Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • بیرسٹر سیف کا مریم نواز پر سنگین الزامات: جھوٹ اور الزامات کی سیاست مسلم لیگ (ن) کا وطیرہ

    بیرسٹر سیف کا مریم نواز پر سنگین الزامات: جھوٹ اور الزامات کی سیاست مسلم لیگ (ن) کا وطیرہ

    نوشہرہ (نامہ نگار) خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے مشیر اطلاعات، بیرسٹر محمد علی سیف نے مریم نواز اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ نوشہرہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے مریم نواز سے چیلنج کیا کہ وہ حلفاً بتائیں کہ کیا ان کے والد نواز شریف نے 2018 کے انتخابات میں ڈاکٹر یاسمین راشد سے شکست نہیں کھائی تھی؟ انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز کو اپنی جیتی ہوئی سیٹ کے حوالے سے بھی سچائی ظاہر کرنی چاہیے کہ کیا وہ واقعی انہوں نے جیتی تھی یا کسی اور کی جیتی ہوئی سیٹ پر قبضہ کیا تھا۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کا وطیرہ ہی جھوٹ اور الزامات کی سیاست کرنا ہے۔ انہوں نے مریم نواز اور ان کی جماعت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سیاسی چالوں کے ذریعے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اور ان کے پاس کوئی حقیقی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔
    مشیر اطلاعات نے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی صوبے کے لیے خدمات کو سراہا اور کہا کہ وزیراعلیٰ دن رات صوبے کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں خیبر پختونخوا کے عوام کو بہتر مستقبل کی امید ہے اور ان کی حکومت صوبے کی ترقی کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کر رہی ہے۔بیرسٹر سیف نے الیکشن کمیشن کو بھی آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ کمیشن سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود انتخابات کے حوالے سے تاخیر سے کام لے رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ الیکشن کمیشن جان بوجھ کر وقت ضائع کر رہا ہے تاکہ شفاف اور بروقت انتخابات کو روکا جا سکے۔ ان کے مطابق، یہ عمل عوام کے مینڈیٹ کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے اور اسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
    مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کو جعلی قرار دیتے ہوئے ان پر غیر قانونی آئینی ترامیم کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جعلی حکومت کے پاس آئینی ترمیم کرنے کا کوئی قانونی حق نہیں ہے، اور ان کی حکومت کسی بھی غیر قانونی ترمیم پر ان کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گی۔بیرسٹر سیف کے ان بیانات نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید گرما گرم بیانات کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • پشاور میں بجلی کا بحران: دلہ ذاک گرڈ اسٹیشن پر مظاہرین کا حملہ

    پشاور میں بجلی کا بحران: دلہ ذاک گرڈ اسٹیشن پر مظاہرین کا حملہ

    پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے دلہ ذاک گرڈ اسٹیشن پر مشتعل مظاہرین نے دھاوا بول کر گرڈز کو آف کر دیا، جس کے نتیجے میں پشاور کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔پیسکو کے ترجمان کے مطابق 800 سے زائد مظاہرین زبردستی گرڈ اسٹیشن میں داخل ہوئے اور گرڈ کو مکمل طور پر بند کر دیا۔ مظاہرین نے تمام فیڈرز سے منسلک بجلی کی سپلائی روک دی، جس سے شہر کے بڑے حصوں کو بجلی کی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔مظاہرین کا تعلق گلوزئی، محمد زئی اور گل بیلہ فیڈرز سے تھا۔ پیسکو کے مطابق، ان علاقوں میں لائن لاسز کی شرح انتہائی بلند ہے، جس کے باعث لوڈ مینجمنٹ کی جاتی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ گلوزئی فیڈر پر 91 فیصد، محمد زئی پر 89 فیصد، اور گل بیلہ فیڈر پر 75 فیصد سے زائد لائن لاسز ہیں۔
    مظاہرین نے گرڈ اسٹیشن کے سامنے سڑک کو بھی بند کر دیا اور پیسکو کے خلاف احتجاج کیا۔ پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کی جانب سے ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد، پی ڈی اے ملازمین نے بھی احتجاجاً بی آر ٹی روٹ کو بند کر دیا،پیسکو حکام کا کہنا ہے کہ بجلی کی بحالی کے لیے اقدامات جاری ہیں، تاہم اس واقعے کے باعث متاثرہ علاقوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

