کوئٹہ: جمعیت علماء اسلام (ف) بلوچستان کے انٹرا پارٹی انتخابات کا مرحلہ آج کامیابی سے مکمل ہو گیا، جس میں صوبائی قیادت کے لیے کانٹے کا مقابلہ دیکھنے کو ملا۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹر مولانا عبدالواسع کو آئندہ پانچ سال کے لیے صوبائی امیر منتخب کر لیا گیا ہے جبکہ سید آغا محمود شاہ نے جنرل سیکرٹری کی نشست پر کامیابی حاصل کی۔انتخابات میں سینیٹر مولانا عبدالواسع اور حافظ حمد اللہ کے درمیان صوبائی امیر کے عہدے کے لیے مقابلہ ہوا، جہاں مولانا عبدالواسع نے بھاری اکثریت سے فتح حاصل کی۔ انہوں نے مجموعی طور پر 1013 ووٹ حاصل کیے، جبکہ ان کے مد مقابل حافظ حمد اللہ کو 453 ووٹ ملے۔ دوسری جانب جنرل سیکرٹری کی نشست کے لیے مولانا آغا محمود شاہ اور مولانا عنایت اللہ رودنی کے درمیان سخت مقابلہ ہوا، جس میں آغا محمود شاہ نے 1065 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ ان کے حریف مولانا عنایت اللہ رودنی 401 ووٹ حاصل کر سکے۔
پارٹی ذرائع نے نتائج کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات منصفانہ اور شفاف طریقے سے منعقد ہوئے اور اس عمل سے پارٹی کی جمہوری روایت مزید مضبوط ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مولانا عبدالواسع کی قیادت میں جمعیت علماء اسلام بلوچستان کو مزید تقویت ملے گی اور صوبے میں اسلامی اقدار کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات کیے جائیں گے۔نتائج کے اعلان کے بعد نو منتخب صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے کارکنان اور پارٹی رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ذمہ داری کو اللہ کے فضل اور کارکنان کی محبت کے ساتھ نبھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح صوبے کے مسائل حل کرنا اور اسلام کے اصولوں کی روشنی میں فلاحی ریاست کے قیام کے لیے کام کرنا ہوگی۔
جنرل سیکرٹری آغا محمود شاہ نے بھی اپنے خطاب میں اس بات کا عزم ظاہر کیا کہ وہ پارٹی کے تمام ارکان کے ساتھ مل کر بلوچستان میں پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنائیں گے اور عوامی خدمت کو مزید مؤثر بنائیں گے۔جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے یہ انتخابات پارٹی کے اندرونی جمہوری عمل کا حصہ ہیں، جو کہ صوبے میں سیاسی طور پر اہمیت کے حامل ہیں۔ ان انتخابات کے نتائج صوبے کی سیاسی صورتحال پر اثر انداز ہونے کا امکان رکھتے ہیں، کیونکہ جے یو آئی (ف) ایک مضبوط مذہبی اور سیاسی جماعت ہے جس کا صوبے میں گہرا اثر و رسوخ ہے۔مولانا عبدالواسع کا بطور صوبائی امیر انتخاب پارٹی کے اندرونی حلقوں میں ان کی مقبولیت اور مضبوط قیادت کا عکاس ہے، جبکہ آغا محمود شاہ کی جنرل سیکرٹری کے عہدے پر کامیابی ان کی تنظیمی صلاحیتوں کی توثیق کرتی ہے۔نو منتخب قیادت نے اس بات پر زور دیا کہ وہ تمام جماعتی ساتھیوں کو ساتھ لے کر چلیں گے اور بلوچستان کے عوام کی خدمت کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کے اتحاد کو مزید مستحکم کیا جائے گا اور آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کیا جائے گا۔
Author: صدف ابرار
-

بلوچستان:جے یو آئی مولانا عبدالواسع صوبائی امیر اور آغا محمود شاہ جنرل سیکرٹری منتخب
-

