پاکستان باکسنگ فیڈریشن نے حالیہ دنوں میں عائد کی گئی پابندی کو یکسر مسترد کر دیا ہے، جس کی وجہ ایک باکسر کی سرکاری پاسپورٹ پر بیرون ملک روپوشی ہے۔ فیڈریشن نے اس انکوائری رپورٹ کو مکمل جانبدار قرار دیتے ہوئے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ یہ فیصلہ پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے صدر محمد خالد محمود کی صدارت میں منعقدہ فیڈریشن جنرل کونسل اور ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔ اس اجلاس میں چند اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں فیڈریشن کی آئینی ترامیم، مالی سال 2023-2024 کی آڈٹ رپورٹ کی منظوری، اور بیگم عشرت اشرف کے چیئرپرسن کے طور پر انتخاب کی توثیق شامل تھی۔اجلاس میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ پاکستان سپورٹس بورڈ کے روئیے پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا، خاص طور پر ایک باکسر کے سرکاری پاسپورٹ کے ذریعے اٹلی میں روپوش ہونے کے واقعہ کے حوالے سے۔ یہ باکسر اولمپک کوالیفائرز کے لیے اٹلی کا سفر کر رہا تھا اور اس کے پاس اپنے محکمے کا این او سی موجود تھا۔ اس واقعے کے پس منظر میں تیار کردہ رپورٹ کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا گیا، جسے بے بنیاد قرار دیا گیا۔
اس موقع پر، فیڈریشن کے صدر نے ممبران کو باکسنگ کے کھیل کو اولمپک کھیل کے طور پر محفوظ بنانے میں پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے جاری پیش رفت اور کردار کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔ اجلاس میں مزید اعلان کیا گیا کہ عائشہ ممتاز کو ایشین جونیئر (بوائز اینڈ گرلز) اور سکول (بوائز اینڈ گرلز) باکسنگ چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیتنے پر کیش انعام دیا جائے گا۔پاکستان باکسنگ فیڈریشن کی جانب سے یہ اقدامات اور فیصلے نہ صرف باکسنگ کے کھیل کو فروغ دینے کے لیے ہیں بلکہ فیڈریشن کی شفافیت اور شمولیت کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ بیگم عشرت اشرف کے چیئرپرسن بننے کی توثیق نے ایک نئی دور کی شروعات کا اشارہ دیا ہے، جس میں باکسنگ کے کھیل میں بہتری اور ترقی کی امیدیں وابستہ ہیں۔
Author: صدف ابرار
-

پاکستان باکسنگ فیڈریشن نے پابندی کو مسترد کرتے ہوئے بیگم عشرت اشرف کو چیئرپرسن مقرر کیا
-

عمران خان کی احتجاج کی کال: سیاسی جبر کے خلاف عوامی جدوجہد کا آغاز
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان نے حالیہ پیغام میں ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج کی ایک سلسلے کا اعلان کیا ہے۔ یہ مظاہرے 2 اکتوبر کو میانوالی، فیصل آباد اور بہاولپور میں ہوں گے، جبکہ 5 اکتوبر کو لاہور میں مینارِ پاکستان پر ایک بڑا جلسہ منعقد کیا جائے گا۔ مزید برآں، 4 اکتوبر کو جمعہ کے روز اسلام آباد کے ڈی چوک میں بھی ایک احتجاج کا انعقاد ہوگا۔عمران خان نے موجودہ حکومت پر "لندن پلان” کے تحت پی ٹی آئی اور اس کے حامیوں کو دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے اپنے پارٹی اراکین کے ساتھ ہونے والے سلوک پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "مجھے بھی جیل میں ڈالا گیا، اور ہم نے ہمیشہ پرامن احتجاج کیا۔ یہ قانون ہمیں تحفظ دینے سے قاصر ہے۔” انہوں نے جیل میں قید خواتین کی حالت زار کی طرف توجہ دلائی اور بتایا کہ بہت سی پی ٹی آئی کی خواتین کارکن جیل میں ہیں۔ انہوں نے ایک 80 سالہ خاتون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "کسی کو تکلیف نہیں ہوئی۔
