Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • حالیہ حکومتوں کے قیام سے عالمی سطح پر جگ ہنسائی ہوئی: محمود اچکزئی

    حالیہ حکومتوں کے قیام سے عالمی سطح پر جگ ہنسائی ہوئی: محمود اچکزئی

    کوئٹہ: تحفظ آئین پاکستان موومنٹ کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آئینی ترامیم کو بند دروازوں کے پیچھے سازشوں کے ذریعے نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ یہ عمل عوامی اور ملکی ضروریات کے مطابق مکمل اتفاق رائے سے ہونا چاہیے۔ انہوں نے آئین پاکستان کو "کاغذ کا ٹکڑا” کے بجائے "مقدس دستاویز” قرار دیا اور زور دیا کہ ملک کی بقا اور ترقی آئین کی پاسداری میں مضمر ہے۔محمود خان اچکزئی نے اپنے خطاب کے دوران آئینی ترامیم کے حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کے تلخ تجربات سے سبق نہ سیکھنا ملک کے لیے نقصاندہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئین کو معمولی دستاویز سمجھنے کی روش ترک کرنی ہوگی اور آئینی ترامیم کو قومی مفادات اور عوامی ضرورت کے تحت کیا جانا چاہیے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز کا بہتر حل نکالا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے بانیوں نے آئین کو ایک ایسی دستاویز کے طور پر تیار کیا تھا جو ملک کی بنیادوں کو مضبوط کرے۔ تاہم، بدقسمتی سے ہم آج بھی آئین کی تقدس کو برقرار رکھنے میں ناکام رہے ہیں، جس کی وجہ سے ملک بحرانوں کا شکار ہو رہا ہے۔

    محمود خان اچکزئی نے کہا کہ عوامی حمایت رکھنے والے لیڈر کو جیل میں رکھنے سے ملک کو درپیش مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی بصیرت کی تعریف کی اور کہا کہ وہ ایک زیرک سیاستدان ہیں اور انہیں آئینی ترامیم کے معاملے پر سیاسی چالاکیوں سے بچنے کی ضرورت ہے۔ اگر مولانا فضل الرحمان نے موجودہ شکل میں آئینی ترامیم کو تسلیم کیا تو انہیں سیاسی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے ملک میں انتخابات اور حکومتوں کے قیام کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس انداز سے حالیہ برسوں میں حکومتیں وجود میں آئی ہیں، اس نے عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا باعث بنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابات کو شفاف اور غیر جانبدارانہ طریقے سے منعقد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوامی نمائندے حقیقی طور پر عوام کی امنگوں کی ترجمانی کر سکیں۔

    محمود خان اچکزئی نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو حکومت عوام کی بنیادی ضروریات، خاص طور پر روٹی کا بندوبست نہ کر سکے، اسے حکمرانی کا حق نہیں۔ ان کے مطابق ملک کے موجودہ مسائل کا حل آئین کی بالادستی، جمہوریت کے استحکام اور قانون کی حکمرانی میں مضمر ہے۔انہوں نے ملکی بحرانوں سے نکلنے کا حل نئے انتخابات کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر اصول و ضوابط طے کرنے چاہئیں۔ عوامی نمائندوں کے انتخاب کا حق صرف اور صرف عوام کے پاس ہونا چاہیے، تاکہ ملک میں حقیقی عوامی حکمرانی قائم ہو سکے۔محمود خان اچکزئی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ انتخابی اصلاحات کا معاملہ ایاز صادق کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق کمیٹی کے ذریعے انتخابی عمل کو شفاف بنایا جا سکتا ہے تاکہ آئندہ انتخابات پر عوام کا اعتماد بحال ہو۔

  • مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں فیصلے ہونے چاہئیں،مولانا فضل الرحمان

    مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں فیصلے ہونے چاہئیں،مولانا فضل الرحمان

    اسلام آباد: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ آئینی ترامیم وسیع تر قومی مفاد میں اور اتفاق رائے سے منظور کی جائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئینی عدالت کے قیام کی ضرورت ہے تاکہ آئین کی بالادستی کو یقینی بنایا جا سکے۔مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی سیاست میں مفادات کے بجائے ضروریات کی بنیاد پر فیصلے ہونے چاہئیں۔ انہوں نے ایکسٹینشن جیسے معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ صرف مفادات کی بجائے ضرورت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔وزیر اعظم شہباز شریف کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیر اعظم نے کسی خاص شخص کے لیے آئینی ترمیم کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ ملک کو موجودہ سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے تمام جماعتوں سے سپورٹ کی درخواست کی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا، "ہم کسی شخص کے لیے آئینی ترمیم کے حق میں نہیں ہیں، بلکہ آئین کے تحفظ اور اس کی عملداری کے لیے متفقہ ترامیم کی حمایت کرتے ہیں۔

