Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع: مشعال اعظم یوسفزئی کی بطور معاون خصوصی تقرری

    خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع: مشعال اعظم یوسفزئی کی بطور معاون خصوصی تقرری

    پشاور: خیبرپختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے صوبائی کابینہ میں مشعال اعظم یوسفزئی کی بطور معاون خصوصی تقرری کی سمری کی منظوری دے دی ہے۔ یہ سمری وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کی جانب سے گورنر کو بھیجی گئی تھی، جس پر فیصل کریم کنڈی نے دستخط کر دیے، اور منظوری کے بعد سمری واپس بھجوا دی گئی ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق، مشعال یوسفزئی کو محکمہ سائنس و ٹیکنالوجی کا قلمدان دیئے جانے کا قوی امکان ہے۔ اس فیصلے کے بعد خیبرپختونخوا کابینہ میں معاونین خصوصی کی تعداد 9 ہو جائے گی۔ اس وقت کابینہ 5 مشیروں اور 15 وزرا پر مشتمل ہے، جن میں مزید اضافہ صوبے کے انتظامی معاملات میں بہتری کے لیے کیا جا رہا ہے۔
    یہ فیصلہ 11 ستمبر کو حکومت کی جانب سے گورنر کو بھیجی گئی سمری کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کا مقصد خیبرپختونخوا کے شعبہ سائنس و ٹیکنالوجی کو مزید فعال بنانا اور صوبے میں جدید تحقیق و ترقی کو فروغ دینا ہے۔ مشعال یوسفزئی کی تعیناتی سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اس اہم شعبے میں نمایاں کردار ادا کریں گی۔
    مشعال یوسفزئی کی تقرری کو خیبرپختونخوا کی ترقی کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جہاں جدید علوم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں پیش رفت کو حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ مزید براں، معاونین خصوصی کی تعداد میں اضافے سے صوبے کے مختلف شعبہ جات میں حکومتی عملداری کو بہتر بنانے کے اقدامات بھی جاری ہیں۔مشعال یوسفزئی کی بطور معاون خصوصی تقرری صوبائی کابینہ کی تنظیم نو کا ایک اہم حصہ ہے، جس کا مقصد صوبے کے مختلف شعبوں میں ماہرین کو شامل کر کے ترقیاتی منصوبوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے۔

  • وزیر اعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں جرات مندانہ خطاب: غزہ اور کشمیر کے مسائل پر سخت موقف

    وزیر اعظم شہباز شریف کا اقوام متحدہ میں جرات مندانہ خطاب: غزہ اور کشمیر کے مسائل پر سخت موقف

    نیویارک: وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79 ویں سالانہ اجلاس کے چوتھے روز فلسطین کے مسئلے کو بھرپور انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز کلام پاک کی تلاوت سے کیا، جو کہ ایک روحانی اور معنوی آغاز تھا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے غزہ اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہونے والے مظالم پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی بھرپور کوشش کی۔ انہوں نے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ غزہ ہو یا مقبوضہ کشمیر، کہیں بھی غیر انسانی سلوک اور مظالم قابل برداشت نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے غزہ میں جاری جارحانہ حملوں اور کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو عالمی امن کے لیے سنگین خطرات قرار دیا۔

    غزہ میں اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت
    وزیر اعظم نے اپنے خطاب کا آغاز غزہ کی موجودہ صورتِ حال سے کیا، جہاں معصوم فلسطینیوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، "یہ محض لڑائی نہیں ہو رہی، بلکہ بے گناہ شہریوں کو منظم طریقے سے موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔” انہوں نے اسرائیلی حملوں میں خواتین اور بچوں کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ماؤں کے سامنے اُن کے جگر گوشوں کو ملبے تلے دفن کیا جا رہا ہے، اور عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔شہباز شریف نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ فلسطینی ریاست کو مکمل رکنیت دی جائے اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کے سامنے فلسطینیوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور دو ریاستی حل کے بغیر مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔

