Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • فتنہ جلد دفن ہوگا، ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا،وفاقی وزیر رانا تنویر

    فتنہ جلد دفن ہوگا، ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا،وفاقی وزیر رانا تنویر

    شیخوپورہ: وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب ملک میں جاری فتنہ دفن ہوگا اور پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شیخوپورہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ آئینی ترامیم عوامی مفاد کا معاملہ ہے اور اسے سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت عوامی مفاد میں کام کر رہی ہے اور آئینی ترامیم بھی اسی عمل کا حصہ ہیں۔ "آئینی ترامیم کا معاملہ آج کا نہیں بلکہ یہ 30 سال پرانا مطالبہ ہے جس پر اب کام ہو رہا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو آئینی حقوق کی فراہمی کے لیے حکومت تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہی ہے اور آئینی ترامیم کو بہتر بنانے کے لیے اعتراضات دور کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔

    رانا تنویر نے اپوزیشن کی جانب سے بلاجواز مخالفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "حکومت سنجیدہ ہے اور مخالفین کو سمجھنا ہوگا کہ یہ ترامیم ملک کے لیے ضروری ہیں۔ ہم بامعنی اعتراضات پر غور کرنے کو تیار ہیں مگر بلاوجہ مخالفت کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔رانا تنویر حسین نے اپنی گفتگو میں موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ "جب کسی صوبے کا وزیراعلیٰ خود کلاشنکوف اٹھا کر تشدد کو پروان چڑھائے، تو وہاں امن کی توقع رکھنا مشکل ہے۔” انہوں نے حکومت کی جانب سے امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ ملک کو مستحکم بنانے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔رانا تنویر حسین کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں آئینی ترامیم پر بحث جاری ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں اپنی آراء کا اظہار کر رہی ہیں۔

  • اسرائیل کا پیجرز میں دھماکا خیز مواد نصب کرنے کا انکشاف

    اسرائیل کا پیجرز میں دھماکا خیز مواد نصب کرنے کا انکشاف

    حالیہ رپورٹس میں اسرائیل کی جانب سے حزب اللہ کے خلاف ایک نہایت پیچیدہ حملے کا انکشاف ہوا ہے جس میں پیجرز کے ذریعے دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا۔ بین الاقوامی عسکری اور سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں اسرائیلی انٹیلیجنس کے اعلیٰ تکنیکی ماہرین کا کردار سامنے آیا ہے۔ برسلز سے تعلق رکھنے والے مشہور تجزیہ کار ایلیاہ میگنیئر نے الجزیرہ کو ایک تفصیلی انٹرویو میں بتایا کہ اسرائیل نے کس طرح سے پیجرز میں چھیڑ چھاڑ کر کے انہیں ایک مہلک ہتھیار میں تبدیل کیا۔
    ایلیاہ میگنیئر نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ حزب اللہ کے ارکان پر حملے میں استعمال ہونے والے پیجرز میں PETN نامی دھماکا خیز مواد نصب کیا گیا تھا، جو ایک نہایت خطرناک دھماکا خیز مواد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "اس دھماکا خیز مواد کو پیجر کے الیکٹرانک سرکٹ کے اندر اس مہارت کے ساتھ نصب کیا گیا تھا کہ اس میں غیر معمولی تکنیکی صلاحیتوں کی ضرورت تھی۔ یہ عمل ریاستی سطح پر کسی انٹیلیجنس ایجنسی کی مداخلت کی نشاندہی کرتا ہے۔حزب اللہ کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پیجرز کی یہ مخصوص کھیپ براہ راست لبنان نہیں پہنچی تھی کیونکہ لبنان میں اس قسم کے آلات کی درآمد پر پابندی عائد ہے۔ میگنیئر کے مطابق، یہ کھیپ تین ماہ تک قریبی بندرگاہ پر رکی رہی، جس دوران اسرائیلی خفیہ ایجنسی کو دھماکا خیز مواد نصب کرنے کا مکمل وقت ملا۔

