Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • علی امین گنڈا پور سر پٹخ کے واپس ،پنجاب کی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری

    علی امین گنڈا پور سر پٹخ کے واپس ،پنجاب کی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری

    پنجاب کی وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری نے تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے راولپنڈی میں احتجاج پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے ساتھ پھر "موئے موئے” ہوگیا ہے، اور وہ ناکام ہو کر واپس لوٹ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں غنڈہ گردی کی کوئی جگہ نہیں اور یہاں قانون کی حکمرانی ہوگی۔ عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی کے راولپنڈی میں ہونے والے احتجاج کو فساد کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کو اپنی حکومت کی رٹ منوانا آتی ہے، اور ایسے فسادی گروپس کے ساتھ ہمیشہ "موئے موئے” ہو جاتا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، "چلو بھاگو”، یعنی پی ٹی آئی کی احتجاجی تحریک ناکام ہونے کے بعد واپس جا رہی ہے۔

    https://x.com/AzmaBokhariPMLN/status/1840034422596202515?s=19

    عظمیٰ بخاری نے کے پی کے میں سیکیورٹی اداروں پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا صوابی کے لیے نکل چکے ہیں۔ انہوں نے اسلحے کے ساتھ احتجاجی مظاہروں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایک سیاسی جماعت جلسے کے لیے اسلحہ کیوں ساتھ لاتی ہے؟ وزیراعلیٰ کے ہاتھ میں عوامی مسائل کی فائل ہونی چاہیے، نہ کہ اے کے 47۔ عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ پنڈی میں پی ٹی آئی کو جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے اور وہاں دفعہ 144 نافذ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبرپختونخوا کے بدترین حالات کے باوجود وہاں کے وسائل پنجاب پر یلغار کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے”، ان کو دوسرے طریقے سے ٹھیک کرنا ہوگا۔
    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پی ٹی آئی کو پنجاب میں فساد کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور حکومت کے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ یہ شرپسندی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اس اہم موقع پر ماحول کو خراب کرنا چاہتی ہے، لیکن انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی کے سابقہ دھرنوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 126 دن کے دھرنے کے بعد پی ٹی آئی نے اپنا بوریا بستر لپیٹ کر نکلنا پڑا تھا، اور اس بار بھی یہی انجام ہوگا۔ انہوں نے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی بھی مثال دی، جنہوں نے اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کی تھی لیکن ناکام رہے تھے۔

  • وزیر صاحب، آگے آئیں! کارکنوں کا علی امین گنڈاپور سے مطالبہ

    وزیر صاحب، آگے آئیں! کارکنوں کا علی امین گنڈاپور سے مطالبہ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکنوں نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف احتجاج کیا ہے، جو قافلے کی قیادت کرنے میں پیچھے رہ گئے۔ علی امین گنڈاپور اور ان کے حامی صبح سویرے راولپنڈی کی جانب ایک احتجاجی قافلے کے ساتھ نکلے، مگر اٹک پہنچتے ہی برہان انٹرچینج پر سیکیورٹی حکام نے کنٹینرز لگا کر ان کا راستہ بند کردیا۔راستے کی بندش پر پی ٹی آئی کارکنوں نے پولیس پر پتھراو کیا، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کارکنوں نے وزیراعلیٰ کے خلاف نعرے بازی کی، کہتے ہوئے کہ وہ شیلنگ کا شکار ہو رہے ہیں اور گنڈاپور گاڑی سے باہر نہیں نکل رہے۔
    ایک کارکن نے علی امین گنڈاپور سے کہا کہ "وزیر صاحب، آپ آگے آ جائیں، ہم آپ کے پیچھے جائیں گے”۔ اس پر علی امین نے گاڑی سے جواب دیا، "آگے جاؤ، آگے جاؤ”۔ تاہم، کارکنوں کے بار بار کہنے پر وہ بالآخر گاڑی سے نکل آئے اور آگے جانے کے احکامات دیے، لیکن راستے کی بندش کی وجہ سے قافلہ رکا ہوا ہے۔راستے کی بندش کے باعث کئی گاڑیاں واپس خیبرپختونخوا کی جانب روانہ ہو چکی ہیں۔ پی ٹی آئی کے کارکن برہان انٹرچینج کے قریب ایک گھنٹہ سے موجود ہیں اور ان کے پاس کھانے پینے کا کوئی انتظام نہیں، جس کے باعث وہ شدید پریشانی کا شکار ہیں۔ پولیس نے برہان پل پر بڑے کنٹینرز لگا دیے ہیں اور ان کے ٹائرز سے ہوا بھی نکال دی ہے، جس سے قافلے کی مزید پیشرفت میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

