وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کراچی میں ایک تقریب کے دوران اقتصادی حالات اور مہنگی بجلی کے باعث بجلی کی طلب میں کمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں صرف سوا لاکھ افراد کی نیٹ میٹرنگ ہوئی ہے، اور یہ کہ نیٹ میٹرنگ کے فوائد صرف امیروں کو حاصل ہو رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ وقت میں صرف 25 فیصد بجلی امپورٹڈ فیول سے پیدا کی جا رہی ہے، اور تقسیم کار کمپنیوں کی نااہلی کی وجہ سے ملک میں لوڈ شیڈنگ بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے صوبوں کے ساتھ بجلی کے معاملات میں تعاون کے بارے میں مثبت جواب ملنے کی خوشی کا اظہار بھی کیا۔
اویس لغاری نے کے الیکٹرک کی مہنگی بجلی کی سبسڈی کے حوالے سے سخت تنقید کی، کہنے لگے کہ حکومت ہر سال 170 ارب روپے کے الیکٹرک کو سبسڈی دے رہی ہے، جو کہ غلط ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کے الیکٹرک کو اللہ ہدایت دے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 2034 میں ملک میں صرف 6 فیصد بجلی امپورٹڈ فیول سے پیدا کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں بجلی کے نرخ یکساں نہیں ہونے چاہئیں، کیونکہ یکساں بجلی نرخ کے سیاسی نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ ایک کمپنی کو بجلی بیچنے کا اختیار کیوں دیا گیا ہے، اور عوام کو متبادل توانائی کے ذرائع سے فائدہ اٹھانے کا اختیار ہونا چاہیے۔
اویس لغاری نے بتایا کہ کئی متبادل توانائی کے بجلی گھروں کی بجلی تقریباً مفت ہوگی، مگر نظام کی کمیابی کی وجہ سے عوام ان سے فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔ اویس لغاری نے اہم بجلی گھروں سے ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے معاملے میں تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ باہمی اتفاق کے ذریعے ہی کچھ کیا جا سکتا ہے، کیونکہ کچھ آئی پی پیز نے 11 گنا زیادہ منافع کما لیا ہے۔ انہوں نے سرکاری بجلی گھروں کو ہدایت کی کہ وہ ریٹرن آن ایکویٹی کم کریں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 6 ہزار میگاواٹ کے سولر پینل درآمد کیے گئے، جن میں سے 4500 میگاواٹ صرف اس لیے لگائے گئے کہ 300 گھنٹے کے پیک لوڈ کو پورا کیا جا سکے۔ اس بیان کے ذریعے اویس لغاری نے بجلی کی پیداوار، تقسیم اور عوامی رسائی کے معاملات پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے، جو کہ ملک کی معیشت اور عوام کی زندگیوں پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔
Author: صدف ابرار
-

اویس لغاری کا اقتصادی حالات اور بجلی کی طلب میں کمی پر اظہار خیال
-

عدلیہ اپنے دائرہ کار میں رہے اور آئین کے مطابق فیصلے کرے، سینیٹر عرفان صدیقی
اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عرفان صدیقی نے عدلیہ کے کردار اور آئین کی تشریح کے حوالے سے سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر پارلیمنٹ کوئی غلطی کرے تو عدلیہ اصلاح کر دیتی ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عدلیہ خود آئین سے متصادم فیصلہ کرے تو اس کی اصلاح کون کرے گا؟ انہوں نے کہا کہ معزز ججز بھی انسان ہیں اور ان سے بھی غلطیاں ہو سکتی ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ عدلیہ اپنے دائرہ کار میں رہے اور آئین کے مطابق فیصلے کرے۔اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ آئین کی واضح ہدایات کے باوجود عدلیہ نے کئی معاملات میں آئین کی تشریح سے ہٹ کر فیصلے کیے ہیں۔ انہوں نے آزاد رکن کی کسی پارٹی میں شمولیت کے حوالے سے کہا کہ آئین کے مطابق آزاد رکن تین دن کے اندر کسی پارٹی میں شامل ہو سکتا ہے، لیکن عدلیہ نے اس مدت کو 15 دن تک بڑھا دیا، جو آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
