راولپنڈی: پنجاب حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر راولپنڈی میں دو روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، اس پابندی کا اطلاق ہفتہ 28 ستمبر اور اتوار 29 ستمبر کو ہوگا۔اس نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ راولپنڈی ڈویژن میں ہر قسم کے سیاسی اجتماعات، دھرنے، جلسے، مظاہرے، احتجاج، اور ایسی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگی۔ مزید برآں، راولپنڈی ڈویژن کے اضلاع راولپنڈی، اٹک، جہلم، اور چکوال میں بھی دفعہ 144 نافذ ہوگی۔
محکمہ داخلہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی سفارش پر راولپنڈی اور اٹک میں رینجرز کی 6 کمپنیاں تعینات کی جائیں گی، تاکہ ہتھیاروں سے لیس شرپسند عناصر کی ممکنہ آمد کو روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ، نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلحہ رکھنے اور نمائش پر بھی دفعہ 144 کا اطلاق ہوگا، اور صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندگان کو پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ یہ اقدام امن و امان کے قیام اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، جیسا کہ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ حالات کے پیش نظر حفاظتی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔
Author: صدف ابرار
-

پنجاب حکومت کا راولپنڈی میں دو روز کے لیے دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ
-

محسن نقوی کی پی سی بی کے اعلیٰ عہدیداران کے ساتھ اہم ملاقات
چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی نے پی سی بی کے اعلیٰ عہدیداران کے ساتھ ایک اہم ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں آئندہ ہونے والے ڈومیسٹک اور بین الاقوامی کرکٹ ایونٹس کے بارے میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔محسن نقوی نے اس موقع پر بورڈ کے حکام سے پی سی بی کے مستقبل کے اقدامات پر بھی بریفنگ لی۔ ملاقات میں چیف آپریٹنگ آفیسر سلمان نصیر، ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ عبداللہ خرم نیازی، ڈائریکٹر انٹرنیشنل کرکٹ عثمان واہلہ، رکن سلیکشن کمیٹی بلال افضل، عامر میر اور دیگر اعلیٰ عہدیداران بھی موجود تھے۔یہ ملاقات پی سی بی کے مستقبل کی حکمت عملی کو بہتر بنانے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگی، جس کا مقصد کرکٹ کی ترقی اور عالمی سطح پر اس کے معیاری ایونٹس کا انعقاد کرنا ہے۔
-

آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کراچی کا دورہ: آئی ٹی پارک کا افتتاح، معاشی ترقی پر زور
کراچی : آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کراچی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں اور تربیتی امور پر بریفنگ لی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف کو فوج کی موجودہ آپریشنل تیاریوں، دفاعی حکمت عملی اور تربیتی منصوبوں کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر مختلف اعلیٰ فوجی افسران بھی موجود تھے۔آرمی چیف کے دورے کا ایک اہم پہلو انووسٹا انڈس آئی ٹی پارک کا افتتاح تھا۔ اس تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت دیگر اعلیٰ سرکاری اور فوجی شخصیات نے شرکت کی۔ آئی ٹی پارک کا افتتاح کراچی کی نوجوان نسل کو جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں معیاری تربیت فراہم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے، جو مستقبل میں ملک کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے منصوبے پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں، جو ملک کی اقتصادی ترقی میں مددگار ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں مایوسی پیدا کرنے کی کوششوں کو اجتماعی محنت اور کوششوں کے ذریعے شکست دی جا چکی ہے، اور ایسے اقدامات ملک میں مثبت معاشی تبدیلیوں کے اشاریے ہیں۔

اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور معاشی ترقی کے لیے آئی ٹی کے شعبے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی پارک نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لیے ایک نیا سنگ میل ثابت ہوگا، اور یہ نوجوانوں کو مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت میں بہتر مواقع فراہم کرے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کراچی کی تاجر برادری کے ساتھ ملاقات بھی کی، جس میں ملک کی اقتصادی ترقی میں کاروباری برادری کے کردار پر بات چیت ہوئی۔ جنرل عاصم منیر نے تاجروں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ کاروباری طبقہ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور حکومت کی جانب سے تمام تر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ معاشی اشاریے مزید بہتر ہوں۔ آرمی چیف نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے معاشی ترقی اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تعریف کی اور زور دیا کہ ایسی مشترکہ کوششیں ہی ملک کی معاشی ترقی کو آگے بڑھا سکتی ہیں۔شرکاء نے تقریب میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے کردار کی تعریف کی، جس کا مقصد ملکی معیشت کو بہتر کرنا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ آرمی چیف نے اس موقع پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔یہ دورہ ملک میں آئی ٹی انڈسٹری کے فروغ اور معاشی استحکام کے لیے پاک فوج کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو نہ صرف دفاعی معاملات میں بلکہ ملک کی اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔
-

صوبے کا قرض 3 ہزار ارب نہیں، بلکہ 600 ارب روپے ہے، مزمل اسلم
خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے صوبے پر قرض کے حوالے سے جاری غلط معلومات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کا قرض 3 ہزار ارب نہیں بلکہ 600 ارب روپے ہے۔ انہوں نے یہ بیان ایک پریس کانفرنس میں دیا، جہاں انہوں نے موجودہ حکومت کی اقتصادی کارکردگی پر بھی تنقید کی۔مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ "وزیراعظم آئی ایم ایف کے پیکیج کی مبارکباد دے رہے ہیں جیسے کہ قرض لیا نہیں، دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دو سال قبل پاکستان کا مجموعی قرض 43 ہزار ارب روپے تھا، جو کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) حکومت کے دو سالوں میں 70 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ کچھ افراد یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ 2030ء تک خیبر پختونخوا کا قرض 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ جائے گا، جبکہ دیگر صوبوں بالخصوص سندھ اور پنجاب کے قرضوں پر کوئی بات نہیں کر رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ پر 1 ہزار ارب روپے سے زیادہ کا قرض ہے، جبکہ پنجاب کا قرض 1700 ارب روپے ہے۔
اس کے علاوہ، انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کو گندم کی خریداری کے لیے 1 ہزار ارب روپے دینے ہیں۔مزمل اسلم نے کہا کہ خیبر پختونخوا وہ پہلا صوبہ ہے جس نے قرض اتارنے کے لیے مخصوص اکاؤنٹ قائم کیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ صوبائی حکومت اگلے 10 دنوں میں قرض کے 5 فیصد کی ادائیگی کر دے گی، جو کہ صوبے کی مالی صحت کی بہتری کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔یہ بیان اس وقت آیا ہے جب پاکستان کی اقتصادی صورتحال پر عوامی و سیاسی سطح پر کافی بحث جاری ہے، اور صوبائی حکومتیں قرضوں کے بوجھ کے حوالے سے مسلسل سوالات کا سامنا کر رہی ہیں۔ مزمل اسلم کا یہ اقدام اور وضاحت اس بحث کو مزید گہرائی فراہم کرتی ہے اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا اس سے خیبر پختونخوا کی مالی حالت میں کوئی بہتری آئے گی۔ -

