پاکستان تحریک انصاف پارلیمینٹیرین کور کمیٹی کا اجلاس پرویز خٹک کے زیر صدارت پشاور میں منعقد ہوا ، اجلاس میں سابق وزیراعلی خیبر پختونخواہ محمود خان سمیت کور کمیٹی ممبران کی شرکت کی، اجلاس میں کور کمیٹی نے متفقہ طور پر پرویز خٹک کو پارٹی چئیرمین جبکہ محمود خان وائس چئیرمین منتخب کیا گیا، کور کمیٹی نے ضیاء اللہ خان بنگش کو پارٹی انفارمیشن سیکرٹری نامزد کردیا۔ اس موقع پر محمود خان نے کہا کہ میں تمام ممبران کو آج اس اجلاس میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آج کا ہمارا اکٹھا ہونا اس بات کا امر ہے کہ ہم سب اس ملک اور خصوصا” خیبر پختونخواہ میں امن چاہتے ہیں اور امن اور خوشحالی کے لئے کام کرنا چاہتے ہیں۔
پارٹی چئیر مین پرویز خٹک نے کہا کہ آنے والے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف پارلیمینٹیرین تمام حلقوں سے اپنے امیدوار کھڑے کرے گی۔ ہماری پارٹی میں سب کے لئے دروازے کھولے ہیں پارٹی میں شمولیتی پروگرام شروع ہیں اس کے علاوہ باقی پارٹیوں کے ساتھ بھی ہم اتحاد کرسکتے ہیں۔ پرویز خٹک نے مزید بتایا کہ
انتخابات کی تیاری کے لئے 19 اگست سے نوشہرہ میں پہلا جلسہ منعقد کرکے ہم اپنی عوامی رابطہ مہم کا آغاز کر رہے ہیں۔ اسکے بعد مانسہرہ، کوہاٹ، ڈی آئی خان، سوات، کوہستان، ہنگو، پشاور، مردان، بونیر، ایبٹ آباد میں بھی جلسے منعقد کئے جائیں گے۔ جسکی کور کمیٹی نے منظوری دے دی۔ پارٹی کے آئین منشور اور اغراض و مقاصد کا بھی کور کمیٹی نے جائزہ لیا۔ مزید کام کے لئے کمیٹی کو ٹاسک حوالے کردیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف پارلیمینٹیرین کا سلوگن امن، ترقی اور خوشحالی ہوگا جسکی کور کمیٹی نے منظوری دے دی۔ پرویز خٹک نے کہا کہ ہمارا مقصد پاکستان اور خصوصا” خیبر پختونخواہ میں امن، ترقی اور خوشحالی کے لئے کام کرنا ہے۔ جس کے لئے ہم ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ ریاستی اداروں کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ ان کومضبوط کرنا ہے۔ اور ہم نے اس صوبہ میں پہلے بھی عوام کی خدمت بھرپور انداز میں کی ہے اور انشاءاللہ آگے بھی اپنی خدمات کا سلسلہ اس صوبہ اور ملک پاکستان کے لئے بھرپور طریقہ سے ادا کریں گے۔
Author: صدف ابرار

پاکستان تحریک انصاف پارلیمینٹیرین کور کمیٹی کا اجلاس،اہم فیصلے کئے گئے

پی ٹی آئی کے سابق صوبائی وزیر کی محکمہ پی اینڈ ڈی کے سرکاری افسر سے ہاتھا پائی
خیبر پختونخوا کے سابق صوبائی وزیر اقبال وزیر کی محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ (پی اینڈ ڈی) میں سرکاری افسر سے ہاتھا پائی ہوگئی۔محکمہ پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے چیف رورل ڈویلپمنٹ حامد نوید نے کہا کہ سابق صوبائی وزیر اقبال وزیر سیکرٹری پی اینڈ ڈی آفس میں بیٹھے تھے کہ مجھے بلایا، اقبال وزیر ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پلان کے لیے فنڈز مانگ رہے تھے۔حامد نوید نے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز پر الیکشن کمیشن نے پابندی لگائی ہے، اپنے وزراء اور حکام کے لیے بھی وہ فنڈز ہم نہیں فراہم کر سکتے ۔انہوں نے کہا کہ میرے معذرت کرنے پر اقبال وزیر سیخ پا ہوئے اور گالم گلوچ شروع کی، اقبال وزیر کے ساتھ 4 مسلح افراد بھی تھے جنہوں نے مجھ پر حملہ کیا۔حامد نوید نے بتایا کہ اقبال وزیر نے اپنے لوگوں کے ساتھ مجھ پر تشدد کیا ، میرا چہرا زخمی ہوا، اقبال وزیر نے سیکرٹری پی اینڈ ڈی کے ساتھ بھی تلخ کلامی کی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ہم پر تشدد کرنے پر ملازمین اور ایسوسی ایشن والوں نے احتجاج شروع کیا، جس کے بعد نگران مشیر تعلیم رحمت سلام خٹک، پولیس حکام اور سیکرٹریٹ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں پر مشتمل ایک جرگہ بنایا گیا جس میں سابق صوبائی وزیر اقبال وزیر نے معافی مانگ لی۔