عرفان صدیقی نے عدلیہ کی جانب سے مخصوص نشستوں کے فیصلے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس فیصلے کو دو ماہ گزر چکے ہیں لیکن ان کی اپیلیں سماعت کے لیے مقرر نہیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی حدود سے تجاوز کی وجہ سے آئین کی بہت سی شقیں مفلوج ہو چکی ہیں اور عدلیہ کا یہ رویہ پارلیمان کے اختیار کو چیلنج کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین میں واضح طور پر لکھا ہے کہ پارلیمنٹ میں کی گئی کوئی آئینی ترمیم عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکتی۔ آئین کے مطابق مجلس شوریٰ کی اتھارٹی کو کوئی حد نہیں ہے، اور جب آئین کہتا ہے کہ کوئی ترمیم چیلنج نہیں ہو سکتی تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ عدالت میں اس کو چیلنج کیا جائے؟
عرفان صدیقی نے اپنی پریس کانفرنس میں یہ بھی انکشاف کیا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ عوام کو سولر پینل کے حوالے سے ریلیف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف ملک کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہمیشہ کوشاں رہتے ہیں اور انہوں نے حالیہ معاشی مشکلات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا ہے تاکہ عوام کو بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے نجات مل سکے۔عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کے تعلقات میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک سسٹم طے کیا ہے جس کے تحت آئندہ عدالتوں کے جج صاحبان کے لیے ایک واضح نظام موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی اتھارٹی کو عدالت کی آزادی کی بھینٹ نہیں چڑھا سکتے اور ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ دونوں اپنی حدود میں رہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہتے ہیں اور ہمیں اپنے دائرہ اختیار میں کام کرنے دیا جائے۔ انہوں نے عدلیہ کے غیر آئینی فیصلوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہم پر چابک نہ ماریں کہ آپ فیصلہ کیوں نہیں مانتے۔ آئین اور قانون بنانے کا حق پارلیمنٹ کے پاس ہے، اور عدلیہ کا کام صرف آئین کے مطابق فیصلے کرنا ہے، نہ کہ آئین میں ترمیم کرنا۔عرفان صدیقی نے کہا کہ پارلیمان نے عدلیہ کو بنایا ہے، عدلیہ نے پارلیمان کو نہیں بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ہی وہ ادارہ ہے جو ججوں کی تعداد، ان کی تنخواہ اور پنشن کا تعین کرتا ہے۔ پارلیمنٹ نے کہا کہ آپ 17 ہوں گے تو آپ 17 ہیں، پارلیمنٹ نے ہی آپ کی تنخواہ اور پنشن کا تعین کیا ہے۔سینیٹر عرفان صدیقی کے ان بیانات نے عدلیہ اور پارلیمنٹ کے تعلقات پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں اور یہ بحث زور پکڑتی جا رہی ہے کہ ملک میں آئین کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے دونوں اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔ -

پاکستان فٹبال فیڈریشن کے انتخابات دسمبر کے وسط تک مکمل ہوں گے، چیئرمین ہارون ملک
پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) کی نارملائزیشن کمیٹی کے چیئرمین ہارون ملک نے اعلان کیا ہے کہ اگلے دو ماہ کے دوران پی ایف ایف کے انتخابات کا عمل مکمل ہو جائے گا۔ تاہم، انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ پی ایف ایف کے صدر کے عہدے کے لیے امیدوار نہیں ہیں۔ یہ بیان انہوں نے لاہور میں فیفا ہاؤس میں منعقدہ ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران دیا، جہاں ان کے ہمراہ نارملائزیشن کمیٹی کے رکن شاہد کھوکھر بھی موجود تھے۔پریس کانفرنس میں چیئرمین این سی ہارون ملک نے انتخابات کے عمل اور فیڈریشن کی موجودہ سرگرمیوں کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ سے صوبائی سطح تک الیکشن کا عمل کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے اور صوبائی عہدیداران کا اعلان بھی جلد کر دیا جائے گا۔ ہارون ملک کا کہنا تھا کہ یہ ایک اہم پیش رفت ہے جس سے فٹبال فیڈریشن کی جمہوری بحالی کی راہ ہموار ہو گی۔