  • مریم نواز کی حکومت بہت جلد جانے والی ہے، سینیٹر عون عباس

    مریم نواز کی حکومت بہت جلد جانے والی ہے، سینیٹر عون عباس

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بپی نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے اس دعوے پر قائم ہیں کہ مریم نواز کی حکومت 30 اکتوبر تک برقرار نہیں رہے گی۔ انہوں نے یہ بات ایک ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے آئینی ترمیم کی عدم پاسداری کی صورت میں مسلم لیگ ن کی حکومت کے خاتمے کی پیشگوئی کی۔سینیٹر بپی نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب، مریم نواز، انہیں مینار پاکستان پر جلسے کے لیے نو آبادی کی اجازت نہیں دیں گی، تاہم وہ 5 اکتوبر کو مینار پاکستان لاہور جانے کا عزم رکھتے ہیں۔ پروگرام میں موجود مسلم لیگ ن کے رہنما بلال اظہر کیانی نے علی امین گنڈاپور پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پنجاب جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور انہیں غنڈہ قرار دیا۔ یہ سیاسی مباحثے اور دعوے ایک ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب ملک میں سیاسی حالات کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، اور دونوں جماعتیں اپنی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

  • کشمیر میں امن کی بحالی کے لیے بامعنی مذاکرات کی ضرورت ہے، میر واعظ عمر فاروق

    کشمیر میں امن کی بحالی کے لیے بامعنی مذاکرات کی ضرورت ہے، میر واعظ عمر فاروق

    سری نگر: حریت رہنما نے تنازع کشمیر کے حتمی حل کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان بامعنی مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کشمیر میڈیا سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں، اور اس کی عدم موجودگی میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔میر واعظ نے مزید کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے جنگ کا راستہ نہیں، بلکہ بات چیت اور باہمی افہام و تفہیم ہی اصل حل ہیں۔ ان کے مطابق، بھارتی حکومت کی جانب سے امن کے دعوے کرنے کے باوجود، عام لوگ خوف کی وجہ سے خاموش ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ظلم و جبر، غیر قانونی گرفتاریوں، اور میڈیا پر پابندیوں کے ظالمانہ اقدامات نے لوگوں کے اندر خوف پیدا کر دیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنی آواز بلند کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کشمیر میں امن اور استحکام کی بحالی کے لیے مؤثر اور نتیجہ خیز مذاکرات کی ضرورت ہے۔

