Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • مالم جبہ میں پولیس وین پر بم دھماکہ، سفارتکاروں کا گروپ بخیریت واپس

    مالم جبہ میں پولیس وین پر بم دھماکہ، سفارتکاروں کا گروپ بخیریت واپس

    اسلام آباد : مالم جبہ کے قریب پولیس وین پر ہونے والے ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوگیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک گروپ سفارتکار سوات اور مالم جبہ کے دورے کے بعد اسلام آباد واپس آرہا تھا۔ترجمان دفتر خارجہ نے اس واقعے پر اپنے بیان میں کہا کہ دھماکے کی زد میں آنے والی پولیس گاڑی کو آئی ای ڈی کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے شہید پولیس اہلکار کے خاندان اور زخمیوں کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔
    ترجمان نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی جانوں کی قربانی دے کر دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ثابت قدم ہیں۔ انہوں نے ان اداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کے عزم سے نہیں روک سکتے۔سفارتکاروں کے گروپ کی محفوظ واپسی کے بعد ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور حکومت ہر صورت میں دہشت گردی کے خلاف کاروائی جاری رکھے گی۔

  • پنجاب میں وزراء کے درمیان اختیارات کا تنازع: عظمی  بخاری کی  مریم نواز سے قلمدان کی تبدیلی کی درخواست

    پنجاب میں وزراء کے درمیان اختیارات کا تنازع: عظمی بخاری کی مریم نواز سے قلمدان کی تبدیلی کی درخواست

    لاہور: پنجاب کی اطلاعاتی وزیر عظمیٰ بخاری نے چیف منسٹر مریم نواز سے درخواست کی ہے کہ وہ انکا قلمدان تبدیل کریں، کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ سینئر وزیر مریم اورنگزیب مسلسل ان کے وزارت کے امور میں مداخلت کر رہی ہیں۔ یہ اطلاعات "دی اسکوپ” (TS) کے ذرائع سے حاصل کی گئی ہیں۔وزارت اطلاعات اور چیف منسٹر کے سیکرٹریٹ کے متعدد اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ عظمی بخاری جلد ہی اپنی جگہ بدل سکتی ہیں۔ اندرونی ذرائع کے مطابق، عظمی بخاری نے اپنے شکوے کے حل کے لیے چیف منسٹر سے ملاقات کرنے کی کوشش کی ہے، خاص طور پر 150 ملین روپے کی ڈیجیٹل اشتہارات کی تقسیم میں طے شدہ طریقہ کار کی خلاف ورزی کے معاملے پر، جو ایک ایسی کمپنی کو دیے گئے ہیں جو کہ مریم اورنگزیب کے قریبی رشتے دار سے منسلک بتائی جاتی ہے۔

    عظمی بخاری نے مریم نواز کو بتایا کہ "لوگ سوال کر رہے ہیں کہ چیف منسٹر اس بدعنوانی سے بے خبر کیسے ہو سکتی ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "یہ اسکینڈل نہ صرف میری ساکھ کو متاثر کر رہا ہے بلکہ آپ کی بھی۔” بخاری کا یہ بھی کہنا تھا کہ اورنگزیب کے کہنے پر دو سیکرٹریز اور دو ڈائریکٹر جنرل آف پبلک ریلیشنز (DGPR) کو پہلے ہی ہٹا دیا گیا ہے اور تیسرا بھی جلد ہی جانے والا ہے۔
    عظمی بخاری نے نئے قلمدان کی خواہش کا اظہار کیا ہے، جبکہ رپورٹس کے مطابق مریم نواز ، مریم اورنگزیب کو نئے اطلاعاتی وزیر کے طور پر مقرر کرنے پر غور کر رہی ہیں، جبکہ پنجاب حکومت کے موجودہ ترجمان سید کوثر کاظمی کو خصوصی معاون کے طور پر ترقی دی جا سکتی ہے تاکہ وزارت کے امور مریم اورنگزیب کے زیر نگرانی چلائے جائیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عظمی بخاری اور مریم اورنگزیب کے درمیان تنازع اس وقت بڑھ گیا جب مریم اورنگزیب نے وزارت کے آپریشنز میں مداخلت شروع کی۔ دونوں وزراء حکومت کی ڈیجیٹل میڈیا پالیسی کی منظوری کے بعد ڈیجیٹل میڈیا کے بہاؤ میں آنے والے بڑے فنڈز پر کنٹرول حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔

    یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب مریم اورنگزیب نے 150 ملین روپے کی رقم کو حکومت کے رمضان نگہبان پیکج کے تحت چینل 7 پر تشہر کے لیے منتقل کیا، بغیر طے شدہ منظوری کے طریقہ کار کی پیروی کیے۔ یہ اشتہارات 15 سے 22 مارچ 2024 تک چلائے گئے تھے، جن کی دستاویزات درست طریقے سے مکمل نہیں کی گئی تھیں اور انہیں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پبلک ریلیشنز (DGPR) سے درکار SPL نمبر نہیں ملا۔ مریم اورنگزیب کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باوجود، DGPR کے اہلکاروں نے درست دستاویزات کے بغیر فنڈز جاری کرنے سے انکار کر دیا، جس نے وزارت کے اندر کشیدگی کو جنم دیا۔ کئی اہلکاروں، بشمول DGPR کے ڈائریکٹر کوآرڈینیشن محمد طارق اسماعیل اور ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ عبدالناصر نے ادائیگیوں کی منظوری دینے سے انکار کر دیا، ان کا کہنا تھا کہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ اور قومی احتساب بیورو (NAB) کی جانب سے قانونی جانچ پڑتال کا خدشہ موجود ہے۔بعد میں DGPR کے دفتر نے پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) سے اشتہارات کی قانونی حیثیت کی تصدیق کرنے کی درخواست کی، یہ واضح کرتے ہوئے کہ چینل 7 سے حاصل کردہ اسکرین شاٹس یا جزوی ثبوت کافی نہیں ہوں گے۔ یہ درخواست DGPR کی جانب سے عوامی فنڈز کے استعمال میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی۔

    اس کے بعد، سیکرٹری اطلاعات دانیال گیلانی اور DGPR روبینہ افضال خان کو ان کی غیر تعمیری درخواستوں کی بنیاد پر اپنے عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم اورنگزیب نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے، اور وہ DGPR کے پروٹوکولز کو نظرانداز کرتے ہوئے ادائیگی کو انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ افواہیں یہ بھی ہیں کہ انہیں چینل 7 کو اشتہار کی جگہ دینے کے بدلے 30 ملین روپے کا کمیشن ملا ہے۔دوسری طرف، احمد عزیز تارڑ، جو گریڈ-20 کا بیوروکریٹ ہے اور فرح گوگی بدعنوانی کے اسکینڈل سے منسلک ہے، کو دانیال گیلانی کی جگہ سیکرٹری اطلاعات مقرر کیا گیا اور انہیں DGPR کے اضافی ذمہ داریاں بھی دی گئیں۔ اس اقدام نے یہ قیاس آرائی پیدا کی ہے کہ اورنگزیب ممکنہ طور پر اس طاقت کے ڈھانچے کی نقل کرنا چاہ رہی ہیں جو گوگی کے تحت قائم تھا، جہاں ان کی وفادار بیوروکریٹس کو ان لوگوں کے متبادل مقرر کیا جا رہا ہے جو غیر تعمیری طور پر ہٹائے گئے تھے۔اس کے بعد، تارڑ کو بھی شاہن شاہ فیصل عظیم سے تبدیل کر دیا گیا، جنہیں DGPR اور سیکرٹری اطلاعات کے اضافی چارج کے طور پر مقرر کیا گیا۔ "اب شاہن شاہ فیصل بھی جلد ہی ہٹائے جانے والے ہیں،” DGPR کے ایک سینئر اہلکار نے TS کو بتایا۔