ہارون ملک نے نارملائزیشن کمیٹی کی کارکردگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر مینز اور ویمنز فٹبال کی سرگرمیوں کا کامیابی سے انعقاد کیا گیا ہے۔ ان سرگرمیوں میں خاص طور پر ورلڈ کپ اور اولمپکس کوالیفائرز میں ٹیموں کی کامیابیوں کو سراہا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پی ایف ایف نارملائزیشن کمیٹی نے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے اور پی ایف ایف کے آئین کے مطابق انتخابات کی راہ ہموار کی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ انتخابات کا عمل دسمبر کے وسط تک مکمل ہو جائے گا، جس کے بعد فیڈریشن کی باگ دوڑ ایک منتخب قیادت کو سونپ دی جائے گی۔پریس کانفرنس کے دوران ہارون ملک نے اپنی ذاتی دلچسپیوں کے بارے میں وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان فٹبال فیڈریشن کے صدر کے عہدے کے امیدوار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد نارملائزیشن کمیٹی کے مینڈیٹ کو پورا کرنا اور فیڈریشن کے انتخابات کو خوش اسلوبی سے مکمل کرانا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ نارملائزیشن کمیٹی کا قیام فیفا کی جانب سے کیا گیا تھا تاکہ پی ایف ایف کے اندرونی مسائل کو حل کیا جا سکے اور فیڈریشن کو ایک شفاف اور جمہوری طریقے سے انتخابات کی جانب لے جایا جائے۔ اس کمیٹی کا بنیادی کام پی ایف ایف کو مستحکم کرنا اور انتخابات کا انعقاد کرنا ہے تاکہ فیڈریشن کی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہو سکیں۔ہارون ملک کی قیادت میں کمیٹی نے کئی کامیاب اقدامات کیے ہیں، جن میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر فٹبال کے مقابلوں کا انعقاد اور فیڈریشن کے امور کو بہتر طریقے سے چلانا شامل ہے۔ -

مریم نواز نے کچے کے علاقوں میں پولیس کے لیے ہارڈ ایریا الاؤنس کی منظوری دے دی
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کچے کے علاقوں میں پولیس اہلکاروں کی ڈیوٹی کے لیے ہارڈ ایریا الاؤنس کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پولیس اہلکاروں کی محنت اور قربانیوں کو سراہ رہی ہے۔ یہ اقدام پولیس کی تاریخ میں ایک نیا باب ہے، خاص طور پر کچے کے خطرناک علاقوں میں خدمات انجام دینے والے اہلکاروں کے لیے۔پنجاب پولیس کے ذرائع کے مطابق، یہ الاؤنس پہلی بار فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ ان اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی جا سکے جو اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر شہریوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ جن میں انسپکٹر، سب انسپکٹر اور اے ایس آئی:** ہر ماہ 25 ہزار روپے ہارڈ ایریا الاؤنس۔ہیڈ کانسٹیبل اور کانسٹیبل:** ہر ماہ 20 ہزار روپے ہارڈ ایریا الاؤنس، جبکہ درجہ چہارم کے پولیس ملازمین:** ہر ماہ 18 ہزار روپے ہارڈ شپ الاؤنس مقرر کیا گیا ،
یہ اقدامات خاص طور پر رحیم یار خان کے کچے کے علاقے میں تعینات 943 اور راجن پور کے 414 پولیس افسران و اہلکاروں کے لیے کیے گئے ہیں، جو اس الاؤنس سے مستفید ہوں گے۔ اس کے لیے مجموعی طور پر 33 کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز کی منظوری دی گئی ہے۔وزیراعلیٰ کے اس اقدام پر کچے کی چوکیوں پر تعینات پولیس جوانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ اب پہلے سے زیادہ دل جمعی اور جوش و جذبے کے ساتھ کام کریں گے تاکہ کچے کے ڈاکوؤں اور شرپسند عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ان کا عزم ہے کہ یہ الاؤنس ان کی محنت کو تسلیم کرنے کا ایک بڑا قدم ہے اور اس سے ان کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے اس اقدام نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ حکومت ان پولیس اہلکاروں کی خدمات کو کبھی نظرانداز نہیں کرے گی جو عوام کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ الاؤنس ان کے حوصلے بڑھانے کا باعث بنے گا اور انہیں اپنے فرائض کو بہتر طریقے سے انجام دینے کی تحریک دے گا۔یہ اقدام نہ صرف پولیس کی مدد کرے گا بلکہ علاقے میں امن و امان کی صورت حال کو بھی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا، جس کا بنیادی مقصد عوام کی زندگیوں کو محفوظ بنانا ہے۔ اس طرح کے اقدام حکومت کی جانب سے عوامی خدمت کے عزم کا ثبوت ہیں اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس سے پولیس کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ -

نریندر مودی کا امریکا کا دورہ: اہم ملاقاتیں اور کواڈ سمٹ میں شرکت
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکا کا 3 روزہ دورہ مکمل کر کے بھارت واپس پہنچ گئے ہیں۔ اس دورے کے دوران مودی نے امریکی صدر جو بائیڈن کی سربراہی میں ہونے والے کواڈ لیڈر سمٹ میں شرکت کی، جو 21 ستمبر کو منعقد ہوا۔ اس سمٹ میں آسٹریلوی اور جاپانی وزرائے اعظم بھی شامل تھے۔دورے کے دوران مودی نے اقوام متحدہ کے فیوچر سمٹ میں خطاب کیا اور متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ یہ واضح ہے کہ مودی کا یہ دورہ بین الاقوامی تعلقات میں بھارت کے کردار کو مستحکم کرنے کی کوشش کا حصہ تھا۔دورے کے دوران ایک دلچسپ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب جو بائیڈن نے کواڈ لیڈرز سمٹ کی پریس کانفرنس میں مودی کا تعارف کروانا بھول گئے۔
81 سالہ بائیڈن نے کہا، "آپ سب کا شکریہ۔۔۔ اور اب میں کس کا تعارف کروانے والا ہوں؟ کون اگلا ہے؟” اس لمحے میں ان کی الجھن نے حاضرین کو ہنسانے پر مجبور کر دیا۔ جو بائیڈن کے عملے کے ایک رکن نے انہیں یاد دلایا کہ نریندر مودی بھارت کے وزیراعظم ہیں، جس پر مودی فوراً اسٹیج پر آ کر بائیڈن سے ہاتھ ملاتے ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں بھارت کی نمائندگی کریں گے۔ بھارت کا خطاب 28 ستمبر کو متوقع ہے، جو کہ بین الاقوامی پلیٹ فارم پر بھارت کے موقف کو اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع ہوگا۔اس دورے نے مودی کی عالمی سطح پر موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت کے خارجہ تعلقات میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا ہے۔ -

وزیر اعظم کی مالدیپ کے صدر سے ملاقات: تجارت، سیاحت اور موسمیاتی تبدیلی میں تعاون کا عہد
نیویارک: وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے 23 ستمبر 2024 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس کے موقع پر مالدیپ کے صدر ڈاکٹر معیوزو سے اہم دو طرفہ ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد پاکستان اور مالدیپ کے درمیان دیرینہ اور گہرے تعلقات کو مزید فروغ دینا تھا۔وزیر اعظم شہباز شریف اور صدر معیوزو کے درمیان یہ ملاقات ایک مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئی، جہاں دونوں رہنماؤں نے اپنے ممالک کے تعلقات کی گہرائی اور ہم آہنگی کو سراہا۔ ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت میں اضافہ کرنے کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے اور باہمی تجارتی روابط کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے سیاحت کے شعبے میں تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو ایک دوسرے کی ثقافت اور روایات سے آگاہی حاصل ہو۔وزیر اعظم نے تعلیم کے میدان میں تعاون کے فروغ کی اہمیت کو تسلیم کیا اور دونوں ممالک کے تعلیمی اداروں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے کا عزم کیا۔ سرمایہ کاری کے مواقع کو بڑھانے کے لیے مشترکہ اقدامات پر بھی بات چیت کی گئی، تاکہ اقتصادی ترقی میں مزید تیزی لائی جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا، کیونکہ یہ مسئلہ دونوں ممالک کے لیے اہمیت کا حامل ہے۔
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی روابط اور باہمی تعاون کی کوششوں میں اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی ترقی اور پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی سطح پر روابط سے دونوں قوموں کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور ان کے عوام کی زندگیوں میں بہتری آئے گی۔ملاقات کے دوران، وزیر اعظم اور صدر معیوزو نے خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے جنوبی ایشیائی ممالک کی مشترکہ ذمہ داری کو تسلیم کیا اور کہا کہ مشترکہ چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے باہمی تعاون انتہائی اہم ہے۔