    مولانا فضل الرحمان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دو صوبے بلوچستان اور خیبر پختونخوا مسلح گروہوں کے زیرِ قبضہ ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دونوں صوبوں میں غیر جمہوری طریقے سے قوم پرست اور مذہبی جماعتوں کو دھاندلی کے ذریعے نکال باہر کیا گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا، "بلوچستان میں قوم پرست جماعتوں کو خارج کیا جا رہا ہے اور خیبر پختونخوا میں مذہبی جماعتوں کو دبایا جا رہا ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی تنقید کی کہ جب قوم پرست علیحدگی کی بات کرتے ہیں تو اسے ایک داخلی مسئلہ قرار دیا جاتا ہے، جبکہ اگر مذہبی جماعتوں کے حوالے سے کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اسے بین الاقوامی مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ مولانا نے کہا کہ یہ دہرا معیار ملک کو نقصان پہنچا رہا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے انتخابات کے دوران اداروں کے کردار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کا کردار غیر جانبدارانہ ہونا چاہیے اور ان کی مداخلت سے بچنا چاہیے تاکہ ملک کی وحدت کو برقرار رکھا جا سکے۔ مولانا نے زور دیا کہ انتخابات کے دوران اداروں کی غیر جانبداری ہی ملکی استحکام کی ضمانت ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ لڑائی اور ڈیڈ لاک کا فائدہ صرف مخصوص افراد کو پہنچ رہا ہے، جبکہ ملکی مسائل کے حل کے لیے مفادات سے بالاتر ہوکر فیصلے کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا، "ہم وسیع تر قومی مفاد میں آئینی ترامیم کے حامی ہیں تاکہ ملک کے تمام طبقے ایک پلیٹ فارم پر آ سکیں اور باہمی افہام و تفہیم سے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔مولانا فضل الرحمان کی یہ گفتگو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں آئینی ترامیم اور سیاسی اصلاحات پر بحث جاری ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے مابین اختلافات بھی کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔

  • خیبرپختونخوا کے خزانے کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر موجودگی کا دعویٰ

    خیبرپختونخوا کے خزانے کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر موجودگی کا دعویٰ

    پشاور: مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبائی حکومت تاریخ کے بلند ترین خزانے پر بیٹھی ہے۔ انہوں نے یہ بات وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے کہی، جہاں انہوں نے پنجاب کے کسانوں کے معاشی مسائل پر بات کی۔مزمل اسلم نے کہا کہ پنجاب کے کسان اپنے معاشی مسائل کے حل کی تلاش میں ہیں اور انہیں احساس ہے کہ ان کے حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے مریم نواز نے اپنے خطاب میں کے پی حکومت کو نشانہ بنایا، جبکہ کسانوں نے ان کی طرف سے جاری کیے جانے والے کسان کارڈ کو مسترد کر دیا ہے۔اسلم نے پنجاب کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس صوبے میں پیداوار میں 58 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں کارخانے بند ہو رہے ہیں اور راولپنڈی کے سرکاری اسکول فروخت کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔
    مزمل اسلم نے پنجاب حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ "کیا پنجاب حکومت نے کتنے سولر پینل لگائے ہیں یا کتنے ٹریکٹر تقسیم کیے ہیں؟” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے پنجاب کے کسانوں سے 20 ارب روپے کی نقد گندم خریدی ہے۔مزمل اسلم کے مطابق، خیبرپختونخوا کی حکومت نے پہلے چھ ماہ میں صحت کارڈ کے تحت 15 ارب روپے خرچ کیے ہیں، جس سے 4 لاکھ مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی حکومت کے اقدامات نے عوام کی فلاح و بہبود میں مثبت کردار ادا کیا ہے۔

