اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے پارٹی انتخابات میں مولانا فضل الرحمان کو اگلے پانچ سال کے لیے بلا مقابلہ پارٹی کا امیر منتخب کر لیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے دوبارہ انتخاب کا عمل کسی اور امیدوار کے نہ ہونے کے باعث بلا مقابلہ مکمل ہوا۔ اسی طرح، مولانا عبدالغفور حیدری کو بھی اگلے پانچ سال کے لیے بلا مقابلہ سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا ہے۔جے یو آئی کے اندرونی انتخابات میں مولانا فضل الرحمان اور مولانا عبدالغفور حیدری کے بلا مقابلہ منتخب ہونے سے پارٹی کی اعلیٰ قیادت میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ دونوں رہنماؤں کو کوئی مخالف امیدوار سامنے نہ آنے کے باعث بلامقابلہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ پارٹی انتخابات کا یہ عمل جے یو آئی کے مستقل رہنماؤں کی مقبولیت اور ان کے اندرونی حمایت کا عکاس ہے۔
چند روز قبل ہی مولانا فضل الرحمان کے بھائی، مولانا عطا الرحمان کو خیبرپختونخوا میں جے یو آئی کا صوبائی امیر منتخب کیا گیا تھا۔ انہیں بھی پانچ سال کے لیے بلا مقابلہ صوبائی امیر مقرر کیا گیا، جس سے جے یو آئی کے اندرونی سیاسی ڈھانچے میں خاندان رحمان کی مضبوط موجودگی کا عندیہ ملتا ہے۔یاد رہے کہ کچھ دن قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جے یو آئی کو ہدایت دی تھی کہ وہ اپنے اندرونی پارٹی انتخابات کروا کر اس کی تفصیلات کمیشن کو فراہم کرے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ ہدایت ملک کی سیاسی جماعتوں کے اندرونی انتخابات کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے دی گئی تھی، جس کے جواب میں جے یو آئی نے بروقت پارٹی انتخابات کا انعقاد کیا۔
مولانا فضل الرحمان ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں اور ملک کی سیاسی منظرنامے میں خاصا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت میں جے یو آئی نے مذہبی اور سیاسی معاملات میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ مولانا عبدالغفور حیدری بھی ایک قابلِ احترام سیاسی رہنما ہیں اور جے یو آئی کی سیاست میں ان کا اہم کردار رہا ہے۔مولانا فضل الرحمان کا بلا مقابلہ انتخاب جے یو آئی کی داخلی سیاست میں استحکام کا اشارہ دیتا ہے، اور پارٹی کے مستقبل کی قیادت کے حوالے سے ایک واضح پیغام فراہم کرتا ہے۔
Author: صدف ابرار
-

مولانا فضل الرحمان بلا مقابلہ جے یو آئی کے امیر منتخب، مولانا عبدالغفور حیدری سیکرٹری جنرل
-

ایف بی آر سسٹم پر بوجھ، ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کا امکان
اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے دوران سسٹم پر شدید بوجھ کی وجہ سے ٹیکس دہندگان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کے باعث ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اتوار کو ایف بی آر میں ٹیکس گوشوارے جمع کرنے کے دوران سسٹم پر غیر معمولی بوجھ بڑھ گیا ہے، جس کی وجہ سے گوشوارے جمع کرانے کا عمل سست روی کا شکار ہو چکا ہے۔ یہ صورت حال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب ٹیکس دہندگان کو مقررہ تاریخ 30 ستمبر سے قبل اپنے گوشوارے جمع کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکس دہندگان کی ایک بڑی تعداد سسٹم پر بیک وقت گوشوارے جمع کرانے کی کوشش کر رہی ہے، جس کی وجہ سے ایف بی آر کا سسٹم غیر معمولی بوجھ کا شکار ہو گیا ہے اور کارکردگی متاثر ہو رہی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر ایف بی آر کے مختلف دفاتر میں ٹیکس دہندگان کی جانب سے شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ سسٹم کی سست روی کے باعث انہیں گوشوارے بروقت جمع کرانے میں دشواری کا سامنا ہے۔