  • وفاقی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے

    وفاقی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے

    وفاقی حکومت نے بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر تقرر و تبادلے کر دیئے ہیں، جن کے نوٹیفیکیشن اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔ یہ اقدام وفاقی حکومت کی انتظامی اصلاحات اور کارکردگی میں بہتری کے مقصد کے تحت کیا گیا ہے۔جوائنٹ سیکرٹری وزارت پارلیمانی امور اور سیکرٹریٹ گروپ کے گریڈ 20 کے افسر، احمد جان ملک، کو تبدیل کرکے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ان کی نئی تعیناتی کے تحت وہ مختلف اہم انتظامی امور میں اپنا کردار ادا کریں گے۔اسی طرح، جوائنٹ سیکرٹری وزارت قانون و انصاف، عرفان انجم، جو کہ بھی گریڈ 20 کے افسر ہیں، کو بھی تبدیل کر کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ان کی تجربہ کاری اور مہارت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
    سیکرٹری متروکہ املاک تنظیم اور سیکرٹریٹ گروپ کے گریڈ 19 کے افسر، جمال طیب، نے ایل پی آر (لیو پے ریٹائرمنٹ) کی انکیشمنٹ منظور کرالی ہے۔ وہ یکم جنوری 2025 کو ریٹائر ہو جائیں گے، جس کے بعد ان کی خدمات کا تجربہ ان کے جانشین کے لیے رہنمائی کا سبب بنے گا۔نوٹیفیکیشن کے مطابق، ڈپٹی سیکرٹری وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان، رخسانہ سومرو، بھی ایل پی آر کی انکیشمنٹ کی منظوری دے چکی ہیں۔ ان کا بھی ریٹائرمنٹ کا وقت یکم جنوری 2025 مقرر کیا گیا ہے۔ یہ دونوں افسران اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد نئی زندگی کا آغاز کریں گی۔اس کے علاوہ، ڈپٹی ڈائریکٹر مینجمنٹ سروسز ونگ، مسز نورینہ بی بی، کو تبدیل کر کے ڈپٹی جنرل منیجر ٹریڈنگ کارپوریشن میں تعینات کیا گیا ہے۔ ان کی تعیناتی ویڈ لاک پالیسی کے تحت ڈیپوٹیشن پر تین سال کے لیے کی گئی ہے، جو کہ انہیں نئے چیلنجز کا سامنا کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔
    اسکے علاوہ سیکشن افسر وزارت دفاع، محمد ممتاز، جو کہ او ایم جی کے گریڈ 17 کے افسر ہیں، کو تبدیل کر کے نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ ڈویژن میں سیکشن افسر کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت کی ترجیحات میں غذائی سیکیورٹی کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔یہ تقرر اور تبادلے اس بات کی علامت ہیں کہ وفاقی حکومت اپنی بیوروکریسی کی ساخت کو مزید مؤثر اور کارآمد بنانے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ ان تبدیلیوں سے حکومتی اداروں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی اور عوامی خدمت کے معیار میں اضافہ ہوگا۔

  • اسرائیل کی فضائی اور ممکنہ زمینی کارروائیاں: جنوبی لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

    اسرائیل کی فضائی اور ممکنہ زمینی کارروائیاں: جنوبی لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

    اسرائیل کے آرمی چیف ہرزی ہلیوی نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے جنوبی لبنان میں فضائی حملوں کی شدت نے زمینی کارروائیوں کے لیے راہ ہموار کر دی ہے، اور اسرائیلی فوج کسی بھی وقت زمینی حملے شروع کر سکتی ہے۔ حالیہ دنوں میں اسرائیلی فضائی کارروائیوں نے حزب اللہ کے خلاف کامیاب نتائج دیے ہیں، جس سے اسرائیلی بری فوج کے لیے آگے بڑھنے کا عمل آسان ہو گیا ہے۔جنوبی لبنان پر اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں اب تک 569 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 50 سے زائد معصوم بچے بھی شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1900 سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ حملے شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور ان میں اسرائیلی فضائیہ نے حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق، اب تک حزب اللہ کے 1600 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
    اسرائیل کے آرمی چیف نے کہا کہ فضائی حملے دراصل زمینی کارروائی کی تیاریوں کا ایک حصہ ہیں، جس کا مقصد حزب اللہ کی فوجی قوت کو کمزور کرنا ہے تاکہ زمینی کارروائی کے دوران اسرائیلی فوج کو زیادہ مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ہرزی ہلیوی نے کہا کہ "ہم نے جنوبی لبنان کو دن بھر نشانہ بنایا ہے اور اب حزب اللہ کی حملہ کرنے کی صلاحیت برائے نام رہ گئی ہے۔اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے 200 سے زائد راکٹ داغے ہیں۔ یہ راکٹ اسرائیل کے مختلف شہروں میں گرے ہیں، جس میں چند راکٹ تل ابیب تک پہنچے ہیں۔ اسرائیلی حکومت نے ان راکٹ حملوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے متعدد حصوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم حملوں کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آئی ہیں۔
    حزب اللہ نے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کے ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنانے کے لیے ایک میزائل داغا تھا۔ تاہم، اسرائیلی فوج نے اس میزائل کو تباہ کر دیا ہے اور اس حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔ یہ دعویٰ اس جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی اداروں کو براہ راست نشانہ بنانے کی کوششوں کا اشارہ مل رہا ہے۔اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے، اور اب زمینی جنگ کے امکانات بھی مزید قوی ہوتے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائی کے لیے کی جانے والی تیاریاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ آنے والے دنوں میں جنوبی لبنان میں مزید خونریزی ہو سکتی ہے۔

