Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • اسرائیل کا  لبنان  سےفضائی جنگ کا آغاز ، شہریوں کو دو گھنٹے کی مہلت

    اسرائیل کا لبنان سےفضائی جنگ کا آغاز ، شہریوں کو دو گھنٹے کی مہلت

    بیروت: اسرائیل نے لبنان کے خلاف فضائی حملوں کا آغاز کر دیا ہے، جس میں شہریوں کو علاقے خالی کرنے کے لیے صرف دو گھنٹے کی مہلت دی گئی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق، اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حملے کا مقصد لبنان بھر میں حزب اللّٰہ کی تنصیبات کو نشانہ بنانا ہے۔ترجمان کے بیان کے مطابق، وادی بقاع میں عسکریت پسند تنظیم کے اسٹریٹیجک ہتھیاروں، بشمول راکٹوں اور ڈرون طیاروں کے گوداموں پر بمباری کی جائے گی۔ انہوں نے لبنان کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی جگہیں خالی کر دیں تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔حالیہ اطلاعات کے مطابق، جنوبی لبنان کے کئی علاقوں اور شہروں سے نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ شہریوں کی بڑی تعداد اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب روانہ ہو رہی ہے، اور اس صورتحال نے عوامی زندگی کو مزید متاثر کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے حملے سے قبل جنوبی لبنان کے رہائشی علاقوں میں بڑے پیمانے پر فضائی بمباری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں 182 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ لبنانی وزارت صحت نے بھی ان حملوں کی شدت اور متاثرہ افراد کی تعداد کی تصدیق کی ہے، جس میں 727 افراد زخمی ہوئے ہیں۔اس فضائی جنگ کے آغاز نے لبنان میں موجود انسانی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جہاں پہلے ہی بحران کی کیفیت جاری ہے۔ بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دے رہی ہیں۔لبنانی عوام کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے، یہ کہنا مشکل ہے کہ آنے والے دنوں میں صورتحال کس رخ پر جائے گی۔ اس تناظر میں، عالمی سطح پر لبنان کی مدد اور حمایت کی ضرورت بڑھ گئی ہے تاکہ جنگ کی تباہ کاریوں سے متاثرہ لوگوں کی مدد کی جا سکے۔

  • جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    جسٹس منصور علی شاہ کا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی میں عدم شرکت، چیف جسٹس کو خط

    اسلام آباد : سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے اجلاس میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک تفصیلی خط لکھا ہے جس میں انہوں نے آرڈیننس اور کمیٹی کی تشکیل نو کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں واضح کیا کہ جب تک فل کورٹ اس معاملے پر مکمل جائزہ نہیں لے لیتی، وہ کمیٹی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں نشاندہی کی کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر آرڈیننس کے جاری ہونے کے بعد فوری طور پر کمیٹی کی تشکیل نو کردی گئی، حالانکہ آرڈیننس میں یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ تشکیل نو لازمی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرڈیننس کے باوجود سابقہ کمیٹی اپنے کام کو جاری رکھ سکتی تھی اور اس حوالے سے کوئی معقول وجہ نہیں بتائی گئی کہ فوری طور پر یہ فیصلہ کیوں کیا گیا۔
    خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے سابقہ کمیٹی کے رکن جسٹس منیب اختر کو ہٹانے پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس منیب اختر کو کمیٹی سے ہٹانے کی کوئی واضح وجہ نہیں بتائی گئی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی مشاورت کی گئی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ جسٹس منیب کے بعد والے سینئر جج کو بھی کمیٹی میں شامل نہیں کیا گیا، جس سے کمیٹی کی تشکیل میں شفافیت کے حوالے سے سوالات جنم لیتے ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے خط میں فل کورٹ میٹنگ بلانے کی تجویز بھی دی اور کہا کہ اس آرڈیننس کا جائزہ لینے کے لیے فل کورٹ میٹنگ بلائی جانی چاہیے تاکہ سب ججز اس معاملے پر اپنی رائے دے سکیں اور اس کے تمام قانونی پہلوؤں پر غور کیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک اس فل کورٹ میٹنگ میں یہ معاملات زیر غور نہیں آئیں گے اور چیف جسٹس سابقہ کمیٹی کو بحال نہیں کریں گے، وہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
    خط میں جسٹس منصور علی شاہ نے آرڈیننس کے تحت کمیٹی کی تشکیل نو کے حوالے سے قانونی نکات اٹھائے اور کہا کہ آرڈیننس کمیٹی کی تشکیل نو کو لازمی قرار نہیں دیتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ فوری طور پر کمیٹی کی تشکیل نو کیوں کی گئی اور اس کے پیچھے کیا قانونی جواز تھا۔ ان کا موقف تھا کہ آرڈیننس کے باوجود کمیٹی اپنا کام جاری رکھ سکتی تھی اور اس کی تشکیل نو کی ضرورت نہیں تھی۔خط کے اختتام پر جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی کی تشکیل نو کے حوالے سے فوری فیصلے کی وجوہات کو واضح کیا جائے اور اس عمل میں شامل ججز کی نظراندازی کے حوالے سے بھی وضاحت دی جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شفافیت اور عدلیہ کی ساکھ کے لیے ضروری ہے کہ ان سوالات کا تفصیلی جواب دیا جائے۔یہ خط عدلیہ کے اندرونی معاملات اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے جاری تنازعے میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔

