Baaghi TV

Author: صدف ابرار

  • پنجاب پولیس کا لاہور جلسے کے موقع پر مفرور 3,700 افراد کی گرفتاری کا فیصلہ

    پنجاب پولیس کا لاہور جلسے کے موقع پر مفرور 3,700 افراد کی گرفتاری کا فیصلہ

    لاہور: پنجاب پولیس نے 9 مئی کے روز مفرور 3,700 افراد کو لاہور میں ہونے والے جلسے کے موقع پر گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پنجاب حکومت کا اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ذرائع کے مطابق، گرفتاریاں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جائیں گی۔ پنجاب پولیس نے اس مقصد کے لیے خصوصی طور پر تربیت یافتہ ٹیموں کو مامور کیا ہے، جو مفرور افراد کی نشاندہی اور ان کی گرفتاری کو یقینی بنائیں گی۔

    حکومت کی جانب سے اس فیصلے کا مقصد جلسے کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا اور مفرور ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنا ہے۔ یہ اقدام پنجاب میں بڑھتی ہوئی قانونی بے ضابطگیوں کے خاتمے کے لئے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔پنجاب پولیس کی یہ کارروائی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت مفرور ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور اس کے ذریعے عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

  • پنجاب پولیس کا لاہور جلسے کے موقع پر 3,700 مفرور افراد کی گرفتاری کا فیصلہ

    پنجاب پولیس کا لاہور جلسے کے موقع پر 3,700 مفرور افراد کی گرفتاری کا فیصلہ

    لاہور: پنجاب حکومت نے نو مئی کے مفرور 3,700 افراد کو لاہور میں ہونے والے جلسے کے دوران گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے پنجاب حکومت کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پولیس کی کارروائیوں کے لیے تفصیلی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق، پنجاب پولیس نے مفرور افراد کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ ان گرفتاریوں کا عمل جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے انجام دیا جائے گا، تاکہ مؤثر انداز میں ان افراد کو نشانہ بنایا جا سکے جو نو مئی کے واقعات میں ملوث تھے۔
    پنجاب حکومت کے ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ کارروائیاں لاہور جلسے کے موقع پر متوقع ہیں، جہاں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کریں گے۔ یہ اقدام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت مفرور افراد کی گرفتاری کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔اس سلسلے میں، پولیس نے مختلف سیکیورٹی اقدامات بھی کیے ہیں تاکہ جلسے کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ حکومت کا عزم ہے کہ وہ امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔
    پنجاب پولیس کے افسران نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر پولیس کو اطلاع کریں، تاکہ موثر کارروائی کی جا سکے۔ یہ معاملہ اس وقت اہمیت اختیار کر گیا ہے جب ماضی میں ہونے والے مظاہروں اور عوامی اجتماعوں کے دوران پرتشدد واقعات سامنے آئے ہیں۔پولیس کی یہ نئی حکمت عملی نہ صرف مفرور افراد کی گرفتاری کے لئے ہے بلکہ یہ عوامی اعتماد کو بحال کرنے کی بھی کوشش ہے، تاکہ لوگ محسوس کریں کہ حکومت ان کی حفاظت کے لئے سرگرم عمل ہے۔