  • پاکستان تحریک انصاف نے اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کی خواہش ظاہر کردی

    پاکستان تحریک انصاف نے اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کی خواہش ظاہر کردی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمان رؤف حسن نے ایک مرتبہ پھر اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف آج بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتی ہے، اور اس بات چیت کو ناگزیر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔رؤف حسن نے واضح کیا کہ "ہم بات چیت کے لیے پہلے بھی تیار تھے، اور آج بھی ہیں۔” انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ حال ہی میں پی ٹی آئی کے بانی نے اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کے دروازے بند کرنے کا اعلان کیا تھا، اور پارٹی کو ہدایت کی گئی تھی کہ اب اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کوئی بات نہیں کی جائے گی۔یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی کے اندرونی حالات میں تبدیلیاں اور سیاسی چالیں جاری ہیں، اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کی نوعیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی اس خواہش نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جس میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا پارٹی اپنے مؤقف میں تبدیلی کر رہی ہے یا نہیں۔

  • سبی: دستی بم حملے میں ایک بچہ جاں بحق، دو زخمی

    سبی: دستی بم حملے میں ایک بچہ جاں بحق، دو زخمی

    بلوچستان کے ضلع سبی میں بس اڈے کے قریب ایک دستی بم حملے کے نتیجے میں ایک بچہ جاں بحق اور دو دیگر بچے زخمی ہوگئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق، واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی ٹیموں نے علاقے کو سیل کر دیا اور بم ڈسپوزل سکواڈ کو طلب کر لیا۔ فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے، تاہم ابتدائی طور پر حملے کی وجہ کا پتہ نہیں چل سکا۔پولیس کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں اردگرد کے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ جاں بحق ہونے والے بچے کی لاش اور زخمیوں کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے حملے میں ملوث ملزمان کی تلاش کا عمل شروع کر دیا ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال تشویش ناک ہے، اور حکام نے شہریوں کی حفاظت کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

  • سوات: سفارتکاروں کے قافلے پر حملہ، ڈی آئی جی اور ڈی پی او عہدے سے برطرف

    سوات: سفارتکاروں کے قافلے پر حملہ، ڈی آئی جی اور ڈی پی او عہدے سے برطرف

    سوات میں غیر ملکی سفارتکاروں کے قافلے پر ہونے والے بم دھماکے کے بعد ڈی آئی جی مالاکنڈ، محمد علی گنڈاپور، اور ڈی پی او سوات، زاہد اللہ، کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق دونوں افسران کو سینٹرل پولیس آفس (سی پی او) رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔یہ دھماکہ 22 ستمبر کو سوات کے سیاحتی مقام مالم جبہ کے قریب اس وقت پیش آیا جب ایک غیر ملکی سفارتکاروں کا قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا۔ اس واقعے میں ایک پولیس اہلکار شہید اور تین دیگر زخمی ہوئے تھے، تاہم خوش قسمتی سے تمام سفارتکار محفوظ رہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بم دھماکہ ایک منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا اور اس کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں کئی گاڑیاں شدید متاثر ہوئیں۔واقعے کے فوری بعد صوبائی حکومت نے اس سنگین سکیورٹی ناکامی کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی مالاکنڈ اور ڈی پی او سوات کو ان کے عہدوں سے فارغ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی واقعے کی جامع تحقیقات کے لیے دو رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جس میں ایڈیشنل آئی جی انویسٹیگیشن اور سپیشل سیکرٹری داخلہ شامل ہیں۔
    ذرائع کے مطابق، اس تحقیقاتی کمیٹی کو دھماکے کے محرکات، ممکنہ سکیورٹی خامیوں، اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ کمیٹی دھماکے کے پیچھے ممکنہ عناصر کی نشاندہی کرے گی، چاہے وہ مقامی ہو یا کسی بیرونی تنظیم کے کارندے۔ اس کے علاوہ، کمیٹی سکیورٹی اقدامات میں پائی جانے والی کمیوں کو بھی اجاگر کرے گی تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔کمیٹی کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی جائے گی جو صوبائی حکومت کو پیش کی جائے گی۔ یہ رپورٹ سکیورٹی اقدامات کی بہتری اور ذمہ داران کے تعین میں مددگار ثابت ہوگی۔اس واقعے کے بعد سوات اور خیبرپختونخوا کے دیگر سیاحتی مقامات کی سکیورٹی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سوات کی تاریخ میں سکیورٹی چیلنجز کی موجودگی سے خطے میں سیاحت اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی منفی اثرات پڑ سکتے ہیں۔ غیر ملکی سفارتکاروں پر ہونے والے اس حملے نے عالمی سطح پر تشویش کو جنم دیا ہے، اور مقامی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔صوبائی حکومت کی جانب سے اس واقعے کے بعد سوات اور دیگر حساس علاقوں میں سکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے اعلانات متوقع ہیں۔ مقامی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور دھماکے کے ذمہ داران کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اس کے علاوہ، سفارتی ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق، عالمی برادری اس واقعے کی مزید تحقیقات کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

