عالمی بینک کی جانب سے ’’ پاکستان میں موسمیاتی خاموشی‘‘ کے حوالے سے لکھے جانے والے ایک خصوصی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے جو موسم کے بدلتے ہوئے نمونوں اور تباہ کن سیلابوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ عالمی بینک نے رپورٹ میں کہا کہ پاکستان کی شرح نمو کو موسمیاتی تبدیلیوں اور اسموگ سے خطرات لاحق ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں نے پاکستان کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے معیشت کو 2050ء تک شرح نمو میں 18 تا 20 فیصد کمی کا سامنا پڑسکتا ہے۔ورلڈ بینک کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پاکستان میں 10 میں سے 8 لوگ موسمیاتی تبدیلیوں پر فکر مند ہیں، پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیاں معاشی حالات کی طرح ایک اہم معاملہ ہیں۔
کم سے کم تعلیم والے لوگ آب و ہوا سے متعلق معلومات کے تمام ذرائع پر عدم اعتماد کا زیادہ امکان رکھتے ہیں۔ والدین کے پاس اپنے بچوں کے لیے موسمیاتی تبدیلی کی تعلیم کی بہت زیادہ مانگ ہے تاہم، ان میں سے صرف ایک حصہ گھر میں اس کے بارے میں بات چیت میں مشغول ہے۔عالمی بینک کا مزید کہنا ہے کہ مجموعی طور پر پاکستان میں 10 میں سے 8 لوگ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں، خواتین اور پڑھے لکھے لوگ زیادہ فکر مند ہیں جبکہ اقتصادی مسائل کے حوالے سے موسمیاتی تبدیلی کو ایک اہم مسئلہ کے طور پر سمجھا جاتا ہے ۔موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں تشویش کی اعلی سطح کے باوجود ذاتی اور حکومتی کارروائی کے لیے حمایت کم ہے۔ آب و ہوا کی سرگرمیوں پر کارروائی کی ترغیب دینے کی حکمت عملیوں کو موسمیاتی اثرات کے بجائے مالی بچت کو نمایاں کرکے طرز عمل میں تبدیلی کی موٴثر حوصلہ افزائی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔
Author: صدف ابرار
-

پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیاں معاشی حالات کی طرح ایک اہم مسئلہ ہیں۔ورلڈ بینک
-

گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو روک کر زمین کی حفاظت کرنا ہوگی،انتونیو گوتیریس
قوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دبئی میں عالمی موسمیاتی کانفرنس آف پارٹنر 28 سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی درجہ حرارت پر کنٹرول ناگزیر ہوگیا،
ان کاکہنا تھا کہ ترقی یافتہ ممالک کو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو روک کر زمین کی حفاظت کرنا ہوگی۔ فوسل ایندھن کو جلانا بند کیا جانا چاہیے، فوسل فیول کمپنیاں فرسودہ کاروباری ماڈل کو دگنا نہ کریں ، حکومتیں فوسل فیول سبسڈی ختم کریں، منافع پر ونڈفال ٹیکس اپنائیں۔ان کاکہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کرنا ہونگے ۔عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتیریس نے زور دے کر کہا کہ موسمیاتی انصاف بہت پہلے لازم ہوچکا، ترقی پذیر ممالک ان آفات سے تباہ ہو رہے ہیں جو انہوں نے پیدا نہیں کیں۔انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کا چیلنج صرف ایک اور ’ان باکس مسئلہ‘ نہیں بلکہ ماحولیات کا تحفظ کرنا دنیا کی ’قیادت کا سب سے بڑا امتحان‘ ہے۔ -

تحریک انصاف کے بانی اکبر ایس بابر پی ٹی آئی کے مرکزی سیکر یٹریٹ پہنچ گئے
تحریک انصاف کے بانی راہنما اکبر شیر بابر 13 سال بعد پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹریٹ پہنچ گئے ،اکبر بابر پارٹی کے بانی راہنماﺅں کے ہمراہ پی ٹی آئی سینٹرل سیکریٹریٹ پہنچے ہے، جہاں انہوں نے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا کہ انٹرا پارٹی الیکشن کی معلومات لینے آیا ہوں، اکبر ایس بابر کی میڈیا کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کاغذات نامزدگی، ووٹرلسٹ، الیکشن کے طریقہ کار کی معلومات حاصل کرنی ہیں، کئی بانی ارکان الیکشن میں حصہ لینا چاہتے ہیں.کل کے انٹرا پارٹی الیکشن میں بھرپور حصہ لینا چاہتے ہیں، دوسری جانب تحریک انصاف کے انٹرا پارٹی الیکشن کا آغاز ہوگیا ہے اور کاغذات نامزدگی کی وصول کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے۔
پی ٹی آئی میڈیا سیل کے مطابق بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے نامزد کردہ امیدوار برائے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دیے ہیں۔
بیرسٹر گوہر کے کاغذاتِ نامزدگی ریٹرننگ افسر سردار مصروف خان ایڈووکیٹ نے وصول کئے، چیف الیکشن کمشنر تحریک انصاف نیاز اللہ نیازی ایڈوکیٹ بھی اس موقع پر موجود تھے۔کاغذات نامزدگی میں پارٹی کے مرکزی رہنما احمد اویس بیرسٹر گوہرعلی خان کے تجویز کنندہ اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن ان کے تائید کنندہ میں شامل ہیں۔ -