جوڈیشل کمیشن کا 28 ستمبر کا اجلاس موخر
اسلام آباد: جوڈیشل کمیشن کا 28 ستمبر کو منعقد ہونے والا اجلاس موخر کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس اجلاس کے لیے مدعو کیے گئے وزرائے قانون اور بار نمائندگان کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ اجلاس اب نہیں ہوگا۔ اجلاس میں جوڈیشل کمیشن کے رولز کے مسودے کی منظوری دی جانے والی تھی، جس کا انتظار کئی ہفتوں سے کیا جا رہا تھا۔ قبل ازیں، ذرائع نے اطلاع دی تھی کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں رولز کے ابتدائی ڈرافٹ کو حتمی شکل دے دی گئی تھی، اور 28 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں ڈرافٹ رولز کی منظوری کی توقع تھی۔نئے ڈرافٹ کے تحت، سپریم کورٹ کے جج کی تعیناتی کے لیے تین ناموں پر غور کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، ہائی کورٹس میں جج کی تعیناتی کی نامزدگی بھی متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، سینئر جج، اور صوبائی بار کونسل کے رکن پر مشتمل کمیٹی کے ذریعے کی جائے گی۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تعیناتی کے لیے بھی تین سینئر ججوں کے ناموں پر غور کیا جائے گا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کے دوران، جسٹس منیب اختر اور اٹارنی جنرل کے درمیان ایک اہم مکالمہ ہوا۔ اس دوران، جسٹس منیب اختر نے اجلاس کا بائیکاٹ بھی کیا، جس سے اجلاس کی اہمیت اور اندرونی معاملات کی پیچیدگیوں کی عکاسی ہوتی ہے۔اجلاس کی منسوخی اور اہم معاملات کی غیر حاضری نے قانون سازی کے عمل میں مزید تاخیر کا اندیشہ پیدا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں قانونی ماہرین اور وکلاء برادری میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد از جلد نئے تاریخ کا اعلان کیا جائے گا تاکہ جوڈیشل کمیشن کے قواعد کو حتمی شکل دی جا سکے اور عدلیہ میں بہتری کے اقدامات کی راہ ہموار کی جا سکے۔ -

پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کردیا
فیصل آباد، 24 ستمبر: پاکستان کرکٹ سلیکٹرز نے انگلینڈ کے خلاف 7 سے 11 اکتوبر تک ملتان میں ہونے والے پہلے ٹیسٹ کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ شان مسعود کو کپتان مقرر کیا گیا ہے، جبکہ سعود شکیل نائب کپتان ہوں گے۔اسکواڈ میں تجربہ کار اور نوجوان کھلاڑیوں کا بہترین امتزاج شامل کیا گیا ہے۔ بائیں ہاتھ کے اسپنر نعمان علی، جو 15 ٹیسٹ میچوں میں 47 وکٹیں لے چکے ہیں، انجرڈ فاسٹ بولر خرم شہزاد کی جگہ ٹیم میں شامل کیے گئے ہیں۔ دیگر نمایاں کھلاڑیوں میں بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، اور محمد رضوان شامل ہیں۔
ہیڈ کوچ جیسن گلیسپی نے اسکواڈ کے اعلان کے بعد کھلاڑیوں کو چیمپئنز ون ڈے کپ کے پلے آف سے دستبردار کر دیا ہے تاکہ وہ انگلینڈ کے خلاف اہم سیریز سے قبل آرام کر سکیں۔ تربیتی کیمپ یکم اکتوبر سے ملتان میں شروع ہوگا۔شان مسعود (کپتان)، سعود شکیل (نائب کپتان)، عامر جمال، عبداللہ شفیق، ابرار احمد، بابر اعظم، میر حمزہ، محمد ہریرہ، محمد رضوان (وکٹ کیپر)، نسیم شاہ، نعمان علی، صائم ایوب، سلمان علی آغا، سرفراز احمد (وکٹ کیپر)، شاہین شاہ آفریدی شامل ہے،جیسن گلیسپی نے کہا کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں کامیابی کے لیے کھلاڑیوں کا تازہ دم ہونا ضروری ہے اور وہ پرجوش ہیں کہ شائقین کی حمایت سے ٹیم بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ -

ادارے گفت و شنید اور رابطے سے ترقی کرسکتے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ ادارے صرف گفت و شنید اور رابطے کے ذریعے ترقی کرسکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دو روزہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کو گفت و شنید، اشتراک اور دیکھ بھال کے کلچر کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہمارا قانونی نظام مقدمات کی بھرمار کا شکار ہے، اور ہر روز زیر التوا مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ملک میں صرف 4 ہزار ججز موجود ہیں جو تمام مقدمات کو نمٹانے کے لیے ناکافی ہیں، اور نئے مقدمات کا بوجھ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے مسئلے کے حل کے طور پر متبادل تنازعات کے حل (ADR) کے نظام کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ADR کوئی راکٹ سائنس نہیں بلکہ مقدمہ بازی کا ایک مؤثر اور آسان حل ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے زور دیا کہ زیر التوا مقدمات کو نمٹانے کے لیے ضلعی سطح پر ADR سینٹرز قائم کرنا ہوں گے تاکہ شہریوں کو فوری انصاف فراہم کیا جا سکے۔ورکشاپ میں ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت اہم ہے اور ججوں کو غیر جانبداری کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ وہ متعصب قرار نہ دیے جائیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے تقریب کے اختتام پر شرکاء میں سرٹیفیکیٹس تقسیم کیے۔ -

پی آئی اے کی نجکاری: بولی یکم اکتوبر کو ہوگی، ملازمین کے حقوق کا تحفظ لازمی
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نجکاری کے چیئرمین فاروق ستار نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی بولی یکم اکتوبر کو منعقد کی جائے گی، جو براہ راست نشر کی جائے گی۔ کمیٹی کے ممبران بھی اس بولی کی نگرانی کریں گے، جس میں 6 مختلف سرمایہ کار جماعتیں شرکت کریں گی۔ اجلاس کے دوران فاروق ستار نے واضح کیا کہ حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں ہے، اور نجکاری کے اس عمل میں ملازمین کے حقوق کا تحفظ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں کوئی کٹوتی نہیں ہونی چاہیے تاکہ ان کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔سیکرٹری نجکاری کمیشن نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل مکمل ہو چکا ہے، جس کا آغاز نومبر 2023 میں ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بولی کے لیے سرمایہ کاروں کی تیاری آخری مراحل میں ہے، اور اس کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔اجلاس میں یہ بھی کہا گیا کہ پی آئی اے کے خریدار کو پہلے سال میں 70 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہوائی جہازوں کی مرمت اور دیگر آپریشنز کو بحال کرنا بھی ضروری ہوگا۔
سیکرٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ پی آئی اے کے موجودہ 18 جہازوں کی تعداد کو 3 سال کے اندر 45 تک پہنچانا ہوگا، اور نئے جہاز خریدنے کی ضرورت ہے جن کی اوسط عمر 17 سال سے کم کر کے 10 سال ہونی چاہیے۔انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ پی آئی اے کے عملے کو ابتدائی دو سال کے لیے برقرار رکھا جائے گا، اور کسی بھی روٹ کو بند کرنے کے لیے حکومت سے اجازت لینا ہوگی۔ مزید یہ کہ یورپ کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کو جلد ہی اٹھانے کی توقع ہے۔سیکرٹری نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ پی آئی اے کے ریٹائرڈ ہونے والے ملازمین کی پنشن کی رقم 35 ارب روپے بنتی ہے، جس کی ادائیگی حکومت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پی آئی اے کے 800 ارب روپے کے قرض کو اپنے ذمے لے لیا ہے، جس کے بعد اب پی آئی اے پر کوئی قرض نہیں ہے، اور اس بات کی امید کی جا رہی ہے کہ سرمایہ کار اس ایئر لائن کو منافع بخش بنا سکیں گے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل کامیابی سے مکمل ہو تاکہ اس ادارے کی مالی حالت کو بہتر بنایا جا سکے اور ملازمین کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔ -

پاکستان کی اسرائیل کی لبنان پر فوجی جارحیت کی شدید مذمت، عالمی برادری سے احتساب کا مطالبہ
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے اسرائیل کی لبنان کے خلاف فوجی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی حملوں کو نہ صرف خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا بلکہ اسے عالمی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی بھی کہا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں لبنان میں سینکڑوں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور ملک کی سلامتی پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ترجمان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان میں ہونے والی نسل کشی پر اسرائیل کو احتساب کے کٹہرے میں لانے کے لیے اقدامات کرے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں اسرائیل نے لبنان کے کئی مقامات پر حملے کیے، جن میں 45 بچوں اور 58 خواتین سمیت 400 سے زائد افراد شہید اور 1300 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ 23 ستمبر کو اسرائیل نے لبنان میں بمباری شروع کرنے سے پہلے، لبنان کے موبائل فون نیٹ ورکس کو ہیک کر لیا تھا۔ کئی موبائل فون صارفین کو پیغامات موصول ہوئے کہ ان کے گھروں کو بموں سے اڑایا جانے والا ہے، حتیٰ کہ لبنان کے وزیر اطلاعات کو بھی ایسی ہی دھمکی آمیز فون کال موصول ہوئی۔ عرب ٹی وی الجزیرہ کے مطابق، اسرائیلی فوج نے کئی مقامی ریڈیو نیٹ ورکس کو بھی ہیک کر کے اپنے پیغامات نشر کیے تھے۔ -