    مقبوضہ جموں و کشمیر: بھارتی مظالم اور عالمی خاموشی
    غزہ کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر بھی عالمی برادری کی خاموشی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے بھارتی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ "کشمیریوں کی اپنی زمین پر اُن کے حقوق چھینے جا رہے ہیں، اور غیر مقامی افراد کو یہاں آباد کیا جا رہا ہے،” وزیر اعظم نے کہا۔انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد نہ ہونے کو بھارتی قیادت کے حوصلوں کا سبب قرار دیا اور کہا کہ کشمیر کے لوگوں نے تمام تر مظالم کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے۔ شہباز شریف نے بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کو واپس لیا جانا ضروری ہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم کیا جا سکے۔

    پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کا سخت ردعمل
    وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں بھارت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کو بھی مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے اور پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگا کر کارروائی کا جواز پیدا کر رہا ہے۔ "اگر بھارت نے کسی بھی قسم کی جارحیت کی کوشش کی، تو پاکستان اس کا منہ توڑ جواب دے گا،” وزیر اعظم نے خبردار کیا۔وزیر اعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی طویل جدوجہد اور اس میں دی جانے والی قربانیوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار افراد کی قربانیاں دیں اور 150 ارب ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سخت سبق سیکھا ہے اور اب ملک معاشی بحالی کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی اور معاشی مسائل
    شہباز شریف نے اپنے خطاب میں پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں شامل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی درجہ حرارت میں اضافے میں صرف ایک فیصد حصہ ڈال رہا ہے، لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے زیادہ نقصان اُٹھا رہا ہے۔ "اس صدی میں ہمیں ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنج کا سامنا ہے، اور دنیا کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا،”
    وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں مہنگائی کے حوالے سے مثبت پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی کی شرح کم ہو کر سنگل ڈیجٹ میں آ گئی ہے۔ انہوں نے ملک میں دہشت گردی کے مسئلے پر بھی بات کی اور کہا کہ پاکستان کو بیرونی امداد سے ہونے والی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ "کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP)، بلوچستان لبریشن آرمی (BLA)، اور مجید بریگیڈ جیسے دہشت گرد گروپ افغانستان میں موجود ہیں،” انہوں نے افغان عبوری حکومت سے توقع ظاہر کی کہ وہ ان گروپوں کے خلاف کارروائی کرے گی۔

    عالمی برادری کی ذمہ داری اور پاکستانی موقف
    وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ جہاں بھی غیر آئینی اور غیر قانونی قبضہ کیا جاتا ہے، وہاں قتل و غارت کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کرائے اور بھارت کو 5 اگست 2019 کے اقدامات واپس لینے پر مجبور کرے۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب کے دوران غزہ اور کشمیر کے مسائل پر پوڈیم پر زور دے کر ہاتھ مارا، جس پر حاضرین نے تالیاں بجا کر ان کے موقف کی حمایت کی۔

  • نیپرا اجلاس: بجلی کی کھپت میں 25 فیصد کمی، عوام پر اضافی بوجھ کا خدشہ

    نیپرا اجلاس: بجلی کی کھپت میں 25 فیصد کمی، عوام پر اضافی بوجھ کا خدشہ

    نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے حالیہ اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ اگست کے مہینے میں ملک میں بجلی کی کھپت میں 25 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ اجلاس کے دوران نیپرا نے اگست کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے معاملے پر بھی غور کیا، جس میں صارفین سے وصول کیے گئے اضافی 57 پیسے فی یونٹ کو واپس کرنے کے کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔ یہ اقدام صارفین کے حقوق کا تحفظ کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا امکان موجود ہے۔
    اجلاس کے دوران نیپرا کے حکام نے بجلی کی کھپت میں کمی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ممبر نیپرا مطہر نیاز رانا نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں 13 ہزار میگاواٹ کے سولر پینلز درآمد کیے جا چکے ہیں، جس کی وجہ سے عوام نیشنل گرڈ کو چھوڑ کر متبادل ذرائع پر منتقل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی کھپت میں یہ کمی، مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح کے پس منظر میں، بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ بنتی جا رہی ہے۔ممبر نیپرا رفیق شیخ نے مزید کہا کہ جب بجلی کی کھپت کم ہوتی ہے تو نیپرا کے لیے آمدنی میں ہونے والی کمی کو پورا کرنا مشکل ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ بوجھ صارفین پر ڈال دیا جاتا ہے۔
    یہ صورتحال بجلی کی صارفین کے لیے مزید چیلنجز پیدا کر سکتی ہے، خاص طور پر جب وہ پہلے ہی مہنگائی کی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عوام بجلی کے متبادل ذرائع کی طرف منتقل ہو رہے ہیں تو اس کا اثر بجلی کے نظام پر بھی پڑے گا، جس سے اس کی پائیداری پر سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ نیپرا کی جانب سے یہ اجلاس اس بات کا غماز ہے کہ ملک میں بجلی کی طلب میں کمی کی موجودہ صورتحال کو حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ صارفین پر بوجھ کم سے کم ہو سکے اور بجلی کے نظام کی پائیداری کو برقرار رکھا جا سکے۔