موجودہ صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے ۔ ذرائع کے مطابق، وزیر اعظم کے وطن واپسی پر اس سفارش پر غور کیا جائے گا اور ممکنہ طور پر ٹیکس دہندگان کو مزید وقت دینے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ اپنی قانونی ذمہ داری کو بغیر کسی دباؤ کے پورا کر سکیں۔ایف بی آر نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ آخری تاریخ میں توسیع کا مقصد ٹیکس دہندگان کو اضافی وقت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے گوشوارے جمع کروا سکیں، خصوصاً ایسے افراد جو تکنیکی وجوہات کی بنا پر ابھی تک اپنا گوشوارہ جمع نہیں کرا سکے۔ٹیکس دہندگان کو مزید سہولت فراہم کرنے کے لیے ایف بی آر نے ملک بھر میں اپنے فیلڈ دفاتر کے اوقات کار میں اضافہ کر دیا ہے۔ جاری اعلامیے کے مطابق، اب ایف بی آر کے دفاتر رات 10 بجے تک کھلے رہیں گے جبکہ 30 ستمبر کو یہ دفاتر رات 12 بجے تک کھلے رہیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس دہندگان اپنے گوشوارے جمع کرا سکیں۔
ایف بی آر نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ وقت کی پابندی کرتے ہوئے اپنے ٹیکس گوشوارے جلد از جلد جمع کرائیں تاکہ آخری دن کے ہجوم اور سسٹم پر غیر ضروری بوجھ سے بچا جا سکے۔ ایف بی آر کے دفاتر میں ٹیکس دہندگان کی سہولت کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے ہیں تاکہ وہ بغیر کسی تاخیر کے اپنا گوشوارہ جمع کرا سکیں۔ایف بی آر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں مالی سال میں 28 ستمبر تک تقریباً 29 لاکھ ٹیکس گوشوارے جمع ہو چکے ہیں، جب کہ گزشتہ سال اسی تاریخ تک 14 لاکھ گوشوارے جمع ہوئے تھے۔ اس نمایاں فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکس دہندگان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور ایف بی آر کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کے باعث ٹیکس ادائیگی کا رجحان بہتر ہوا ہے۔ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کو ہدایت کی ہے کہ وہ جلد از جلد اپنے گوشوارے جمع کرانے کے لیے اقدامات کریں اور سسٹم میں پیدا ہونے والی عارضی مشکلات سے نمٹنے کے لیے ایف بی آر کے فیلڈ دفاتر سے رجوع کریں۔ اس کے علاوہ، ایف بی آر نے آن لائن سہولت بھی فراہم کی ہے تاکہ لوگ گھر بیٹھے اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کر سکیں اور کسی بھی پریشانی سے بچ سکیں۔تاریخ میں ممکنہ توسیع کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ موجودہ حالات میں بہت سے لوگ آخری وقت میں اپنے گوشوارے جمع کراتے ہیں، جس کی وجہ سے سسٹم پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے۔ ٹیکس دہندگان کی جانب سے مسلسل شکایات کے پیش نظر ایف بی آر کو مجبوری کے طور پر اس فیصلے پر غور کرنا پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ، سسٹم کی بہتر کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے تکنیکی ٹیموں کو بھی متحرک کیا گیا ہے تاکہ کسی قسم کی تکنیکی خرابی کا بروقت ازالہ کیا جا سکے۔
۔
-

فاٹا انضمام امریکی دباؤ پر کیا گیا، باجوہ نے کہا تھا امریکہ کا دباؤ ہے: مولانا فضل الرحمان
پشاور: جمیعت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے فاٹا انضمام کو امریکی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ مفتی محمود مرکز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ نے خود کہا تھا کہ فاٹا انضمام امریکہ کے دباؤ پر کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ فاٹا کے عوام کو اب تک 800 ارب روپے ملنے چاہئے تھے، لیکن انہیں ان کا حق نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا کے عوام اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہیں اور صوبے میں ریاست کی رٹ ختم ہوچکی ہے۔انہوں نے موجودہ پارلیمان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ پارلیمان اتنی بڑی آئینی ترمیم کرنے کی اہل نہیں ہے اور جعلی پارلیمان سے ایسی ترمیم کرانا ناانصافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کارکن اب ناانصافی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، اور جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے ایسی ترمیم لانے کی ضرورت ہے جو عوامی مینڈیٹ کے مطابق ہو۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت ہونی چاہئے، جلسے سے روکنا غیر جمہوری عمل ہے۔
