Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پاکستان کی اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت: ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان کی اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت: ترجمان دفتر خارجہ

    پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی مہم جوئی کی سخت مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے شہری آبادیوں پر بے لگام حملے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی شدت تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ممتاز زہرا بلوچ نے وضاحت کی کہ حالیہ دنوں میں اسرائیلی افواج نے لبنان کی خودمختاری کی ناقابل قبول خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادی کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے، جس سے لبنان کے استحکام اور سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنان میں حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کے قتل کا عمل خطے میں عدم استحکام کو مزید بڑھانے کا سبب بن رہا ہے۔ترجمان نے متاثرہ افراد کے اہل خانہ اور لبنان کے عوام کے ساتھ گہرے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان لبنان کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے کھڑا ہے۔

    انہوں نے عالمی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ سلامتی کونسل، سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل کی اس جارحیت کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور خطے میں امن بحال کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ "ہم اقوام متحدہ سلامتی کونسل پر زور دیتے ہیں کہ وہ اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں سے باز رکھے اور خطے میں امن کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات کرے۔” انہوں نے کہا کہ پاکستان اس معاملے پر بین الاقوامی برادری کی توجہ بھی دلانا چاہتا ہے تاکہ اسرائیلی افواج کی جارحانہ کارروائیوں کا فوری خاتمہ ممکن ہو سکے۔ مشرق وسطیٰ میں حالات مزید خراب ہو رہے ہیں، اور لبنان میں جاری کشیدگی عالمی امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ پاکستان کی اس شدید مذمت اور اپیل سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ملک عالمی سطح پر امن و استحکام کے لیے اپنی آواز بلند کر رہا ہے۔

  • علی امین گنڈا پور کا بیان ناکامی کا اعتراف ہے،عطاءاللہ تارڑ

    علی امین گنڈا پور کا بیان ناکامی کا اعتراف ہے،عطاءاللہ تارڑ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے حالیہ بیان پر سخت تنقید کی ہے، جس میں انہوں نے گولی چلانے اور لاشیں گرانے کی دھمکی دی تھی۔ تارڑ نے کہا کہ یہ بیان گنڈا پور کی اپنی ناکامی کا اعتراف ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ صوبے کی حکومت چلانے کے قابل نہیں ہیں۔ عطا تارڑ نے اپنے ایک بیان میں کہا، "وزیراعلیٰ کا گولی چلانے کا بیان اس بات کی علامت ہے کہ وہ مکمل طور پر مایوس ہو چکے ہیں۔ ان کی یہ دھمکی دراصل 9 مئی کے واقعات کو دہرائے جانے کا اعلان ہے، جو کہ حکومت کی کمزوری کو عیاں کرتا ہے۔
    انہوں نے مزید کہا کہ "گالی دینے کے بعد اب گولی کا سہارا لینے سے گنڈا پور صرف اپنا نقصان کریں گے، نہ کہ کسی اور کا۔” وفاقی وزیر نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کا کوئی اقدام یا بیان جمہوری اور سیاسی نہیں ہے، اور انہوں نے کبھی تعلیم، صحت، یا معاشی بہتری کے شعبوں میں مقابلہ کرنے کی بات نہیں کی۔عطاءاللہ تارڑ نے اس بات پر زور دیا کہ "اگر انہیں واقعی انقلاب لانا ہے تو صحت، تعلیم، اور عوام کی فلاح بہبود کے منصوبوں میں اصلاحات لائیں۔” انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ خیبرپختونخوا میں کرپشن اور نااہلی کی انتہا ہو چکی ہے۔تارڑ نے مزید کہا کہ "اصل مقابلہ یہ ہونا چاہئے کہ وفاق اور پنجاب کی طرح، خیبرپختونخوا حکومت اپنے عوام کو بجلی کے صارفین کے لیے کوئی ریلیف فراہم کرے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ عوام کی خدمت کے لئے ہسپتالوں اور درس گاہوں کی تعمیر کا کوئی ریکارڈ ہونا چاہئے۔
    عطاءاللہ تارڑ نے حالیہ دنوں میں پاکستان کی اقتصادی حالت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ "پی ٹی آئی کی حکومت نے پاکستان کو ڈیفالٹ کے کنارے پر پہنچا دیا ہے، جبکہ آج پاکستان معاشی بحالی کی راہ پر گامزن ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا، "پی ٹی آئی کے رہنما یہ دیکھ کر تکلیف میں ہیں کہ مہنگائی کی شرح 32 فیصد سے 9.6 فیصد پر آ گئی ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ "گالی، گولی، اور بندوق کے ذریعے مہنگائی اور بیروزگاری کم نہیں ہوگی۔عطاءاللہ تارڑ نے وزیراعظم شہبازشریف کی فلسطینیوں کی حمایت پر بھی بات کی اور کہا کہ "پاکستان میں اسرائیلی ایجنٹوں کو اس پر تکلیف ہوئی ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر اپنی حیثیت برقرار رکھنی ہوگی اور عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر توجہ دینی چاہئے۔