  • سوات میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ سکیورٹی خدشات کے باعث بند

    سوات میں غیر ملکی سیاحوں کا داخلہ سکیورٹی خدشات کے باعث بند

    خیبرپختونخوا حکومت نے سوات میں غیر ملکی سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ حالیہ دنوں میں غیر ملکی سفارت کاروں کے قافلے پر ہونے والے حملے کے تناظر میں کیا گیا ہے جس کے بعد حکومتی حکام نے سکیورٹی کے پیش نظر غیر ملکیوں کی نقل و حرکت پر عارضی پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔ذرائع کے مطابق، انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کو سوات میں داخلے سے روک دیا گیا۔ دونوں میاں بیوی سیاحت کی غرض سے سوات کی جانب روانہ تھے لیکن انہیں لنڈاکے چیک پوسٹ پر روک دیا گیا۔ سوات اپنے قدرتی حسن اور سیاحتی مقامات کی وجہ سے عالمی سطح پر مشہور ہے اور ہر سال یہاں بڑی تعداد میں سیاح آتے ہیں، تاہم حالیہ سکیورٹی خدشات کی وجہ سے حکام نے فوری اقدامات اٹھائے ہیں تاکہ غیر ملکیوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
    خیال رہے کہ گزشتہ روز سوات میں غیر ملکی سفارت کاروں کے قافلے کو دہشت گردوں کی جانب سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ دہشت گردوں نے سڑک کنارے نصب دھماکہ خیز مواد کے ذریعے حملہ کیا، جس کا ہدف سفارتی قافلہ تھا۔ خوش قسمتی سے تمام سفارت کار حملے میں محفوظ رہے، تاہم سکیورٹی اسکواڈ کی ایک گاڑی اس دھماکے کی زد میں آئی اس حملے کے نتیجے میں پولیس کی گاڑی میں موجود ایک اہلکار جاں بحق ہو گیا، جبکہ تین دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ یہ واقعہ سوات میں امن و امان کی صورتحال پر سوالیہ نشان بن گیا ہے اور حکومتی ادارے سکیورٹی کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
    اس حملے کے بعد صوبائی حکومت نے فوری طور پر غیر ملکی سیاحوں کے سوات میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ سوات میں موجود سیاحتی مقامات پر سکیورٹی کو مزید سخت کیا جا رہا ہے اور مقامی انتظامیہ نے بھی عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پابندی عارضی ہے اور جیسے ہی سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوگی، غیر ملکی سیاحوں کو دوبارہ سوات میں آنے کی اجازت دی جائے گی۔ مقامی لوگوں اور کاروباری حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے کیونکہ سیاحت سے وابستہ صنعت سوات کی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے، اور یہ پابندی اس صنعت کو وقتی طور پر متاثر کر سکتی ہے۔خیبرپختونخوا حکومت اور سکیورٹی ادارے مل کر سوات میں سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ سوات میں امن و امان کو جلد بحال کیا جائے تاکہ سیاح دوبارہ سے اس خطے کی خوبصورتی اور قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں۔