سابق وزیراعظم نے علی امین گنڈاپور کی تعریف کی، جو عوام کو جمع کرنے اور اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور کہا کہ پی ٹی آئی کا پیغام عوام تک پہنچ رہا ہے۔ "گنڈاپور نے درست کہا؛ اب انقلاب کا وقت آگیا ہے،” خان نے کہا، اور یہ بھی کہا کہ ہم عدلیہ کا دفاع کریں گے اور آزادی کی جدوجہد جاری رکھیں گے۔عمران خان نے اپنی بیوی کی طویل قید پر افسوس کا اظہار کیا، جو کئی مہینوں سے جیل میں ہیں، اور الزام لگایا کہ حکام ان کے حوصلے کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ جیل سے نہ ڈریں، اور انہیں اپنے عزم میں مضبوط رہنے کی تلقین کی۔جب کہ صورتحال شدت اختیار کر رہی ہے، خان کی احتجاج کی کال یہ ظاہر کرتی ہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، جو یہ اشارہ کرتی ہے کہ پاکستان کا سیاسی منظر نامہ مزید متنازع ہو رہا ہے کیونکہ پارٹی ریاستی جبر کے خلاف عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ -

ایران: ہم جنگ نہیں چاہتے، مگر اسرائیل کے خلاف جواب دینے کے لیے تیار ہیں
ایران نے اسرائیل کے ’مجرمانہ اعمال‘ کے خلاف ردعمل دینے کا اعلان کیا ہے تاہم اس بات کو رد کر دیا ہے کہ وہ لبنان یا غزہ میں اسرائیل کے خلاف اپنی فورسز بھیجے گا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے تہران میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر مجبور کیا گیا تو وہ اس سے خوفزدہ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مزاحمتی محاذ اور لبنانی عوام جلد ہی صیہونی حکومت کے خاتمے اور القدس کی آزادی کا جشن منائیں گے۔ناصر کنعانی کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے جارحانہ کارروائیاں، جیسے بیروت کے نواحی علاقوں کو نشانہ بنانا اور امریکہ کی جانب سے سید حسن نصر اللہ کے قتل کے لیے عطیہ کردہ بموں کا استعمال، خطے میں عدم استحکام کا سبب بن رہی ہیں۔ ایران نے اس صورتحال کے پیش نظر فوری طور پر بین الاقوامی اور قانونی اقدامات اٹھائے ہیں اور اقوام متحدہ میں ایرانی سفیر نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے چیئرمین کو ایک خط بھی بھیجا ہے جس میں اسرائیل کے اقدامات کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایرانی ترجمان نے مزید کہا کہ ایران اسرائیل کے ’مجرمانہ اعمال‘ کا جواب ضرور دے گا لیکن لبنان یا غزہ میں اپنی فورسز بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق، علاقائی حکومتیں اور اقوام صیہونی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع خود کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور ایران کو کسی کی طرف سے فوج بھیجنے کی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ اسرائیل اپنی مسلسل شکستوں کی وجہ سے مزاحمتی گروہوں کا سامنا کرنے سے قاصر ہے اور حالیہ حملے بھی اسی بے بسی کا ثبوت ہیں۔ناصر کنعانی نے امریکہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امریکہ کو خطے میں اپنی ناکامیوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے امریکی بموں کا استعمال اور امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو دی جانے والی مدد خطے میں مزید بدامنی کو جنم دے گی اور امریکی اقدامات ایران کو اپنے دفاع کے لیے مزید اقدامات اٹھانے پر مجبور کر رہے ہیں۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے صیہونی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو اپنے جرائم سے کچھ حاصل نہیں ہوگا اور ان اقدامات کے ذریعے وہ اپنی ناقابل تلافی شکستوں کی تلافی نہیں کر سکے گا۔ ناصر کنعانی نے کہا کہ اسرائیل کی حکومت حالیہ برسوں میں مزاحمتی گروہوں کے خلاف جنگ میں متعدد شکستوں کا سامنا کر چکی ہے اور موجودہ صورتحال میں بھی وہ مزاحمتی محاذ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ جو کچھ لبنان میں ہوا ہے وہ اسرائیل کی فضائیہ کا امریکی بموں کے استعمال سے کیے گئے حملے ہیں، جنہیں امریکہ نے سید حسن نصر اللہ کے قتل کے لیے عطیہ کیا تھا۔ ایران نے ان مجرمانہ کارروائیوں کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے عالمی اداروں سے فوری ردعمل کا مطالبہ کیا ہے۔ناصر کنعانی نے کہا کہ ایران نہ تو جنگ چاہتا ہے اور نہ ہی اسے کسی جنگ سے خوفزدہ ہے، بلکہ وہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ایران کی جانب سے واضح پیغام دیا گیا ہے کہ خطے میں کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب ضرور دیا جائے گا لیکن ایران اپنی افواج لبنان یا غزہ میں نہیں بھیجے گا، کیونکہ خطے کی اقوام اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔ -

اسرائیل کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں،حزب اللہ کے عبوری سربراہ نعیم قاسم
بیروت: لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے عبوری سربراہ نعیم قاسم نے ایک غیر معلوم مقام سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف تنظیم کے مقاصد سے پیچھے نہ ہٹنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اسرائیل نے لبنان پر زمینی حملہ کیا تو حزب اللہ بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہے۔نعیم قاسم نے اپنے خطاب میں تنظیم کے سابق سربراہ حسن نصراللہ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنا بھائی کھو دیا ہے، وہ ایک ایسا رہنما تھا جو اپنے جنگجوؤں سے محبت کرتا تھا اور ان کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا تھا۔” انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ جلد اپنا نیا سربراہ منتخب کرے گی، لیکن تنظیم کے مقاصد میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ لبنان اور غزہ کی حمایت جاری رہے گی اور ہم اس مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
حزب اللہ کے عبوری سربراہ نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد بھی جاری رہیں گی اور ان میں مزید شدت آئے گی۔ "ہم اسرائیل کے اندر 150 کلومیٹر تک حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ہماری کارروائیاں بدستور جاری رہیں گی۔ اگر اسرائیل نے لبنان کے خلاف زمینی کارروائی کی تو ہم اس کا بھرپور جواب دیں گے۔نعیم قاسم نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کو 2006 کی جنگ میں بھی شکست ہوئی تھی اور آج بھی وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ "ہم نے 2006 میں اسرائیل کے خلاف فتح حاصل کی تھی اور اس بار بھی ہم کامیاب ہوں گے۔حزب اللہ کے عبوری سربراہ کے اس بیان کو لبنان میں جاری کشیدگی اور اسرائیل کی جانب سے بڑھتی ہوئی جارحیت کے تناظر میں اہم سمجھا جا رہا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے حالیہ دنوں میں لبنان کی سرحدوں پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے، جس کا حزب اللہ نے سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
تنظیم کے نئے سربراہ کے انتخاب کے حوالے سے نعیم قاسم نے کہا کہ "ہم جلد نیا قائد منتخب کریں گے، لیکن ہمارے اہداف اور مقاصد تبدیل نہیں ہوں گے۔ ہم لبنان اور فلسطین کی آزادی کے لیے جدوجہد کرتے رہیں گے۔نعیم قاسم کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال غیر معمولی طور پر حساس ہے اور لبنان میں داخلی و خارجی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف سخت موقف نے ایک بار پھر اس خطے میں کشیدگی کو ہوا دے دی ہے۔تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حزب اللہ کا یہ سخت ردعمل اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ تنظیم اپنے مزاحمتی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے اسرائیل کی کسی بھی کارروائی کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ حزب اللہ کی اس پوزیشن نے لبنان کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے اور اسرائیل کے ساتھ ایک اور ممکنہ تصادم کے خدشات کو ہوا دی ہے۔ -

ملک احمد بھچر کی فارم 47 کی جعلی حکومت پر تنقید، 5 تاریخ کو لاہور میں پاور شو کا اعلان
اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی اور تحریک انصاف کے رہنما ملک احمد خان بھچر نے فارم 47 کی جعلی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت تحریک انصاف کے پر امن جلسوں اور احتجاج میں مداخلت سے باز رہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ملک احمد بھچر نے واضح کیا کہ تحریک انصاف کا پرامن احتجاج کا سفر خیبر پختونخوا کے شہر صوابی سے شروع ہوا اور ان کا مقصد ملک میں جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی آواز بلند کرنا ہے۔ انہوں نے حکومت کی جانب سے جلسے کے این او سی نہ دینے اور پارٹی کارکنان کی گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا، "ہم نے راولپنڈی لیاقت باغ میں جلسے کے لیے این او سی مانگا، مگر انہوں نے نہیں دیا۔ ہمارے کارکنان کو گرفتار کر کے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ملک میں کوئی قانون نہیں بچا۔ آپ ملک کو کس سمت میں لے جا رہے ہیں؟”
