امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکا کو حالیہ بیروت حملے کا کوئی علم نہیں تھا اور اس میں کسی قسم کی شراکت نہیں تھی۔ اس بیان کے بعد، اسرائیلی طیاروں نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ایک بڑے حملے کی خبر دی ہے، جس میں ایک ساتھ 10 میزائل داغے گئے۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں کا ہدف حزب اللّٰہ کے مرکزی کمانڈ ہیڈکوارٹرز تھے۔ حملے کے نتیجے میں 6 عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں، 2 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔عرب میڈیا کے مطابق، اسرائیل کا اصل ہدف حزب اللّٰہ کے سربراہ حسن نصر اللّٰہ تھے، لیکن حزب اللّٰہ کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حسن نصر اللّٰہ محفوظ ہیں۔
حملے کے بعد، اسرائیلی شہر تل ابیب میں سیکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا ہے، اور فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، شہریوں کے لیے شیلٹرز بھی کھول دیے گئے ہیں۔ادھر، اقوام متحدہ نے بیروت حملے کو ایک بڑے خطرے کی گھنٹی قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے امریکا کے دورے کو مختصر کردیا ہے۔ لبنان میں ایرانی سفارتخانے نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملہ کشیدگی میں اضافے کا خطرناک کھیل ہے اور یہ قابل سزا جرم ہے۔ حماس نے بھی بیروت پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی ہے، جس نے خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے۔
Author: صدف ابرار
-

بیروت حملے سے امریکہ لاعلم ہے ،امریکی صدر جو بائیڈن کا بیان
-

وزیر دفاع خواجہ آصف کا پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان کشیدگی پر بیان
وزیر دفاع خواجہ آصف نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پارلیمنٹ اور عدلیہ کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، اور اگر دونوں اداروں کے درمیان جاری ڈیڈلاک ختم نہ ہوا تو آئینی بحران کا خدشہ ہے۔وزیر دفاع نے مسئلہ فلسطین پر اقوام متحدہ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی فورم پر اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ اقوام متحدہ کی پاس کردہ قراردادوں پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ "امریکا جیسے بڑے ممالک کے مسائل تو چند دنوں میں حل ہو جاتے ہیں، لیکن تیسری دنیا کے مسائل کے حل میں اقوام متحدہ ناکام رہی ہے۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دہشتگردی کے حوالے سے بھی بات کی، خاص طور پر فلسطین، مقبوضہ کشمیر، اور پاکستان میں دہشتگردی کے مسائل کو اجاگر کیا۔ انہوں نے افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی کھلی جارحیت کا بھی ذکر کیا، جہاں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں، اور مطالبہ کیا کہ ایسے افغان شہریوں کو واپس بھیجا جائے جن کے پاس دستاویزات نہیں ہیں۔
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ عدلیہ اور پارلیمنٹ میں تصادم نظر آ رہا ہے۔ اگر یہ ڈیڈلاک ختم نہ ہوا تو ملک میں آئینی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "پارلیمنٹ عوام کی خواہشات کا منبع ہے، اور اگر عدلیہ پارلیمنٹ کو ڈکٹیٹ کرنے لگے تو اس سے تصادم ہو سکتا ہے۔ لیکن حتمی فتح ہمیشہ پارلیمنٹ کی ہوتی ہے۔”
خواجہ آصف نے ملک میں ٹیکس نظام پر بھی بات کی، جہاں انہوں نے کہا کہ "سب سے زیادہ ٹیکس کا بوجھ تنخواہ دار طبقہ اٹھا رہا ہے۔” انہوں نے سیگریٹ کی صنعت پر ٹیکس چوری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "یہاں 300 سے 400 ارب روپے کا ٹیکس چوری ہوتا ہے، جبکہ ریٹیلر صرف 20 ارب روپے ٹیکس دیتے ہیں۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ "ہمارے پاس 40 سال سے حل موجود ہے، لیکن اس سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا کیونکہ ہم مصلحتوں کا شکار ہیں۔
جب پی ٹی آئی سے حکومتی مذاکرات کے بارے میں سوال کیا گیا تو خواجہ آصف نے کہا کہ "اگر تحریک انصاف کو مذاکرات میں دلچسپی نہیں ہے تو حکومت کو بھی کوئی پریشانی نہیں۔” انہوں نے پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "پی ٹی آئی کے مذاکرات سیاسی برادری کے ساتھ ہوں گے، ویسے مذاکرات کا امکان نظر نہیں آتا۔”وزیر دفاع کا یہ بیان ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے، جہاں اداروں کے درمیان کشیدگی عوامی مفاد اور سیاسی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ -

حافظ نعیم الرحمان کا دھرنوں کا اعلان، حکومت کی پالیسیاں تنقید کا نشانہ
حیدرآباد: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے 29 ستمبر کو پورے پاکستان میں دھرنے دینے کا اعلان کیا ہے۔ ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی اور اب پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی۔حافظ نعیم الرحمان نے پی ٹی آئی کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ان کا لیڈر گرفتار ہوا تو پوری پارٹی تقسیم ہو گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لوگ "ون مین آرمی” کے تحت جماعتیں چلانے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے انتخابات کے عمل کو سراہا اور کہا کہ جماعت اسلامی جمہوریت کی بحالی اور آئین کی بالادستی کی تحریک کے لیے کوشاں ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے، اور اس مقصد کے لیے "حق دو حیدرآباد” تحریک چلائی جا رہی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے غزہ کے عوام کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ ایک سال گزر جانے کے باوجود انہوں نے ہتھیار نہیں ڈالے، جبکہ 45 ہزار لوگ شہید ہوئے ہیں جن میں 30 ہزار بچے اور خواتین شامل ہیں۔ انہوں نے حکمرانوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اسرائیل کو قبول کرنے کے لیے بے چین ہیں، انہیں فلسطینیوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔انہوں نے عوام سے 7 اکتوبر کو باہر نکلنے کی اپیل کی اور کہا کہ حکومتیں بھی ان کے حق کے لیے آواز بلند کریں۔ حافظ نعیم الرحمان نے یہ بھی کہا کہ جو حکمران عوام سے ناجائز بل لیتے ہیں، وہ ہی حیسکو، سیپکو، اور فیسکو کو کمپنسیٹ کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جماعت اسلامی اس مقدمے کو پوری طاقت سے لڑے گی۔
-

سابق سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئی رؤف حسن کا مذاکرات کی ضرورت پر زور
سابق سیکرٹری اطلاعات پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رؤف حسن نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ ملک کی سیاسی صورتحال کے پیش نظر مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ "بالآخر مذاکرات ہی کرنا ہوں گے، آج نہیں تو دو ماہ بعد، مذاکرات ہی ہوں گے۔ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے، رؤف حسن نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے تو انہیں قائل کرنے کی کوشش کریں گے، مگر اس بات کا ابھی اندازہ نہیں کہ جماعت میں کون لوگ مذاکرات کے حق میں ہیں۔
وکلا کے احتجاج کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ ایک "بہت اچھا شو” نہیں تھا، لیکن یہ صرف آغاز ہے، اور آگے کی صورتحال دیکھنا ہوگی۔ علی امین گنڈا پور کے بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر دیئے گئے بیان کے بارے میں، رؤف حسن نے کہا کہ "جلسے کی تقریر کو ایک تقریر سے زیادہ اور کچھ نہیں سمجھنا چاہئے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کے حوالے سے کسی آپشن پر غور نہیں کیا جا رہا، اور پی ٹی آئی آئینی ترمیم کو ہر حال میں روکنے کی کوشش کرے گی۔ مولانا کے ساتھ آئینی ترمیم کے بارے میں مشاورت جاری ہے، اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ایک مشترکہ مسودہ پیش کیا جا سکتا ہے، جبکہ موجودہ مسودہ دونوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ -

اسرائیلی فوج کا لبنان کے بیروت میں حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر پر حملہ
اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ کے ہیڈکوارٹر پر فضائی حملہ کیا ہے، جس کا مقصد حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کو نشانہ بنانا تھا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فوج نے طاقتور میزائلوں کے ذریعے لبنان میں فضائی حملے کیے، خاص طور پر ایئرپورٹ روڈ پر ایک مخصوص عمارت کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیلی فوج نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے حزب اللہ کے سینٹرل کمانڈ پر بمباری کی ہے اور ہمارا اصل ہدف حسن نصراللہ تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ حملہ گزشتہ پانچ روز کے دوران بیروت پر ہونے والی سب سے طاقتور بمباری میں شامل ہے، جس کے نتیجے میں جنوبی ٹاؤن میں چار عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق، حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ اس حملے کے دوران محفوظ رہے ہیں، تاہم حزب اللہ کی جانب سے ان کے حوالے سے کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔ لبنانی شہری دفاع کے مطابق، حملے کے نتیجے میں تباہ شدہ عمارتوں سے دو افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں جبکہ 76 افراد زخمی ہوئے ہیں۔حزب اللہ ہیڈکوارٹر پر حملے کی منظوری اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب سے کچھ دیر قبل دی۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے بعد اپنی توجہ لبنان کی جانب مبذول کر لی ہے، جہاں حالیہ بمباری میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اس کے علاوہ، گزشتہ برس 7 اکتوبر کو فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کی جانب سے کیے گئے ایک آپریشن کے بعد اسرائیل کی غزہ پر بمباری جاری ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 41 ہزار سے زائد افراد، جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے، ہلاک ہو چکے ہیں۔ -

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی کو ایم ڈی کیٹ سوال نامہ اپ لوڈ کرنے کا حکم دیا
اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے خلاف طلبا کی درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے یونیورسٹی کو ایم ڈی کیٹ کا سوال نامہ اپنی ویب سائٹ پر فوری طور پر اپ لوڈ کرنے کا حکم دیا ہے۔ کیس کی سماعت جسٹس ارباب محمد طاہر کی زیر صدارت ہوئی، جس میں طلبا نے یونیورسٹی کے امتحانات کے شفافیت کے حوالے سے درخواست دی تھی۔ سماعت کے دوران، وکیل پی ایم ڈی سی جہانگیر جدون نے بتایا کہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ یونیورسٹی کو اپنے امتحانی پیپرز اپ لوڈ کرنے چاہئیں، جیسا کہ دیگر تعلیمی ادارے کرتے ہیں۔جسٹس ارباب نے یونیورسٹی کی انتظامیہ سے پوچھا کہ اب تک سوال نامہ کیوں اپ لوڈ نہیں کیا گیا؟ انہوں نے مزید کہا کہ "یہ ایک معروف یونیورسٹی ہے، آپ اس کی ساکھ کو کیوں نقصان پہنچا رہے ہیں؟” انہوں نے یونیورسٹی کے رویے کو طلبا کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کے مترادف قرار دیا۔
عدالت نے طلبا کے وکیل سے استفسار کیا کہ اگر پیپر اپ لوڈ کر دیا جائے تو کیا وہ مطمئن ہوں گے، جس پر طلبا نے یک زبان ہو کر "نہیں سر” کہا، جس سے عدالت برہم ہو گئی اور طلبا کو خاموش رہنے کی ہدایت کی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک مختصر تحریری فیصلے میں کہا کہ یونیورسٹی کو ایم ڈی کیٹ کے نتائج کا اعلان کل دن ایک بجے کے بعد کرنا ہوگا، اور طلبا کو نتائج کے اعلان سے پہلے سوال نامہ دیکھنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ تفصیلی وجوہات پر مشتمل فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ یونیورسٹی کے امتحانات میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے، جس سے طلبا کی فلاح و بہبود کو ترجیح دی گئی ہے۔ -

