راولپنڈی: عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے اور کسی کو حق نہیں کہ وہ عوام کو جلسوں میں شرکت سے روکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ احتجاج اور جلسے سے روکنے کی سوچ کہاں سے آئی ہے؟ "ہم جس ن لیگ میں تھے، اس میں ایسی کوئی سوچ نہیں تھی۔” انہوں نے موجودہ حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی عوام کی مشکلات کا ادراک کریں۔سابق وزیر اعظم نے خبردار کیا کہ یہ وقت ملک کو جوڑنے اور معیشت کو بہتر کرنے کا ہے۔ "حکمران ان معاملات کو فوری طور پر درست کریں، ورنہ کل کو پچھتانا پڑے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ سیاست برائے اقتدار ہمیشہ ناکام ثابت ہوئی ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ حق اور آئین کی بات کی جائے۔عباسی نے اپنے خطاب میں حکمرانوں کو تلقین کی کہ وہ عوام کی آواز سنیں اور ملک کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں تاکہ عوام کی مشکلات کم ہو سکیں اور معیشت بحال ہو۔
Author: صدف ابرار
-

سرگودھا میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور نجی گارڈ کے خلاف طالبہ سے زیادتی کے الزامات
ایک تشویش ناک واقعہ میں سرگودھا میں ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) اور اس کے نجی گارڈ پر ایک طالبہ کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس واقعے کے خلاف کوٹ مومن پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔پولیس کی رپورٹ کے مطابق، متاثرہ طالبہ نے دعویٰ کیا کہ اے ایس آئی نے اس کے والد کو پہلے منشیات کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا۔ اس نے مزید کہا کہ اپنے والد کی رہائی کے لیے اے ایس آئی کے نجی گارڈ نے اس سے رابطہ کیا اور اسے قصبہ معظم آباد میں ایک خالی مکان لے گیا۔متاثرہ طالبہ کے والد نے بتایا کہ ملزمان نے ان کی بیٹی کو نیم بے ہوشی کی حالت میں گاڑی میں گھر کے باہر چھوڑ دیا۔
پولیس نے کہا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور جلد ہی انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ یہ واقعہ پاکستان میں طاقت کے غلط استعمال اور خواتین کی حفاظت سے متعلق جاری مسائل کی عکاسی کرتا ہے۔ سماجی کارکنان اس کے خلاف فوری کارروائی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ اس قسم کے سنگین جرائم کو روکا جا سکے اور کمزور افراد کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔معاملے کی تحقیقات کے سلسلے میں مزید تفصیلات متوقع ہیں۔ -

دفتر خارجہ کا لبنان میں پھنسے پاکستانیوں کی سہولت کاری کا اعلان
اسلام آباد: وزارت خارجہ نے لبنان میں جاری بحرانی صورتحال کے پیش نظر وہاں پھنسے پاکستانی شہریوں کی مدد کے لیے اہم بیان جاری کیا ہے۔ دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ وزارت خارجہ اور بیروت میں پاکستانی سفارت خانہ فعال طور پر ان پاکستانی شہریوں کی مدد کر رہے ہیں جو اس وقت لبنان میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ترجمان نے وضاحت کی کہ لبنان میں پُرتشدد حالات کی شدت کے باعث، وزارت خارجہ نے اپنے کرائسز مینجمنٹ یونٹ (CMU) کو فعال کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد وہاں موجود پاکستانیوں کو فوری اور موثر امداد فراہم کرنا ہے۔ممتاز زہرا بلوچ نے مزید کہا کہ لبنان میں پاکستانی شہریوں اور ان کے اہل خانہ کو ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ ان کے لیے مخصوص رابطہ نمبر پر کرائسز مینجمنٹ یونٹ سے رابطہ کریں۔ دفتر خارجہ نے لبنان میں پھنسے پاکستانیوں کے لیے رابطے کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں:
لینڈ لائن: 051-9207887
ای میل: cmu1@mofa.gov.pkانہوں نے یہ بھی بتایا کہ بیروت میں موجود پاکستانی سفارت خانہ 24 گھنٹے دستیاب ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پاکستانی شہریوں کو مدد فراہم کرنے کے لیے ان رابطوں پر موجود ہے۔ترجمان نے یقین دہانی کرائی کہ وزارت خارجہ لبنان میں پھنسے پاکستانیوں کی بحفاظت واپسی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور ان کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھے گی۔ یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت اور بہبود کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھتی ہے۔یہ صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب لبنان میں جاری سیاسی اور سماجی عدم استحکام نے شہریوں کی زندگیوں کو متاثر کیا، جس کی وجہ سے بہت سے پاکستانی اپنے وطن واپس جانے کے خواہاں ہیں۔ دفتر خارجہ نے اس چیلنج کے دوران پاکستانیوں کو مکمل حمایت فراہم کرنے کا عزم کیا ہے۔