-

موسیٰ خیل میں اغوا کیے گئے 20 مزدور بازیاب
بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں اغوا کیے گئے 20 مزدوروں کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ آج صبح پیش آیا جب مسلح افراد نے گیس کمپنی کے ایک کیمپ پر حملہ کیا اور مزدوروں کو اغوا کر لیا۔ اغوا کے بعد مسلح افراد نے کیمپ پر فائرنگ کی اور 8 بلڈوزر کو نذرِ آتش کر دیا۔پولیس نے بتایا کہ مغویوں کو بحفاظت چھوڑ دیا گیا ہے اور اس واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ واقعے کی وجہ اور ملزمان کے مقاصد کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ تاہم، پولیس کا کہنا ہے کہ وہ حملہ آوروں کا سراغ لگانے کے لیے کارروائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔بلوچستان کا ضلع موسیٰ خیل ماضی میں بھی ایسے پرتشدد واقعات کا شکار رہا ہے۔ یہ علاقہ لورالائی اور رکھنی بارکھان کے درمیان واقع ہے اور یہاں اکثر شدت پسند گروہوں کی سرگرمیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
اس واقعے سے ایک دن قبل کوئٹہ کے پنجگور علاقے خدا آبادان میں مسلح افراد نے ایک گھر پر حملہ کیا تھا، جس میں 7 مزدور جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا تھا۔ تمام جاں بحق افراد مزدوری کے لیے آئے ہوئے تھے اور آپس میں قریبی رشتہ دار تھے۔ اس واقعے نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ بھی یاد رہے کہ اگست 2024 میں موسیٰ خیل کے علاقے راڑہ شم میں ایک اور وحشیانہ واقعہ پیش آیا تھا، جہاں مسلح افراد نے 23 مسافروں کو ٹرکوں اور بسوں سے اتار کر قتل کر دیا تھا۔ ایس ایس پی موسیٰ خیل ایوب اچکزئی کے مطابق تمام افراد کو بے دردی سے فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔بلوچستان میں مسلسل بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات نے صوبے میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود شدت پسندوں کی کارروائیاں جاری ہیں، جس سے نہ صرف عام شہریوں بلکہ مزدور طبقے کی زندگیوں کو بھی سنگین خطرات لاحق ہیں۔ -
مسلم لیگ ن کے رہنما عرفان صدیقی کا اکتوبر میں آئینی ترامیم کا دعویٰ
اسلام آباد: مسلم لیگ ن کے سینیٹر عرفان صدیقی نے اکتوبر میں آئینی ترامیم دوبارہ لانے کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔عرفان صدیقی نے پی ٹی آئی کے احتجاجوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مظاہرے کبھی بھی پرامن نہیں ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "جمہوری احتجاج کرنے والوں کے سامنے رکاوٹیں نہیں آتیں، لیکن پی ٹی آئی کا ٹریک ریکارڈ دیکھیں۔” انہوں نے 25 مئی 2022 کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دن ڈی چوک میں پی ٹی آئی کے کارکنوں نے کئی درخت جلا دیے، اور اس وقت کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لوگ اپنے لیڈروں کے قتل اور جلاوطنی کا سامنا کر چکے ہیں، لیکن ایسے مظاہرے کبھی بھی 9 مئی جیسا نہیں ہوئے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے احتجاجوں میں "پرلے درجے کی بد اخلاقی” ہوتی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں لاہور میں پی ٹی آئی کے جلسے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کوئی رکاوٹ نہیں تھی، اور انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون کے مطابق چلنا ضروری ہے۔ صدیقی نے برطانیہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں تین افراد بغیر اجازت کے جلسہ کرنے نکلیں تو انہیں پانچ سال کی قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔آئینی ترامیم کے حوالے سے انہوں نے مزید کہا کہ "ہم اکتوبر کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں آئینی ترامیم دوبارہ لائیں گے” اور نواز شریف بھی اکتوبر کے آغاز میں امریکہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ -

پنجگور: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ، 7 مزدور جاں بحق
