Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • کے پی کے نگران وزیر اعلی کی تعیناتی کیس کی  سماعت

    کے پی کے نگران وزیر اعلی کی تعیناتی کیس کی سماعت

    خیبر پختونخوا کے نگران وزیر اعلی کی تعیناتی کیسے ہوئی ،اس معاملے پر پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت سمیت فریقین کو نوٹس جاری کر دیا۔عدالت میں نگراں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختون خوا کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ وکیل شاہ فیصل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نگراں وزیرِ اعلیٰ کی تعیناتی کے لیے غلط طریقہ کار اپنایا گیا جس طرح وزیرِ اعلیٰ کی تعیناتی ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی۔ دلائل جاری رکھتے ہوئے وکیل نے یہ بھی کہا کہ وزیرِ اعلیٰ کی تعیناتی کے لیے آرٹیکل 224 اور 224 اے کا طریقہ کار اپنایا گیا، یہ طریقہ تب ہوتا ہے جب وزیرِ اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر موجود ہوتا ہے۔

  • عماد وسیم نے کراچی کنگز  کو  بھی چھوڑ کر ریٹائرمنٹ کے اعلان کی وجہ بتا دی

    عماد وسیم نے کراچی کنگز کو بھی چھوڑ کر ریٹائرمنٹ کے اعلان کی وجہ بتا دی

    پاکستان کے سابق کرکٹر عماد وسیم نے ذاتی وجوہات اور دماغی صحت کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کرکٹ سے ریٹائر ہونے کے اپنے فیصلے کا انکشاف کیا ہے۔ ایک مقامی اسپورٹس یوٹیوب چینل سے بات کرتے ہوئے، عماد نے ذہنی تندرستی کی اہمیت کا اظہار کیا اور زندگی کو بدلنے والا انتخاب کرنے میں اپنی ذہنی صحت کی کشش ثقل پر زور دیا۔عماد وسیم نے کہا، "میں دماغی طور پر موجود نہیں تھا، اور اگر میں اس حالت میں ہوتا تو میں یہ فیصلہ کبھی نہ کرتا۔ مزید برآں، 34 سالہ نوجوان نے آگے کی زندگی کی غیر متوقع صلاحیت کی بھی عکاسی کی۔
    انہوں نے مزید کہا۔ یہ زندگی ہے، اور سب کچھ ممکن ہے۔ میں نے یہ فیصلہ بغیر کسی پیچھے ہٹنے کے ارادے کے کیا ہے۔ اپنی بین الاقوامی ریٹائرمنٹ کے اعلان کے درمیان، عماد نے کراچی کنگز فرنچائز کے ساتھ اپنی دیرینہ وابستگی کو بھی الوداع کہہ دیا، جہاں انہوں نے آٹھ سال گزارے۔ٹیم کے لیے اظہار تشکر اور پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے اور ٹیم کے مالک سلمان اقبال کی جانب سے ملنے والے تعاون کا اعتراف کرتے ہوئے فرنچائز کی مستقبل کی کوششوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔عماد وسیم نے کہا کہ کراچی کنگز نے مجھے بے پناہ پیار دیا، میں کراچی کنگز کے لیے آٹھ سال کھیل چکا ہوں، اور فرنچائز چھوڑنا آسان نہیں ہے۔ اگر سلمان اقبال اس کے مالک ہیں تو ہم اس کے مالک ہیں کیونکہ ہم نے اپنی زندگی کے آٹھ سال فرنچائز کو دیے۔ ان کو گڈ لک کہتا ہوں، مزید برآں، عماد نے کھلاڑیوں کے معاہدوں کی عارضی نوعیت اور فیصلے بالآخر فرنچائزز کے ہاتھ میں ہونے کو تسلیم کیا۔ اس نے کہا کہ پرانی فرنچائز کو چھوڑنا، نئی جوائن کرنا، یا پچھلی فرنچائز میں واپس آنا سب فرنچائز ٹریڈ کا حصہ ہے۔ یہ ایک نئی شروعات ہے، پرانی فرنچائز چھوڑ کر نئی جوائن کرنا یا پرانی فرنچائز میں واپس آنا، یہ سب فرنچائز ٹریڈ کا ایک حصہ ہے۔ آخری فیصلہ فرنچائز کا ہے، ہمارے پاس صرف پوچھے جانے پر ہاں یا نہ کہنے کی فرصت ہے۔ ہر کوئی تجارت چاہتا تھا اور اس طرح ہوتا ہے،
    غور طلب ہے کہ عماد نے پلاٹینم کیٹیگری میں اسلام آباد یونائیٹڈ کو جوائن کیا تھا جبکہ حسن علی (ڈائمنڈ کیٹیگری) کو کراچی کنگز میں منتقل کیا گیا تھا۔ کراچی کنگز نے اس پلیئر ٹریڈ کے حصے کے طور پر اپنے دوسرے راؤنڈ سلور پک کے بدلے اسلام آباد یونائیٹڈ کا پہلا راؤنڈ سلور پک حاصل کیا۔