-

تمام جماعتوں کو ملک کے ہر حصے میں جلسے جلوس کا حق حاصل ہے،شعیب شاہین
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شعیب شاہین نے ایک پروگرام میں حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "فارم 47 کی قابض حکومت الیکشن ٹریبونل کو بھی چلنے نہیں دے رہی ہے۔ ان کا یہ بیان ایک ٹی وی پروگرام کے دوران سامنے آیا جس میں انہوں نے اپنے پارٹی ساتھی بیرسٹر گوہر کے ساتھ شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چوہدری بھی موجود تھے، جو کہ اپنے خیالات کے اظہار میں فعال رہے۔شعیب شاہین نے حکومت کے اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "تمام جماعتوں کو ملک کے ہر حصے میں جلسے جلوس کا حق حاصل ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ کل ہونے والے واقعے میں، حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے کارکنان پر "سیدھی گولیاں” چلائی گئیں، جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے اور سیکڑوں کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔انہوں نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "میں اور بیرسٹر گوہر صاحب ایک ہی گاڑی میں جارہے تھے، ہمیں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی۔” شعیب شاہین کا اشارہ تھا کہ حکومت کی طرف سے ان کے سیاسی مخالفین کے خلاف طاقت کے استعمال کا سلسلہ جاری ہے۔
شعیب شاہین نے مزید کہا کہ "فارم 47 کی حکومت قابض ہے اور الیکشن ٹریبونل کو بھی نہیں چلنے دیا جا رہا ہے۔” ان کے مطابق، "آئینی ریفارمز نظام انصاف میں فساد برپا کرنے کی کوشش ہے۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کے ذمہ دار وہ عناصر ہیں جو عوام کے حقوق کو دبا رہے ہیں۔ سیاسی میدان میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور عوامی سطح پر حقوق کی جدوجہد جاری ہے۔ شعیب شاہین کے الزامات نے حکومت کی کارروائیوں پر سوالات اٹھائے ہیں اور یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ملک میں انتخابات کی تیاری جاری ہے۔پی ٹی آئی کے رہنما کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت آئینی حقوق کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی، جبکہ عوامی حمایت کو اپنے ساتھ رکھے گی۔ یہ تمام واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی حالات میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں اور مستقبل کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ -

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے دوران روسی وزیر اعظم کا تہران کا دورہ: ایران کی حمایت کا اشارہ
مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان، کریملن نے اعلان کیا ہے کہ روسی وزیر اعظم میخائل مشستین 30 ستمبر (پیر) کو ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے ملاقات کے لیے تہران جائیں گے۔ یہ دورہ اس وقت اہمیت رکھتا ہے جب خطے میں جغرافیائی حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، خاص طور پر ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے حوالے سے حالیہ واقعات کے تناظر میں۔یہ دورہ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ یہ ماسکو کی جانب سے تہران کے ساتھ جاری تعلقات کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ مغربی حکومتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران روس کو اپنی جاری جنگ میں مدد فراہم کرنے کے لیے ہتھیار، خاص طور پر مہلک ڈرون فراہم کر رہا ہے۔ اس قسم کی فوجی مدد نے بین الاقوامی تنقید کو جنم دیا ہے اور متعلقہ ممالک کے درمیان پہلے سے ہی کشیدہ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