  • عمر سرفراز چیمہ کی عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ کیس میں ضمانت کیلئے عدالت سے رجوع

    عمر سرفراز چیمہ کی عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ کیس میں ضمانت کیلئے عدالت سے رجوع

    لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ کیس میں اپنی ضمانت کے حصول کے لیے لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔عمر سرفراز چیمہ نے اپنے وکلاء کی وساطت سے عدالت میں درخواست دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ وہ عسکری ٹاور کو نذر آتش کرنے اور تشدد آمیز کارروائیوں میں ملوث نہیں ہیں۔ درخواست میں کہا گیا کہ انہیں سیاسی بنیادوں پر اس کیس میں نامزد کیا گیا ہے اور ان پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ عمر سرفراز چیمہ ایک پرامن شہری ہیں اور اس واقعے میں کسی قسم کا کوئی کردار نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق، انہیں جان بوجھ کر سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور مقدمے میں ان کا نام محض سیاسی وجوہات کی بنا پر شامل کیا گیا ہے۔
    عمر سرفراز چیمہ نے عدالت سے استدعا کی کہ مقدمے کی نوعیت اور الزامات کی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی ضمانت کی درخواست منظور کی جائے اور انہیں فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔یاد رہے کہ عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ کا واقعہ 9 مئی کے احتجاج کے دوران پیش آیا تھا، جس میں متعدد سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر دہشتگردی سمیت مختلف سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔عمر سرفراز چیمہ کا دعویٰ ہے کہ وہ اس واقعے کے وقت موقع پر موجود نہیں تھے اور انہیں بلاوجہ اس مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔

  • خیبر پختونخوا :  صحت کارڈ میں مزید بیماریوں کا علاج شامل کرنے کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا : صحت کارڈ میں مزید بیماریوں کا علاج شامل کرنے کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور نے صوبے کے عوام کے لیے صحت کارڈ پروگرام کو مزید جامع اور مؤثر بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو صحت کارڈ میں مزید بیماریوں کے علاج کو شامل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے صحت کارڈ سے متعلق اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شہریوں کو لائف انشورنس صحت کارڈ میں شامل کرنے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا اور اس حوالے سے ایک جامع پلان کی تیاری کا حکم دیا۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ نے پی آئی سی (پشاور انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی) میں صحت کارڈ کے تحت دل کے آپریشنز کے متعلق شکایات کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ آپریشنز ریٹس میں کمی کی وجہ سے دل کے مریضوں کے آپریشن نہ ہونے کی شکایات ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو فوری ہدایات جاری کیں کہ دل کے مریضوں کے آپریشنز کو ہر صورت ممکن بنایا جائے اور دل کے آپریشنز پر آنے والے تمام اخراجات خیبر پختونخوا حکومت برداشت کرے گی۔
    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے اس موقع پر کہا کہ صحت کارڈ پلس منصوبہ عوام کی سہولت کے لیے ایک اہم قدم ہے اور اسے مزید بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ خیبر پختونخوا حکومت صحت کارڈ کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے مزید بیماریوں کا علاج شامل کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔ یہ قدم عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہوگی۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ اس منصوبے کو شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے حکومت نے عزم کیا ہے کہ اچھی شہرت کے حامل مزید اسپتالوں کو بھی صحت کارڈ کے پینل میں شامل کیا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر اور معیاری طبی سہولیات میسر آئیں۔انہوں نے کہا کہ عوام کی صحت کے لیے حکومت کے اقدامات میں نہ صرف اضافہ کیا جا رہا ہے بلکہ شفافیت کو بھی یقینی بنایا جائے گا تاکہ مستحق افراد تک صحت کی سہولیات کا بھرپور فائدہ پہنچ سکے۔حکومت خیبر پختونخوا کے اس اقدام کو عوامی حلقوں میں خوب سراہا جا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ صحت کارڈ کے مزید بہتر اور جامع بننے سے عوام کو صحت کی سہولیات تک رسائی میں بڑی آسانی ہوگی۔

  • وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا ملک بھر میں احتجاج کی کال

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا ملک بھر میں احتجاج کی کال

    وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے جمعہ کے روز ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کی کال دی ہے، جس کا مقصد عدلیہ کی آزادی، آئین کے تحفظ، اور بانی کی رہائی کا مطالبہ کرنا ہے۔ اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہر شہر میں نکل کر یہ مطالبات کیے جائیں گے۔گنڈاپور نے اعلان کیا کہ آئندہ اتوار کو میانوالی میں ایک بڑے جلسے کا انعقاد کیا جائے گا، جس کے بعد پنڈی میں بھی جلسہ کرنے کا ارادہ ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم پرچے کاٹنے کے لیے تیار ہیں، لیکن ہم بانی کو رہا کرا کے وزیراعظم بنائیں گے۔
    انہوں نے پاکستان میں دوہرے معیار کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "اس ملک میں دو قانون ہیں، ہر طرف کنٹینر لگا کر گھٹیا حرکت کی گئی، جھوٹا بیانیہ بنایا گیا کہ راستے کھلے تھے۔علی امین گنڈاپور نے بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت پر ڈاکہ ڈال رہے ہیں اور ان دونوں سے معافی مانگنے کی بات کی، خصوصاً ان افراد سے جنہوں نے ان کے لیڈر کے گریبان میں ہاتھ ڈالا۔ انہوں نے مزید کہا، "کم ظرفوں ہم سے معافی کی امید نہ رکھنا، معافی شافی کی باتیں نہ کرو، اگر معافی پر بات چلی تو پوری زندگی معافی مانگو گے۔
    گنڈاپور نے واضح کیا کہ وہ پنجاب حکومت کے غلام نہیں ہیں اور کسی بھی حکومت سے معافی نہیں مانگیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ احتجاج کے ذریعے عوام کو یہ بتائیں گے کہ حقیقی جلسے کیا ہوتے ہیں۔یہ اعلان سیاسی حلقوں میں ہلچل مچانے کا باعث بن گیا ہے، اور ان کے حامیوں نے جمعہ کو ہونے والے احتجاج کے لیے تیاری شروع کر دی ہے۔ ان کی یہ متنازعہ بیانات اور ان کے خلاف کیے جانے والے اقدامات نے ان کے حامیوں میں جوش و خروش پیدا کر دیا ہے۔

  • ملک میں شفافیت کے بغیر بہتری کی امید نہیں ،مولانا فضل الرحمن

    ملک میں شفافیت کے بغیر بہتری کی امید نہیں ،مولانا فضل الرحمن

    جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی موجودہ سیاسی اور اقتصادی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نہ صرف سیاسی استحکام کی کمی ہے بلکہ معیشت بھی بہتری کی راہ پر نہیں ہے۔ ان کے مطابق، نہ تو آئین محفوظ ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ، جس کی وجہ سے ہر ادارہ اپنی طاقت کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔مولانا فضل الرحمان نے جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے بزنس کمیونٹی کی دلچسپی کی تعریف کی اور اس بات پر زور دیا کہ آئی ٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے ذریعے ریونیو میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہترین امن و امان کے بغیر کاروبار کے امکانات محدود ہیں، مگر بدقسمتی سے پاکستان اس معاملے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مسلح گروہوں کی موجودگی اور سٹریٹ کرائم کی صورت حال نے عوامی زندگی کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے ملک میں بے چینی کی فضا قائم ہے۔