  • حکومتی ملکیتی اداروں کی اونرشپ اینڈ مینجمنٹ پالیسی 2023 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا

    حکومتی ملکیتی اداروں کی اونرشپ اینڈ مینجمنٹ پالیسی 2023 کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا

    حکومتی ملکیتی اداروں سےمتعلق پالیسی 5 سال بعد اپ ڈیٹ کر کےجاری کی جائےگی۔ حکومت اسٹریٹجک نوعیت کے حساس اداروں کاکنٹرول اپنےپاس رکھےگی مالی یا آپریشنل طور پر ناکام اداروں کو بیمار کمپنی ڈکلیئر کیا جائے گا۔مجوزہ یونٹ سرکاری اداروں کے بزنس پلان کا تجزیہ کر کےسفارشات دے گا۔ سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ میں قابل،تجربہ کار اسٹاف بھرتی کیا جائے گا ان اداروں کے آزادانہ بورڈآف ڈائریکٹرز کا ڈیٹا بیس تیار کیا جائےگا نقصان میں چلنے والے اداروں کی بحالی، تعمیرنو اور تنظیم نو کاپلان تیار کیا جائےگا۔ مستقبل میں حکومتی اداروں میں نئی بھرتیاں بھی کنٹریکٹ بنیادپرکرنےکافیصلہ کیاگیا۔
    وزارت خزانہ کی دستاویز کے مطابق بعض اداروں کی تنظیم نو کرکے ان کے مستقبل کا جلد فیصلہ کیا جائے گا،مالی یا آپریشنل طور پر ناکام اداروں کو بیمار کمپنی ڈکلیئر کیا جائے گا،اورایسے اداروں کی بحالی، تعمیرنو اور تنظیم نو کا پلان تیار کیا جائے گا۔
    دستاویز کے مطابق مستقبل میں سرکاری اداروں میں نئی بھرتیاں کنٹریکٹ بنیاد پر کرنیکا فیصلہ کیا گیا ہے ، چیف فنانشل آفیسرز، سی ای اوز، سیکرٹریز و سینئر مینجمنٹ کیلئے سخت معیارمقررہوگا،نوکری پر برقرار رکھنے یا فارغ کرنیکا فیصلہ کارکردگی کی بنیاد پر کیا جائیگا،جبکہ غیر تسلی بخش کارکردگی پر فارغ کرنے سے پہلے ایک ماہ کا نوٹس دیا جائے گا۔
    وزارت خزانہ کے مطابق پالیسی نفاذ کے چھ ماہ کے اندر اندر حکومتی ملکیتی اداروں کی کیٹگریز تیار کی جائیں گی،اورتمام حکومتی ملکیتی ادارے انٹرنل آڈٹ کا موثر طریقہ کار وضع کریں گے،نئی پالیسی پر عمل درآمد کیلئے کابینہ کمیٹی برائے حکومتی ملکیتی ادارے قائم کی جائیگی۔
    دستاویز کے مطابق سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ قائم کرکے اداروں کی کارکردگی کی نگرانی کی جائے گی۔اورمجوزہ یونٹ سرکاری اداروں کے بزنس پلان کا تجزیہ کرکے سفارشات دے گا، جبکہ سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ میں قابل اور تجربہ کار اسٹاف بھرتی کیا جائے گا۔وزارت خزانہ کے مطابق اِن اداروں کے آزادانہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ڈیٹا بیس تیار کیا جائے گا، جبکہ حکومتی ملکیتی اداروں سے متعلق پالیسی پر ہر 5 سال بعد نظرثانی کی جائیگی۔

