Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • مذہبی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کا اپنے دورہ پاکستان کا باقاعدہ اعلان

    مذہبی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کا اپنے دورہ پاکستان کا باقاعدہ اعلان

    معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنے دورہ پاکستان کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے، جو کہ ملک میں ان کے چاہنے والوں کے لیے ایک بڑی خوشخبری ہے۔ ڈاکٹر نائیک لاہور، کراچی، اور اسلام آباد میں مختلف مذہبی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔ڈاکٹر نائیک کے پروگرام کے مطابق، وہ کراچی میں 6 اور 7 اکتوبر کو جبکہ لاہور میں 12 اور 13 اکتوبر کو مذہبی اجتماعات کا انعقاد کریں گے۔ بعدازاں، وہ 19 اور 20 اکتوبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔ ان اجتماعات میں ڈاکٹر نائیک عوام کے سوالات کے جوابات بھی دیں گے، جس سے شرکت کرنے والے افراد کو ان کے دینی مسائل کے حل کے لیے براہ راست رہنمائی حاصل ہو گی۔
    ڈاکٹر ذاکر نائیک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (Twitter) پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ کے ذریعے اپنے دورہ پاکستان کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت پاکستان کی خصوصی دعوت پر آ رہے ہیں۔ اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد دعوت و تبلیغ کے ذریعے لوگوں کو اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کرنا ہے۔ڈاکٹر ذاکر نائیک کو پاکستان اور بھارت سمیت دنیا بھر میں ان کی بے پناہ مذہبی خدمات کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی تقریروں اور اجتماعات کے ذریعے بے شمار لوگوں کو اسلام کی جانب راغب کیا ہے، اور ان کے پیغام کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔
    یہ دورہ نہ صرف پاکستان میں مسلمانوں کے لیے ایک اہم موقع ہے بلکہ یہ نوجوان نسل کے لیے بھی ایک مثبت پیغام دے گا کہ وہ مذہب کو سمجھنے اور اس کی حقیقت کو جاننے کے لیے خود کو بہتر بنائیں۔ اس موقع پر ان کے اجتماعات میں شرکت کرنے والے افراد کو اس بات کی توقع ہے کہ انہیں جدید دینی مسائل پر قیمتی رہنمائی ملے گی۔ڈاکٹر ذاکر نائیک کا یہ دورہ یقینی طور پر مذہبی تبادلہ خیال کا موقع فراہم کرے گا اور لوگوں کی مذہبی معلومات میں اضافہ کرے گا۔ ان کی تقریریں اور عوامی سوالات کے جوابات پاکستان کے مسلمانوں کے لیے ایک نیا راستہ ہموار کریں گے۔

  • پولیس کانسٹیبل نے چھٹی نہ ملنے پر خودکشی کرلی

    پولیس کانسٹیبل نے چھٹی نہ ملنے پر خودکشی کرلی

    پنجاب کے ضلع وہاڑی کے شہر بورے والا میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک پولیس کانسٹیبل نے چھٹی نہ ملنے پر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق کانسٹیبل لئیق احمد نے خود کو سینے میں گولی مار لی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔اہلِ خانہ کے مطابق لئیق احمد کئی دنوں سے کام کے دباؤ میں تھا اور مسلسل چھٹی نہ ملنے کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ لئیق احمد چھٹی کی درخواست مسترد ہونے پر دل برداشتہ ہو گیا تھا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمی کانسٹیبل کو فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن حالت بگڑنے پر انہیں ساہیوال کے بڑے اسپتال میں منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لئیق احمد پنجاب کانسٹیبلری میں تعینات تھا اور وہ گزشتہ کچھ عرصے سے کام کے دباؤ کی شکایت کر رہا تھا۔ اس واقعے پر پولیس اہلکاروں میں افسردگی کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