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیلی وزیراعظم کو ہٹلر قرار دے دیا
ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں ہٹلر سے تشبیہ دے دی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران اردوان نے فلسطینیوں کی حالت زار پر گہرے تحفظات کا اظہار کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کے حق میں اپنا کردار ادا کرے۔رجب طیب اردوان نے اپنی تقریر میں غزہ میں جاری انسانی بحران پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 315 دنوں سے فلسطینیوں کا قتل عام جاری ہے، جس میں اب تک 41 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ ہے۔ ترک صدر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ 10 ہزار سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں اور ایک لاکھ سے زائد فلسطینی شدید زخمی ہوچکے ہیں۔اردوان نے مزید کہا کہ صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے اور پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران 172 صحافی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 500 سے زائد ڈاکٹر بھی مارے جا چکے ہیں۔ غزہ میں انسانی مدد فراہم کرنے والے اقوام متحدہ کے رضاکار بھی اس بربریت کا شکار ہوچکے ہیں، جہاں اب تک 215 سے زیادہ اقوام متحدہ کے رضاکار ہلاک ہوچکے ہیں۔
رجب طیب اردوان نے اپنی تقریر میں غزہ کو "خواتین اور بچوں کا دنیا کا سب سے بڑا قبرستان” قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ 17 ہزار سے زائد بچے اسرائیلی بمباری اور گولیوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔ ترک صدر نے غزہ میں جاری قتل و غارت کو اقوام متحدہ کے نظام اور سچ کی موت قرار دیا۔انہوں نے عالمی برادری سے سوال کیا کہ کیا فلسطین میں بچوں کا کوئی حق نہیں؟ انہوں نے سیکیورٹی کونسل پر زور دیا کہ وہ غزہ میں جاری نسل کشی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔اردوان نے اپنی تقریر میں اسرائیل کے حمایتی ممالک کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ چند ممالک کی جانب سے اسرائیل کی حمایت کی وجہ سے فلسطینیوں پر یہ مظالم ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "جو لوگ بظاہر سیز فائر کی باتیں کررہے ہیں، وہ مسلسل اسرائیل کو اسلحہ فراہم کررہے ہیں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب مزید اسرائیل کی دھوکہ دہی کو تسلیم نہیں کیا جانا چاہئے۔
ترکیہ کے صدر نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ہٹلر سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح 70 سال پہلے انسانیت پر یقین رکھنے والے اتحاد نے ہٹلر کو روکا تھا، اسی طرح آج نیتن یاہو اور اس کے قاتل نیٹ ورک کو روکنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنوبی افریقہ کے عالمی عدالت میں دائر کردہ کیس کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
اردوان نے اپنی تقریر کے اختتام پر عالمی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری فلسطینیوں کے خلاف ہونے والی اس ناانصافی کو روکنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بے شرمی سے دنیا کے ضمیر کو چیلنج کر رہا ہے، اور فلسطینیوں کی نسل کشی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ مزید تاخیر اسرائیل کو مزید طاقتور اور بے خوف بنادے گی۔ -

امریکا پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی، امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم
پاکستان میں متعین امریکی سفیر ڈونلڈ آرمن بلوم نے کہا ہے کہ امریکا عالمی سطح پر پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے، اور گزشتہ دہائی میں امریکا کو پاکستان کی برآمدات دوگنا سے زیادہ ہو گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بات سیالکوٹ چیمبر آف کامرس میں خطاب کے دوران کہی۔سفیر بلوم نے مزید کہا کہ امریکا پاکستان کی مکمل اقتصادی صلاحیت کی بحالی میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 80 سے زائد امریکی کمپنیاں پاکستان میں ایک لاکھ 20 ہزار افراد کو ملازمت فراہم کرتی ہیں، جبکہ یہ کمپنیاں بالواسطہ طور پر 10 لاکھ پاکستانی کارکنوں کی زندگیوں میں بہتری لاتی ہیں۔
ڈونلڈ بلوم نے بتایا کہ امریکی حکومت پاکستانی پالیسی سازوں کے ساتھ سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے لیے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستانی نوجوانوں کے لیے تعلیمی مواقع بڑھانے کے لیے بھی فنڈز فراہم کر رہا ہے، اور سالانہ 20 ملین ڈالر سے زیادہ کی رقم پاکستانی طلبہ کے لیے مفت تعلیمی تبادلوں میں خرچ کی جا رہی ہے۔امریکی سفیر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان میں غذائی قلت کا بحران لاکھوں بچوں کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ 2022 کے سیلاب کے بعد غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے امریکا نے تقریباً 100 ملین ڈالر کی امداد فراہم کی۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں توانائی، پانی اور زراعت کے شعبوں میں اعلیٰ تعلیم کے لیے 4 مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔ سفیر بلوم نے یہ واضح کیا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان تعلقات اہم اور دیرپا ہیں۔ -

خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن انور خان کی علی امین گنڈا پور کے خلاف دہشتگردی کے مقدمے کی مذمت
پشاور: خیبر پختونخوا اسمبلی کے رکن اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما انور خان نے علی امین گنڈا پور کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ درج ہونے کی بھرپور مذمت کی ہے۔ اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انور خان نے کہا کہ ایک عوامی منتخب وزیر اعلیٰ اور پارٹی کے صوبائی صدر کے خلاف پنجاب میں دہشتگردی کے الزامات لگا کر مقدمہ درج کیا گیا، جو کہ قابلِ افسوس ہے۔انور خان نے کہا کہ "ہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف اس بے بنیاد مقدمے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی کی کوئی علامت نہیں رہی، اور وہ لوگ جو آئین کا درس دیتے ہیں، وہ خود سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔پی ٹی آئی رہنما نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کو نہ ماننے والوں کو آئین اور ملک سے غداری کا مرتکب قرار دیا اور کہا کہ آج ملک میں جمہوریت کے نام پر آمریت مسلط کر دی گئی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے اقدامات جمہوری اصولوں کے منافی ہیں اور ملک کو مزید بحرانوں میں دھکیل سکتے ہیں۔
-

بائیڈن کا غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا دفاع، امن مذاکرات کی ضرورت پر زور
نیو یارک: امریکی صدر جو بائیڈن نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 79ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملک کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے دفاع کو یقینی بنائے، خاص طور پر 7 اکتوبر کے حملوں کے تناظر میں، جسے انہوں نے یاد دلایا کہ دنیا کو اس کی ہولناکیوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔بائیڈن نے کہا، "دنیا اس وقت بہت سے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، اور بہت سے لوگ مشکلات میں ہیں۔” انہوں نے اپنے خطاب میں افغان جنگ کے خاتمے کے اپنے فیصلے کا ذکر کیا اور کہا کہ "ہر ملک کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ اس پر دوبارہ حملہ نہ ہو۔”
امریکی صدر نے خاص طور پر غزہ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا، جہاں شہریوں اور یرغمالیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے جنگ بندی کے معاہدے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا، کہ یہ وقت ہے کہ یرغمالیوں کی گھر واپسی کا معاہدہ کیا جائے۔بائیڈن نے غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں لوگ، جن میں انسانی حقوق کے کارکن بھی شامل ہیں، اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اور قحط کی صورت حال پیدا ہو رہی ہے۔ انہوں نے حماس اور اسرائیل پر زور دیا کہ وہ امریکی تجویز کردہ جنگ بندی کو قبول کریں تاکہ مزید انسانی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔
صدر بائیڈن نے یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ "پیوٹن کی جنگ اپنے بنیادی مقصد میں ناکام رہی ہے۔” انہوں نے وضاحت کی کہ "اس کا مقصد یوکرین کو تباہ کرنا تھا، لیکن یوکرین اب بھی آزاد ہے۔”چین کے حوالے سے بائیڈن نے کہا کہ امریکہ کو چین کے ساتھ مسابقتی مقابلے کو ذمہ داری سے سنبھالنا ہوگا تاکہ یہ مقابلہ کسی تنازع میں تبدیل نہ ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ اپنے اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے عالمی سطح پر تعاون کے لیے پرعزم ہے۔جو بائیڈن نے اپنی تقریر کو اختتام دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا جنرل اسمبلی میں چوتھا اور آخری خطاب ہے، اور انہوں نے دنیا کے سامنے موجود چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