شاہد خاقان عباسی کا وکلا تحریک اور ملکی سیاست کے حوالے سے انکشافات
سربراہ عوام پاکستان پارٹی، شاہد خاقان عباسی، نے ایک تازہ بیان میں وکلا تحریک کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بال کھینچنے والا مشہور فوٹو حقیقی نہیں تھا، اور وہ اس تحریک کا حصہ بننے سے گریزاں رہے کیونکہ انہیں اس کی حقیقت کا اندازہ پہلے ہی ہوگیا تھا۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ تحریک دراصل پرویز مشرف کو ہٹانے کے لیے تھی، جس میں وکلا اور ججز دونوں استعمال ہوئے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس تحریک کے پیچھے اصل محرکات کو جاننا ضروری ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ اگر سلمان راجہ اس معاملے پر بات کر رہے ہیں تو انہیں اپنی سیاسی باتوں سے آگے بڑھ کر وکلا کو خود اس معاملے کا سامنا کرنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وکلا کو چاہیے کہ وہ اپنی آئینی ترامیم کو عوام کے سامنے رکھیں، اور یہ ضروری ہے کہ عوام ان ترامیم کے بارے میں آگاہ ہوں۔ عباسی نے واضح کیا کہ آئین میں بہت سی تبدیلیوں کی ضرورت ہے، مگر جو ترامیم اس وقت کی جا رہی ہیں، وہ غیر مناسب ہیں۔عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بات چیت کے حوالے سے عباسی نے کہا کہ جیل میں انسان کی سوچ بدل جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی خود جیل میں ہے تو وہ اسٹیبلشمنٹ سے کس طرح بات کر سکتا ہے، اور ان دونوں کے درمیان طے پایا ہونا چاہیے کہ کیا کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملٹری کورٹ کی کوئی شقیں ہٹائی نہیں گئیں، اور اگر ہٹائی گئی ہیں تو انہیں اس بارے میں علم نہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس نمبر پورے ہیں، جبکہ انہوں نے واضح کیا کہ مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ واضح ہونا چاہیے اور الیکشن کمیشن کو اس پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔آخری طور پر، پی ٹی آئی کے جلسے کے حوالے سے عباسی نے کہا کہ حکومت خود راولپنڈی کو بند کرے گی، اور یہ نئی حکومت ہے جو اپوزیشن کے جلسوں کی خود تشہیر کر رہی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پی ٹی آئی کو عوام کی حمایت حاصل ہے، لیکن یہ بھی کہا کہ حکومت خود ان کے جلسوں کی تشہیر کر رہی ہے۔ -