  • ملکی زرمبادلہ میں بڑا اضافہ

    ملکی زرمبادلہ میں بڑا اضافہ

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری اعدادو شمار کے مطابق ملکی زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر 23 نومبر تک 12 ارب 39 کروڑ ڈالر ز تھےجو بڑھ کر 7 ارب 25 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہوگئے،اس طرح ایک ہفتے میں سٹیٹ بینک کے ذخائر میں 7 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کا اضافہ ہوا۔ اعدادوشمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 1 کروڑ 35 لاکھ ڈالرز کا اضافہ ہوا اور یہ ذخائر 5 ارب 13 کروڑ 58 لاکھ ڈالرز پر پہنچ گئے جو گزشتہ ہفتے 5 ارب 12 کروڑ 23 لاکھ ڈالرزکی سطح پر تھے۔ مرکزی بینک کے مطابق گذشتہ سے پیوستہ ہفتے میں زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کی مالیت 12 ارب 30 کروڑ 23 لاکھ ڈالرز تھی، اس طرح ایک ہفتے میں سٹیٹ بینک کے ذخائر میں 7 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کا اضافہ ہوا۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے زرمبادلہ سے متعلق جارہ کردہ ہفتہ وار اعدادوشمار کے مطابق 24 نومبر کو ہفتہ کے اختتام پر مجموعی ذخائر کا حجم 12 ارب 39 کروڑ 28 لاکھ ڈالر تھا۔ مرکزی بینک کے مطابق گذشتہ سے پیوستہ ہفتے میں زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر کی مالیت 12 ارب 30 کروڑ 23 لاکھ ڈالرز تھی۔ اس طرح ایک ہفتے میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں 7 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کا اضافہ ہوا۔

    7 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کے اضافے سے مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 7 ارب 25 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کی سطح پر پہنچ گئے جو گذشتہ ہفتے 7 ارب 18 کروڑ ڈالرز پر تھے۔ اعدادوشمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 1 کروڑ 35 لاکھ ڈالرز کا اضافہ ہوا اور یہ ذخائر 5 ارب 13 کروڑ 58 لاکھ ڈالرز پر پہنچ گئے جو گزشتہ ہفتے 5 ارب 12 کروڑ 23 لاکھ ڈالرزکی سطح پر تھے۔
    دوسری جانب زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ تگڑا رہا جس سے ڈالر کے اوپن ریٹ 287 روپے سے نیچے آگئے۔ جمعرات کو کاروباری دورانیے کے دوران انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر ایک موقع پر 79 پیسے کی کمی سے 284 روپے 60 پیسے پر بھی آگئی تھی لیکن کاروبار کے اختتام پر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 23 پیسے کی کمی سے 285 روپے 16 پیسے پر بند ہوئی۔ جبکہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 50 پیسے کی کمی سے 286 روپے 50 پیسے پر بند ہوئی۔

  • حکومت کا پٹرول کے قیمت کو  برقرار رکھنے کا فیصلہ

    حکومت کا پٹرول کے قیمت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ

    حکومت کا پٹرول کے قیمتوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کر دیا ،جس کی منظوری نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے دے کر نوٹیفکشن جاری کر دی گئی جسکے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں 3 روپے 82 پیسے فی لیٹر کمی جبکہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 4 روپے 52 پیسے فی لیٹر کمی کی منظوری دی گئی ہے۔


