وزیر اعظم آزاد کشمیر چودھری انوار الحق نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے انتخابات کو "ڈھونگ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری قوم ایسے انتخابات کو قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے یہ بات ضلع سدھنوتی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ چودھری انوار الحق نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر جلد آزاد ہو گا، اور یہ کہ آج کی سکون کی زندگی خاکی وردی کی قربانی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان کی مملکت کو خطرہ ہوا، وہاں فوجی جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان کے تعاون سے عوام کو آٹے اور بجلی میں ریلیف فراہم کیا گیا ہے، اور ہم کسی صورت میں پاکستان کی احسان فراموشی نہیں کر سکتے۔ انہوں نے بلوچ عوام کی تحریک آزادی میں دی جانے والی خدمات کو بھی سراہا، یہ کہتے ہوئے کہ "کشمیر آزاد کرانے والے یہاں کے لوگ ہیں۔چودھری انوار الحق کا یہ بیان مقبوضہ کشمیر کی سیاسی صورتحال اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔
Author: صدف ابرار
-

وزیر اعظم آزاد کشمیر کامقبوضہ کشمیر میں انتخابات کو مسترد کرنے کا اعلان
-

صدر مملکت اور گورنر خیبرپختونخوا کی اہم ملاقات، صوبے کو درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال
اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گزشتہ روز ایوان صدر میں ملاقات کی، جس میں خیبرپختونخوا کے مجموعی معاملات اور صوبے کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ملاقات میں امن و امان، معاشی استحکام اور صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ گورنر خیبرپختونخوا نے صدر مملکت کو سوات اور مالم جبہ میں غیرملکی سفارتکاروں کے قافلے پر دہشتگردانہ حملے کے بارے میں آگاہ کیا، اس کے ساتھ ساتھ جنوبی اور ضم شدہ قبائلی اضلاع میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے صوبے کی بہتری کے لیے گورنر فیصل کریم کنڈی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ وفاق خیبرپختونخوا بشمول ضم شدہ اضلاع کی ترقی، خوشحالی اور امن و امان کی بحالی کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔ملاقات میں صوبے کے معاشی استحکام اور عوام کی فلاح و بہبود کے حوالے سے مزید اقدامات پر بھی گفتگو کی گئی، جس میں وفاق اور صوبائی حکومت کے درمیان تعاون کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا گیا۔ -

پاکستان تحریک انصاف نے بڑے شہروں میں جلسوں کا اعلان کر دیا
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ملک کے بڑے شہروں میں عوامی جلسے منعقد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، پارٹی قیادت کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں راولپنڈی کے بعد میانوالی، کراچی، کوئٹہ اور لاہور میں جلسے کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔پارٹی ذرائع نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے تنظیمی عہدیداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ احتجاجی تحریک کو مزید فعال کریں۔ جلسوں کے ساتھ ساتھ ملک بھر کے مختلف شہروں میں عدلیہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے بھی مظاہرے کیے جائیں گے۔یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پی ٹی آئی قیادت حکومت پر سیاسی دباؤ بڑھانے اور عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنی احتجاجی مہم کو تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جلسوں کی تاریخوں کا اعلان جلد متوقع ہے۔
-

ملک بھر میں بارشوں کا الرٹ: این ڈی ایم اے کی ہدایت
نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے ملک بھر میں شدید بارشوں کے پیش نظر الرٹ جاری کردیا ہے۔ این ڈی ایم اے کے مطابق 26 ستمبر سے یکم اکتوبر تک ملک کے مختلف حصوں میں گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارشوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔اتھارٹی کے بیان کے مطابق پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے متعدد علاقوں میں شدید بارشوں کا امکان ہے، جبکہ سندھ کے کچھ علاقوں میں 26 سے 28 ستمبر تک وقفے وقفے سے بارشیں متوقع ہیں۔ این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ موسلادھار بارشوں کے باعث پہاڑی علاقوں جیسے مری، گلیات، مانسہرہ، کوہستان، چترال، دیر، سوات، شانگلہ، بونیر، کشمیر اور گلگت بلتستان میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے، جس سے رابطہ سڑکوں کو نقصان پہنچنے یا بند ہونے کا خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ ایمرجنسی رسپانس ٹیمیں الرٹ رہیں، کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال کا فوری جواب دیا جائے، اور خطرے سے دوچار علاقوں میں مشینری اور وسائل کی بروقت دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ ادارے نے یہ بھی کہا کہ مقامی انتظامیہ اور عوام کو موسمی حالات اور الرٹس سے آگاہ رکھنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ لینڈ سلائیڈنگ اور سڑکوں کی ممکنہ بندش سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات کیے جا سکیں۔ این ڈی ایم اے نے ہدایت کی ہے کہ ایسے علاقے جہاں لینڈ سلائیڈنگ کا زیادہ خطرہ ہو، وہاں ضروری مشینری اور امدادی ٹیمیں پیشگی طور پر تیار رکھی جائیں تاکہ عوام کو کسی بھی مشکل صورتحال سے محفوظ رکھا جا سکے۔ -

آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا جنوبی وزیرستان کا دورہ، سیکیورٹی صورتحال اور ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کا دورہ کیا جہاں انہیں علاقائی سیکیورٹی صورتحال اور انسداد دہشتگردی کی جاری کارروائیوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس دورے کے دوران پاک فوج کے سربراہ کو ترقیاتی اقدامات پر بھی آگاہ کیا گیا، جو کہ علاقائی استحکام اور ترقی کے لیے اہم ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق وانا پہنچنے پر کور کمانڈر پشاور نے آرمی چیف کا پرتپاک استقبال کیا۔ آرمی چیف نے یادگار شہدا پر پھول چڑھائے اور وطن کی خاطر جان دینے والے بہادر سپاہیوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔آرمی چیف کو سیکیورٹی صورتحال کے علاوہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر آرمی چیف نے فوجی افسران اور جوانوں سے ملاقات کی اور ان کے غیر معمولی حوصلے اور تیاریوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج دشمن قوتوں اور ان کے سہولت کاروں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اس سلسلے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔
جنرل عاصم منیر نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاک فوج کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن قوتوں کے خلاف جنگ میں پاک فوج ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ فوج کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں، بالخصوص خیبر پختونخوا پولیس کو مستقل بنیادوں پر مدد اور تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ ان کی استعداد کار میں اضافہ ہو۔جنوبی وزیرستان کے دورے کے دوران، آرمی چیف نے وہاں کے عوام کے اہم کردار کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ امن و امان کے قیام میں عوام کی شراکت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے جنوبی وزیرستان انٹیگریٹڈ ڈیویلپمنٹ پلان کے تحت جاری منصوبوں کی پیش رفت اور خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی کے لیے پاک فوج کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔
آرمی چیف نے کہا کہ پاک فوج خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی اور ترقی کے لیے اپنے وسائل بروئے کار لاتی رہے گی اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عمائدین کی بھرپور حمایت اور عوام کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا یہ دورہ نہ صرف سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے تھا، بلکہ علاقے کی تعمیر و ترقی کے منصوبوں کی بھی مانیٹرنگ کی گئی تاکہ وہاں کے عوام کی زندگی میں بہتری لانے کے لیے جاری کاوشوں کو تیز تر کیا جا سکے۔
-

الیکشن کمیشن اب کس قانون کے تحت کام کرے؟ ای سی پی ذرائع
اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذرائع نے سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے حوالے سے جاری تفصیلی فیصلے پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے نے الیکشن ایکٹ کو غیرفعال کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی خود مختاری کو محدود کرتے ہوئے اپنے اختیارات کو بڑھا لیا ہے، اور اس اقدام سے الیکشن کمیشن کے آئینی کردار کو شدید دھچکا لگا ہے۔الیکشن کمیشن کے ذرائع نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ادارے کو ناکارہ بنانے کی کوشش ہے اور سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ٹیک اوور کر لیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فیصلے کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن اب کس قانون کے تحت اپنا کام کرے گا؟ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو اپنا ایک ماتحت ادارہ بنا لیا ہے اور کمیشن کے آئینی کردار پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
الیکشن کمیشن کے ذرائع نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ میں موجود ججز کے درمیان بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ جسٹس منصور علی شاہ نے سپریم کورٹ کی پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو ایک خط لکھا ہے جس میں ججز کمیٹی میں غیر جمہوری رویے اور ون مین شو کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس خط نے سپریم کورٹ کے اندرونی معاملات پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے حال ہی میں اپنے تفصیلی فیصلے میں الیکشن کمیشن کے یکم مارچ 2024 کے فیصلے کو آئین کے منافی قرار دیا تھا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا یکم مارچ کا فیصلہ غیر قانونی ہے اور آئینی اصولوں سے متصادم ہے۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ الیکشن کمیشن فروری 2024 میں اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہا۔الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے نے الیکشن کمیشن کو مکمل طور پر ناکارہ کر دیا ہے، اور یہ فیصلہ الیکشن ایکٹ کو غیر فعال کرنے کے مترادف ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کی خودمختاری اور آئینی کردار شدید متاثر ہوا ہے، اور سپریم کورٹ کی جانب سے اختیار سنبھالنے کی کوشش ادارے کی خود مختاری پر سنگین سوالات اٹھا رہی ہے۔ذرائع نے کہا کہ الیکشن کمیشن اب بے یار و مددگار نظر آتا ہے اور سپریم کورٹ نے اس کو اپنی شاخ بنا کر رکھ دیا ہے۔ اس صورتحال میں الیکشن کمیشن کے مستقبل کے لائحہ عمل پر سنجیدہ سوالات موجود ہیں اور ادارے کے اندرونی حلقے اس پر سخت تشویش کا شکار ہیں۔ -