عمر کوٹ کے ڈاکٹر شاہ نواز قتل: ڈی آئی جی جاوید جسکانی اور دیگر افسران کے خلاف مقدمہ درج
عمر کوٹ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شاہ نواز کنبھار کے جعلی پولیس مقابلے میں قتل کا مقدمہ ڈی آئی جی جاوید جسکانی، ایس ایس پی چودھری اسد، ایس ایس پی آصف رضا بلوچ، اور مولوی عمر جان سرہندی سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔ سندھڑی، ضلع میرپور خاص کے پولیس اسٹیشن میں یہ مقدمہ سرکاری مدعیت میں درج کیا گیا، جس نے سندھ بھر میں ایک اہم قانونی اور انسانی حقوق کے بحران کو مزید اجاگر کیا۔اس مقدمے کا پس منظر سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کی پریس کانفرنس سے جڑا ہے، جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ڈاکٹر شاہ نواز کو عمر کوٹ میں توہین مذہب کے الزام کا سامنا کرنے کے بعد جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا گیا تھا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ پولیس اہلکاروں پر جعلی مقابلے میں ملوث ہونے کا الزام تھا، اور اس الزام کی تصدیق ہونے پر اہلکاروں کو معطل کردیا گیا۔
وزیر داخلہ کے مطابق، وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر ڈاکٹر شاہ نواز کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے واقعے کی تفصیلات کا جائزہ لیا۔ تحقیقات کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی جائزہ لیا گیا، اور مکمل تحقیقات کے بعد وزیرِاعلیٰ کو 31 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ڈاکٹر شاہ نواز کو پہلے کراچی سے گرفتار کرکے میرپور خاص پولیس کے حوالے کیا گیا تھا، جہاں پولیس نے انہیں حراست میں قتل کیا اور بعد ازاں اسے جعلی مقابلے کا رنگ دینے کی کوشش کی۔اس واقعے کے بعد، سندھڑی تھانے میں پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر شاہ نواز کے وکلا کی دس رکنی ٹیم نے مقدمہ درج کرنے کی درخواست جمع کرائی تھی۔ اس موقع پر بیرسٹر اسداللہ شاہ راشدی کی قیادت میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے وکلا موجود تھے، جنہوں نے پولیس پر الزام لگایا کہ ڈاکٹر شاہ نواز کو تحویل میں لے کر قتل کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2022 میں ایک قانون منظور ہوا تھا جس کے تحت جوڈیشل کسٹڈی میں ہونے والے قتل کی انکوائری ایف آئی اے کرتی ہے۔
وکلا کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں ڈی آئی جی جاوید جسکانی، ایس ایس پی چودھری اسد، ایس ایس پی آصف رضا بلوچ، مولوی عمر جان سرہندی، ڈی آئی بی انچارج دانش بھٹی، سب انسپکٹر ہدایت اللہ ناریج اور دیگر پولیس اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیس کی مکمل حقیقت قبر کشائی کے بعد ہی سامنے آسکے گی۔
یہ واقعہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کے سلسلے کا ایک اور افسوسناک باب ہے، جس نے انسانی حقوق کے گروپوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ ہلاکت 20 ستمبر 2024 کو سندھ کے علاقے عمر کوٹ میں ہوئی، جہاں پولیس نے دعویٰ کیا کہ توہین مذہب کے الزام کا سامنا کرنے والے ڈاکٹر شاہ نواز کو مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔ یہ ایک ہفتے میں پیش آنے والا دوسرا واقعہ تھا جسے پولیس مقابلے کا نام دیا گیا۔مقامی پولیس کے سربراہ نیاز کھوسو کے مطابق، پولیس نے بدھ کی رات موٹر سائیکل پر سوار دو افراد کو رکنے کا اشارہ کیا تھا، تاہم وہ نہ رکے اور پولیس پر فائرنگ شروع کردی۔ پولیس نے جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ڈاکٹر شاہ نواز موقع پر ہلاک ہوگئے، جبکہ دوسرا شخص فرار ہوگیا۔ نیاز کھوسو نے دعویٰ کیا تھا کہ فائرنگ کے تبادلے کے بعد ہی معلوم ہوا کہ مقتول وہی ڈاکٹر تھا جسے توہین مذہب کے الزام میں ڈھونڈا جارہا تھا۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مقامی علما کو پولیس افسران پر گلاب کی پتیاں نچھاور کرتے اور ڈاکٹر شاہ نواز کی ہلاکت پر ان کی تعریف کرتے دیکھا گیا، جس سے اس معاملے کی حساسیت اور تنازع میں اضافہ ہوا۔
مقامی افراد نے نہ صرف مقتول کی تدفین میں رکاوٹ ڈالی، بلکہ ان کی لاش کو آگ لگادی گئی۔ بعدازاں اہل خانہ نے مجبوری کے تحت بیابان میں ان کی تدفین کی۔ اس واقعے کے بعد وزیر داخلہ ضیاء لنجار نے کہا کہ انکوائری میں یہ ثابت ہوگیا کہ یہ پولیس مقابلہ نہیں تھا، بلکہ ایک منصوبہ بند قتل تھا۔ ضیاء لنجار نے مزید کہا کہ ایس ایس پی میرپور خاص کو معطل کردیا گیا ہے، اور سپریم کورٹ کی ججمنٹ کے مطابق ایک واقعے کا ایک ہی مقدمہ ہوگا، جس میں ڈی آئی جی سمیت دیگر اہلکار ملوث پائے گئے ہیں۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر شاہ نواز کو جان بوجھ کر قتل کیا گیا تھا اور بعد میں اسے پولیس مقابلے کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کی گئی۔ یہ مقدمہ سندھ میں پولیس کے نظام پر بڑے سوالات کھڑے کرتا ہے، جس میں جعلی مقابلوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کا مسئلہ ایک سنگین صورت اختیار کرگیا ہے۔ -

خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی CPNE وفد سے ملاقات
پشاور: خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین خان گنڈاپور سے کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (CPNE) کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبے اور ملک کی سیاسی صورتحال سمیت میڈیا کے کردار پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے، اور اس پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ میڈیا اپنی اصلاح کرے گا اور اپنی ذمہ داریاں بہتر انداز میں نبھائے گا۔ گنڈاپور کا کہنا تھا کہ وہ میڈیا کی تنقید کو مثبت انداز میں لیتے ہیں اور اصلاح کی غرض سے ہمیشہ اسے سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ انہوں نے محکمہ اطلاعات کو ہدایت کی کہ میڈیا کے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں۔وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ملکی حالات میں عوامی مسائل، قانون کی بالادستی اور جمہوریت کا استحکام میڈیا کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی خاص صحافی یا کمیونٹی کی دل آزاری نہیں چاہتے، بلکہ اصلاح کی غرض سے نشاندہی ضروری ہے۔ملک کی معیشت اور امن و امان کی خراب صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک پر 56000 ارب روپے کا بیرونی قرضہ ہے، مگر عوام کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ سیاسی انتقام کا نشانہ بناتے ہوئے ان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔

دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ خراب تعلقات کی وجہ سے خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فوج اور پولیس کی قربانیوں کو سراہا اور کہا کہ ملک کی حفاظت کے لیے جانیں دینے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔
تعلیمی مسائل پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ صوبے میں خواتین کی تعلیم کو ترجیح دی جا رہی ہے اور تباہ شدہ اسکولوں کی تعمیر نو پر کام جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ صوبے میں تعلیم کارڈ متعارف کرایا جا رہا ہے جس کے تحت بچے سرکاری اخراجات پر پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو امن و امان اور معیشت کی بحالی کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ قوم کو وہ آزادی اور خود مختاری مل سکے جس کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے قربانیاں دی تھیں۔ -

پاکستانی معیشت میں بہتری کے آثار: ترسیلات زر، برآمدات اور مالی ذخائر میں اضافہ، مہنگائی میں کمی
اسلام آباد: وزارت خزانہ کی جانب سے رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ کے لیے ماہانہ معاشی آؤٹ لک جاری کر دیا گیا ہے، جس میں پاکستان کی معیشت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ترسیلات زر، برآمدات، اور درآمدات سمیت مالی ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایف بی آر کی محصولات اور نان ٹیکس آمدنی میں بھی ترقی دیکھی گئی ہے۔ ساتھ ہی، ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی اور روپے کی قدر میں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق، رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں ترسیلات زر میں 44 فیصد کا غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جو کہ تقریباً 6 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ یہ پاکستانی معیشت کے لیے ایک حوصلہ افزا اشارہ ہے، کیونکہ ترسیلات زر غیر ملکی زر مبادلہ کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برآمدات میں 7.2 فیصد اور درآمدات میں 13.8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جو کہ عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب اور ضروری اشیاء کی درآمدات میں اضافے کا مظہر ہے۔ اس کے ساتھ، ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے، جس میں 80.9 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔رواں مالی سال میں روپے کی قدر میں بھی گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتری آئی ہے۔ مالی ذخائر میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ملکی معیشت کے استحکام کی طرف ایک اہم قدم ہے۔
ایف بی آر کی محصولات میں 20.6 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ نان ٹیکس آمدنی میں بھی 20.5 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ ترقی حکومت کی بہتر مالیاتی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور آمدنی کے متبادل ذرائع تلاش کرنا ہے۔وزارت خزانہ کی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ مہنگائی کی شرح میں واضح کمی آئی ہے۔ مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں مہنگائی کی شرح 23.4 فیصد سے کم ہو کر 9.6 فیصد پر آگئی ہے۔ یہ کمی اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں استحکام اور ملکی معیشت کی بہتری کا نتیجہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ستمبر اور اکتوبر میں مہنگائی کی شرح 8 سے 9 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔تاہم، مالیاتی خسارے میں 72.1 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کہ 225 ارب روپے سے بڑھ کر 387 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے ساتھ، بڑی صنعتوں کی پیداوار میں بھی 2.4 فیصد کا معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے صنعتی ترقی کے امکانات روشن نظر آتے ہیں۔