بلوچستان کے علاقے پنجگور میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے 7 مزدور جاں بحق ہوگئے۔ یہ افسوسناک واقعہ خدا آبادان میں پیش آیا، جہاں ملزمان نے اندھادھند فائرنگ کرکے مزدوروں کو نشانہ بنایا۔پولیس ذرائع کے مطابق جاں بحق مزدوروں کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی لاشوں کو تحویل میں لے کر مقامی ہسپتال منتقل کردیا، جہاں ان کی شناخت کی جارہی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مزدوروں کے قتل کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس نے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پیدا کردیا ہے۔ حکام کی جانب سے اس واقعے کی تحقیقات میں جلد کارروائی کا وعدہ کیا گیا ہے تاکہ ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
-

ہیلی کاپٹر حادثہ: سول ایوی ایشن اتھارٹی کی تفصیلات جاری
اسلام آباد: سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے شمالی وزیرستان میں ماری گیس کمپنی کے ہیلی کاپٹر کے حادثے کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق، ہیلی کاپٹر نے آج (ہفتہ) صبح 11:15 بجے اسلام آباد سے شوا وزیرستان کی جانب پرواز کی۔ اس کے بعد، ہیلی کاپٹر نے ایک بجکر 15 منٹ پر نئے مسافروں کے ساتھ شیوا سے بنوں کے لیے اڑان بھری۔واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے سی اے اے نے کہا کہ ہیلی کاپٹر نے ہنگامی لینڈنگ کی کوشش کی، جس دوران اس کا ٹیل روٹر زمین سے ٹکرا گیا اور وہ الٹ گیا۔ ہیلی کاپٹر میں 6 عملے کے افراد، ایک سیفٹی افسر اور 14 مسافر سوار تھے۔
حادثے کے بعد، پاک آرمی کی مدد سے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن پشاور سے شروع کیا گیا۔ ماری گیس کمپنی نے یہ روسی ساختہ ہیلی کاپٹر تیل اور گیس کی تلاش کے لیے دور دراز علاقوں تک رسائی کے لیے استعمال کیا تھا، جسے کمپنی نے ذاتی طور پر روسی کمپنی (پی اے این ایچ) سے ویٹ لیز پر لیا تھا۔سی اے اے کے مطابق، اس ہیلی کاپٹر کے لیے قانونی تقاضوں کے مطابق 6 ماہ کا نو آبادی (این او سی) جاری کیا گیا تھا، جو 28 ستمبر 2024 کو ختم ہو رہا تھا۔ ویٹ لیز کے تحت ہیلی کاپٹر کی دیکھ بھال اور عملے کی تربیت روسی کمپنی (پی اے این ایچ) کی ذمہ داری تھی۔ بیورو آف سیفٹی انویسٹیگیشن (بی اے ایس آئی) اس حادثے کی مزید تحقیقات کرے گا۔ -

تحریک انصاف کا واحد مطالبہ: ملک میں آزاد عدلیہ کا قیام ہے ،شیخ وقاص اکرم
تحریک انصاف کے رہنما شیخ وقاص اکرم نے اعلان کیا ہے کہ 2 اکتوبر کو پنجاب اور ملتان میں احتجاج کیا جائے گا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج اسلام آباد میں ہونے والے احتجاج کے دوران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور رکاوٹوں کی وجہ سے واپس نہیں گئے۔ شیخ وقاص اکرم کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈا پور نے اس سے پہلے بھی تمام رکاوٹوں کو عبور کرکے پنجاب میں احتجاج میں شرکت کی تھی اور آج بھی انہیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کا جرم صرف پرامن طریقے سے عدلیہ کے حق میں آواز بلند کرنا ہے۔ آج کا احتجاج عدلیہ کی آزادی کے لیے منعقد کیا گیا تھا، اور علی امین گنڈا پور کو روکنے کے لیے ربڑ کی گولیاں تک چلائی گئیں۔
تحریک انصاف کے رہنما نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو رہا کرانے کے لیے عوامی دباؤ بڑھا کر جھوٹے مقدمات ختم کرائیں گے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ علی امین گنڈا پور نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ وہ جیل توڑ کر عمران خان کو رہا کریں گے، جبکہ عمران خان نے پالیسی واضح کر دی ہے کہ کسی سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔شیخ وقاص اکرم نے انکشاف کیا کہ گزشتہ رات سے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف پولیس کا آپریشن جاری ہے، لیکن ان تمام حالات کے باوجود تحریک انصاف کا مطالبہ صرف ایک ہے ملک میں آزاد عدلیہ کا قیام۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے یقین دلایا ہے کہ ان کا کندھا عدلیہ کے خلاف استعمال نہیں ہوگا۔ شیخ وقاص نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے آئینی ترمیم کا مسودہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بھی شیئر نہیں کیا۔ -

