Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • جوڈیشل کمیشن رولز میں ترمیم کیلئے اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل،  چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی نامزدگی

    جوڈیشل کمیشن رولز میں ترمیم کیلئے اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی نامزدگی

    جوڈیشل کمیشن نے جسٹس عقیل احمد عباسی کی بطور چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نامزدگی کی منظوری دے دی۔ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میں جسٹس عقیل احمد عباسی کی بطورِ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کی منظوری متفقہ رائے سے دی گئی۔ جوڈیشل کمیشن اپنی سفارشات منظوری کیلئے پارلیمانی کمیٹی کو بھجوائے گا، جسٹس عقیل احمد عباسی اس وقت سندھ ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ دوسری جانب سپریم کورٹ، جوڈیشل کمیشن اجلاس میں ججز تقرری کے معاملے پر بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ جوڈیشل کمیشن رولز میں ترمیم کیلئے اعلیٰ سطح کمیٹی تشکیل دیدی گئی ۔
    ذرائع کے مطابق جوڈیشل کمیشن اجلاس میں کمیٹی تشکیل کا فیصلہ اکثریتی رائے سے ہوا۔جسٹس منصور علی شاہ کو کمیٹی کا سربراہ تعینات کیاگیاہے ۔کمیٹی میں ہر ہائیکورٹ کا ایک جج شامل ہوگا۔کمیٹی میں تمام بار کونسلوں کا ایک نمائندہ بھی شامل ہوگا۔کمیٹی اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی نامزدگیوں سمیت دیگر معاملات پر رپورٹ پیش کرے گی۔ جوڈیشل کمیشن نے کمیٹی کو 15 جنوری 2024 تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی ۔جوڈیشل کمیشن کا اجلاس چیف جسٹس فائز عیسیٰ سربراہی میں ہوا۔جوڈیشل کمیشن نے جسٹس ریٹائرڈ منظور ملک کو جوڈیشل کمیشن کا ممبر تعینات کرنے کی منظوری دے دی۔ جوڈیشل کمیشن کے موجودہ ممبر سرمد جلال عثمانی کی مدت 21 نومبر کو مکمل ہوگئی۔

  • پی ٹی ایم کے سر براہ منظور پشتین چمن سے گرفتار

    پی ٹی ایم کے سر براہ منظور پشتین چمن سے گرفتار

    چمن میں پشتون تحفظ مومنٹ (پی ٹی ایم) کے سربراہ منظور پشتین کو گرفتار کرلیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ پولیس، لیویز اور ایف سی باب چمن کے قریب معمول کی چیکنگ کر رہے تھے، منظور پشتین کے ساتھ مسلح افراد نے گاڑی روکنے کے بجائے اہلکاروں پر چڑھائی اور فائرنگ کی۔ ڈی سی کے مطابق اہلکاروں نے جوابی کارروائی میں منظور پشتین کی گاڑی کے ٹائر پر فائرنگ کی، منظور پشتین اور ان کے ہمراہ مسلح افراد گاڑیاں بھگا کر فرار ہوئے۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ سرچ آپریشن کے بعد ایک گودام سے منظور پشتین کو گرفتار کیا گیا، فائرنگ کے واقعے کا مقدمہ منظور پشتین کے خلاف درج کر لیا گیا۔
    دوسری طرف ترجمان پی ٹی ایم کا کہنا ہے کہ منظور پشتین نے آل پارٹیز تاجر محنت کش دھرنے سے آج خطاب کیا، دھرنے سے کوئٹہ جاتے ہوئے اہلکاروں نے منظور پشتین کی گاڑی پر چمن پریس کلب کے قریب فائرنگ کی، گاڑی پر 8 گولیاں لگیں، ایک خاتون زخمی ہوگئی جو کہ اسپتال میں زیر علاج ہے۔پی ٹی ایم کا کہنا ہے کہ منظور پشتین ساتھیوں کو لے کر واپس چمن شہر آئے اور خود کو گرفتاری کے لیے پیش کیا۔

  • مریم نواز کا عمران  خان پر شدید تنقید

    مریم نواز کا عمران خان پر شدید تنقید

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کی چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر مریم نواز نے پاکستان تحریک انصاف کے سابق چیئرمین عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا
    کہ پہلے کہتا تھا 9 مئی کے حملے میں نے نہیں کیں، میرے کارکنان نے کیے تھے، آج کہتا ہے 9 مئی نواز شریف نے کرایا تھا۔مریم نواز نے مزید کہا کہ یعنی 9 مئی کو تحریک انصاف کے لیڈر اور کارکنان نواز شریف سے ہدایات لے رہے تھے۔ واہ جی واہ
    اس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا تھا کہ مجھ سے نہ کوئی ملا نہ مذاکرات کیے، طویل عرصے تک جیل میں رہنے پر کوئی فرق نہیں پڑت، انہیں جیل میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور وہ پی ٹی آئی چھوڑنے والے چند رہنماؤں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔


    عمران خان کا کہنا تھا کہ 9 مئی لندن پلان کا حصہ تھا، سی سی ٹی وی دیکھ لیں ان کو کون اندر لے کر گیا، مجھے غیر آئینی طور پر پکڑا گیا جب کہ 48 گھنٹوں میں 10 ہزار افراد گرفتار کیے گئے۔سابق وزیراعظم نے مزید کہا تھا کہ قسم اٹھانے کے لیے تیار ہوں بشریٰ کو اس روز دیکھا جس دن نکاح ہوا، لندن پلان نوازشریف کو لانے اور ہمیں جیلوں میں ڈالنے کے لیے تھا، آج واضح کر رہا ہوں انتخابات پی ٹی آئی جیتے گی، حالات دیکھ کر خدشہ ہے کہیں یہ انتخابات سے بھاگ ہی نہ جائیں۔

  • پی سی بی نے بی بی ایل 13 میں شرکت کے لیے کھلاڑیوں کو محدود این او سی جاری کر دیا

    پی سی بی نے بی بی ایل 13 میں شرکت کے لیے کھلاڑیوں کو محدود این او سی جاری کر دیا

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بگ بیش لیگ (بی بی ایل) کے آئندہ سیزن 13 میں شرکت کے لیے تین کھلاڑیوں اسامہ میر، حارث رؤف اور زمان خان کو این او سی جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، یہ این او سی پورے ایونٹ کے بجائے مخصوص میچوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ محدود این او سی دینے کا فیصلہ پی سی بی کی جانب سے کھلاڑیوں کے کام کے بوجھ اور ان کے مستقبل کے وعدوں پر غور کرنے سے ہوا ہے۔ پی سی بی نے ایک پریس ریلیز میں کہا، "پی سی بی سمجھتا ہے کہ یہ فیصلہ اس میں شامل تمام اسٹیک ہولڈرز کے بہترین مفاد میں ہے اور کام کے بوجھ کے انتظام کے ساتھ کھیل کے وقت کی اہمیت کو متوازن کرتے ہوئے”۔
    حارث رؤف، پاکستان کے تیز گیند بازوں میں سے میں اہم شخصیت ہیں، انہیں پانچ میچوں میں کھیلنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اسی طرح اسامہ میر (میلبورن سٹارز) اور زمان خان (سڈنی تھنڈرز) کو بالترتیب پانچ اور چار میچوں کے لیے این او سی مل چکے ہیں۔ ان کی شرکت اور قومی وابستگیوں میں توازن پیدا کرنے کے لیے، یہ این او سی ایک مخصوص مدت کے اندر مختص کیے گئے ہیں۔ قومی کرکٹرز کو 7 دسمبر سے 28 دسمبر کے درمیان آسٹریلیا کے پریمیئر ٹورنامنٹ میں شرکت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ میلبورن سٹارز کو حارث رؤف کی شرکت کے لیے کلیئرنس ملنے کے بعد اب راحت ملے گی۔ انہوں نے حارث کا خلا پُر کرنے کے لیے انگلینڈ کے اولی سٹون کو طلب کیا، جو پہلے ہی بی بی ایل کے لیے میلبورن میں اتر چکے تھے۔اس سے قبل، اسٹارز نے حال ہی میں ریٹائر ہونے والے پاکستانی اسٹار عماد وسیم کو سائن کرنے کا اعلان کیا، جو انگلینڈ کے لیام ڈاسن کی جگہ ٹیم میں شامل ہوں گے۔