  • ثمینہ خالد گھرکی خواتین کی مخصوص نشست پر رکن قومی اسمبلی منتخب

    ثمینہ خالد گھرکی خواتین کی مخصوص نشست پر رکن قومی اسمبلی منتخب

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) شعبہ خواتین پنجاب کی صدر ثمینہ خالد گھرکی خواتین کی مخصوص نشست پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہو گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ان کے رکن قومی اسمبلی بننے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ثمینہ خالد گھرکی کی انتخابی کامیابی، پیپلز پارٹی کی حلقہ این اے 171 میں کامیابی کے نتیجے میں ممکن ہوئی، جہاں سے پارٹی نے ایک اور مخصوص نشست حاصل کی۔ اس نشست پر پیپلز پارٹی نے ثمینہ خالد گھرکی کو نامزد کیا، جو کہ ان کی پارٹی کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔یہ انتخابی کامیابی ثمینہ خالد گھرکی کے سیاسی سفر میں ایک نیا باب کھولتی ہے، جو کہ خواتین کے حقوق اور ترقی کے لیے کام کرنے کے عزم کے ساتھ قومی اسمبلی میں اپنی نمائندگی کریں گی۔ ان کی منتخب ہونے کی خبر پارٹی کے کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑانے کا باعث بنی ہے اور انہیں امید ہے کہ وہ اپنے نئے عہدے کے ذریعے خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے موثر اقدامات اٹھائیں گی۔
    پیپلز پارٹی کی خواتین کی مخصوص نشستوں پر منتخب ہونے والی یہ پہلی نہیں، بلکہ یہ ان کے عزم کی نشانی ہے کہ وہ ملکی سیاست میں خواتین کی فعال شرکت کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس موقع پر پارٹی رہنماؤں نے ثمینہ خالد گھرکی کی کامیابی پر انہیں مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ وہ اپنے کام کے ذریعے خواتین کے حقوق کی جدوجہد کو آگے بڑھائیں گی۔ثمینہ خالد گھرکی کی سیاسی بصیرت اور عزم ان کے منتخب ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں مزید نمایاں ہو گا، اور ان کے اقدامات سے خواتین کے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کی یہ کامیابی پاکستان کی خواتین کے لیے ایک مثبت پیغام ہے کہ وہ بھی قومی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

  • آئینی ترمیم کا مسودہ بلاول کے پاس موجود  ہے، اسد قیصر

    آئینی ترمیم کا مسودہ بلاول کے پاس موجود ہے، اسد قیصر

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے صوابی میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ مجوزہ آئینی ترمیم کا اصلی مسودہ بلاول زرداری کے پاس تھا۔ اسد قیصر نے اپنے خطاب میں بلاول زرداری پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے نانا کے آئین کو ختم کرنے کے لیے غیر جمہوری عناصر کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور اختر مینگل کو الگ الگ مسودے دیے گئے، جبکہ اصل مسودہ بلاول کے ہاتھ میں تھا۔ اسد قیصر نے ایمل ولی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو باچا خان اور ولی خان کی جدوجہد کی توہین ہے۔
    اسد قیصر نے اسپیکر قومی اسمبلی سے گلہ کرتے ہوئے کہا، "آپ کیوں پارٹی بن رہے ہیں؟ اسپیکر کا عہدہ تو نیوٹرل ہوتا ہے۔” انہوں نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پوزیشن سے انحراف کرتے ہوئے یہ خط واپس لیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر عدلیہ پر کوئی وار ہوتا ہے تو وہ عدالت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ اسد قیصر نے یہ بھی کہا کہ "شہید ذوالفقار علی بھٹو کا نواسہ بھی اس سازش میں پوری طرح شامل ہے۔ اسد قیصر نے قوم کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ "پوری پاکستانی قوم کل لاہور پہنچے گی اور ایک بڑا جلسہ ہوگا۔” ان کے اس بیان نے سیاسی ماحول میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں آئینی تبدیلیوں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں کے نظریات پر غور کیا جا رہا ہے۔