اس کے ساتھ، ماسکو نے لبنان میں اسرائیلی حملوں کی بھی مذمت کی ہے، جن کا نشانہ حزب اللہ کے رہنما بنے ہیں، جو کہ ایک ایرانی حمایت یافتہ عسکری تنظیم ہے۔ یہ مذمت خطے میں موجود اتحادوں اور دشمنیوں کے پیچیدہ جال کی عکاسی کرتی ہے۔یورپی ریڈیو کی رپورٹس کے مطابق، بہت سے لوگ مشستین کے دورے کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ایران کی حمایت کے اظہار کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ روسی حکومت نے اپنے سرکاری بیان میں بتایا کہ ملاقات کے دوران تجارتی، اقتصادی، ثقافتی، اور انسانی ہمدردی کے شعبوں میں روس-ایرانی تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت کی جائے گی۔
اس ملاقات میں صدر پیزشکیان کے علاوہ نائب صدر محمد رضا عارف بھی شریک ہوں گے۔ کریملن نے واضح کیا کہ بات چیت کا مرکزی نقطہ نقل و حمل، توانائی، صنعت، اور زراعت کے شعبوں میں بڑے مشترکہ منصوبوں کو آگے بڑھانے پر توجہ مرکوز کرنا ہوگا۔ یہ اطلاع ملی ہے کہ صدر پیزشکیان اگلے ماہ برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے روس کا دورہ کریں گے، جہاں وہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے ساتھ گفتگو کریں گے۔ یہ آنے والا اجلاس ایران کے برکس فریم ورک میں کردار اور روس کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔جیسا کہ جغرافیائی منظر نامہ تبدیل ہوتا ہے، مشستین کے دورے کے نتائج اور اس کے بعد ہونے والی گفتگو کے اثرات نہ صرف روس-ایران تعلقات بلکہ مشرق وسطیٰ میں عمومی استحکام کے لیے بھی اہم ہوں گے۔ بین الاقوامی برادری اس اعلیٰ سطحی سفارتی مشغولیت کے بعد ہونے والی ترقیات پر گہری نظر رکھے گی۔ -

سپریم کورٹ میں آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری
اسلام آباد: سپریم کورٹ کی پرنسپل سیٹ کے لیے آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری کر دیے گئے ہیں، جس کے مطابق سات ججز پر مشتمل مختلف بنچز مقدمات کی سماعت کریں گے۔ یہ روسٹر عدالت کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور مقدمات کے جلد حل کے لیے ایک اہم اقدام ہے۔
ججز کے بنچز کی تشکیل
آئندہ ہفتے عدالت میں سات مختلف بنچز تشکیل دیے گئے ہیں، جن کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
بنچ نمبر ایک:
– چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ
– جسٹس نعیم اختر افغان
– جسٹس شاہد بلالبنچ نمبر دو:
– جسٹس منصور علی شاہ
– جسٹس عائشہ ملک
– جسٹس عقیل عباسیبنچ نمبر تین:
– جسٹس منیب اختر
– جسٹس اطہر من اللہبنچ نمبر چار:
– جسٹس یحییٰ آفریدی
– جسٹس حسن اظہر رضوی
– جسٹس شاہد وحیدبنچ نمبر پانچ:
– جسٹس امین الدین
– جسٹس محمد علی مظہر
– جسٹس عرفان سعادتبنچ نمبر چھ:
– جسٹس جمال مندوخیل
– جسٹس مسرت ہلالی
– جسٹس ملک شہزاد احمدبنچ نمبر سات
– جسٹس سردار طارق مسعود
– جسٹس مظہر عالم میاں خیلکاز لسٹ کے مطابق، آئندہ ہفتے کی اہم سماعتوں میں شامل ہیں:
آرٹیکل 63 اے کی تشریح: اس کے خلاف نظرثانی درخواست پر سماعت پیر کو ہوگی، جو کہ آئینی معاملات میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔
ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ ججز کی پنشن سے متعلق کیس: یہ کیس بھی پیر کو سماعت کے لیے پیش ہوگا، جو ریٹائرڈ ججز کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اہم ہے۔
این اے 37 کرم میں دوبارہ گنتی: اس معاملے کی سماعت جمعرات کو ہوگی، جو کہ انتخابی عمل کی شفافیت اور درستگی کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہے۔
یہ تمام مقدمات عوامی دلچسپی کا باعث ہیں اور ان کی سماعت ملک کے عدالتی نظام میں شفافیت اور انصاف کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے ججز روسٹر کا اجراء عدالت کی کام کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے ایک مثبت اقدام ہے، جس کا عوام اور قانونی ماہرین نے خیرمقدم کیا ہے۔ -

29 ستمبر: تاریخ کے آئینے میں
تحقیق : آ غا نیاز مگسی
1066ء: فاتح ولیم نے برطانیہ پر قبضہ کر لیا، جس کے نتیجے میں برطانوی تاریخ کا ایک اہم موڑ سامنے آیا۔ اس فتح نے نہ صرف برطانیہ کی سرزمین پر نئے حکمرانوں کی بنیاد رکھی بلکہ ثقافتی اور سماجی تبدیلیوں کا آغاز بھی کیا۔