    سربراہ جے یو آئی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی جماعت ملک کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے، اور بنیادی چیزوں میں امن و امان اور خوشحال معیشت شامل ہیں۔ انہوں نے انسانی جان و مال کے تحفظ کو سب سے اہم قرار دیا اور کہا کہ یہ حالات بزنس کمیونٹی کی معیشت میں کردار ادا کرنے کی خواہش کے باوجود پیچیدہ ہیں۔فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال کی بہتری کے لیے سیاسی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے، لیکن یہ تبدیلیاں مخصوص سیاسی مفاد کے لیے نہیں ہونی چاہئیں۔ ان کا اصرار تھا کہ لوگوں کے درمیان اعتماد پیدا کرنا اور ملک و قوم کی ضروریات کو سمجھنا انتہائی اہم ہے۔انہوں نے منصفانہ انتخابات کی ضرورت پر بھی زور دیا، یہ کہتے ہوئے کہ اگر ملک میں شفاف انتخابات نہیں ہوئے تو موجودہ حالات میں بہتری کی کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی۔ مولانا فضل الرحمان نے اختتام پر کہا کہ حکومتوں کی تشکیل کی کہانیاں وقت کے ساتھ سامنے آتی رہیں گی، اور ان کے مسائل کا مستقل حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

  • خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو مہم کا دوسرا مرحلہ،  23 ستمبر سے آغاز

    خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو مہم کا دوسرا مرحلہ، 23 ستمبر سے آغاز

    خیبر پختونخوا کے تین اضلاع میں انسداد پولیو مہم کا دوسرا مرحلہ کل 23 ستمبر سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ محکمہ صحت خیبر پختونخوا کے مطابق، اس مہم کا مقصد ٹانک، لکی مروت اور ڈیرا اسماعیل خان میں 6 لاکھ 72 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانا ہے۔محکمہ صحت نے اس مہم کے لیے 4 ہزار سے زیادہ ٹیمیں تشکیل دی ہیں، جو گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلائیں گی۔ ان ٹیموں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے 4 ہزار 896 پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائے گا۔ سیکیورٹی فورسز کی یہ تعیناتی اس بات کی ضامن ہے کہ مہم کو بلا رکاوٹ اور محفوظ طریقے سے جاری رکھا جائے۔محکمہ صحت کے ترجمان نے کہا کہ یہ مہم بچوں کی صحت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے اور والدین سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ویکسین کے قطرے پلانے میں تعاون کریں۔
    انہوں نے مزید کہا کہ پولیو ایک خطرناک مرض ہے جو بچوں کو مفلوج کر سکتا ہے، اس لیے اس کے خاتمے کے لیے ہم سب کو مل کر کوششیں کرنی ہوں گی۔صوبے میں پولیو کے کیسز میں کمی لانے کے لیے یہ مہم ایک اہم اقدام ہے، اور حکومت کی خواہش ہے کہ پولیو سے پاک پاکستان کے خواب کو حقیقت میں بدلا جا سکے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ مہم کے دوران اپنے بچوں کو قطرے پلانے کا موقع دیں اور کسی بھی قسم کی معلومات کے لیے محکمہ صحت سے رابطہ کریں۔اس کے علاوہ، انسداد پولیو مہم کے دوران آگاہی پیدا کرنے کے لیے مختلف سرگرمیاں بھی کی جائیں گی، تاکہ لوگ پولیو کے خطرات اور ویکسین کی اہمیت کے بارے میں آگاہ ہوں۔محکمہ صحت کی جانب سے عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مہم کے دوران اپنی صحت کے متعلق تمام معلومات کو سنجیدگی سے لیں اور پولیو سے بچاؤ کی ویکسینیشن کو ہر صورت یقینی بنائیں۔