    پاکستان میں پیٹرول کی موجودہ قیمت 281.34 روپے فی لیٹر ہے، جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت 296 روپے 71 پیسے سے کم ہوکر 289 روپے 71 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 7 روپے فی لیٹر کمی کی منظوری دی گئی۔

    ۔

  • عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت کل کہاں ہونے کا امکان؟

    عمران خان کے خلاف سائفر کیس کی سماعت کل کہاں ہونے کا امکان؟

    چیئرمین پی ٹی آئی کےخلاف سماعت کل جوڈیشل کمپلیکس میں ہوگی،آفیشل سیکرٹ ایکٹ عدالت میں تاحال جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جمع نہیں کرایا جاسکا۔ جج ابوالحسنات ذوالقرنین صبح جوڈیشل کمپلیکس میں سائفرکیس کی سماعت کریں گے۔
    ذرائع کاکہنا ہے کہ وزارت قانون کا جیل ٹرائل سے متعلق نوٹیفکیشن عدالت میں جمع نہ ہونے کے باعث سماعت کل اڈیالہ جیل نہیں ہوسکتی، نوٹیفکیشن کل جمع ہونے کی صورت میں جج ابوالحسنات اڈیالہ جیل میں سماعت کا فیصلہ جاری کریں گے۔

  • بیرسٹر  گوہر  پاکستان تحریک انصاف  کے اہم عہدے سے مستعفی

    بیرسٹر گوہر پاکستان تحریک انصاف کے اہم عہدے سے مستعفی

    پاکستان تحریک انصاف سے بیرسٹر گوہر چیف الیکشن کمشنر کے عہدے سے مستعفی ہوگئے،عمران خان کی جانب سے فیڈرل چیف الیکشن کمشنر نیاز اللہ نیازی کو بنا دیا گیا ہے وہ اس سے قبل 2 انٹرا پارٹی الیکشن کرواچکے ہیں۔ نیاز اللہ نیازی نے 2009 میں اور 2012 میں انٹرا پارٹی الیکشن کروائے ، انہوں نےاسلام آباد ریجن میں 2012 انٹرا پارٹی الیکشن میں بطور ریجنز ہیڈ ذمہ داریاں سر انجام دیں اور اب وہ نیاز اللہ نیازی انٹرا پارٹی الیکشن میں ٹیم کی سربراہی کریں گے۔

  • موسمیاتی تبدیلی کے متعلق تمام دنیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے،نگران وزیر اعظم

    موسمیاتی تبدیلی کے متعلق تمام دنیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے،نگران وزیر اعظم

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ دبئی کے ایکسپو سٹی میں کل سے شروع ہونے والی 28ویں یو این کانفرنس آف پارٹیز (COP 28) کے اعلیٰ سطحی حصے میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔ وزیر اعظم یکم اور 2 دسمبر کو ورلڈ کلائمیٹ ایکشن سمٹ میں شرکت کریں گے۔ وزیراعظم 2 دسمبر کو ورلڈ کلائمیٹ ایکشن سمٹ میں قومی بیان دیں گے۔ کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم کی مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔


    نگراں وزیر خارجہ جلیل عباس جیلانی، نگراں وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر، نگراں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی احمد عرفان اسلم اور نگراں وزیر توانائی محمد علی بھی COP 28 میں شرکت کریں گے۔
    امریکی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ خلیجی و مغربی ممالک پاکستان میں متبادل توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان میں تباہ کن سیلاب سے سندھ اور بلوچستان متاثر ہوئے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کا ذمہ دار نہیں ہے، سب جانتے ہیں ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کا ذمہ دار کون ہے۔انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ممالک اور معیشتوں پر فیصلہ تھوپنے کی بجائے ایماندارانہ مباحثہ اہم ہے۔ لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ سے متعلق یو این فریم ورک پر زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
    نگراں وزیر اعظم نے کہا ہم نے کوئلہ پر چلنے والے منصوبے قابل تجدید توانائی منصوبوں میں بدلنے کی حکمت عملی بنائی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے ایسے مخصوص منصوبوں پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