1399ء: رچرڈ دوئم اپنے عہدے سے دستبردار ہونے سے قبل برطانوی شہنشاہ بنے، جو تاریخ میں ایک اہم واقعہ ہے۔ یہ وقت سیاسی عدم استحکام کا دور تھا، جس میں طاقت کی جنگوں نے برطانیہ کی داخلی صورت حال کو متاثر کیا۔
1836ء: مدراس میں صنعت و تجارت کے بورڈ کا قیام عمل میں آیا، جس نے برطانوی ہندوستان میں تجارتی ترقی کی نئی راہیں ہموار کیں۔
1941ء: یوکرین میں یہودیوں کا قتل عام ہوا، جس کے نتیجے میں چونتیس ہزار یہودی ہلاک ہوئے۔ یہ واقعہ ہولوکاسٹ کی شروعات کا عکاس ہے، جس نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی داستان رقم کی۔
1942ء: بنگال میں کانگریس کے ایک جلوس کی قیادت کر رہی متنگنی ہاجرہ کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ یہ واقعہ برطانوی حکومت کے خلاف بھارتی آزادی کی تحریک کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
1950ء: وزیراعظم لیاقت علی خان نے بنیادی حقوق کمیٹی کی رپورٹ دستور ساز اسمبلی میں پیش کی، جو پاکستان کے قانون سازی کے عمل میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔
1950ء: بیل لیبارٹریز نے ٹیلی فون آنسرنگ مشین کی ایجاد کی، جو جدید مواصلات کی دنیا میں ایک سنگ میل ثابت ہوئی۔
1959ء: آرتی ساہا نے کامیابی کے ساتھ انگلش چینل پار کیا، جو ایک تاریخی کامیابی تھی اور اس نے خواتین کے کھیلوں میں نئی روایات قائم کیں۔
1962ء: کولکتہ میں برلا پلانیٹریم کا افتتاح ہوا، جو علم و تحقیق کا ایک اہم مرکز بن گیا۔
1968ء: وزیر دفاع پاکستان نے ایک سو چھپن میل طویل گلگت اسکردو روڈ کا افتتاح کیا، جو ملکی ترقی اور مواصلات کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوا۔
1970ء: یونین کاربائیڈ کمپنی نے ممبئی میں اپنے کیمیکل اور پلاسٹک آلات کے پہلے سیویج واٹر ریسرچ آلات کی شروعات کی، جو ماحولیاتی تحفظ کی کوششوں کی جانب ایک اہم قدم تھا۔
1977ء: ہندوستان اور بنگلہ دیش نے دریائے گنگا کے پانی کی تقسیم کے سلسلے میں معاہدہ کیا، جو دونوں ممالک کے مابین اہم ماحولیاتی اور اقتصادی تعاون کی علامت ہے۔
1978ء: کراچی میں واقع سینٹ پیٹرکس کیتھڈرل کی صدسالہ سالگرہ کے موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے دو ڈاک ٹکٹ جاری کیے۔ ان ڈاک ٹکٹوں پر کیتھڈرل کی عمارت اور کالج کی ایک گلاس ونڈو کی خوبصورت تصویر شائع کی گئی۔ یہ کیتھڈرل 1878ء میں تعمیر ہونا شروع ہوئی اور 1882ء میں مکمل ہوئی۔
1980ء: صدر پاکستان ضیاءالحق نے ایران عراق کی جنگ رکوانے کے لیے ایران عراق دورہ شروع کیا، جو عالمی سیاست میں پاکستان کے کردار کا عکاس ہے۔
1990ء: نیویارک میں بچوں کی ایک دو روزہ عالمی کانفرنس کا آغاز ہوا۔ اس موقع پر پاکستان کے محکمہ ڈاک نے سات روپے مالیت کا ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا، جس پر "WORLD SUMMIT FOR CHILDREN” کے الفاظ تحریر تھے۔
2007ء: پرویز مشرف اور دوسرے صدارتی امیدواروں کے کاغذات کی جانچ پڑتال کی گئی، جس کے دوران وکلاء اور حکومتی وزیروں میں ہاتھا پائی ہوئی۔ یہ واقعہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک متنازعہ لمحہ تھا۔
2023ء: مستونگ میں جلوس میلاد میں دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں 54 افراد شہید ہوئے۔ اسی دن ہنگو میں مسجد میں دوران خطبہ جمعہ دھماکہ ہوا، جس میں 45 افراد شہید ہوئے۔ یہ واقعات ملکی سلامتی کے لیے ایک سنگین چیلنج کی نشاندہی کرتے ہیں۔تعطیلات و تہوار
– یوم موجدین، ارجنٹائن: اس دن موجدین کی خدمات کو سراہا جاتا ہے، جو انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
یوم فتح، پیراگوئے: یہ دن پیراگوئے کی تاریخی فتح کی یادگار ہے، جو قوم کے اتحاد اور آزادی کا مظہر ہے۔
عالمی یوم قلب: اس دن کا مقصد دل کی بیماریوں کے بارے میں آگاہی بڑھانا اور لوگوں کو صحت مند طرز زندگی اپنانے کی ترغیب دینا ہے۔ یہ دن نہ صرف تاریخی واقعات کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ موجودہ دور میں بھی ہمیں اہم اسباق دیتا ہے۔ ہمیں ان واقعات سے سیکھنا چاہیے تاکہ ہم اپنے معاشرتی اور سیاسی چیلنجز کا بہتر سامنا کر سکیں۔ -

پنجگور: فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق 7 مزدوروں کی نماز جنازہ اور تدفین