لاہور بس فائرنگ ،بس اور کار ڈرائیور کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی
لاہور میں طالبات کی بس پر فائرنگ کے کیس کے حوالے سے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) انویسٹی گیشن عمران کشور کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ عمران کشور کا کہنا ہے کہ طالبات کی بس پر فائرنگ کا واقعہ رات ڈیڑھ بجے پیش آیا، فائرنگ کرنے والے ملزمان نشے میں تھے، طالبات کی بس کے ڈرائیور اور ملزمان کی کار کے ڈرائیور کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن عمران کشور نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 28 نومبر کو طالبات کی بس پر حملہ کیا گیا تھا، بس پر فائرنگ کرنے والے 6 ملزمان گرفتار کر لیے گئے۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ ایک زخمی طالبہ کی حالت تشویشناک ہے، وہ وینٹی لیٹر پر ہے، فائرنگ کا نشانہ بننے والی دوسری طالبہ کی حالت بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کالج انتظامیہ کی ذمہ داری تھی کہ تفریحی دورہ فوری طور پر منسوخ کرتے، کالج انتظامیہ کو چاہیے تھا بچیوں کو فوری طور پر واپس اپنے گھر بھجواتے۔ فائرنگ کے واقعے میں استعمال ہونے والی کار کرائے پر لی گئی تھی۔
عمران کشور نے کہا کہ ملزمان کو گرفتار کرنے والی پولیس ٹیم کےلیے5 لاکھ روپے انعام کا اعلان کرتا ہوں، ملزمان کے بیانات اور شواہد کی بنیادوں پر واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہے، طالبات کی بس پر فائرنگ کے کیس میں 7 انسداد دہشتگردی ایکٹ لگا دی گئی ہے۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے یہ بھی کہا کہ ڈیفنس کار حادثے کے ملزم افنان کے ٹیسٹس کی رپورٹس ابھی آنی ہیں۔واضح رہے کہ پتوکی کے نجی کالج کی پکنک پر جانے والی طالبات کی بس پر فائرنگ کا واقع پیش آیا تھا نجی کالج کی طالبات کی بس پر فائرنگ سے ایک طالبہ سر پر گولی لگنے سے آئی سی یو جا پہنچی ہے جبکہ دوسری دوسری شدید زخمی حالت میں زیر علاج ہے۔ نجی کالج کی بس زخمی طالبات کو چھوڑ کر پروگرام کے مطابق مظفر آباد پہنچ گئی ہے۔ تفریحی دورے پر جانے والی کالج طالبات کی بس پر فائرنگ کے معاملے پر پرنسپل اور ٹور پر جانے والے استاد کے بیانات کا تضاد سامنے آگیا۔
-

فوج مضبوط ہو گی تو پاکستان مضبوط ہو گا۔شوکت یوسفزئی
تحریکِ انصاف کے سابق صوبائی وزیر شوکت یوسف زئی نے 9 مئی کے واقعات کی مذمت کر کے کہا ہے کہ فوج کے خلاف کسی قسم کا پروپیگنڈ ا نا قابلِ برداشت ہے،شوکت یوسف زئی کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم میں شامل کسی جماعت کے ساتھ کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی پاکستان کو مستحکم اور مضبوط کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تحریک انصاف کی جنگ کرپٹ سیاسی جماعتوں کے خلاف ہے۔پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا ہے کہ پاک فوج ہماری فوج ہے جو قابلِ فخر اور نڈر ہے، فوج مضبوط ہو گی تو پاکستان مضبوط ہو گا۔ شوکت یوسف زئی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ذاتی طور پر بھی فوج سے پیار اور احترام کا رشتہ رہا ہے۔
-

پشاور ہائیکورٹ: افغان باشندوں کے کیس کی سماعت
پشاور ہائی کورٹ میں پاکستانیوں سے شادی کرنے والے افغان باشندوں کی دائر درخواستوں پر جسٹس ارشد علی اور جسٹس وقار احمد نے سماعت کی۔ دورانِ سماعت وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناء اللّٰہ عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست گزاروں کو قانون کے مطابق درخواست دینی چاہیے۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ پی او سی کارڈ کے ذریعے کوئی بھی غیر ملکی پاکستانی شہری کے تمام حقوق حاصل کر سکتا ہے، تاہم پی او سی کارڈ کا حامل شخص پاسپورٹ حاصل نہیں کر سکتا اور ووٹ نہیں ڈال سکتا۔ دورانِ سماعت عدالت نے پاکستانیوں سے شادی کرنے والے 109 افغان باشندوں کو نادرا ایکٹ کے تحت پاکستان اوریجن کارڈ (پی او سی) دینے کا حکم جاری کر دیا۔
-

نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل مقرر،جبکہ ایون فیلڈ رنفرنس کیس میں مختصر فیصلہ جاری
سٹیل ملز ریفرنس اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بنچ 7 دسمبر کو کیس کی سماعت کرے گا۔ نیب کی العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی سزا بڑھانے کیلئے اپیل بھی سماعت کیلئے مقرر ہے۔ جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کی بریت کا مختصرتحریری فیصلہ جاری کردیا۔
تحریری فیصلہ میں کہا گیا کہ عدالت نے آبزرویشن میں کہا تھا کہ نیب کے پاس نواز شریف کے خلاف کیس ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویزی شواہد موجود نہیں ہیں، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی بریت کے فیصلے کو کہیں بھی چیلنج نہیں کیا گیا، بریت کی وجوہات کا تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہ کہ مریم نوازاورکیپٹن ریٹائرڈ صفدرکے بریت کے فیصلے میں اس عدالت نے آبزرویشن دی تھی، عدالت نواز شریف کی سزا کے خلاف اپیل منظور اوربری کرنے کا حکم دیتی ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے 2 رکنی بینچ نے 2 صفحات پرمشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ -

کے پی کے نگران وزیر اعلی کی تعیناتی کیس کی سماعت
خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اعلی کی تعیناتی کیسے ہوئی ،اس معاملے پر پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت سمیت فریقین کو نوٹس جاری کر دیا۔عدالت میں نگراں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ وکیل شاہ فیصل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نگراں وزیرِ اعلیٰ کی تعیناتی کے لیے غلط طریقہ کار اپنایا گیا جس طرح وزیرِ اعلیٰ کی تعیناتی ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی۔ دلائل جاری رکھتے ہوئے وکیل نے یہ بھی کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کی تعیناتی کے لیے آرٹیکل 224 اور 224 اے کا طریقہ کار اپنایا گیا، یہ طریقہ تب ہوتا ہے جب وزیرِ اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر موجود ہوتا ہے۔
-

عماد وسیم نے کراچی کنگز کو بھی چھوڑ کر ریٹائرمنٹ کے اعلان کی وجہ بتا دی
پاکستان کے سابق کرکٹر عماد وسیم نے ذاتی وجوہات اور دماغی صحت کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کرکٹ سے ریٹائر ہونے کے اپنے فیصلے کا انکشاف کیا ہے۔ ایک مقامی اسپورٹس یوٹیوب چینل سے بات کرتے ہوئے، عماد نے ذہنی تندرستی کی اہمیت کا اظہار کیا اور زندگی کو بدلنے والا انتخاب کرنے میں اپنی ذہنی صحت کی کشش ثقل پر زور دیا۔عماد وسیم نے کہا، "میں دماغی طور پر موجود نہیں تھا، اور اگر میں اس حالت میں ہوتا تو میں یہ فیصلہ کبھی نہ کرتا۔ مزید برآں، 34 سالہ نوجوان نے آگے کی زندگی کی غیر متوقع صلاحیت کی بھی عکاسی کی۔
انہوں نے مزید کہا۔ یہ زندگی ہے، اور سب کچھ ممکن ہے۔ میں نے یہ فیصلہ بغیر کسی پیچھے ہٹنے کے ارادے کے کیا ہے۔ اپنی بین الاقوامی ریٹائرمنٹ کے اعلان کے درمیان، عماد نے کراچی کنگز فرنچائز کے ساتھ اپنی دیرینہ وابستگی کو بھی الوداع کہہ دیا، جہاں انہوں نے آٹھ سال گزارے۔ٹیم کے لیے اظہار تشکر اور پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اور ٹیم کے مالک سلمان اقبال کی جانب سے ملنے والے تعاون کا اعتراف کرتے ہوئے فرنچائز کی مستقبل کی کوششوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔عماد وسیم نے کہا کہ کراچی کنگز نے مجھے بے پناہ پیار دیا، میں کراچی کنگز کے لیے آٹھ سال کھیل چکا ہوں، اور فرنچائز چھوڑنا آسان نہیں ہے۔ اگر سلمان اقبال اس کے مالک ہیں تو ہم اس کے مالک ہیں کیونکہ ہم نے اپنی زندگی کے آٹھ سال فرنچائز کو دیے۔ ان کو گڈ لک کہتا ہوں، مزید برآں، عماد نے کھلاڑیوں کے معاہدوں کی عارضی نوعیت اور فیصلے بالآخر فرنچائزز کے ہاتھ میں ہونے کو تسلیم کیا۔ اس نے کہا کہ پرانی فرنچائز کو چھوڑنا، نئی جوائن کرنا، یا پچھلی فرنچائز میں واپس آنا سب فرنچائز ٹریڈ کا حصہ ہے۔ یہ ایک نئی شروعات ہے، پرانی فرنچائز چھوڑ کر نئی جوائن کرنا یا پرانی فرنچائز میں واپس آنا، یہ سب فرنچائز ٹریڈ کا ایک حصہ ہے۔ آخری فیصلہ فرنچائز کا ہے، ہمارے پاس صرف پوچھے جانے پر ہاں یا نہ کہنے کی فرصت ہے۔ ہر کوئی تجارت چاہتا تھا اور اس طرح ہوتا ہے،
غور طلب ہے کہ عماد نے پلاٹینم کیٹیگری میں اسلام آباد یونائیٹڈ کو جوائن کیا تھا جبکہ حسن علی (ڈائمنڈ کیٹیگری) کو کراچی کنگز میں منتقل کیا گیا تھا۔ کراچی کنگز نے اس پلیئر ٹریڈ کے حصے کے طور پر اپنے دوسرے راؤنڈ سلور پک کے بدلے اسلام آباد یونائیٹڈ کا پہلا راؤنڈ سلور پک حاصل کیا۔
-