لاہور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف مقدمہ درج
لاہور کے تھانہ مناواں میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف ایک اہم مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ، اقدام قتل سمیت 13 دفعات شامل ہیں۔ یہ مقدمہ ان کے متنازعہ رویے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث درج کیا گیا۔ایف آئی آر کے مطابق، علی امین گنڈاپور نے سیالکوٹ انٹرچینج پر اسلحہ سے لیس ایک جتھے کی قیادت کی، جس نے گاڑیوں کو آگ لگانے کی کوشش کی۔ ایف آئی آر میں واضح کیا گیا ہے کہ علی امین کے اشارے پر ٹول پلازہ پر کھڑی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مسلح گروپ نے پولیس کی مزاحمت بھی کی۔
علی امین گنڈاپور کے ہمراہ موجود افراد نے دو پولیس اہلکاروں کو بھی زخمی کر دیا، جبکہ ان کے کہنے پر ٹول پلازہ پر موجود گاڑیوں کے شیشے توڑنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ تمام واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ علی امین کی قیادت میں قانون کو کھلم کھلا نظر انداز کیا گیا۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملک بھر میں سیاسی حالات کشیدہ ہیں، اور علی امین گنڈاپور کے اس قسم کے اقدام نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ ان کے خلاف درج ہونے والا مقدمہ نہ صرف ان کی سیاسی حیثیت کے لیے چیلنج ہے بلکہ یہ ایک بڑے پیمانے پر قانون کے احترام کے حوالے سے بھی سوالات اٹھاتا ہے۔
حکومتی اور قانونی اداروں کی جانب سے اس مقدمے کی تحقیقات کا آغاز کیا جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں مزید حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان اس واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جس نے سیاسی ماحول کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا اثر آنے والے سیاسی اقدامات اور عوامی رائے پر پڑ سکتا ہے، جبکہ حکومتی جماعت کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ -

جسٹس منصور علی شاہ کا خط حق بجانب ہے، چیف جسٹس کا رویہ نامناسب ہے: حامد خان
ماہر قانون اور سینیٹر حامد خان نے کہا ہے کہ جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے ججز کمیٹی کو لکھا گیا خط مکمل طور پر حق بجانب ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس فیصلوں کو نظرانداز کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے اور موجودہ چیف جسٹس جسٹس سجاد علی شاہ جیسا کردار ادا کر رہے ہیں۔حامد خان نے کہا کہ چیف جسٹس کا رویہ مناسب نہیں ہے اور عدالت ایک "ون مین شو” نہیں ہوتی، بلکہ تمام ججز کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس خود اپنے وضع کردہ اصولوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور جسٹس منصور علی شاہ کا خط مکمل طور پر درست ہے۔ حامد خان نے کہا کہ چیف جسٹس کو اپنے آخری مہینے میں اہم مقدمات کی سماعت نہیں کرنی چاہیے۔
حامد خان نے حکومت اور آئینی ترامیم پر بھی سخت تنقید کی، کہا کہ حکومت کی بدنیتی آئینی ترمیم کے حوالے سے واضح تھی اور وفاقی وزیر قانون کے پاس ترمیم کا ڈرافٹ تک موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی ترمیم کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ماہر قانون نے الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن مسلسل غلط فیصلے کر رہا ہے اور موجودہ حکومت اور الیکشن کمیشن ایک ہی پیج پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنا چاہیے اور نظرثانی اپیل دائر کرنے سے فیصلے پر عمل درآمد نہیں رک سکتا۔ حامد خان کا کہنا تھا کہ وزراء کھلم کھلا آئین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور حکومت نے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا ہے۔ -

الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نشستیں دینا ہوں گی ، سلمان اکرم راجا
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما سلمان اکرم راجا نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کی تشریح ہی آئین کی شکل اختیار کرتی ہے اور رانا ثناء اللہ کے بیانات آئین کی نفی کے مترادف ہیں۔سلمان اکرم راجا نے مزید وضاحت کی کہ مخصوص نشستوں پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں وزیراعظم اور الیکشن کمیشن کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا، "کہیں نہیں لکھا کہ سپریم کورٹ جو کہے وہ آئین ہوگا۔ رانا ثناء اللہ نے جو کہا وہ آئین کی نفی ہے۔”
ان کا کہنا تھا کہ آئینی ترامیم بھی ایک دائرے کے تحت آتی ہیں اور اگر سپریم کورٹ آئین کی تشریح کر رہی ہے تو اس سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ہر شخص کو سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننا ضروری ہے، کیونکہ آئین کی تشریح کا آخری اختیار عدالت عظمیٰ کو حاصل ہے۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ "جب تک آئین موجود ہے، سپریم کورٹ اس کی تشریح کرے گا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے صحیح اور غلط ہوسکتے ہیں، لیکن ماننا ہمارا فرض ہے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ پارلیمنٹ آئین کی تشریح کر سکتی ہے، لیکن اس کا دائرہ محدود ہے، اور سپریم کورٹ کا ہر فیصلہ نافذ العمل ہے۔سلمان اکرم راجا نے وضاحت کی کہ الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نشستیں دینا ہوں گی اور اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں کارروائی ممکن ہے۔ انہوں نے مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کے حوالے سے بھی بات کی، کہا کہ یہ ان کا حق ہے، اور حکومت کو انہیں اپنے آئینی حقوق دینے چاہئیں۔ سلمان اکرم راجا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انہیں کھل کر گفتگو کرنے کا موقع دیا جائے، کیونکہ ان پر حملے کے لیے مواقع کی تلاش جاری ہے۔ -

رانا ثناء اللّٰہ کا سپریم کورٹ پر تنقید: آئین کی بالادستی کا مطالبہ
اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور، رانا ثناء اللّٰہ نے حالیہ بیان میں سپریم کورٹ کی حیثیت اور آئینی معاملات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "سپریم کورٹ آئین اور قانون سے بالا فیصلے نہیں کرسکتا” اور یہ کہ "کہیں نہیں لکھا کہ جو سپریم کورٹ کہے گا وہ آئین ہوگا۔”یہ بیان ایک ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے جسٹس منصور علی شاہ کے ایکٹ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے پر عمل نہ کرنے پر وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں ہوسکتی، اور اس معاملے میں کسی کو بھی شک نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک آئین اور قانون کے مطابق چلنا چاہیے، اور یوسف رضا گیلانی کے دور کی تاریخ دوبارہ نہیں دہرائی جاسکتی۔ رانا ثناء اللّٰہ نے اس بات پر زور دیا کہ مخصوص نشستوں کا معاملہ سپریم کورٹ میں موجود ہے اور اسے فل کورٹ کی جانب سے سنا جانا چاہیے تاکہ قوم کو اس بھنور سے نکالا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ "سپریم کورٹ آئین کے مطابق فیصلہ کرے گی” اور عدالت عظمیٰ آئین اور قانون سے بالا فیصلے نہیں کرسکتی۔ اگر عدالت کا فیصلہ آئین کے مطابق ہے تو اس پر عمل ہونا چاہیے۔
وزیراعظم کے مشیر نے یہ بھی کہا کہ اگر سپریم کورٹ آئین توڑنے والوں کے عمل کو آئینی قرار دے دے، تو پھر ان معاملات پر بحث کی جائے گی کہ آیا کسی ادارے نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا تحفظ کرنے کا حلف اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن نے آئین کے تحفظ کا حلف لیا ہے تو اس کا تحفظ کرنا چاہیے، اور یہ کہ "آئینی ترمیم کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے۔رانا ثناء اللّٰہ نے اس بات کی وضاحت کی کہ دو ججز نے یہ کہا ہے کہ آٹھ ججز نے آئین توڑا ہے، اور یہ کہ سپریم کورٹ کے پاس آئین کی تشریح کا اختیار ہے، نہ کہ اسے بنانے کا۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدراتی آرڈیننس جاری کیا گیا ہے جو آئین کے مطابق ہے، اور اس کی قانونی حیثیت اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک پارلیمنٹ اسے مسترد نہ کرے۔ رانا ثناء اللّٰہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اس وقت کوئی جلسے نہیں کر رہے بلکہ وہ انتشار کے لیے کسی واقعے کی تلاش میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "یہ لوگ جلسے نہیں کررہے، بلکہ ریاست پر چڑھائی کی تیاری کر رہے ہیں۔” انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ایک ٹیبل پر آئیں اور موجودہ مسائل کو حل کریں۔