    میلبورن سٹارز کے جنرل منیجر بلیئر کراؤچ نے کہا، "پہلے تین میچوں کے لیے لیام کے دستیاب ہونے کے ساتھ، ہم نے عماد کی شناخت ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر کی جو اپنے بائیں بازو کی اسپن سے ہمارے لیے کردار ادا کر سکتا ہے اور ہماری بیٹنگ لائن اپ کو لمبا کر سکتا ہے۔” "میں واقعی میں ایم سی جی میں عماد کے ساتھ اپنے سابق قومی ساتھی اسامہ میر اور حارث رؤف کے ساتھ ہجوم میں بہت سارے پاکستانی شائقین کو دیکھنے کا منتظر ہوں۔”
    بی بی ایل 13 کے لیے میلبورن اسٹارز اسکواڈ میں اسکاٹ بولانڈ، جو برنز، ہلٹن کارٹ رائٹ، بروڈی کاؤچ، نیتھن کولٹر نائل، لیام ڈاسن (انگلینڈ)، سیم ہارپر، کیمبل کیلوے، نک لارکن، گلین میکسویل، اسامہ میر (پاکستان)، جوئل پیرس شامل ہیں۔ ، حارث رؤف (پاکستان)، ٹام راجرز، مارک سٹیکیٹی، مارکس اسٹوئنس، عماد وسیم (پاکستان) اور بیو ویبسٹر شامل ہیں ،بی بی ایل 7 دسمبر 2023 سے اگلے سال 24 جنوری تک چلے گا۔

  • اگست کے مہینے میں اوور بلنگ پر نیپرا کی رپورٹ آگئی

    اگست کے مہینے میں اوور بلنگ پر نیپرا کی رپورٹ آگئی

    اگست میں بجلی کی اوور بلنگ پر نیپرا نے انکوائری رپورٹ جاری کردی ، جس میں انکشاف کیا گیا کہ صارفین کو 30دن کے بجائے چالیس دن کے بل بھیجے گئے ۔
    نیپرا کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق صارفین کی جانب سےڈسکوز بشمول کے الیکٹرک کے خلاف جولائی اور اگست 2023 کے ماہانہ بلوں میں اوور بلنگ اور غلط میٹر ریڈنگ کرنے پر نیپرا کوکثیر تعداد میں درخواستیں جمع کروائی گئی تھی، نیپرا اتھارٹی کی جانب سے اس معاملے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے 3 سینئر افسران پر مشتمل ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی اور رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ۔ انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے اوور بلنگ کی ۔ ڈسکوز کے عملے کی غفلت سے بجلی صارفین پر بھاری بوجھ پڑا ۔ صارفین کو30 دن کی بجائے 40دن کے بل بھیجے گئے ۔ کمیٹی نے صارفین کی شکایات کا جائزہ لیا اور متعلقہ ڈسکوز کے دفاتر کا وزٹ کر کے ایک جامع رپورٹ اتھارٹی کو پیش کی، تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق 30دن سے زائد بلنگ کرنے کی وجہ سے لاکھوں صارفین متاثر ہوئے، رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اپنی نا اہلی چھپانے کے لیے جان بوجھ کر اس قسم کی بددیانتی کر رہی ہیں ،ہزاروں صارفین بالخصوص گھریلو اور کم بجلی استعمال کرنے والوں کو بجلی کے غلط اور زیادہ بلوں کا سامنا کرنا پڑا۔

  • مسلم لیگ ن کے قائد اور مولانا  فضل الرحمن کے درمیان سیٹ ایڈجسمنٹ پر اتفاق

    مسلم لیگ ن کے قائد اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان سیٹ ایڈجسمنٹ پر اتفاق

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی ملاقات ختم ہوگئی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال اور عام انتخابات سمیت دیگر اہم معاملات پر گفتگو کی گئی۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے ماڈل ٹاؤن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکریٹریٹ پہنچے۔ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے صدر جماعت شہباز شریف کے ہمراہ پارٹی سیکریٹریٹ آمد پر مولانا فضل الرحمان کا استقبال کیا۔ دونوں جماعتوں کے مابین وفود کی سطح پر تفصیلی مذاکرات ہوئے، اس موقع پر ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق خواجہ سعد رفیق نے سندھ میں ایم کیو ایم کے ساتھ ہونے والے سیاسی مذاکرات کے حوالے سے اجلاس کو بریفنگ دی۔ملاقات میں دونوں جماعتوں نے ایم کیو ایم کے مجوزہ ملک گیر بلدیاتی نظام پر تفصیلی مشاورت کی اور ایم کیو ایم کے مجوزہ بلدیاتی نظام پر مکمل اتفاق رائے کیا۔پارٹی ذرائع کے مطابق اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ آئندہ پارلیمان میں اس بلدیاتی نظام بارے آئینی ترمیم لائی جائے گی۔نواز شریف نے فضل الرحمان کو ایم کیو ایم کے ساتھ طے پا جانے والے انتخابی معاہدے پر اعتماد میں لیا، دونوں جماعتوں نے سندھ میں ایم کیو ایم اور دیگر ہم خیال جماعتوں سے مل کر انتخابی اتحاد بنانے پر بھی اتفاق رائے کا اظہار کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علما اسلام (ف) میں مکمل سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق ہوگیا ہے۔ ملاقات میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ دونوں صوبوں میں ہر قومی و صوبائی نشست پر امیدوار باہمی اتفاق رائے سے اتارے جائیں گے اور یہ بھی طے پایا کہ جس نشست پر جس پارٹی کا امیدوار مضبوط ہوگا اسی کی نامزدگی اور حمایت کی جائے گی، کسی اتفاق رائے پر نہ پہنچا جا سکا تو ایک جماعت کا امیدوار قومی اور دوسری کا صوبائی نشست پر نامزد کیا جائے گا۔ملاقات میں دونوں جماعتوں نے آئندہ انتخابات کے بعد مل کر حکومت بنانے اور تمام امور پر مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا اور مشترکہ صدارتی امیدوار لائے جانے پر بھی مشاورت کی۔