بلوچستان کے ضلع پنجگور میں حالیہ فائرنگ کے ایک واقعے میں جاں بحق ہونے والے سات مزدوروں کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور انہیں تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقے ملتان روانہ کیا گیا۔ اس دردناک واقعے نے پورے ملک میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی ہے اور متعدد سیاسی و سماجی شخصیات نے اس کی مذمت کی ہے۔جاں بحق ہونے والے مزدوروں کی شناخت ساجد، شفیق، فیاض، افتخار، خالد، سلمان، اور اللہ وسایا کے ناموں سے ہوئی ہے۔ یہ تمام مزدور ملتان کی تحصیل شجاع آباد کے مختلف علاقوں، بشمول بستی چدھڑ، بستی راجا پور، چک سردارپور، شاہ پور ابھہ، اور بستی ملوک سے تعلق رکھتے تھے۔ مقامی انتظامیہ نے مزدوروں کی میتیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے ملتان پہنچانے کا بندوبست کیا۔ نشتر ہسپتال پہنچنے پر رکن پنجاب اسمبلی سلمان نعیم اور ڈپٹی کمشنر ملتان وسیم سندھو نے میتیں وصول کیں، جہاں ان کا پوسٹ مارٹم کیا گیا۔
مزدوروں کی لاشیں ملنے میں تاخیر کے باعث ورثا نے موٹروے ایم فائیو چدھر پل پر احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں ملتان سکھر موٹر وے کی ٹریفک کی روانی بند ہوگئی۔ یہ احتجاج متاثرین کے اہل خانہ کی جانب سے عدم تحفظ اور انصاف کے مطالبات کے اظہار کے طور پر کیا گیا۔پنجگور میں مزدوروں کی تدفین شجاع آباد کے مقامی قبرستان میں کی گئی، جہاں نماز جنازہ میں سیاسی، سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ یہ ایک جذباتی لمحہ تھا جب پورے علاقے کے لوگ اپنی ہمدردی کا اظہار کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے۔محنت کشوں کے قتل کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف پنجگور کے تھانہ سی ٹی ڈی میں درج کیا گیا ہے، جس میں انسداد دہشتگردی ایکٹ، قتل، اقدام قتل، اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔ یہ اقدام اس بات کا ثبوت ہے کہ حکام نے اس واقعے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے فوری طور پر قانونی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔سیاسی رہنماؤں کی مذمت
وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ و سیاسی امور رانا ثنااللہ نے مزدوروں کے ظالمانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ نہتے اور بے گناہ افراد کے بہیمانہ قتل کی بد ترین مثال ہے۔ انہوں نے بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا کہ انسانیت کے اس درندہ صفت دشمن کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ رانا ثنااللہ نے اس غم کی گھڑی میں جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مرحومین کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی اس واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا اور سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے فوری طور پر ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا عزم کیا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جاسکے۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے بھی پنجگور میں مزدوروں کے بہمانہ قتل کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ آج پھر دھرتی پر بے گناہوں کا لہو گرا، اور دہشت گرد بزدل اور انسانیت سے بے بہرہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان دہشت گردوں کا حساب لیا جائے گا جو بے گناہ پاکستانیوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بلوچستان میں عسکریت پسند گروپ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے پچھلے ماہ ایک ہی دن میں موسیٰ خیل، مستونگ، بولان، اور قلات میں مختلف واقعات میں 40 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔ اس کے جواب میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 21 دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے تھے۔یہ واقعہ نہ صرف مزدوروں کے لواحقین کے لیے ایک دل دہلا دینے والا سانحہ ہے بلکہ یہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی کی لہر کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ حکومتی اداروں کی جانب سے انصاف کی فراہمی اور محفوظ ماحول کی تشکیل کی ضرورت اب پہلے سے زیادہ محسوس کی جارہی ہے تاکہ ایسی درندگی کی روک تھام کی جا سکے۔ -