  • آئی پی پیز کی کرپشن: پاکستان میں اربوں روپے کی سبسڈی اور غلط کنٹریکٹس کی حقیقت

    آئی پی پیز کی کرپشن: پاکستان میں اربوں روپے کی سبسڈی اور غلط کنٹریکٹس کی حقیقت

    پاکستان میں کچھ آئی پی پیز (انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز) کے غیر شفاف کردار کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے ملک کی بجلی کی پیداوار اور معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ان آئی پی پیز نے غلط کنٹریکٹس کے ذریعے بغیر بجلی پیدا کیے حکومت سے اربوں روپے وصول کیے ہیں۔آئی پی پیز نے بنگلا دیش اور ویتنام کے مقابلے میں پاکستان میں ونڈز پلانٹس کی تنصیب پر 4 گنا زیادہ لاگت لگائی ہے، جس کی وجہ سے ملک کی توانائی کی قیمتوں میں بے انتہا اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں کوئلے کے وسیع ذخائر موجود ہیں، آئی پی پیز نے پھر بھی امپورٹڈ فیول اور درآمدی کوئلے پر انحصار کرنا شروع کر دیا ہے، جس سے مالی بوجھ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
    رپورٹس کے مطابق، آئی پی پیز نے جتنا امپورٹڈ فیول درآمد کیا، اس کے مقابلے میں وہ اتنی بجلی پیدا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس صورتحال نے حکومت کو اربوں روپے کی سبسڈی دینے پر مجبور کیا، جبکہ آئی پی پیز نے پلانٹس کی دیکھ بھال کی مد میں بھی حکومت سے بھاری رقم وصول کی۔ اس کے علاوہ، حکومت پاکستان آئی پی پیز کی انشورنس بھی خود برداشت کر رہی ہے، جس نے مالی بوجھ کو بڑھایا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ آئی پی پیز کے زیادہ تر مالکان نے مقامی، جان بوجھ کر کنٹریکٹ غیر ملکیوں کے نام پر کیے ہیں، جس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں۔ حکومتی اصرار کے باوجود، یہ آئی پی پیز فرانزک آڈٹ سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے ان کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
    حکومت پاکستان کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ آئی پی پیز نے کس طرح عوامی وسائل کا غلط استعمال کیا اور بجلی کے شعبے میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس سلسلے میں عوامی آراء اور احتجاج بھی بڑھ رہے ہیں، اور لوگ اس معاملے میں انصاف کی توقع کر رہے ہیں۔یہ صورت حال نہ صرف بجلی کی قیمتوں کو متاثر کر رہی ہے بلکہ ملک کی اقتصادی ترقی کو بھی خطرے میں ڈال رہی ہے۔ اگر جلد اس معاملے کا حل نہ نکالا گیا تو اس کے اثرات پاکستان کی معیشت پر دور رس ہوں گے۔

  • پی ایم ڈی سی نے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کی شفافیت کا دعویٰ کیا

    پی ایم ڈی سی نے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کی شفافیت کا دعویٰ کیا

    پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ملک بھر میں ہونے والا ایم ڈی کیٹ (میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ) شفاف اور منظم طریقے سے منعقد کیا گیا۔ ترجمان پی ایم ڈی سی کے مطابق، اس امتحان کے دوران سیکیورٹی کے معاملات پر خصوصی توجہ دی گئی۔ترجمان نے مزید وضاحت کی کہ تمام صوبوں کے لیے سیکیورٹی پروٹوکولز سختی سے نافذ کیے گئے تھے تاکہ امتحانی عمل میں کسی قسم کی بے ضابطگی سے بچا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امیدواروں کی مکمل تلاشی لینے کے بعد ہی انہیں امتحانی مراکز میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی، جس سے کسی بھی ممکنہ دھوکہ دہی کے امکانات کو ختم کرنے میں مدد ملی۔
    اس کے علاوہ، ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ امتحان کے دوران بلیوٹوتھ ڈیوائسز استعمال کرنے کی کوشش کرنے والے ملزمان کو ٹیسٹ کے آغاز سے پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ یہ ایک مثبت اقدام تھا جس نے امتحانی عمل کو مزید محفوظ بنایا۔یہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پی ایم ڈی سی امتحانات کے دوران شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے اور وہ تعلیمی نظام میں بہتری کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں طلبہ و طالبات کے لیے یہ ایک اہم موقع تھا، جسے پی ایم ڈی سی نے باعزت اور محفوظ طریقے سے منعقد کرنے کی کوشش کی۔ امیدواروں نے امتحان کے نتائج کی منتظر رہیں گے، اور پی ایم ڈی سی کی جانب سے اعلان کردہ شفافیت کے دعوے پر انہیں اطمینان حاصل ہوا ہے۔

  • زرداری اور بلاول کا بلوچستان دورہ متوقع ، فاتحہ خوانی اور سیاسی ملاقاتیں

    زرداری اور بلاول کا بلوچستان دورہ متوقع ، فاتحہ خوانی اور سیاسی ملاقاتیں

    صدر مملکت آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری منگل کے روز بلوچستان کا اہم دورہ کریں گے۔ اس دورے کے دوران وہ مرحوم سردار سرفراز ڈومکی کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کریں گے۔ یہ دورہ پارٹی کے داخلی امور اور صوبے کے سیاسی معاملات کے حوالے سے خاص اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔پارٹی ذرائع کے مطابق، اس دورے کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو وزیراعلی بلوچستان اور صوبائی وزراء کے ساتھ ملاقات کریں گے، جس میں صوبے کی موجودہ صورتحال، حکومتی کارکردگی اور دیگر اہم مسائل پر گفتگو متوقع ہے۔ ملاقات میں ترقیاتی منصوبوں، صوبائی مسائل اور دیگر اہم حکومتی معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنما پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی اور صوبے میں پارٹی کے رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں پارٹی کے معاملات اور تنظیمی امور پر بات چیت ہوگی۔ انہیں بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی پوزیشن اور آئندہ کے سیاسی چیلنجز کے بارے میں بریفنگ دی جائے گی۔ یہ ملاقاتیں پارٹی کی حکمت عملی اور بلوچستان میں پارٹی کی مضبوطی کے لئے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بلوچستان میں سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ سردار سرفراز ڈومکی کی وفات کے بعد یہ فاتحہ خوانی کا موقع ہوگا، جسے علاقے کے عوام کے ساتھ روابط مضبوط کرنے کے لئے بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    یہ دورہ مستقبل کی سیاست کے حوالے سے بھی اہم ہے، کیونکہ صدر مملکت اور بلاول بھٹو زرداری کی یہ ملاقاتیں پارٹی اور حکومتی امور کو بہتر بنانے کے لئے کی جا رہی ہیں، اور اس سے پیپلز پارٹی کی بلوچستان میں موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • حکومت کا ادویات پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس،عوام پریشان

    حکومت کا ادویات پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس،عوام پریشان