    پیجرز کیسے دھماکے کا سبب بنے؟

    میگنیئر نے مزید وضاحت کی کہ اسرائیلیوں نے پیجرز کو فعال کرنے کے لیے ایک خاص طریقہ اختیار کیا۔ انہوں نے ان پیجرز پر تین مرتبہ ایرر میسجز بھیجے، جس سے لوگ انہیں دیکھنے پر مجبور ہوئے۔ جیسے ہی پیجرز کو آن کیا گیا، وہ وائبریٹ کرنے لگے اور فوراً دھماکے سے پھٹ گئے۔ ان دھماکوں کی وجہ سے 300 سے زائد افراد نے اپنے دونوں ہاتھ کھو دیے، جبکہ بہت سے لوگوں کی ایک یا دونوں آنکھیں ضائع ہو گئیں۔ 150 سے زائد افراد نے اپنے پیٹ کا کچھ حصہ بھی ضائع کیا۔تفتیش کاروں نے ان پیجرز کا تکنیکی معائنہ کیا جو کسی وجہ سے پھٹ نہیں پائے تھے۔ ان میں سے کئی پیجرز جل گئے تھے یا ان کا ٹرگر سسٹم فیل ہو گیا تھا، جس سے تفتیشی ٹیم کو اس سارے نظام کی تفصیلات سمجھنے میں مدد ملی۔
    الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے ایک اور دفاعی ماہر حمزے عطار نے بتایا کہ یہ حملہ حزب اللہ کے مواصلاتی نیٹ ورک کو توڑنے کی ایک کامیاب کوشش تھی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل پیجرز کے سپلائی چین کو ہدف بنانے میں کامیاب ہوا اور اس نے مائیکرو پروسیسرز میں مداخلت کی، جس کے نتیجے میں پیجرز اوورلوڈ ہو گئے اور دھماکے کا سبب بنے۔حمزے عطار کا کہنا تھا کہ اس حملے نے حزب اللہ کے سیکیورٹی سسٹم کو شدید نقصان پہنچایا اور اسے ایک پیچیدہ مسئلہ قرار دیا۔ ان کے مطابق، یہ حملہ مواصلات کی خامیوں کو ظاہر کرتا ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ اسرائیل نے کس حد تک تکنیکی برتری حاصل کی ہے۔یہ انکشافات حزب اللہ کے لیے نہ صرف سیکیورٹی کے حوالے سے بلکہ اس کی مواصلاتی صلاحیتوں کے لیے بھی بڑے چیلنجز کا سبب بنے ہیں، اور یہ حملہ خطے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک نئی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہ

  • خواجہ آصف کو علی امین گنڈا  پور کے کس بات کا  انتظار ہے؟

    خواجہ آصف کو علی امین گنڈا پور کے کس بات کا انتظار ہے؟

    وزیر دفاع خواجہ آصف نےایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی جانب سے دی گئی دھمکی کے مطابق اڈیالہ جیل پر لشکر کشی کا انتظار کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ علی امین گنڈاپور کی دھمکی کو پورا کرنے کے لیے تین دن باقی ہیں اور وہ اٹک کے پل پر ان کا انتظار کر رہے ہیں۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ایسی بیانات اور دھمکیاں سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کرنے کا باعث بنتی ہیں اور حکومت اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔
    خواجہ آصف نے اپنی گفتگو میں الیکشن کمیشن کو بھی مخاطب کیا اور کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے لکھا گیا خط آئین اور قانون کے عین مطابق ہے۔ اگر کسی کو اس میں قانون کی تشریح کے حوالے سے اعتراض ہے تو وقت اس بات کا فیصلہ کر دے گا کہ کون صحیح اور کون غلط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی تشریح کرنا ہر فرد کا حق ہے اور حکومت نے جو اقدام اٹھایا ہے، وہ قانون کی روشنی میں ہے۔ اسپیکر کے خط کے حوالے سے خواجہ آصف نے کہا کہ یہ مکمل طور پر آئینی اور قانونی ہے اور اس کے ہر پہلو پر مکمل طور پر عمل کیا گیا ہے۔
    مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ انہیں اپنی سیاسی پوزیشن کا بھرپور دفاع کرنا ہے اور حکومت مولانا کو قائل کرنے کی کوشش جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کا حسن یہی ہے کہ امید کا دامن نہیں چھوڑا جاتا اور ہم مولانا فضل الرحمان سے کہیں گے کہ نیت پر شک نہ کریں۔ خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو سیاسی طور پر مضبوط رکھنے کے لیے انہیں مختلف فورمز پر بات چیت کا حصہ بنایا جا رہا ہے تاکہ جمہوریت کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
    وزیر دفاع نے اس موقع پر وکلا کی سیاسی وابستگی کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ ہر وکیل کسی نہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ ہوتا ہے اور یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو وکلا اسپیکر کے خط کی حمایت کرتے ہیں، وہ بھی سیاسی ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی قانونی تشریح کو نظر انداز کیا جائے۔
    خواجہ آصف کی گفتگو میں اس بات کا بھی ذکر تھا کہ حکومت کی ترجیحات میں ملک کے آئینی اداروں کا احترام سر فہرست ہے اور وہ کسی بھی صورت میں اداروں کو متنازعہ بنانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

  • وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا  موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث دورۂ امریکہ ملتوی

    وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا موجودہ سیاسی صورتحال کے باعث دورۂ امریکہ ملتوی

    اسلام آباد: ملکی سیاسی صورتحال کے پیش نظر نایب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنا دورۂ امریکہ ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ کو آج رات نیویارک کے لیے روانہ ہونا تھا، جہاں وہ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے "سمٹ آف دا فیوچر” میں پاکستانی وفد کی قیادت کرنے والے تھے۔وزارت خارجہ نے گزشتہ روز باضابطہ طور پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے اس اہم دورے کی تصدیق کی تھی، جس میں انہیں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کرنی تھیں اور پاکستان کے خارجہ پالیسی کے اہم نکات کو اجاگر کرنا تھا۔ تاہم، موجودہ ملکی سیاسی حالات، جس میں اہم فیصلے اور چیلنجز درپیش ہیں، نے وزیر خارجہ کو فوری طور پر اپنے غیر ملکی دورے کو ملتوی کرنے پر مجبور کردیا۔
    سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسحاق ڈار نے ملکی سیاسی صورتحال کے تناظر میں اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ ان کی موجودگی اس وقت ملک کے اندر ضروری ہے، کیونکہ ملک میں سیاسی چیلنجز اور حکومتی معاملات سنگین صورتحال اختیار کرچکے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث وزیر خارجہ نے اپنے بین الاقوامی فرائض کو وقتی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ ملکی سیاست میں بھرپور طریقے سے کردار ادا کر سکیں۔یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اندرونی سطح پر مختلف مسائل کا سامنا کر رہا ہے اور سیاسی عدم استحکام نے ملک کے کئی اہم شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ اسحاق ڈار کا دورۂ امریکہ ملتوی کرنے کا اقدام ملک کی اندرونی صورتحال کی اہمیت اور اس کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔
    پاکستانی وفد کی نمائندگی کا متبادل طریقہ کار ابھی طے نہیں ہوا۔ تاہم، امکان ہے کہ وزارت خارجہ جلد ہی ایک نئے شیڈول یا متبادل وفد کے حوالے سے اعلان کرے گی جو اقوام متحدہ کے اس اہم سمٹ میں شرکت کرے گا۔سمٹ آف دا فیوچر ایک بین الاقوامی فورم ہے جس میں عالمی رہنما مستقبل کے چیلنجز اور مواقعوں پر بات چیت کرتے ہیں، اور اسحاق ڈار کا اس میں شرکت ملتوی کرنا پاکستان کے عالمی سفارتی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