پاکستان کو آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالرز کے بیل آؤٹ پیکیج کی پہلی قسط موصول
اسلام آباد: پاکستان نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے 7 ارب ڈالرز کے بیل آؤٹ پیکیج کی پہلی قسط وصول کر لی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ قسط 76 کروڑ خصوصی ڈرائنگ رائٹس (ایس ڈی آر) پر مشتمل ہے، جو کہ امریکی ڈالر میں تقریباً ایک ارب 2 کروڑ 69 لاکھ ڈالر بنتی ہے۔ موصولہ قسط 3 اکتوبر کے زرمبادلہ ذخائر میں شامل کی جائے گی۔آئی ایم ایف نے حال ہی میں پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالرز کے قرض پروگرام کی حتمی منظوری دی تھی۔ یہ قرض پروگرام 37 ماہ پر محیط ہے، اور یہ کم شرح سود پر دستیاب ہے، جو 5 فیصد سے کم ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی معیشت کے استحکام کے لیے ایک اہم قدم ہے۔آئی ایم ایف کے اعلامیے کے مطابق، واشنگٹن میں آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر، کرسٹالینا جارجیوا کی زیر صدارت ہونے والے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں پاکستان کا ایجنڈا سر فہرست رہا۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ قرض پروگرام کا مقصد پاکستان میں معاشی استحکام لانا ہے۔
اس سے قبل، وزارت خزانہ نے بھی تصدیق کی تھی کہ پاکستان کو قرض کی پہلی قسط 30 ستمبر سے پہلے موصول ہو جائے گی، جبکہ دوسری قسط بھی رواں مالی سال کے دوران متوقع ہے۔پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر، یہ قرض پروگرام ایک نیا موقع فراہم کرتا ہے جس کی مدد سے ملک کی اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کی کوششیں کی جا سکیں گی۔ حکومتی اور اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام معیشت کی بحالی اور مالی استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ آئی ایم ایف کی جانب سے فراہم کردہ یہ فنڈز نہ صرف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ حکومت کو مالیاتی پالیسیوں میں بھی بہتری لانے کا موقع فراہم کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قرض پروگرام اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے اور معاشی ترقی کے لیے ایک نیا موقع پیش کرے گا۔ -

پی ٹی آئی کا لیاقت باغ میں احتجاج: راولپنڈی بھر میں موبائل سروس معطل رہے گی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ہفتہ 28 ستمبر کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد انتظامیہ نے علاقے کو سیل کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے جلسے کی اجازت نہ ملنے پر سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے واضح کیا ہے کہ اگر انہیں اجازت نہیں ملی تو وہ اسی جگہ احتجاج کریں گے۔پولیس نے لیاقت باغ کے باہر اور اندر بھاری نفری تعینات کر دی ہے۔ چہل قدمی کے لیے آنے والے افراد کو بھی باہر نکال دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، کل ہونے والے احتجاج کے پیش نظر راولپنڈی بھر میں موبائل سروس بھی معطل رہے گی۔ میٹرو بس سروس کی معطلی اور مری روڈ کو کنٹینرز لگا کر بند کرنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔ حکومت نے کل عام تعطیل کا اعلان کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے، جبکہ موٹر وے ایم ون اور ایم ٹو کو بھی بند رکھا جائے گا۔ چکری، باہتر، اور ٹیکسلا سے جانے والی شاہراوں کو بھی بند کیا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے احتجاج کی حکمت عملی بھی ترتیب دے دی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کی قیادت میں پی ٹی آئی کے رہنما قافلوں کی صورت میں لیاقت باغ جائیں گے۔ پارٹی کی قیادت نے کارکنوں کو دو بجے تک لیاقت باغ پہنچنے کی ہدایت کی ہے۔یہ تمام اقدامات پی ٹی آئی کی جانب سے موجودہ سیاسی صورتحال میں اپنی آواز بلند کرنے کی کوششوں کے تحت کیے جا رہے ہیں، اور حکومتی سختیوں کے باوجود پارٹی نے اپنے عزم کو برقرار رکھا ہے۔ عوام میں یہ سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا پی ٹی آئی کا یہ احتجاج امن و امان کے حالات کو متاثر کرے گا یا نہیں، خاص طور پر راولپنڈی جیسے بڑے شہر میں جہاں پہلے ہی حفاظتی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں۔یہ احتجاج اور اس کے پیچھے کی حکمت عملی نہ صرف سیاسی میدان میں ایک نئی بحث چھیڑے گی بلکہ عوامی ردعمل اور حکومتی اقدامات کی نوعیت بھی سامنے لائے گی۔
-