  • بنگلا دیش کی حکومت کی پاکستان سے سارک کی بحالی کے لیے مدد کی درخواست

    بنگلا دیش کی حکومت کی پاکستان سے سارک کی بحالی کے لیے مدد کی درخواست

    نیویارک: جنوبی ایشیا میں تعاون کی تنظیم (سارک) کی بحالی کے لیے بنگلا دیش کی عبوری حکومت نے پاکستان سے مدد کی درخواست کی ہے جبکہ بھارت اس اہم معاملے میں مکمل طور پر عدم دلچسپی کا اظہار کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ میں بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے پاکستان کے وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی اور سارک تنظیم کی بحالی پر بات چیت کی۔ذرائع کے مطابق، بنگلا دیش کی حکومت چاہتی ہے کہ جنوبی ایشیا کی یہ اہم علاقائی تنظیم ایک بار پھر فعال ہو اور خطے میں اقتصادی و سماجی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ تاہم، بھارت اس بحالی میں دلچسپی لینے سے انکاری ہے، جو کہ سارک کی بحالی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن رہا ہے۔

    سارک 2016 سے غیر فعال ہے۔ اس کی غیر فعالیت کی بڑی وجہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں اُڑی کے مقام پر بھارتی فوجی کیمپ پر حملے کے بعد اس پلیٹ فارم کو اہمیت نہ دینا ہے۔ بھارت کی قیادت نے اس وقت سے اب تک سارک کی بحالی کی کسی بھی کوشش کو نظرانداز اور مسترد کیا ہے۔ اس صورتحال میں بنگلا دیش اور پاکستان، دونوں ممالک، خطے میں تعاون کے فروغ کے لیے اس تنظیم کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پاکستان نے ماضی میں بھی سارک کی بحالی کے حوالے سے کئی بار بات چیت کی ہے اور خطے کے دیگر ممالک کو اس پلیٹ فارم کو دوبارہ فعال کرنے کی دعوت دی ہے، لیکن بھارتی قیادت نے ہمیشہ اس تصور کو نظرانداز کیا ہے۔ بھارت، جو سارک کا ایک کلیدی رکن ہے، نے کبھی بھی اس تجویز کو مثبت ردعمل نہیں دیا۔

    پاکستانی قیادت کا موقف رہا ہے کہ جنوبی ایشیا کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے علاقائی تعاون ضروری ہے، اور اس میں سارک ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ میں اپنی ملاقات کے دوران بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور ترقی کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔امریکا کی رینڈ کارپوریشن میں قومی سلامتی اور انڈو پیسفک امور کے ماہر ڈیرک جے گراسمین نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بنگلا دیش دونوں سارک کی بحالی کے حق میں ہیں اور اس تنظیم کو دوبارہ فعال کرنا چاہتے ہیں، لیکن بھارت کی جانب سے عدم دلچسپی اور مزاحمت اس مقصد کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہو رہی ہے۔