  • بلاول کا پی ٹی آئی پر عدالتی اور پارلیمانی نظام روکنے کا الزام

    بلاول کا پی ٹی آئی پر عدالتی اور پارلیمانی نظام روکنے کا الزام

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے واضح کیا ہے کہ آئینی عدالتوں کے قیام کا بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ آئینی عدالتوں کی ضرورت کے حوالے سے باتیں میثاق جمہوریت میں کی گئی تھیں، اور وہ اس معاملے پر تمام جماعتوں کے اتفاق رائے کے خواہاں ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ملاقات میں اس بات پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "اتفاق رائے بنانے کے لیے دوسروں کے موقف کو سننا چاہیے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ عدالتی اصلاحات بہت ضروری ہیں اور یہ کام بہت پہلے ہونا چاہیے تھا۔ بلاول نے مزید کہا کہ جمیعت علمائے اسلام (جے یو آئی) کا آئین سازی میں ہمیشہ مثبت کردار رہا ہے، اور وہ ان کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

    پی پی پی کے چیئرمین نے اس بات کا ذکر کیا کہ اگر مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مشاورت کامیاب نہیں ہوئی تو وہ اپنی جماعت کے نمبرز پورے کرنے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ "فضل الرحمان اور ہم نے آئینی ترمیم کا مسودہ مسترد کردیا ہے،” اسد قیصر کے حوالے سے یہ بیان دیتے ہوئے بلاول نے کہا کہ "تمام صدور اور وزرائے اعظم کی تقریریں نکال کر دیکھیں، سب نے عدالتی اصلاحات کی بات کی ہے۔”بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ "بانی پی ٹی آئی کو اپنی ذات کے سوا بھی سوچنا چاہیے۔” ان کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت کا کام کسی کو جیل میں رکھنا نہیں ہے، اور یہ بات اہم ہے کہ آئینی عدالتوں کے قیام کا بانی پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں۔ بلاول نے پی ٹی آئی پر الزام لگایا کہ وہ نہ تو عدالتی نظام کو چلنے دینا چاہتی ہے اور نہ ہی پارلیمان کو۔یہ بیان بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک اہم حیثیت رکھتا ہے، جہاں سیاسی جماعتیں آئینی اصلاحات اور عدلیہ کے کردار پر غور کر رہی ہیں۔ ان کی کوششیں نہ صرف پی پی پی کی سیاسی حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ مستقبل کی سیاسی سمت کا تعین کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

  • پنجاب میں بارشوں کا الرٹ: پی ڈی ایم اے کی جانب سے ہدایت

    پنجاب میں بارشوں کا الرٹ: پی ڈی ایم اے کی جانب سے ہدایت

    صوبہ پنجاب میں بارشوں کی پیشگوئی کے پیش نظر پی ڈی ایم اے (پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی) نے ایک الرٹ جاری کیا ہے۔ یہ الرٹ 26 ستمبر سے یکم اکتوبر تک جاری رہے گا، جس میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق، بارشوں کی پیشگوئی کے تحت لاہور سمیت مختلف اضلاع میں ہنگامی تیاریوں کی ضرورت ہے۔ ان اضلاع میں راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، چکوال، جہلم، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، سیالکوٹ، نارووال، اور حافظ آباد شامل ہیں۔
    27 ستمبر سے ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، ننکانہ صاحب، چنیوٹ، فیصل آباد، اوکاڑہ، پاکپتن، قصور، اور بھکر میں بھی تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
    ڈی جی پی ڈی ایم اے، عرفان علی کاٹھیا نے صوبہ بھر کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ الرٹ رہیں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ محکمے اپنی تیاری مکمل رکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی کنٹرول روم کے ساتھ ساتھ تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کو بھی مکمل طور پر الرٹ کر دیا گیا ہے۔
    یہ پیشگوئی عوامی زندگی کو متاثر کر سکتی ہے، اس لیے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے کہا ہے کہ وہ موسم کی تبدیلی کے حوالے سے اپنی سرگرمیاں منصوبہ بندی کریں اور حکام کی ہدایت پر عمل کریں۔یہ اقدام صوبے کی سیکیورٹی اور عوامی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے، اور پی ڈی ایم اے کی طرف سے جاری کردہ ہدایات کے تحت عوام کو کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں بروقت آگاہ کیا جائے گا۔