حکومتی ملکیتی اداروں کی اونرشپ اینڈ مینجمنٹ پالیسی 2023 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا
حکومتی ملکیتی اداروں سےمتعلق پالیسی 5 سال بعد اپ ڈیٹ کر کےجاری کی جائےگی۔ حکومت اسٹریٹجک نوعیت کے حساس اداروں کاکنٹرول اپنےپاس رکھےگی مالی یا آپریشنل طور پر ناکام اداروں کو بیمار کمپنی ڈکلیئر کیا جائے گا۔مجوزہ یونٹ سرکاری اداروں کے بزنس پلان کا تجزیہ کر کےسفارشات دے گا۔ سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ میں قابل،تجربہ کار اسٹاف بھرتی کیا جائے گا ان اداروں کے آزادانہ بورڈآف ڈائریکٹرز کا ڈیٹا بیس تیار کیا جائےگا نقصان میں چلنے والے اداروں کی بحالی، تعمیرنو اور تنظیم نو کاپلان تیار کیا جائےگا۔ مستقبل میں حکومتی اداروں میں نئی بھرتیاں بھی کنٹریکٹ بنیادپرکرنےکافیصلہ کیاگیا۔
وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق بعض اداروں کی تنظیم نو کرکے ان کے مستقبل کا جلد فیصلہ کیا جائے گا،مالی یا آپریشنل طور پر ناکام اداروں کو بیمار کمپنی ڈکلیئر کیا جائے گا،اورایسے اداروں کی بحالی، تعمیرنو اور تنظیم نو کا پلان تیار کیا جائے گا۔
دستاویز کے مطابق مستقبل میں سرکاری اداروں میں نئی بھرتیاں کنٹریکٹ بنیاد پر کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے ، چیف فنانشل آفیسرز، سی ای اوز، سیکرٹریز و سینئر مینجمنٹ کیلئے سخت معیارمقررہوگا،نوکری پر برقرار رکھنے یا فارغ کرنیکا فیصلہ کارکردگی کی بنیاد پر کیا جائیگا،جبکہ غیر تسلی بخش کارکردگی پر فارغ کرنے سے پہلے ایک ماہ کا نوٹس دیا جائے گا۔
وزارت خزانہ کے مطابق پالیسی نفاذ کے چھ ماہ کے اندر اندر حکومتی ملکیتی اداروں کی کیٹگریز تیار کی جائیں گی،اورتمام حکومتی ملکیتی ادارے انٹرنل آڈٹ کا موثر طریقہ کار وضع کریں گے،نئی پالیسی پر عمل درآمد کیلئے کابینہ کمیٹی برائے حکومتی ملکیتی ادارے قائم کی جائیگی۔
دستاویز کے مطابق سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ قائم کرکے اداروں کی کارکردگی کی نگرانی کی جائے گی۔اورمجوزہ یونٹ سرکاری اداروں کے بزنس پلان کا تجزیہ کرکے سفارشات دے گا، جبکہ سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ میں قابل اور تجربہ کار اسٹاف بھرتی کیا جائے گا۔وزارت خزانہ کے مطابق اِن اداروں کے آزادانہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا، جبکہ حکومتی ملکیتی اداروں سے متعلق پالیسی پر ہر 5 سال بعد نظرثانی کی جائیگی۔