ملک احمد بھچر نے سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی کے خلاف جھوٹے مقدمات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے آئینی عدالتیں بنانے کا منصوبہ بنایا ہے، جو جمہوری حکومتوں میں نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا، "آپ کے اس اقدام میں بدنیتی صاف ظاہر ہے، آپ عدلیہ کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ہماری آپ کے ساتھ جنگ جاری رہے گی۔تحریک انصاف کے رہنما نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ فارم 47 کی جعلی حکومت کے تحت غیر جمہوری اقدامات اٹھا رہی ہے اور تحریک انصاف کے پرامن جلسوں میں مداخلت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "ایک جماعت نے مینار پاکستان پر جلسہ کیا، جو ہمارے لیے قابل احترام ہے، لیکن پی ٹی آئی کے جلسے پر کیوں پابندی لگائی جا رہی ہے؟ ہم پرامن احتجاج کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے اور 5 تاریخ کو لاہور میں اپنا پاور شو کریں گے۔ملک احمد بھچر نے تحریک انصاف کے کارکنان کو یقین دلایا کہ ان کی جدوجہد جاری رہے گی اور وہ کسی صورت اپنے آئینی حقوق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ -

ملائیشیا کے وزیراعظم کا 2 سے 4 اکتوبر تک پاکستان کا سرکاری دورہ
اسلام آباد: ملائیشیا کے وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم 2 سے 4 اکتوبر تک پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیراعظم انور ابراہیم کے ہمراہ وزراء اور نائب وزراء پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ہوگا۔ اس دورے کے دوران ملائیشیا کے وزیراعظم کی وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے ملاقات ہوگی، جس میں دونوں ممالک تجارت، توانائی، زراعت، حلال صنعت، سیاحت، ثقافتی تبادلوں اور باہمی رابطوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔ دورے کے دوران پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے وسیع ایجنڈے پر بھی بات چیت ہوگی۔ دونوں رہنما علاقائی اور عالمی پیش رفت پر بھی غور کریں گے۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے حوالے سے ایک اہم موقع ثابت ہوگا۔ -

وفاقی حکومت کا پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے 8 ستمبر کو اسلام آباد کے علاقے سنجگانی میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک جلسے میں کی جانے والی تقاریر پر بغاوت کے مقدمات درج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی رہنماؤں کے بیانات کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے ایک حصے کے طور پر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق، حکومت نے یہ فیصلہ اس جلسے میں کی گئی تقاریر کی نوعیت اور مواد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا، جس میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے حکومت کی پالیسیوں اور اقدامات پر سخت تنقید کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق، یہ تقاریر وفاقی حکومت کی نظر میں ملک کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں، اور اسی بنیاد پر مقدمات درج کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