  • پی ٹی آئی کا جلسہ: جگہ ایک بار پھر تبدیل، کاہنہ میں مشروط اجازت

    پی ٹی آئی کا جلسہ: جگہ ایک بار پھر تبدیل، کاہنہ میں مشروط اجازت

    ضلع انتظامیہ کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جلسے کا مقام ایک بار پھر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ نئے این او سی کے تحت پی ٹی آئی کو قصور روڈ پر کاہنہ کے قریب جلسہ کرنے کی مشروط اجازت دی گئی ہے۔پنجاب حکومت نے اس حوالے سے کئی شرائط عائد کی ہیں، جن میں علی امین گنڈا پور کی جانب سے اپنے بیانات پر معافی مانگنے کا مطالبہ شامل ہے۔ اگر علی امین گنڈا پور معافی نہیں مانگتے تو این او سی منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کو جلسے کے لیے دوپہر 2 بجے سے 5 بجے تک کا وقت فراہم کیا ہے۔
    پنجاب حکومت نے مزید واضح کیا ہے کہ جلسے میں کسی ادارے یا اعلیٰ شخصیات کے خلاف بیان بازی کی اجازت نہیں ہوگی۔ اگر پی ٹی آئی اس بارے میں کوئی یقین دہانی نہیں کرواتی تو اجازت منسوخ کر دی جائے گی۔ پنجاب حکومت نے اس معاملے میں پی ٹی آئی کی قیادت کو آگاہ کر دیا ہے۔دوسری جانب، ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ لاہور میں جلسہ عام کے حوالے سے ایس او پیز طے ہونے کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت کو اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں جلسے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ پی ٹی آئی نے آج لاہور ہائیکورٹ میں مینار پاکستان پر جلسے کی اجازت کے لیے درخواست دائر کی تھی، جس پر عدالت نے ڈپٹی کمشنر لاہور کو درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

  • گورنر سندھ  کامران ٹیسوری دو روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ روانہ

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری دو روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ روانہ

    گورنر سندھ محمد کامران خان ٹیسوری دو روزہ سرکاری دورے پر ترکیہ روانہ ہو گئے ہیں۔ اس دورے کا مقصد سندھ میں آئی ٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور ترک سرمایہ کاروں کو اس جانب راغب کرنا ہے۔ گورنر ہاؤس کے ترجمان کے مطابق گورنر کامران خان ٹیسوری اس دورے کے دوران ترکی کے سرمایہ کاروں، آئی ٹی سیکٹر کے اداروں کے سربراہان اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔ترجمان کے مطابق گورنر سندھ کا دورہ خاص طور پر سندھ میں آئی ٹی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو بڑھانے کی غرض سے کیا جا رہا ہے۔ گورنر ترکیہ کے سرمایہ کاروں کو سندھ میں موجود مواقع اور سہولتوں کے بارے میں آگاہ کریں گے تاکہ وہ صوبے میں آئی ٹی کے شعبے میں اپنی سرمایہ کاری کو مزید فروغ دے سکیں۔ گورنر اس بات پر زور دیں گے کہ سندھ میں آئی ٹی کی ترقی کے لئے نہ صرف حکومت مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے بلکہ اس کے لئے ہر ممکنہ سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی۔
    ترکی کے آئی ٹی ماہرین کے ساتھ ملاقاتیں بھی گورنر کے ایجنڈے میں شامل ہیں، جہاں گورنر انیشیٹو کے تحت جاری جدید آئی ٹی کورسز کو مزید جدت دینے پر گفتگو ہوگی۔ یہ کورسز سندھ کے نوجوانوں کو آئی ٹی کے جدید ترین تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے ڈیزائن کیے گئے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں عالمی مارکیٹ میں مسابقت کر سکیں۔گورنر سندھ اپنے دورے کے دوران ترکی کے متعلقہ حکام کے ساتھ تعلیم کے فروغ کے حوالے سے بھی مشاورت کریں گے، خاص طور پر آئی ٹی کے طلباء کو جدید سہولیات کی فراہمی پر غور کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق، گورنر کامران خان ٹیسوری طلبا کو فری لیپ ٹاپ کی فراہمی اور آئی ٹی کے میدان میں طلبا کو مزید آسانیاں فراہم کرنے کے حوالے سے ترکیہ کے آئی ٹی سیکٹر کے ماہرین سے مشاورت کریں گے۔ اس اقدام کا مقصد سندھ کے نوجوانوں کو تعلیمی اور تکنیکی لحاظ سے مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ مستقبل میں عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔گورنر سندھ کا یہ دورہ سندھ کے آئی ٹی شعبے کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس سے سندھ میں آئی ٹی کی ترقی کے لئے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