    ملاقات میں سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز شریف، سینیٹر اسحاق ڈار، احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق، مریم اورنگزیب اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔
    اس موقع پر نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں دونوں قائدین کے درمیان مجموعی ملکی صورتحال، عام انتخابات کے انعقاد، سیاسی تعاون اور اشتراک عمل پر مشاورت ہوئی۔ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمان اور شہباز شریف ماڈل ٹاؤن سے روانہ ہوگئے جبکہ قائد مسلم لیگ ن نواز شریف بھی ماڈل ٹاؤن سے روانہ ہوگئے۔

  • عمران خان بشری بی بی کو درجنوں بار ملے بھی اور انکو دیکھا بھی ،عون چودھری کا دعویٰ

    عمران خان بشری بی بی کو درجنوں بار ملے بھی اور انکو دیکھا بھی ،عون چودھری کا دعویٰ

    استحکام پاکستان پارٹی کے رہنما عون چوہدری نے عمران خان کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے یہ کہنا کہ بشریٰ بی بی کو نکاح سے پہلے نہیں دیکھنے کا دعویٰ اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے، سابق چیئرمین بشریٰ بی بی سے ایک بار نہیں کئی بار نکاح سے پہلے ملے، گھنٹوں ملاقات کرتے رہے۔ اس سے قبل بانی پی ٹی آئی عمران خان کا کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کی شکل دیکھی ہی تب تھی جس دن نکاح کیا تھا۔
    انہوں نے کہا کہ بشریٰ بی بی قرآن پر حلف دے دیں کہ انہوں نے سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا نکاح سے پہلے چہرہ نہیں دکھایا، میں خود سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو ملاقات کیلئے لے کر جاتا رہا۔عون چوہدری نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے پول کھولے تو انہیں شرم سے سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی، بانی پی ٹی آئی بشریٰ بی بی سے نکا ح سے پہلے درجنوں بار ملے بھی اور دیکھا بھی تھا۔ عون چوہدری نے یہ بھی کہا کہ خود کو قوم کا لیڈر کہنے والا جھوٹ بولے تو میرا فرض ہے کہ سچ سامنے لاؤں، سابق چیئرمین جھوٹ میں کتنا گریں گے کہ جھوٹا قرآن اٹھانے تک پہنچ گئے، سابق تعلق کا لحاظ رکھ رہا ہوں ورنہ ایسے راز کھولوں کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کا گند دنیا کے سامنے آجائے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق چیئرمین کی سیاست جھوٹ پر مبنی ہے اللّٰہ کا شکر ہے کہ ان کو وقت پر ہی چھوڑ دیا، نئے چیئرمین پی ٹی آئی کیلئے بیرسٹر گوہر علی کی نامزدگی بھی ان کے اندر کے خوف کی عکاس ہے، سابق چیئرمین پی ٹی آئی پارٹی کے کسی اہل شخص کو پارٹی میں مقام دینا ہی نہیں چاہتے۔