  • خیبرپختونخوا: ضلع کرم میں قبائل کے درمیان جھڑپیں روک دی گئیں

    خیبرپختونخوا: ضلع کرم میں قبائل کے درمیان جھڑپیں روک دی گئیں

    خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں متحارب قبائل کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کا سلسلہ روک دیا گیا ہے، جس میں آٹھ روز کے دوران 50 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 120 زخمی ہوئے۔ ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود کے مطابق، تمام علاقوں میں جھڑپیں بند کرا دی گئی ہیں اور پولیس اور فورسز کے اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ یہ جھڑپیں ایک مورچے کی تعمیر کے تنازعے کے باعث شروع ہوئی تھیں، جس کے نتیجے میں کئی علاقوں میں فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے بعد، پیواڑ، تری منگل، کنج، علیزئی، مقبل، اور پاڑہ چمکنی کڑمان کے علاقوں میں فریقین کے عمائدین اور جرگہ ممبران کے تعاون سے فورسز نے امن قائم کرنے میں مدد فراہم کی۔
    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ فائر بندی کے بعد علاقے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ تاہم، پاراچنار اور پشاور مین شاہراہ سمیت آمد و رفت کے راستے اور تعلیمی ادارے تاحال بند ہیں۔طوری قبائل کے رہنما جلال حسین اور سید تجمل حسین، جبکہ بنگش قبائل کے رہنما ملک فخر زمان اور حاجی سلیم خان نے قیام امن میں عوام سے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ رکن قومی اسمبلی حمید حسین نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ضلع کے لوگ امن قائم کریں تاکہ علاقے کی ترقی کی راہ ہموار ہو سکے، کیونکہ لڑائی جھگڑوں سے صرف تباہی و بربادی حاصل ہوتی ہے۔

  • امریکی صدر جوبائیڈن کا مشرق وسطٰی میں موجود فوج کو تیار رہنے کا حکم

    امریکی صدر جوبائیڈن کا مشرق وسطٰی میں موجود فوج کو تیار رہنے کا حکم

    امریکی صدر جو بائیڈن نے لبنان کے دارالحکومت بیروت پر اسرائیلی حملے کے بعد مشرق وسطٰی میں موجود امریکی فوج کو تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔ وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پینٹاگون کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مشرق وسطٰی میں موجود امریکی فورسز کی پوزیشنز کا جائزہ لے اور انہیں کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت الرٹ اور تیار رکھے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی فوج اور امریکی مقاصد کے تحفظ کو یقینی بنانا اہم ہے۔ یہ اقدام اس خطے میں بڑھتی ہوئی تناؤ کی صورت حال کے درمیان کیا گیا ہے، جس سے خطے میں امریکی موجودگی اور ان کے مفادات کی حفاظت کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔

  • حزب اللہ نے نعیم قاسم کو عبوری سربراہ مقرر کر دیا

    حزب اللہ نے نعیم قاسم کو عبوری سربراہ مقرر کر دیا

    لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے سینیئر رہنما نعیم قاسم کو عبوری سربراہ کے طور پر مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، نعیم قاسم نئے سربراہ کے انتخاب تک حزب اللہ کے امور کی نگرانی کریں گے۔رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہاشم صفی الدین کو حزب اللہ کا مستقل سربراہ منتخب کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ ہاشم صفی الدین، حسن نصراللہ شہید کے خالہ زاد بھائی اور داماد ہیں۔نعیم قاسم حزب اللہ کی شوریٰ کمیٹی کے مسلسل تین مرتبہ رکن رہ چکے ہیں۔ یہ تبدیلی اس وقت ہوئی ہے جب حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے ہیں، جس کی تصدیق حزب اللہ نے خود کی ہے۔
    حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف جنگ جاری رکھے گی اور غزہ و فلسطین کی حمایت کے ساتھ ساتھ لبنان کے دفاع کے لیے اپنا جہاد جاری رکھے گی۔ حسن نصراللہ کی شہادت کا اعلان حزب اللہ کے لبنانی چینل المنار پر بھی کیا گیا۔حزب اللہ کی قیادت میں یہ تبدیلی ایک اہم موڑ ہے، جس کے اثرات خطے کی سیاسی صورتحال پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ تنظیم نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی اور اپنے رہنما کی شہادت کا بدلہ لینے کے لیے تیار ہے۔