    سارک، یعنی جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون کی تنظیم، 8 دسمبر 1985 کو قائم کی گئی تھی۔ اس کا صدر دفتر نیپال کے دارالحکومت کاٹھمنڈو میں واقع ہے۔ اس تنظیم کے رکن ممالک میں بھارت، پاکستان، سری لنکا، نیپال، بھوٹان، بنگلا دیش اور مالدیپ شامل ہیں۔ اس کا مقصد جنوبی ایشیا کے ممالک کے درمیان اقتصادی، ثقافتی اور سماجی تعاون کو فروغ دینا تھا تاکہ خطے میں ترقی و خوشحالی کو ممکن بنایا جا سکے۔سارک کی بحالی کے حوالے سے بنگلا دیش اور پاکستان کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اس بات کا دارومدار بڑی حد تک بھارت کے رویے پر ہے۔ بھارت کا اس تنظیم کے لیے رویہ اور اس کی علاقائی پالیسی خطے کے دیگر ممالک کے لیے ایک چیلنج کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ تاہم، جنوبی ایشیا کے مفاد میں علاقائی تعاون کی تنظیم کی بحالی کی کوششیں جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان کو آئی ایم ایف کی 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت، سخت شرائط کا سامنا

    پاکستان کو آئی ایم ایف کی 7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت، سخت شرائط کا سامنا

    اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ایگزیکٹو بورڈ نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت فوری طور پر تقریباً ایک ارب ڈالر کی قسط جاری کر دی گئی ہے۔ تاہم، قرض پروگرام کے ساتھ آئی ایم ایف کی سخت شرائط بھی سامنے آئی ہیں۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق، آئی ایم ایف کی شرائط میں ایک اہم شرط یہ ہے کہ پاکستان کو نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے فارمولے پر نظرثانی کرنا ہو گی۔ اس کے علاوہ، آئی ایم ایف صوبائی حکومتوں کے اخراجات کی نگرانی بھی کرے گا تاکہ مالی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ذرائع کے مطابق، وفاق اور صوبوں کے درمیان نیشنل فنانس پیکٹ پر بات چیت جاری ہے، جس کا مقصد توانائی کے شعبے میں جی ڈی پی کا صرف ایک فیصد سبسڈی فراہم کرنا ہے۔ مزید برآں، پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے دوران کسی بھی قسم کی ضمنی گرانٹس جاری نہیں کرے گا۔آئی ایم ایف کی شرائط میں یہ بھی شامل ہے کہ پاکستان زرعی شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لائے گا، ساتھ ہی پراپرٹی اور ریٹیل سیکٹر کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے لیے جامع اصلاحات متعارف کروانے کی شرط بھی رکھی گئی ہے، جس کے تحت حکومت پاور پرچیز معاہدوں پر نظر ثانی کرے گی۔
    شرائط کے تحت، مستقبل میں پنجاب حکومت کی طرز پر بجلی کی قیمتوں پر کوئی ریلیف نہیں دیا جائے گا۔ غذائی اجناس کی امدادی قیمتوں کا تعین بھی نہیں کیا جائے گا جبکہ وفاقی حکومت کے ڈھانچے میں کمی کی جائے گی۔وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں برطانوی وزیراعظم سے ملاقات میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ پر اتفاق بھی کیا گیا ہے۔

  • خاتون جج کو دھمکانے کا کیس: بانی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف جیل ٹرائل کی استدعا

    خاتون جج کو دھمکانے کا کیس: بانی پاکستان تحریک انصاف کے خلاف جیل ٹرائل کی استدعا

    اسلام آباد میں جوڈیشل مجسٹریٹ مرید عباس خاور کی عدالت میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے خلاف خاتون جج کو دھمکانے کے کیس کی سماعت ہوئی، جس میں بانی پی ٹی آئی کی سکیورٹی خدشات کی بنیاد پر جیل میں ہی مقدمے کی سماعت کی درخواست کی گئی۔سماعت کے دوران ایس ایس پی آپریشنز کی نمائندگی انسپکٹر نور جمال نے کی اور عدالت میں رپورٹ جمع کروائی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کو سنگین جانی خطرات لاحق ہیں اور انہیں عدالت میں پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔ انسپکٹر نور جمال کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں عدالت سے درخواست کی گئی کہ بانی پی ٹی آئی کا ٹرائل اڈیالہ جیل میں ہی منعقد کیا جائے۔
    عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز کی درخواست کو منظور کرتے ہوئے رجسٹرار ہائی کورٹ کو جیل ٹرائل کی اجازت کے لیے خط لکھ دیا۔ اس خط کے ذریعے عدالت نے درخواست کی کہ بانی پی ٹی آئی کی سکیورٹی خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا ٹرائل جیل میں ہی کیا جائے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 25 نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ اگلی سماعت میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ یاد رہے کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے بانی پی ٹی آئی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے تحت انہیں عدالت میں پیش کیا جانا تھا، لیکن سکیورٹی خدشات کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔یہ کیس اس وقت ملکی سیاست میں بڑی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف عدلیہ پر دباؤ کا معاملہ سامنے آیا ہے، بلکہ بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری اور مقدمات کے حوالے سے بھی نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے۔ عدالت کے اگلے فیصلے کا سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے۔