  • اصل مسئلہ مہنگائی کا ہے جس سے ن لیگ منہ چھپانے کی کوشش کر رہی ہے،دانیال عزیز

    اصل مسئلہ مہنگائی کا ہے جس سے ن لیگ منہ چھپانے کی کوشش کر رہی ہے،دانیال عزیز

    مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر دانیال عزیز نے کہا ہے کہ رانا ثناء اللّٰہ کا احترام کرتا ہوں، میں نے کبھی کسی کی ٹکٹ کےلیے سفارش نہیں کی۔
    انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ ملک میں مہنگائی ہے، میں نے پارٹی میں ہر سطح پر مہنگائی سے متعلق مسئلہ اٹھایا۔ دانیال عزیز نے مزید کہا کہ خواجہ سعد رفیق اور خرم دستگیر نے کہا جو بات پارٹی کے اندر ہے اندر ہی ہونی چاہیے تھی۔ میں تو پارٹی کے اندر ان معاملات پر 5 سال سے بات چیت کرتا رہا ہوں۔نجی ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے دانیال عزیز نے کہا کہ پارٹی سمجھتی ہے کہ جو جیت سکتا ہے، اُسے ٹکٹ دیں، میرا کوئی اختلاف نہیں، پارٹی کی سیٹ ضائع کرنی ہے تو اُن کی مرضی ہے۔
    ن لیگی رہنما نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے پاکستان کی معیشت کو تباہ و برباد کردیا، ابھی بھی یہی کہتا ہوں معاملہ اچھے انداز میں چلائیں، رانا ثنا اللّٰہ شاید اس بات سے واقف نہیں تھے۔

  • شہریوں کو ہاؤسنگ اسکیموں میں فراڈ سے بچانے کے لئے نیب نئی پالیسی متعارف کردی

    شہریوں کو ہاؤسنگ اسکیموں میں فراڈ سے بچانے کے لئے نیب نئی پالیسی متعارف کردی

    شہریوں کو ہاؤسنگ اسکیموں کے فراڈ سے بچانے کیلئے نیب نے نئی پالیسی لانےکا اعلان کر دیا ، تمام ٹرانزیکشنز بینکنگ چینل سے ہوں گی، نقد ادائیگی کی اجازت نہیں ہوگی۔قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین نے شہریوں کو ہاؤسنگ اسکیموں کے فراڈ سے بچانے کیلئے نئی پالیسی لانے کا اعلان کر دیا۔ ہاؤسنگ اسکیموں کے متاثرین کو چیک تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب میں چیئرمین نیب لیفیٹننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد بٹ نے کہا کہ ہر 10 میں سے 7 لوگ ہاؤسنگ اسکیموں کے فراڈ کا شکار ہیں،
    چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد نے نیب لاہور کے دفتر میں اینٹی کرپشن ڈے کے حوالے سے تقریب سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو لوٹنے والے فصلی بٹیروں کے خلاف شکنجہ سخت کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ اسکیموں میں بلڈر اور خریدار کے درمیان دو طرفہ ٹرانزیکشن ہوتی تھی، ریگولیٹر مِسنگ تھا، نئی پالیسی میں تمام اسٹیک ہولڈر شامل ہوں گے اب بلڈر اور خریدار کے درمیان ہر ٹرانزیکشن دو طرفہ نہیں تین طرفہ ہوگی، بلڈر اور خریدار کے ساتھ ریگولیٹر بھی پہلے دن سے ہر ٹرانزیکشن کا حصہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نیب کے بارے میں سست روی کا تاثر کسی حد تک درست ہے، کرپشن اور بدعنوانی ناسور ہے، اس کا خاتمہ بہت ضروری ہے، کاروباری افراد سے گزارش ہے کہ ڈریں مت ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔

  • 190 ملین پاؤنڈز کیس: احتساب عدالت نے کن کن کی گرفتاری کا حکم جاری کیا؟

    190 ملین پاؤنڈز کیس: احتساب عدالت نے کن کن کی گرفتاری کا حکم جاری کیا؟

    احتساب عدالت اسلام آباد نے 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کی آج کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو اڈیالہ جیل میں قائم احتساب عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں احتساب عدالت اسلام آباد نے شہزاد اکبر، ضیاء المصطفیٰ نسیم، زلفی بخاری ، فرحت شہزادی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔ حکم نامے کے مطابق سپرنٹینڈنٹ اڈیالہ جیل آئندہ سماعت پر سابق چیئرمین پی ٹی آئی کو احتساب عدالت میں پیش کریں۔ رجسٹرار کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈز اسکینڈل کی سکروٹنی مکمل کرلی گئی۔عدالت ریفرنس ٹرائل کیلئے منظور کرتی ہے۔
    سابق چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے علاوہ باقی تمام 6 ملزمان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جارج کیے جاتے ہیں۔ وزارت قانون کے نوٹیفکیشن کے مطابق 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس کا ٹرائل اڈیالہ جیل راولپنڈی میں کیا جائے گا۔ ریفرنس کی آئندہ سماعت 6 دسمبر 2023 کو ہوگی۔