  • حسن نصر اللہ کی شہادت پر حافظ نعیم الرحمان کا اظہارِ تعزیت

    حسن نصر اللہ کی شہادت پر حافظ نعیم الرحمان کا اظہارِ تعزیت

    کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی ناجائز اسرائیلی ریاست کے خلاف مزاحمت میں گزاری اور عظیم مقصد کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ حافظ نعیم الرحمان نے اپنے بیان میں کہا کہ حسن نصر اللہ نے ساری زندگی لبنان کے دفاع اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف جدوجہد میں صرف کی۔ ان کی قربانی کو رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا اور ان شاء اللہ، حزب اللہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت جاری رکھے گی۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ حسن نصر اللہ کی شہادت کو قبول فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ جیسے اداروں کی بے بسی اور ناکامی اس وقت کھل کر سامنے آ گئی ہے جب لبنان اور غزہ پر اسرائیلی حملے ہوئے اور عالمی ادارہ کوئی ٹھوس اقدام اٹھانے میں ناکام رہا۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ عملی طور پر عالمی طاقتوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک ناکارہ تنظیم بن چکی ہے، جو مظلوموں کو انصاف دلانے میں مکمل طور پر ناکام ہے۔
    حافظ نعیم نے مسلم دنیا کے حکمرانوں اور افواج سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے موقف پر غور کریں کہ وہ اس وقت کہاں کھڑے ہیں اور کس کا ساتھ دے رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور مسلم ممالک کو اس حوالے سے ایک جامع حکمت عملی اپنانی ہوگی۔امیر جماعت اسلامی کے اس بیان نے مسلم دنیا میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں عوام اور مختلف سیاسی حلقے اقوام متحدہ کی بے عملی پر تنقید کر رہے ہیں اور مسلم ممالک کی افواج اور حکمرانوں سے اسرائیل کے خلاف بھرپور اقدام کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ: انتظامی افسران بطور ایگزیکٹو مجسٹریٹ مقدمات کا فیصلہ نہیں کر سکتے

    اسلام آباد ہائیکورٹ: انتظامی افسران بطور ایگزیکٹو مجسٹریٹ مقدمات کا فیصلہ نہیں کر سکتے

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک اہم فیصلے میں انتظامی افسران کو بطور ایگزیکٹو مجسٹریٹ مقدمات کے فیصلے کرنے سے روک دیا ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے ایگزیکٹو کے جوڈیشل اختیارات کے استعمال کے خلاف دائر کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے واضح کیا کہ اسلام آباد میں صرف عدالتیں ہی جوڈیشل اختیارات استعمال کر سکتی ہیں، اور یہ اختیارات آئین کے آرٹیکل 175(3)، 202 اور 203 کے تحت ہی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔عدالت نے انتظامی افسران کو غیر آئینی طور پر جوڈیشل اختیارات استعمال کرنے پر تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ آئینی شقوں کے خلاف جوڈیشل اختیارات کا استعمال غیر قانونی ہے۔ اس فیصلے میں کوڈ آف کریمنل پروسیجر میں ترمیم کے ذریعے صوبائی حکومتوں کا ایگزیکٹو مجسٹریٹس تعینات کرنے کا اختیار واپس لے لیا گیا ہے۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ وفاقی حکومت 23 سال گزرنے کے باوجود اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری نہیں کر سکی، جو کہ ایک تشویشناک امر ہے۔ عدالت نے ہدایت کی کہ نوٹیفکیشن جاری ہونے تک ایگزیکٹو مجسٹریٹس زیر التوا مقدمات کا فیصلہ نہ کریں، اور ان مقدمات کا ریکارڈ متعلقہ سیشن ججز کو بھجوائیں تاکہ وہ قانونی تقاضوں کے مطابق ان مقدمات کا فیصلہ کریں۔
    عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ آئین کے آرٹیکل 175(3) میں واضح طور پر عدلیہ اور ایگزیکٹو کے درمیان تفریق کی گئی ہے، اور اس فارمولے پر عملدرآمد کے لیے آئین نے 14 سال کا وقت دیا تھا، جو 14 اگست 1987 کو مکمل ہو چکا ہے۔ تاہم، مقررہ وقت کے بعد بھی انتظامی افسران کا جوڈیشل اختیارات استعمال کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ 2001 میں ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے ایگزیکٹو مجسٹریٹس کے اختیارات ختم کر دیے گئے تھے، اور اس ترمیم کے تحت صوبائی حکومت کا ڈسٹرکٹ اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس تعینات کرنے کا اختیار بھی ختم کر دیا گیا تھا۔فیصلے میں وفاقی حکومت کو ہدایت کی گئی کہ وہ فوری طور پر نوٹیفکیشن جاری کرے تاکہ عدلیہ اور ایگزیکٹو کے اختیارات کی مکمل تفریق ممکن ہو سکے۔

  • خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کی مشترکہ ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز

    خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کی مشترکہ ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز

    خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبے کے وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور کے نام ایک خط میں مسائل حل کرنے کے لیے ایک مشترکہ ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز پیش کی ہے۔ یہ خط صوبے کی دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادت کو بھی ارسال کیا گیا ہے، جس کا مقصد وفاق سے منصفانہ وسائل کی تقسیم اور صوبائی حقوق کے حصول کے لیے یکجہتی پیدا کرنا ہے۔خط میں گورنر نے بتایا کہ وہ "یونائیٹڈ ٹاسک فورس” کے قیام کی تجویز پیش کر رہے ہیں، جس کے تحت گورنر ہاؤس اس ٹاسک فورس کے ساتھ مکمل تعاون فراہم کرے گا۔ اس ٹاسک فورس کی ترجیحات میں آئل اینڈ گیس ایکسائز ڈیوٹی، این ایف سی ایوارڈ، نیٹ ہائیڈل پرافٹ اور دیگر حقوق کا حصول شامل ہوگا۔

    گورنر فیصل کریم کنڈی نے مزید کہا کہ اس یونائیٹڈ ٹاسک فورس کا پہلا اجلاس پشاور میں گورنر ہاؤس میں منعقد کیا جائے گا، جہاں مشترکہ "چارٹر آف ڈیمانڈ” تیار کر کے وفاقی حکومت کو بھجوایا جائے گا۔خط کے متن کے مطابق، گورنر نے کہا کہ جب سے انہوں نے منصب سنبھالا ہے، وہ صوبے کی ہر سیاسی قیادت کے پاس خود گئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مشترکہ آواز اٹھانے اور جدوجہد کرنے کے لیے یہ ٹاسک فورس مفید ثابت ہوگی۔یہ خط پی ٹی آئی کے علاوہ عوامی نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی، جے یو آئی، ایم ڈبلیو ایم، ٹی ایل پی، پاکستان مسلم لیگ، پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین، مزدور کسان پارٹی، جے یو آئی (س)، جماعت اسلامی، پاکستان پیپلز پارٹی، اور جے یو آئی (نورانی) کی قیادت کو بھی بھیجا گیا ہے۔ یہ اقدام صوبے کے حقوق کی تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے اور سیاسی اتحاد کے قیام کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

  • چند عناصر گالم گلوچ کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں،طلال چودھری

    چند عناصر گالم گلوچ کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں،طلال چودھری