  • پینتھرز نے چیمپئنز ون ڈے کپ 2024 کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا

    پینتھرز نے چیمپئنز ون ڈے کپ 2024 کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا

    فیصل آباد: پینتھرز نے چیمپئنز ون ڈے کپ 2024 کے فائنل میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مارخورز کو 5 وکٹوں سے شکست دی۔ یہ میچ فیصل آباد کے اقبال سٹیڈیم میں کھیلا گیا، جہاں پینتھرز نے مارخورز کی جانب سے دیے گئے 123 رنز کے ہدف کو 18 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر با آسانی حاصل کر لیا۔پینتھرز کی جانب سے عبدالبنگلزئی نے 41 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور اپنی ٹیم کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے علاوہ عمر صدیق نے 19، ساجد خان نے 15، عثمان خان نے 13، رضوان محمود نے 16، اور شاداب خان نے 14 رنز بنائے، جس کی بدولت پینتھرز نے کامیابی حاصل کی۔
    فائنل میچ میں مارخورز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، لیکن ان کی بیٹنگ لائن مکمل طور پر ناکام رہی۔ مارخورز کی پوری ٹیم 33.4 اوورز میں صرف 122 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی۔ فخر زمان نے 46 رنز کے ساتھ نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جبکہ حسیب اللہ خان 27 اور بسم اللہ خان 16 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ باقی کھلاڑی دوہرے ہندسے میں داخل نہ ہو سکے، جس کی وجہ سے مارخورز کی اننگز میں تیزی سے اننگز ختم ہوگئی۔پینتھرز کے بولرز نے شاندار کارکردگی دکھائی، جس میں محمد حسنین اور عرفان منہاس نے 3،3 وکٹیں حاصل کیں۔ ساجد خان نے 2 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ علی رضا اور شاداب خان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔یہ فتح پینتھرز کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے، جس نے چیمپئنز ون ڈے کپ کے ٹائٹل کو اپنے نام کیا اور ان کے کھلاڑیوں کی محنت اور ٹیم ورک کو اجاگر کیا۔

  • مشعال ملک کا بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے بیان کی مذمت

    مشعال ملک کا بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کے بیان کی مذمت

    حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے اقوام متحدہ میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے بھارت کو "دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد ریاست” قرار دیا ہے۔ مشعال ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ انہوں نے بھارتی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ دھمکیوں کے بجائے "ہوش کے ناخن” لے۔ مشعال ملک نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی الیکشن کا ڈرامہ جاری ہے، جبکہ بھارت نے کینیڈا میں سکھوں کو قتل کرنے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو "قبرستان” میں تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا عالمی دہشت گردی کا نیٹ ورک پھیلتا جارہا ہے اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے پاکستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی معاشرے کو اس کی اپنی حکمت عملی ہی نگل رہی ہے اور سرحد پار دہشت گردی کا جواب پوری قوت سے دیا جائے گا۔ جے شنکر نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ ان کے ملک کا واحد حل طلب تنازع، پاکستان کے غیر قانونی قبضے میں موجود کشمیر کے علاقے کو آزاد کرانا ہے، اور یہ کہ پاکستان کو اپنی طویل عرصے جاری دہشت گردی سے وابستگی ترک کرنا ہوگی۔ یہ صورتحال خطے میں جاری تناؤ کی عکاسی کرتی ہے، جہاں کشمیر کے مسئلے پر بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مشعال ملک کی بیان بازی اور بھارتی وزیر خارجہ کے بیانات کے پس منظر میں یہ واضح ہوتا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اہمیت رکھتا ہے۔

  • اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد  اور انکی اہلیہ  گرفتار

    اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد اور انکی اہلیہ گرفتار

    اسلام آباد: اسلام آباد پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے الزام میں جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کے ساتھ ہی ان کی اہلیہ کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ مشتاق احمد اور دیگر مظاہرین نے سیو غزہ کمپین کے تحت نیشنل پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا، جس میں انہوں نے اسرائیل کے حملوں کے خلاف آواز اٹھائی۔ پولیس نے دفعہ 144 کے تحت مظاہروں کی اجازت نہ ہونے پر ان کی گرفتاری کی۔ مشتاق احمد سمیت کل 10 مظاہرین کو اسلام آباد پریس کلب کے باہر سے گرفتار کیا گیا، جس کے بعد ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
    دوسری جانب، کراچی میں بھی حزب اللّٰہ کے سربراہ حسن نصر اللّٰہ کی ہلاکت کے خلاف ایک ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ مظاہرین نے حسن نصر اللّٰہ کی اسرائیلی حملے میں شہادت کے خلاف نعرے بلند کیے، جس کے باعث پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔ ایم ٹی خان روڈ پر مظاہرین کو روکنے کی کوشش کے دوران پتھراؤ شروع ہوا، جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگیا۔ حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے۔ پتھراؤ کی اس کارروائی میں متعدد صحافی بھی زخمی ہوئے، جبکہ مظاہرین نے ایک موٹرسائیکل کو آگ لگا دی۔ مظاہروں کے دوران کشیدگی برقرار رہی اور پولیس کی بھاری نفری وہاں موجود رہی۔ اس واقعے کے بعد، دونوں شہروں میں صورتحال کشیدہ ہے اور پولیس نے مزید کارروائیاں کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