پولیس نے اس معاملے پر مؤقف دیا کہ سول سیکرٹریٹ میں سابق وزیر اقبال وزیر اور چیف رورل ڈویلپمنٹ کے مابین پہلے تلخ کلامی میں ہاتھاپائی ہوئی جس کے بعد اطلاع ملتے ہی ایس پی کینٹ اور ایس پی سکیورٹی سول سیکرٹریٹ پہنچ گئے۔پولیس نے بیان دیا کہ پولیس نے سالسی کا کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقین کے مابین صلح کروادی۔دوسری جانب سابق صوبائی وزیر اقبال وزیر نے مقامی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے سیکرٹری نے ہی بات کرنے کے لیے بلایا تھا، اگر ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز پر پابندی عائد تھی تو مجھے بلاتے نہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے کسی کے ذریعے بتایا گیا تھا کہ پی این ڈی حکام 12 فیصد کمیشن مانگ رہے ہیں، میں نے اس بات کی تصدیق کے لیے چیف آر ڈی کے سامنے بات کی تو وہ غصے میں اٹھ کر چلے گئے اور باہر میرے پی ایس کے ساتھ لڑائی کرنے لگے۔
اقبال وزیر نے کہا کہ میں اپنے حلقے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے گیاتھا نہ کہ لڑائی کرنے کے لیے۔پی این ڈی حکام نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے کوئی کمیشن مانگا ہے تو وہ الزام تراشی کے بجائے ثبوت پیش کریں۔واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے سابق وزیر ریلیف اقبال وزیر پاکستان تحریک انصاف کے سابق ایم پی رہ چکے ہیں، اقبال وزیر نے 9 مئی واقعات کے بعد پاکستان تحریک انصاف سے کنارہ کشی اختیار کی، اقبال وزیر حال ہی میں پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز میں پرویز خٹک کے ہمنوا ہوئے ہیں۔
شہریار آفریدی سمیت 5 افراد کی فوجی تنصیبات پر حملے میں ضمانت منظور
لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے پی ٹی آئی کے سابق وزیر شہریار آفریدی سمیت 6 ملزمان کی ضمانت منظور کر لی، جن پر 9 مئی کو مبینہ طور پر فوجی تنصیبات پر حملہ کرنے کا الزام تھا۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس صفدر سلیم شاہد اور جسٹس انوار الحق پنوں پر مشتمل ڈویژن بنچ نے شہریار آفریدی اور درخواست گزار نادیہ حسین، حیدر محمود خان، عصمت اللہ، بالاج خان اور شیر سکندر سمیت پانچ دیگر کی ضمانت منظور کی۔
ان کے خلاف راولپنڈی کے آر اے بازار تھانے میں جی ایچ کیو میں توڑ پھوڑ اور شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔عدالت نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار محترمہ نادیہ حسین کو نہ تو فرسٹ انفارمیشن رپورٹ میں نامزد کیا گیا اور نہ ہی شناختی پریڈ میں ان کی شناخت کی گئی۔ افشاں خان نامی خاتون کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے یکم جون کو پہلے ہی ڈسچارج کر دیا ہے۔