    لاہور: حکومت کی جانب سے بعض ادویات پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کیے جانے سے قیمتوں میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے، جس کے نتیجے میں مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مریضوں اور ان کے لواحقین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ادویات پر ٹیکس نہ لگایا جائے تاکہ انہیں ریلیف مل سکے۔میڈیکل اسٹور مالکان کے مطابق، حکومت نے جلدی امراض، طاقت کی ادویات، ملٹی وٹامنز، کیلشیم، ملک پاؤڈر، شوگر اسٹرپس، اور ہربل ادویات پر ٹیکس نافذ کیا ہے، جس کا براہ راست اثر ان مریضوں پر پڑا ہے جو مستقل بیماریوں میں مبتلا ہیں، خصوصاً بزرگ افراد، کمزور مریض، اور بچے۔ پہلے یہ لوگ ایک سے دو ہفتے کی دوا خرید لیتے تھے، لیکن اب انہیں صرف ایک یا دو دن کی دوا خریدنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
    ڈرگ پاکستان لائرز فورم کے صدر نور مہر نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہربل، ہومیوپیتھی، وٹامنز اور فوڈ سپلیمنٹس پر ٹیکس لگانا سراسر ظلم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈرگ ایکٹ کے مطابق ان ادویات پر ٹیکس نہیں لگایا جا سکتا، اور حکومت کا یہ اقدام قانونی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے۔مریضوں کے ساتھ ان کے اہل خانہ نے بھی حکومت سے اس فیصلے پر فوری نظرثانی کی اپیل کی ہے تاکہ ان کے لیے بنیادی ادویات کی خریداری مزید مشکل نہ بنے۔یہ صورت حال ملک کے صحت کے نظام پر سنگین سوالات اٹھاتی ہے، اور اگر حکومت نے اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا تو مریضوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • وفاقی حکومت کا منی بجٹ لانے کا اشارہ، وزیر مملکت برائے خزانہ کی تصدیق

    وفاقی حکومت کا منی بجٹ لانے کا اشارہ، وزیر مملکت برائے خزانہ کی تصدیق

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران منی بجٹ لانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ وزیر مملکت برائے امور خزانہ علی پرویز ملک نے مقامی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے اہداف پورے کرنے کے لیے ضرورت پیش آئی، تو منی بجٹ لانے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے مزید وضاحت کی کہ حکومت کی خواہش تو نہیں کہ عوام پر اضافی بوجھ ڈالا جائے، لیکن اگر مقرر کردہ اہداف اور مالیاتی اعداد و شمار پورے نہ ہوئے، تو حکومت کو منی بجٹ کی طرف جانا پڑ سکتا ہے۔ یہ بیان اس وقت آیا ہے جب آئی ایم ایف کی طرف سے پاکستان کو اپنی معاشی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات اٹھانے پر زور دیا جا رہا ہے۔یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت کو ملکی مالیاتی استحکام برقرار رکھنے کے لیے سخت فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں۔ عوامی حلقوں میں اس بیان کے بعد بجٹ سے متعلق مزید چیلنجز اور مہنگائی کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔

  • راول ڈیم کے سپل ویز کھولنے کا فیصلہ، احتیاطی تدابیر جاری

    راول ڈیم کے سپل ویز کھولنے کا فیصلہ، احتیاطی تدابیر جاری

    راول ڈیم بھر جانے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے سپل ویز کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔ راول ڈیم میں پانی کا ذخیرہ اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے، جہاں پانی کی سطح 1752 فٹ تک جا پہنچی ہے۔ یہ صورتحال ضلعی انتظامیہ کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کا باعث بنی، جس کے تحت فیصلہ کیا گیا ہے کہ ڈیم کے سپل ویز کل صبح 6 بجے کھولے جائیں گے تاکہ پانی کی سطح کو متوازن کیا جا سکے۔ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔ خصوصی طور پر نشیبی علاقوں میں رہنے والے مکینوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور اپنے مال مویشی کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر لیں۔ انتظامیہ نے عوام کو ندی نالوں اور سیلابی علاقوں کے قریب جانے سے اجتناب برتنے کی تلقین کی ہے۔

    ایمرجنسی کی صورت میں ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ فوراً ہیلپ لائن نمبر 16 پر رابطہ کریں، ضلعی انتظامیہ نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ پلوں اور ندی نالوں کی نگرانی جاری رکھی جائے گی تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا بروقت جواب دیا جا سکے۔اس کے علاوہ شہریوں کو پانی کی تیز رفتاری اور ندیوں کے بہاؤ سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔ انتظامیہ نے اپنی مانیٹرنگ ٹیموں کو بھی فعال کر دیا ہے تاکہ پلوں، ندی نالوں اور دیگر متاثرہ علاقوں کی سخت نگرانی کی جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ نے اپنی پریس ریلیز میں کہا ہے کہ وہ تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ شہریوں کو کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