  • اداروں میں ٹکراؤ، سیاسی لڑائیاں، ملکہ بدنامی نہیں، تجزیہ : شہزاد قریشی

    اداروں میں ٹکراؤ، سیاسی لڑائیاں، ملکہ بدنامی نہیں، تجزیہ : شہزاد قریشی

    ملک میں جاری عدم استحکام،سیاسی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے تنازعات سے پاکستان بطورر یاست اور عوام جمہوریت سیاسی رہنمائوں کو پکار رہی ہے کہ ان پر قابو پانے کا طریقہ تلاش کریں اور اپنا رُخ عوامی اور ملکی خدمت کی طرف موڑ دیں،غلط راستوں کا انتخاب احمق لوگ کیا کرتے ہیں،سیاسی قائدین عدم استحکام کو کم کرنے پر غور کریں، مشرق وسطیٰ میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے، غزہ سے لبنان تک جو کچھ ہو رہاہے اس کے اثرات صرف عرب ممالک ہی نہیں ،پوری دنیا پر بھی مرتب ہو رہے ہیں، امریکہ کی خارجہ پالیسی کا محور اس وقت چین ہے، چین کو ایشیاء پر غلبہ پانے سے روکنا ہے ، دنیا میں بدلتی صورت حال کے پیش نظر پاکستان کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، سڑکوں ،گلیوں پر ناچتی گاتی عوام کو شعور دینے کی ضرورت ہے، اُن سیاستدانوں کو بھی شعور دینے کی ضرورت ہے جو سڑکوں گلیوں پر ناچتی گاتی عوام کی قیادت کررہے ہیں، دنیا کے بدلتے حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پُرامن ماحول میں ملک میں جاری عدم استحکام اور انتشار پر قابو پایا جائے، ملک کے اہم ترین اداروں کے درمیان ٹکرائو کا کون ذمہ دار ہے؟ اس طرح کے بڑے اداروں کے ٹکرائو سے دنیا میں وطن عزیز کا وقار مجروح ہورہا ہے جبکہ بحیثیت قوم بھی ہمارا وقار مجروح ہو رہاہے،سیاسی جماعتوں کے قائدین کو مل کر ملک سے انتشار کی سیاست اور انتشاری سرگرمیوں کے خاتمے کے لئے کردار ادا کرنا ہو گا، کیا یہ ملک و قوم کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے کہ کبھی ہم حالت جنگ میں ہوتے ہیں لیکن نازک موڑ تو کبھی حالت انتشار آخر قومی سیاسی رہنمائوں، مذہبی جماعتوں کی بھی کوئی ذمہ داری ہے یا صرف اقتدار، اختیارات ،طاقت اور جا ہ و جلال ہی ضرورت؟ ملک میں موجودہ انتشار میں اگر عوام کے لئے اندھیرے راستوں میں کوئی روشنی کی کرن نظر آتی ہے تووہ پنجاب میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شکل میں نظر آرہی ہے، پنجاب میرٹ ، وقت کی پابندی،پنجاب میں عوام کے لئے سفری سہولتوں کے لئے نئی بسیں سینیٹر پرویز رشید کے مطابق صوبہ بھر میں 10 ہزار نئی بسیں عوام کو دی جائیں گی،بلاشبہ میاں محمدنواز شریف نے عوام کی سفری مشکلات کو حل کرنے کے لئے موٹرز وے جیسے منصوبے دئیے تھے اور اب مریم نواز نے نئی بسیں فراہم کرکے عوام کے لئے آسانیاں پیدا کردی ہیں جو قابل ستائش ہے۔

  • نیپال میں طوفانی بارشوں سے تباہ کن سیلابی صورت حال

    نیپال میں طوفانی بارشوں سے تباہ کن سیلابی صورت حال

    نیپال میں طوفانی بارشوں کے نتیجے میں سیلابی صورت حال پیدا ہوگئی ہے، جس میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں، جبکہ سیکڑوں افراد لاپتا ہیں۔ دارالحکومت کاٹھمنڈو کے قریب مٹی کے تودے گرنے سے بسوں اور مکانوں میں دب کر ہلاک ہونے والوں کو نکالا جارہا ہے، جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
    دیہی علاقوں میں بیشتر سڑکیں بند ہو چکی ہیں اور پروازیں بھی معطل کردی گئی ہیں، جس کے باعث امدادی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ بارشوں اور سیلاب نے مختلف علاقوں میں سڑکوں اور املاک کو نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے نکل کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
    پچھلے تین دن کی موسلا دھار بارشوں کے بعد آج (اتوار کو) موسم میں قدرے بہتری آئی ہے، مگر مٹی کے تودے گرنے کی وجہ سے تین اہم شاہراہیں بند ہونے کے باعث کاٹھمنڈو تک پہنچنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ شہر کے لوگ بڑی حد تک محصور ہو چکے ہیں۔نیپالی پولیس اور امدادی اداروں کے مطابق، مٹی کے تودے گرنے سے ہونے والی ہلاکتوں کے علاوہ سیلاب کے باعث 100 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں، اور 60 سے زائد لوگ اب بھی لاپتا ہیں۔ حکام متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، جبکہ متاثرہ خاندانوں کے لئے امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

  • لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے شہید سربراہ حسن نصر اللہ کا جسد خاکی مل گیا

    لبنان کی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے شہید سربراہ حسن نصر اللہ کا جسد خاکی مل گیا

    لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی موت نے نہ صرف لبنان بلکہ پورے خطے میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ حسن نصر اللہ کا جسد خاکی جمعہ کی شب بیروت میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد برآمد کیا گیا، جہاں ان کی موت کی وجہ سے متعلق کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔خبر ایجنسی کے مطابق، حسن نصر اللہ کے جسم پر بڑے زخم کا کوئی نشان نہیں تھا، جس سے یہ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ان کی موت دھماکے کی شدت کی وجہ سے ہوئی۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ان کی شہادت دھماکے کے دباؤ کے باعث سر پر چوٹ لگنے سے ہوئی، جس نے ان کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔حزب اللہ نے ایک بیان جاری کر کے حسن نصر اللہ کی شہادت کی تصدیق کی، تاہم جنازے کے وقت اور اس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ اس واقعے نے کئی لوگوں میں تشویش پیدا کر دی ہے اور یہ سوالات جنم دیئے ہیں کہ آیا یہ واقعہ کسی بڑی جنگ کی شروعات کا پیش خیمہ ہے یا نہیں۔

    حسن نصر اللہ: ایک نظریاتی رہنما
    حسن نصر اللہ کا تعلق مشرقی بیروت کے علاقے بورجی حمود سے تھا، جہاں ان کی پیدائش 1960 میں ہوئی۔ انہوں نے 1992 میں حزب اللہ کی قیادت سنبھالی، جب ان کے پیشرو عباس الموسوی کو اسرائیلی گن شپ ہیلی کاپٹر سے قتل کیا گیا۔ 32 سال کی عمر میں حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل منتخب ہونے کے بعد، نصر اللہ نے مزاحمت کی ایک نئی راہ دکھائی۔نصر اللہ نے عراق کے شہر نجف میں 3 سال تک سیاست اور قرآن کی تعلیم حاصل کی، جہاں ان کی ملاقات لبنانی امل ملیشیا کے رہنما سید عباس موسوی سے ہوئی۔ 1978 میں حسن نصر اللہ کو عراق سے بے دخل کیا گیا، جس کے بعد انہوں نے لبنان کے خانہ جنگی کے دوران امل تحریک میں شمولیت اختیار کی اور وادی بقاع میں اس کے سیاسی نمائندے کے طور پر کام کیا۔

    مزاحمت کی تاریخ
    حسن نصر اللہ کی قیادت میں حزب اللہ نے اسرائیلی افواج کے خلاف چھوٹے پیمانے پر جنگ کی پالیسی اپنائی، جس کا نتیجہ 2000 میں 22 سال بعد جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا کی صورت میں نکلا۔ انہوں نے 2004 میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں بھی اہم کردار ادا کیا، جسے عرب دنیا میں حزب اللہ کی فتح سمجھا گیا۔نصر اللہ نے 2005 میں لبنان کے وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد ملک کے مختلف سیاسی دھڑوں کے درمیان ثالث کا کردار بھی نبھایا۔ ان کا یہ اصرار رہا کہ اسرائیل ایک حقیقی خطرہ ہے، اور انہوں نے حماس کے 7 اکتوبر کے حملے کے بعد، حزب اللہ کے جوانوں کو اسرائیلی فوج کے خلاف لڑنے کے لئے متحرک کیا۔
    حسن نصر اللہ کی موت نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ حزب اللہ کے رہنما کی حیثیت سے ان کی قیادت میں حزب اللہ نے اسرائیل کی ایک اہم مخالف تنظیم کے طور پر ابھرتے ہوئے کئی جنگوں میں حصہ لیا۔ اب جبکہ حسن نصر اللہ اس دنیا میں نہیں رہے، یہ دیکھنا باقی ہے کہ حزب اللہ کا مستقبل کیا ہوگا اور آیا یہ تنظیم اپنے مشن کو جاری رکھ پائے گی یا نہیں۔اس واقعے کے بعد، یہ واضح ہے کہ خطے میں کشیدگی بڑھنے کے امکانات موجود ہیں، اور اس کے اثرات نہ صرف لبنان بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ حزب اللہ کے رہنما کی شہادت نے ایک نئی جنگ کی شروعات کا اشارہ بھی دے دیا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں سامنے آئیں گے۔