  • ملک میں سیاسی عدم استحکام، آئینی راستہ اپنانے کی ضرورت ہے،شاہد خاقان عباسی

    ملک میں سیاسی عدم استحکام، آئینی راستہ اپنانے کی ضرورت ہے،شاہد خاقان عباسی

    سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے مری پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے "ووٹ کو عزت دو” کا بیانیہ چھوڑ دیا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے اس بات پر زور دیا کہ ملک اس وقت سیاسی عدم استحکام اور انتشار کا شکار ہے، اور آئین کے مطابق چلانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک میں آئینی ترمیم ہو رہی ہے جبکہ پارلیمنٹ اس صورتحال سے بےخبر ہے۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ "رات کی تاریکی میں آئین پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی گئی” اور اس کے نتیجے میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت سب اس معاملے سے بےخبر ہیں۔ انہوں نے عوامی مینڈیٹ کی چوری پر بھی افسوس کا اظہار کیا، کہ موجودہ حکومت عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "پاکستان میں ہر الیکشن چوری ہوا لیکن کسی نے سبق نہیں سیکھا” اور یہ کہ نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو کے بیانیے کو چھوڑ دیا ہے۔عباسی نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کرپشن کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا، لیکن آج ملک میں کرپشن میں 10 گنا اضافہ ہو چکا ہے۔

  • آئی ایم ایف کا  پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری

    آئی ایم ایف کا پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کی منظوری

    واشنگٹن: بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری دی ہے۔ یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں پاکستان کے لیے مالی معاونت کے نئے پیکیج کی تفصیلات پر غور کیا گیا۔گورنر اسٹیٹ بینک، جمیل احمد، نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگر یہ قرض کی منظوری عمل میں آئی تو پاکستان کو پہلی قسط کے طور پر ایک ارب یا ایک ارب 10 کروڑ ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ اس قرض کی مدد سے پاکستان کو معاشی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
    وزیر اعظم شہباز شریف نے نیویارک میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کو کامیابی سے پورا کیا ہے اور ملک کے معاشی اشاریے بتدریج بہتر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیکیج پاکستان کی معیشت کے استحکام کے لیے ایک اہم قدم ہے۔
    ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے رواں مالی سال کے دوران پاکستانی معیشت کی بہتری کی نوید سنائی ہے۔ اے ڈی بی نے کہا کہ مہنگائی کی شرح 15 فیصد تک گر سکتی ہے، جبکہ شرح نمو بھی 2.8 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔ اس کے علاوہ، کچھ دن پہلے عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے بھی پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو اپ گریڈ کیا ہے، جو ملک کی معاشی صورتحال کے حوالے سے ایک مثبت علامت ہے۔آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر کمیونی کیشن، جولیا کوزک، نے حالیہ نیوز کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف سطح کا معاہدہ جولائی میں طے پایا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے گزشتہ سال 9 ماہ کا اسٹینڈ بائے معاہدہ کامیابی سے مکمل کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی حکام معیشت کی بحالی کے لیے پختہ عزم رکھتے ہیں۔
    عالمی مالیاتی ادارے کا کہنا ہے کہ 37 ماہ کے قرض پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد جاری ہے۔ آئی ایم ایف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستانی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ معیشت کو کامیابی سے مستحکم کرنے اور پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنے کے لیے نئے ای ایف ایف کا مستقل نفاذ ضروری ہے۔ اس طرح روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور زندگی کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی، جو کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد ہے۔پاکستان کی حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان یہ تعاون ایک امید افزا اقدام ہے، جو کہ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے اور معاشی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔

  • مریم نواز کی تقریر علی امین گنڈاپور کے ذکر کے بغیر نامکمل ہوتی ہے، بیر سٹر سیف

    مریم نواز کی تقریر علی امین گنڈاپور کے ذکر کے بغیر نامکمل ہوتی ہے، بیر سٹر سیف

    خیبرپختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے مریم نواز کے حالیہ بیانات پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ "راج کماری مریم نواز تیاری پکڑیں، علی امین گنڈاپور پھر پنجاب آرہے ہیں۔” انہوں نے واضح کیا کہ اگر پنجاب میں جلسہ جلوس کو دہشت گردی سمجھا جاتا ہے تو ان کا یہ عمل جاری رہے گا، کیونکہ یہ ان کا جمہوری اور آئینی حق ہے۔بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے مریم نواز کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "جلسے کے لیے این او سی فراہم کرنا آپ کی ذمہ داری ہے۔”ان کا مزید کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کو مریم نواز کے خلاف چلائے جانے والے جعلی مقدمات کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔
    خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات نے ماڈل ٹاؤن واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "دہشت گردی جلسہ کرنا نہیں، بلکہ ماڈل ٹاؤن میں حاملہ خواتین پر سیدھی گولیاں چلانا دہشت گردی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماڈل ٹاؤن کے مجرموں کو یہ حق نہیں کہ وہ دوسروں کو دہشت گرد کہے۔ترجمان خیبرپختونخوا نے یہ بھی کہا کہ مریم نواز کی تقریر علی امین گنڈاپور کے ذکر کے بغیر نامکمل ہوتی ہے، اور مریم نواز کو مشورہ دیا کہ وہ علی امین گنڈاپور کی دوبارہ پنجاب آمد کے لیے تیار رہیں۔
    یاد رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے علی امین گنڈاپور کو وارننگ دی تھی کہ "اگر آپ پنجاب میں قانون توڑیں گے تو آپ کو منہ توڑ جواب ملے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ہروقت جلسے کرتے رہیں گے تو کام کب کریں گے؟ میرے خلاف نعرہ لگائیں، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ حکومت اور اقتدار آنے جانے والی چیز ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے یہ بھی کہا کہ حکومت گندم کسان سے نہیں، بلکہ مافیا سے خریدتی ہے۔” ان کے اس بیان نے سیاسی میدان میں مزید بحث و تمحیص کو جنم دیا ہے۔
    یہ سیاسی تناؤ اس بات کا عکاس ہے کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کی حکومتیں ایک دوسرے کے خلاف کس طرح سخت موقف اپنائے ہوئے ہیں۔ مریم نواز کے بیان اور بیرسٹر سیف کے جواب نے ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دیا ہے، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوں گے۔

  • چائنہ کے صوبہ سنکیانگ کے مسلمان مذہبی آزادی و معاشی ترقی کی دوڑ میں شامل

    چائنہ کے صوبہ سنکیانگ کے مسلمان مذہبی آزادی و معاشی ترقی کی دوڑ میں شامل

    اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی کی سربراہی میں ایک 11 رکنی علماء کا وفد چینی وزارت خارجہ کی دعوت پر چین کا 10 روزہ کامیاب دورہ کر کے واپس آ گیا ہے۔ اس دورے میں وفد کو بیجنگ، شیان، کاشغر اور ارمچی شہر لے جایا گیا، جہاں انہوں نے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور چینی حکومت کے حکام کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔وفد کے اراکین نے وزارت خارجہ کے نمائندوں، مختلف شہروں کی مساجد کی کمیٹیوں اور کمیونسٹ پارٹی کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ دورے کے دوران، وفد نے شیان کی قدیمی مسجد، کاشغر کی عیدگاہ مسجد اور سنکیانگ مسلم انسٹیٹیوٹ کا بھی دورہ کیا۔ وفد میں شامل مسلم رہنماؤں شیخ عبدالرقیب، شیخ ابراہیم، اور شیخ جمعہ سے ملاقات بھی ہوئی، جنہوں نے وفد کے اراکین کو سنکیانگ میں مسلمانوں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں آگاہ کیا۔
    ڈاکٹر راغب نعیمی نے اپنے تاثرات میں کہا کہ چین کے دارالحکومت سے مغرب میں واقع آخری مسلم صوبہ سنکیانگ کے مسلمان، چینی حکومت کی مثبت پالیسیوں کی وجہ سے معاشی اور مذہبی آزادی کی دوڑ میں شامل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی حکومت مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی تعمیر نو اور ان کے رسوم و رواج کی ادائیگی پر توجہ دے رہی ہے۔اسلامک ایسوسی ایشن آف سنکیانگ کے زیرنگرانی مسلم انسٹی ٹیوٹ میں مساجد کے لیے ائمہ اور خطباء تیار کیے جا رہے ہیں، اور قرآن کریم و دینی کتب کی اشاعت کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، چینی حکومت نے سنکیانگ میں معاشی ترقی کے لیے اربوں یوان کے منصوبے شروع کیے ہیں، خاص طور پر کاشغر کے مسلمانوں کے معاشی حالات میں بہتری کے لیے۔
    کاشغر کا قدیمی شہر حال ہی میں تزئین نو کے بعد سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا ہے، جہاں تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار مسلمان آباد ہیں۔ اس علاقے کی سیاحت کی وجہ سے مقامی معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں شدت پسندی میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ ڈاکٹر نعیمی نے بتایا کہ 2016ء کے بعد کیے جانے والے اقدامات کی بدولت دہشت گردی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے، اور دونوں ممالک کے حالات میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے معاملات میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
    دورے کے دوران، وفد نے کاشغر میں صوفی بزرگ خواجہ آفاق نقشبندی کے مزار پر بھی حاضری دی۔ وفد میں شامل دیگر اراکین میں بیرسٹر ظفر اللہ خان، مولانا حامد الحق حقانی، مولانا محمد ادریس، علامہ اللہ بخش کلیار، مولانا محمد طاہر، اور مولانا عبدالوحید شامل تھے۔یہ دورہ پاک چین تعلقات اور خاص طور پر مسلم کمیونٹی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس دورے سے پاک چین دوستی کو تقویت ملے گی اور اس کے مثبت نتائج کے حوالے سے چینی سفارت خانہ اور وزارت خارجہ کے اراکین کے شکر گزار ہیں۔ یہ دورہ، چین اور پاکستان کے درمیان مذہبی اور ثقافتی روابط کو مزید مستحکم کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