  • وفاقی وزیر تجارت  کی جانب سے برآمدات میں اضافے کے لیے 8.5 ارب روپے کی منظوری

    وفاقی وزیر تجارت کی جانب سے برآمدات میں اضافے کے لیے 8.5 ارب روپے کی منظوری

    اسلام آباد: وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے پاکستانی برآمدات کو بڑھانے کے لیے 8.5 ارب روپے کی منظوری دی ہے۔ انہوں نے یہ بات ایک بیان میں کہی، جس میں انہوں نے ٹیکسٹائل، زراعت اور عالمی برانڈنگ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا ذکر کیا۔جام کمال خان نے مزید وضاحت کی کہ نئے ای ڈی ایف بورڈ کی تشکیل سے برآمدات میں اضافہ ممکن ہوگا۔ انہوں نے کہا، "پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر مزید متعارف کروانے کے لیے وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔”
    وفاقی وزیر نے بتایا کہ ایکسپو 2025 اوساکا، جاپان میں پاکستان کی شرکت کے لیے منصوبے منظور کیے گئے ہیں، جو کہ ملک کی عالمی مارکیٹ میں موجودگی کو بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ خیبر پختونخوا میں پہلے ایکسپو سینٹر کی تکمیل کے لیے فنڈز کی منظوری دی گئی ہے، جس کا مقصد مقامی صنعتوں کو فروغ دینا ہے۔یہ تمام فیصلے ای ڈی ایف بورڈ کی 85ویں میٹنگ میں کیے گئے تھے، جس کے بعد وزارت تجارت کی جانب سے یہ اقدامات عمل میں لائے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے حکومت کی کوشش ہے کہ پاکستانی مصنوعات کی عالمی مارکیٹ میں موجودگی کو بہتر بنایا جا سکے، تاکہ معیشت کی ترقی میں مدد مل سکے۔

  • بارکھان: مسلح افراد کا حملہ، موبائل ٹاور تباہ، فائرنگ سے 5 حکومتی رضاکار شدید زخمی

    بارکھان: مسلح افراد کا حملہ، موبائل ٹاور تباہ، فائرنگ سے 5 حکومتی رضاکار شدید زخمی

    بلوچستان کے شہر بارکھان میں حکومتی رضاکاروں اور مسلح افراد کے درمیان ایک سنگین فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں پانچ حکومتی رضاکار شدید زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ اچڑی کے مقام پر پیش آیا جہاں لیویز ذرائع کے مطابق فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔زخمی رضاکاروں کو فوری طور پر مقامی طبی مراکز میں منتقل کیا گیا، جہاں اسپتال ذرائع نے بتایا کہ پانچوں زخمی افراد کی حالت تشویش ناک ہے۔ ان کی جان بچانے کے لیے انہیں فوری طور پر لورالائی اور ڈی جی خان کے اسپتالوں میں ریفر کردیا گیا ہے تاکہ ان کی بہتر طبی دیکھ بھال کی جا سکے۔
    ذرائع نے مزید بتایا کہ گزشتہ رات مسلح افراد نے اچڑی کے مقام پر ایک موبائل ٹاور کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں ٹاور کو فائرنگ کے بعد نذر آتش کرکے مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال کس قدر سنگین ہے، جہاں لیویز فورس اور دیگر سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔فائرنگ کے اس واقعے نے مقامی آبادی میں خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے، اور حکام اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ واقعہ بلوچستان میں جاری عدم تحفظ کی ایک اور مثال ہے، جہاں حکومتی فورسز اور مسلح گروپوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے اس واقعے کی مذمت کی ہے اور متاثرہ افراد کے علاج کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کا عہد کیا ہے۔