  • ہائی ویز اور موٹرویز پر ٹال ٹیکس میں 30 فیصد تک اضافہ

    ہائی ویز اور موٹرویز پر ٹال ٹیکس میں 30 فیصد تک اضافہ

    نیشنل ہائی ویز اتھارٹی نے ہائی ویز اور موٹرویز کے ٹال ٹیکس میں 30 فیصد تک اضافے کا اعلان کیا ہے، جس کا نیا شیڈول یکم اکتوبر 2024 سے نافذ ہوگا۔نئے ٹیکس کے مطابق، اسلام آباد تا پشاور موٹر وے پر کار کا ٹال ٹیکس 350 روپے سے بڑھا کر 460 روپے، ویگن کا ٹال ٹیکس 550 روپے سے بڑھا کر 720 روپے، بس کا ٹال ٹیکس 1000 روپے سے بڑھا کر 1300 روپے، اور ٹرک کا ٹال ٹیکس 1500 روپے سے بڑھا کر 1950 روپے مقرر کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ، لاہور، عبدالحکیم ایم 3، پنڈی بھٹیاں، فیصل آباد، ملتان ایم 4، ملتان سکھر ایم 5، ڈی آئی خان ہکلہ ایم 14، اور مانسہرہ ایکسپریس وے پر بھی ٹال ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ نیشنل ہائی ویز پر کار کا ٹال ٹیکس 40 سے بڑھا کر 50 روپے، ویگن کا ٹال ٹیکس 90 روپے، بس کا 170 روپے، 2 اور 3 ایکسل ٹرک کا ٹال ٹیکس 210 روپے، اور آرٹیکولیٹڈ ٹرک کا ٹال ٹیکس 460 روپے مقرر کیا گیا ہے۔این ایچ اے کے مطابق، کوہاٹ ٹنل این 55، اسلام آباد مری کوہالہ ہائی وے این 75، اور میانوالی مظفر گڑھ این 135 پر بھی ٹال ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے۔ میانوالی اور خانسر ٹال پلازوں پر ٹیکس بڑھا دیئے گئے ہیں۔نئے ٹال ٹیکس کے نفاذ کے ساتھ، عوامی نقل و حمل کے اخراجات میں مزید اضافہ متوقع ہے، جو کہ سفر کرنے والوں پر مالی دباؤ ڈال سکتا ہے۔

  • امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم بنانے کے لیے پرعزم، ڈونلڈ لو

    امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم بنانے کے لیے پرعزم، ڈونلڈ لو

    جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکی معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو نے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہے، خاص طور پر وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے دوران۔ انہوں نے یہ بات ایک نجی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں کہی، جہاں انہوں نے پاکستان کی معاشی بحالی اور جاری اصلاحات کے حوالے سے امید کا اظہار کیا۔لو نے عالمی بینک کے ہیڈ کوارٹر میں پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقات کے بعد یہ ریمارکس دیے، جس میں انہوں نے کہا، "پاکستان کی معاشی بحالی سے ہمیں بہت حوصلہ ملا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ اقتصادی اصلاحات پاکستان کے مستقبل کے لیے نہایت ضروری ہیں۔
    انہوں نے مزید کہا، "یہ اصلاحات آسان نہیں ہیں، لیکن یہ پاکستان کے طویل مدتی استحکام کے لیے بہت اہم ہیں۔” لو نے کہا کہ ان اصلاحات کے کامیاب نفاذ سے نوجوانوں سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو فائدہ پہنچے گا، جو کہ ملک کی ترقی کے لیے ایک مثبت قدم ثابت ہو گا۔ڈونلڈ لو نے سکیورٹی تعاون کے حوالے سے پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے لیے امریکہ کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا، "ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی فوج اور حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اور پاکستانی عوام کے درمیان گہرے تعلقات ہیں، اور امریکہ پاکستان کی کامیابی کے لیے پرعزم ہے۔
    ڈونلڈ لو نے اس بات پر زور دیا، "امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان ترقی کرے اور کامیاب ہو۔” ان کے اس بیان نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کا عکاس کیا اور اس بات کی وضاحت کی کہ امریکہ پاکستان کی ترقی میں ایک مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔یہ بیانات پاکستان کی موجودہ حکومت اور اس کی معاشی اصلاحات کے حوالے سے امید کی کرن فراہم کرتے ہیں، اور دونوں ممالک کے تعلقات کی مضبوطی کی ایک مثال پیش کرتے ہیں۔ ڈونلڈ لو کے اشارے مستقبل میں پاکستان کی ترقی کی راہوں میں ممکنہ تعاون کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔

  • وزیرِ اعظم شہباز شریف کی نیویارک میں برطانوی ہم منصب سے ملاقات

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی نیویارک میں برطانوی ہم منصب سے ملاقات

    نیویارک: وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے نیویارک میں برطانوی وزیرِ اعظم سے اہم ملاقات کی، جس میں پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال، عالمی مسائل اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پاکستان کی معاشی استحکام کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت نے معیشت کو مستحکم کرنے کے بعد ترقی کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں خاص طور پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اصلاحات اور ٹیکس بیس میں توسیع شامل ہے۔ انہوں نے ان اقدامات کو ملک کے اقتصادی مستقبل کے لیے اہم قرار دیا۔

    وزیرِ اعظم نے پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کا سامنا کرنے والے ممالک میں سے ایک قرار دیتے ہوئے، اس چیلنج کے حوالے سے بھی برطانوی ہم منصب کو آگاہ کیا اور عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ موسمیاتی تبدیلی جیسے عالمی مسائل سے نمٹنے کے لیے دنیا کو مل کر کام کرنا ہوگا۔شہباز شریف نے پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی برادری کو مشترکہ کوششیں کرنی ہوں گی۔

    پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ برطانیہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں مختلف منصوبوں میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ملاقات میں وزیرِ اعظم نے برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے کردار کو سراہا اور دونوں ممالک کی ترقی میں ان کے کردار کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان عوامی روابط اور تبادلوں کو فروغ دینا باہمی ترقی کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔

  • سوات میں دہشتگردی کے خطرے کے باعث الرٹ،

    سوات میں دہشتگردی کے خطرے کے باعث الرٹ،

    سوات: دہشتگردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر سوات کی جانب سے ایک الرٹ جاری کیا گیا ہے جس میں عوامی اور سیاسی اجتماعات کو ملتوی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سوات میں دہشتگردی کے خدشات موجود ہیں، اس لئے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لئے یہ اقدام اٹھایا جا رہا ہے۔دوسری جانب سوات قومی جرگہ نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اس الرٹ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جرگہ کے مطابق کل سوات میں دہشت گردی اور بدامنی کے خلاف ایک امن مارچ ہونا ہے، جس کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ سوات قومی جرگہ نے کہا کہ دہشتگردی کے لیے سوات میں کوئی جگہ نہیں اور ہر صورت میں امن مارچ منعقد ہوگا۔جرگہ نے مزید کہا کہ امن و امان کی فراہمی ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، مگر انتظامیہ سیکیورٹی فراہم کرنے کے بجائے دہشتگردی کے خدشے کا بہانہ بنا رہی ہے۔ جرگہ کا کہنا تھا کہ نوٹیفکیشن کے باوجود امن مارچ کل ہر صورت میں ہوگا اور وہ کسی بھی قسم کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