  • پی آئی اے کی پرواز کا انوکھا واقعہ: دو مسافروں کو کراچی میں ہی چھوڑ دیا گیا

    پی آئی اے کی پرواز کا انوکھا واقعہ: دو مسافروں کو کراچی میں ہی چھوڑ دیا گیا

    کراچی: پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی پرواز پی کے 536 کا ایک انوکھا واقعہ سامنے آیا ہے، جس میں دو مسافروں کو کراچی ہی چھوڑ دیا گیا، حالانکہ وہ سکھر جانے کے لیے ٹکٹ رکھتے تھے۔ یہ واقعہ جے یو آئی کے انٹرپارٹی چیف الیکشن کمشنر مولانا عطاء الحق درویش اور معاون الیکشن کمشنر مفتی ناصر محمود کے ساتھ پیش آیا، جو کہ کراچی سے سکھر کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔مولانا عطاء الحق درویش نے بتایا کہ وہ اور مفتی ناصر محمود بروقت کراچی ایئرپورٹ پہنچے اور ان کے پاس کنفرم ٹکٹ بھی موجود تھا۔ تاہم، پی آئی اے حکام نے انہیں بتایا کہ جہاز میں مسافروں کی گنجائش کم ہے اور اوورلوڈ کی وجہ سے انہیں سکھر نہیں لے جایا جا سکتا۔ مولانا درویش نے مزید کہا، "ہمیں کہا گیا کہ آپ کو کٹ کی قیمت واپس کر دی جائے گی، لیکن یہ بات ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔
    مولانا عطاء الحق درویش نے پی آئی اے پر الزام عائد کیا کہ ان کا ٹکٹ چانس والے مسافروں کو دگنی قیمت پر بلیک میں فروخت کیا گیا۔ انہوں نے اس صورتحال پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات ایئرلائن کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں اور مسافروں کے ساتھ ناانصافی ہے۔مولانا درویش نے اس واقعے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا، "ہمیں اپنی حق تلفی کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی اور ہم قانونی چارہ جوئی کریں گے۔یہ واقعہ پی آئی اے کی سروسز کی بہتری کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ ایئرلائن کو اپنے مسافروں کے حقوق کا تحفظ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس قسم کی ناخوشگوار صورتحال دوبارہ پیش نہ آئے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر پاکستانی ایئرلائنز کی سروسز کی کمی کو اجاگر کرتا ہے، جو کہ مسافروں کے حقوق کی حفاظت کرنے میں ناکام ہیں۔ پی آئی اے کو اس قسم کی صورت حال سے بچنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ مسافروں کا اعتماد بحال ہو سکے اور وہ بلا خوف و خطر اپنی پروازیں کر سکیں۔

  • سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے چیف جسٹس کے 9 سوالات پر جواب

    سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے چیف جسٹس کے 9 سوالات پر جواب

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے 14 ستمبر کو مخصوص نشستوں کے حوالے سے پوچھے گئے 9 اہم سوالات پر سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے باضابطہ جواب ارسال کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق، رجسٹرار سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ الیکشن کمیشن اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے دائر کی گئی درخواستوں پر کوئی کاز لسٹ جاری نہیں ہوئی، اور نہ ہی سپریم کورٹ کے کسی کمرہ عدالت میں ان درخواستوں کی سماعت ہوئی ہے۔ رجسٹرار کا مزید کہنا تھا کہ ججز کے کسی چیمبر میں بھی ان درخواستوں پر کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا، اور درخواستوں کی فائلیں رجسٹرار آفس کو نہیں بھیجی گئیں۔
    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے 14 ستمبر کے ایک ڈپٹی رجسٹرار کے نوٹ پر سوالات اٹھاتے ہوئے وضاحت طلب کی تھی۔ یہ سوالات اہم قانونی نکات اور سپریم کورٹ کے انتظامی امور سے متعلق تھے:

    1. درخواستوں کی تفصیل: الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی کی متفرق درخواستیں کب داخل کی گئیں؟
    2. ججز کمیٹی کے سامنے پیشی: درخواستیں ججز کمیٹی کے سامنے کیوں پیش نہیں کی گئیں؟
    3. سماعت اور کاز لسٹ: درخواستیں کب سماعت کے لیے مقرر ہوئیں اور ان کی کاز لسٹ کیوں جاری نہ ہوئی؟
    4. نوٹس جاری کرنے کی تفصیل: کیا فریقین اور اٹارنی جنرل کو ان درخواستوں کے حوالے سے نوٹس جاری کیا گیا؟
    5. سماعت کی جگہ: کس کورٹ روم یا چیمبر میں کن جج صاحبان نے ان درخواستوں کی سماعت کی؟
    6. کاز لسٹ کا اجراء: آرڈر سنانے کے لیے کاز لسٹ کیوں جاری نہیں کی گئی؟
    7. حکم نامے کی تفصیلات: حکم نامہ جاری کرنے کا وقت کیوں مقرر نہیں کیا گیا؟
    8. ویب سائٹ پر اپ لوڈنگ: اوریجنل فائل اور اصل حکم نامہ جمع کروائے بغیر یہ کیسے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا گیا؟
    9. وضاحتی حکم نامہ: سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر وضاحتی حکم نامہ اپ لوڈ کرنے کا حکم کس نے دیا؟

    رجسٹرار سپریم کورٹ کا جواب
    رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے موصول ہونے والے جواب میں یہ بات واضح کی گئی کہ متعلقہ فائل ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے سے قبل رجسٹرار آفس کو نہیں بھیجی گئی تھی۔ مزید کہا گیا کہ وضاحتی حکم سینئر جج کے اسٹاف آفیسر کے کہنے پر سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپلوڈ کیا گیا تھا۔اس سے قبل، سپریم کورٹ کے 8 رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن اور پی ٹی آئی کی درخواستوں پر فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ 12 جولائی کے فیصلے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ بینچ کے اکثریتی ججز نے لکھا کہ سپریم کورٹ کا 12 جولائی کا مختصر حکم واضح ہے اور الیکشن کمیشن نے اسے غیر ضروری طور پر پیچیدہ بنایا ہے۔ ججز نے خبردار کیا تھا کہ فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
    یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب پی ٹی آئی نے مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کے فیصلے پر سوال اٹھایا تھا۔

  • عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی کا عدلیہ کی اصلاحات پر زور

    عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی کا عدلیہ کی اصلاحات پر زور

    کراچی: عوامی نیشنل پارٹی (ANP) کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کراچی بار میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ کے نظام میں موجود خرابیوں کو دور کرنے کے لیے وکلاء کو مزید کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے 19 ویں ترمیم کے بارے میں کہا کہ یہ افتخار چوہدری نے مسلم لیگ کو استعمال کرتے ہوئے بندوق کی نوک پر کروائی تھی۔سینیٹر ایمل ولی نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ "یہاں دادا کے کیس کا فیصلہ پوتے کے سامنے آتا ہے۔” انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے ذمہ داروں سے معافی مانگنے کا مطالبہ بھی کیا، کہا کہ "جس جس کے ساتھ ہم نے ظلم کیا ہے، ان سب لوگوں سے معافی مانگنی چاہیے۔”ایمل ولی نے پارلیمان کی بالادستی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اداروں کو اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ "پاکستان میں بدقسمتی سے ججز بولتے ہیں، ان کے فیصلے نہیں بولتے۔اس موقع پر کراچی بار کے صدر عامر نواز وڑائچ نے آئینی ترمیم کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "جو آئینی ترمیم ہونے جارہی ہے، اس کے تین چار ڈرافٹ گھوم رہے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے چوری چھپے سب کچھ ہورہا ہے۔” ایمل ولی خان کی اس تقریر نے عدلیہ کی اصلاحات اور پارلیمانی بالادستی کے حوالے سے نئے مباحثے کو جنم دیا ہے۔