  • نوجوان مایوس نہ ہوں، حق مزاحمت سے چھیننا پڑے گا: حافظ نعیم الرحمان

    نوجوان مایوس نہ ہوں، حق مزاحمت سے چھیننا پڑے گا: حافظ نعیم الرحمان

    امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے ایکسپو سینٹر کراچی میں خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کو مایوسی سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنا حق مزاحمت کے ذریعے چھیننا ہوگا۔ انہوں نے ملکی حالات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ 77 سال بعد بھی ہمارا ملک مختلف مسائل کا شکار ہے، اور حکمران طبقہ ہی ان مسائل کا ذمہ دار ہے۔حافظ نعیم الرحمان نے سقوطِ ڈھاکہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے لوگوں کو دھوکہ دیا گیا اور بھارت کا غلام بنانے کی کوشش کی گئی، جس کے خلاف وہاں کے عوام نے مزاحمت کی اور صورتحال کو تبدیل کیا۔ انہوں نے پاکستان کے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے حکمرانوں کے لئے ائیر لفٹ تک کی سہولت ممکن نہیں رہی۔
    تعلیم اور صحت کے نظام پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست کا فرض ہے کہ عوام کو امن، تعلیم اور صحت فراہم کرے۔ "سندھ میں تعلیم کے لیے 454 ارب اور پنجاب میں 669 ارب کا بجٹ مختص ہے، اگر اس بجٹ کا درست استعمال ہو تو پاکستان کا تعلیمی معیار بہتر ہو سکتا ہے”، انہوں نے مزید کہا کہ صحت کے شعبے میں بھی بہتری کی گنجائش ہے مگر بڑی رقوم کے باوجود بنیادی ضروریات پوری نہیں ہو رہیں۔انہوں نے اسرائیلی بربریت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسجد اقصیٰ صیہونیوں کے قبضے میں ہے اور غزہ کے نوجوان ہی امید کی کرن ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔

  • سٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع میں ریکارڈ اضافہ

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع میں ریکارڈ اضافہ

    اسلام آباد: سٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران اس کے منافع میں ایک ریکارڈ اضافہ ہوا ہے، جو 209.09 فیصد تک پہنچ گیا۔ 30 جون 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال کے لیے سٹیٹ بینک کی آمدنی 3.4 ٹریلین روپے تک پہنچی، جو کہ مالی سال 2023 میں صرف 1.1 ٹریلین روپے تھی۔اس نمایاں اضافے کی وجہ سے سٹیٹ بینک کی آمدنی میں 2.3 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا، جس نے نہ صرف بینک کی مالی حالت کو مستحکم کیا بلکہ اس کی کارکردگی میں بھی بہتری کی عکاسی کی۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ بینک کی موثر مالی پالیسیوں اور منیجمنٹ کی کامیابی کا ثبوت ہے، جس نے اس کے منافع کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
    اقتصادی ماہرین کے مطابق، سٹیٹ بینک کے اس منافع میں اضافہ ملک کی مالی صحت کے حوالے سے ایک مثبت اشارہ ہے۔ یہ نہ صرف بینک کی داخلی کارکردگی کو بہتر بناتا ہے بلکہ معیشت کے استحکام میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ سٹیٹ بینک کی مالی پالیسیوں کا کامیابی سے نفاذ اور بینک کی کارکردگی میں بہتری نے اسے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں بھی ایک مضبوط مقام دلایا ہے۔ یہ اعداد و شمار سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ مالی رپورٹ میں شامل ہیں، جو ملک کی معیشت کی صورتحال اور بینک کی کارکردگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ آنے والے مالی سالوں میں بھی اس قسم کی ترقی کی توقع کی جارہی ہے، جو ملک کی معاشی استحکام کی بنیاد فراہم کرے گی۔ سٹیٹ بینک کے اس منفعتی رجحان کی روشنی میں، بینک کے حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر یہ پیشرفت جاری رہی تو ملک کی مالی استحکام اور ترقی کے لئے ایک مثبت اثر ڈالے گی۔

  • ٹانک میں تیز رفتاری کے باعث کار حادثہ، 6 افراد جاں

    ٹانک میں تیز رفتاری کے باعث کار حادثہ، 6 افراد جاں

    خیبرپختونخوا کے شہر ٹانک میں ایک دردناک کار حادثے کے نتیجے میں 6 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ حادثہ شاہراہ وزیرستان خرگئی چیک پوسٹ کے قریب تیز رفتاری کے باعث پیش آیا۔کار میں سوار تمام 6 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جبکہ ایک بچہ شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اور ان کا تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقے تودہ چینہ سے ہے۔اس واقعے نے علاقے میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ دی ہے، اور مقامی انتظامیہ نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ حکام نے عوام کو تیز رفتاری سے بچنے کی ہدایت کی ہے تاکہ ایسے افسوسناک واقعات سے محفوظ رہ سکیں۔

  • سری لنکا کے صدارتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی مکمل

    سری لنکا کے صدارتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی مکمل

    کولمبو: سری لنکا کے صدارتی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگئی ہے، تاہم کوئی بھی امیدوار 50 فیصد ووٹ حاصل نہیں کرسکا۔ خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مارکسی نظریے کے حامی انورا کمارا 39.5 فیصد ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں۔ اپوزیشن رہنما ساجیت پریماداسا نے 34 فیصد ووٹ حاصل کرکے دوسری پوزیشن حاصل کی ہے۔ اس کے نتیجے میں سری لنکا میں پہلی بار صدر کا انتخاب پہلے دو امیدواروں کے درمیان ترجیحی ووٹوں کی بنیاد پر ہوگا۔ ترجیحی ووٹوں کی گنتی کے بعد نئے صدر کا انتخاب کیا جائے گا۔سابق صدر رانیل وکرما سنگھے 17 فیصد ووٹ لے کر انتخابی دوڑ سے باہر ہوگئے ہیں۔ یہ انتخابات ایسے وقت میں ہورہے ہیں جب سری لنکا 2022 میں بدترین معاشی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔

  • پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کے والد کی بازیابی، لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید کے والد کی بازیابی، لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سرگرم کارکن صنم جاوید کے والد، جاوید اقبال خان، کو پولیس کی حراست سے رہا کر دیا گیا ہے اور وہ اب اپنے گھر واپس آ گئے ہیں۔ لاہور پولیس نے 20 ستمبر کو پی ٹی آئی کے لاہور جلسے سے قبل کریک ڈاؤن کے دوران وحدت کالونی میں جاوید اقبال کو ان کے گھر سے گرفتار کیا تھا اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ صنم جاوید نے اپنے والد کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس کے بعد یہ پیشرفت سامنے آئی ہے۔
    یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ڈسٹرکٹ کمشنر لاہور نے لاہور جلسے کے تناظر میں 487 متحرک کارکنوں اور رہنماؤں کی نظر بندی کے احکامات واپس لے لیے ہیں، جو کہ حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے تھے۔ صنم جاوید کی والد کی بازیابی نے پی ٹی آئی کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے اور اس واقعے کی سیاست میں گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔

  • وزیر اعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی 79ویں جنرل اسمبلی کے سیشن میں شرکت کے لیے نیو یارک روانہ

    وزیر اعظم شہباز شریف اقوام متحدہ کی 79ویں جنرل اسمبلی کے سیشن میں شرکت کے لیے نیو یارک روانہ

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف 23 سے 27 ستمبر 2024 تک نیو یارک میں اقوام متحدہ کی 79ویں جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی سیشن میں شرکت کریں گے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق، وزیر اعظم 27 ستمبر کو جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی کثیر الجہتی حمایت کا اعادہ کریں گے۔وزیر اعظم اپنے خطاب میں عالمی امن، سلامتی، اور فلاح و بہبود میں اقوام متحدہ کے کردار کی حمایت کریں گے۔ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر دیرینہ مسائل جیسے فلسطین اور جموں و کشمیر کے تنازعے کی اہمیت پر زور دیں گے۔ اس کے علاوہ، وزیر اعظم بین الاقوامی اقتصادی تعلقات میں نا انصافیوں کو دور کرنے اور بین الاقوامی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی بات کریں گے۔
    وہ عالمی برادری سے آبی و ہوا کی تبدیلی اور اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف فوری اقدامات کرنے کی اپیل کریں گے۔ وزیر اعظم جنرل اسمبلی کے سیشن کے دوران مختلف اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں بھی شرکت کریں گے، جن میں "سمندر کی سطح میں اضافے کے خطرے” پر خصوصی اجلاس شامل ہے۔ ان کا پروگرام اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور جنرل اسمبلی کے صدر کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتوں پر مشتمل ہے، جہاں وہ پائیدار ترقی کے ایجنڈے کی معاونت کے اقدامات پر بھی بات چیت کریں گے۔یہ اجلاس پاکستان کو علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے مسائل پر اپنے نقطہ نظر کو اجاگر کرنے کا اہم موقع فراہم کرتا ہے۔ وزیر اعظم اس موقع پر لوگوں کو ترقی کے ایجنڈے میں مرکزی حیثیت دینے پر زور دیں گے۔

  • ڈیلاویئر میں کواڈ سربراہ اجلاس: کھلا مائیکروفون، دلچسپ لمحات اور چین کی بڑھتی مسابقت

    ڈیلاویئر میں کواڈ سربراہ اجلاس: کھلا مائیکروفون، دلچسپ لمحات اور چین کی بڑھتی مسابقت

    امریکی شہر ڈیلاویئر میں منعقدہ چار ملکی اتحاد ’کواڈ‘ کے سربراہ اجلاس کے دوران ایک غیر متوقع صورتحال نے میڈیا کی توجہ حاصل کر لی۔ اجلاس میں شریک رہنماؤں کے مابین کچھ دیر کا وقفہ آیا، لیکن اس دوران مائیکروفون کھلا رہ گیا، جس کی وجہ سے کچھ اہم باتیں باہر آ گئیں۔اجلاس میں امریکی صدر جو بائیڈن، بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی، جاپانی وزیرِاعظم فومی کشیدا اور آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز شامل تھے۔ جب صدر بائیڈن نے چین کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "چین نے ناک میں دم کر رکھا ہے” تو یہ جملہ سننے والوں کے لیے دلچسپ بن گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "چین کی طرف سے مسابقت بڑھتی جارہی ہے، اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں سخت پالیسیاں مرتب کرنی ہوں گی۔”