بنچ کے مطابق دو مشتبہ افراد شہر یار افریدی خان اور شیر سکندر کو نامزد کیا گیا تھا لیکن ان پر کوئی خاص الزام نہیں لگایا گیا تھا۔ انہوں نے مبینہ طور پر فوج کے خلاف نعرے لگائے۔ تاہم ایف آئی آر میں ان الزامات کا ذکر نہیں کیا گیا۔اسی طرح، ملزمان، عصمت اللہ اور بالاج خان کو ایف آئی آر میں نامزد نہیں کیا گیا تھا لیکن انہیں شناختی پریڈ کے دوران گرفتار کیا گیا تھا جس میں کوئی فوجی افسر موجود نہیں تھا۔
شہر یار آفریدی کے ملوث ہونے پر بحث کرتے ہوئے بنچ نے بتایا کہ انہوں نے مبینہ طور پر فوج کی تنصیبات پر لوگوں کو حملے کے لیے اکسایا۔ جس پر وکیل صفائی نے دلیل دی کہ آفریدی کو ان الزامات پر ان کے خلاف درج ایف آئی آر میں پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے۔
بینچ اس بات پر "حیران” تھا کہ مبینہ حملوں کے دوران "کسی شخص کو چوٹ نہیں آئی” اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا کوئی ریکارڈ شکایت کے ساتھ منسلک نہیں کیا گیا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ چونکہ یہ مقدمہ اے ٹی اے کے دائرہ کار میں نہیں آتا اور ملزمان کے خلاف دائر دیگر جرائم قابل ضمانت ہیں، اس لیے ان کی ضمانت کی درخواستیں 100،000 روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کی گئیں۔
17 سالہ امریکی سائیکلسٹ میگنس وائٹ حادثے میں ہلاک ہو گیا
میگنس وائٹ بولڈر، کولوراڈو میں اپنے گھر کے قریب تربیتی سواری کے دوران جان کی بازی ہار گیا 17 سالہ امریکی سائیکلسٹ میگنس وائٹ کو کھیل میں ’ابھرتا ہوا ستارہ‘ قرار دیا گیا تھا میگنس وائٹ بولڈر، کولوراڈو میں تربیتی حادثے کے دوران زخمی ہو کے جاں بحق ہو گیا،
دل دہلا دینے والی خبر کی تصدیق امریکہ میں سائیکلنگ کی گورننگ باڈی یو ایس اے سائیکلنگ نے اتوار کو کی تھی میگنس اسکاٹ لینڈ کے گلاسگو میں جونیئر ماؤنٹین بائیک ورلڈ چیمپئن شپ میں کراس کنٹری ڈسپلن میں مقابلہ کرنے کی تیاری کر رہا تھا جب اسے ایک گاڑی نے المناک طور پر ٹکر مار دی۔
حمزہ خان ورلڈ جونیئر اسکواش چیمپئن شپ جیتنے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے
پاکستان اسکواش کے ماہر کھلاڑی حمزہ خان آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں منعقدہ ورلڈ جونیئر اسکواش چیمپئن شپ میں فتح حاصل کرنے کے بعد منگل کو وطن واپس پہنچ گئے۔اسکواش کے نوجوان ہیرو کا اسلام آباد ایئرپورٹ پر پاکستان اسکواش فیڈریشن کے سینئر نائب صدر ایئر وائس مارشل کاظم حماد نے استقبال کیا۔
حمزہ کی جیت اس وقت ہوئی جب انہوں نے مصر کے محمد زکریا کو فائنل میچ میں 10-12، 14-12، 11-3 اور 11-6 کے شاندار اسکور لائن کے ساتھ شکست دی۔
پہلا گیم ہارنے کے باوجود حمزہ نے مسلسل تین گیمز جیت کر شاندار واپسی کی۔ ان کا یہ کارنامہ اہم ہے کیونکہ جانشیر خان کے بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کھلاڑی بن گئے ہیں جنہوں نے 37 سال قبل یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔
درد ،ناکامی،اور تجربات ،تحریر:صدف ابرار
