جھوٹ میں کتنا گریں گے کہ جھوٹا قرآن اٹھانے تک پہنچ گئے، سابق تعلق کا لحاظ رکھ رہا ہوں ورنہ ایسے راز کھولوں کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا گند دنیا کے سامنے آجائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق چیئرمین کی سیاست جھوٹ پر مبنی ہے اللّٰہ کا شکر ہے کہ ان کو وقت پر ہی چھوڑ دیا، نئے چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے بیرسٹر گوہر علی کی نامزدگی بھی ان کے اندر کے خوف کی عکاس ہے، سابق چیئرمین پی ٹی آئی پارٹی کے کسی اہل شخص کو پارٹی میں مقام دینا ہی نہیں چاہتے۔

  • اصل مسئلہ مہنگائی کا ہے جس سے ن لیگ منہ چھپانے کی کوشش کر رہی ہے،دانیال عزیز

    اصل مسئلہ مہنگائی کا ہے جس سے ن لیگ منہ چھپانے کی کوشش کر رہی ہے،دانیال عزیز

    مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز نے کہا ہے کہ رانا ثناء اللّٰہ کا احترام کرتا ہوں، میں نے کبھی کسی کی ٹکٹ کےلیے سفارش نہیں کی۔
    انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ ملک میں مہنگائی ہے، میں نے پارٹی میں ہر سطح پر مہنگائی سے متعلق مسئلہ اٹھایا۔ دانیال عزیز نے مزید کہا کہ خواجہ سعد رفیق اور خرم دستگیر نے کہا جو بات پارٹی کے اندر ہے اندر ہی ہونی چاہیے تھی۔ میں تو پارٹی کے اندر ان معاملات پر 5 سال سے بات چیت کرتا رہا ہوں۔نجی ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے دانیال عزیز نے کہا کہ پارٹی سمجھتی ہے کہ جو جیت سکتا ہے، اُسے ٹکٹ دیں، میرا کوئی اختلاف نہیں، پارٹی کی سیٹ ضائع کرنی ہے تو اُن کی مرضی ہے۔
    ن لیگی رہنما نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے پاکستان کی معیشت کو تباہ و برباد کردیا، ابھی بھی یہی کہتا ہوں معاملہ اچھے انداز میں چلائیں، رانا ثنا اللّٰہ شاید اس بات سے واقف نہیں تھے۔

  • شہریوں کو ہاؤسنگ اسکیموں میں فراڈ سے بچانے کے لئے نیب نئی پالیسی متعارف کردی

    شہریوں کو ہاؤسنگ اسکیموں میں فراڈ سے بچانے کے لئے نیب نئی پالیسی متعارف کردی

    شہریوں کو ہاؤسنگ اسکیموں کے فراڈ سے بچانے کیلئے نیب نے نئی پالیسی لانےکا اعلان کر دیا ، تمام ٹرانزیکشنز بینکنگ چینل سے ہوں گی، نقد ادائیگی کی اجازت نہیں ہوگی۔قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین نے شہریوں کو ہاؤسنگ اسکیموں کے فراڈ سے بچانے کیلئے نئی پالیسی لانے کا اعلان کر دیا۔ ہاؤسنگ اسکیموں کے متاثرین کو چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب میں چیئرمین نیب لیفیٹننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد بٹ نے کہا کہ ہر 10 میں سے 7 لوگ ہاؤسنگ اسکیموں کے فراڈ کا شکار ہیں،
    چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد نے نیب لاہور کے دفتر میں اینٹی کرپشن ڈے کے حوالے سے تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو لوٹنے والے فصلی بٹیروں کے خلاف شکنجہ سخت کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ اسکیموں میں بلڈر اور خریدار کے درمیان دو طرفہ ٹرانزیکشن ہوتی تھی، ریگولیٹر مِسنگ تھا، نئی پالیسی میں تمام اسٹیک ہولڈر شامل ہوں گے اب بلڈر اور خریدار کے درمیان ہر ٹرانزیکشن دو طرفہ نہیں تین طرفہ ہوگی، بلڈر اور خریدار کے ساتھ ریگولیٹر بھی پہلے دن سے ہر ٹرانزیکشن کا حصہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نیب کے بارے میں سست روی کا تاثر کسی حد تک درست ہے، کرپشن اور بدعنوانی ناسور ہے، اس کا خاتمہ بہت ضروری ہے، کاروباری افراد سے گزارش ہے کہ ڈریں مت ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • 190 ملین پاؤنڈز کیس: احتساب عدالت نے کن کن کی گرفتاری کا حکم جاری کیا؟