  • پاکستانی فیملیز لبنان میں پھنس گئیں: حکومت سے خصوصی طیارے کی اپیل

    پاکستانی فیملیز لبنان میں پھنس گئیں: حکومت سے خصوصی طیارے کی اپیل

    لبنان میں جاری کشیدگی کے باعث فلائٹس آپریشن بند ہونے سے کئی پاکستانی فیملیز بیروت میں محصور ہوگئیں ہیں۔ پاکستانی محصورین نےنجی ٹی سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ وہ فوری طور پر وطن واپس لوٹنے کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن موجودہ حالات نے ان کے لیے لبنان چھوڑنا ناممکن بنا دیا ہے۔محصور پاکستانی فیملیز نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ انہیں خصوصی طیارے کے ذریعے لبنان سے محفوظ انخلا کی سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ شام کا زمینی راستہ غیر محفوظ ہونے کی وجہ سے لبنان سے نکلنے کا کوئی راستہ موجود نہیں ہے، جس کی وجہ سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
    ایک متاثرہ پاکستانی نے کہا، "ہم نے ایک ماہ سے سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے اور انہیں بتایا ہے کہ ہوم ورک مکمل رکھا جائے تاکہ ہمیں جلد وطن واپس بھیجا جا سکے۔ لیکن اب تک کوئی واضح جواب نہیں آیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس محدود وسائل ہیں اور اس کشیدہ صورتحال میں پھنسنے سے ان کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو رہا ہے۔دوسری جانب، وزارت خارجہ نے اس معاملے پر فوری توجہ دینے کا وعدہ کیا ہے، اور کہا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت نے محصورین کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔یہ صورتحال پاکستانی فیملیز کے لیے ایک مشکل وقت ہے، جو نہ صرف اپنی زندگیوں کی حفاظت کے لیے فکر مند ہیں بلکہ اپنے وطن کی طرف واپس جانے کی امید بھی رکھتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ ان پاکستانیوں کی مشکلات کا ازالہ کیا جا سکے۔

  • وزیراعظم کی مولانا فضل الرحمان کو جے یو آئی (ف) کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد

    وزیراعظم کی مولانا فضل الرحمان کو جے یو آئی (ف) کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو جمیعت علماء اسلام (ف) کا پانچ سال کے لئے بلا مقابلہ اور متفقہ صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ "مولانا فضل الرحمان کی سربراہی میں جے یو آئی (ف) ہمیشہ عوام کی بہترین نمائندگی کرتی آئی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا انتخاب جمہوری اقدار کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کی جے یو آئی (ف) کے صدر کی حیثیت سے منتخب ہونے کو ملک میں پارلیمان کی بالادستی کے قیام میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ "ہمیں امید ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام (ف) ملک میں جمہوریت کی بالادستی اور فروغ کے لیے بہترین کام کرے گی،” انہوں نے کہا۔وزیراعظم نے مولانا غفور حیدری کو بھی جمیعت علماء اسلام (ف) کے جنرل سیکرٹری منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ ان کا کہنا تھا کہ "مولانا فضل الرحمان کی قیادت اور وژن بلاشبہ جمعیت علمائے اسلام کو مزید بلندیوں کی طرف لے جائے گی۔یہ انتخاب ملک کی سیاسی صورتحال میں ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور اس کے اثرات آئندہ سیاسی فیصلوں پر مرتب ہونے کی توقع ہے۔