یہ ملاقات پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوئی ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات کا عزم کیا کہ وہ اپنے ممالک کے عوام کی ترقی کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں گے اور مشترکہ مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔ اس کے علاوہ، ملاقات نے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی بنیاد فراہم کی ہے، جس سے جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام کو فروغ ملے گا۔ -

بیرسٹر سیف کا پی ٹی آئی کے خلاف جعلی مقدمات کا الزام
پشاور سے جاری ایک بیان میں، خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کے خلاف جعلی مقدمات درج کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ مقدمات پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کے حوصلے کو کمزور نہیں کر سکتے، خاص طور پر وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے خلاف سیاسی مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے۔بیرسٹر سیف نے مزید وضاحت کی کہ ان مقدمات کا مقصد علی امین گنڈاپور کی پنجاب میں ہونے والی جلسوں میں شرکت کو روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ علی امین گنڈاپور ان مقدمات کی پرواہ کیے بغیر جلسوں میں بھرپور شرکت کریں گے۔انہوں نے مریم نواز کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہیں پنجاب پولیس کا قبلہ درست کرنے کی ضرورت ہے اور وہاں کچے کے ڈاکوؤں پر توجہ دینی چاہیے جہاں پولیس کی ضرورت ہے۔بیرسٹر محمد علی سیف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے اور دعویٰ کیا کہ جعلی حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں۔
-

رانا ثناء اللہ کا پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے ساتھ آئینی ترمیم پر کام کرنے کا اعلان
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے حال ہی میں ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) بھی آئینی ترمیم کے اپنے ڈرافٹ پر کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چند اہم نکات پر اتفاق رائے حاصل کر لیا جائے گا۔رانا ثناء اللہ نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم کی واپسی کے بعد آئینی ترمیم کا مسودہ دو یا تین دن میں پیش کیا جائے گا۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال اور آئینی تبدیلیوں کی ضرورت پر گفتگو کی۔
ایک سوال کے جواب میں، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومت سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر عمل درآمد کرے گی، تو رانا ثناء اللہ نے واضح کیا کہ آئین میں واضح طور پر درج ہے کہ آزاد نشان پر الیکشن لڑنے والا امیدوار آزاد ہوگا اور تین دن کے اندر اگر وہ کسی جماعت میں شامل ہوتا ہے تو اس کا رکن ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "آئین میں یہ واضح طور پر لکھا ہے کہ یہ کام تین دن کے اندر ہونا چاہیے، اور یہ ہو چکا ہے۔ اب الیکشن کمیشن یا کوئی عدالت اس معاملے کو ریورس نہیں کر سکتی۔
رانا ثناء اللہ نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کو آئین کے برعکس فیصلے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر کوئی ادارہ آئین کی حدود سے باہر کام کرے گا، تو اس کی ذمہ داری بھی اسی پر ہوگی۔یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت آئینی اصلاحات کی طرف سنجیدگی سے غور کر رہی ہے اور آئندہ کی سیاسی حکمت عملی میں اس کا کردار اہم ہو گا۔ -

عطا اللّٰہ تارڑ کا پارلیمنٹ کی بالادستی اور سیاسی جماعتوں کے کردار پر زور
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللّٰہ تارڑ نے حال ہی میں نیو یارک میں ایک تقریب کے دوران پارلیمنٹ کی بالادستی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو کسی بھی سیاسی جماعت کو ریلیف دینے کے لیے اس کی درخواست کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا، "کسی کو مانگے بغیر ریلیف کیسے دیا جاسکتا ہے؟عطا تارڑ نے آزاد امیدواروں کے لیے جماعت میں شمولیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وضاحت کی کہ آزاد امیدوار کو تین دن کے اندر کسی جماعت میں شامل ہونا ہوتا ہے۔ انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کر کے ایک بڑی غلطی کی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مخصوص نشستوں کے کیس میں پی ٹی آئی کا کوئی دعویٰ نہیں ہے، کیونکہ حلف نامے دینے والے امیدوار پارٹی تبدیل نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قوانین سیاسی جماعتوں کے اندر شفافیت اور عدل کو برقرار رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ عطا اللّٰہ تارڑ نے اس موقع پر حکومتی اقدامات کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی، جو پارلیمنٹ کی مضبوطی اور جمہوری عمل کو مستحکم کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان کے بیانات نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر اتحاد اور شفافیت کی ضرورت ہے، تاکہ ملک کی جمہوریت کو مضبوط بنایا جا سکے۔ -

بلوچستان:جے یو آئی مولانا عبدالواسع صوبائی امیر اور آغا محمود شاہ جنرل سیکرٹری منتخب
کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام (ف) بلوچستان کے انٹرا پارٹی انتخابات کا مرحلہ آج کامیابی سے مکمل ہو گیا، جس میں صوبائی قیادت کے لیے کانٹے کا مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹر مولانا عبدالواسع کو آئندہ پانچ سال کے لیے صوبائی امیر منتخب کر لیا گیا ہے جبکہ سید آغا محمود شاہ نے جنرل سیکرٹری کی نشست پر کامیابی حاصل کی۔انتخابات میں سینیٹر مولانا عبدالواسع اور حافظ حمد اللہ کے درمیان صوبائی امیر کے عہدے کے لیے مقابلہ ہوا، جہاں مولانا عبدالواسع نے بھاری اکثریت سے فتح حاصل کی۔ انہوں نے مجموعی طور پر 1013 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے مد مقابل حافظ حمد اللہ کو 453 ووٹ ملے۔ دوسری جانب جنرل سیکرٹری کی نشست کے لیے مولانا آغا محمود شاہ اور مولانا عنایت اللہ رودنی کے درمیان سخت مقابلہ ہوا، جس میں آغا محمود شاہ نے 1065 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ ان کے حریف مولانا عنایت اللہ رودنی 401 ووٹ حاصل کر سکے۔
پارٹی ذرائع نے نتائج کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات منصفانہ اور شفاف طریقے سے منعقد ہوئے اور اس عمل سے پارٹی کی جمہوری روایت مزید مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مولانا عبدالواسع کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام بلوچستان کو مزید تقویت ملے گی اور صوبے میں اسلامی اقدار کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات کیے جائیں گے۔نتائج کے اعلان کے بعد نو منتخب صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے کارکنان اور پارٹی رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ذمہ داری کو اللہ کے فضل اور کارکنان کی محبت کے ساتھ نبھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح صوبے کے مسائل حل کرنا اور اسلام کے اصولوں کی روشنی میں فلاحی ریاست کے قیام کے لیے کام کرنا ہوگی۔
جنرل سیکرٹری آغا محمود شاہ نے بھی اپنے خطاب میں اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ وہ پارٹی کے تمام ارکان کے ساتھ مل کر بلوچستان میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنائیں گے اور عوامی خدمت کو مزید مؤثر بنائیں گے۔جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے یہ انتخابات پارٹی کے اندرونی جمہوری عمل کا حصہ ہیں، جو کہ صوبے میں سیاسی طور پر اہمیت کے حامل ہیں۔ ان انتخابات کے نتائج صوبے کی سیاسی صورتحال پر اثر انداز ہونے کا امکان رکھتے ہیں، کیونکہ جے یو آئی (ف) ایک مضبوط مذہبی اور سیاسی جماعت ہے جس کا صوبے میں گہرا اثر و رسوخ ہے۔مولانا عبدالواسع کا بطور صوبائی امیر انتخاب پارٹی کے اندرونی حلقوں میں ان کی مقبولیت اور مضبوط قیادت کا عکاس ہے، جبکہ آغا محمود شاہ کی جنرل سیکرٹری کے عہدے پر کامیابی ان کی تنظیمی صلاحیتوں کی توثیق کرتی ہے۔نو منتخب قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ وہ تمام جماعتی ساتھیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور بلوچستان کے عوام کی خدمت کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اتحاد کو مزید مستحکم کیا جائے گا اور آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے گا۔