  • پب جی کے ذریعے دہشتگردی: سوات میں گرفتار دہشتگردوں کا اعتراف

    پب جی کے ذریعے دہشتگردی: سوات میں گرفتار دہشتگردوں کا اعتراف

    آن لائن گیمز، خاص طور پر ’پب جی‘ جیسے پلیٹ فارمز، جہاں نوجوان تفریح اور مقابلے کی غرض سے کھیلتے ہیں، اب دہشتگردوں کے ذریعہ استعمال کیے جانے لگے ہیں۔ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں ہونے والا حالیہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دہشتگردی جیسے منفی عزائم کے لیے بھی انٹرنیٹ گیمز کا غلط استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ 28 اگست 2024 کو سوات کے علاقے مینگورہ میں بنڑ پولیس چوکی کو نشانہ بنانے کا ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور ایک اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔ بعد میں ہونے والی تحقیقات کے دوران دہشتگردوں نے انکشاف کیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی اور رابطے کے لیے ’پب جی‘ گیم کا استعمال کیا گیا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ دہشتگردوں نے پب جی جیسے انٹرٹینمنٹ پلیٹ فارم کو اپنا پیغام رسانی کا ذریعہ بنایا، جو سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک نیا چیلنج بن چکا ہے۔
    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) سوات، ڈاکٹر زاہد اللّٰہ کے مطابق، گرفتار دہشتگردوں نے تسلیم کیا کہ انہوں نے حملے کی منصوبہ بندی کے دوران رابطے کے لیے پب جی گیم کے چیٹ رومز کا استعمال کیا۔ گیمز کے ذریعے وائس میسجز اور ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے وہ ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے تھے، جو کہ فوری اور مؤثر طریقہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پب جی گیم میں ٹیم بنانے کے بعد کھلاڑیوں کے درمیان ریئل ٹائم میں رابطے کی سہولت موجود ہوتی ہے، جو وائس چیٹ اور ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے ممکن ہوتی ہے۔ اس گیم کو دہشتگردی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی خطرات میں بھی جدت آ رہی ہے۔
    پہلے واٹس ایپ، ٹیلی گرام، ٹوئٹر اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز پر دہشتگرد پیغامات کی ترسیل کے لیے انحصار کرتے تھے، لیکن پب جی جیسی گیمز کا استعمال دہشتگردی کے منصوبوں میں ایک نیا اور انوکھا اضافہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ پلیٹ فارمز اکثر انکرپٹڈ پیغامات کی ترسیل فراہم کرتے ہیں، لہذا ان پر نظر رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم، اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے سائبر ماہرین اور ان ایپلی کیشنز کے فراہم کنندگان کی مدد حاصل کرنا لازمی ہے۔سوات کا واقعہ سائبر سیکیورٹی ماہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ پب جی یا دیگر ایپلی کیشنز کے ذریعے دہشتگردوں کی پیغام رسانی کو روکنا ممکن ہے، لیکن اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی ضرورت ہو گی۔ حکومت اور سیکیورٹی ادارے اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ کس طرح ایسی ایپلی کیشنز کو محفوظ بنایا جا سکے تاکہ انہیں دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔
    یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب دہشتگرد تنظیموں نے جدید ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھایا ہو۔ پہلے بھی کالعدم تنظیموں کے نمائندگان نے اینڈرائیڈ اور آئی فونز کے ذریعے پیغامات پہنچانے کے طریقے سکھائے ہیں۔ اس نئی پیشرفت کے ساتھ یہ بات اور واضح ہو چکی ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں ہر ممکن ذرائع کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتیں۔یہ صورتحال نہ صرف سائبر سیکیورٹی ماہرین کے لیے ایک خطرناک چیلنج ہے، بلکہ سیکیورٹی ایجنسیز کو بھی اس پر فوری طور پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ایپلی کیشن فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کے ذریعے دہشتگردوں کے پیغام رسانی کے ان طریقوں کو روکا جا سکتا ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ جدید ترین طریقوں سے دہشتگردوں کی چالوں کا مقابلہ کیا جائے، تاکہ عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • نجکاری کمیشن بورڈ کا اجلاس: چھ بولی دہندگان  پری کوالیفائی

    نجکاری کمیشن بورڈ کا اجلاس: چھ بولی دہندگان پری کوالیفائی

    اسلام آباد: کو نجکاری کمیشن بورڈ کا اجلاس وزیر برائے نجکاری و چیئرمین نجکاری کمیشن جناب عبدالعلیم خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں اہم فیصلے اور سفارشات پیش کی گئیں۔اجلاس کے دوران، فنانشل ایڈوائزر نے ریکوسٹ فار اسٹیٹمنٹ آف کوالیفیکیشن (RSOQ) کی شرائط کے تحت اجازت یافتہ تبدیلیوں کی سفارشات پیش کیں۔ یہ تبدیلیاں پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے ضروری قرار دی گئیں۔ عبدالعلیم خان نے اس بات پر زور دیا کہ ان تبدیلیوں کے ذریعے شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ بولی دہندگان کے درمیان یکساں مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

    اجلاس میں چھ بولی دہندگان کو پری کوالیفائی کیا گیا ہے، جن میں شامل ہیں:

    1.فلائی جناح
    2. YB ہولڈنگز (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی زیر قیادت کنسورشیم
    3. ایئر بلیو لمیٹڈ
    4. پاک ایتھانول (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے زیر قیادت کنسورشیم
    5.عارف حبیب کارپوریشن لمیٹڈ
    6. بلیو ورلڈ سٹی

    اجلاس کے دوران یہ بھی اعلان کیا گیا کہ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے بولی یکم اکتوبر 2024 کو منعقد کی جائے گی۔ یہ بولی پاکستان کی ایئر لائن انڈسٹری کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے، جس کا مقصد ملکی معیشت کی بہتری اور پی آئی اے کے مالی خسارے کو کم کرنا ہے۔اجلاس کے بعد، عبدالعلیم خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "پی آئی اے کی نجکاری کا عمل نہ صرف کمپنی کی بہتری کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ ملک کی معیشت کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ ہم نے اس میں شفافیت اور جدت کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت عوامی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے، اور اس نجکاری کے عمل کے ذریعے پی آئی اے کو ایک نئے دور میں داخل کرنے کا عزم ہے۔
    یہاں پہ یہ بات قابل ذکر ہے نجکاری کمیشن کے اجلاس میں پری کوالیفائی ہونے والی بلیو ورلڈ سٹی کے مالکان میں معروف ٹی وی چینل "سُنو ٹی وی” کے مالک اور ایک پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ ہولڈر ایم پی اے بھی موجود تھے۔ انہوں نے اس عمل پر اپنی آراء کا اظہار کیا اور اس کی اہمیت پر زور دیا۔ ایم پی اے نے کہا، "پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کی کامیابی کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک صفحے پر آنا ہوگا۔اس اجلاس کے بعد، پی آئی اے کی مستقبل کی سمت کا تعین ہونے کی توقع کی جارہی ہے، اور اس کے نتائج ملکی معیشت پر دوررس اثر ڈال سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اس عمل کو کامیاب بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔

  • آئینی ترامیم کا مقصد اشرافیہ کو ملک پر مسلط کرنا ہے،شاہد خاقان عباسی

    آئینی ترامیم کا مقصد اشرافیہ کو ملک پر مسلط کرنا ہے،شاہد خاقان عباسی

    اسلام آباد: عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حالیہ آئینی ترامیم کا مقصد ملک میں اشرافیہ کی طاقت کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بیان بدھ کو اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔عباسی نے کہا کہ مسودے کے 28 صفحات میں عوام کے مفادات کے بجائے صرف اشرافیہ کے مفادات پر بات کی گئی ہے، جو کہ ملک کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹانے کا ایک طریقہ ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ملک اس طرح نہیں چلتے، ہمیں ایک نئے سوشل کنٹریکٹ کی ضرورت ہے جو عوام کی ضروریات کو مدنظر رکھے۔”
    انہوں نے واضح کیا کہ آئینی ترامیم اشرافیہ کے مفادات کے لیے نہیں، بلکہ عوام کی سہولیات کے لیے ہونی چاہئیں۔ عباسی نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں اتحاد کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے نفاق کو ختم کرنا ہوگا۔ "سب کو اپنی پوزیشن سے پیچھے ہٹنا پڑے گا،” انہوں نے مزید کہا، "سیاست دان، عدلیہ، اور معاشرے کے دیگر طبقوں کو حالات کو سمجھنا ہوگا اور مل کر کام کرنا ہوگا۔”شاہد خاقان عباسی کی یہ گفتگو اس وقت اہمیت اختیار کر گئی ہے جب ملک میں سیاسی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور عوام میں موجودہ حکومت کے حوالے سے عدم اعتماد کی لہر پائی جا رہی ہے۔ ان کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ آئینی ترامیم کو کس طرح عوام کی بہتری کے لیے ڈھالنا ممکن ہے۔ مجموعی طور پر، عباسی نے ایک جامع پیغام دیا کہ ملک کی بہتری کے لیے تمام فریقین کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ عوام کے حقیقی مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔

  • اسرائیلی فضائی حملے میں حزب اللّٰہ کے سینئر رہنما ابراہیم عقیل شہید

    اسرائیلی فضائی حملے میں حزب اللّٰہ کے سینئر رہنما ابراہیم عقیل شہید

    بیروت: اسرائیلی فضائیہ نے لبنانی دارالحکومت بیروت میں حزب اللّٰہ کے گڑھ پر شدید فضائی حملہ کیا جس میں حزب اللّٰہ کے سینئر ترین رہنما ابراہیم عقیل عرف تحسین سمیت متعدد افراد شہید ہوگئے۔ یہ فضائی کارروائی حزب اللّٰہ کے زیر اثر جنوبی ٹاؤن ضاحیہ جنوبیہ میں کی گئی، جہاں تنظیم کی اہم اور حساس تنصیبات کو جدید ترین ایف 35 جنگی طیاروں سے میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا۔عرب اور اسرائیلی ذرائع کے مطابق، یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب حزب اللّٰہ اور فلسطینی مزاحمتی تنظیم کے رہنماؤں کا ایک اہم اجلاس جاری تھا۔ اس فضائی حملے میں تنظیم کی اہم قیادت اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس حملے کا مقصد حزب اللّٰہ کی قیادت کو نشانہ بنانا تھا تاکہ تنظیم کی صلاحیتوں کو کمزور کیا جا سکے۔
    حزب اللّٰہ نے تاحال اپنے آپریشنل کمانڈر ابراہیم عقیل کی شہادت کی تصدیق نہیں کی، لیکن مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق، وہ اسرائیلی بمباری میں شہید ہوگئے ہیں۔ ابراہیم عقیل حزب اللّٰہ کی اعلیٰ قیادت میں شامل تھے اور انہیں تنظیم کے اندر ایک طاقتور اور تجربہ کار رہنما کے طور پر جانا جاتا تھا۔ابراہیم عقیل امریکی حکومت کو انتہائی مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں شامل تھے اور ان کی زندہ یا مردہ گرفتاری کے لیے 70 لاکھ ڈالر کا انعام مقرر تھا۔ ان پر 1983 میں بیروت میں امریکی سفارتخانے اور فوجی اڈوں پر بم دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا، جن میں امریکی میرینز سمیت 300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ان پر یہ بھی الزام تھا کہ انہوں نے امریکی شہریوں کو یرغمال بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
    اب تک حزب اللّٰہ نے اس حملے کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔ یہ تنظیم اپنے سینئر رہنماؤں کے حوالے سے معلومات کو محدود رکھتی ہے اور اسرائیلی حملوں کے بعد عمومی طور پر جوابی کارروائی کا اعلان کرتی ہے۔ حزب اللّٰہ کی قیادت اور اس کے حامیوں کی جانب سے جوابی کارروائی کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔یہ حملہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حصہ ہے، جہاں حالیہ دنوں میں اسرائیل اور حزب اللّٰہ کے درمیان تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیلی افواج کی جانب سے حزب اللّٰہ کے ٹھکانوں پر مسلسل حملے جاری ہیں، جبکہ حزب اللّٰہ کی جانب سے جوابی کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔

  • پشاور پولیس لائن دھماکہ: سی ٹی ڈی نے ماسٹر مائنڈ اور سہولت کار کو گرفتار کر لیا