ہندوستانی جمہوریت کی پسپائی: بین الاقوامی میڈیا نے مودی کو آئینہ دکھا دیا
امریکی میگزین "فارن پالیسی” نے اپنے حالیہ شمارے میں ہندوستانی جمہوریت کی حالت کو بے نقاب کیا ہے، جس کے مطابق نریندر مودی کے دوسرے دور اقتدار کے آغاز کے بعد سے بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ہندوستان کی جمہوری درجہ بندی میں نمایاں کمی دیکھنے کو ملی ہے۔ مختلف بین الاقوامی اداروں جیسے کہ فریڈم ہاؤس، وی ڈیم انسٹی ٹیوٹ، اور اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ نے ہندوستان کی جمہوری حیثیت کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ ادارے ہندوستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضافے، اقلیتوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے دباؤ، اور حکومتی کنٹرول کی سیاست کی نشاندہی کر رہے ہیں۔"فارن پالیسی” کے مطابق، مودی کی حکومت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو تیز کر دیا ہے، خاص طور پر اقلیتوں کے خلاف۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مودی نے ہندوستان کو ایک ہندو قوم پرست معاشرے میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں غیر ہندو آبادی کو پسماندہ کر دیا گیا ہے۔مودی کی حکومت میں پریس کانفرنسوں سے گریز کرنے کی روش بھی اپنائی گئی ہے، جس کی وجہ سے وہ صرف اپنے ریڈیو شو نے ذریعے عوامی رابطے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس طریقہ کار کی بدولت میڈیا کے ساتھ براہ راست رابطہ محدود ہو گیا ہے، جس سے عوام کو حکومت کی پالیسیوں کے بارے میں جاننے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹ میں مودی کی ابتدائی زندگی اور سیاسی کیریئر کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ خاص طور پر 2002 کےگجرات فسادات کے تناظر میں، جہاں ہزاروں مسلمان ہلاک ہوئے، مودی کی حکمرانی پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ مودی کی حکومت نے اس وقت تشدد کو روکنے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے۔گجرات میں مودی کی حکومت کے دوران مذہبی تقسیم، اداروں کی تباہی، آمرانہ طرز حکمرانی، اور سیاسی مخالفین کی نگرانی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ان کے دور میں متعدد ماورائے عدالت قتل کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔”فارن پالیسی” کی رپورٹ کے مطابق، مودی کی انتظامیہ نے مخالفین کے خلاف سخت قوانین کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں کئی سیاسی مخالفین کو بغیر کسی مقدمے کے سالوں تک جیلوں میں رہنا پڑا۔ اس صورتحال نے ہندوستان میں اختلاف رائے کو ایک جرم بنا دیا ہے، جہاں بدعنوانی اور بے روزگاری کے مسائل نے مودی کی حکومت کی معاشی کامیابیوں کو متاثر کیا ہے۔بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے مودی کی حکومت پر لگائے جانے والے الزامات اور ہندوستان کی جمہوری درجہ بندی میں کمی ایک نیا سوالیہ نشان ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف ہندوستانی سیاست بلکہ عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستانی جمہوریت کو اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔
-

شہباز شریف کی پاکستان کے معاشی چیلنجز اور عالمی مسائل ترجیح ، لندن میں پریس کانفرنس
لندن: وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کے داخلی اور بین الاقوامی چیلنجز کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے برادر ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اور چین کی مدد کے بغیر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام حاصل کرنا مشکل تھا۔ انہوں نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی کوششوں کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے ترقی کے لئے ذاتی طور پر اہم کردار ادا کیا اور برادر ممالک کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ کہ پاکستان گزشتہ 16 ماہ میں ڈیفالٹ کی حالت سے بچنے میں کامیاب رہا ہے، اور انہوں نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات میں بہتری کے حوالے سے عالمی اداروں کی گواہی موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملکی ترقی کے لیے ٹیکس نظام میں بہتری کی ضرورت ہے، اور نئے ٹیکسوں کے بوجھ کے بغیر موجودہ ٹیکس دہندگان کے لیے سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے۔