  • پی ٹی آئی کا 38 ارکان اسمبلی کے فوری نوٹیفکیشن کا مطالبہ

    پی ٹی آئی کا 38 ارکان اسمبلی کے فوری نوٹیفکیشن کا مطالبہ

    چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (PTI) بیرسٹر گوہر نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے 38 ارکان قومی اسمبلی کے فوری نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے 14 ستمبر کو ایک واضح فیصلہ سناتے ہوئے تمام قانونی ابہام ختم کردیا تھا اور الیکشن کمیشن اب اس فیصلے پر عملدرآمد کا پابند ہے۔بیرسٹر گوہر نے اپنے بیان میں زور دیا کہ الیکشن کمیشن کو فوری طور پر ان 38 اراکینِ اسمبلی کے نوٹیفکیشن جاری کرنے چاہییں اور کسی بھی مزید تاخیر سے گریز کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس ان اراکین کا نوٹیفکیشن روکنے کا کوئی آئینی، قانونی یا اخلاقی جواز باقی نہیں رہا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قبل 39 ارکان قومی اسمبلی کے نوٹیفکیشن ہوچکے ہیں، جبکہ موجودہ کیس میں صورتحال مختلف ہے کیونکہ 25 اپریل کے وقت عدالت کا حکم مختلف تھا۔ تاہم، اب عدالت کا نیا حکم سامنے آ چکا ہے جس کے تحت الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔بیرسٹر گوہر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالت عظمیٰ کے احکامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور حکومت و الیکشن کمیشن اس معاملے میں غیر ضروری تاخیر سے اجتناب کریں۔ PTI کی جانب سے یہ موقف سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں گرما گرمی پیدا ہوگئی ہے کیونکہ قومی اسمبلی کے 38 ارکان کی نوٹیفکیشن جاری ہونے کی صورت میں اسمبلی میں پی ٹی آئی کی نمائندگی مزید مضبوط ہو جائے گی۔

  • کاروباری ہفتے کا مثبت اختتام، 100 انڈیکس 615 پوائنٹس بڑھ گیا

    کاروباری ہفتے کا مثبت اختتام، 100 انڈیکس 615 پوائنٹس بڑھ گیا

    کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے آخری دن جمعے کو مثبت رجحان رہا۔ 100 انڈیکس 615 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 82,074 کی سطح پر بند ہوا۔ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونے اور وفاقی حکومت کے کامیاب تجارتی اہداف کے باعث اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رحجان دیکھنے میں آیا۔کاروباری دن کے دوران پی ایس ایکس 100 انڈیکس 984 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا۔ مارکیٹ میں مجموعی طور پر 48 کروڑ شیئرز کا کاروبار ہوا جس کی مالیت 30 ارب روپے رہی۔ شیئرز کی خرید و فروخت کے نتیجے میں مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 57 ارب روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی کیپٹلائزیشن 10 ہزار 723 ارب روپے تک پہنچ گئی۔تجزیہ کاروں کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں جاری مثبت رحجان کی وجہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کا استحکام اور تجارتی اہداف کی کامیاب تکمیل ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