حکومت کی جانب سے وزارت قانون کے ذریعے بغاوت کے مقدمات کے لیے ضابطہ فوجداری کے سیشن 196 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ یہ آئینی شق ناقابل ضمانت ہے، اور اس کے تحت پولیس کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے وارنٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس کے نتیجے میں، اگر یہ مقدمات درج کیے جاتے ہیں، تو پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو فوری طور پر گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ذرائع کے مطابق، وزارت قانون اور وفاقی پراسیکیوٹر جنرل دونوں نے اس اقدام کی توثیق کردی ہے۔ اس کے بعد وفاقی کابینہ سے منظوری لی جائے گی، جو اس قانونی کارروائی کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم مرحلہ ہوگا۔ جیسے ہی یہ منظوری حاصل کی جائے گی، باقاعدہ طور پر پی ٹی آئی کی قیادت کے خلاف مقدمات دائر کیے جائیں گے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب پاکستان کی سیاسی صورتحال کشیدہ ہے، اور پی ٹی آئی کی قیادت ماضی میں حکومت کے خلاف سخت بیان بازی کرتی رہی ہے۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قانون کے تحت اٹھایا گیا ہے اور ملک کی سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔وفاقی حکومت کا یہ اقدام پی ٹی آئی کی قیادت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے، اور اس کے ممکنہ اثرات نہ صرف پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں بلکہ ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال پر عوام کی نگاہیں ہیں، اور آنے والے دنوں میں اس بارے میں مزید پیشرفت سامنے آسکتی ہے۔ -

پنجاب حکومت کا لیگی پارلیمانی سیکرٹریز کے لیے 61 کروڑ روپے کی لگژری گاڑیاں خریدنے کا فیصلہ
لاہور: حکومت پنجاب نے مسلم لیگ (ن) کے نامزد پارلیمانی سیکرٹریز کے لیے لگژری گاڑیاں خریدنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، 61 کروڑ 24 لاکھ روپے کی خطیر رقم سے 76 مہنگی گاڑیاں خریدی جائیں گی، جنہیں پارلیمانی سیکرٹریز اور مختلف سرکاری افسران کے استعمال میں دیا جائے گا۔ پارلیمانی سیکرٹریز کے لیے 22 کروڑ روپے کی لاگت سے 29 لگژری گاڑیاں خریدی جائیں گی۔ یہ گاڑیاں مخصوص طور پر ان سیکرٹریز کے پروٹوکول اور دیگر سرکاری استعمال کے لیے فراہم کی جائیں گی۔
اس کے علاوہ، پنجاب کے محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی (سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ) کے لیے 9 کروڑ 96 لاکھ روپے کی لاگت سے 15 گاڑیاں خریدی جائیں گی، جن میں اعلیٰ افسران اور محکمے کے پروٹوکول کے لیے مخصوص گاڑیاں شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق، ایس اینڈ جی اے ڈی کے پروٹوکول کے لیے خصوصی طور پر 3 کروڑ 61 لاکھ روپے کی دو لگژری گاڑیاں بھی خریدی جائیں گی۔ ان گاڑیوں کو محکمے کے افسران اور پروٹوکول کے اہم مواقع پر استعمال میں لایا جائے گا۔ صوبائی وزراء کے پروٹوکول کے لیے 20 کروڑ 90 لاکھ روپے کی مالیت سے 30 لگژری گاڑیاں خریدی جائیں گی۔ یہ گاڑیاں وزراء کے سرکاری و نجی پروٹوکول کے لیے استعمال کی جائیں گی، تاکہ ان کی سہولت اور نقل و حمل کو بہتر بنایا جا سکے۔
واضح رہے کہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب نے 76 لگژری گاڑیاں خریدنے کی درخواست کی تھی، جس پر عمل درآمد کا آغاز جلد متوقع ہے۔ اس فیصلے پر سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ حلقے اس فیصلے کو عوامی پیسے کا ضیاع قرار دے رہے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ دوسری جانب، حکومت اس فیصلے کو ضروری قرار دے رہی ہے تاکہ اہم عہدیداروں کو ان کی سرکاری ذمہ داریوں میں سہولت فراہم کی جا سکے۔ یہ فیصلہ موجودہ معاشی حالات میں عوام کے لیے ایک متنازع موضوع بن چکا ہے، اور حکومت کو اس حوالے سے ممکنہ عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ -

اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی اسرائیل کے حملوں کی شدید مذمت