  • عوام مہنگائی اور بدامنی سے تنگ، موجودہ اسمبلی میں نمائندگی کا فقدان، اسد قیصر

    عوام مہنگائی اور بدامنی سے تنگ، موجودہ اسمبلی میں نمائندگی کا فقدان، اسد قیصر

    پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ حکومت دسمبر تک قائم نہیں رہے گی اور شہباز شریف کو خود استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ انہوں نے لاہور میں حالیہ جلسے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر دیگر جماعتیں متحد ہو کر جلسہ کرنا چاہیں تو انہیں ہمارے جلسے کا آدھا بھی دکھانا ہوگا۔اسد قیصر نے مزید کہا کہ عوام مہنگائی اور بدامنی سے تنگ آ چکے ہیں اور موجودہ اسمبلی میں عوام کے نمائندے نہیں ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اپوزیشن کی مخصوص نشستیں چھیننے کی کوشش کر رہی ہے اور عدلیہ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔
    انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کا اجلاس کل منعقد ہوگا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر بات چیت کی جائے گی۔ اسد قیصر نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت اخلاقی حدود پار کر چکی ہے اور ملک میں بنیادی حقوق معطل ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے جلسے کو روکنے کے لیے غیر قانونی حربے استعمال کیے ہیں اور ان کے پاس حکومت ہٹانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ اسد قیصر نے مزید کہا کہ وہ جلد ہی سڑکوں پر ہوں گے اور ملک کی بہتری کے لیے ہر حد تک جائیں گے۔انہوں نے چیف جسٹس کے فیصلوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے چاہئیں اور اس بات کا ذکر کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو انتقام کی بنیاد پر جیل میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمان اور دیگر جماعتوں سے بھی اتحاد کی درخواست کی۔

  • علی امین گنڈا پور کی کارکردگی پر امیر مقام کا سخت ردعمل

    علی امین گنڈا پور کی کارکردگی پر امیر مقام کا سخت ردعمل

    پشاور: مسلم لیگ (ن) کے رہنما امیر مقام نے علی امین گنڈا پور کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں پر شدید تنقید کی ہے، خاص طور پر لاہور میں ہونے والے جلسے کے حوالے سے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گنڈا پور نے اسلام آباد میں جو ڈرامہ کیا، وہی لاہور میں بھی دہرایا، جس کی وجہ سے عوام نے انہیں مسترد کر دیا۔امیر مقام کا کہنا تھا، "علی امین گنڈا پور کی جو ولن والی شکل لوگوں نے جلسے میں دیکھی، وہ اس کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ لاہور کے عوام نے ان کی حکمت عملی کو سمجھ لیا ہے، اور وہ اب انہیں قبول نہیں کر رہے۔” انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ گنڈا پور کو جلسے میں اس لیے دن کے وقت نہیں آنے دیا گیا تاکہ لوگوں کو اصل تعداد کا اندازہ نہ ہو سکے۔
    انہوں نے خیبرپختونخوا کی صورت حال کا بھی ذکر کیا، جہاں عوام شام کے بعد گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔ "علی امین گنڈا پور کو صوبے کی مشکلات پر توجہ دینی چاہیے۔ خیبرپختونخوا اب پاکستان میں ایک نوگو ایریا بنتا جا رہا ہے، اور اس کا اثر یہاں کے لوگوں پر پڑ رہا ہے۔مزید یہ کہ امیر مقام نے مالاکنڈ ڈویژن میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی طرف بھی اشارہ کیا، جہاں آج بھی ایک سفیر کی گاڑی کے قریب حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا، "علی امین گنڈا پور کو ان واقعات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور عوام کی حفاظت کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔”امیر مقام کی یہ سخت تنقید گنڈا پور کی قیادت پر ایک سوالیہ نشان چھوڑتی ہے، اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ خیبرپختونخوا میں سیاسی ماحول کس قدر کشیدہ ہے۔