  • یو اے ای کے قونصل جنرل نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو خوش آئند قرار دیا ہے

    یو اے ای کے قونصل جنرل نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو خوش آئند قرار دیا ہے

    متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل کراچی بخیت عتیق الرومیتی نے ہ متحدہ عرب امارات اور پاکستان نے اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز پر خوشی کا اظہار کیا ہے،اور کہا کہ بانی یو اے ای کے وژن کے مطابق امارات برادر ملک پاکستان کےلیے ہمہ وقت ہر قسم کے تعاون کےلیے تیار رہا ہےاور رہے گا۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ امارات کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے سرمایہ کار بھی پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کےلیے پُرجوش ہیں اور حالیہ دنوں میں ہی ایک کاروباری وفد نے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے دفتر میں منتخب چیئرمین اور ان کی کابینہ سے کامیاب ملاقات بھی کی ہے۔
    اماراتی قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ معاہدوں کے تحت متحدہ عرب امارات پاکستان میں 20 سے 25 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرے گا۔ جس سے پاکستان میں معاشی استحکام کی راہ ہموار ہوگی اور سرمایہ کاری سے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت مختلف اقدامات کو پورا کرنے میں مدد بھی ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ امارات کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے سرمایہ کار بھی پاکستان میں بڑی سرمایہ کاری کےلیے پُرجوش ہیں اور حالیہ دنوں میں ہی ایک کاروباری وفد نے ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے دفتر میں منتخب چیئرمین اور ان کی کابینہ سے کامیاب ملاقات بھی کی ہے۔
    انکا کہنا تھا کہ گزشتہ چند روز میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان توانائی، پورٹ آپریشنز پروجیکٹس، ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ، فوڈ سیکیورٹی، لاجسٹکس، معدنیات اور بینکنگ اینڈ فنانشل سروسز کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے تعاون سے متعلق مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں۔
    انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کو ایک تاریخی اقدام قرار دیا جس سے پاک امارات اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہوگا۔
    قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان تاریخی اور گہرے برادرانہ تعلقات ہیں جو وقت کی ہر آزمائش پر پورا اترے ہیں۔ ایک بار پھر اس رشتے کی مضبوطی کےلیے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوطرفہ اسٹریٹجک تعاون اور بات چیت کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

  • بلوچستان حکومت کے سابق وزیر سرفراز ڈومکی پی پی پی میں شامل

    بلوچستان حکومت کے سابق وزیر سرفراز ڈومکی پی پی پی میں شامل

    پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری کی جناح ٹاؤن میں ملک شاہ ہاؤس گئے ہیں، جہاں پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد بلوچستان حکومت کے سابق وزیر سرفراز ڈومکی پی پی پی میں شامل ہو گئے،


    سابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے ملاقات کے بعد سابق رکن بلوچستان اسمبلی سرفراز ڈومکی کے ہمراہ نصیب اللہ مری، میر حربیار ڈومکی، لیاقت لہڑی، ولی خان اچکزئی،علاؤالدین کاکڑ ودیگر بھی پی پی پی میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا ہے، اسکے علاوہ سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے ساتھیوں سمیت پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کوئٹہ میں کامیاب جلسہ پر پوری قیادت کو مبارک باد دیتا ہوں، ایوب سٹیڈیم میں تاریخی جلسہ نے ثابت کر دیا کہ بلوچستان کے عوام کی امیدیں پیپلز پارٹی سے وابستہ ہیں۔
    عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ پپیلز پارٹی میں ساتھیوں کے ساتھ شامل ہو رہا ہوں، بلوچستان میں پیپلز پارٹی اچھی پوزیشن کے ساتھ میدان میں اتری ہے۔
    سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میرے ساتھ بلوچستان عوامی پارٹی کے دیگر سابق ارکان پارلیمنٹ میں پی پی پی میں شمولیت اختیار کریں گے۔