اسلام آباد : اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اسرائیل کی جانب سے فلسطین، یمن اور لبنان پر جاری حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والی معصوم شہریوں کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا اور عالمی برادری، بالخصوص اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اسرائیلی جارحیت کا نوٹس لے اور ان مظالم کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے۔سردار ایاز صادق کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کے دل فلسطین اور لبنان کے عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور وہ اس مشکل وقت میں ان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے نہتے اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے اور عالمی برادری کو ان مظالم پر خاموش تماشائی بنے رہنے کے بجائے فوری کارروائی کرنی چاہیے۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ فلسطین اور لبنان میں جاری صورتحال پر ہر باشعور انسان کا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ان کے مطابق، اسرائیل کی ظالمانہ کارروائیاں بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے عالمی امن پسند قوتوں پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے یکجا ہوں اور اسرائیل کو مزید مظالم سے روکا جائے۔سردار ایاز صادق نے مزید کہا کہ پاکستان ہمیشہ فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتا آیا ہے اور کرتا رہے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ہر فورم پر فلسطین اور لبنان کے مظلوم عوام کی آواز بنیں گے۔اسپیکر کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اسرائیل کی جانب سے فلسطین اور لبنان پر حملوں کی لہر پر سخت تنقید کی جا رہی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ان حملوں کو نسل کشی قرار دے رہی ہیں۔ -

اوگرا نے اکتوبر کے لیے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا
اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اکتوبر 2024 کے لیے مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق ایل پی جی کی قیمت میں مزید 7 روپے 31 پیسے فی کلو کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ایل پی جی کی نئی قیمت 251 روپے 30 پیسے فی کلو مقرر کر دی گئی ہے۔اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق، 11.8 کلو گرام کے گھریلو سلینڈر کی قیمت میں 86 روپے 28 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد گھریلو سلینڈر کی نئی قیمت 2965 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل ستمبر 2024 میں یہی سلینڈر 2879 روپے میں فروخت کیا جا رہا تھا۔ ستمبر 2024 میں اوگرا نے گھریلو سلینڈر کی قیمت 2879 روپے مقرر کی تھی، تاہم اکتوبر میں قیمتوں میں اضافے کے بعد اس کی قیمت 2965 روپے ہو گئی ہے۔ ایل پی جی کی فی کلو قیمت میں 7 روپے 31 پیسے کا اضافہ صارفین پر مزید مالی بوجھ ڈالے گا۔
مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں اضافے سے گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ کمرشل صارفین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ اضافہ پاکستان میں پہلے سے ہی موجود مہنگائی کے بوجھ کو بڑھا سکتا ہے، جس سے عام افراد کی زندگیوں پر مزید اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔ ایل پی جی کا استعمال زیادہ تر گھریلو اور دیہی علاقوں میں کیا جاتا ہے، جہاں دیگر ایندھن کے ذرائع دستیاب نہیں ہوتے۔ قیمتوں میں مسلسل اضافے سے وہاں کے رہائشی افراد کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکومت کی جانب سے اوگرا کے اس فیصلے پر عوامی حلقوں میں ملا جلا ردعمل دیکھا جا رہا ہے۔ مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، حکومت کو ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے پر مجبور کر رہا ہے۔
قیمتوں میں اضافے کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ آئندہ ماہوں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں مزید تبدیلی آتی ہے یا نہیں۔ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں مستحکم ہوتی ہیں تو حکومت کو دوبارہ قیمتوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