یوکرین جنگ میں شدت: کیف میں روس کے میزائل اور ڈرون حملے
یوکرین کی جنگ میں ایک نئی شدت آ گئی ہے، جس کے تحت روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف پر حملے تیز کر دیے ہیں۔ یہ حملے کئی گھنٹوں تک جاری رہے، جن میں میزائل اور ڈرونز کے ذریعے شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔ ان غیر معمولی حملوں میں خاص طور پر بجلی کے نظام کو ہدف بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کیف کے بجلی فراہم کرنے والے نظام کی 70 فیصد صلاحیت تباہ ہو چکی ہے۔حملوں کے باعث کیف کے رہائشیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ خوراک کی اشیاء کی قلت اور پانی کی فراہمی میں مشکلات نے ان کی روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں، شہریوں کی زندگی میں بے چینی اور اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔روس نے اپنے حملوں کے لیے ڈرونز کا استعمال بڑھا دیا ہے۔ دور مار میزائلوں کے بجائے اب روسی فوج ڈرونز کے ذریعے اپنی طاقت کو موثر طور پر نافذ کر رہی ہے۔ یہ ایک نیا طریقہ ہے جس میں انہیں کسی بھی عمارت کو نشانہ بنانا زیادہ آسان لگتا ہے۔
حالیہ اطلاعات کے مطابق، روسی فوج چین سے جدید لڑاکا ڈرونز کی ایک بڑی کھیپ تیار کروا رہی ہے، جو کہ جنگ کے حالات میں ایک اہم تبدیلی کا اشارہ دے سکتا ہے۔دوسری طرف، امریکی نائب صدر اور ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے ایسی امن تجاویز کی سخت مخالفت کی ہے جن میں یوکرین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں سے دست بردار ہو جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا کوئی بھی سمجھوتہ یوکرین کی خودمختاری کے خلاف ہوگا۔ اس کے جواب میں، یوکرین کے صدر وولودومیر زیلنسکی نے بھی ایسی امن تجاویز کو مسترد کر دیا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین کی حکومت کسی بھی قسم کی انخلا کی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہے۔یوکرین میں جاری یہ جھڑپیں نہ صرف ملکی حالات کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کا اثر پڑ رہا ہے۔ روس کے حملوں میں شدت اور ڈرونز کے استعمال کی نئی حکمت عملی نے بین الاقوامی تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر دی ہے، جس کا اثر آنے والے دنوں میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ -

مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ: ادارہ شماریات کی جانب سے تازہ ترین اعدادوشمار جاری
ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق اپنی ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.05 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، مہنگائی کی سالانہ بنیادوں پر شرح 12.8 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس ایک ہفتے کے دوران 16 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ 9 اشیاء کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی۔ ٹماٹر کی فی کلو قیمت میں اوسطاً 7 روپے کا اضافہ ہوا، جب کہ پیاز کی فی کلو قیمت 8 روپے تک بڑھ گئی۔ دال چنا بھی مہنگی ہوئی، جس کی فی کلو قیمت میں 4 روپے کا اضافہ ہوا۔ مزید برآں، آلو، گڑ، جلانے کی لکڑی، ایل پی جی، تازہ دودھ، چکن، چاول، گوشت، گھی اور لہسن بھی مہنگائی کی فہرست میں شامل ہیں۔
اعدادوشمار کے مطابق، دال ماش کی فی کلو قیمت میں 10 روپے تک کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ، دال مونگ کی قیمت میں بھی 5 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ چینی کی فی کلو قیمت میں 2 روپے کی کمی ہوئی، اور کیلے، دال مسور، آٹا، انڈے، اور سرسوں کا تیل بھی سستے ہونے والی اشیاء میں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، بریڈ، چائے کی پتی سمیت 26 اشیاء کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ مستحکم رہے۔ اس رپورٹ نے ایک بار پھر مہنگائی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی نشاندہی کی ہے، جو عوام کے لئے مزید مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔ -

پاکستان کا اقوام متحدہ میں نیتن یاہو کے خطاب کے دوران واک آؤٹ
نیویارک: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خطاب کے دوران پاکستانی وفد نے احتجاجاً واک آؤٹ کر دیا۔ جیسے ہی نیتن یاہو اسٹیج پر آئے، پاکستان، ایران اور دیگر ممالک کے درجنوں سفارتکار جنرل اسمبلی ہال سے باہر نکل گئے۔ اجلاس کے دوران فلسطین کے حق میں اور اسرائیلی مخالف نعرے بلند ہوئے، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ مختلف ممالک نیتن یاہو کے آنے پر ناپسندیدگی کا اظہار کر رہے تھے۔ نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ نے یہاں کئی مقرروں کے جھوٹ سننے کا ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ ان کے ملک کے خلاف بڑے جھوٹ بولے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل امن چاہتا ہے اور ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے۔
انہوں نے سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان دوستی کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک سانحہ نے اس عمل کو متاثر کیا اور ہولوکاسٹ کی یاد تازہ کی گئی۔ نیتن یاہو نے سیکیورٹی کونسل پر زور دیا کہ ایران پر پابندیاں لگائی جائیں اور ان کے نیوکلیئر پروگرام کو روکا جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ "اسرائیل ایران کو نیوکلیئر سے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے حماس کے 90 فیصد راکٹس تباہ کر دیے ہیں اور ان کی ملٹری اہلیت کو ختم کر دیا ہے۔یہ واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے اقدامات کے خلاف شدید ردعمل موجود ہے، خاص طور پر فلسطینی عوام کے حقوق کے حوالے سے۔ -

انصاف کی عدم فراہمی اور آئینی عدالت کا قیام وقت کی ضرورت ہے، ناصر حسین شاہ
صوبائی وزیر توانائی ناصر حسین شاہ نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اہم قومی اور آئینی معاملات پر اپنی تشویش اور تجاویز کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو غلط سزا سنانے والوں کے خلاف آج تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا، جو انصاف کے نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مظلوم لوگ برسوں انصاف کے انتظار میں رہتے ہیں، لیکن انہیں مکمل انصاف فراہم نہیں کیا جاتا، اور بھٹو کیس اس کی ایک واضح مثال ہے۔ 40 سال گزرنے کے باوجود بھٹو خاندان اور ان کے حامیوں کو آج تک انصاف نہیں ملا۔ناصر حسین شاہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شہید بھٹو کے مقدمے میں جو غلط سزا دی گئی تھی، اس کے ذمے داروں کے خلاف آج تک کوئی کارروائی نہ ہونے سے انصاف کی عدم فراہمی کا تاثر ابھرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک قومی المیہ ہے کہ ایسے تاریخی فیصلوں پر بھی نظر ثانی نہیں کی گئی اور انصاف کا تقاضا پورا نہیں کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئینی عدالت کا قیام وقت کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے دنیا کے مختلف ممالک کی مثالیں دیں، جہاں آئینی عدالتیں موجود ہیں جو اہم قومی اور آئینی معاملات پر فیصلے کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ادارہ ایسا نہیں ہو سکتا جو حکومت کو جوابدہ نہ ہو، ہر ادارے کو آئین اور قانون کے تحت کام کرنا چاہیے۔وزیر توانائی نے اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان ہمیشہ ملک اور آئینی اداروں کے بہتر مستقبل کے لئے جو بھی بات ہوگی، اس کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ مولانا فضل الرحمان ملک کے مفاد میں جو بھی بہتر ہوگا، اس میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
ناصر حسین شاہ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستوں کے لیے عدالت میں جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی درخواست کے باوجود یہ نشستیں تحریک انصاف کو دی گئیں۔ اس بات پر انہوں نے تحفظات کا اظہار کیا۔توانائی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے، وزیر توانائی نے کہا کہ اوور بلنگ اور لوڈشیڈنگ کے مسائل پر کام جاری ہے، اور حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے مختلف منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 100 سے 200 یونٹ والے صارفین کے لئے ایک خاص سولر اسکیم تیار کی گئی ہے، جس کے ذریعے انہیں سستی اور مستقل بجلی فراہم کی جا سکے گی۔ ناصر حسین شاہ نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ "سولر ہوم” کا دوسرا پروگرام جلد شروع کیا جائے گا، جس سے مزید لوگ فائدہ اٹھا سکیں گے اور توانائی کے بحران میں کمی آئے گی۔اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت توانائی کے مسائل کے حل کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے، اور جلد ہی ملک میں بجلی کی فراہمی میں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