    اجلاس کے دوران جب حکام نے یہ نشاندہی کی کہ مائیکروفون کھلا ہے اور ان کی باتیں باہر سُنائی دے رہی ہیں، تو تمام رہنما چوکنے ہو گئے۔ صدر بائیڈن نے فوری طور پر بات کی سمت کو تبدیل کرنے کی کوشش کی اور چین کی بڑھتی ہوئی مسابقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں ایک جامع حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی، تاکہ ہم اس چیلنج کا مؤثر جواب دے سکیں۔مائیکروفون کے بند ہونے کے بعد، یہ واضح ہوگیا کہ کھلے مائیکروفون سے کی جانے والی گفتگو میڈیا کے لیے سنسنی خیز مواد فراہم کر چکی ہے۔ رپورٹرز نے ان گفتگوؤں کو نمک مرچ لگا کر پیش کرنے کے لیے تیار کر لیا، جو کہ موجودہ عالمی سیاست میں چین کے کردار اور اس کے اثرات کے بارے میں ایک نئی بحث کو جنم دے سکتی ہیں۔
    اس واقعے نے نہ صرف کواڈ اجلاس کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے بلکہ عالمی سطح پر چین کی بڑھتی ہوئی قوت کے خلاف اتحاد کے عزم کو بھی اجاگر کیا۔ یہ صورتحال بتاتی ہے کہ کس طرح چھوٹی چھوٹی چیزیں عالمی سیاست میں بڑی تبدیلیاں لا سکتی ہیں۔ڈیلاویئر کے اس اجلاس کے بعد، بین الاقوامی مبصرین کی توجہ چین کے حوالے سے عالمی رہنماؤں کی حکمت عملیوں پر مرکوز ہو گئی ہے، اور اس بات کی توقع کی جارہی ہے کہ کواڈ اتحاد آئندہ بھی اس نوعیت کی گفتگو کا مرکز رہے گا۔

  • مالم جبہ روڈ پر پولیس موبائل پر بم دھماکہ: ایک اہلکار شہید،تین زخمی

    مالم جبہ روڈ پر پولیس موبائل پر بم دھماکہ: ایک اہلکار شہید،تین زخمی

    خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں مالم جبہ روڈ پر پولیس موبائل کو نشانہ بنانے والا ریموٹ کنٹرول بم دھماکہ پیش آیا، جس میں ایک پولیس اہلکار شہید اور تین زخمی ہوگئے۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب پولیس کی گاڑی غیر ملکی سفیروں کے ایک قافلے کے ساتھ سیکیورٹی فرائض انجام دے رہی تھی۔ پولیس کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب غیر ملکی سفیروں کا قافلہ مینگورہ چیمبر آف کامرس کی ایک تقریب میں شرکت کے بعد مالم جبہ کی جانب روانہ تھا۔ دھماکے کے نتیجے میں سفیروں کا قافلہ محفوظ رہا اور فوری طور پر تمام سفیر اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگئے۔
    دھماکے کا نشانہ بننے والی پولیس وین غیر ملکی سفیروں کی حفاظت کے لیے تعینات تھی، اور ان سفیروں میں روس، پرتگال، ایتھوپیا، انڈونیشیا، تاجکستان، قازقستان اور ایران کے سفیر شامل تھے۔ یہ سفیر مقامی چیمبر آف کامرس کی دعوت پر مینگورہ میں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کے لیے آئے تھے اور تقریب کے بعد مالم جبہ جا رہے تھے، جو سیاحتی مقاصد کے لیے مشہور مقام ہے۔پولیس نے بتایا کہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کیا گیا اور دھماکہ خیز مواد کو سڑک کے کنارے نصب کیا گیا تھا۔ دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن کا آغاز کردیا تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کی جاسکے۔
    یہ حملہ خیبر پختونخوا کے اس علاقے میں ہوا جو ماضی میں دہشت گردی اور شورش کا شکار رہا ہے، لیکن حالیہ سالوں میں امن کی بحالی کے بعد یہاں کے حالات بہتر ہوچکے ہیں۔ تاہم، اس واقعے نے علاقے میں سیکیورٹی چیلنجز کو دوبارہ اجاگر کیا ہے۔ حکومت اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ سوات اور مالم جبہ کی سڑکیں، جو سیاحتی مقاصد کے لیے اہم تصور کی جاتی ہیں، اس حملے کے بعد خصوصی سیکیورٹی اقدامات کا تقاضا کرتی ہیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جاسکے اور خطے کی سیاحت اور معیشت متاثر نہ ہو۔سفیروں کا قافلہ محفوظ رہنے کے بعد اسلام آباد روانہ ہو گیا ہے، جہاں انہیں مقامی اور بین الاقوامی ذرائع سے واقعے کے متعلق مزید معلومات فراہم کی جا رہی ہیں۔