    فیصل آباد: مسلم لیگ (ن) کے رہنما طلال چودھری نے کہا ہے کہ ملک میں چند عناصر گالم گلوچ کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں اور ان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جائے گی۔ فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چودھری نے کہا کہ ان عناصر کا مقصد صرف انتشار پھیلانا ہے، لیکن قوم ایسے لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اقتدار میں کس کے کتنے دن باقی ہیں۔طلال چودھری نے اپنی گفتگو کے دوران پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ پی ٹی آئی کو ملک کی ترقی ہضم نہیں ہو رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی دوست ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات خراب کرنا چاہتی ہے اور مختلف اداروں کے خلاف ایک منظم مہم چلا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ عناصر ملکی مفاد کے برخلاف سازشیں کر رہے ہیں، جس کا مقصد ملکی استحکام کو نقصان پہنچانا ہے۔
    مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے وزیراعظم کے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں حالیہ خطاب کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا اور اسرائیل اور بھارت کے مظالم کو بے نقاب کیا۔ طلال چودھری کے مطابق وزیراعظم نے دنیا کے سامنے پاکستان کے عوام کے جذبات کی بھرپور نمائندگی کی اور مظلوم کشمیری عوام کے حق میں مضبوط آواز اٹھائی۔طلال چودھری نے پنجاب میں پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہروں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی والے این آر او چاہتے ہیں، اس لیے وہ احتجاج کے نام پر فساد پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاجی مظاہروں کے لیے مسلح افراد کو باہر سے پنجاب لایا جا رہا ہے، جس کا مقصد امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج کے نام پر کسی بھی قسم کی بدامنی اور فساد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
    مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے ملکی معیشت کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی اقدامات کی بدولت معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی ادارے بھی پاکستان کی معیشت میں بہتری کا اعتراف کر رہے ہیں، جو حکومت کی کامیاب پالیسیوں کا ثبوت ہے۔اپنی گفتگو کے اختتام پر طلال چودھری نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گمراہ کن عناصر کے جھانسے میں نہ آئیں اور ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے حکومت کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ پاکستان کو درپیش چیلنجز کا مؤثر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔

  • آئین کا تحفظ ضروری، لیکن ہر روز اس کی خلاف ورزی کی جاتی ہے،شاہد خاقان عباسی

    آئین کا تحفظ ضروری، لیکن ہر روز اس کی خلاف ورزی کی جاتی ہے،شاہد خاقان عباسی

    لاہور: سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ ملک میں آئین کے تحفظ اور سر بلندی کی بات کی جاتی ہے، لیکن افسوس کے ساتھ ہر روز اس کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام قومی مسائل کا حل آئین کی بالادستی میں پوشیدہ ہے۔یہ بات انہوں نے لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ شاہد خاقان عباسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، جو کہ مسائل کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی پاسداری ہی ملک کو صحیح راستے پر لے جا سکتی ہے اور جب تک آئین پر مکمل طور پر عمل نہیں کیا جائے گا، ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکے گا۔
    شاہد خاقان عباسی نے خواتین کے حقوق کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں خواتین کو بنیادی اور مساوی حقوق حاصل ہیں، لیکن عملی طور پر انہیں وہ حقوق نہیں مل پا رہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں اور خاص طور پر خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کرے تاکہ وہ ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
    سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ خواتین کی شمولیت کے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں ہے، اور اس بات کی مثال بنگلادیش کی معاشی خوشحالی میں خواتین کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنائے تاکہ وہ اپنے گھرانوں اور ملک کی ترقی میں بھرپور حصہ لے سکیں۔
    شاہد خاقان عباسی نے اظہار رائے کی آزادی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر لوگوں کو اپنی بات کہنے کا حق نہیں دیا جائے گا تو مسائل کیسے حل ہوں گے؟ انہوں نے کہا کہ معاشرتی مسائل کا حل اسی وقت ممکن ہے جب ہر فرد کو آزادی سے اپنی رائے دینے کا موقع ملے گا۔انہوں نے کہا کہ سب لوگ کہتے ہیں کہ آئین کا تحفظ کرنا ہے، لیکن حقیقت میں آئین ہر روز توڑا جاتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ جب آئین کی خلاف ورزی کی جاتی ہے تو اس سے نہ صرف عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، بلکہ ملک کے جمہوری نظام کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ سابق وزیراعظم نے اپنے خطاب کا اختتام اس پیغام کے ساتھ کیا کہ اگر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو آئین کی بالادستی کو یقینی بنانا ہوگا اور خواتین سمیت تمام طبقوں کو ان کے حقوق دیے جائیں۔