    پشاور پولیس لائن دھماکہ: سی ٹی ڈی نے ماسٹر مائنڈ اور سہولت کار کو گرفتار کر لیا

    خیبر پختونخوا کے کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ایک سال اور سات ماہ کی تحقیقات کے بعد پشاور پولیس لائن کی مسجد میں ہونے والے دھماکے کے معاملے میں اہم پیشرفت کا دعویٰ کیا ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق، دھماکے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ، عمر، کو گزشتہ ہفتے ایک چھاپے کے دوران گرفتار کیا گیا۔پولیس ذرائع کے مطابق، عمر ایک کالعدم تنظیم کا اہم کمانڈر ہے۔ تفتیش کے دوران ابتدائی طور پر یہ شک ظاہر کیا گیا تھا کہ دھماکے میں پولیس کے اندرونی ہاتھ ملوث ہیں، اور یہ تفتیش جاری رہی۔
    سی ٹی ڈی نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں ایک خفیہ کارروائی کے دوران ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی، جس میں عمر نامی ایک خطرناک دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا جو کہ پولیس لائن مسجد دھماکے کا ماسٹر مائنڈ ہے۔ پولیس کے مطابق، عمر سے تفتیش کے دوران اہم معلومات حاصل ہوئیں، جن میں اندرونی ملوث ہونے کا انکشاف بھی ہوا، اور اسی معلومات کی بنیاد پر پولیس نے آج ایک مبینہ سہولت کار، مبین، کو گرفتار کیا ہے، جو پشاور پولیس کا حاضر سروس ہیڈ کانسٹیبل ہے۔پولیس نے مزید بتایا کہ مبین اور اس کے بھائی کو پشاور بی آر ٹی میں سفر کے دوران گرفتار کیا گیا، اور انہیں مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ گرفتار ماسٹر مائنڈ کے مطابق، پولیس اہلکار نے انہیں اہم معلومات فراہم کیں، اور اس کے علاوہ، حملہ آور کو مسجد کے اندر داخل کرنے اور وہاں پہنچانے میں مدد کی۔
    یہ بات یاد رہے کہ 23 جنوری 2023 کو پشاور کے ہائی سیکیورٹی زون میں واقع ملک سعد پولیس لائن کی مسجد میں ایک زور دار دھماکہ ہوا، جس کے وقت مسجد میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار اور عام لوگ نماز ادا کر رہے تھے۔ دھماکے کے بعد پولیس نے بتایا کہ مسجد کی چھت گر گئی، جس کے نتیجے میں 85 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں کئی پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔حکومتی اور سیکیورٹی حکام نے بتایا کہ دھماکے میں ٹی ٹی پی ملوث ہے اور اس کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی۔عمر اور مبین کی گرفتاری اس معاملے میں ایک اہم پیشرفت ہے، اور حکام مزید مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

  • مہنگائی میں 0.52 فیصد کمی، اشیاء کی قیمتوں میں ملا جلا رجحان

    مہنگائی میں 0.52 فیصد کمی، اشیاء کی قیمتوں میں ملا جلا رجحان

    ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار مہنگائی کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں مہنگائی کی مجموعی شرح میں 0.52 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد ملک میں مہنگائی کی شرح 12.72 فیصد تک آگئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 17 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ، 15 اشیاء کی قیمتوں میں کمی اور 19 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے۔ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ایک ہفتے میں مختلف اہم اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ زندہ مرغی کی فی کلو قیمت میں 6 روپے 50 پیسے کا اضافہ ہوا، جبکہ دال چنا کی فی کلو قیمت میں 3 روپے 23 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ انڈے فی درجن 2 روپے 10 پیسے مہنگے ہوئے اور لہسن کی فی کلو قیمت میں 3 روپے 59 پیسے کا اضافہ ہوا۔چاول، دودھ، دہی، مٹن اور بیف بھی ان اشیاء میں شامل ہیں جن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ عوام کو ان روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے ان کی روزمرہ زندگی پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔

    دوسری جانب رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ایک ہفتے میں پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 13 روپے تک کمی ہوئی ہے، جو کہ صارفین کے لیے اچھی خبر ہے۔پیاز کی فی کلو قیمت میں 7 روپے، ٹماٹر کی قیمت میں 3 روپے 70 پیسے، اور چینی کی قیمت میں 1 روپے فی کلو کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی طرح ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 18 روپے سستا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ دال مونگ، دال ماش، آلو، آٹا اور سگریٹ بھی ان اشیاء میں شامل ہیں جن کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے۔رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 19 اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض اشیاء کی قیمتوں میں کوئی خاص تبدیلی نہیں ہوئی۔
    مہنگائی میں کمی کی یہ خبر ایک خوش آئند پیش رفت ہے، تاہم عوام کو اب بھی کئی اشیاء کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا ہے۔ اشیاء خوردونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ عام آدمی کی قوت خرید کو متاثر کر رہا ہے۔