  • ایف بی آر کی پہلی سہ ماہی میں 2,652 ارب ٹیکس وصولی کا ہدف

    ایف بی آر کی پہلی سہ ماہی میں 2,652 ارب ٹیکس وصولی کا ہدف

    اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 2 ہزار 652 ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کر لیا جائے گا۔ ایف بی آر نے شارٹ فال کی صورت میں منی بجٹ کے امکانات کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ رواں سہ ماہی میں ٹیکس اہداف حاصل کرنے کے لیے مختلف ذرائع پر انحصار کیا جائے گا۔ایف بی آر حکام نے وضاحت کی ہے کہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 2 ہزار 652 ارب روپے کا ٹیکس جمع کرنے کا ہدف ہے، جس میں سے انکم ٹیکس ریٹرنز کے ساتھ تقریباً 50 ارب روپے اضافی وصول کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، حکام کے مطابق مختلف شعبوں سے ایڈوانس ٹیکس کی وصولی کے ذریعے بھی ٹیکس اہداف کو پورا کیا جائے گا۔ بینکوں سمیت کارپوریٹ سیکٹر سے ایڈوانس قسطیں وصول کی جائیں گی جبکہ گیس کمپنیوں سے بھی ٹیکس واجبات کی وصولی کی توقع کی جا رہی ہے۔ایف بی آر نے شارٹ فال کی صورت میں منی بجٹ کے امکانات کو رد کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ پہلی سہ ماہی میں تمام اہداف حاصل کرلیے جائیں گے۔
    حکام کے مطابق، گزشتہ سالوں کے مقابلے میں اس بار ٹیکس وصولیوں میں خاصی بہتری آئی ہے اور کسی بھی شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ مالیاتی بحران پیدا نہ ہو۔ایف بی آر نے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے تاجر دوست اسکیم کے تحت مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کے تحت مجموعی طور پر 20 لاکھ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ اب تک 5 لاکھ تاجر رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔تاجروں کے ساتھ مذاکرات کی رفتار کو تیز کیا جا رہا ہے تاکہ مقررہ ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔ اس اسکیم کا مقصد تاجروں کو سہولت فراہم کرنا اور انہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہے تاکہ ملکی معیشت کو استحکام ملے اور ٹیکس ریونیو میں مزید اضافہ ہو۔حکام کے مطابق، حکومت معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے اور ٹیکس وصولیوں میں اضافہ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ایف بی آر کی جانب سے مزید کہا گیا ہے کہ مختلف منصوبوں کے تحت معیشت کو دستاویزی بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اور ادارے ٹیکس نیٹ میں شامل ہو سکیں۔