لندن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیرِاعظم شہباز شریف نے 9 مئی کے واقعات کو ناقابل معافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو معافی تب ملے گی جب وہ دل سے معافی مانگیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات نے قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، اور جو لوگ سوشل میڈیا پر پاک فوج اور شہداء کے خلاف نازیبا زبان استعمال کر رہے ہیں، ان کے ہوتے ہوئے ہمیں کسی دشمن کی ضرورت نہیں۔شہباز شریف نے بانی پی ٹی آئی کا نام لیے بغیر سابقہ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق حکومت نے چین کے ساتھ تعلقات خراب کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور ملکی مفاد کے اہم ادارے، جیسے پی آئی اے، کو بند کروانے میں بھی ان کا کردار رہا ہے۔ وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ نقصان میں چلنے والے قومی اداروں کی نجکاری یا انہیں آؤٹ سورس کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔وزیرِاعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت نقصان میں چلنے والے اداروں کی بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے، اور ان اداروں کو یا تو نجی شعبے کے حوالے کیا جائے گا یا ان کی آؤٹ سورسنگ کی جائے گی تاکہ ملکی معیشت کو استحکام مل سکے۔
یہ بیان لندن میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران سامنے آیا جہاں وزیرِاعظم شہباز شریف نے میڈیا کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے مختلف اہم امور پر بات چیت کی۔ انہوں نے ملکی معیشت اور بیرونی تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے سرگرم ہے۔وزیر اعظم نے 9 مئی کے واقعات کو ناقابل معافی جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر گھٹیا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے، اور انہوں نے گزشتہ حکومت کی جانب سے چین کے ساتھ تعلقات میں نقصانات کا ذکر کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ برطانوی وزیراعظم، بنگلہ دیش کے عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر یونس، اور ترکیہ کے صدر طیب اردوان سے مفید گفتگو ہوئی۔شہباز شریف نے عالمی مسائل خاص طور پر فلسطین کے حوالے سے بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا، جہاں انہوں نے 40 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کا ذکر کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ فلسطین میں جاری مظالم کا فوری خاتمہ کریں اور وہاں جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔
کشمیر کے مسئلے پر بھی شہباز شریف نے تفصیل سے بات کی، اور کہا کہ کشمیری عوام گزشتہ ایک صدی سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے اقدام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مسئلے کی جانب توجہ دے۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی معاشی ترقی کے حوالے سے کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے، شہباز شریف نے یقین دلایا کہ یہ آئی ایم ایف پروگرام پاکستان کے لیے آخری پروگرام ہوگا، جس سے ملک کی معاشی حالت میں بہتری آئے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ کوششیں پاکستان کے عوام کے مفاد میں ہیں اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گی۔اس موقع پر انہوں نے عالمی برادری سے امید ظاہر کی کہ وہ پاکستان کے معاشی چیلنجز کو سمجھیں گے اور اس کی مدد کریں گے تاکہ ملک کی ترقی کا سفر جاری رہے۔