    190 ملین پاؤنڈز کیس: احتساب عدالت نے کن کن کی گرفتاری کا حکم جاری کیا؟

    احتساب عدالت اسلام آباد نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کی آج کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل میں قائم احتساب عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں احتساب عدالت اسلام آباد نے شہزاد اکبر، ضیاء المصطفیٰ نسیم، زلفی بخاری ، فرحت شہزادی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔ حکم نامے کے مطابق سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل آئندہ سماعت پر سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو احتساب عدالت میں پیش کریں۔ رجسٹرار کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈز اسکینڈل کی سکروٹنی مکمل کرلی گئی۔عدالت ریفرنس ٹرائل کیلئے منظور کرتی ہے۔
    سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے علاوہ باقی تمام 6 ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جارج کیے جاتے ہیں۔ وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کے مطابق 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کا ٹرائل اڈیالہ جیل راولپنڈی میں کیا جائے گا۔ ریفرنس کی آئندہ سماعت 6 دسمبر 2023 کو ہوگی۔

  • سلمان بٹ کو سلیکشن کنسلٹنٹ کے عہدے سے ہٹانے میں حفیظ  کا اہم کردار

    سلمان بٹ کو سلیکشن کنسلٹنٹ کے عہدے سے ہٹانے میں حفیظ کا اہم کردار

    محمد حفیظ نے سلمان بٹ کو سلیکشن کنسلٹنٹ کے عہدے سے ہٹانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ابتدائی طور پر پی سی بی نے سابق کرکٹرز کامران اکمل، راؤ افتخار انجم اور سلمان بٹ کی بطور کنسلٹنٹ ممبران تقرری کی تصدیق کی تھی۔ تاہم،سلما ن بٹ کی شمولیت کو کرکٹ برادری میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں فیصلے کو تیزی سے تبدیل کر دیا گیا۔ آسٹریلیا میں سلمان بٹ کی تقرری کے بارے میں جاننے کے بعد، ٹیم کے ڈائریکٹر حفیظ نے مبینہ طور پر پی سی بی کے اعلی حکام سے انتخاب پر نظر ثانی کرنے پر زور دیا۔ اس خبر سے حیران ہو کر حفیظ نے فوری طور پر لاہور میں پی سی بی ہیڈ کوارٹر سے فون کیا اور کہا کہ سلمان بٹ کی تقرری غلطی تھی۔ انہوں نے داغدار ماضی والے افراد کے ساتھ کام کرنے کی اپنی دیرینہ مخالفت پر زور دیا اور سوال کیا کہ وہ اس نوعیت کے کسی کے ساتھ کیسے تعاون کر سکتے ہیں۔
    ذرائع نے انکشاف کیا کہ سلمان بٹ کے قریبی دوست وہاب ریاض نے انہیں قومی سیٹ اپ میں واپس لانے کی کوشش کی اور ٹیم کی آسٹریلیا روانگی سے قبل حفیظ سے اس بارے میں بات کی تھی۔ اس کے خلاف حفیظ کے سخت مشورے کے باوجود، وہاب نے محمد عامر کے معاملے سے مماثلت رکھتے ہوئے، بٹ کی تقرری کے لیے بورڈ سے منظوری حاصل کی۔ اس فیصلے نے سوشل میڈیا پر حفیظ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، پرانی ویڈیوز دوبارہ منظر عام پر آئیں جہاں انہوں نے فکسرز کے ساتھ کام کرنے کے خلاف بات کی۔ ردعمل سے بے چین، حفیظ نے فیصلہ واپس لینے کے لیے حکام پر دباؤ ڈالا۔ میڈیا اور سابق کرکٹرز نے بھی سلمان کی تقرری کی شدید مخالفت کی، حتیٰ کہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی ناراض ہوئے۔ نتیجتاً، پی سی بی نے اپنا فیصلہ تبدیل کیا اور وہاب ریاض کی جانب سے عجلت میں منعقد کی گئی میڈیا کانفرنس کے دوران پلٹنے کا اعلان کیا۔سلمان بٹ کے پریشان حال ماضی، جس میں 2011 میں ان کے پچھلے سال لارڈز میں انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ کے دوران جان بوجھ کر نو بال کرانے کی سازش میں ملوث ہونے کے الزام میں قید کی سزا بھی شامل تھی، سلمان بٹ نے اس تنازع میں اہم کردار ادا کیا۔ جس کے نتیجے میں آئی سی سی نے ان پر 10 سال کی پابندی عائد کی تھی.