درد ایک پیچیدہ اور کثیر جہتی حسی اور جذباتی تجربہ ہے جو جسم کے لیے ایک وارننگ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ ایک ناخوشگوار احساس ہے جو عام طور پر ٹشو کو پہنچنے والے نقصان یا ممکنہ چوٹ سے منسلک ہوتا ہے، یہ انسان کو نقصان سے بچانے کے لیے کارروائی کرنے پر اکساتا ہے۔ درد مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے ، جیسے ہلکی تکلیف سے لے کر شدید اذیت تک، ہو سکتا ہے۔درد انسانی تجربے کا ایک ناگزیر حصہ ہے۔ اپنی پوری زندگی میں، ہمیں درد کی مختلف شکلوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، چاہے وہ جسمانی ہو، جذباتی یا نفسیاتی ۔ اگرچہ درد سے بچنے کے طریقے تلاش کرنا ایک فطری عمل ہے، لیکن یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ درد ایک طاقتور استاد بھی ہو سکتا ہے۔ ہمارے درد تکلیف یا ناکامی کو قبول کرنا اور اس سے سیکھنا ذاتی ترقی، خود اعتمادی یا اپنے اور دوسروں کے بارے میں مزید جاننے کا باعث بن سکتا ہے، درد سے سیکھنے کا پہلا قدم ہماری زندگی میں اس کی موجودگی کو تسلیم کرنا ہے۔ درد ایسی چیز نہیں ہے جسے ایک طرف رکھ کر نظر انداز کیا جا سکے، لہذا اسے انسانی تجربے کے ایک درست اور ضروری پہلو کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔ کیو نکہ درد یا ناکامی سے انکار، یا اسے دبانا جذباتی جبر اور حل نہ ہونے والے مسائل کا باعث بن سکتا ہے۔
درد کو زندگی کے ایک فطری حصے کے طور پر قبول کرنا ہمیں ہمت اور عزم کے ساتھ اس کا مقابلہ کرنے کی قوت عطا ہوتی ہے، درد کی جانچ کرنا اپنے آپ اور ہمارے حالات کے بارے میں قیمتی بصیرت فراہم کرتا ہے۔ درد مختلف ذرائع سے ہوسکتا ہے، جیسے ماضی کے صدمات، ناکام تعلقات، مایوسی، یا جسمانی بیماریاں۔ بنیادی وجوہات کو سمجھنے سے، ہم یہ واضح کرسکتے ہیں کہ بعض واقعات یا حالات ہم پر کس طرح گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ جو سمجھ بوجھ اور ترقی کے دروازے کھولتا ہے، درد سے سیکھنا لچک کو فروغ دیتا ہے – جیسے مشکلات اور ناکامیوں سے واپس مقابلہ کی صلاحیت۔ جیسا کہ ہم درد کا مقابلہ کرتے ہیں اور اس پر قابو پاتے ہیں، ہم طاقت اور موافقت پیدا کرتے ہیں۔ لچک ہمیں زیادہ اعتماد اور عزم کے ساتھ مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کی طاقت دیتی ہے۔ درد پر قابو پانے کا ہر تجربہ ہماری زندگیوں کے لیے ایک لچکدار بنیاد بناتے ہوئے ایک عمارت کا حصہ بن جاتا ہے۔ درد کا تجربہ ہمارے اندر ہمدردی پیدا کر سکتا ہے۔ جب ہم خود درد کو جان لیتے ہیں نا تو ہم دوسروں کے دکھوں سے بھی زیادہ ہم آہنگ ہو جاتے ہیں۔ ہمدردی کا یہ بلند احساس ہمیں لوگوں کے ساتھ گہری سطح پر جڑنے کے قابل بناتا ہے، اور دوسروں کی مدد اور سمجھ بوجھ کی پیشکش کرنے کی ہمت دیتا ہے۔ ہمارے درد کے تجربات ایک پل بن جاتے ہیں جو ہمیں مشترکہ انسانیت کے وسیع تر احساس سے جوڑتا ہے۔
درد ذاتی ترقی کے لیے ایک طاقتور دوا کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ ہمیں اپنے کمفرٹ زون سے باہر دھکیلتا ہے اور ہمیں اپنے عقائد، انتخاب اور ترجیحات کا دوبارہ جائزہ لینے پر مجبور کرتا ہے۔ جب ہم درد سے گزرتے ہیں، تو ہم خود سے آگاہی اور خود شناسی کا ایک نیا احساس پیدا کرتے ہیں۔ درد کے ساتھ ہر تصادم سیکھنے اور ذاتی ارتقاء کا موقع فراہم کرتا ہے۔
ناکامی یا درد سے سیکھا ہوا سبق ہمیں اپنی زندگیوں اور دوسروں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کی ترغیب دے سکتا ہے۔ درد ہمیں مقصد یا جذبے کے گہرے احساس کو دریافت کرنے کی طرف لے جا سکتا ہے، جو ہمیں معاشرے میں بامعنی شراکت کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اپنے درد کو مقصد میں بدل کر، ہم اپنی جدوجہد میں معنی تلاش کرتے ہیں اور اپنے ارد گرد کی دنیا پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں،درد مشکل اور تکلیف دہ ہو سکتا ہے، لیکن یہ ایک طاقتور استاد بھی ہے۔ درد کا ہر تجربہ خود کی عکاسی اور ذاتی تبدیلی کا ایک موقع ہے۔ اپنے درد کو تسلیم کرنے اور اس سے سیکھنے سے، ہم مشکلات کو طاقت میں بدل سکتے ہیں اور اپنی زندگی میں مقصد کے نئے مواقعوں کو تلاش کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، درد سے جو سبق ہم سیکھتے ہیں وہ بالآخر ہمیں ایک مزید خود کو پہچاننے اور اپنی شخصیت کو مزید نکھارنے اور نہ ختم ہونے والی کا میابیوں کی طرف گامزن کر سکتا ہیں،

سپر اسٹار فٹبالر کر سٹیانو رونالڈو کی بیٹی کس کی پرستار ہے؟
سپر اسٹار فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کی دس سالہ صاحبزادی مصری فارورڈ محمد صلاح کی پرستار نکلی نام اور نمبر کی ریڈ شرٹ میں ویڈیو وائرل ہو گئی ،انگلش کلب مانچسٹر یونائیٹڈ کے بعد سعودی عرب میں اِن ایکشن ہونے والے کرسٹیانو رونالڈو کے بچے بھی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں دس سالہ بیٹی لیورپول کی آفیشل کِٹ میں نظر آئی ، خاص بات یہ تھی کہ دنیائے فٹبال کے مایہ ناز پلیئر کی صاحبزادی نے روایتی حریف محمد صلاح کے نام اور گیارہ نمبر کی شرٹ زیب تن کی ہوئی تھی ، معصوم بچی کی منفرد تصویر نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی،

قومی ٹیم ہاکی چیمئینز ٹرافی کھیلنے بھارت پہنچ گئی،
پی ایچ ایف کے مطابق قومی ٹیم 3 اگست کو ملائیشیا کے خلاف پہلا میچ کھیلے گی،،چنائے میں 3 اگست تا 12 اگست کھیلی جانے والی ایشیئن چیمپینز ٹرافی میں شرکت کیلئے پاکستان ہاکی ٹیم بھارت پہنچ گئی قومی پلیئرز نے واہگہ بارڈر امرتسر سے بزریعہ ہوائی جہاز بنگلور پہنچے جو کہ رات 9 بجے میزبان شہر چنائے پہنچیں گے، پاکستان 3 اگست کو ملائشیا کے خلاف مہم کا آغاز کرے گا، اگلے ہی روز کوریا سے مقابلہ ہو گا،6 اگست کو جاپان جبکہ 7 اگست کو چین سے آمنا سامنا ہو گا، پانچویں میچ میں 9 اگست کو روایتی حریف بھارت سے زور کا جوڑ پڑے گا ، ایونٹ کا فائنل 12 اگست کو کھیلا جائے گا

باجوڑ دھماکے میں 35 افراد جاں بحق اور 80 سے زائد زخمی
باجوڑ دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 35 ہوگئی جبکہ 80 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے جن میں بیشتر کی حالت تشویشناک ہے ،ریسکیو زرائع کے مطابق زخمیوں کو پشاور،اور تیمر گرہ منتقل کیا جا رہا ہے جے یو آئی کے مطابق دھماکے میں تحصیل خار کے امیر مولانا ضیاع اللہ جاں بحق ہو گئے،پولیس کے مطابق جاں بحق اور زخمیوں میں اضافے کا خدشہ ہے،دھماکہ جے یو آئی کے عرکرز کنونشن میں ہوا تاہم ابھی تک دھماکے کا تعین نہیں کیا گیا ہے،

چارسدہ،شرپسندوں کی جانب سے شہید کے قبر پر لگے پرچم کو آگ لگا دی گئی،
کے پی کے چارسدہ میں ایک افسوس ناک واقع پیش ایا ہے جہاں اتمانزئئ میں نامعلوم شرپسندوں نے شہید کی قبر پر نصب پاکستانی جھنڈے اور پھولوں کی چادر کو آگ لگا دی لانس نائیک وقاص علی تیراہ میں دہشت گردوں سے مقابلے میں شہید ہوئے تھے شہید لانس نائیک وقاص علی کے والد کے مطابق رات کی تاریکی میں یہ واقعہ پیش آیا ہے والد نے کہا کہ وقاص علی شاہ 26 اپریل 2023 کو شہید ہوئے تھے شہید والد کا کہنا ہے بیٹے کا دکھ برداشت کرلیا لیکن قومی پرچم کا دکھ برداشت نہیں کر سکتا ، بیٹے کے موت پر اتنا دکھ نہیں لیکن آج جو ہوا اس پر دل کے آنسو رورہ رہا ہے،