وفاقی وزیر احسن اقبال کا ماحولیاتی مسائل کے حل کیلئے گرین انرجی کے فروغ پر زور
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے گرین انرجی کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے ملکی معیشت کی بہتری اور توانائی کے شعبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کیا۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ "ملکی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے” اور انہوں نے حکومت کی جانب سے توانائی کے شعبے کی ترقی کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان ماضی میں طویل لوڈشیڈنگ کا شکار رہا ہے، جس کا خاتمہ کرنے کے لیے ان کی حکومت نے چین-پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت توانائی کے متعدد منصوبے شروع کیے ہیں۔وزیر منصوبہ بندی نے مزید کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ سب کو سستی اور ماحول دوست توانائی حاصل ہو۔” ان کے مطابق، توانائی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ متبادل توانائی کے منصوبوں کی ترقی پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
احسن اقبال نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی اہمیت پر بھی بات کی اور کہا کہ "توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تاجکستان کے ساتھ کاسا منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایشیائی ممالک کو ایک دوسرے کے باہمی تعاون سے چلنا ہوگا تاکہ خطے کی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیر نے ماحولیاتی مسائل کی شدت پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "موسمیاتی تبدیلی ایک بڑا مسئلہ ہے، اور 2022 میں پاکستان کو سیلاب سے اربوں روپے کا نقصان ہوا۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایشیائی ممالک کو درپیش چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنا ہوگا۔احسن اقبال کی گفتگو نے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلی اور توانائی کے بحران جیسے اہم مسائل کا سامنا ہے، اور ان کے حل کے لیے حکومتی عزم اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔
-

لبنانی حکومت کی جانب سے اسرائیلی حملوں میں سویلین ہلاکتوں کی تشویش
لبنان کی حکومت نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج کے حالیہ حملوں میں صیدون شہر میں تقریباً 27 افراد اور بالبک حمل نامی شہر میں 21 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے نام پر شہری آبادی پر بمباری کی گئی ہے۔ شام نے لبنان کو امدادی سامان کی ایک بڑی کھیپ بھیجی ہے، جبکہ جنوبی لبنان اور دارالحکومت بیروت کے نواح میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر بمباری کے بعد لبنان سے نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ حملے تقریباً بارہ دن سے جاری ہیں، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر سویلین ہلاکتیں ہو رہی ہیں۔اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ حزب اللہ اپنے ٹھکانے سویلین آبادی میں رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے سویلین ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
اس تناظر میں، فرانس کے وزیرِ خارجہ ژاں نوئل بیرٹ بیروت کا دورہ کرنے والے ہیں، جبکہ یورپی ممالک نے خطے کی صورتحال کے پیش نظر سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں، کیونکہ مکمل جنگ کا خطرہ موجود ہے۔ روسی وزیرِ اعظم میخائل مشوسٹین پیر کو ایران پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کریں گے۔ اس دورے میں دوطرفہ تعلقات پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ خطے کی صورتحال پر بھی بات چیت کی توقع ہے۔لبنان کے وزیرِ اطلاعات زیاد ماکری نے اتوار کو کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے حصول کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لبنانی حکومت ہر صورت جنگ بندی چاہتی ہے، اور بات چیت میں فوری کامیابی کی توقع نہیں ہے۔ زیاد ماکری نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال بہت نازک ہے اور کوششیں جاری ہیں تاکہ لڑائی میں مزید اضافہ نہ ہو اور قتل و غارت کا دائرہ وسیع نہ ہو۔