  • پارٹی گوہر علی خان کے حوالے کرنے سے ثابت ہوا کہ عمران خان کو  کسی پر اعتماد نہیں ،خواجہ آصف

    پارٹی گوہر علی خان کے حوالے کرنے سے ثابت ہوا کہ عمران خان کو کسی پر اعتماد نہیں ،خواجہ آصف

    ن لیگ کے رہنما خواجہ آصف نے اپنے ایکس اکاؤنٹ سے ایک تصویر شئیر کی ہے جس میں بیرسٹر گوہر علی خان پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کے طور پر کھڑے ہے پی ٹی آئی چئیر مین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے پرانے ساتھیوں کو کوڑا کرکٹ کردیا، اور ایک سال میں آصف زرداری کا تراشہ ہیرااتناپسند آیا کہ اپنی کرسی حوالے کردی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نئے پی ٹی آئی چیئرمین گوہر علی خان کے 2008 سے 2022 تک آصف زرداری قائد رہے، پھر وہ 2022 میں پی ٹی آئی میں آئے۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو صرف ایک سال میں آصف زرداری کا تراشہ ہیرا اتنا پسند آیا کہ انہوں نے اپنی کرسی ان کے حوالے کردی۔


    خواجہ اصف بے کہا کہ عمران خان کو اپنے پارٹی کے ارکان پر بھروسہ نہیں اسلئے اس نے پارٹی گوہر علی خان کو پارٹی سونپ دی،انہوں نے کہا کہ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے ،پی ٹی آئی والوں کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہے،

  • غزہ کے ہسپتالوں کی حالت زار تشویشناک ہے،عالمی ادارہ صحت

    غزہ کے ہسپتالوں کی حالت زار تشویشناک ہے،عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈ روس ایڈہانوم کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بمباری کے باعث غزہ کے اسپتالوں کی صورتحال ‘ناقابل تصور’ ہے۔
    سربراہ ڈبلیو ایچ او ٹیڈ روس ایڈہانوم نے صیہونی بمباری سے تباہ حال غزہ کے ایک اسپتال کا دورہ کیا جس کے بعد اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی غزہ میں انصر اسپتال کے حالات ناقص سے بھی بدتر ہیں اور اسپتال میں گنجائش سے تین گنا زائد مریض موجود ہیں۔
    عالمی ادارہ صحت کے مطابق اسرائیل نے 7 اکتوبر سے اب تک فلسطین کے طبی مراکز پر 335 حملے کیے، غزہ میں 164 طبی مراکز اور مغربی کنارے میں 171 طبی مراکز کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ٹیڈ روس ایڈہانوم نے کہا کہ اسپتال میں مریضوں کا علاج زمین پر کیا جا رہا ہے، مریض درد سے چیخ رہے ہیں اور صورتحال پر تشویش کا اظہار کرنے کیلئے الفاظ تک نہیں مل رہے۔ دوسری جانب عرب میڈیا کا بتانا ہے کہ غزہ میں ایک ہفتے کی عارضی جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں پر ترک ڈاکٹروں اور طلبا نے غزہ سے اظہاریکجہتی کیلئے استنبول میں خاموشی مارچ کیا۔ ڈاکٹروں نے لال رنگ کے ہینڈ پرنٹ کے نشانات والے سفید کوٹ پہنے ہوئے تھے جن پر ‘ڈاکٹر فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں’ کا پیغام بھی درج تھا۔ واضح رہے غزہ میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی کے دوران عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد گزشتہ 2 روز میں اسرائیلی فوج نے 400 سے زائد حملے کرکے 300 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا اور 7 اکتوبر سے جاری بمباری میں اب تک 15 ہزار 200 سے زائد افراز شہید اور 40 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