وزیردفاع خواجہ آصف اکثر اسمبلی کے فلور پر پی ٹی ائی خواتین کے حوالے سے کچھ بولتے ہوئے پائے جاتے ہے ،اس دفعہ بھی خواجہ آصف کسی سے پیچھے نہیں رہے،کل کے تقریر کے بعد مسلسل خبروں میں ان ہیں ،گزشتہ روز محکمہ صحت نے پی ٹی آئی کی سینیٹر زرقا تیمور کے دو کلینک سیل کردیئے، اور پولیس نے ایڈمن افسر خرم کو کار سرکار میں مداخلت پر گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے، جبکہ سینیٹر زرقا تیمور کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی انتقام کی کڑی ہے، جو میری جماعت کے لوگ برداشت کررہے ہیں۔پی ٹی آئی کی سینیٹر زرقا تیمور کے کلینک سیل کیے جانے کا الزام بھی خواجہ آصف پر آرہا ہے۔جس پر وزیردفاع خواجہ آصف نے ان پر لگنے والے الزامات کا جواب دیا ہے،ٹوئٹر پیغام میں کہتے ہیں دو عدد ڈینٹنگ پینٹنگ کی ورکشاپ کہیں لاہور میں بند ہوئی ہیں،سنا ہے پی ٹی آئی کی کسی خاتون سینیٹرکی ملکیت ہیں،یہ الزام بھی ان پر لگایا جا رہا ہے۔ ان کا اس بندش سے کوئی تعلق نہیں۔لہذا ان پر بے جا الزام تراشی سے گریز کیا جائے،
Author: صدف ابرار

علی گنڈاپور نے نگران وزیراعلیٰ کے پی کو خط میں پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کی درخواست کر دی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا کے صدر علی امین گنڈا پور نے نگران وزیراعلیٰ اعظم خان کو خط لکھ کر پی ٹی آئی وفد سے ملاقات کی درخواست کر دی۔علی امین گنڈاپور کی جانب سے نگران وزیراعلی خیبر پختونخوا کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ 191 دن بعد بھی الیکشن کی تاریخ نہیں دی گئی جو آئین کی خلاف ورزی ہے، 28 افراد کی کابینہ میں 2 یا 3 کو چھوڑ کر باقی تمام سیاسی پارٹیوں کے نامزد کردہ ہیں۔
خط میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ گورنر غلام علی نے انتخابات کے جمہوری عمل کو پٹری سے اتارا اور حکومتی امور کو ہائی جیک کیا، محکمہ اینٹی کرپشن کو ہمارے سابق اراکین اسمبلی پر جعلی مقدمات بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔علی امین گنڈا پور کا کہنا ہے کہ پرویزخٹک کی پارٹی کی تقریب میں شرکت کے لیے ہمارے دو سابق ایم پی ایز کو پےرول پر رہا کیا گیا، آپ کی حکومت نے پی ٹی آئی کو ختم کرنےکا بیڑا اٹھا رکھا ہے جس پر آپ کی خاموشی معنی خیز ہے،
ہول سیل مارکیٹ میں چینی کے قیمتوں میں اضافہ
ہول سیل مارکیٹ میں ایک ماہ میں چینی کی فی کلوقیمت میں50روپےاضافہ کا بڑا اضافہ ہوا ہے۔جس کے بعد چینی 155روپےسے160روپےفی کلوتک فروخت ہونے لگی ہے۔ ایک ماہ میں چینی کی 100کلووالی بوری کاایکس مل ریٹ11ہزار سے بڑھ کر13ہزار600 روپےتک جاپہنچا ہے۔ اورفی کلوقیمت میں50روپےاضافہ کے بعد چینی 155روپےسے160روپےفی کلوتک فروخت کی جارہی ہے۔ہول سیل ڈیلرز کا کہنا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافےکی ذمہ دارحکومت ہےجس نےملز مالکان کوایکسپورٹ کی اجازت دی،چینی باہر ممالک ایکسپورٹ کرنےسےمارکیٹ میں چینی کی قلت پیداہوئی ہے۔
انہوںنےبتایا کہ گزشتہ سال نومبرمیں چینی91روپےکلوتھی، اس ایک ماہ قبل تک چینی کاایکس مل ریٹ کےمطابق110 روپےفی کلومیں پڑتی تھی، لیکن آج چینی ایکس مل ریٹ کےمطابق 135روپےفی کلومیں پڑرہی ہے۔ہول سیلر نے بتایا کہ پرچون مافیاقیمتیں ضرورت سےزائدوصول کررہاہے،اگرہول سیل ریٹ کودیکھاجائےاوردکاندار5روپےفی کلومنافع وصول کرےتوبھی140روپےمیں چینی ملنی چاہیے۔
دوسری جانب شہریوں کا کہنا تھا کہ چینی اتنی مہنگی ہوگئی ہے کہ ہم نے چینی کا استعمال کم کردیا،چائےاورمشروبات کااستعمال بھی کم کردیاہے۔
پرویز الٰہی کی نظربندی کیخلاف درخواست، لاہور ہائیکورٹ کے جج کی سماعت سے معذرت
لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس فاروق حیدر نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت سے معذرت کر لی۔
جسٹس فاروق حیدر نے فائل واپس بھجواتے ہوئے کہا ہے کہ میں پرویز الٰہی کا وکیل رہ چکا ہوں، پھر ان کے کیسز میرے پاس کیوں لگائے جاتے ہیں، فاضل جج نے ایڈیشنل رجسٹرار سے اظہار ناراضی بھی کیا۔واضح رہے کہ پرویز الٰہی کی اہلیہ نے اپنے شوہر کی نظربندی کے احکامات کو ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔
دوسری جانب پرویز الٰہی کو ٹرائل کورٹ میں پیش نہ کرنے پرآئی جی پنجاب، آئی جی جیل خانہ جات اور سیکریٹری داخلہ کو شوکاز نوٹس جاری کرنے پر تینوں افسران نے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں پرویزالٰہی اور اسپیشل کورٹ سینٹرل کو فریق بنایا گیا ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کی دہشت گردی کے مقدمے میں حفاظتی ضمانت منظور کی، جیل حکام نے روبکار ملنے کے باوجود رہائی کی بجائے غیر قانونی طور پر حبس بیجا میں رکھا، غیرقانونی اقدام کو قانونی ظاہر کرنے کے لئے ڈی سی لاہور نے نظر بندی کا حکم جاری کردیا،عدالتی حکم کےبعد ڈی سی کانظر بندی نوٹیفیکیشن عدالتی فیصلے پر اثرانداز ہونے کےمترادف ہے، درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت ڈی سی لاہور کا پرویز الہی کو نظر بند کرنے کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے۔
وزیر مذہبی امور کا حجاج کرام کو رقم کی واپسی کا اعلان
وفاقی وزیر مذہبی امور سینیٹر طلحہ محمود نے پوسٹ حج 2023 کے اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں اور حجاج کرام کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کیا ہے۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وعدے کے مطابق حج اخراجات میں بچت کی رقم حجاج کرام کو واپس کی جا رہی ہے۔ تمام سرکاری حجاج کرام کو 97 ہزار روپے فی کس واپس کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مدینہ میں دور رہائش پانے والوں کو ایک لاکھ 11 ہزار روپے واپس ملیں گے، جن حجاج کو مشاعر ٹرین نہیں ملی انہیں ایک لاکھ 18 ہزار روپے واپس ملیں گے۔طلحہ محمود کا کہنا تھا کہ مرکزیہ میں رہائش اور ٹرین نہ پانے والوں کو کل ایک لاکھ 32 ہزار روپے واپس کیے جائیں گے، سرکاری اسکیم کا حج پیکیج اوسطاً 10 لاکھ 32 ہزار روپے رہ گیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اگلے ہفتے حجاج کرام کے متعلقہ بینک اکاؤنٹس میں رقم کی منتقلی شروع ہو جائے گی۔
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ حرم میں توسیعی منصوبوں اور رش کے باوجود حجاج کو بہتر سہولیات دینے میں کامیاب رہے۔ 78 فیصد حجاج کرام کو مدینہ میں نزدیک ترین رہائشیں فراہم کی گئیں، 63 فیصد حجاج کو منٰی عرفات میں مشاعر ٹرین کی سہولت مہیا کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ 47 فیصد حجاج کو اولڈ منیٰ میں خیمے مہیا کیے گئے۔ حج سے قبل تمام سرکاری حجاج کو قربانی کی مد میں 55 ہزار روپے واپس کیے گئے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سیکریٹری مذہبی امور آفتاب اکبر درانی اور ڈی جی حج عبدالوہاب سومرو نے بہترین کام کیا۔ مشکل حالات کے باوجود مذہبی امور کے عملہ نے پاکستان اور سعودی عرب میں انتھک محنت کی۔سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ حج 2024 کے لیے ایک لاکھ 79 ہزار کا ملکی کوٹہ حاصل کر چکے ہیں۔ خواہش ہے کہ حج اخراجات قسطوں میں لیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ عازمینِ حج کی جامع تربیت کے لیے مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
قومی اسمبلی میں 29 بل کثرت رائے سے منظور
قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر راجہ پرویز اشرف کی صدارت میں ہوا ۔قومی اسمبلی میں حکومت اوراپوزیشن کے مختلف ارکان کے 29 بل کثرت رائے سے منظور کر لیے گئے۔ منظور ہونے والے اہم بلوں میں تحفظ خاندانی زندگی و ازدواج بل2023 اور پاکستان میں داخلے کے مقامات صحت عامہ بل شامل ہیں۔ آج کی قانون سازی کی اہم بات اجلاس میں 26 نئی یونیورسٹیوں اور مختلف تعلیمی انسٹیٹیوٹ کے قیام کے بلوں کی منظوری دینا شامل تھا۔ اجلاس کے دوران ڈاکٹر نفیسہ شاہ کے توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری سعد وسیم نے کہا کہ ملک میں قدرتی گیس کی کمی ہے، خیرپور اقتصادی زون کو قدرتی گیس کی فراہمی کے لیے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں۔وفاقی وزیر آبی وسائل سید خورشید شاہ نے اجلاس میں ای او بی آئی کے متاثرہ ملازمین کو مستقل نہ کرنے کا معاملہ اٹھایا۔تاہم نورعالم خان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔وقفہ سوالات میں گیلری میں سرکاری اداروں کے حکام کی عدم موجودگی پر اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے نوٹس لیتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا اور رولنگ دی کہ وقفہ سوالات میں تمام سرکاری اداروں کے حکام گیلری میں موجود رہیں۔قومی اسمبلی کا اجلاس 31 جولائی شام 5 بجے تک کے لیے ملتوی ہوگیا۔

قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کی متعدد منصوبوں کی منظوری
وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایکنک کا اجلاس ہوا، جس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق ایکنک نے پاکستان ریزز ریونیو منصوبے کی منظوری دے دی، منصوبے پر ساڑھے 21 ارب روپے لاگت آئے گی جبکہ عالمی بینک ریونیو منصوبے کے لیے 8 کروڑ ڈالر قرضہ فراہم کرے گا۔
وزارت خزانہ کے مطابق ایکنک نے چشمہ فائیو نیو کلیئر پاور پراجیکٹ کی بھی منظوری دے دی، منصوبے پر 1047 ارب 98 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔
ایکنک نے 23 ارب 54 کروڑ روپے سے راولپنڈی کہوٹہ روڈ کو دورویہ کرنے کا منصوبہ منظور کرلیا، 28.4 کلو میٹر کے راولپنڈی کہوٹہ روڈ منصوبے کے تحت سہالہ بریج اور بائی پاس بھی تعمیر کیا جائے گا، منصوبے پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں 50،50 فیصد لاگت برداشت کریں گی۔
ایکنک نے سندھ میں سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی تعمیر اور بحالی کے منصوبے کی بھی منظوری دے دی، منصوبے پر 12 ارب 33 کروڑ خرچ ہوں گے جبکہ وفاق اور سندھ حکومت متاثرہ اسکولوں کی تعمیر اور بحالی منصوبے پر 50، 50 فیصد فنڈز خرچ کریں گے۔ اعلامیے کے مطابق ایکنک نے کراچی شپ یارڈ انجینئرنگ ورکس کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ بھی منظور کرلیا، منصوبے پر 10 ارب 68 کروڑ روپے کی نظرثانی شدہ لاگت آئے گی۔اس کے علاوہ ڈی آئی خان میں عبدالخیل ڈھکی کلورکوٹ روڈ کی تعمیر کا منصوبہ منظور کرلیا گیا، اس منصوبے پر 14 ارب 5 کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔
وزارت خزانہ کے مطابق ایکنک نے ضلع خاران میں ڈیم کی تعمیر کا 27 ارب 75 کروڑ لاگت کا نظریاتی شدہ منصوبہ بھی منظور کرلیا۔
چئیر مین عمران خان پر ایک اور مقدمہ درج
چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف پیشی کے دوران جے آئی ٹی کے سربراہ اورممبران کو دھمکانے پر رپورٹ درج کرلی گئی ۔ لاہور کے تھانہ قلعہ گجر سنگھ میں درج کی گئی رپورٹ انچارج انویسٹی محمد سرور کی مدعیت میں درج کی گئی ہے، جس کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کو تھانہ سرور روڈکےمقدمہ 96/23 میں تفتیش کیلئے بلایا،جہاں پیشی کے دوران انہوں نےانگلی کیساتھ سربراہ جےآئی ٹی عمران کشوراوردیگر ممبران کو دھمکایا۔ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ عمران خان کو تھانہ سرور روڈ کے مقدمہ 96/23 میں تفتیش کے لیے بلایا گیا، چئیرمین پی ٹی آئی نے جے آئی ٹی سربراہ عمران کشور اور ممبران کو انگلی کے ساتھ ڈرایا دھمکایا اور کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت واپس آ رہی ہے، آپ سن لیں آپ نے رہنا نہیں ہے۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا کہ تفتیش کے دوران کسی بھی افسر کو ڈرانا اور کہنا کہ میں انتقامی کارروائی کا نشانہ بناوں گا، آزادانہ اور غیر جانبدرانہ تفتیش کو روکنا ہے۔۔ ملزم کا یہ عمل قانونی ضابطہ کی خلاف ورزی ہے۔
خیبر پختونخوا نگران وزیر اطلاعات و اوقاف بیر سٹر جمال کاکا خیل کا محرم کے حوالے سے کئے گئے سیکورٹی اقدامات کا کا جائزہ
خیبر پختونخوا نگران وزیر اطلاعات و اوقاف بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل نے محکمہ داخلہ کے کنٹرول روم کا دورہ کیا ہے جہاں پر بیرسٹر فیروز جمال شاہ کاکاخیل کا محرم الحرام میں مجالس و محافل کی نگرانی کے لیے کئے گئے اقدامات کا جائزہ لیا ، نگران صوبائی وزیر کو سیکرٹری داخلہ و دیگر حکام کی تفصیلی بریفنگ دی،
سینٹرل کنٹرول روم ماہ محرم کے دوران 24/7 کام کر رہی ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ مجالس کی نگرانی کے لئے آن لائن سافٹ ویئر بنایا گیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ڈیٹا سافٹ ویئر کے ذریعے سینٹرل کنٹرول روم کو پہنچتا ہے۔ بریفنگ میں مزید کہا گیا کہ کنٹرول روم میں مختلف اضلاع میں محرم کے جلوسوں اور مجالس کی نگرانی کی جاتی ہے۔ اسی طرح 14 اضلاع میں کل 855 رجسٹرڈ ماتمی جلوس اور 7 ہزار سے زائد مجالس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ بریفنگ کے مطابق سینٹرل کنٹرول روم میں 9 محکموں کے نمائندے موجود ہیں۔ اسکے علاوہ سوشل میڈیا پر مذہبی منافرت کی بھی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ اسکے علاوہ نگراں وزیر نے سٹریٹیجک انالاسز ونگ کا بھی دورہ کیا، حکام نےماہانہ کارکردگی رپورٹ پر بھی بریفننگ دی، نگران وزیر اطلاعات نے کہا محرم الحرام میں سیکیورٹی کے حوالے سے محکمہ داخلہ کا کردار نہایت احسن ہے، کنٹرول روم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا نگراں صوبائی حکومت لا اینڈ آرڈر پر خصوصی توجہ دے رہی ہے ،
ناروے کوہ پیما نے نیا ریکارڈ بنا ڈالا
ناروے کی ایک خاتون اور ان کے نیپالی شیرپا گائیڈ 8 ہزار میٹر (26,246 فٹ) سے اوپر کی تمام چوٹیوں کو سر کرنے والی دنیا کی تیز ترین کوہ پیما بن گئیں۔ دونوں نے آج پاکستان میں کم ترین وقت میں K2 کو سر کیا، جو کہ صرف تین ماہ میں ان کا 14 واں بلند ترین پہاڑ ہے۔
نیپالی آرگنائزنگ کمپنی کے ایک اہلکار نے بتایا کہ نارویجن خاتون کرسٹن ہریلا، 37، اور نیپال کے 35 سالہ ٹینجین (لاما) شیرپا نے K2 کا پیمانہ طے کیا، جو آٹھ دیگر گائیڈز کے ساتھ 8,611 میٹر (28,251 فٹ) پر دنیا کا دوسرا سب سے اونچا ہے تاشی نے کہا کہ چند مہینوں میں تمام 14 بلند ترین چوٹیوں پر چڑھنا ایک مشکل کارنامہ ہے، جو عام طور پر کئی کوہ پیما سالوں میں کرتے ہیں۔
انہوں نے نیپال سے تعلق رکھنے والے نرمل پورجا کو ہرا کر تیز ترین کوہ پیمائی کا ریکارڈ قائم کیا جس نے 2019 میں تمام چوٹیاں چھ ماہ اور ایک ہفتے میں مکمل کیں۔ ان کے تازہ کارنامے کی تصدیق پہاڑ پر موجود دیگر کوہ پیماؤں نے بھی کی لیکن اس کی تصدیق گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈسے ہونا باقی ہے۔









